ہندوستان
شراب پالیسی تنازع: ہائی کورٹ کا ای ڈی کو نوٹس، کیجریوال کو نہیں ملی راحت
نئی دہلی، دہلی ہائی کورٹ نے بدھ کو دہلی شراب پالیسی میں مبینہ گھپلہ سے متعلق منی لانڈرنگ معاملے میں مرکزی تفتیشی ایجنسی انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ (ای ڈی) کے ذریعہ وزیر اعلی اروند کیجریوال کی گرفتاری اور نظربندی کو چیلنج کرنے والی ایک عرضی پر نوٹس جاری کیا۔
عدالت نے مسٹر کیجریوال کو کوئی عبوری راحت دینے سے انکار کردیا۔
جسٹس سوارن کانتا شرما کی بنچ نے مسٹر کیجریوال کی نمائندگی کرنے والے سینئر ایڈوکیٹ ابھیشیک منو سنگھوی اور ای ڈی کی طرف سے پیش ہونے والے ایڈیشنل سالیسٹر جنرل ایس وی راجو کے دلائل سننے کے بعد مرکزی تفتیشی ایجنسی کو نوٹس جاری کیا اور اسے اپنا جواب 2 اپریل کو داخل کرنے کو کہا۔ ہائی کورٹ اس معاملے میں اگلی سماعت 3 اپریل کو کرے گی۔
ہائی کورٹ کے سامنے دلیل دیتے ہوئے مسٹر سنگھوی نے کہا کہ اس معاملے میں مسٹر کیجریوال کی گرفتاری ملزمین کے بیانات پر مبنی تھی، جو بعد میں سرکاری گواہ بن گئے۔ اس طرح کے ‘ناقابل اعتماد’ سرکاری گواہ کے علاوہ ان (کیجریوال) کے خلاف کوئی اور ثبوت نہیں ہے۔
سنگل بنچ کے سامنے بحث کرتے ہوئے مسٹر راجو نے ای ڈی کی جانب سے جواب داخل کرنے کے لیے تین ہفتے کا وقت دینے کی درخواست کی تھی۔
وزیراعلی کو ای ڈی نے 21 مارچ کو گرفتار کیا تھا۔ اگلے دن 22 مارچ کو انہیں راؤز ایونیو میں واقع کاویری باویجا کی خصوصی عدالت میں پیش کیا گیا۔ عدالت نے مسٹر کیجریوال کو چھ دن کے لئے ای ڈی کی حراست میں بھیج دیا، جو 28 مارچ کو ختم ہونے والا ہے۔
22 مارچ کو خصوصی عدالت کے سامنے ای ڈی نے مسٹر کیجریوال پر مبینہ شراب پالیسی 2021-2022 گھپلے کے اہم ‘سازشی اور ماسٹر مائنڈ’ ہونے کا الزام لگایا تھا (جسے بعد میں منسوخ کر دیا گیا تھا)۔ تب وزیر اعلیٰ کے وکلاء نے ای ڈی کے الزامات کو مسترد کرتے ہوئے سخت اعتراضات اٹھائے تھے۔
مرکزی حکومت پر ای ڈی کا غلط استعمال کرنے کا الزام لگاتے ہوئے مسٹر سنگھوی نے کہاکہ “عام آدمی پارٹی کے سرکردہ لیڈروں کو 2024 کے عام انتخابات سے پہلے گرفتار کر لیا گیا ہے۔ کیوں؟ کسی غلط کام کو ظاہر کرنے کے لیے کوئی ٹھوس ثبوت نہیں ہے۔ یہ سراسر زیادتی ہے۔”
مسٹر سنگھوی نے مسٹر کیجریوال کا رخ پیش کرتے ہوئے کہا تھا کہ ای ڈی کے پاس کوئی سیدھا ثبوت نہیں ہے۔
انہوں نے کہا تھاکہ “ای ڈی کے پاس ایسی کوئی دستاویز نہیں ہے جس کی بنیاد پر مسٹر کیجریوال کو کسی جرم کا مجرم سمجھا جا سکے۔ انہیں ای ڈی نے غیر قانونی اور من مانی طریقے سے گرفتار کیا ہے۔”
