تازہ ترین
صمد میر صاحب نمبل ہار: ایک اعلیٰ پایہ سخن ورایک برگزیدہ صوفی شاعر
مشتاق شمیم، بڈگام
28 جون 2019ء کو حسب سابقہ باغ صمد نمبل ہار میں وادی کے مایہ ناز اور ہر دلعزیز صوفی شاعر صمد میر صاحب کا عرس نہایت ہی عقیدت و احترام کے ساتھ منایا گیا۔صمد میر فاؤنڈیشن ٹرسٹ کی طرف سے حسب روایت اس موقع پر مہمانوں اور عقیدت مندوں کی خاطر تواضع کیلئے تمام تر انتظامات کا بہتر طریقے سے اہتمام کیا گیا تھا۔آج کے کالم کیلئے راقم المضمون نے اسی برگزیدہ صوفی شاعر اور داستان نگار کا انتخاب کیا ہے تاکہ ان کے ادبی کارناموں اور سماجی زندگی کے بعض پہلوؤں کے بارے قارئین کرام خاص طور سے نئی پیڑی کو روشناس کیا جائے اورمرحوم شاعر کو خراج عقیدت پیش کیا جاسکے۔
صمد میر کی ولادت 1893ء میں سرینگر کے نرورہ علاقے میں ہوئی تھی۔یہ وہ زمانہ تھا جب ہمارا ملک (کشمیر) ڈوگرہ مہاراجاؤں کی ظالم سلطنت کے خونی پنجوں میں بُری طرح سے جھکڑی ہوئی تھی۔اس دور میں یہاں پر دور دور تک تعلیم وتربیت کا کو ئی ادارہ یا مرکز کہیں نظر نہیں آرہا تھا۔ہر طرف بیماری بے کاری اور بے گاری کا عالم عروج پرتھا۔لوگ بھوک پیاس اور لاعلاج امراض کی وجہ سے بے موت مراکرتے تھے۔لوگوں کا معیار زندگی جنگلی جانوروں سے بھی بد تر تھا۔کوئی پوچھنے والا تھا نہ ہی کوئی سننے والا کہیں نظر آرہا تھا۔ کوئی داد رسی کرنے والا بھی کہیں پر موجود تھا۔ان حالات میں کسی ناخواندہ اور مزدور پیشہ شخص کی شعرو شاعری اور سخن وری کرنا کسی بڑے عجوبے سے کم تر نہ تھا۔صمد میر صاحب نے ظاہری صورت میں کسی ژاٹہ حال یا درسگاہ میں کوئی تعلیم یا تربیت حاصل نہیں کی تھی لیکن ناخواندہ ہونے کے باوجود اُنہوں نے شعرو شاعری اور سخن وری کی صورت میں علم و عرفان کی جو ندیاں ہماری وادی گلپوش میں بہا دیں وہ یہ سمجھنے کیلئے کافی ہے کہ میر صاحب کو قدرت نے باطنی صورت میں ایک ایسے گھیان دھیان سے منور کر رکھا ہواتھا جو اللہ تبارک و ُ تعالیٰ اپنے خاص بندوں کو ہی عنایت فرمایا کرتا ہے۔ صمد صاحب کی طرف سے بہائی گئیں علم و عرفان کی ندیوں سے آج تک ہزاروں فرزندان کشمیراپنی علمی ادبی اور دینی پیاس بجھاتے آئے ہیں اور اس وقت بھی اُن کے میٹھے کلام سے محبان علم وادب اور عاشقانِ رسولﷺ بڑی تعداد میں محضوض و مسرور ہونے کی کوشش میں لگے ہوئے ہیں۔
صمد میر صاحب کے والدبزرگوار خالق میرکا تعلق ضلع بڈگام کے ایک چھوٹے موٹے گاؤں نمبل ہارخانصاحب سے تھا۔وہ ایک پست درجے کا کاشتکار تھا۔کاشتکاری کے ساتھ ساتھ انہوں نے حلال روزی کمانے کیلئے آری کشی کا پرُ مشقت پیشہ بھی اختیار کر رکھاہواتھا۔اُس زمانے میں آری کشی کام کی مانگ گاؤں دیہات سے زیادہ شہر و قصبہ جات میں پائی جارہی تھی اور وہاں پر محنتانہ بھی قدرے زیادہ ہی ملا کرتا تھا۔