تازہ ترین
سرحدی کشیدگی:برصغیر کی دو ایٹمی طاقتوں کی افواج آمنے سامنے
لائن آف کنٹرول پر جنگ کا سماں
آرٹلری توپوں کا استعمال، آر پارفوجی اہلکار سمیت متعدد افراد ہلاک،کئی زخمی،لوگوں میں خوف وہراس
سرینگر: لائن آف کنٹرول(ایل او سی)پرگذشتہ کئی ماہ سے جاری کشیدگی اور تناؤ کے بیچ ہند۔پاک افواج کے درمیان گذشتہ36گھنٹوں سے جاری فائر نگ و آتشی گولہ باری کے نتیجے میں آر پار ایک فوجی اہلکار سمیت متعدد افراد ہلاک اور کئی زخمی ہوئے۔برصغیر کی دو ایٹمی طاقتوں کی افواج کے درمیان جاری شدید گولہ باری کے نتیجے میں لائن آف کنٹرول پر جنگ جیسی صورتحال پیدا ہوگئی ہے جبکہ آرپار سرحدی علاقوں میں رہا ئش پذیر لوگوں میں خوف وہراس کی لہر دوڑ گئی ہے،کئی کنبوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا گیا۔
جموں میں مقیم دفاعی ترجمان لیفٹیننٹ کرنل دویندر آنندنے کہا کہ پاکستانی فوج نے پونچھ میں کئی سیکٹروں میں سیز فائر معاہدے کی خلاف ورزی کرتے ہوئے بھارتی فوج کی اگلی چوکیوں کیساتھ ساتھ آبادی والے علاقوں کو نشانہ بنا کر فائرنگ کی اور ماٹر گولے داغے،جسکے نتیجے میں ایک فوجی اہلکار ازجان ہوا جبکہ فوج نے سیز فائر معاہدے کی خلاف ورزی کا معقول جواب دیا۔
کشمیر نیوز سروس(کے این ایس) کے مطابق دفعہ370کی تنسیخ کے فیصلے کے بعد سے لائن آف کنٹرول پر کافی کشیدگی اور تناؤ کی صورتحال پائی جارہی ہے جبکہ برصغیر کی دو ایٹمی طاقتوں کی افواج لائن آف کنٹرول (ایل او سی) پر آمنے سامنے ہے۔گذشتہ38گھنٹوں سے جموں کے ضلع پونچھ میں کئی سیکٹروں جن میں بالا کوٹ،مینڈ ھر وغیرہ شامل ہے،میں ہند۔پاک کی افواج ایکدوسرے خلاف جنگی ہتھیاروں کا استعمال کررہی ہیں۔
طرفین کے مابین وقفے وقفے سے جاری فائر نگ اور ماٹر شلنگ کے نتیجے میں دونوں اطراف جانی نقصان کی اطلاعات ہیں جبکہ دونوں ممالک کی افواج ایکدوسرے پر جنگ بندی معاہدے کی خلاف ورزی کا الزام عائد کررہی ہیں۔طرفین کے مابین تازہ گولہ باری کا تبادلہ ضلع پونچھ کے بالا کوٹ اور مینڈھر پونچھ سیکٹروں میں ہوا ہے۔ جموں میں مقیم دفاعی ترجمان لیفٹیننٹ کرنل دویندر آنند نے بتایا کہ پونچھ سیکٹر میں سنیچر کی شام پاکستانی فوج نے سیز فائر سمجھوتے کی خلاف ورزی کرتے ہوئے بھارتی فوج کی اگلی چوکیوں کو نشانہ بنانے کی غرض سے فائر نگ کی اور ماٹر گولے داغے۔
ان کا کہناتھا کہ سیز فائر سمجھوتے کی خلاف ورزی کے نتیجے میں فوج کا ایک اہلکار نایک راجیو سنگھ شکھا وت ازاجان ہوا۔ان کا کہناتھا’36سالہ مہلوک فوجی لکھانا خرد جئے پور راجستھان سے تعلق رکھتا تھا۔دفاعی ترجمان نے قوم اپنے بہادر سپوتوں کی قربانیوں کو ہمیشہ یاد رکھے گا۔ ادھر معلوم ہوا ہے کہ فائر اور ماٹر شلنگ میں متعدد فوجی اہلکار زخمی ہوئے،جنہیں اسپتال منتقل کیا گیا۔اس دوران ملنے والی اطلاعات کے مطابق اتوار کو بھی پونچھ میں لائن آف کنٹرول پر شدید اور خوفناک مارٹر شلنگ کا سلسلہ جاری رہا۔
