تازہ ترین
عالمگیر وبا کورونا وائرس سے پیدا شدہ بحرانی صورتحال
رمضان المبارک میں لاک ڈاؤن کے سبب سب سے زیادہ متاثر طبقے میں اگر درزیوں کو بھی شامل کیا جائے تو کچھ غلط نہیں ہوگا۔ سلے سلائے کپڑوں کی مقبولیت کے باوجود رمضان سال کا وہ وقت ہوتا ہے جب درزی سب سے زیادہ اہم شخص بن جاتا ہے۔کیونکہ کسمٹر (گاہک) اور در زی کے درمیان دلچسپ تکرار کے قصے آج بھی زبان زد عام ہے۔’عید سے پہلے تو مشکل ہے بلکہ ناممکن ہے،جناب دو کی بات چھوڑو ایک نہیں ہوپائے گا، کوشش کروں گا کہ چاند رات تک دوں،لیکن اگر نہیں ہوا غصہ نہیں ہونا!، رمضان کا آخری عشرہ ہے اور آپ کو عید یاد آگئی،ایک ہفتے پہلے آتے لیکن آپ پرانے کسٹمر اور پڑوسی ہیں اس لیے ہامی بھرلی۔
‘یہ دلچسپ تکرار، اصرار اور انکار رمضان میں ہر گلی محلے کے ٹیلر یعنی درزی کی دکان کا عام نظارہ ہوا کرتا تھا، لیکن کورونا وائرس نے دیگر ہنرمندوں کے ساتھ ساتھ درزی کی دکانوں پر بھی تالے لگوا دیے ہیں۔در زیوں کی دکانیں 15ویں روزے کے بعد رات دیر کھلی رہتی ہیں۔ بس پھر ٹیلر ماسٹر کپڑوں کے انبار کو کاٹ کاٹ کر اپنے نائب درزیوں کو دیتے جاتے ہیں، جو مشینوں پر جھکے انہیں خوبصورت اور نت نئے ڈیزائن کے جوڑوں میں ڈھالتے جاتے۔ لیکن آج کورونا وائرس کی وبا کے باعث درزیوں کی دکانیں بھی ویران ہیں اور سارا سال عید کے سیزن کا انتظار کرنے والا یہ طبقہ معاشی بدحالی کا شکار ہے۔
شہر خاص کے کاٹھی دروازہ علاقے سے تعلق رکھنے والے عارف ٹیلر:عارف ایک نوجوان ٹیلر ہیں،جنہوں نے ہواؤں کے رخ کے پرے اپنی زندگی کی گاڑی آگے بڑھانے کا فیصلہ لیا۔اپنے ہی گھر میں 10*10کمرے میں در زی کی دکان سجا رکھی ہے،لیکن آج اس دکان کا بند در وازہ نہیں کھلتا۔کورونا سے قبل کے سیکیورٹی لاک ڈاؤن نے2019کے شادی اور گرمائی سیزن کو نگل لیا۔اب عید اور عید کے بعد شادی کے سیزن سے عارف ٹیلر کی کافی امیدیں تھی،لیکن عالمی وبا کورونا نے ان دنوں سیزنز کو بھی نگل لیا۔ عارف کا کہنا ہے کہ میں ’اپنے گھر کا واحد کفیل ہوں۔ 2مہینے سے نہیں پچھلے ایک سال سے کام بند ہے، ہاتھ پر ہاتھ دھرے بیٹھا ہوں،کچھ سمجھ نہیں آتا کیا کروں؟‘۔
انہوں نے سوال اٹھایا کہ یہ کب تک؟ ان کا کاروبار چھوٹا ہے اور اس وقت بند پڑا ہے اس لیے وہ کافی پریشان اور مشکل میں ہیں۔انہوں نے کہا ’رشتہ داروں سے قرض لے کر گزارا کررہا ہوں، قرض سے صرف راشن پورا کر رہا ہوں اور چھوٹے بچے کا دودھ۔ کچھ سمجھ نہیں آرہا ہے کہ حالات کب ٹھیک ہوں گے اور کب ہمارا روزگار بحال ہوگا، کورونا اور لاک ڈاؤن نے تو ہمیں تباہ کردیا ہے‘۔