یہی وجہ ہے کہ خالق میر نے اپنے پیشے کو عروج بخشنے اور اپنی کمائی میں خاطر خواہ اضافہ کرنے کیلئے سرینگر کی راہ لی۔چناچہ اُن دنوں ٹرانسپورٹ کا کوئی معقول انتظام تھا ہی نہیں جسکی وجہ سے خالق میرکوسرینگر کے پائین شہر میں ہی عارضی بنیادوں پر سکونت اختیار کرنا پڑی۔ کچھ عرصہ بعدانہوں نے وہیں پائین شہر کے نرورہ علاقے میں خود کو شادی کے پاک بندھن میں باندھنے کا فیصلہ کیا۔خالق میر شعر و شاعری کے ساتھ بھی دلچسپی رکھا کرتے تھے۔شعر گوئی کرنا اور موسیقی سماعت کرنا اُن کا پسندیدہ مشغلہ رہا تھا۔
چناچہ صمد میرصاحب کی ولادت نرورہ سرینگر میں ہی ہوئی تھی۔وہیں پراُن کا بچپن اور لڑکپن بھی گزرا۔ لیکن والد صاحب کے انتقال کے بعد اُن کو شہر سرینگر کا ماحول اور آب و ہوا زیادہ دیر تک راس نہیں آپایا اسلئے جوانی کی دہلیز پر قدم رکھتے ہی انہوں نے اپنے آبائی گاؤں نمبل ہار واپس آنے کا فیصلہ کیا۔ گاؤں میں آکرمیر صاحب نے ذریعہ معاش کے حصول کیلئے پہلے محنت مزدوری کا پیشہ اختیار کر رکھا لیکن بعد میں انہوں نے اپنے والد صاحب کا پیشہ یعنی آری کشی کا کام اختیار کرنے میں اپنی دلچسپی ظاہر کی۔انہوں نے نمبل ہار میں ہی ازدواجی رشتہ اپنے ہی قبیلے کی مسمات خورشہ بیگم نامی ایک باادب با اخلاق اور دیندار لڑکی سے جوڑنے کا فیصلہ کیا۔ میر صاحب کی ازدواجی زندگی نہایت ہی خوش اسلوب پُر سکون اور بہتر طریقے سے گزر چکی تھی ایسا آپ کے یار دوستوں اور قرابت داروں کا دعویٰ ہے۔
نمبل ہار بڈگام میں اپنی رہائش کے دوران میر صاحب کو بعض پیروں اور فقیروں کے ساتھ رابطہ رہا جن میں حبیب نجار واگرخالق نجار بٹہ مالو اوررمضان ڈار اسلام آباد شامل ہیں۔اپنے والد صاحب کی صحبت میں رہنے کی بدولت صمد میر کے قلب و ذہن میں شعر و شاعری کا شوق و ذوق بچپن ہی سے پلتا رہا لیکن انہوں نے اپنے مُرشد فقیر خالق نجار کی طرف سے با ضابطہ اجازت ملنے کے بعد ہی شعر و شاعری کرنے کا رسمی طور پر آغاز کیا۔اُن کی پہلی غزل کاپہلا شعر ”ویس/ کار مشکل بار گبُ گ.م ویتہ راونُ پیوم،گلالہ پانس کالہ رنگ گوم ویتہ راونُ پیوم“ ہے۔ میر صاحب کی یہ غزل اتنی مقبو ل عام ہوچکی ہے کہ ایک صدی سے زیادہ وقت گزرنے کے بعد بھی یہ نغمہ آج ہر کشمیری مرد و زن کی زبان پر مچلتا رہتا ہے۔ چونکہ صمد میرصاحب ظاہری صورت میں ایک ناخواندہ شخص تھا اسلئے اُن کو لکھنے پڑھنے کا کوئی خاص تجربہ حاصل نہیں تھا۔یہی وجہ رہی کہ جب کبھی بھی اُن کے من میں کوئی شعریا کوئی سخن مچل اُٹھتا تھا تو آپ واگر نامی گاؤں کے ایک بزرگ شخص علی محمدصاحب جو اُس زمانے میں پڑھنے لکھنے کی تھوڑی بہت مہارت رکھتے تھے کی مدد سے اپنا کلام ضبط تحریر میں لایا کرتے تھے۔روایتی شاعری کے علاوہ صمد میر صاحب کوداستانیں تراشنے میں بھی اچھی خاصی مہارت حاصل تھی۔انہوں نے کئی خوبصورت داستانیں لکھی ہیں جن کو سماعت کرنے کے دوران احساس حق ہوا کرتا ہے۔ اُن کی طرف سے تحریر کی گئی داستانوں میں داستانِ(اکہ نندُن)سب سے اعلیٰ شاہکار ہے۔ اکہ نندُن نامی داستان اتنی مقبول عام ہوگئی کہ اس کو بار بار سماعت کرنے کیلئے اہلیان کشمیرکا دل تڑپتا رہتا تھا۔صمد صاحب کی یہ داستان چودہ قسطوں پر مشتمل ہے اور اس کے تمام کردار وں کو میر صاحب نے ہندو ناموں سے منسوب کر کے رکھ دیاہے۔ یہاں تک کہ اس مقبول عام داستان کے حالات و واقعات بھی ہندو کلچراور تہذیب و تمدن کے ساتھ مشابہت کرکے پیش کئے جاچکے ہیں۔یاد رہے(اکہ نندُن)نام سے داستان بعض دوسرے نامی گرامی شعرا حضرات نے بھی اپنے اپنے انداز میں تحریر کیا ہواہے۔
صمد میر صاحب کے ایک قرابت دارمحمد یوسف یعصوب سے معلوم ہوا ہے کہ صمد صاحب نے اپنی زندگی میں لگ بھگ چار سو غزلیں نظمیں نعت و مناجات منقبت اور داستانیں وغیرہ تحریر کی تھیں لیکن بد قسمتی کی وجہ سے اُن کا بیشترانمول شاعری خزانہ افراد خانہ کی لاپرواہی کی وجہ سے کہیں مٹی کے امبار تلے دفن ہوکے رہ گیاجس کو کافی کھوجنے کے بعد بھی بازیاب نہیں کیا جاسکا۔ اس وقت صرف دو سو کے آس پاس ہی غزلوں اور نظموں وغیرہ پر مشتمل اُن کا شاعری کلام کلیات صمد میر میں موجود ہے۔کلیات صمد میر نامور ادیب اور شاعرموتی لال ساقی نے ترتیب دی ہے جس کو ریاستی کلچرل اکادمی نے چار بار شائع کرنے کی سعادت حاصل کی ہے۔
صمدمیر صاحب جس وقت شعر و شاعری کے میدان میں بام عروج پر پہنچ گئے اُس وقت اُن کانام اور کلام پوری وادی میں زبان زد عام و خاص ہوگیا۔اُن کے کلام میں وزن اور روانی اس قدر پائی جارہی ہے جس طرح سے کسی اعلیٰ تعلیم یافتہ شاعر کے کلام میں پائی جاتی ہے۔انہوں نے اپنی شاعری میں نہ صرف روایتی لفظوں کا استعمال کیا بلکہ انہوں نے چند ایسے نئے اور خوبصورت استہارات بھی معرض وجود لانے میں کامیابی حاصل کی جن الفاظ اور استہارات سے کشمیری زبان اورشعر و ادب کو ایک نئی جہت اور عروج مل گیا۔ صمد صاحب کے شیرین کلام سے متاثر ہوکر ایک بڑی تعداد میں یہاں کے لوگ اُن کے دیوانے ہوگئے اور مُرید بن بیٹھے جن میں مسلمانوں کے علاوہ ہندو برادری کے لوگ بھی شامل ہیں۔احد بیگ صفا کدل میر صاحب کے خاص مرُیداورمہتمم تھے۔انہوں نے اپنی زندگی کا بیشتر حصہ صمد صاحب کے ساتھ ہی گزارا۔ ہر دکھ سکھ میں اُن کا ساتھ نبھایا اسلئے میر صاحب نے اپنی زندگانی میں ہی احد بیگ صاحب کو اپنا ادبی جانشین نامزدکر رکھا تھا۔ احد بیگ کے مزار پر بھی صفا کدل میں ہر سال یوم صمد نہایت ہی عقیدت اور احترام کے ساتھ منایا جاتا ہے۔