دفاعی ترجمان نے بتایا کہ 12بجکر50منٹ دوپہر پاکستانی فوج نے ایک مرتبہ پھر بالاکوٹ کے بعد مینڈھر سیکٹر میں شدید گولہ باری کی۔ان کا کہناتھا کہ پاکستانی فوج کی جانب سے کی گئی جنگ بندی معاہدے کی خلاف ورزی کا بھرپور جواب دیا گیا،جسکے نتیجے میں پاکستانی فوج کو جانی ومالی نقصان کا سامنا کرنا پڑا۔ادھر آتشی گولہ باری کے نتیجے میں سرحدی دیہات میں رہائش پذیر لوگوں میں خوف وہراس کی لہر دوڑ گئی۔کئی کنبوں کو محفوظ مقامات پر منتقل بھی کیا گیا۔اطلاعات کے مطابق سرحدی آبادی کا کہنا ہے کہ پونچھ میں اس وقت جنگ جیسی صورتحال پائی جارہی ہے،کیونکہ دونوں اطراف سے گولہ باری کا سلسلہ وقفے وقفے سے جاری رہے۔
معلوم ہوا ہے کہ مینڈ ھر سیکٹر میں فوج نے کئی دیہات میں تلاشی آپریشن بھی شروع کیا ہے۔ذرائع کا کہنا ہے کہ فوج کو خدشہ ہے کہ گولہ باری کی آر میں عسکریت پسند داخل ہوئے ہیں جنکی تلاش میں یہ آپریشن شروع کیا گیا۔ذرائع نے بتایا کہ فوج نے مینڈ سیکٹر میں وسیع علاقے کو محاصرے میں لیکر تلاشی کارروائی شروع کی ہے،جو آخری اطلاعات ملنے تک جاری تھی۔ادھر پاکستانی میڈیا رپورٹس کے مطابق بھارتی فوج نے لائن آف کنٹرول (ایل او سی) پر فائرنگ کی جسکے نتیجے میں پاکستانی زیر انتظام کشمیر کے چری کوٹ سیکٹر میں ایک شہری ہلاک اور ایک خاتون زخمی ہوگئیں۔
میڈیا رپورٹس میں بتایا گیا ہے کہ بھارتی فوج نے آرٹلری اور مارٹر فائر کئے جس کے نتیجے میں کاکوٹا گاؤں کے رہائشی میر محمد ہلاک اور ایک خاتون زخمی ہوئیں،جسے فوری طور پر قریبی طبی مرکز منتقل کیا گیا۔میڈیا رپورٹس کے مطابق مقامی انتظامیہ کا کہنا تھا ہلاک ہونے والا شہری پاکستانی فوج سے ریٹائرڈ تھے جبکہ زخمیوں کی تعداد 4 ہے، جن میں سے ایک جاں بحق شہری کی بیٹی ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ بھارتی فوج نے ضلع پونچھ کی تحصیل عباس پور پر سہ پہر 3 بجے فائرنگ شروع کی تھی اور یہ سلسلہ شام گئے تک جاری رہا۔
ادھر پاکستانی ترجمان دفتر خارجہ عائشہ فاروقی کے مطابق ایل او سی پر بھارتی فوج کی فائرنگ پر پاکستان میں بھارتی ہائی کمیشن کے ناظم الامور گورو اہلووالیا کو دفتر خارجہ میں طلب کیا گیا اور احتجاج ریکارڈ کروا دیا گیا۔خیال رہے کہ ایل او سی پر جنگ بندی کیلئے2003 میں دونوں ممالک کی افواج کی جانب سے ایک معاہدے پر دستخط کیے گئے تھے۔تاہم اس کے باوجود طرفین کے مابین گولہ باری کا تبادلہ وقفے وقفے سے جاری ہے۔(کے این ایس)
ہندوستان
اروناچل ہندستان کا اٹوٹ حصہ، سرحد کی صورتحال ہی چین کے ساتھ دوطرفہ تعلقات کی بنیاد:ہندستان
نئی دہلی ہندستان نے اروناچل پردیش کو اپنا ناقابلِ تقسیم اور اٹوٹ حصہ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ چین کے ساتھ اس کے دوطرفہ تعلقات سرحد کی صورتحال پر مبنی ہوں گے اور سرحدی صورتحال کا ان تعلقات پر براہِ راست اثر ہوگا۔
