تازہ ترین
صحافت کیسے کریں،اور اس کے اصول کیا ہیں ؟
ندیم احمد خان ، بارہمولہ
انسانی معاشرے میں صحافت کے کردار اور اہمیت و ضرورت کی جب بات آتی ہے تو اکثر ایسا ہوتا ہے کہ اکبر الہ آبادی کا درج ذیل شعر دہرایا جاتا ہے:
کھینچوں نہ کمانوں کو نہ تلوار نکالو
جب توپ مقابل ہو تو اخبار نکالو
حالیہ کساد بازاری کے دور میں جب کہ روحانی، انسانی، علمی، ادبی و اخلاقی قدروں کو ہر طرح سے پامال ہونا پڑ رہا ہے، صحافتی لوازمات بھی بری طرح سے متاثر ہورہے ہیں ـ ویسے اخبار نویس کے لئے ضروری ہے کہ ایک مقصد کے لئے کاغذ داغدار کرےـ اسے ہمیشہ اور ہر حال میں مجبور اور مظلوم کی ترجمانی کے واسطے قلم کا استعمال کرنا چاہئےـ ایک مدیر کا فرض بنتا ہے کہ عوام کو درپیش مسائل یا تکالیف کو ابھارنے اور ارباب اقتدار اس کے لئے اگر کارروائی کرنے میں کاہلی سے کام لیں تو حکومت کے خلاف آواز بلند کرےـ لیکن افسوس یہ ہے کہ ہماری ریاست میں ایسے بھی صحافی ہیں جنہوں نے صحافت کو کاروبار بنا رکھا ہے.
فضا کی کثافت، تہذیبی قدروں کا زوال، اقتصادی نظام کی پسپائی، سرکاری و سماجی اداروں کی لوٹ کھسوٹ، آپسی مفاہمت و رواداری کی پامالی، خود غرض افراد کی کج ادائی، اخلاقی و ادبی لوازمات کی حوصلہ شکنی، عدم آسودگی، جبر و زیادتی، افراتفری اور دور دور تک پھیلی سراسیمگی اپنی تلخ و ترش حقیقی……… کا ذکر کئے بغیر موجودہ دور کا صحافتی اداریہ یا مقالہ مکمل نہیں ہوگاـ
صحافت ایک مقدس پیشہ ھے، پیشہ ور صحافی کا کام سچ اور جھوٹ کو الگ الگ کر کے اصل حقائق کو لوگوں کے سامنے لانا ہے اور ایسے حقائق کسی ملک اور قوم کے جسم میں ایک تازہ اور طاقتور روح پھونکنے کے اسباب پیدا کرتے ہیں ـ لیکن آج کے دور میں ہمارے ملک میں صحافت باقاعدہ طور پر ایک کاروباری حیثیت اختیار کر چکی ہے ہمارا صحافی اصل حقائق کو پس پردہ ڈال کر طمع نفسانی کی خاطر بلیک میلنگ اور چور بازاری اور غداری پر اتر آیا ہے، اور اگر باد النظر میں دیکھا جائے تو ایسی ہی صحافت کے امین کسی ملک اور قوم کے سب سے بڑے دشمن اور غدار کا کردار ادا کرتے ہیں.
