تازہ ترین
شریت ترمیمی قانون کے خلاف اپوزیشن احتجاج میں شدت ‘ دہلی میں کانگریس کی ستیہ گرہ
خبراردو:
شہریت ترمیمی قانون کے خلاف اپوزیشن جماعتوں نے پنے احتجاج میں شدت پیدا کردی ہے جبکہ کانگریس پارٹی کی جانب سے دہلی میں گاندھی جی کی یادگار راج گھاٹ پر اتحاد کیلئے ستیہ گرہ کا آغاز کیا ہے تو دوسری جانب کانگریس کی حلیف ڈی ایم کے نے چینائی میں ایک زبرست احتجاجی مظاہرہ کا انعقا عمل میں لایا ۔ اس کے علاوہ ملک بھر کے مختلف شہروں اور ریاستوں میں طلبا اور دیگر گوشوں کی جانب سے بھی احتجاج کا سلسلہ جاری ہے ۔ کئی مقامات پر زبردست مظاہرے ہوئے اور ریلیاں منظم کی گئیں۔ اپوزیشن کی مہم کے جواب میں بی جے پی کی جانب سے کولکتہ میں اس قانون کے حق میں ایک ریلی منظم کی گئی جس سے پارٹی کے ورکنگ صدر جے پی نڈا اور کئی دوسرے ریاستی قائدین نے خطاب کیا ۔ ان قائدین نے ترنمول کانگریس اور دوسری مخالف جماعتوں پر عوام کو گمراہ کرنے کا الزام عائد کیا ۔
کرناٹک کے دارالحکومت بنگلورو میںہزاروں کی تعداد میں مسلمانوں نے شہریت ترمیمی قانون کے خلاف احتجاجی مظاہرہ منظم کیا ۔ اس کے علاوہ انہوں نے این آر سی کی بھی مخالفت کی ۔ اس احتجاجکی اپیل 35 مسلم تنظیموں کی جانب سے کی گئی تھی جو جوائنٹ ایکشن کمیٹی بنگلورو کے تحت آتی ہیں۔ انڈین یونین مسلم لیگ کی یوتھ ونگ کی جانب سے اس قانون سے دستبرداری کا مطالبہ کرتے ہوئے کیرالا کے مختلف علاقوں میں پوسٹ آفسوں تک مارچ کا اہتمام کیا گیا تھا ۔ آسام میں بھی این آر سی اور سی اے اے کے خلاف احتجاج کا سلسلہ جاری ہے جہاں سابق چیف منسٹر پرفلا کمار مہنتا نے سرانیا ہل گوہاٹی میں گاندھی جی کی یادگار میں جاری ایک سٹ ان احتجاج میں حصہ لیا ۔ پرفلا کمار مہنتا کی آسام گن پریشد ریاست میں بی جے پی کی حلیف ہے ۔ آل آسام اسٹوڈنٹس یونین نے بھی احتجاجی مظاہرے منظم کئے جن میں مختلف شعبہ جات حیات سے تعلق رکھنے والی شخصیتوں نے شرکت کی ۔ آسام میں 11 ڈسمبر کے بعد سے پانچ افراد ہلاک ہوچکے ہیں جن میں چار افراد سکیوریٹی فورسیس کی فائرنگ میں جان گنوا بیٹھے ہیں۔ دارالحکومت دہلی میں پولیس نے اترپردیش بھون کے باہر سے 46 طلبا کو اور 93 طلبا کو آسام بھون کے باہر سے گرفتار کرلیا جبکہ وہ شہریت ترمیمی قانون کے خلاف احتجاج کر رہے تھے ۔ علاوہ ازیں راج گھاٹ پر کانگریس کی جانب سے ستیہ گرہ کا انعقاد عمل میں لایا گیا ہے جس میں پارٹی صدر سونیا گاندھی ‘ سابق وزیر اعظم منموہن سنگھ ‘ سابق پارٹی صدر راہول گاندھی و پارٹی جنرل سکریٹری پرینکا گاندھی کے بشمول کئی اعلی قائدین نے شرکت کی ۔ یہ ستیہ گرہ احتجاج کرنے والے طلبا سے اظہار یگانگت کیلئے کی جا رہی ہے ۔ اس کے علاوہ اس ستیہ گرہ کا مقصد حکومت کی خراب پالیسیوں سے متاثر ہونے والے عوام سے اظہار یگانگت کرنا بھی ہے ۔ سونیا گاندھی ‘ منموہن سنگھ اور راہول گاندھی نے دستور ہند کا پیش لفظ پڑھا اور پارٹی کارکنوں نے ایک منٹ کی خاموشی بھی منائی ۔ پرینکا گاندھی نے اپنے خطاب میں کہا کہ یہ سب کچھ ان بچوں کے نام پر ہورہا ہے جو اس تحریک میں شہید ہوگئے ‘ بجنور کے امراج سائینی کے نام پر ہورہا ہے جن کے پانچ بچے ان کی گھر واپسی کے منتظر ہیں اور وہ زخمی دواخانہ میں پڑے ہیں۔ ان سب کے نام پر ہم یہ عزم کرتے ہیں کہ ہم دستور کا تحفظ کرینگے اور اس کو تباہ کرنے کی اجازت نہیں دینگے ۔
