تازہ ترین
سوپور واقعہ پر مین اسٹریم پارٹیاں سیخ پا
نوجوان کی حراست کے بعد موت کو قرار دیا قابل مذمت
این سی،پی ڈی پی،پی سی،اپنی پانی،سی پی آئی (ایم) نے غیر جانبدارانہ تحقیقات کا مطالبہ کیا
خبراردو:-
سرینگر:سوپور واقعہ پر این سی،پی ڈی پی،پی سی،اپنی پانی،سی پی آئی (ایم) نے اپنا ردِ عمل ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ حراست کے بعد نوجوان کی موت اورپولیس کی وضاحت قابل مذمت ہے۔
انہوں نے واقعہ کی معیاد بند اعلیٰ سطحی غیر جانبدارانہ تحقیقات کا مطالبہ کیا۔ادھرنیشنل کانفرنس کے رُکن پارلیمان نے پارلیمنٹ میں تحریک التواء پیش کرنے کے دوران کہا ہے کہ 5اگست2019کے بعد جموں وکشمیر جبر و استبداد کی داستان لکھی جارہی ہے۔
کشمیر نیوز سروس کے مطابق نیشنل کانفرنس کے رکن پارلیمان جسٹس (ر) حسنین مسعودی نے سوپور میں نوجوانوں کی پُراسرار ہلاکت اور مبینہ شوپیان فرضی تصادم میں 3نوجوانوں کی ہلاکت کے معاملات بدھ کے روزلوک سبھا میں اُٹھائے۔
انہوں نے ایوان کو آگاہ کیا کہا کہ 5اگست2019کے غیر آئینی فیصلے کے بعد جموں وکشمیر میں ظلم و جبر کی ایک داستان لکھی جارہی ہے۔مرکزی حکومت نے اپنے فیصلوں کو صحیح جتلانے کیلئے ہزاروں کی تعداد میں گرفتاریاں عمل میں لائیں گئیں اور اب فرضی انکاؤنٹروں اور حراستی ہلاکتوں سے جبر و استبداد کے نئے ریکارڈ قائم کئے جارہے ہیں۔
ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ ایک ماہ قبل شوپیان میں ایک تصادم آرائی میں 3 نوجوانوں کو گولی مار کر ہلاک کیا گیا تھا اور یہ دعویٰ کیا گیا تھا کہ یہ تینوں خوفناک جنگجو تھے لیکن کچھ دن بعد پتہ چلا کہ وہ راجوری کے بے گناہ مزدور ہیں اور مبینہ طور پر ایک فرضی انکاؤنٹر میں مارے گئے تھے۔ڈی این اے کے نمونے اگرچہ ایک ماہ قبل حاصل کئے گئے تھے لیکن اب تحقیقات بلا وجہ تاخیر کی جارہی ہے۔
انہوں نے وزیر دفاع سے کہا کہ وہ ایوان کو اس فرضی انکاؤنٹر کی تحقیقات کی صورتحال کے بارے میں آگاہ کریں۔ مسعودی نے سوپور میں سوپور کے 24سالہ نوجوان عرفان احمد ڈار کی مبینہ حراستی ہلاکت پر کا بھی معاملہ اُٹھایا اور حکومت کو اس بارے میں بیان دینے کیلئے کہا۔
انہوں نے حکومت ہند کو یاد دہانی کرائی کہ ظلم و تشدد اور جبر و استبداد سے کوئی بھی نتائج سامنے نہیں آسکتے بلکہ اس سے جموں وکشمیر کے عوام اور ملک کے درمیان خلیج اور زیادہ بڑے گی۔دریں اثناء رکن پارلیمان ڈاکٹر فاروق عبداللہ اور حسنین مسعودی نے تحریک التوا بھی پیش کی اور شوپیان کے معاملے میں تحقیقات سے متعلق معلومات حاصل کرنے کے لئے کالنگ اٹیکشن موشن دائر کیا گیا۔