ظہور ٹیلر:تجارتی مرکز لالچوک کے مشہور ’بنڈ‘ پر واقع ایک در زی کی دکان کے مالک ظہور ٹیلر دریائے جہلم کے کنارے گہری سوچ میں بیٹھے ہیں، اسکی کہانی بھی کچھ مختلف نہیں۔ان کا کہنا ہے ’پہلے بیرون ریاستوں دو چار ’کاریگر‘ آیا کر تے تھے،ایک سال سے کوئی نہیں آتا،دو ماہ سے دکان کا شٹر ایک بار بھی اوپر نہیں کیا،نہ مزید ٹیلر ہیں اور نہ ہی کوئی کام۔۔بس کرایہ ہے کہ بڑھتا ہی چلا جارہا ہے‘۔
انہوں نے کہا ’میرا راشن کارڈ بی پی ایل کے زمرے میں بھی نہیں آتا،جو بچا کر رکھا تھا،وہ سب کچھ ختم ہوگیا،لگتا ہے زندگی مکمل طور ٹھم گئی ہے‘۔ان کا کہناتھا ’صورتحال میں کوئی تبدیلی نہیں آرہی ہے، آپ خود سوچ سکتے ہیں کہ اس وقت ہم جیسے لوگ کہاں کھڑے ہوں گے‘۔ریاض احمد نامی ایک اور ٹیلر کہتے ہیں ’طویل بیروزگاری میں سفید پوشی کا بھرم قائم رکھنا بھی مشکل ہوگیا ہے،کھانے پینے کا بندوبست بھی ادھار پر ہو رہا ہے، آس پڑوس میں رشتہ داروں سے کپڑے سلوانے کا کہا لیکن سب ایک جیسے حالات کا شکار ہیں‘۔
انہوں نے اپنی بات آگے بڑھاتے ہوئے کہا’2 وقت کی روٹی کے لالے پڑے ہیں تو کپڑے کون سلوائے گا؟ رمضان کا بھی مہینہ چل رہا ہے، اور سوچتا ہوں کہ آگے کیا ہوگا؟،ہم جیسے لوگ تو پہلے ہی کھائیں گے کیا اور بچائیں گے کیا کی عملی تصویر بنے ہوتے ہیں اور اوپر سے لاک ڈاؤن کے حالات نے معاشی پریشانی میں مزید اضافہ کردیا ہے‘۔اس بڑی تصویر کا ایک اہم حصہ وہ خواتین بھی ہیں جو ٹیلرماسٹروں سے کپڑے لیکر گھر میں سیلا کرتی تھیں اور اپنی با اختیار ی کو مزید مضبوط بنا رہی تھیں،آج وہ بھی مایوس بیٹھی ہیں۔
چند ایک کو رضاکار تنظیموں نے ماسک بنانے کے آرڈر دئے لیکن بیشتر روزگار سے محروم ہوگئیں۔ایک خاتون نے اپنا نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر ایشین میل کو بتایا ’میں اور میری دو مزید سہلیاں گھر بیٹھ کر کپڑے سیلا کرتی ہیں اور اپنے خرچے پورا کرتی تھیں،لیکن قریب قریب ایک سال ہوگیا،ہمیں کوئی کام نہیں ہے،پہلے سیکیورٹی لاک ڈاؤن اور اب کورونا لاک ڈاؤن۔۔حکومت پیکیج کا اعلان تو کرتی ہیں،لیکن مالی مدد کس کو کہاں اور کیسے ملتی ہے؟،ہم اس پورے عمل سے نا آشنا ہے،ہاں! اتنا ضرور ہے کہ سیاسی اثر ورسوخ اور سفارشیوں کی بہت چلتی ہے‘۔یہ پوچھے جانے پر کہ وبا میں بھی سفارش،تو انہوں نے کہا ’نہیں جانتے جنہیں کورنٹائن میں ہونا چاہئے،وہ باہر گلی میں ہنس ہنس کریہ کہتے تھکتے نہیں! ہم کورنٹائن میں رہنے والوں میں نہیں‘۔