جامعہ ملیہ اسلامیہ میں بھی احتجاج آج آٹھویں دن بھی جاری رہا ۔ یہاں 15 ڈسمبر کو پولیس نے طاقت کا بے دریغ استعمال کیا تھا ۔ یونیورسٹی کے باہر سینکڑوں طلبا آج بھی احتجاج کرتے رہے ۔ نور نگر ‘ بالا ہاوز اور اوکھلا کے کئی اسکولوں کے طلبا نے بھی آج پیر کو احتجاج میں حصہ لیا ۔ اسی طرح چینائی میں ڈی ایم کے اور اس کی حلیف جماعتوں نے اپنی طاقت کا مظاہرہ کرتے ہوئے شہریت ترمیمی قانون کے خلاف احتجاج کیا اور انتباہ دیا کہ سماج کے غیر سیاسی شعبوں کو بھی شامل کرتے ہوئے اس احتجاج میں شدت پیدا کی جائیگی اگر حکومت نے اس قانون سے دستبرداری اختیار نہیں کی ۔ ڈی ایم کے کے صدر ایم کے اسٹالن نے ایگمور سے راجا رتھنم اسٹیڈیم تک مارچ کی قیادت کی اور کئی سینئر قائدین بشمول کانگریس لیڈر پی چدمبرم اور دوسرے ان کے ساتھ ہاتھوں میں اس قانون کے خلاف پلے کارڈز تھامے چلتے رہے ۔ ڈی ایم کے اور دوسری جماعتوں کے کارکن بھی ہاتھوں میں پرچم ‘ بیانرس اور پلے کارڈز تھامے ڈھائی کیلومیر تک چلتے رہے جبکہ پولیس کی جانب سے اس روٹ پر سخت ترین سکیوریٹی بندوبست کیا گیا تھا ۔ اس ریلی کے خلاف مدراس ہائیکورٹ میں درخواست داخل کی گئی تھی تاہم عدالت نے کہا کہ کسی جمہوری ملک میں پرامن احتجاج کو نہیں روکا جاسکتا ۔ تاہم پولیس کو یہ ہدایت دی گئی تھی کہ وہ اس ریلی کی ویڈیو گرافی کرے ۔
اترپردیش میں آج صورتحال پر امن رہی جہاں جملہ 18 افراد اس احتجاج کے دوران ہلاک ہوگئے ہیں۔ پولیس نے کہا کہ اس نے پاپولر فرنٹ آف انڈیا کے ریاستی صدر وسیم اور دو دوسروں کو 19 ڈسمبر کو ہوئے تشدد کے سلسلہ میں گرفتار کرلیا ہے ۔ یو پی کے ڈپٹی چیف منسٹر دنیش شرما نے اتوار کو کہا تھا کہ حکام کو شبہ ہے کہ تشدد میں پی ایف آئی اور سیمی کے کارکنوں کا رول ہے ۔ کرناٹک میں تشدد کا شکار منگلورو سے کرفیو برخواست کردیا گیا اور شہر میں آج امن برقرار رہا ۔ چیف منسٹر بی ایس ایڈورپا نے کہا کہ ریاستی حکومت نے اس پرتشدد احتجاج کی سی آئی ڈی تحقیقات کا فیصلہ کیا ہے ۔ کانگریس نے اس فیصلہ کی مخالفت کی ۔
ہندوستان
اروناچل ہندستان کا اٹوٹ حصہ، سرحد کی صورتحال ہی چین کے ساتھ دوطرفہ تعلقات کی بنیاد:ہندستان
نئی دہلی ہندستان نے اروناچل پردیش کو اپنا ناقابلِ تقسیم اور اٹوٹ حصہ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ چین کے ساتھ اس کے دوطرفہ تعلقات سرحد کی صورتحال پر مبنی ہوں گے اور سرحدی صورتحال کا ان تعلقات پر براہِ راست اثر ہوگا۔
