تازہ ترین
صمد میر صاحب نمبل ہار: ایک اعلیٰ پایہ سخن ورایک برگزیدہ صوفی شاعر
مشتاق شمیم، بڈگام
28 جون 2019ء کو حسب سابقہ باغ صمد نمبل ہار میں وادی کے مایہ ناز اور ہر دلعزیز صوفی شاعر صمد میر صاحب کا عرس نہایت ہی عقیدت و احترام کے ساتھ منایا گیا۔صمد میر فاؤنڈیشن ٹرسٹ کی طرف سے حسب روایت اس موقع پر مہمانوں اور عقیدت مندوں کی خاطر تواضع کیلئے تمام تر انتظامات کا بہتر طریقے سے اہتمام کیا گیا تھا۔آج کے کالم کیلئے راقم المضمون نے اسی برگزیدہ صوفی شاعر اور داستان نگار کا انتخاب کیا ہے تاکہ ان کے ادبی کارناموں اور سماجی زندگی کے بعض پہلوؤں کے بارے قارئین کرام خاص طور سے نئی پیڑی کو روشناس کیا جائے اورمرحوم شاعر کو خراج عقیدت پیش کیا جاسکے۔
صمد میر کی ولادت 1893ء میں سرینگر کے نرورہ علاقے میں ہوئی تھی۔یہ وہ زمانہ تھا جب ہمارا ملک (کشمیر) ڈوگرہ مہاراجاؤں کی ظالم سلطنت کے خونی پنجوں میں بُری طرح سے جھکڑی ہوئی تھی۔اس دور میں یہاں پر دور دور تک تعلیم وتربیت کا کو ئی ادارہ یا مرکز کہیں نظر نہیں آرہا تھا۔ہر طرف بیماری بے کاری اور بے گاری کا عالم عروج پرتھا۔لوگ بھوک پیاس اور لاعلاج امراض کی وجہ سے بے موت مراکرتے تھے۔لوگوں کا معیار زندگی جنگلی جانوروں سے بھی بد تر تھا۔کوئی پوچھنے والا تھا نہ ہی کوئی سننے والا کہیں نظر آرہا تھا۔ کوئی داد رسی کرنے والا بھی کہیں پر موجود تھا۔ان حالات میں کسی ناخواندہ اور مزدور پیشہ شخص کی شعرو شاعری اور سخن وری کرنا کسی بڑے عجوبے سے کم تر نہ تھا۔صمد میر صاحب نے ظاہری صورت میں کسی ژاٹہ حال یا درسگاہ میں کوئی تعلیم یا تربیت حاصل نہیں کی تھی لیکن ناخواندہ ہونے کے باوجود اُنہوں نے شعرو شاعری اور سخن وری کی صورت میں علم و عرفان کی جو ندیاں ہماری وادی گلپوش میں بہا دیں وہ یہ سمجھنے کیلئے کافی ہے کہ میر صاحب کو قدرت نے باطنی صورت میں ایک ایسے گھیان دھیان سے منور کر رکھا ہواتھا جو اللہ تبارک و ُ تعالیٰ اپنے خاص بندوں کو ہی عنایت فرمایا کرتا ہے۔ صمد صاحب کی طرف سے بہائی گئیں علم و عرفان کی ندیوں سے آج تک ہزاروں فرزندان کشمیراپنی علمی ادبی اور دینی پیاس بجھاتے آئے ہیں اور اس وقت بھی اُن کے میٹھے کلام سے محبان علم وادب اور عاشقانِ رسولﷺ بڑی تعداد میں محضوض و مسرور ہونے کی کوشش میں لگے ہوئے ہیں۔