9جنوری 1959ء میں جس وقت صمد میر صاحب کی عمر مبارک قریباََ 65برس کے آس پاس تھی وہ اس دارُالفناء سے دارُالبقاء کیلئے ہمیشہ کیلئے تشریف لے گئے۔اُن کواپنے آبائی گاؤں نمبل ہار میں جہاں پر انہوں نے وقت پیری میں اپنا بیشتر وقت گزارا اُن کی وراثتی قطعہ اراضی کے اندر سپرد خاک کیا گیا۔اُن کے مبارک روضہ پر اُن کے اہل خانہ قرابت داروں اور مریدوں نے حال ہی میں ایک خوبصورت چبوترہ بھی تعمیر کروا دیا ہے۔ ان کی زیارت گاہ پر ہر سال اُنکے عرس پر ادبی و ثقافتی پروگراموں کے ساتھ ساتھ محفل سماع آراستہ کیا جاتا ہے۔صمد میر فاؤنڈیشن ٹرسٹ جس کا قیام کوئی دس پندرہ برس قبل عمل میں لایا جاچکا ہے نے صمد میر صاحب کے شاعری ادبی وثقافتی وراثت کی دیکھ ریکھ کرنے کا بیڑہ اُٹھا کے رکھا ہواہے۔یوم صمد کے موقع پراُن کے مزار پر فاؤنڈیشن کی طرف سے زائرین کیلئے صبح سویرے سے لیکر شام گئے تک مفت بنڈار کا انتظام بھی کیا جاتا ہے۔ یہاں پر اس دن عارضی بازار بھی سجایا جاتا ہے اور بچوں کی تفریح کا بھی انتظام کیا جاتاہے۔
امسال حسب روایت یوم صمد میرکے موقع پر ریاستی کلچرل اکادمی اور محکمہ انفارمیشن نے باہمی اشتراک سے محفل سماع کا اہتمام کیا تھا۔وادی سے تعلق رکھنے والے بڑے بڑے گلوکار اور موسیقار مرحوم شاعر کے مزار کے سائے میں سینکڑوں عقیدت مندوں کی موجودگی میں دن بھر اُن کا کلام اپنی مَدُرلئے اور سُریلی دھنوں میں پیش کر کے اُن کے تئیں اپنا خراج عقیدت پیش کرتے رہے۔لیکن یہاں ستم ظریفی کا مقام یہ ہے کہ گلوکاروں اورموسیقاروں کی چند پارٹیاں صوفی شاعروں کے مزرات پر روانہ کرکے ہمارے ادبی و ثقافتی اداروں کے منتظمین سمجھ رہے ہیں کہ وہ اپنی منصبی ذمہ داریاں نبھا نے میں کامیاب ہو رہے ہیں جوکہ اُن کی خوش فہمی کے سوا کچھ بھی نہیں ہے۔کیاصرف محفل سماع آراستہ کرانے سے ہی ان برگزیدہ شاعروں اور سخن وروں کا حق ادا کیا جاسکتاہے۔صمد میر صاحب کے علاوہ دوسرے بڑے بڑے شاعروں کے کلام سے ہم اکثر و بیشتر دور درشن کیندر اور ریڈیو کشمیر کی وساطت سے محضوض ہوتے رہتے ہیں۔ہم اپنے من پسند شاعروں کا کلام آڈیو اور ویڈیو پلیروں کی مدد سے جب چاہیں اپنے گھروں میں آرام سے بیٹھ کرسماعت بھی کر لیتے ہیں۔کیا ان مبارک تقریبات پر ہمارے ادبی و ثقافتی اداروں کو مشاعروں مکالوں اور تقریروں کا اہتمام نہیں کرنا چاہئے جس سے ان عظیم شاعر و ں اور سخن وروں کے چاہنے والے اُن کی شخصیت اورکارناموں سے باخبر ہوجاتے۔کیا ان اداروں کو طلباء و طالبات کو ان موقعوں پر دعوت دیکر بلانا نہیں چاہئے تاکہ وہ بھی کشمیر کے جاندار ماضی کو جان لیتے اوران بزرگوں کے شاندار کارناموں سے سیخ حاصل کرلیتے۔کلچرل اکادمی کے سربراہوں اور ذمہداروں سے ہمارے ادب نواز دوستوں کو کافی امیدیں وابسطہ ہیں۔ ہم امید کرتے ہیں کہ ادبی و ثقافتی اداروں کے سربراہان صوفی شاعروں کے عرس پر محفل سماع کے ساتھ ساتھ مشاعروں،مکالوں اور تقریروں کا اہتمام کیا کرتے رہیں تاکہ ان برگزیدہ سخن وروں کی کسی حد تک حق ادائی ہوسکے۔
پڑھ پڑھ کے گیا پتھر لکھ لکھ کے گیا چور!!!!!!!!!
