تازہ ترین
سرکار ایسا کوئی کام نہیں کرے گاجس سے کشمیریوں کو تکلیف ہو : گورنر
خبراردو:
ریاست جموں کشمیر کے گورنر ستیہ پال ملک نے سنیچر کے روزصوبائی انتظامیہ کے ہمراہ زبرون پہاڑیوں کے دامن میں واقع ایشا کے سب سے بڑے پھولوں کا باغ ’’باغ گلِ لالہ ‘‘کی اچانک سیر کی ہے ۔اس دوران گورنر نے سیر کے دوران ہی میڈیا سے بات کرتے ہوئے سرینگر جموں شاہراہ پر ہفتے میں2دن عام ٹرانسپوٹ کو بند رکھنے کے ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا ڈیویژنل کمشنر نے اس حوالے سے پہلے ہی پرس کانفرنس کی ہے جس میں کچھ تبدیل لائی گئی ہے گور نر نے بتایا سنیچر کو ہی ہم بعد دوپہر گزشتہ چار روز کے دوران سامنے آئے کچھ مسائل چاہے وہ سیکورٹی کے ہو یا سرینگر جموں شاہراہ کی ہو ان کے حوالے سے ایک میٹنگ منعقد کرنے جا رہے ہیں انہوں نے بتایا وہ ٹیولپ گاڑن صرف گھومنے کے لئے نہیں آئے بلکہ ہم یہاں ہی ایک اہم ایک میٹنگ منعقد کریں گے جس دوران تمام مسائل پر بات ہوئی گی ۔انہوں نے بتایا میں کشمیرکے عوام کو یقین دلاتا ہوں سرکار ایسا کوئی کام نہیں کرے گئی جس سے کشمیری عوام کو تکلیف اٹھانی پڑے ۔ستیہ پال ملک نے دنیاں کو ایک پیغام دیا ہے کشمیر ایک خوبصورت جگہ ہے اور کشمیری مہمان نواز ہیں جن میں جہاں ہر ایک کو آنا چاہے انہوں نے بتایا کشمیر کے لوگوں کی مہمان نوازی کشمیر کی منفرد پہچان آج بھی موجود ہے جبکہ کشمیر سیاحوں کے لئے بلکل محفوظ ہے انہوں نے بتایا ’’ہمیں خطرہ وسکتا ہے لیکن سیاحوں کشمیر آنے میں کسی بھی سیاح کو کوئی بھی خطرہ نہیں ہے ‘‘۔گورنر نے بتایا سرکار بہت جلد دلی میں ایک کانفرنس منعقد کریں گے جس میں ایمسڈرس کو بلا کر انہیں اپنے اپنے ممالک کی جانب اس ایڈوائزی کو ختم کروانے کی کوشش کریں گئی جس میں انہیں کشمیر جانے سے اجتناب کا مشورہ پہلے دیا گیا تھا ۔ستیہ پال ملک نے بتایا کشمیر میں پہلے بھی سیاح آئے ہیں کسی کوئی نقصان نہیں پہنچا ہے ۔
انہوں نے بتایا ہمیں باغ گل لالہ میں نہیں آنا تھا بلکہ یہاں آنے کا ہمیں صرف ایک ہی مقصد تھا کہ ہم دنیاں کو بتائیں کہ کشمیر ایک خوب صورت جگہ ہے یہاں آنے میں کسی کو کوئی خطرہ نہیں ہے ۔ آنے والے پارلیمانی انتخابات کے حوالے سے گورنر نے بتایا جتنی سیکورٹی ضروری ہے اتنی سب کو دی جائے گئے ۔ انہوں کسی کا نام بنا بتائے بتایا میں نے 2لیڈران سے بات کی ہے کہ آپ کو کتنی سیکورٹی ضرورت ہے آپ کو فراہم کی جائے گی اور ایک اچھا پر امن انتخابات منعقد کریں گے ۔ایک سوال کے جواب میں گورنر نے کہا کہ سیاسی لیڈران کو یہ سوچ لینا چاہے کہ دنیا بدل گئی اور ہندوستان بھی بدلا ہے انہوں نے کہا کہ میں سیاسی لیڈران سے ہاتھ جوڑ کر گزارش کرتا ہوں کہ سیاسی باتیں یا چناو کی باتیں کہو لیکن ایسی باتیں مت کہو جس سے امن کو خطرہ ہو جس سے جنگجوئیت میں اضافہ ہو ۔ انہوں نے بتایا سیاسی پارٹیوں کے لیڈران لو سوچنا چاہے کہ جنگجوؤں اور حریت لیڈران میں فرق ہونا چاہے انہوں نے کہا ان سے مشورہ دیتے ہیں کہ ہم سب آپ کی عزت کرتے ہیں وہ اس سسٹم کا حصہ ہیں ان کی یہاں جگہ ہیں آپکے بنا یہاں سسٹم نہیں ہے لیکن آپ صیح زبان کا استعمال کریں ۔ انہوں بتایا کہ آنے والے انتخابات پر امن طور منعقد کئے جائیں گے جس کے لئے تمام تیاریاں مکمل کی گئی ہیں ۔
آرٹیکل35A اور دفعہ370 کے بارے میں انہوں نے کہا اس پر میں بات نہیں کروں گا یہ میرا سبجکٹ نہیں ہے تاہم یہ میں ضرور کہوں گا اگر مگر نہیں چلے گااور اس پر بات نہیں ہو گئی یہ اسی وقت وقت بات ہوگی۔انہوں نے بتایا اسے سے لوگوں میں فرضی خوف پیدا کر کے ووٹ بٹورنے کے لئے کہا جاتا ہے جس کے حق میں ہم نہیں ہے۔ انہوں نے بتایا کہ یہ پوچھو گور نر رول میں کتنی کام ہوئی ہے کتنے تعلیمی ادارے کھل گئے ۔انہوں نے بتایا یہاں ٹرانسفارمر کے لئے گولی چلی لیکن مجھے کسی دور دروز علاقے سے کوئی بجلی ٹرانسفارمر کی شکایت کرتا ہے اوردوسرے دن یہاں ٹرانسفارمر چلتا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ60ہزار عوامی شکایت کا ازالہ کیاگیا ہے ۔ گورنر نے بتایا کوئی رات کے2بجے بھی آتا ہے بنا پلان کے میں انہیں اندر بلا کے میں ملتا ہوں ۔گورنر ستیہ پال ملک نے سنیچر کے روز اشیا کے سب سے بڑی گل لاہ باغ کا دورہ کیا ہے ان کے ہمراہ آئی جی پی کشمیر ،صوبائی کمشنر ،بصیر احمد خان کے ساتھ ساتھ رضاکاروں اور دیگر افسران کی ایک بڑی تعداد بھی موجود تھی خیال رہے باغ گل لاہ 31اپریل کو محکمہ فلوری کلچر نے لوگوں کے لئے کھول دیا تھا تاہم انتخابی ضابطہ اخلاق کے نتیجے میں یہاں کوئی تقریب منعقد نہیں ہوئی۔
ہندوستان
اروناچل ہندستان کا اٹوٹ حصہ، سرحد کی صورتحال ہی چین کے ساتھ دوطرفہ تعلقات کی بنیاد:ہندستان
نئی دہلی ہندستان نے اروناچل پردیش کو اپنا ناقابلِ تقسیم اور اٹوٹ حصہ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ چین کے ساتھ اس کے دوطرفہ تعلقات سرحد کی صورتحال پر مبنی ہوں گے اور سرحدی صورتحال کا ان تعلقات پر براہِ راست اثر ہوگا۔
وزارتِ خارجہ کے ترجمان رندھیر جیسوال نے منگل کے روز یہاں میڈیا بریفنگ میں سوالات کے جواب دیتے ہوئے یہ بات کہی۔ دراصل چین کی جانب سے اروناچل پردیش اور اس کے کچھ مقامات کے نام تبدیل کرنے کے ردعمل میں ہندستان نے حال ہی میں اروناچل پردیش کی 27 اہم جگہوں کو سروے آف انڈیا کے نقشے میں سرکاری طور پر نشان زد کر دیا ہے۔ اس پر چین کی طرف سے منفی ردعمل سامنے آیا ہے۔ چین کے اس ردعمل کے بارے میں پوچھے جانے پر مسٹر جیسوال نے کہا کہ اروناچل پردیش ہندستان کا ناقابلِ تقسیم اور اٹوٹ حصہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ ایک مسلمہ حقیقت ہے اور کوئی بھی اس ناقابلِ تردید سچائی کو بدل نہیں سکتا۔