وزارتِ خارجہ کے ترجمان رندھیر جیسوال نے منگل کے روز یہاں میڈیا بریفنگ میں سوالات کے جواب دیتے ہوئے یہ بات کہی۔ دراصل چین کی جانب سے اروناچل پردیش اور اس کے کچھ مقامات کے نام تبدیل کرنے کے ردعمل میں ہندستان نے حال ہی میں اروناچل پردیش کی 27 اہم جگہوں کو سروے آف انڈیا کے نقشے میں سرکاری طور پر نشان زد کر دیا ہے۔ اس پر چین کی طرف سے منفی ردعمل سامنے آیا ہے۔ چین کے اس ردعمل کے بارے میں پوچھے جانے پر مسٹر جیسوال نے کہا کہ اروناچل پردیش ہندستان کا ناقابلِ تقسیم اور اٹوٹ حصہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ ایک مسلمہ حقیقت ہے اور کوئی بھی اس ناقابلِ تردید سچائی کو بدل نہیں سکتا۔
دونوں ممالک کے درمیان سرحد پر صورتحال کے بارے میں پوچھے گئے سوال کے جواب میں ترجمان نے کہا کہ ہندستان سرحد سے جڑے معاملات کو انتہائی سنجیدہ مانتا ہے اور سرحد پر امن و استحکام اس کی ترجیح ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ سرحد کی صورتحال کا ہندستان اور چین کے تعلقات پر براہِ راست اثر پڑے گا۔ ترجمان نے کہا، “ہندستان اور چین کے درمیان سرحدی علاقوں سے جڑے معاملات میں، ہم نے ہمیشہ چین کے ساتھ بات چیت میں اس بات پر زور دیا ہے کہ ہم ان مسائل کو بے حد سنجیدہ مانتے ہیں اور ان علاقوں میں امن و استحکام برقرار رکھنا سب سے زیادہ اہم ہے۔ ہم نے یہ بھی واضح کیا ہے کہ سرحدی معاملات کی صورتحال ہمارے وسیع دوطرفہ تعلقات کی صورتحال کی عکاسی کرے گی۔ اس بات کو 06 اگست کو حال ہی میں منعقدہ ‘ہند-چین سرحدی معاملات پر مشاورت اور ہم آہنگی کے ورکنگ میکانزم’ کی 36ویں میٹنگ میں بھی دہرایا گیا۔ اس میٹنگ میں دونوں فریقوں نے کھلی اور واضح بات چیت کی اورحقیقی کنٹرول لائن (ایل اے سی) پر صورتحال کا جائزہ لیا۔”
مسٹر جیسوال نے کہا کہ میٹنگ میں ہندستان نے اس بات پر زور دیا کہ دوطرفہ تعلقات کی ہمہ گیر ترقی کے لیے سرحدی علاقوں میں امن و استحکام برقرار رکھنا انتہائی ضروری ہے۔ اس بات پر اتفاق ہوا کہ لائن آف ایکچوئل کنٹرول پر غلط فہمی اور غلط اندازوں سے بچنے نیز باقی بچے ہوئے مسائل کو حل کرنے کے لیے ورکنگ میکانزم کی میٹنگوں، مقامی کمانڈر سطح کی میٹنگوں اور دیگر میکانزم سمیت موجودہ سفارتی اور فوجی ذرائع کا استعمال جاری رکھا جائے گا۔
یو این آئی ایف اے
دنیا
موساد کے سابق سربراہ کا انکشاف، ماضی میں ایران کی فردو جوہری تنصیب کا کئی بار دورہ کیا
یروشلم، اسرائیلی خفیہ ایجنسی موساد کے سابق سربراہ یوسی کوہن نے کہا ہے کہ انہوں نے ماضی میں ایران کی فردو یورینیم افزودگی تنصیب کا کئی مرتبہ دورہ کیا تھا، تاہم انہوں نے یہ نہیں بتایا کہ یہ دورے کب کیے گئے اور ان کے ہمراہ کون تھا۔
عبرانی زبان کے میڈیا کے مطابق صفد میں منعقدہ گیلیلی فورم سے خطاب کرتے ہوئے کوہن نے کہا، ’’ہم نے فردو جوہری تنصیب کا کئی بار دورہ کیا تاکہ اس مقام کو سمجھ سکیں۔‘‘
انہوں نے مزید کہا، ’’امریکیوں کی جانب سے اس پر بمباری میرے تمام خوابوں کی تکمیل تھی۔‘‘