مسٹر کیجریوال کی گرفتاری سے قبل بھارت راشٹر سمیتی کے لیڈر اور تلنگانہ کے سابق چیف منسٹر کے. چندر شیکھر راؤ کی بیٹی کے. کویتا کو ای ڈی نے 15 مارچ کو گرفتار کیا تھا، جو عدالتی حراست میں دہلی کی تہاڑ جیل میں بند ہے۔
ان دو اہم لیڈروں سے پہلے ای ڈی نے گزشتہ ایک سال کے دوران عام آدمی پارٹی کے لیڈر اور سابق نائب وزیر اعلی منیش سسودیا اور راجیہ سبھا ممبر پارلیمنٹ سنجے سنگھ کو اسی معاملے میں گرفتار کیا تھا۔
سنٹرل بیورو آف انویسٹی گیشن (سی بی آئی) نے 17 اگست 2022 کو سال 2021-22 کے لیے ایکسائز پالیسی کی تشکیل اور اس پر عمل درآمد میں بے ضابطگیوں کا الزام لگاتے ہوئے ایک کیس درج کیا تھا۔ اسی بنیاد پر ای ڈی نے 22 اگست 2022 کو کیس درج کیا تھا۔
ای ڈی کا دعویٰ ہے کہ مسٹر کیجریوال اور عام آدمی پارٹی کے کچھ سرکردہ لیڈران بشمول سابق نائب وزیر اعلیٰ سسودیا اور دیگر نے غیر قانونی کمائی جمع کرنے کی ’’سازش‘‘ کی تھی۔
یواین آئی۔ ظ ا
ہندوستان
اروناچل ہندستان کا اٹوٹ حصہ، سرحد کی صورتحال ہی چین کے ساتھ دوطرفہ تعلقات کی بنیاد:ہندستان
نئی دہلی ہندستان نے اروناچل پردیش کو اپنا ناقابلِ تقسیم اور اٹوٹ حصہ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ چین کے ساتھ اس کے دوطرفہ تعلقات سرحد کی صورتحال پر مبنی ہوں گے اور سرحدی صورتحال کا ان تعلقات پر براہِ راست اثر ہوگا۔
وزارتِ خارجہ کے ترجمان رندھیر جیسوال نے منگل کے روز یہاں میڈیا بریفنگ میں سوالات کے جواب دیتے ہوئے یہ بات کہی۔ دراصل چین کی جانب سے اروناچل پردیش اور اس کے کچھ مقامات کے نام تبدیل کرنے کے ردعمل میں ہندستان نے حال ہی میں اروناچل پردیش کی 27 اہم جگہوں کو سروے آف انڈیا کے نقشے میں سرکاری طور پر نشان زد کر دیا ہے۔ اس پر چین کی طرف سے منفی ردعمل سامنے آیا ہے۔ چین کے اس ردعمل کے بارے میں پوچھے جانے پر مسٹر جیسوال نے کہا کہ اروناچل پردیش ہندستان کا ناقابلِ تقسیم اور اٹوٹ حصہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ ایک مسلمہ حقیقت ہے اور کوئی بھی اس ناقابلِ تردید سچائی کو بدل نہیں سکتا۔
دونوں ممالک کے درمیان سرحد پر صورتحال کے بارے میں پوچھے گئے سوال کے جواب میں ترجمان نے کہا کہ ہندستان سرحد سے جڑے معاملات کو انتہائی سنجیدہ مانتا ہے اور سرحد پر امن و استحکام اس کی ترجیح ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ سرحد کی صورتحال کا ہندستان اور چین کے تعلقات پر براہِ راست اثر پڑے گا۔ ترجمان نے کہا، “ہندستان اور چین کے درمیان سرحدی علاقوں سے جڑے معاملات میں، ہم نے ہمیشہ چین کے ساتھ بات چیت میں اس بات پر زور دیا ہے کہ ہم ان مسائل کو بے حد سنجیدہ مانتے ہیں اور ان علاقوں میں امن و استحکام برقرار رکھنا سب سے زیادہ اہم ہے۔ ہم نے یہ بھی واضح کیا ہے کہ سرحدی معاملات کی صورتحال ہمارے وسیع دوطرفہ تعلقات کی صورتحال کی عکاسی کرے گی۔ اس بات کو 06 اگست کو حال ہی میں منعقدہ ‘ہند-چین سرحدی معاملات پر مشاورت اور ہم آہنگی کے ورکنگ میکانزم’ کی 36ویں میٹنگ میں بھی دہرایا گیا۔ اس میٹنگ میں دونوں فریقوں نے کھلی اور واضح بات چیت کی اورحقیقی کنٹرول لائن (ایل اے سی) پر صورتحال کا جائزہ لیا۔”
مسٹر جیسوال نے کہا کہ میٹنگ میں ہندستان نے اس بات پر زور دیا کہ دوطرفہ تعلقات کی ہمہ گیر ترقی کے لیے سرحدی علاقوں میں امن و استحکام برقرار رکھنا انتہائی ضروری ہے۔ اس بات پر اتفاق ہوا کہ لائن آف ایکچوئل کنٹرول پر غلط فہمی اور غلط اندازوں سے بچنے نیز باقی بچے ہوئے مسائل کو حل کرنے کے لیے ورکنگ میکانزم کی میٹنگوں، مقامی کمانڈر سطح کی میٹنگوں اور دیگر میکانزم سمیت موجودہ سفارتی اور فوجی ذرائع کا استعمال جاری رکھا جائے گا۔
یو این آئی ایف اے
ہندوستان
سندوش کمار نے نِرملا سیتارمن کے تبصرے راجیہ سبھا کے ریکارڈ سے ہٹانے کا مطالبہ کیا
نئی دہلی، کمیونسٹ پارٹی آف انڈیا (سی پی آئی) کے راجیہ سبھا رکنِ پارلیمنٹ پی سندوش کمار نے وزیر خزانہ نِرملا سیتارمن کے ذریعہ پارلیمنٹ میں کمیونسٹ تحریک کے خلاف کیے گئے مبینہ قابلِ اعتراض تبصروں کو راجیہ سبھا کے ریکارڈ سے ہٹانے کا مطالبہ کیا ہے انہوں نے اس سلسلے میں راجیہ سبھا کے چیئرمین سی پی رادھا کرشنن کو منگل کے روز خط لکھا ہے۔
مسٹر کمار نے کہا کہ انکم ٹیکس (ترمیم) آرڈیننس 2026 کو منسوخ کرنے کے مطالبے پر ہونے والی بحث کے دوران وزیر خزانہ نے سی پی آئی (ایم) کے رکنِ پارلیمنٹ جان برٹاس کے حوالے سے کمیونسٹوں کو “ٹوٹل کائر” بتاتے ہوئے پوری کمیونسٹ تحریک پر تبصرہ کیا۔ سی پی آئی کے رکنِ پارلیمنٹ نے ان تبصروں پر سخت اعتراض ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ سیاسی اختلاف کو ذاتی اہانت یا کسی پوری سیاسی تحریک کی تذلیل تک محدود نہیں کیا جا سکتا۔ انہوں نے کہا کہ کمیونسٹوں نے ملک کی جدوجہدِ آزادی میں حصہ لیا، جیل گئے اور انگریزی حکومت کے مظالم اور جبر کا سامنا کیا نیز جمہوریت، مزدوروں کے حقوق، سماجی انصاف اور عوام کے حقوق کی جدوجہد میں اہم قربانیاں دیں۔