دونوں ممالک کے درمیان سرحد پر صورتحال کے بارے میں پوچھے گئے سوال کے جواب میں ترجمان نے کہا کہ ہندستان سرحد سے جڑے معاملات کو انتہائی سنجیدہ مانتا ہے اور سرحد پر امن و استحکام اس کی ترجیح ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ سرحد کی صورتحال کا ہندستان اور چین کے تعلقات پر براہِ راست اثر پڑے گا۔ ترجمان نے کہا، “ہندستان اور چین کے درمیان سرحدی علاقوں سے جڑے معاملات میں، ہم نے ہمیشہ چین کے ساتھ بات چیت میں اس بات پر زور دیا ہے کہ ہم ان مسائل کو بے حد سنجیدہ مانتے ہیں اور ان علاقوں میں امن و استحکام برقرار رکھنا سب سے زیادہ اہم ہے۔ ہم نے یہ بھی واضح کیا ہے کہ سرحدی معاملات کی صورتحال ہمارے وسیع دوطرفہ تعلقات کی صورتحال کی عکاسی کرے گی۔ اس بات کو 06 اگست کو حال ہی میں منعقدہ ‘ہند-چین سرحدی معاملات پر مشاورت اور ہم آہنگی کے ورکنگ میکانزم’ کی 36ویں میٹنگ میں بھی دہرایا گیا۔ اس میٹنگ میں دونوں فریقوں نے کھلی اور واضح بات چیت کی اورحقیقی کنٹرول لائن (ایل اے سی) پر صورتحال کا جائزہ لیا۔”
مسٹر جیسوال نے کہا کہ میٹنگ میں ہندستان نے اس بات پر زور دیا کہ دوطرفہ تعلقات کی ہمہ گیر ترقی کے لیے سرحدی علاقوں میں امن و استحکام برقرار رکھنا انتہائی ضروری ہے۔ اس بات پر اتفاق ہوا کہ لائن آف ایکچوئل کنٹرول پر غلط فہمی اور غلط اندازوں سے بچنے نیز باقی بچے ہوئے مسائل کو حل کرنے کے لیے ورکنگ میکانزم کی میٹنگوں، مقامی کمانڈر سطح کی میٹنگوں اور دیگر میکانزم سمیت موجودہ سفارتی اور فوجی ذرائع کا استعمال جاری رکھا جائے گا۔
یو این آئی ایف اے
دنیا
موساد کے سابق سربراہ کا انکشاف، ماضی میں ایران کی فردو جوہری تنصیب کا کئی بار دورہ کیا
یروشلم، اسرائیلی خفیہ ایجنسی موساد کے سابق سربراہ یوسی کوہن نے کہا ہے کہ انہوں نے ماضی میں ایران کی فردو یورینیم افزودگی تنصیب کا کئی مرتبہ دورہ کیا تھا، تاہم انہوں نے یہ نہیں بتایا کہ یہ دورے کب کیے گئے اور ان کے ہمراہ کون تھا۔
عبرانی زبان کے میڈیا کے مطابق صفد میں منعقدہ گیلیلی فورم سے خطاب کرتے ہوئے کوہن نے کہا، ’’ہم نے فردو جوہری تنصیب کا کئی بار دورہ کیا تاکہ اس مقام کو سمجھ سکیں۔‘‘
انہوں نے مزید کہا، ’’امریکیوں کی جانب سے اس پر بمباری میرے تمام خوابوں کی تکمیل تھی۔‘‘
فردو کے علاوہ ایران کی اصفہان اور نطنز میں موجود جوہری تنصیبات کو بھی جون 2025 میں ہونے والی 12 روزہ اسرائیل۔ایران جنگ کے دوران امریکی حملوں سے شدید نقصان پہنچا تھا۔