اس خاتون کی سہیلی نے کہا ’ہاتھ میں صفائی ہے، اس لیے گاہک بندھے ہوئے بھی تھے اور کام دیکھ کر نئے بھی آجاتے تھے لیکن لاک ڈاؤن میں کاروبار کی بندش کے باعث مشکل کا سامنا ہے، ایک 2 ہفتے تو انتظار کیا لیکن اب تو2 ماہ کا عرصہ گزر چکا ہے، نہ عید کی رونقیں ہیں اور نہ ہی گاہکوں کیساتھ دلچسپ تکرا رنہ بازار کھلے ہیں اور نہ ہی لوگ خریداری کر رہے ہیں‘۔میں نے اپنے ہی ایک دوست در زی سے اس سوال کا جواب ڈھونڈ نے کی کوشش کی کہ ’کیا لوگ کپڑے سلوا رہے ہیں؟‘ تو انہوں نے کہا’پرانے گاہکوں نے رابطہ نہیں کیا،بس پڑوس میں ایک دو اشخاص ہیں،جنہوں نے پہلے کپڑے سیلنے کیلئے لے رکھے تھے،کیونکہ وہ مجھ سے کپڑے نہیں سیلتے ہیں،بازار بند ہیں،ان کا اپنے در زیوں سے شاید رابطہ نہیں ہے،اس لئے مجھ سے کہا کپڑے سیل کر دیں گے؟،میرے پاس انکار کرنے کی کوئی وجہ نہیں تھی‘۔
حالات سے تنگ انہوں نے تو کورونا وائرس پر ہی سوال اٹھا دیا۔ ان کا کہنا تھا’صورتحال دیکھتے ہوئے اندازہ ہورہا ہے کہ صرف رمضان اور عید نہیں بلکہ یہ تو اب بقر عید تک ایسے ہی حالات نظر آرہے ہیں، ہم جیسے غریبوں کا تو کوئی پْرسانِ حال ہی نہیں‘۔عام لوگوں سے مل کر اور ان کے تاثرات کو جان کر میں یہ کہہ سکتا ہوں کہ کمزور پالیسیوں نے عوام کے دل سے وبا کا خوف نکال کر بھوک اور تنگ دستی کا ڈر بھر دیا ہے۔
ہندوستان
اروناچل ہندستان کا اٹوٹ حصہ، سرحد کی صورتحال ہی چین کے ساتھ دوطرفہ تعلقات کی بنیاد:ہندستان
نئی دہلی ہندستان نے اروناچل پردیش کو اپنا ناقابلِ تقسیم اور اٹوٹ حصہ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ چین کے ساتھ اس کے دوطرفہ تعلقات سرحد کی صورتحال پر مبنی ہوں گے اور سرحدی صورتحال کا ان تعلقات پر براہِ راست اثر ہوگا۔
وزارتِ خارجہ کے ترجمان رندھیر جیسوال نے منگل کے روز یہاں میڈیا بریفنگ میں سوالات کے جواب دیتے ہوئے یہ بات کہی۔ دراصل چین کی جانب سے اروناچل پردیش اور اس کے کچھ مقامات کے نام تبدیل کرنے کے ردعمل میں ہندستان نے حال ہی میں اروناچل پردیش کی 27 اہم جگہوں کو سروے آف انڈیا کے نقشے میں سرکاری طور پر نشان زد کر دیا ہے۔ اس پر چین کی طرف سے منفی ردعمل سامنے آیا ہے۔ چین کے اس ردعمل کے بارے میں پوچھے جانے پر مسٹر جیسوال نے کہا کہ اروناچل پردیش ہندستان کا ناقابلِ تقسیم اور اٹوٹ حصہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ ایک مسلمہ حقیقت ہے اور کوئی بھی اس ناقابلِ تردید سچائی کو بدل نہیں سکتا۔