وزارتِ خارجہ کے ترجمان رندھیر جیسوال نے منگل کے روز یہاں میڈیا بریفنگ میں سوالات کے جواب دیتے ہوئے یہ بات کہی۔ دراصل چین کی جانب سے اروناچل پردیش اور اس کے کچھ مقامات کے نام تبدیل کرنے کے ردعمل میں ہندستان نے حال ہی میں اروناچل پردیش کی 27 اہم جگہوں کو سروے آف انڈیا کے نقشے میں سرکاری طور پر نشان زد کر دیا ہے۔ اس پر چین کی طرف سے منفی ردعمل سامنے آیا ہے۔ چین کے اس ردعمل کے بارے میں پوچھے جانے پر مسٹر جیسوال نے کہا کہ اروناچل پردیش ہندستان کا ناقابلِ تقسیم اور اٹوٹ حصہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ ایک مسلمہ حقیقت ہے اور کوئی بھی اس ناقابلِ تردید سچائی کو بدل نہیں سکتا۔
دونوں ممالک کے درمیان سرحد پر صورتحال کے بارے میں پوچھے گئے سوال کے جواب میں ترجمان نے کہا کہ ہندستان سرحد سے جڑے معاملات کو انتہائی سنجیدہ مانتا ہے اور سرحد پر امن و استحکام اس کی ترجیح ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ سرحد کی صورتحال کا ہندستان اور چین کے تعلقات پر براہِ راست اثر پڑے گا۔ ترجمان نے کہا، “ہندستان اور چین کے درمیان سرحدی علاقوں سے جڑے معاملات میں، ہم نے ہمیشہ چین کے ساتھ بات چیت میں اس بات پر زور دیا ہے کہ ہم ان مسائل کو بے حد سنجیدہ مانتے ہیں اور ان علاقوں میں امن و استحکام برقرار رکھنا سب سے زیادہ اہم ہے۔ ہم نے یہ بھی واضح کیا ہے کہ سرحدی معاملات کی صورتحال ہمارے وسیع دوطرفہ تعلقات کی صورتحال کی عکاسی کرے گی۔ اس بات کو 06 اگست کو حال ہی میں منعقدہ ‘ہند-چین سرحدی معاملات پر مشاورت اور ہم آہنگی کے ورکنگ میکانزم’ کی 36ویں میٹنگ میں بھی دہرایا گیا۔ اس میٹنگ میں دونوں فریقوں نے کھلی اور واضح بات چیت کی اورحقیقی کنٹرول لائن (ایل اے سی) پر صورتحال کا جائزہ لیا۔”
مسٹر جیسوال نے کہا کہ میٹنگ میں ہندستان نے اس بات پر زور دیا کہ دوطرفہ تعلقات کی ہمہ گیر ترقی کے لیے سرحدی علاقوں میں امن و استحکام برقرار رکھنا انتہائی ضروری ہے۔ اس بات پر اتفاق ہوا کہ لائن آف ایکچوئل کنٹرول پر غلط فہمی اور غلط اندازوں سے بچنے نیز باقی بچے ہوئے مسائل کو حل کرنے کے لیے ورکنگ میکانزم کی میٹنگوں، مقامی کمانڈر سطح کی میٹنگوں اور دیگر میکانزم سمیت موجودہ سفارتی اور فوجی ذرائع کا استعمال جاری رکھا جائے گا۔
یو این آئی ایف اے
دنیا
موساد کے سابق سربراہ کا انکشاف، ماضی میں ایران کی فردو جوہری تنصیب کا کئی بار دورہ کیا
یروشلم، اسرائیلی خفیہ ایجنسی موساد کے سابق سربراہ یوسی کوہن نے کہا ہے کہ انہوں نے ماضی میں ایران کی فردو یورینیم افزودگی تنصیب کا کئی مرتبہ دورہ کیا تھا، تاہم انہوں نے یہ نہیں بتایا کہ یہ دورے کب کیے گئے اور ان کے ہمراہ کون تھا۔
عبرانی زبان کے میڈیا کے مطابق صفد میں منعقدہ گیلیلی فورم سے خطاب کرتے ہوئے کوہن نے کہا، ’’ہم نے فردو جوہری تنصیب کا کئی بار دورہ کیا تاکہ اس مقام کو سمجھ سکیں۔‘‘
انہوں نے مزید کہا، ’’امریکیوں کی جانب سے اس پر بمباری میرے تمام خوابوں کی تکمیل تھی۔‘‘