ایک صحافی اگر صحیح معنوں میں صحافت کے اصولوں سے واقف ہو تو ملک وقوم کی خدمت موزوں انداز میں بجا لاسکتا ہےـ سماج اور معاشرے کو پاک وصاف رکھنے میں اہم رول ادا کر سکتا ہےـ سوئے ہوئے نیم مردہ ذہنوں کو جگا سکتا ہےـ بے وجہ اور وقت کے ستائے ہوئے افراد کو ان کا حق دلا سکتا ہےـ ظلم وستم کے خلاف آواز بلند کرسکتا ہے، اور انسانیت وروداری کی مٹتی قدروں کو اُجاگر کرسکتا ہے۔ اس تمہید کے بعد آدابِ صحافت سے متعلق کچھ نکات کی نشاندہی کرنا ضروری ہے،
*خبروں کی صحت کا خاص خیال رکھا جائے، اپنی ذاتی رائے نہ ٹھونسنے ۔
*اظہار رائے فقط اِداریہ میں کیا جائے۔ہر پہلو کو مدنظر رکھتے ہوئے۔
*ہر حالت میں ازدواجی و گھریلو رشتے کے تقدس کو برقرار رکھا جائے۔
*جب تک کسی کا جرم عدالت میں ثابت نہ ہو اُسے بطور مجرم پیش نہ کیا جائے۔
*ہر شخص کے خلوت میں بےجا دخل نہ دیا جائے۔
*کسی شخص کے خلاف ایسا اسکنڈل مشتہر نہ کیا جائے جس سے عوامی زندگی پر بُرا اثر پڑے۔
*کسی شخص سے غلط بیان منسوب نہ کیا جائے نہ ایسا بیان چھاپا جائے جو اس شخص نے نجی میں گفتگو کے دوران دیا ہو۔
*کسی کے مذہبی جذبات یا احساسات کو ٹھیس نہ لگائی جائے۔
*کسی گروہ یا طبقے کو بہ طور خاص مذاق کا ہدف نہ بنایا جائے۔
*مردہ شخص پر لعن طعن نہ کیا جائے۔
*لوگوں کے جذبات ابھارنے کی خاطر کوئی قدم نہ اٹھایا جائے۔
*کسی خاص سیاسی پارٹی کا آلہ کار بن کر افراتفری پھیلانے والی خبروں کو نہ چھاپا جائے۔
*مزاحیہ کالم میں بھی کسی ایک کی دل آزاری نہ کی جائے۔
*کسی شخص کی اجازت کے بغیر اس کی تحریر یا تصویر نہ چھاپی جائے۔
*اخلاقی یا سیاسی مجرموں کی تصاویر نہ چھاپی جائے خاص کر جب کہ وہ ملزم ہوں مجرم نہ ہوں۔
*کوئی فحش، عریاں یا نیم عریاں کی تصویری نہ چھاپی جائے جس سے کچھ طبقے کے جذبات. مجروح ہونے کا احتمال ہو،
*کارٹون تیار کرتے وقت کسی کے ذہن یا دلی جذبات کا خون نہ کیا جائے۔
*بچوں کے جرائم میں اُن کے اصلی نام نہ چھاپے جائیں اور ایسے اشتہار نہ چھاپے جائیں جن کا مواد گمراہ کن ہو۔
آدابِ صحافت شائستگی کی تعلیم دیتے ہیں۔معاشرے کو بنانے بگاڑنے میں چونکہ اخباروں کا بھی بڑا ہاتھ ہوتا ہے۔ اس لئے ہر خبر و واقعہ توازن میں چھاپا جائے۔ الغرض صحافیوں میں اعلیٰ پیشہ ورانہ معیار کا قیام لابدی ٹھہرا۔ان تمام امور کی نشاندہی غور و فکر ضروری جن سے عوامی معاملات متاثر ہوں۔ آخیر میں یہ التماس کہ خدارا صحافت کے شعبے کو تجارت کے طور پر نہ اپنایا جائے۔
بقولِ شاعر
مرغ لڑائے جائیں گے بوٹی کے واسطے
اخبار نکالے جائیں گے روٹی کے واسطے
رابطہ/9596571542
ہندوستان
اروناچل ہندستان کا اٹوٹ حصہ، سرحد کی صورتحال ہی چین کے ساتھ دوطرفہ تعلقات کی بنیاد:ہندستان
نئی دہلی ہندستان نے اروناچل پردیش کو اپنا ناقابلِ تقسیم اور اٹوٹ حصہ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ چین کے ساتھ اس کے دوطرفہ تعلقات سرحد کی صورتحال پر مبنی ہوں گے اور سرحدی صورتحال کا ان تعلقات پر براہِ راست اثر ہوگا۔