دونوں ممالک کے درمیان سرحد پر صورتحال کے بارے میں پوچھے گئے سوال کے جواب میں ترجمان نے کہا کہ ہندستان سرحد سے جڑے معاملات کو انتہائی سنجیدہ مانتا ہے اور سرحد پر امن و استحکام اس کی ترجیح ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ سرحد کی صورتحال کا ہندستان اور چین کے تعلقات پر براہِ راست اثر پڑے گا۔ ترجمان نے کہا، “ہندستان اور چین کے درمیان سرحدی علاقوں سے جڑے معاملات میں، ہم نے ہمیشہ چین کے ساتھ بات چیت میں اس بات پر زور دیا ہے کہ ہم ان مسائل کو بے حد سنجیدہ مانتے ہیں اور ان علاقوں میں امن و استحکام برقرار رکھنا سب سے زیادہ اہم ہے۔ ہم نے یہ بھی واضح کیا ہے کہ سرحدی معاملات کی صورتحال ہمارے وسیع دوطرفہ تعلقات کی صورتحال کی عکاسی کرے گی۔ اس بات کو 06 اگست کو حال ہی میں منعقدہ ‘ہند-چین سرحدی معاملات پر مشاورت اور ہم آہنگی کے ورکنگ میکانزم’ کی 36ویں میٹنگ میں بھی دہرایا گیا۔ اس میٹنگ میں دونوں فریقوں نے کھلی اور واضح بات چیت کی اورحقیقی کنٹرول لائن (ایل اے سی) پر صورتحال کا جائزہ لیا۔”
مسٹر جیسوال نے کہا کہ میٹنگ میں ہندستان نے اس بات پر زور دیا کہ دوطرفہ تعلقات کی ہمہ گیر ترقی کے لیے سرحدی علاقوں میں امن و استحکام برقرار رکھنا انتہائی ضروری ہے۔ اس بات پر اتفاق ہوا کہ لائن آف ایکچوئل کنٹرول پر غلط فہمی اور غلط اندازوں سے بچنے نیز باقی بچے ہوئے مسائل کو حل کرنے کے لیے ورکنگ میکانزم کی میٹنگوں، مقامی کمانڈر سطح کی میٹنگوں اور دیگر میکانزم سمیت موجودہ سفارتی اور فوجی ذرائع کا استعمال جاری رکھا جائے گا۔
یو این آئی ایف اے
دنیا
موساد کے سابق سربراہ کا انکشاف، ماضی میں ایران کی فردو جوہری تنصیب کا کئی بار دورہ کیا
یروشلم، اسرائیلی خفیہ ایجنسی موساد کے سابق سربراہ یوسی کوہن نے کہا ہے کہ انہوں نے ماضی میں ایران کی فردو یورینیم افزودگی تنصیب کا کئی مرتبہ دورہ کیا تھا، تاہم انہوں نے یہ نہیں بتایا کہ یہ دورے کب کیے گئے اور ان کے ہمراہ کون تھا۔
عبرانی زبان کے میڈیا کے مطابق صفد میں منعقدہ گیلیلی فورم سے خطاب کرتے ہوئے کوہن نے کہا، ’’ہم نے فردو جوہری تنصیب کا کئی بار دورہ کیا تاکہ اس مقام کو سمجھ سکیں۔‘‘
انہوں نے مزید کہا، ’’امریکیوں کی جانب سے اس پر بمباری میرے تمام خوابوں کی تکمیل تھی۔‘‘
فردو کے علاوہ ایران کی اصفہان اور نطنز میں موجود جوہری تنصیبات کو بھی جون 2025 میں ہونے والی 12 روزہ اسرائیل۔ایران جنگ کے دوران امریکی حملوں سے شدید نقصان پہنچا تھا۔
بعد ازاں ایسی رپورٹس سامنے آئی تھیں کہ ان تنصیبات پر موجود تقریباً 440 کلوگرام انتہائی افزودہ یورینیم زمین میں دفن کر دی گئی تھی۔ تاہم اسرائیل نے بعد میں اندازہ لگایا کہ تہران نے اس مواد میں سے کچھ کو ممکنہ طور پر پکیکس ماؤنٹین کے مقام پر منتقل کر دیا تھا۔