فردو کے علاوہ ایران کی اصفہان اور نطنز میں موجود جوہری تنصیبات کو بھی جون 2025 میں ہونے والی 12 روزہ اسرائیل۔ایران جنگ کے دوران امریکی حملوں سے شدید نقصان پہنچا تھا۔
بعد ازاں ایسی رپورٹس سامنے آئی تھیں کہ ان تنصیبات پر موجود تقریباً 440 کلوگرام انتہائی افزودہ یورینیم زمین میں دفن کر دی گئی تھی۔ تاہم اسرائیل نے بعد میں اندازہ لگایا کہ تہران نے اس مواد میں سے کچھ کو ممکنہ طور پر پکیکس ماؤنٹین کے مقام پر منتقل کر دیا تھا۔
کوہن کے مطابق 60 فیصد تک افزودہ یورینیم اب بھی ’’بم بنانے سے بہت دور‘‘ ہے۔ تاہم یہ دعویٰ جوہری ماہرین کی بعض جائزہ رپورٹس سے مختلف ہے۔ جوہری ماہر ڈیوڈ البرائٹ کا کہنا ہے کہ 60 فیصد افزودہ یورینیم کو مزید افزودہ کرکے چند ہفتوں یا حتیٰ کہ چند دنوں میں ہتھیاروں کے درجے کے مواد میں تبدیل کیا جا سکتا ہے۔
کوہن اس سے قبل ایران کے جوہری پروگرام کو نشانہ بنانے والی موساد کی کارروائیوں کے بارے میں بھی کھل کر بات کر چکے ہیں۔ 2021 میں موساد کی سربراہی چھوڑنے کے فوراً بعد ایک غیر معمولی ٹیلی ویژن انٹرویو میں انہوں نے کئی کارروائیوں کی تفصیلات فراہم کی تھیں، جن میں 2018 میں تہران کے ایک گودام سے ایران کے جوہری محفوظ شدہ ریکارڈ چوری کرنے کی کارروائی بھی شامل تھی۔
انہوں نے یہ بھی اشارہ دیا تھا کہ نطنز میں ایران کی زیر زمین سینٹری فیوج تنصیب کے ایک حصے کی تباہی کے پیچھے بھی موساد کا ہاتھ تھا۔ انہوں نے تصدیق کی تھی کہ ایرانی جوہری سائنس دان محسن فخری زادہ کو موساد نے ہی ہلاک کیا تھا اور تہران کو جوہری ہتھیار تیار کرنے کی کوشش سے باز رہنے کی تنبیہ کی تھی۔
چینل 12 کو دیے گئے اس انٹرویو میں موساد کے سابق سربراہ نے ایران کے جوہری بنیادی ڈھانچے سے اپنی واقفیت کا بھی اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ اگر انہیں موقع دیا جائے تو وہ دیان کو نطنز میں زیر زمین موجود اس ’’تہہ خانے‘‘ میں لے جائیں گے جہاں، ان کے بقول، ’’سینٹری فیوجز گھومتے تھے۔‘‘
یو این آئی۔ ع ا۔
جموں و کشمیر
جموں میں آبادیاتی تبدیلیوں سے متعلق پینل کو پناہ گزینوں کی تنظیم نے یادداشت پیش کی
جموں، پی او جے کے سے بے گھر افراد کی تنظیم ایس او ایس انٹرنیشنل کے ایک وفد نے منگل کو یہاں جسٹس پرکاش پربھاکر نولیکر (ریٹائرڈ) کی سربراہی میں آبادیاتی تبدیلیوں سے متعلق پینل کو ایک تفصیلی یادداشت پیش کی۔
ایس او ایس انٹرنیشنل کے چیئرمین راجیو چونی کی قیادت میں وفد میں پروفیسر این این شرما (نائب چیئرمین)، ونود کمار دتہ (جنرل سکریٹری)، بھائی رام سنگھ (سکریٹری) اور وید راج بالی (سکریٹری) شامل تھے۔ وفد نے یادداشت پیش کرتے ہوئے 1947 سے پاکستان کے زیر قبضہ جموں و کشمیر (پی او جے کے) کی ہندو اور سکھ آبادی کے ساتھ روا رکھے گئے تاریخی ناانصافی کو ریکارڈ پر لایا اور پینل سے ٹھوس اصلاحی اقدامات کرنے کا مطالبہ کیا۔