فردو کے علاوہ ایران کی اصفہان اور نطنز میں موجود جوہری تنصیبات کو بھی جون 2025 میں ہونے والی 12 روزہ اسرائیل۔ایران جنگ کے دوران امریکی حملوں سے شدید نقصان پہنچا تھا۔
بعد ازاں ایسی رپورٹس سامنے آئی تھیں کہ ان تنصیبات پر موجود تقریباً 440 کلوگرام انتہائی افزودہ یورینیم زمین میں دفن کر دی گئی تھی۔ تاہم اسرائیل نے بعد میں اندازہ لگایا کہ تہران نے اس مواد میں سے کچھ کو ممکنہ طور پر پکیکس ماؤنٹین کے مقام پر منتقل کر دیا تھا۔
کوہن کے مطابق 60 فیصد تک افزودہ یورینیم اب بھی ’’بم بنانے سے بہت دور‘‘ ہے۔ تاہم یہ دعویٰ جوہری ماہرین کی بعض جائزہ رپورٹس سے مختلف ہے۔ جوہری ماہر ڈیوڈ البرائٹ کا کہنا ہے کہ 60 فیصد افزودہ یورینیم کو مزید افزودہ کرکے چند ہفتوں یا حتیٰ کہ چند دنوں میں ہتھیاروں کے درجے کے مواد میں تبدیل کیا جا سکتا ہے۔
کوہن اس سے قبل ایران کے جوہری پروگرام کو نشانہ بنانے والی موساد کی کارروائیوں کے بارے میں بھی کھل کر بات کر چکے ہیں۔ 2021 میں موساد کی سربراہی چھوڑنے کے فوراً بعد ایک غیر معمولی ٹیلی ویژن انٹرویو میں انہوں نے کئی کارروائیوں کی تفصیلات فراہم کی تھیں، جن میں 2018 میں تہران کے ایک گودام سے ایران کے جوہری محفوظ شدہ ریکارڈ چوری کرنے کی کارروائی بھی شامل تھی۔
انہوں نے یہ بھی اشارہ دیا تھا کہ نطنز میں ایران کی زیر زمین سینٹری فیوج تنصیب کے ایک حصے کی تباہی کے پیچھے بھی موساد کا ہاتھ تھا۔ انہوں نے تصدیق کی تھی کہ ایرانی جوہری سائنس دان محسن فخری زادہ کو موساد نے ہی ہلاک کیا تھا اور تہران کو جوہری ہتھیار تیار کرنے کی کوشش سے باز رہنے کی تنبیہ کی تھی۔
چینل 12 کو دیے گئے اس انٹرویو میں موساد کے سابق سربراہ نے ایران کے جوہری بنیادی ڈھانچے سے اپنی واقفیت کا بھی اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ اگر انہیں موقع دیا جائے تو وہ دیان کو نطنز میں زیر زمین موجود اس ’’تہہ خانے‘‘ میں لے جائیں گے جہاں، ان کے بقول، ’’سینٹری فیوجز گھومتے تھے۔‘‘
یو این آئی۔ ع ا۔
جموں و کشمیر
جموں میں آبادیاتی تبدیلیوں سے متعلق پینل کو پناہ گزینوں کی تنظیم نے یادداشت پیش کی
جموں، پی او جے کے سے بے گھر افراد کی تنظیم ایس او ایس انٹرنیشنل کے ایک وفد نے منگل کو یہاں جسٹس پرکاش پربھاکر نولیکر (ریٹائرڈ) کی سربراہی میں آبادیاتی تبدیلیوں سے متعلق پینل کو ایک تفصیلی یادداشت پیش کی۔
ایس او ایس انٹرنیشنل کے چیئرمین راجیو چونی کی قیادت میں وفد میں پروفیسر این این شرما (نائب چیئرمین)، ونود کمار دتہ (جنرل سکریٹری)، بھائی رام سنگھ (سکریٹری) اور وید راج بالی (سکریٹری) شامل تھے۔ وفد نے یادداشت پیش کرتے ہوئے 1947 سے پاکستان کے زیر قبضہ جموں و کشمیر (پی او جے کے) کی ہندو اور سکھ آبادی کے ساتھ روا رکھے گئے تاریخی ناانصافی کو ریکارڈ پر لایا اور پینل سے ٹھوس اصلاحی اقدامات کرنے کا مطالبہ کیا۔