جس پڑھنے سے صاحب ملے وہ پڑھنا ہے اور
ہندوستان
جنتر منتر پر مظاہرے کے لیے 10 دن پہلے درخواست کی شرط بے تکی: کانگریس
نئی دہلی، کانگریس نے جنتر منتر پر مظاہرے کے لیے 10 دن پہلے درخواست دینے کی شرط پر اعتراض ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ کسی واقعے پر فوری احتجاج کے لیے لوگوں کو اتنے دن انتظار کرنے پر مجبور نہیں کیا جا سکتا۔
کانگریس کے اتر پردیش انچارج راجندر پال گوتم نے بدھ کے روز یہاں پارٹی ہیڈکوارٹر میں ایک پریس کانفرنس میں کہا کہ یہ خبر حیران کن ہے کہ جنتر منتر پر کسی بھی مظاہرے کے لیے کم از کم 10 دن پہلے درخواست دینی ہوگی۔ انہوں نے دہلی پولیس کے اس فرمان پر اعتراض ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ اگر آج کسی کے ساتھ ظلم ہو جائے، کسی کا بے رحمی سے قتل ہو جائے یا جمہوریت پر حملہ کر دیا جائے تو کیا لوگوں کو اس کے احتجاج کے لیے 10 دن انتظار کرنا ہوگا؟
انہوں نے کہا کہ انہیں نہیں لگتا کہ سپریم کورٹ یا کسی حکومت نے ایسا کوئی قانون بنایا ہے یا بنا سکتی ہے کہ ایک آزاد ملک میں لوگ اپنے بنیادی حقوق کا استعمال کرنے کے لیے اتنے دن انتظار کریں۔
کانگریسی رہنما نے کہا کہ آئین شہریوں کو اظہارِ رائے کی آزادی دیتا ہے اور دھرنا- مظاہرے کے ذریعے حکومت پر دباؤ بنانے کا حق بھی دیتا ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ بھارتیہ جنتا پارٹی تحقیاقی ایجنسیوں کا استعمال کر رہی ہے اور الیکشن کمیشن کو بی جے پی کی ‘بی ٹیم’ بنا دیا گیا ہے۔
مسٹر گوتم نے کہا کہ جواب دہی سے بچنے کے لیے وزیرِ داخلہ امت شاہ پولیس کو آگے کر دیتے ہیں اور گزشتہ دو دنوں میں اپوزیشن لیڈر راہل گاندھی کے ساتھ پولیس نے جس طرح کا سلوک کیا، وہ شرمناک ہے۔
یواین آئی ایف اے
ہندوستان
سعودی عرب کے ہوائی اڈوں پر حملوں کی ہندوستان نے شدید مذمت کی
نئی دہلی، ہندوستان نے سعودی عرب کے ابہا بین الاقوامی ہوائی اڈے اور ریاض کے کنگ خالد بین الاقوامی ہوائی اڈے کو نشانہ بنا کر گزشتہ چند دنوں میں کیے گئے حملوں کی مذمت کی ہے۔
وزارتِ خارجہ نے جمعرات کے روز ایک بیان جاری کر کے کہا کہ ان حملوں میں شہریوں کی موت اور کئی لوگوں کے زخمی ہونے کی اطلاع ملی ہے۔ ہندوستان نے کہا کہ شہری انفراسٹرکچر کو نشانہ بنانا مکمل طور پر ناقابلِ قبول ہے۔
ہندوستان نے حملوں میں جاں بحق ہونے والے لوگوں کے خاندانوں کے ساتھ دلی تعزیت کا اظہار کیا اور زخمیوں کی جلد صحت یابی کی دعا کی۔ ہندوستان نے سعودی عرب کے عوام اور حکومت کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے ان کے ساتھ کھڑے رہنے کا اعادہ کیا۔
قابلِ ذکر ہے کہ منگل اور بدھ کے روز مبینہ طور پر حوثی باغیوں کے حملوں میں جان و مال کا کافی نقصان ہوا ہے۔
یواین آئی ایف اے
ہندوستان