صمد میر صاحب کے والدبزرگوار خالق میرکا تعلق ضلع بڈگام کے ایک چھوٹے موٹے گاؤں نمبل ہارخانصاحب سے تھا۔وہ ایک پست درجے کا کاشتکار تھا۔کاشتکاری کے ساتھ ساتھ انہوں نے حلال روزی کمانے کیلئے آری کشی کا پرُ مشقت پیشہ بھی اختیار کر رکھاہواتھا۔اُس زمانے میں آری کشی کام کی مانگ گاؤں دیہات سے زیادہ شہر و قصبہ جات میں پائی جارہی تھی اور وہاں پر محنتانہ بھی قدرے زیادہ ہی ملا کرتا تھا۔یہی وجہ ہے کہ خالق میر نے اپنے پیشے کو عروج بخشنے اور اپنی کمائی میں خاطر خواہ اضافہ کرنے کیلئے سرینگر کی راہ لی۔چناچہ اُن دنوں ٹرانسپورٹ کا کوئی معقول انتظام تھا ہی نہیں جسکی وجہ سے خالق میرکوسرینگر کے پائین شہر میں ہی عارضی بنیادوں پر سکونت اختیار کرنا پڑی۔ کچھ عرصہ بعدانہوں نے وہیں پائین شہر کے نرورہ علاقے میں خود کو شادی کے پاک بندھن میں باندھنے کا فیصلہ کیا۔خالق میر شعر و شاعری کے ساتھ بھی دلچسپی رکھا کرتے تھے۔شعر گوئی کرنا اور موسیقی سماعت کرنا اُن کا پسندیدہ مشغلہ رہا تھا۔
چناچہ صمد میرصاحب کی ولادت نرورہ سرینگر میں ہی ہوئی تھی۔وہیں پراُن کا بچپن اور لڑکپن بھی گزرا۔ لیکن والد صاحب کے انتقال کے بعد اُن کو شہر سرینگر کا ماحول اور آب و ہوا زیادہ دیر تک راس نہیں آپایا اسلئے جوانی کی دہلیز پر قدم رکھتے ہی انہوں نے اپنے آبائی گاؤں نمبل ہار واپس آنے کا فیصلہ کیا۔ گاؤں میں آکرمیر صاحب نے ذریعہ معاش کے حصول کیلئے پہلے محنت مزدوری کا پیشہ اختیار کر رکھا لیکن بعد میں انہوں نے اپنے والد صاحب کا پیشہ یعنی آری کشی کا کام اختیار کرنے میں اپنی دلچسپی ظاہر کی۔انہوں نے نمبل ہار میں ہی ازدواجی رشتہ اپنے ہی قبیلے کی مسمات خورشہ بیگم نامی ایک باادب با اخلاق اور دیندار لڑکی سے جوڑنے کا فیصلہ کیا۔ میر صاحب کی ازدواجی زندگی نہایت ہی خوش اسلوب پُر سکون اور بہتر طریقے سے گزر چکی تھی ایسا آپ کے یار دوستوں اور قرابت داروں کا دعویٰ ہے۔
نمبل ہار بڈگام میں اپنی رہائش کے دوران میر صاحب کو بعض پیروں اور فقیروں کے ساتھ رابطہ رہا جن میں حبیب نجار واگرخالق نجار بٹہ مالو اوررمضان ڈار اسلام آباد شامل ہیں۔اپنے والد صاحب کی صحبت میں رہنے کی بدولت صمد میر کے قلب و ذہن میں شعر و شاعری کا شوق و ذوق بچپن ہی سے پلتا رہا لیکن انہوں نے اپنے مُرشد فقیر خالق نجار کی طرف سے با ضابطہ اجازت ملنے کے بعد ہی شعر و شاعری کرنے کا رسمی طور پر آغاز کیا۔اُن کی پہلی غزل کاپہلا شعر ”ویس/ کار مشکل بار گبُ گ.م ویتہ راونُ پیوم،گلالہ پانس کالہ رنگ گوم ویتہ راونُ پیوم“ ہے۔ میر صاحب کی یہ غزل اتنی مقبو ل عام ہوچکی ہے کہ ایک صدی سے زیادہ وقت گزرنے کے بعد بھی یہ نغمہ آج ہر کشمیری مرد و زن کی زبان پر مچلتا رہتا ہے۔ چونکہ صمد میرصاحب ظاہری صورت میں ایک ناخواندہ شخص تھا اسلئے اُن کو لکھنے پڑھنے کا کوئی خاص تجربہ حاصل نہیں تھا۔