بعد ازاں ایسی رپورٹس سامنے آئی تھیں کہ ان تنصیبات پر موجود تقریباً 440 کلوگرام انتہائی افزودہ یورینیم زمین میں دفن کر دی گئی تھی۔ تاہم اسرائیل نے بعد میں اندازہ لگایا کہ تہران نے اس مواد میں سے کچھ کو ممکنہ طور پر پکیکس ماؤنٹین کے مقام پر منتقل کر دیا تھا۔
کوہن کے مطابق 60 فیصد تک افزودہ یورینیم اب بھی ’’بم بنانے سے بہت دور‘‘ ہے۔ تاہم یہ دعویٰ جوہری ماہرین کی بعض جائزہ رپورٹس سے مختلف ہے۔ جوہری ماہر ڈیوڈ البرائٹ کا کہنا ہے کہ 60 فیصد افزودہ یورینیم کو مزید افزودہ کرکے چند ہفتوں یا حتیٰ کہ چند دنوں میں ہتھیاروں کے درجے کے مواد میں تبدیل کیا جا سکتا ہے۔
کوہن اس سے قبل ایران کے جوہری پروگرام کو نشانہ بنانے والی موساد کی کارروائیوں کے بارے میں بھی کھل کر بات کر چکے ہیں۔ 2021 میں موساد کی سربراہی چھوڑنے کے فوراً بعد ایک غیر معمولی ٹیلی ویژن انٹرویو میں انہوں نے کئی کارروائیوں کی تفصیلات فراہم کی تھیں، جن میں 2018 میں تہران کے ایک گودام سے ایران کے جوہری محفوظ شدہ ریکارڈ چوری کرنے کی کارروائی بھی شامل تھی۔
انہوں نے یہ بھی اشارہ دیا تھا کہ نطنز میں ایران کی زیر زمین سینٹری فیوج تنصیب کے ایک حصے کی تباہی کے پیچھے بھی موساد کا ہاتھ تھا۔ انہوں نے تصدیق کی تھی کہ ایرانی جوہری سائنس دان محسن فخری زادہ کو موساد نے ہی ہلاک کیا تھا اور تہران کو جوہری ہتھیار تیار کرنے کی کوشش سے باز رہنے کی تنبیہ کی تھی۔
چینل 12 کو دیے گئے اس انٹرویو میں موساد کے سابق سربراہ نے ایران کے جوہری بنیادی ڈھانچے سے اپنی واقفیت کا بھی اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ اگر انہیں موقع دیا جائے تو وہ دیان کو نطنز میں زیر زمین موجود اس ’’تہہ خانے‘‘ میں لے جائیں گے جہاں، ان کے بقول، ’’سینٹری فیوجز گھومتے تھے۔‘‘
یو این آئی۔ ع ا۔
جموں و کشمیر
جموں میں آبادیاتی تبدیلیوں سے متعلق پینل کو پناہ گزینوں کی تنظیم نے یادداشت پیش کی
جموں، پی او جے کے سے بے گھر افراد کی تنظیم ایس او ایس انٹرنیشنل کے ایک وفد نے منگل کو یہاں جسٹس پرکاش پربھاکر نولیکر (ریٹائرڈ) کی سربراہی میں آبادیاتی تبدیلیوں سے متعلق پینل کو ایک تفصیلی یادداشت پیش کی۔
ایس او ایس انٹرنیشنل کے چیئرمین راجیو چونی کی قیادت میں وفد میں پروفیسر این این شرما (نائب چیئرمین)، ونود کمار دتہ (جنرل سکریٹری)، بھائی رام سنگھ (سکریٹری) اور وید راج بالی (سکریٹری) شامل تھے۔ وفد نے یادداشت پیش کرتے ہوئے 1947 سے پاکستان کے زیر قبضہ جموں و کشمیر (پی او جے کے) کی ہندو اور سکھ آبادی کے ساتھ روا رکھے گئے تاریخی ناانصافی کو ریکارڈ پر لایا اور پینل سے ٹھوس اصلاحی اقدامات کرنے کا مطالبہ کیا۔
جاری کردہ بیان کے مطابق یادداشت میں نشاندہی کی گئی کہ 1947 کے حملے کے بعد اس وقت کی جموں و کشمیر حکومت نے ابتدائی طور پر تقریباً 31,600 خاندانوں کا اندراج کیا تھا، جبکہ تقریباً 9,500 خاندانوں کو معمولی اور غیر معقول وجوہات کی بنیاد پر من مانے طریقے سے رجسٹریشن سے محروم کر دیا گیا۔