وزارتِ خارجہ کے ترجمان رندھیر جیسوال نے منگل کے روز یہاں میڈیا بریفنگ میں سوالات کے جواب دیتے ہوئے یہ بات کہی۔ دراصل چین کی جانب سے اروناچل پردیش اور اس کے کچھ مقامات کے نام تبدیل کرنے کے ردعمل میں ہندستان نے حال ہی میں اروناچل پردیش کی 27 اہم جگہوں کو سروے آف انڈیا کے نقشے میں سرکاری طور پر نشان زد کر دیا ہے۔ اس پر چین کی طرف سے منفی ردعمل سامنے آیا ہے۔ چین کے اس ردعمل کے بارے میں پوچھے جانے پر مسٹر جیسوال نے کہا کہ اروناچل پردیش ہندستان کا ناقابلِ تقسیم اور اٹوٹ حصہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ ایک مسلمہ حقیقت ہے اور کوئی بھی اس ناقابلِ تردید سچائی کو بدل نہیں سکتا۔
دونوں ممالک کے درمیان سرحد پر صورتحال کے بارے میں پوچھے گئے سوال کے جواب میں ترجمان نے کہا کہ ہندستان سرحد سے جڑے معاملات کو انتہائی سنجیدہ مانتا ہے اور سرحد پر امن و استحکام اس کی ترجیح ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ سرحد کی صورتحال کا ہندستان اور چین کے تعلقات پر براہِ راست اثر پڑے گا۔ ترجمان نے کہا، “ہندستان اور چین کے درمیان سرحدی علاقوں سے جڑے معاملات میں، ہم نے ہمیشہ چین کے ساتھ بات چیت میں اس بات پر زور دیا ہے کہ ہم ان مسائل کو بے حد سنجیدہ مانتے ہیں اور ان علاقوں میں امن و استحکام برقرار رکھنا سب سے زیادہ اہم ہے۔ ہم نے یہ بھی واضح کیا ہے کہ سرحدی معاملات کی صورتحال ہمارے وسیع دوطرفہ تعلقات کی صورتحال کی عکاسی کرے گی۔ اس بات کو 06 اگست کو حال ہی میں منعقدہ ‘ہند-چین سرحدی معاملات پر مشاورت اور ہم آہنگی کے ورکنگ میکانزم’ کی 36ویں میٹنگ میں بھی دہرایا گیا۔ اس میٹنگ میں دونوں فریقوں نے کھلی اور واضح بات چیت کی اورحقیقی کنٹرول لائن (ایل اے سی) پر صورتحال کا جائزہ لیا۔”
مسٹر جیسوال نے کہا کہ میٹنگ میں ہندستان نے اس بات پر زور دیا کہ دوطرفہ تعلقات کی ہمہ گیر ترقی کے لیے سرحدی علاقوں میں امن و استحکام برقرار رکھنا انتہائی ضروری ہے۔ اس بات پر اتفاق ہوا کہ لائن آف ایکچوئل کنٹرول پر غلط فہمی اور غلط اندازوں سے بچنے نیز باقی بچے ہوئے مسائل کو حل کرنے کے لیے ورکنگ میکانزم کی میٹنگوں، مقامی کمانڈر سطح کی میٹنگوں اور دیگر میکانزم سمیت موجودہ سفارتی اور فوجی ذرائع کا استعمال جاری رکھا جائے گا۔
یو این آئی ایف اے
دنیا
موساد کے سابق سربراہ کا انکشاف، ماضی میں ایران کی فردو جوہری تنصیب کا کئی بار دورہ کیا
یروشلم، اسرائیلی خفیہ ایجنسی موساد کے سابق سربراہ یوسی کوہن نے کہا ہے کہ انہوں نے ماضی میں ایران کی فردو یورینیم افزودگی تنصیب کا کئی مرتبہ دورہ کیا تھا، تاہم انہوں نے یہ نہیں بتایا کہ یہ دورے کب کیے گئے اور ان کے ہمراہ کون تھا۔
عبرانی زبان کے میڈیا کے مطابق صفد میں منعقدہ گیلیلی فورم سے خطاب کرتے ہوئے کوہن نے کہا، ’’ہم نے فردو جوہری تنصیب کا کئی بار دورہ کیا تاکہ اس مقام کو سمجھ سکیں۔‘‘