ادھر نیشنل کانفرنس نے سوپور میں نوجوان کی پُراسرار ہلاکت پر زبردست تشویش اور رنج و الم کا اظہار کرتے ہوئے معاملے کی تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔ پارٹی کے نائب صدر عمر عبداللہ نے 24سالہ عرفان احمد ڈار کی پُراسرار ہلاکت کی اعلیٰ سطحی تحقیقات کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ مہلوک کے گھروالوں نے پولیس دعوؤں کی منفی کی ہے اور ایسے میں حقائق کو عوام کے سامنے لان انتہائی ضروری بن گیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ شوپیان اور سوپور جیسے پُراسرار انکاؤنٹروں کے حقائق جانے کی کوشش نہیں کریگی اور اس بات کی کوشش نہیں کریگی کہ خاطیوں کو قرارواقعی سزادی جائے تو یہ عوام کا اعتماد حاصل نہیں کرسکتی۔ انہوں نے کہا کہ لیفٹنٹ گورنر منوج سنہا کو دونوں معاملات میں ذاتی مداخلت کرنی چاہئے۔ ادھر پیپلز کانفرنس کے صدر سجاد غنی لون نے سوپور واقعہ کی مذمت کی۔
انہوں نے ٹویٹ کرتے ہوئے لکھا کہ ’سوپور واقعہ انتہائی مذموم ہے،جس میں ایک اختراعی کہانی تشکیل دے کرغلط کام کیا گیا،ملوثین کو قرار واقعی سزا دینے کی ضرورت‘۔
پی ڈی پی سرپرست اعلیٰ اور سابق نائب وزیر اعلیٰ مظفر حسین بیگ نے واقعہ کو بد قسمتی سے تعبیر کرتے ہوئے معیاد بند اعلیٰ سطحی تحقیقات کا مطالبہ کیا۔انہوں نے کہا کہ اس طرح کے واقعات سے وادی کشمیر میں پہلے سے موجود تناؤ میں مزید اضافہ ہورہا ہے،جس سے ہر حال میں اجتناب برتنا چاہئے تھا۔
ادھر سی پی آئی ایم کے سینئر لیڈر سابق ایم ایل اے کولگام محمد یوسف تاریگامی نے سوپور واقعہ کی غیر جانبدارانہ تحقیقات کا مطالبہ کیا اور کہا کہ اخترا عی کہانیوں سے حقائق کو چھپا یا نہیں جاسکتا۔اپنی پارٹی کے سینئر رہنما جاوید بیگ نے واقعہ کی مذمت کرتے ہوئے اعلیٰ سطحی تحقیقات کا مطالبہ کیا۔
ہندوستان
سودیشی جاگرن منچ کی حکومت سے امریکی ٹیرف کی دھمکیوں کے خلاف ڈٹے رہنے، لوگوں سے امریکی کمپنیوں کا بائیکاٹ کرنے کی اپیل
نئی دہلی، سودیشی جاگرن منچ (ایس جے ایم) نے امریکہ کی سینیٹ کی طرف سے حال ہی میں منظور کیے گئے اس قانون پر گہرے افسوس کا اظہار کیا ہے، جو امریکی صدر کو ان ملکوں پر 100 فیصد تک ٹیرف لگانے کا اختیار دیتا ہے جو روس سے بڑی مقدار میں تیل خریدتے ہیں تنظیم نے بدھ کے روز ایک بیان میں کہا کہ اس کا پختہ یقین ہے کہ کسی بھی ملک کو ہندوستان کی توانائی سکیورٹی اور خود مختار تجارتی پالیسی طے کرنے کا حق نہیں ہے۔ ایس جے ایم کے قومی شریک کنوینر اشونی مہاجن نے کہا، “اگرچہ ہم مانتے ہیں کہ اس قانون کو ابھی پورے قانون سازی کے عمل سے گزرنا باقی ہے اور ڈیوٹی خود بخود نافذ نہیں ہوگی، پھر بھی یہ واضح طور پر آزاد اور منصفانہ بین الاقوامی تجارت کے اصولوں اور ملکوں کے اپنی توانائی پالیسیاں طے کرنے کے خود مختار حق کے لیے ایک سنگین خطرہ پیدا کرتا ہے۔”
ایس جے ایم کا کہنا ہے کہ وہ اس معاملے پر حکومت ہند کے موقف کی مکمل حمایت کرتا ہے کہ روس سے خام تیل کی ہندوستان کی خریداری توانائی سکیورٹی، دستیابی، قیمت، سپلائی میں تنوع اور ہندوستانی صارفین کے مفادات پر مبنی ہے۔