یہی وجہ رہی کہ جب کبھی بھی اُن کے من میں کوئی شعریا کوئی سخن مچل اُٹھتا تھا تو آپ واگر نامی گاؤں کے ایک بزرگ شخص علی محمدصاحب جو اُس زمانے میں پڑھنے لکھنے کی تھوڑی بہت مہارت رکھتے تھے کی مدد سے اپنا کلام ضبط تحریر میں لایا کرتے تھے۔روایتی شاعری کے علاوہ صمد میر صاحب کوداستانیں تراشنے میں بھی اچھی خاصی مہارت حاصل تھی۔انہوں نے کئی خوبصورت داستانیں لکھی ہیں جن کو سماعت کرنے کے دوران احساس حق ہوا کرتا ہے۔ اُن کی طرف سے تحریر کی گئی داستانوں میں داستانِ(اکہ نندُن)سب سے اعلیٰ شاہکار ہے۔ اکہ نندُن نامی داستان اتنی مقبول عام ہوگئی کہ اس کو بار بار سماعت کرنے کیلئے اہلیان کشمیرکا دل تڑپتا رہتا تھا۔صمد صاحب کی یہ داستان چودہ قسطوں پر مشتمل ہے اور اس کے تمام کردار وں کو میر صاحب نے ہندو ناموں سے منسوب کر کے رکھ دیاہے۔ یہاں تک کہ اس مقبول عام داستان کے حالات و واقعات بھی ہندو کلچراور تہذیب و تمدن کے ساتھ مشابہت کرکے پیش کئے جاچکے ہیں۔یاد رہے(اکہ نندُن)نام سے داستان بعض دوسرے نامی گرامی شعرا حضرات نے بھی اپنے اپنے انداز میں تحریر کیا ہواہے۔
صمد میر صاحب کے ایک قرابت دارمحمد یوسف یعصوب سے معلوم ہوا ہے کہ صمد صاحب نے اپنی زندگی میں لگ بھگ چار سو غزلیں نظمیں نعت و مناجات منقبت اور داستانیں وغیرہ تحریر کی تھیں لیکن بد قسمتی کی وجہ سے اُن کا بیشترانمول شاعری خزانہ افراد خانہ کی لاپرواہی کی وجہ سے کہیں مٹی کے امبار تلے دفن ہوکے رہ گیاجس کو کافی کھوجنے کے بعد بھی بازیاب نہیں کیا جاسکا۔ اس وقت صرف دو سو کے آس پاس ہی غزلوں اور نظموں وغیرہ پر مشتمل اُن کا شاعری کلام کلیات صمد میر میں موجود ہے۔کلیات صمد میر نامور ادیب اور شاعرموتی لال ساقی نے ترتیب دی ہے جس کو ریاستی کلچرل اکادمی نے چار بار شائع کرنے کی سعادت حاصل کی ہے۔
صمدمیر صاحب جس وقت شعر و شاعری کے میدان میں بام عروج پر پہنچ گئے اُس وقت اُن کانام اور کلام پوری وادی میں زبان زد عام و خاص ہوگیا۔اُن کے کلام میں وزن اور روانی اس قدر پائی جارہی ہے جس طرح سے کسی اعلیٰ تعلیم یافتہ شاعر کے کلام میں پائی جاتی ہے۔انہوں نے اپنی شاعری میں نہ صرف روایتی لفظوں کا استعمال کیا بلکہ انہوں نے چند ایسے نئے اور خوبصورت استہارات بھی معرض وجود لانے میں کامیابی حاصل کی جن الفاظ اور استہارات سے کشمیری زبان اورشعر و ادب کو ایک نئی جہت اور عروج مل گیا۔ صمد صاحب کے شیرین کلام سے متاثر ہوکر ایک بڑی تعداد میں یہاں کے لوگ اُن کے دیوانے ہوگئے اور مُرید بن بیٹھے جن میں مسلمانوں کے علاوہ ہندو برادری کے لوگ بھی شامل ہیں۔احد بیگ صفا کدل میر صاحب کے خاص مرُیداورمہتمم تھے۔انہوں نے اپنی زندگی کا بیشتر حصہ صمد صاحب کے ساتھ ہی گزارا۔ ہر دکھ سکھ میں اُن کا ساتھ نبھایا اسلئے میر صاحب نے اپنی زندگانی میں ہی احد بیگ صاحب کو اپنا ادبی جانشین نامزدکر رکھا تھا۔ احد بیگ کے مزار پر بھی صفا کدل میں ہر سال یوم صمد نہایت ہی عقیدت اور احترام کے ساتھ منایا جاتا ہے۔