سی پی آئی کے رکنِ پارلیمنٹ نے چیئرمین سے پارلیمانی ضوابط اور قائم کردہ روایتوں کے مطابق قابلِ اعتراض تبصروں کو سرکاری ریکارڈ سے ہٹانے کی اپیل کی۔ انہوں نے کہا کہ پارلیمنٹ کے وقار کو برقرار رکھنے کے لیے تلخ سیاسی بحث تو قابلِ قبول ہے لیکن کسی نظریے یا سیاسی تحریک کے خلاف ذاتی اہانت اور قابلِ اعتراض تبصرے مناسب نہیں ہیں۔
یو این آئی ایف اے
ہندوستان
پارلیمنٹ کے احاطے میں اپوزیشن ارکانِ پارلیمنٹ کا احتجاج
نئی دہلی، کانگریس اور اپوزیشن جماعتوں کے ارکانِ پارلیمنٹ نے چڑھاوا چوری اور طلبہ پر پولیس کارروائی کے معاملے پر حکومت سے جواب طلب کرنے کے اپنے مطالبات کی حمایت میں منگل کے روز پارلیمنٹ کی کارروائی شروع ہونے سے پہلے پارلیمنٹ ہاؤس کے احاطے میں احتجاج کیا۔
مظاہرین ارکانِ پارلیمنٹ ہاتھوں میں بینرز اور تختیاں تھامے حکومت مخالف نعرے لگاتے رہے۔ احتجاجی ارکانِ پارلیمنٹ وزیرِ داخلہ امت شاہ سے پولیس کارروائی پر جواب دینے اور چڑھاوا چوری کے معاملے کی وسیع پیمانے پر تحقیقات کرانے کا مطالبہ کر رہے تھے۔
بارش کی بوچھاڑوں کے درمیان احتجاج کرنے والے ارکانِ پارلیمنٹ میں کانگریس کی پرینکا گاندھی واڈرا، سماج وادی پارٹی کے اکھلیش یادو، اودھیش پرساد، ترنمول کانگریس کی پرتیما منڈل، جھارکھنڈ مکتی مورچہ، شیو سینا (ادھو گروپ) اور دیگر کئی جماعتوں کے ارکانِ پارلیمنٹ موجود تھے۔
یواین آئی۔الف الف
-
دنیا2 days agoایران کا فی الحال امریکہ کے ساتھ کوئی مذاکرات نہیں: ایرانی وزیر خارجہ
-
ہندوستان2 days agoطلبہ پر کارروائی کے معاملے پر حکومت کو گھیرتے ہوئے راہل کا مضمون، کھڑگے اور پرینکا نے حمایت کی
-
دنیا2 days agoسعودی عرب میں فیکٹری میں آگ کے سبب 16 بنگلہ دیشی مزدور ہلاک
-
دنیا2 days agoٹرمپ جوہری معاہدے کے بغیر ایران کے ساتھ تنازع ختم کرنے پر تیار: رپورٹ
-
دنیا18 hours agoایران نے خود کو ایک ‘ناقابل تسخیر طاقت’ ثابت کیا ہے: عراقچی
-
جموں و کشمیر18 hours agoیومِ آزادی سے قبل جموں و کشمیر پولیس نے سرحدی سامبا میں طویل فاصلے کی گشت اور فرضی انسدادِ دہشت گردی مشق کی
-
دنیا22 hours agoیمن میں حوثیوں کے المخا اور مارب پر بیلسٹک میزائل حملے
-
دنیا22 hours agoٹرمپ کا ایران سے معاوضے کا مطالبہ، آبنائے ہرمز پر مذاکرات جاری
-
ہندوستان20 hours agoپارلیمنٹ کے احاطے میں اپوزیشن ارکانِ پارلیمنٹ کا احتجاج
-
دنیا2 days agoتجربہ کار آئی آر جی سی کمانڈر محسن رضائی ایران کے قومی سلامتی کے سربراہ مقرر
-
دنیا18 hours agoشام کے سابق صدر بشار الاسد کو سزائے موت سنادی گئی
-
دنیا22 hours agoایران اور عمان کے درمیان آبنائے ہرمز پر مذاکرات جاری