ہندوستان نے بار بار یہ واضح کیا ہے کہ جائز بین الاقوامی منڈیوں سے توانائی خریدنے کے ہمارے خود مختار حق کو کوئی تیسرا ملک طے نہیں کر سکتا۔ تنظیم نے کہا ہے کہ یہ پہلی بار نہیں ہے جب امریکہ میں آنے والے سامان پر غیر منصفانہ ڈیوٹی لگانے کی دھمکی دی گئی ہے۔ ایسی دھمکیاں امریکی صدر کے طور پر ڈونلڈ ٹرمپ کی دوسری مدت کار کے آغاز سے ہی ملتی رہی ہیں؛ درحقیقت، امریکہ میں آنے والے ہندوستانی سامان پر کبھی کبھی بھاری ڈیوٹی لگائی گئی ہے، جس سے ہماری برآمدات پر کافی اثر پڑا ہے۔ ان ٹیرف کو الگ الگ ناموں سے جانا گیا ہے— جیسے ریسیپروکل ٹیرف اور قومی سکیورٹی ڈیوٹی سے لے کر سیکشن 301 ڈیوٹی، سیکشن 232 ڈیوٹی، تادیبی ڈیوٹی (روسی تیل خریدنے کے لیے)، تجارتی خسارہ ڈیوٹی اور جبری مشقت ڈیوٹی— اور یہ فہرست کبھی ختم نہیں ہوتی۔
یو این آئی ۔ ایف اے
ہندوستان
امت شاہ کی تقریر نہیں، ہمیں جواب چاہیے: راہل
نئی دہلی، لوک سبھا میں اپوزیشن لیڈر راہل گاندھی نے طلباء کے خلاف پولیس کارروائی پر وزیر داخلہ امت شاہ سے پارلیمنٹ میں جواب دینے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ اب تقریر نہیں، سوالات کے جواب چاہیئں مسٹر گاندھی نے بدھ کے روز پارلیمنٹ ہاؤس کے احاطے میں صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا، “مسٹر شاہ نے بچوں پر گولی چلانے کا حکم دیا تھا یا نہیں۔ دونوں ہی صورتوں میں انہیں استعفیٰ دینا چاہیے۔ ہمیں اب امت شاہ کی تقریر نہیں چاہیے۔ ہمیں جواب چاہیے۔ ہمارے طلباء پر گولی کس نے چلائی؟ گولی چلانے کا حکم کس نے دیا؟ کس نے ایک طالب علم کی آنکھ کی بینائی چھینی؟ کیلوں والی لاٹھیوں کے استعمال کا حکم کس نے دیا؟”
انہوں نے دعویٰ کیا کہ یہ حکم وزارتِ داخلہ سے آیا تھا۔ انہوں نے سوال کیا کہ کیا مسٹر شاہ نے بچوں پر گولی چلانے کا حکم دیا تھا یا نہیں۔ مسٹر گاندھی نے کہا کہ دونوں ہی صورتوں میں مسٹر شاہ کو استعفیٰ دینا چاہیے۔
اپوزیشن لیڈر نے کہا، “سچ یہ ہے کہ امت شاہ کی امیج کا غبارہ پھٹ چکا ہے۔ ان کے اندر پارلیمنٹ آنے کی ہمت ہی نہیں ہے۔”
مسٹر گاندھی نے میڈیا سے بھی سوال کیا کہ جب مسٹر شاہ بولتے ہیں تو کیا میڈیا انہیں بیچ میں روکتا ہے؟ انہوں نے پوچھا، “امت شاہ میں ایسی کیا خاص بات ہے کہ پورا میڈیا خاموشی سے کھڑا رہتا ہے؟” انہوں نے کہا کہ جب ملک کے طلباء وزیر اعظم نریندر مودی اور مسٹر شاہ سے نہیں ڈر رہے ہیں تو میڈیا کو بھی ان سے ڈرنا نہیں چاہیے۔
لوک سبھا میں اپوزیشن لیڈر نے کہا، “مسٹر شاہ میں پارلیمنٹ آنے کی ہمت ہی نہیں ہے۔ وہ 20 دنوں سے غائب ہیں۔ اپنے چیمبر میں بیٹھے رہتے ہیں لیکن ایوان میں نہیں آتے۔ ان کے قافلے میں تقریباً 30 گاڑیاں چلتی ہیں، گھر کے آگے ہزاروں پولیس والے کھڑے رہتے ہیں کہ کوئی بچہ نہ آ جائے۔ ان کی شبیہ والے غبارے کی ہوا نکل چکی ہے۔ اب زبردستی اس میں ہوا بھرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔”
یو این آئی ایف اے
جموں و کشمیر
معروف کشمیری مصنف سروا نند کول ‘پریمی’، ان کے چھوٹے بیٹے ویریندر کول کے قتل کیس میں جموں و کشمیر میں نو مقامات پر چھاپے
سرینگر، جموں و کشمیر کی اسٹیٹ انویسٹی گیشن ایجنسی (ایس آئی اے) نے بدھ کے روز معروف کشمیری شاعر و مصنف سروا نند کول ‘پریمی’ اور ان کے چھوٹے بیٹے ویریندر کول کے 1990 میں ہونے والے قتل کے سلسلے میں جموں و کشمیر میں نو مقامات پر چھاپے مارے۔