9جنوری 1959ء میں جس وقت صمد میر صاحب کی عمر مبارک قریباََ 65برس کے آس پاس تھی وہ اس دارُالفناء سے دارُالبقاء کیلئے ہمیشہ کیلئے تشریف لے گئے۔اُن کواپنے آبائی گاؤں نمبل ہار میں جہاں پر انہوں نے وقت پیری میں اپنا بیشتر وقت گزارا اُن کی وراثتی قطعہ اراضی کے اندر سپرد خاک کیا گیا۔اُن کے مبارک روضہ پر اُن کے اہل خانہ قرابت داروں اور مریدوں نے حال ہی میں ایک خوبصورت چبوترہ بھی تعمیر کروا دیا ہے۔ ان کی زیارت گاہ پر ہر سال اُنکے عرس پر ادبی و ثقافتی پروگراموں کے ساتھ ساتھ محفل سماع آراستہ کیا جاتا ہے۔صمد میر فاؤنڈیشن ٹرسٹ جس کا قیام کوئی دس پندرہ برس قبل عمل میں لایا جاچکا ہے نے صمد میر صاحب کے شاعری ادبی وثقافتی وراثت کی دیکھ ریکھ کرنے کا بیڑہ اُٹھا کے رکھا ہواہے۔یوم صمد کے موقع پراُن کے مزار پر فاؤنڈیشن کی طرف سے زائرین کیلئے صبح سویرے سے لیکر شام گئے تک مفت بنڈار کا انتظام بھی کیا جاتا ہے۔ یہاں پر اس دن عارضی بازار بھی سجایا جاتا ہے اور بچوں کی تفریح کا بھی انتظام کیا جاتاہے۔
امسال حسب روایت یوم صمد میرکے موقع پر ریاستی کلچرل اکادمی اور محکمہ انفارمیشن نے باہمی اشتراک سے محفل سماع کا اہتمام کیا تھا۔وادی سے تعلق رکھنے والے بڑے بڑے گلوکار اور موسیقار مرحوم شاعر کے مزار کے سائے میں سینکڑوں عقیدت مندوں کی موجودگی میں دن بھر اُن کا کلام اپنی مَدُرلئے اور سُریلی دھنوں میں پیش کر کے اُن کے تئیں اپنا خراج عقیدت پیش کرتے رہے۔لیکن یہاں ستم ظریفی کا مقام یہ ہے کہ گلوکاروں اورموسیقاروں کی چند پارٹیاں صوفی شاعروں کے مزرات پر روانہ کرکے ہمارے ادبی و ثقافتی اداروں کے منتظمین سمجھ رہے ہیں کہ وہ اپنی منصبی ذمہ داریاں نبھا نے میں کامیاب ہو رہے ہیں جوکہ اُن کی خوش فہمی کے سوا کچھ بھی نہیں ہے۔کیاصرف محفل سماع آراستہ کرانے سے ہی ان برگزیدہ شاعروں اور سخن وروں کا حق ادا کیا جاسکتاہے۔صمد میر صاحب کے علاوہ دوسرے بڑے بڑے شاعروں کے کلام سے ہم اکثر و بیشتر دور درشن کیندر اور ریڈیو کشمیر کی وساطت سے محضوض ہوتے رہتے ہیں۔ہم اپنے من پسند شاعروں کا کلام آڈیو اور ویڈیو پلیروں کی مدد سے جب چاہیں اپنے گھروں میں آرام سے بیٹھ کرسماعت بھی کر لیتے ہیں۔