کوہن کے مطابق 60 فیصد تک افزودہ یورینیم اب بھی ’’بم بنانے سے بہت دور‘‘ ہے۔ تاہم یہ دعویٰ جوہری ماہرین کی بعض جائزہ رپورٹس سے مختلف ہے۔ جوہری ماہر ڈیوڈ البرائٹ کا کہنا ہے کہ 60 فیصد افزودہ یورینیم کو مزید افزودہ کرکے چند ہفتوں یا حتیٰ کہ چند دنوں میں ہتھیاروں کے درجے کے مواد میں تبدیل کیا جا سکتا ہے۔
کوہن اس سے قبل ایران کے جوہری پروگرام کو نشانہ بنانے والی موساد کی کارروائیوں کے بارے میں بھی کھل کر بات کر چکے ہیں۔ 2021 میں موساد کی سربراہی چھوڑنے کے فوراً بعد ایک غیر معمولی ٹیلی ویژن انٹرویو میں انہوں نے کئی کارروائیوں کی تفصیلات فراہم کی تھیں، جن میں 2018 میں تہران کے ایک گودام سے ایران کے جوہری محفوظ شدہ ریکارڈ چوری کرنے کی کارروائی بھی شامل تھی۔
انہوں نے یہ بھی اشارہ دیا تھا کہ نطنز میں ایران کی زیر زمین سینٹری فیوج تنصیب کے ایک حصے کی تباہی کے پیچھے بھی موساد کا ہاتھ تھا۔ انہوں نے تصدیق کی تھی کہ ایرانی جوہری سائنس دان محسن فخری زادہ کو موساد نے ہی ہلاک کیا تھا اور تہران کو جوہری ہتھیار تیار کرنے کی کوشش سے باز رہنے کی تنبیہ کی تھی۔
چینل 12 کو دیے گئے اس انٹرویو میں موساد کے سابق سربراہ نے ایران کے جوہری بنیادی ڈھانچے سے اپنی واقفیت کا بھی اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ اگر انہیں موقع دیا جائے تو وہ دیان کو نطنز میں زیر زمین موجود اس ’’تہہ خانے‘‘ میں لے جائیں گے جہاں، ان کے بقول، ’’سینٹری فیوجز گھومتے تھے۔‘‘
یو این آئی۔ ع ا۔
جموں و کشمیر
جموں میں آبادیاتی تبدیلیوں سے متعلق پینل کو پناہ گزینوں کی تنظیم نے یادداشت پیش کی
جموں، پی او جے کے سے بے گھر افراد کی تنظیم ایس او ایس انٹرنیشنل کے ایک وفد نے منگل کو یہاں جسٹس پرکاش پربھاکر نولیکر (ریٹائرڈ) کی سربراہی میں آبادیاتی تبدیلیوں سے متعلق پینل کو ایک تفصیلی یادداشت پیش کی۔
ایس او ایس انٹرنیشنل کے چیئرمین راجیو چونی کی قیادت میں وفد میں پروفیسر این این شرما (نائب چیئرمین)، ونود کمار دتہ (جنرل سکریٹری)، بھائی رام سنگھ (سکریٹری) اور وید راج بالی (سکریٹری) شامل تھے۔ وفد نے یادداشت پیش کرتے ہوئے 1947 سے پاکستان کے زیر قبضہ جموں و کشمیر (پی او جے کے) کی ہندو اور سکھ آبادی کے ساتھ روا رکھے گئے تاریخی ناانصافی کو ریکارڈ پر لایا اور پینل سے ٹھوس اصلاحی اقدامات کرنے کا مطالبہ کیا۔
جاری کردہ بیان کے مطابق یادداشت میں نشاندہی کی گئی کہ 1947 کے حملے کے بعد اس وقت کی جموں و کشمیر حکومت نے ابتدائی طور پر تقریباً 31,600 خاندانوں کا اندراج کیا تھا، جبکہ تقریباً 9,500 خاندانوں کو معمولی اور غیر معقول وجوہات کی بنیاد پر من مانے طریقے سے رجسٹریشن سے محروم کر دیا گیا۔