جنتر منتر پر مظاہرے کی اجازت کے تعلق سے یوتھ کانگریس کی عرضی پر جمعہ کو سماعت
نئی دہلی، دہلی ہائی کورٹ میں چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے خلاف جنتر منتر پر مظاہرے کی اجازت دینے سے دہلی پولیس کے انکار کو چیلنج کرنے والی یوتھ کانگریس کی عرضی پر جمعہ کے روز سماعت ہو سکتی ہے۔
یوتھ کانگریس نے بتایا کہ تنظیم کے سینئر ایڈوکیٹ سنجے گھوش نے بدھ کے روز دہلی ہائی کورٹ کے کارگزار چیف جسٹس نتن واسودیو سامبرے کی بنچ کے سامنے عرضی کا ذکر کیا تھا۔ عدالت نے اس کے بعد معاملے کو جمعہ کے روز سماعت کے لیے فہرست بند کیا ہے۔ یوتھ کانگریس نے امید ظاہر کی ہے کہ معاملے پر جمعہ کے روز سماعت ہوگی۔
عرضی یوتھ کانگریس کے قومی صدر ادے بھانو چب کے ذریعے تنظیم کے لیگل سیل کے چیئرمین ایڈوکیٹ روپیش سنگھ بھدوریا نے دائر کی ہے۔ اس میں دہلی پولیس کے یکم اکتوبر کے اس حکم کو چیلنج کیا گیا ہے جس میں 25 ستمبر کو مجوزہ 100 سے 150 لوگوں کے پرامن مظاہرے کی اجازت دینے سے انکار کیا گیا تھا۔
یوتھ کانگریس نے کہا کہ اس نے مظاہرے کے دوران سکیورٹی، ٹریفک، نظم و ضبط اور امن و قانون سے جڑی تمام شرائط پر عمل کرنے کا یقین دلایا تھا۔
عرضی کے مطابق پرامن اجتماع اور اظہارِ رائے کے بنیادی حق کو انتظامی صوابدید کی بنیاد پر من مانے طریقے سے پابند نہیں کیا جا سکتا۔ یوتھ کانگریس نے کہا ہے کہ ایسے امتناع آئینی، ضرورت کے مطابق اور متناسب ہونے چاہئیں۔
یواین آئی ایف اے
-
جموں و کشمیر1 week agoسری نگر پولیس نے بین ریاستی منشیات نیٹ ورک کا پردہ فاش کیا، آٹھ افراد گرفتار
-
دنیا1 week agoقطری ثالثی کی امریکہ، ایران کے درمیان مذاکرات میں معمولی پیش رفت
-
دنیا7 days agoروس پر براہِ راست حملے کی صورت میں ہر قسم کے ہتھیار استعمال کرنےکا معاملہ ایجنڈے پر ہو گا :پوتن
-
دنیا1 week agoہیگستھ امریکی جنرل اور ایڈمرل کے عہدوں میں 20 فیصد کمی کریں گے
-
جموں و کشمیر7 days agoگاندھی کے عدم تشدد اور سودیشی کے نظریات آج بھی اہم ہیں: جموں کے ڈویژنل کمشنر
-
ہندوستان7 days agoوندے بھارت نے چِناب پل اور کیبل اسٹڈ انجی پل کو 100 کلومیٹر کی رفتار سے عبور کیا
-
جموں و کشمیر1 week agoکشمیر میراتھن اتحاد اور نوجوانوں کے متبادل خواہشات کا پیغام دیتی ہے: ایل جی سنہا
-
دنیا6 days agoخمیس مشیط کی جانب داغے گئے تین حوثی بیلسٹک میزائل تباہ
-
ہندوستان1 week agoگیانیش کمار استعفیٰ دیں، ہٹائے گئے ووٹروں کی فہرست عام کی جائے: کھرگے
-
جموں و کشمیر1 week agoبڈگام کے یوسمرگ میں پاکستانی لشکر طیبہ کا جنگجو جھڑپ میں ہلاک
-
ہندوستان1 week agoڈیفنس اکاؤنٹس ڈیپارٹمنٹ کے 279ویں سالانہ دن پر کئی نئی پہل کی شروعات کریں گے راج ناتھ
-
ہندوستان1 week agoشیئر بازاروں میں گراوٹ جاری، سینسیکس 49 پوائنٹس پھسلا