کیا ان مبارک تقریبات پر ہمارے ادبی و ثقافتی اداروں کو مشاعروں مکالوں اور تقریروں کا اہتمام نہیں کرنا چاہئے جس سے ان عظیم شاعر و ں اور سخن وروں کے چاہنے والے اُن کی شخصیت اورکارناموں سے باخبر ہوجاتے۔کیا ان اداروں کو طلباء و طالبات کو ان موقعوں پر دعوت دیکر بلانا نہیں چاہئے تاکہ وہ بھی کشمیر کے جاندار ماضی کو جان لیتے اوران بزرگوں کے شاندار کارناموں سے سیخ حاصل کرلیتے۔کلچرل اکادمی کے سربراہوں اور ذمہداروں سے ہمارے ادب نواز دوستوں کو کافی امیدیں وابسطہ ہیں۔ ہم امید کرتے ہیں کہ ادبی و ثقافتی اداروں کے سربراہان صوفی شاعروں کے عرس پر محفل سماع کے ساتھ ساتھ مشاعروں،مکالوں اور تقریروں کا اہتمام کیا کرتے رہیں تاکہ ان برگزیدہ سخن وروں کی کسی حد تک حق ادائی ہوسکے۔
پڑھ پڑھ کے گیا پتھر لکھ لکھ کے گیا چور!!!!!!!!!
جس پڑھنے سے صاحب ملے وہ پڑھنا ہے اور
جموں و کشمیر
جموں و کشمیر میں 7 تا 10 ستمبر تک بین الاقوامی فلم فیسٹیول
جموں، جموں و کشمیر میں آنے والے سات سے دس ستمبر تک پہلی بار چار روزہ بین الاقوامی فلم فیسٹیول کا اہتمام کیا جا رہا ہے۔
اطلاعات و تعلقات عامہ ڈائرکٹوریٹ (ڈی آئی پی آر) نے اس فیسٹیول کا خاکہ تیار کیا ہے۔ یہ فیسٹیول نہ صرف جموں و کشمیر کے لوگوں تک بین الاقوامی سنیما کو پہنچائے گا، بلکہ مقامی صلاحیتوں کو فلمی صنعت کی معروف شخصیات کے ساتھ بات چیت کرنے، اپنی صلاحیتوں کو نکھارنے اور پیشہ ورانہ نیٹ ورک بنانے کا شاندار موقع بھی فراہم کرے گا۔
جموں و کشمیر کے فنکاروں نے اس پہل کی تعریف کرتے ہوئے اسے مقامی صلاحیتوں اور سنیما سے جڑے وسیع تر طبقے کے لیے ایک سنگ میل قرار دیا ہے۔
سال 2014 میں اپنی ڈوگری فلم ‘گیتیئاں’ کی ریلیز کے بعد سرخیوں میں آئے جموں و کشمیر کے معروف ڈائریکٹر راہل شرما نے یو این آئی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ جموں و کشمیر کا پہلا بین الاقوامی فلم فیسٹیول (آئی ایف ایف جے کے) ایک شاندار پہل ہے۔ انہوں نے کہا، “سنیما میں دلوں اور ذہنوں کو جیتنے کی ایک منفرد صلاحیت ہے، جو ہماری ثقافت، جدوجہد اور کہانیوں کی ایک زندہ دستاویز ہے۔ اس سطح کے اہتمام بین الاقوامی سطح پر جموں و کشمیر کی بھرپور صلاحیتوں کو یقینی طور پر بیدار کریں گے۔ میں ان تمام شعبوں اور حصہ داروں کو مبارکباد دیتا ہوں جو اس خواب کو شرمندہ تعبیر کر رہے ہیں۔”
جموں و کشمیر کے تھیٹر اور بڑے پردے کی ایک اور معروف شخصیت کسم ٹیکو نے کہا، “بین الاقوامی فلم فیسٹیول کی میزبانی کرنا حکومت کا ایک خیر مقدمی قدم ہے۔ یہ ہمارے خطے کے لیے ایک تاریخی لمحہ ہے۔ یہ نہ صرف مقامی فنکاروں کو اپنی صلاحیت دکھانے کا موقع فراہم کرتا ہے بلکہ دنیا بھر کی صنعت کے ماہرین کے ساتھ تعاون اور نیٹ ورکنگ کی راہ بھی ہموار کرتا ہے۔”