رجسٹرڈ خاندانوں میں سے صرف تقریباً 26,300 خاندانوں کو ریاست کے اندر آباد کیا گیا، جبکہ تقریباً 5,300 رجسٹرڈ خاندانوں کے ساتھ ساتھ 9,500 غیر رجسٹرڈ خاندانوں کو ہندوستان کے دیگر حصوں میں پناہ لینے پر مجبور ہونا پڑا۔ باقاعدہ طور پر رجسٹر کیے گئے خاندانوں کے ریکارڈ اب بھی جموں و کشمیر حکومت کے سرکاری ریکارڈ میں موجود ہیں۔
یادداشت میں کہا گیاکہ ’’یہ خاندان مہاراجہ ہری سنگھ کے 1927 کے اسٹیٹ سبجیکٹ قانون کے تحت ریاست کے اصل باشندے تھے اور انہوں نے بارہا اپنے آبائی وطن واپس جانے کی خواہش کا اظہار کیا ہے۔‘‘
تاہم بحالیِ آبادکاری کی کسی جامع پالیسی یا ادارہ جاتی مدد کی مکمل عدم موجودگی کے باعث ان کے پاس دوسری جگہ اپنی زندگی دوبارہ شروع کرنے کے علاوہ کوئی راستہ نہیں تھا۔ بیان کے مطابق اس وقت ریاست سے باہر رہنے والی ان کی آبادی کا تخمینہ پانچ سے چھ لاکھ ہے۔
ایس او ایس انٹرنیشنل نے یہ بھی نشاندہی کی کہ جموں و کشمیر کی اُس وقت کی حکومت کے 2014 کے کابینہ فیصلے میں ہر متاثرہ خاندان کو 25 لاکھ روپے نقد امداد، تعلیم یافتہ بے روزگار نوجوانوں کے لیے 8,500 سرکاری ملازمتیں اور پیشہ ورانہ و تکنیکی اداروں میں ریزرویشن دینے کا وعدہ کیا گیا تھا، لیکن جموں و کشمیر یا سابق ریاست سے باہر جلاوطنی کی زندگی گزارنے والے خاندانوں کے لیے اس پر عمل نہیں کیا گیا۔
جاری۔یواین آئی۔ طـ ا
-
دنیا2 days agoایران کا فی الحال امریکہ کے ساتھ کوئی مذاکرات نہیں: ایرانی وزیر خارجہ
-
دنیا2 days agoسعودی عرب میں فیکٹری میں آگ کے سبب 16 بنگلہ دیشی مزدور ہلاک
-
ہندوستان2 days agoطلبہ پر کارروائی کے معاملے پر حکومت کو گھیرتے ہوئے راہل کا مضمون، کھڑگے اور پرینکا نے حمایت کی
-
جموں و کشمیر16 hours agoیومِ آزادی سے قبل جموں و کشمیر پولیس نے سرحدی سامبا میں طویل فاصلے کی گشت اور فرضی انسدادِ دہشت گردی مشق کی
-
ہندوستان18 hours agoپارلیمنٹ کے احاطے میں اپوزیشن ارکانِ پارلیمنٹ کا احتجاج
-
دنیا16 hours agoایران نے خود کو ایک ‘ناقابل تسخیر طاقت’ ثابت کیا ہے: عراقچی
-
دنیا16 hours agoشام کے سابق صدر بشار الاسد کو سزائے موت سنادی گئی
-
دنیا20 hours agoیمن میں حوثیوں کے المخا اور مارب پر بیلسٹک میزائل حملے
-
دنیا20 hours agoٹرمپ کا ایران سے معاوضے کا مطالبہ، آبنائے ہرمز پر مذاکرات جاری
-
دنیا2 days agoٹرمپ جوہری معاہدے کے بغیر ایران کے ساتھ تنازع ختم کرنے پر تیار: رپورٹ
-
دنیا2 days agoتجربہ کار آئی آر جی سی کمانڈر محسن رضائی ایران کے قومی سلامتی کے سربراہ مقرر
-
دنیا20 hours agoایران اور عمان کے درمیان آبنائے ہرمز پر مذاکرات جاری