رجسٹرڈ خاندانوں میں سے صرف تقریباً 26,300 خاندانوں کو ریاست کے اندر آباد کیا گیا، جبکہ تقریباً 5,300 رجسٹرڈ خاندانوں کے ساتھ ساتھ 9,500 غیر رجسٹرڈ خاندانوں کو ہندوستان کے دیگر حصوں میں پناہ لینے پر مجبور ہونا پڑا۔ باقاعدہ طور پر رجسٹر کیے گئے خاندانوں کے ریکارڈ اب بھی جموں و کشمیر حکومت کے سرکاری ریکارڈ میں موجود ہیں۔
یادداشت میں کہا گیاکہ ’’یہ خاندان مہاراجہ ہری سنگھ کے 1927 کے اسٹیٹ سبجیکٹ قانون کے تحت ریاست کے اصل باشندے تھے اور انہوں نے بارہا اپنے آبائی وطن واپس جانے کی خواہش کا اظہار کیا ہے۔‘‘
تاہم بحالیِ آبادکاری کی کسی جامع پالیسی یا ادارہ جاتی مدد کی مکمل عدم موجودگی کے باعث ان کے پاس دوسری جگہ اپنی زندگی دوبارہ شروع کرنے کے علاوہ کوئی راستہ نہیں تھا۔ بیان کے مطابق اس وقت ریاست سے باہر رہنے والی ان کی آبادی کا تخمینہ پانچ سے چھ لاکھ ہے۔
ایس او ایس انٹرنیشنل نے یہ بھی نشاندہی کی کہ جموں و کشمیر کی اُس وقت کی حکومت کے 2014 کے کابینہ فیصلے میں ہر متاثرہ خاندان کو 25 لاکھ روپے نقد امداد، تعلیم یافتہ بے روزگار نوجوانوں کے لیے 8,500 سرکاری ملازمتیں اور پیشہ ورانہ و تکنیکی اداروں میں ریزرویشن دینے کا وعدہ کیا گیا تھا، لیکن جموں و کشمیر یا سابق ریاست سے باہر جلاوطنی کی زندگی گزارنے والے خاندانوں کے لیے اس پر عمل نہیں کیا گیا۔
جاری۔یواین آئی۔ طـ ا
-
دنیا1 day agoایران کا فی الحال امریکہ کے ساتھ کوئی مذاکرات نہیں: ایرانی وزیر خارجہ
-
ہندوستان1 day agoطلبہ پر کارروائی کے معاملے پر حکومت کو گھیرتے ہوئے راہل کا مضمون، کھڑگے اور پرینکا نے حمایت کی
-
دنیا1 day agoسعودی عرب میں فیکٹری میں آگ کے سبب 16 بنگلہ دیشی مزدور ہلاک
-
دنیا2 days agoٹرمپ جوہری معاہدے کے بغیر ایران کے ساتھ تنازع ختم کرنے پر تیار: رپورٹ
-
دنیا13 hours agoٹرمپ کا ایران سے معاوضے کا مطالبہ، آبنائے ہرمز پر مذاکرات جاری
-
دنیا1 day agoتجربہ کار آئی آر جی سی کمانڈر محسن رضائی ایران کے قومی سلامتی کے سربراہ مقرر
-
دنیا9 hours agoایران نے خود کو ایک ‘ناقابل تسخیر طاقت’ ثابت کیا ہے: عراقچی
-
جموں و کشمیر9 hours agoیومِ آزادی سے قبل جموں و کشمیر پولیس نے سرحدی سامبا میں طویل فاصلے کی گشت اور فرضی انسدادِ دہشت گردی مشق کی
-
دنیا13 hours agoایران اور عمان کے درمیان آبنائے ہرمز پر مذاکرات جاری
-
دنیا12 hours agoکولمبیا میں زلزلے سے ہلاکتوں کی تعداد 132 ہو گئی، صدر کا قومی ایمرجنسی کا اعلان
-
ہندوستان11 hours agoپارلیمنٹ کے احاطے میں اپوزیشن ارکانِ پارلیمنٹ کا احتجاج
-
دنیا9 hours agoشام کے سابق صدر بشار الاسد کو سزائے موت سنادی گئی