جاری کردہ بیان کے مطابق یادداشت میں نشاندہی کی گئی کہ 1947 کے حملے کے بعد اس وقت کی جموں و کشمیر حکومت نے ابتدائی طور پر تقریباً 31,600 خاندانوں کا اندراج کیا تھا، جبکہ تقریباً 9,500 خاندانوں کو معمولی اور غیر معقول وجوہات کی بنیاد پر من مانے طریقے سے رجسٹریشن سے محروم کر دیا گیا۔
رجسٹرڈ خاندانوں میں سے صرف تقریباً 26,300 خاندانوں کو ریاست کے اندر آباد کیا گیا، جبکہ تقریباً 5,300 رجسٹرڈ خاندانوں کے ساتھ ساتھ 9,500 غیر رجسٹرڈ خاندانوں کو ہندوستان کے دیگر حصوں میں پناہ لینے پر مجبور ہونا پڑا۔ باقاعدہ طور پر رجسٹر کیے گئے خاندانوں کے ریکارڈ اب بھی جموں و کشمیر حکومت کے سرکاری ریکارڈ میں موجود ہیں۔
یادداشت میں کہا گیاکہ ’’یہ خاندان مہاراجہ ہری سنگھ کے 1927 کے اسٹیٹ سبجیکٹ قانون کے تحت ریاست کے اصل باشندے تھے اور انہوں نے بارہا اپنے آبائی وطن واپس جانے کی خواہش کا اظہار کیا ہے۔‘‘
تاہم بحالیِ آبادکاری کی کسی جامع پالیسی یا ادارہ جاتی مدد کی مکمل عدم موجودگی کے باعث ان کے پاس دوسری جگہ اپنی زندگی دوبارہ شروع کرنے کے علاوہ کوئی راستہ نہیں تھا۔ بیان کے مطابق اس وقت ریاست سے باہر رہنے والی ان کی آبادی کا تخمینہ پانچ سے چھ لاکھ ہے۔
ایس او ایس انٹرنیشنل نے یہ بھی نشاندہی کی کہ جموں و کشمیر کی اُس وقت کی حکومت کے 2014 کے کابینہ فیصلے میں ہر متاثرہ خاندان کو 25 لاکھ روپے نقد امداد، تعلیم یافتہ بے روزگار نوجوانوں کے لیے 8,500 سرکاری ملازمتیں اور پیشہ ورانہ و تکنیکی اداروں میں ریزرویشن دینے کا وعدہ کیا گیا تھا، لیکن جموں و کشمیر یا سابق ریاست سے باہر جلاوطنی کی زندگی گزارنے والے خاندانوں کے لیے اس پر عمل نہیں کیا گیا۔
جاری۔یواین آئی۔ طـ ا
-
دنیا1 day agoایران کا فی الحال امریکہ کے ساتھ کوئی مذاکرات نہیں: ایرانی وزیر خارجہ
-
دنیا1 day agoسعودی عرب میں فیکٹری میں آگ کے سبب 16 بنگلہ دیشی مزدور ہلاک
-
دنیا1 day agoٹرمپ جوہری معاہدے کے بغیر ایران کے ساتھ تنازع ختم کرنے پر تیار: رپورٹ
-
ہندوستان1 day agoطلبہ پر کارروائی کے معاملے پر حکومت کو گھیرتے ہوئے راہل کا مضمون، کھڑگے اور پرینکا نے حمایت کی
-
دنیا1 day agoتجربہ کار آئی آر جی سی کمانڈر محسن رضائی ایران کے قومی سلامتی کے سربراہ مقرر
-
جموں و کشمیر5 hours agoیومِ آزادی سے قبل جموں و کشمیر پولیس نے سرحدی سامبا میں طویل فاصلے کی گشت اور فرضی انسدادِ دہشت گردی مشق کی
-
دنیا9 hours agoٹرمپ کا ایران سے معاوضے کا مطالبہ، آبنائے ہرمز پر مذاکرات جاری
-
دنیا6 hours agoایران نے خود کو ایک ‘ناقابل تسخیر طاقت’ ثابت کیا ہے: عراقچی
-
دنیا5 hours agoشام کے سابق صدر بشار الاسد کو سزائے موت سنادی گئی
-
دنیا10 hours agoیمن میں حوثیوں کے المخا اور مارب پر بیلسٹک میزائل حملے
-
دنیا9 hours agoایران اور عمان کے درمیان آبنائے ہرمز پر مذاکرات جاری
-
دنیا9 hours agoکولمبیا میں زلزلے سے ہلاکتوں کی تعداد 132 ہو گئی، صدر کا قومی ایمرجنسی کا اعلان