حکام نے بتایا کہ یہ تلاشی ضلع اننت ناگ کے ڈورو تھانے میں درج ایف آئی آر کے تحت لی گئی۔ اس کیس کی تحقیقات اب ایس آئی اے کے سپرد کر دی گئی ہیں۔
بدھ کے روز چلائے گئے اس آپریشن کے دوران تلاشی والے مقامات، برآمد شدہ مواد یا ثبوتوں کے حوالے سے تفصیلی معلومات کا ابھی انتظار ہے۔
مسٹر پریمی (65) اور ان کے بیٹے ویریندر (27) کو مئی 1990 میں جنوبی کشمیر کے ضلع اننت ناگ میں واقع ان کے آبائی گاؤں میں دہشت گردوں نے قتل کر دیا تھا۔ اس واقعے کے ایک ہفتے کے اندر ہی کول خاندان نے کشمیر چھوڑ دیا تھا۔
مسٹر پریمی ایک معروف شاعر، مصنف اور مترجم تھے، جنہوں نے تین درجن سے زائد کتابیں تصنیف کی تھیں۔ ان کی اہم ادبی تخلیقات میں ‘بھگود گیتا’ کا اردو میں، ‘رامائن’ کا کشمیری میں اور ربندر ناتھ ٹیگور کی ‘گیتانجلی‘ کا ترجمہ شامل ہے۔
یہ تازہ چھاپے ایس آئی اے کی جانب سے 1990 میں کشمیری پنڈت نرس سرلا بھٹ کے قتل سے جڑے ایک اور طویل عرصے سے زیر التواء کیس میں چارج شیٹ داخل کرنے کے ایک ماہ سے زائد عرصے بعد سامنے آئے ہیں۔
ایجنسی نے 29 جون کو سرینگر کی ایک خصوصی عدالت کے سامنے 737 صفحات پر مشتمل چارج شیٹ پیش کی تھی، جس میں محترمہ سرلا بھٹ کے اغوا اور قتل کے کیس میں جیل میں بند محمد یاسین ملک سمیت جموں کشمیر لبریشن فرنٹ (جے کے ایل ایف) کے پانچ کارندوں کے نام شامل ہیں۔ ملزمان میں سے تین کی موت ہو چکی ہے، جبکہ خورشید احمد چالکو فرار ہے اور اس کے پاکستان بھاگ جانے کا اندیشہ ہے۔
ایس آئی اے نے کشمیر میں دہشت گردی کے ابتدائی دور کے پرانے مقدمات کی تحقیقات کی کوششوں کے تحت سرلا بھٹ کیس کو دوبارہ کھولا تھا۔
یواین آئی۔الف الف
-
دنیا2 days agoایران کا فی الحال امریکہ کے ساتھ کوئی مذاکرات نہیں: ایرانی وزیر خارجہ
-
ہندوستان2 days agoطلبہ پر کارروائی کے معاملے پر حکومت کو گھیرتے ہوئے راہل کا مضمون، کھڑگے اور پرینکا نے حمایت کی
-
دنیا2 days agoسعودی عرب میں فیکٹری میں آگ کے سبب 16 بنگلہ دیشی مزدور ہلاک
-
جموں و کشمیر22 hours agoیومِ آزادی سے قبل جموں و کشمیر پولیس نے سرحدی سامبا میں طویل فاصلے کی گشت اور فرضی انسدادِ دہشت گردی مشق کی
-
دنیا2 days agoٹرمپ جوہری معاہدے کے بغیر ایران کے ساتھ تنازع ختم کرنے پر تیار: رپورٹ
-
دنیا22 hours agoایران نے خود کو ایک ‘ناقابل تسخیر طاقت’ ثابت کیا ہے: عراقچی
-
دنیا22 hours agoشام کے سابق صدر بشار الاسد کو سزائے موت سنادی گئی
-
دنیا1 day agoیمن میں حوثیوں کے المخا اور مارب پر بیلسٹک میزائل حملے
-
دنیا19 hours agoموساد کے سابق سربراہ کا انکشاف، ماضی میں ایران کی فردو جوہری تنصیب کا کئی بار دورہ کیا
-
دنیا1 day agoٹرمپ کا ایران سے معاوضے کا مطالبہ، آبنائے ہرمز پر مذاکرات جاری
-
دنیا1 day agoایران اور عمان کے درمیان آبنائے ہرمز پر مذاکرات جاری
-
ہندوستان24 hours agoپارلیمنٹ کے احاطے میں اپوزیشن ارکانِ پارلیمنٹ کا احتجاج