جموں و کشمیر کے مشہور فنکار پنکج کھجوریا نے بتایا کہ 1947 میں آزادی کے بعد جب سے ہندوستان میں فلمیں بننا شروع ہوئیں، تب سے شاید ہی کوئی ایسا فلم ساز رہا ہو جو اس بات سے ناواقف ہو کہ جموں و کشمیر، بالخصوص کشمیر، ہمیشہ سے فلمی شوٹنگ کے لیے پسندیدہ مقامات میں سے ایک رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ 1990 تک یہاں کئی فلموں کی شوٹنگ ہوئی اور کئی فلموں کی کہانیاں کشمیر پر مبنی رہیں۔ رامانند ساگر اور وید راہی جیسے جموں کے فلم سازوں کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ آرٹیکل 370 کے خاتمے کے بعد سے مزید فلم ساز جموں و کشمیر کا رخ کر رہے ہیں۔ یہ فیسٹیول ہندستانی سنیما کو فروغ دے گا اور مقامی صلاحیتوں کے ساتھ ساتھ سیاحت کی صنعت کو بھی بڑا تحرک دے گا۔
جموں کے فلم ساز اور صنعت کار اتل ونود دگل نے بھی اس قدم کو گیم چینجر قرار دیا۔ ‘شکارہ’، ‘ایک لڑکی کو دیکھا تو ایسا لگا’، ‘دی اسکائی از پنک’ اور ’12ویں فیل’ جیسی کئی بالی ووڈ اور علاقائی فلموں سے وابستہ مسٹر دگل نے امید ظاہر کی کہ یہ تقریب ہر سال منعقد کی جائے گی۔
دریں اثنا، بین الاقوامی فلم فیسٹیول کے سلسلے میں جموں میں منعقدہ ایک تقریب میں ڈائریکٹر اطلاعات شریا سنگھل نے کہا کہ جموں و کشمیر دہائیوں سے فلموں سے گہرے طور پر جڑا رہا ہے۔ دنیا بھر کے لوگوں کے لیے جموں و کشمیر کی پہچان اکثر سنیما کے ذریعے ہی پہنچی ہے، اس لیے اب یہاں بین الاقوامی فلم فیسٹیول کا ہونا مکمل طور پر مناسب ہے۔
محترمہ سنگھل نے کہا کہ اس فیسٹیول کا مقصد جموں و کشمیر میں فلم سازی کے جذبے کو دوبارہ بیدار کرنا اور اسے ایک اہم فلم شوٹنگ کا مرکز بنانا ہے۔ ساتھ ہی فلم انڈسٹری سے وابستہ یہاں کے باصلاحیت نوجوانوں کو ایک ایسا پلیٹ فارم دینا ہے جہاں وہ سیکھ سکیں، قائم شدہ شخصیات سے رابطہ قائم کر سکیں اور خود آگے بڑھ سکیں۔
ڈائریکٹر اطلاعات نے بتایا کہ فیسٹیول کے دوران بین الاقوامی، قومی اور علاقائی سنیما کی فیچر فلموں، شارٹ فلموں اور ڈاکیومنٹریز کی اسکریننگ کے علاوہ فلم سازی کے جدید پہلوؤں پر ماسٹر کلاس اور تکنیکی سیشن بھی منعقد کیے جائیں گے۔
یو این آئی۔ م س۔ م الف
جموں و کشمیر
ڈی آئی جی نارتھ نے ہندواڑہ میں یومِ آزادی کی تیاریاں اور سیکورٹی انتظامات کا جائزہ لیا
سرینگر، یومِ آزادی کی آنے والی تقریبات کے پیش نظر ہندواڑہ سب ڈسٹرکٹ میں سیکورٹی انتظامات کا جائزہ لیا گیا، جس کے دوران ڈپٹی انسپکٹر جنرل (ڈی آئی جی) آف پولیس، نارتھ کشمیر ونود کمار نے سیکورٹی فورسیز کو انتہائی چوکس رہنے اور فول پروف سیکورٹی یقینی بنانے کی ہدایت دی۔