انہوں نے مزید کہا، ’’امریکیوں کی جانب سے اس پر بمباری میرے تمام خوابوں کی تکمیل تھی۔‘‘
فردو کے علاوہ ایران کی اصفہان اور نطنز میں موجود جوہری تنصیبات کو بھی جون 2025 میں ہونے والی 12 روزہ اسرائیل۔ایران جنگ کے دوران امریکی حملوں سے شدید نقصان پہنچا تھا۔
بعد ازاں ایسی رپورٹس سامنے آئی تھیں کہ ان تنصیبات پر موجود تقریباً 440 کلوگرام انتہائی افزودہ یورینیم زمین میں دفن کر دی گئی تھی۔ تاہم اسرائیل نے بعد میں اندازہ لگایا کہ تہران نے اس مواد میں سے کچھ کو ممکنہ طور پر پکیکس ماؤنٹین کے مقام پر منتقل کر دیا تھا۔
کوہن کے مطابق 60 فیصد تک افزودہ یورینیم اب بھی ’’بم بنانے سے بہت دور‘‘ ہے۔ تاہم یہ دعویٰ جوہری ماہرین کی بعض جائزہ رپورٹس سے مختلف ہے۔ جوہری ماہر ڈیوڈ البرائٹ کا کہنا ہے کہ 60 فیصد افزودہ یورینیم کو مزید افزودہ کرکے چند ہفتوں یا حتیٰ کہ چند دنوں میں ہتھیاروں کے درجے کے مواد میں تبدیل کیا جا سکتا ہے۔
کوہن اس سے قبل ایران کے جوہری پروگرام کو نشانہ بنانے والی موساد کی کارروائیوں کے بارے میں بھی کھل کر بات کر چکے ہیں۔ 2021 میں موساد کی سربراہی چھوڑنے کے فوراً بعد ایک غیر معمولی ٹیلی ویژن انٹرویو میں انہوں نے کئی کارروائیوں کی تفصیلات فراہم کی تھیں، جن میں 2018 میں تہران کے ایک گودام سے ایران کے جوہری محفوظ شدہ ریکارڈ چوری کرنے کی کارروائی بھی شامل تھی۔
انہوں نے یہ بھی اشارہ دیا تھا کہ نطنز میں ایران کی زیر زمین سینٹری فیوج تنصیب کے ایک حصے کی تباہی کے پیچھے بھی موساد کا ہاتھ تھا۔ انہوں نے تصدیق کی تھی کہ ایرانی جوہری سائنس دان محسن فخری زادہ کو موساد نے ہی ہلاک کیا تھا اور تہران کو جوہری ہتھیار تیار کرنے کی کوشش سے باز رہنے کی تنبیہ کی تھی۔
چینل 12 کو دیے گئے اس انٹرویو میں موساد کے سابق سربراہ نے ایران کے جوہری بنیادی ڈھانچے سے اپنی واقفیت کا بھی اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ اگر انہیں موقع دیا جائے تو وہ دیان کو نطنز میں زیر زمین موجود اس ’’تہہ خانے‘‘ میں لے جائیں گے جہاں، ان کے بقول، ’’سینٹری فیوجز گھومتے تھے۔‘‘
یو این آئی۔ ع ا۔
جموں و کشمیر
جموں میں آبادیاتی تبدیلیوں سے متعلق پینل کو پناہ گزینوں کی تنظیم نے یادداشت پیش کی
جموں، پی او جے کے سے بے گھر افراد کی تنظیم ایس او ایس انٹرنیشنل کے ایک وفد نے منگل کو یہاں جسٹس پرکاش پربھاکر نولیکر (ریٹائرڈ) کی سربراہی میں آبادیاتی تبدیلیوں سے متعلق پینل کو ایک تفصیلی یادداشت پیش کی۔
ایس او ایس انٹرنیشنل کے چیئرمین راجیو چونی کی قیادت میں وفد میں پروفیسر این این شرما (نائب چیئرمین)، ونود کمار دتہ (جنرل سکریٹری)، بھائی رام سنگھ (سکریٹری) اور وید راج بالی (سکریٹری) شامل تھے۔ وفد نے یادداشت پیش کرتے ہوئے 1947 سے پاکستان کے زیر قبضہ جموں و کشمیر (پی او جے کے) کی ہندو اور سکھ آبادی کے ساتھ روا رکھے گئے تاریخی ناانصافی کو ریکارڈ پر لایا اور پینل سے ٹھوس اصلاحی اقدامات کرنے کا مطالبہ کیا۔