جاری کردہ بیان کے مطابق یادداشت میں نشاندہی کی گئی کہ 1947 کے حملے کے بعد اس وقت کی جموں و کشمیر حکومت نے ابتدائی طور پر تقریباً 31,600 خاندانوں کا اندراج کیا تھا، جبکہ تقریباً 9,500 خاندانوں کو معمولی اور غیر معقول وجوہات کی بنیاد پر من مانے طریقے سے رجسٹریشن سے محروم کر دیا گیا۔
رجسٹرڈ خاندانوں میں سے صرف تقریباً 26,300 خاندانوں کو ریاست کے اندر آباد کیا گیا، جبکہ تقریباً 5,300 رجسٹرڈ خاندانوں کے ساتھ ساتھ 9,500 غیر رجسٹرڈ خاندانوں کو ہندوستان کے دیگر حصوں میں پناہ لینے پر مجبور ہونا پڑا۔ باقاعدہ طور پر رجسٹر کیے گئے خاندانوں کے ریکارڈ اب بھی جموں و کشمیر حکومت کے سرکاری ریکارڈ میں موجود ہیں۔
یادداشت میں کہا گیاکہ ’’یہ خاندان مہاراجہ ہری سنگھ کے 1927 کے اسٹیٹ سبجیکٹ قانون کے تحت ریاست کے اصل باشندے تھے اور انہوں نے بارہا اپنے آبائی وطن واپس جانے کی خواہش کا اظہار کیا ہے۔‘‘
تاہم بحالیِ آبادکاری کی کسی جامع پالیسی یا ادارہ جاتی مدد کی مکمل عدم موجودگی کے باعث ان کے پاس دوسری جگہ اپنی زندگی دوبارہ شروع کرنے کے علاوہ کوئی راستہ نہیں تھا۔ بیان کے مطابق اس وقت ریاست سے باہر رہنے والی ان کی آبادی کا تخمینہ پانچ سے چھ لاکھ ہے۔
ایس او ایس انٹرنیشنل نے یہ بھی نشاندہی کی کہ جموں و کشمیر کی اُس وقت کی حکومت کے 2014 کے کابینہ فیصلے میں ہر متاثرہ خاندان کو 25 لاکھ روپے نقد امداد، تعلیم یافتہ بے روزگار نوجوانوں کے لیے 8,500 سرکاری ملازمتیں اور پیشہ ورانہ و تکنیکی اداروں میں ریزرویشن دینے کا وعدہ کیا گیا تھا، لیکن جموں و کشمیر یا سابق ریاست سے باہر جلاوطنی کی زندگی گزارنے والے خاندانوں کے لیے اس پر عمل نہیں کیا گیا۔
جاری۔یواین آئی۔ طـ ا
-
دنیا2 days agoایران کا فی الحال امریکہ کے ساتھ کوئی مذاکرات نہیں: ایرانی وزیر خارجہ
-
ہندوستان2 days agoطلبہ پر کارروائی کے معاملے پر حکومت کو گھیرتے ہوئے راہل کا مضمون، کھڑگے اور پرینکا نے حمایت کی
-
دنیا2 days agoسعودی عرب میں فیکٹری میں آگ کے سبب 16 بنگلہ دیشی مزدور ہلاک
-
دنیا2 days agoٹرمپ جوہری معاہدے کے بغیر ایران کے ساتھ تنازع ختم کرنے پر تیار: رپورٹ
-
دنیا17 hours agoایران نے خود کو ایک ‘ناقابل تسخیر طاقت’ ثابت کیا ہے: عراقچی
-
جموں و کشمیر17 hours agoیومِ آزادی سے قبل جموں و کشمیر پولیس نے سرحدی سامبا میں طویل فاصلے کی گشت اور فرضی انسدادِ دہشت گردی مشق کی
-
دنیا21 hours agoیمن میں حوثیوں کے المخا اور مارب پر بیلسٹک میزائل حملے
-
دنیا21 hours agoٹرمپ کا ایران سے معاوضے کا مطالبہ، آبنائے ہرمز پر مذاکرات جاری
-
ہندوستان19 hours agoپارلیمنٹ کے احاطے میں اپوزیشن ارکانِ پارلیمنٹ کا احتجاج
-
دنیا2 days agoتجربہ کار آئی آر جی سی کمانڈر محسن رضائی ایران کے قومی سلامتی کے سربراہ مقرر
-
دنیا17 hours agoشام کے سابق صدر بشار الاسد کو سزائے موت سنادی گئی
-
دنیا21 hours agoایران اور عمان کے درمیان آبنائے ہرمز پر مذاکرات جاری