ڈی آئی جی ونود کمار نے پولیس ڈسٹرکٹ ہندواڑہ کا دورہ کیا اور ہندواڑہ پولیس، سی اے پی ایف اور دیگر متعلقہ ایجنسیوں کے افسران کے ساتھ ایک سیکورٹی جائزہ اجلاس کی صدارت کی۔ پولیس ترجمان کے مطابق اجلاس کے دوران تقریبات کے پرامن اور خوش اسلوبی سے انعقاد کو یقینی بنانے کے لیے سیکورٹی انتظامات، تعیناتی کے منصوبوں، علاقے میں غلبہ قائم رکھنے، رسائی کے کنٹرول، ٹریفک مینجمنٹ اور مختلف سیکورٹی ایجنسیوں کے درمیان باہمی ہم آہنگی پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔
ایس ایس پی ہندواڑہ ساحل سارنگل نے 15 اگست کے سلسلے میں اب تک کیے گئے سیکورٹی اور احتیاطی تدابیر کے ساتھ ساتھ آنے والے دنوں کے لیے طے شدہ اقدامات پر ایک تفصیلی پریزنٹیشن دی۔ انہوں نے ڈی آئی جی این کے آر کو پورے پولیس ڈسٹرکٹ میں تیز تر تلاشی اور جانچ، گشت، علاقے میں غلبہ اور آپریشنل تیاریوں کے بارے میں بھی بریفنگ دی۔ مجموعی سیکورٹی صورتحال کا بھی تفصیلی جائزہ لیا گیا۔
ڈی آئی جی نے تمام افسران کو ہدایت دی کہ وہ چوکس رہیں، حساس مقامات پر سیکورٹی تدابیر کو مضبوط بنائیں، گشت اور جانچ میں تیزی لائیں اور تمام ایجنسیوں کے درمیان مؤثر ہم آہنگی اور خفیہ معلومات کا بر وقت تبادلہ یقینی بنائیں۔
عام لوگوں کو کم سے کم زحمت کو یقینی بناتے ہوئے اعلیٰ سطح کی الرٹ اور تیاری کو برقرار رکھنے پر زور دیا گیا۔ پولیس اور تمام شریک ایجنسیوں نے پورے پولیس ڈسٹرکٹ میں محفوظ، پرامن اور ناخوشگوار واقعات سے پاک یومِ آزادی کی تقریبات کو یقینی بنانے کے اپنے عزم کا اعادہ کیا۔
یو این آئی۔ م س۔ م الف
ہندوستان
سودیشی جاگرن منچ کی حکومت سے امریکی ٹیرف کی دھمکیوں کے خلاف ڈٹے رہنے، لوگوں سے امریکی کمپنیوں کا بائیکاٹ کرنے کی اپیل
نئی دہلی، سودیشی جاگرن منچ (ایس جے ایم) نے امریکہ کی سینیٹ کی طرف سے حال ہی میں منظور کیے گئے اس قانون پر گہرے افسوس کا اظہار کیا ہے، جو امریکی صدر کو ان ملکوں پر 100 فیصد تک ٹیرف لگانے کا اختیار دیتا ہے جو روس سے بڑی مقدار میں تیل خریدتے ہیں تنظیم نے بدھ کے روز ایک بیان میں کہا کہ اس کا پختہ یقین ہے کہ کسی بھی ملک کو ہندوستان کی توانائی سکیورٹی اور خود مختار تجارتی پالیسی طے کرنے کا حق نہیں ہے۔ ایس جے ایم کے قومی شریک کنوینر اشونی مہاجن نے کہا، “اگرچہ ہم مانتے ہیں کہ اس قانون کو ابھی پورے قانون سازی کے عمل سے گزرنا باقی ہے اور ڈیوٹی خود بخود نافذ نہیں ہوگی، پھر بھی یہ واضح طور پر آزاد اور منصفانہ بین الاقوامی تجارت کے اصولوں اور ملکوں کے اپنی توانائی پالیسیاں طے کرنے کے خود مختار حق کے لیے ایک سنگین خطرہ پیدا کرتا ہے۔”