جاری کردہ بیان کے مطابق یادداشت میں نشاندہی کی گئی کہ 1947 کے حملے کے بعد اس وقت کی جموں و کشمیر حکومت نے ابتدائی طور پر تقریباً 31,600 خاندانوں کا اندراج کیا تھا، جبکہ تقریباً 9,500 خاندانوں کو معمولی اور غیر معقول وجوہات کی بنیاد پر من مانے طریقے سے رجسٹریشن سے محروم کر دیا گیا۔
رجسٹرڈ خاندانوں میں سے صرف تقریباً 26,300 خاندانوں کو ریاست کے اندر آباد کیا گیا، جبکہ تقریباً 5,300 رجسٹرڈ خاندانوں کے ساتھ ساتھ 9,500 غیر رجسٹرڈ خاندانوں کو ہندوستان کے دیگر حصوں میں پناہ لینے پر مجبور ہونا پڑا۔ باقاعدہ طور پر رجسٹر کیے گئے خاندانوں کے ریکارڈ اب بھی جموں و کشمیر حکومت کے سرکاری ریکارڈ میں موجود ہیں۔
یادداشت میں کہا گیاکہ ’’یہ خاندان مہاراجہ ہری سنگھ کے 1927 کے اسٹیٹ سبجیکٹ قانون کے تحت ریاست کے اصل باشندے تھے اور انہوں نے بارہا اپنے آبائی وطن واپس جانے کی خواہش کا اظہار کیا ہے۔‘‘
تاہم بحالیِ آبادکاری کی کسی جامع پالیسی یا ادارہ جاتی مدد کی مکمل عدم موجودگی کے باعث ان کے پاس دوسری جگہ اپنی زندگی دوبارہ شروع کرنے کے علاوہ کوئی راستہ نہیں تھا۔ بیان کے مطابق اس وقت ریاست سے باہر رہنے والی ان کی آبادی کا تخمینہ پانچ سے چھ لاکھ ہے۔
ایس او ایس انٹرنیشنل نے یہ بھی نشاندہی کی کہ جموں و کشمیر کی اُس وقت کی حکومت کے 2014 کے کابینہ فیصلے میں ہر متاثرہ خاندان کو 25 لاکھ روپے نقد امداد، تعلیم یافتہ بے روزگار نوجوانوں کے لیے 8,500 سرکاری ملازمتیں اور پیشہ ورانہ و تکنیکی اداروں میں ریزرویشن دینے کا وعدہ کیا گیا تھا، لیکن جموں و کشمیر یا سابق ریاست سے باہر جلاوطنی کی زندگی گزارنے والے خاندانوں کے لیے اس پر عمل نہیں کیا گیا۔
جاری۔یواین آئی۔ طـ ا
-
دنیا1 day agoایران کا فی الحال امریکہ کے ساتھ کوئی مذاکرات نہیں: ایرانی وزیر خارجہ
-
ہندوستان2 days agoطلبہ پر کارروائی کے معاملے پر حکومت کو گھیرتے ہوئے راہل کا مضمون، کھڑگے اور پرینکا نے حمایت کی
-
دنیا1 day agoسعودی عرب میں فیکٹری میں آگ کے سبب 16 بنگلہ دیشی مزدور ہلاک
-
دنیا2 days agoٹرمپ جوہری معاہدے کے بغیر ایران کے ساتھ تنازع ختم کرنے پر تیار: رپورٹ
-
دنیا1 day agoتجربہ کار آئی آر جی سی کمانڈر محسن رضائی ایران کے قومی سلامتی کے سربراہ مقرر
-
دنیا9 hours agoایران نے خود کو ایک ‘ناقابل تسخیر طاقت’ ثابت کیا ہے: عراقچی
-
جموں و کشمیر9 hours agoیومِ آزادی سے قبل جموں و کشمیر پولیس نے سرحدی سامبا میں طویل فاصلے کی گشت اور فرضی انسدادِ دہشت گردی مشق کی
-
دنیا13 hours agoٹرمپ کا ایران سے معاوضے کا مطالبہ، آبنائے ہرمز پر مذاکرات جاری
-
دنیا9 hours agoشام کے سابق صدر بشار الاسد کو سزائے موت سنادی گئی
-
دنیا13 hours agoیمن میں حوثیوں کے المخا اور مارب پر بیلسٹک میزائل حملے
-
دنیا13 hours agoایران اور عمان کے درمیان آبنائے ہرمز پر مذاکرات جاری
-
دنیا12 hours agoکولمبیا میں زلزلے سے ہلاکتوں کی تعداد 132 ہو گئی، صدر کا قومی ایمرجنسی کا اعلان