ایس جے ایم کا کہنا ہے کہ وہ اس معاملے پر حکومت ہند کے موقف کی مکمل حمایت کرتا ہے کہ روس سے خام تیل کی ہندوستان کی خریداری توانائی سکیورٹی، دستیابی، قیمت، سپلائی میں تنوع اور ہندوستانی صارفین کے مفادات پر مبنی ہے۔
ہندوستان نے بار بار یہ واضح کیا ہے کہ جائز بین الاقوامی منڈیوں سے توانائی خریدنے کے ہمارے خود مختار حق کو کوئی تیسرا ملک طے نہیں کر سکتا۔ تنظیم نے کہا ہے کہ یہ پہلی بار نہیں ہے جب امریکہ میں آنے والے سامان پر غیر منصفانہ ڈیوٹی لگانے کی دھمکی دی گئی ہے۔ ایسی دھمکیاں امریکی صدر کے طور پر ڈونلڈ ٹرمپ کی دوسری مدت کار کے آغاز سے ہی ملتی رہی ہیں؛ درحقیقت، امریکہ میں آنے والے ہندوستانی سامان پر کبھی کبھی بھاری ڈیوٹی لگائی گئی ہے، جس سے ہماری برآمدات پر کافی اثر پڑا ہے۔ ان ٹیرف کو الگ الگ ناموں سے جانا گیا ہے— جیسے ریسیپروکل ٹیرف اور قومی سکیورٹی ڈیوٹی سے لے کر سیکشن 301 ڈیوٹی، سیکشن 232 ڈیوٹی، تادیبی ڈیوٹی (روسی تیل خریدنے کے لیے)، تجارتی خسارہ ڈیوٹی اور جبری مشقت ڈیوٹی— اور یہ فہرست کبھی ختم نہیں ہوتی۔
یو این آئی ۔ ایف اے
-
ہندوستان2 days agoطلبہ پر کارروائی کے معاملے پر حکومت کو گھیرتے ہوئے راہل کا مضمون، کھڑگے اور پرینکا نے حمایت کی
-
دنیا2 days agoایران کا فی الحال امریکہ کے ساتھ کوئی مذاکرات نہیں: ایرانی وزیر خارجہ
-
جموں و کشمیر1 day agoیومِ آزادی سے قبل جموں و کشمیر پولیس نے سرحدی سامبا میں طویل فاصلے کی گشت اور فرضی انسدادِ دہشت گردی مشق کی
-
دنیا2 days agoٹرمپ جوہری معاہدے کے بغیر ایران کے ساتھ تنازع ختم کرنے پر تیار: رپورٹ
-
دنیا2 days agoسعودی عرب میں فیکٹری میں آگ کے سبب 16 بنگلہ دیشی مزدور ہلاک
-
دنیا1 day agoایران نے خود کو ایک ‘ناقابل تسخیر طاقت’ ثابت کیا ہے: عراقچی
-
دنیا23 hours agoموساد کے سابق سربراہ کا انکشاف، ماضی میں ایران کی فردو جوہری تنصیب کا کئی بار دورہ کیا
-
دنیا2 days agoتجربہ کار آئی آر جی سی کمانڈر محسن رضائی ایران کے قومی سلامتی کے سربراہ مقرر
-
دنیا1 day agoشام کے سابق صدر بشار الاسد کو سزائے موت سنادی گئی
-
دنیا2 days agoکیسپین سمندر معاہدے کا مستقبل ایران کی پارلیمنٹ طے کرے گی: اسماعیل بقائی
-
دنیا1 day agoیمن میں حوثیوں کے المخا اور مارب پر بیلسٹک میزائل حملے
-
دنیا1 day agoٹرمپ کا ایران سے معاوضے کا مطالبہ، آبنائے ہرمز پر مذاکرات جاری
