تازہ ترین
عمر عبد اللہ بی جے پی اورآر ایس ایس کاپہلا کشمیری نمائندہ:پیپلز کانفرنس
پیپلز کانفرنس نے سوموار کو نیشل کانفرنس پر وار کرتے ہوئے بتایا کہ عمر عبد اللہ بھارتیہ جنتا پارٹی اور آر ایس ایس کا کشمیر سے پہلا کشمیری نمائندہ تھا ۔جس کو جی جے پی سرکار نے ہی اپنے دوراقتدار میں فارن منسٹر بنایا۔جس دوران وادی کشمیر میں انسانی حقوں کی پا مالیا عروج پر تھی۔اس دوران اپنے ایک بیان میں پیپلز کانفرنس نے سابق وزیر اعلی ڈاکٹر فاروق عبد اللہ پر الزام عائد کرتے ہوے بتایا کہ ریاست جموں کشمیر میں بد نام زمانہ اخوان دور میں انہوں نے چٹ سسٹم رائج کر کے ہلاکتوں کی حوصلہ افزائی ہے ۔
پیپلز کانفرنس کے ترجمان جانب سے موصولہ ایک بیان میں سابق وزیر اعلیٰ عمر عبد اللہ پر وار کرتے ہوئے بتایا کہ کشمیر سے بی جے پی اور آر ایس ایس کا پہلا نمائندہ عمر عبداللہ تھا جس کو اس وقت کی بی جے پی سرکار نے فارن منسٹر بنایا تھا ۔انہوں نے بتایا اس وقت وادی کشمیر میں انسانی حقوق ی پامالیاں عروج پر تھی۔پارٹی ترجمان عدنان میر کی جانب سے جاری کردہ بیان میں بتایا گیا کہ عمر عبداللہ کو اس وقت اس لئے فارن منسٹر بنایا گیاتھا تاکہ دنیاں کے سامنے کشمیری یہ بات سامنے لائی جائے گی کہ کشمیر میں انسانی حقوق کی پامالیاں نہیں ہو رہی ہیں ۔انہوں نے بتایاور اب وہ شہر میں نیا بی جے پی بیٹر ہے۔تاکہ ماضی کو ٹھیک کرنے کی کوشش کرتا ہے ۔جبکہ وہ حادثاتی طور آر ایس ایس سے دور چلا گیا ہے ۔
بیان میں بتایا گیا کہ عمر عبد اللہ نے آر ایس ایس سے اس لئے دوری اختیار نہیں کی کشمیر میں انسان حقوق کی پامالیاں ہو رہی تھی اور نا ہی خود مختاری کے حل کو قبول نہیں کیا گیا تھا۔انہوں نے بتایا وہ اس لئے دور چلا گیاکیونکہ والد صاحب پھر بی جے پی کی حکومت کے ذریعہ بھارت کے نائب صدر نہیں بنے۔انہوں نے بتایا ہم ان کو یاد دلاتے ہیں کہ ہمیں ایمان کا دفاع کرنے کے لئے کسی کو اعتماد حاصل کرنے کی ضرورت ہے۔ترجمان نے بتایایہ نیشنل کانفرنس ہی ہے جنہوں نے اخوان کو استعمال ککرے1996سے2002تک کشمیریوں کو قتل کیا ہے انہوں نے بتایا کیا این سی اخوان دور مالک نہیں ہے جنہوں نے اس دور کو شروع کر کے کشمیریوں کا قتل عام کیا ہے ۔
ترجمان نے سوال کیا ۔کہ یہ صحیح نہیں ہے کہ فاروق عبداللہ اخوان ریلیوں میں تقریر کرتے تھے ۔؟بیان میں بتایا گیا ہے نیشنل کانفرنس نے اپنے دور اقتدار میں سال1996سے2002تک اخوان دور کو شروع کر کے سینکڑوں کی تعداد میں کشمیریوں کو قتل کیا ہے ۔جس میں اخوانیوں کو این سی نے قتل کرنے کی مکمل حمایت اور آزادی دی ہے ۔انہوں نے بتایا آپ کیا سمجھا رہے ہیں کہ فاروق عبد اللہ اخوان دور میں خاموش تھا؟انہوں نے بتایا کہ فاروق عبد اللہ اس دور میں اخوان کمانڈوروں کے ساتھ تصاویر کھینچ رہا تھا۔جبکہ انکی ریلوں میں اخوان لیڈر ہوتے تھےْ ۔
انہوں نیشنل کانفرنس پر الزام عائد کرتے ہوئے بتایا کہ فاروق عبد اللہ نے اخوان دورا میں چھٹی سسٹم رائج کیا جس کے ذریعے سے کس کو کب اور کہاں مارنا طے ہونے کے بعد کام اخوانیوں سے کروایا جاتا تھا ہے ۔جس کی وجہ سے اس دور لوگوں کو مارنے والی کی حوصلہ افزائی کی جاتی تھی۔جبکہ حد تو یہ ہوئی کہ این سی نے بعد میں اخوان لیڈوروں کوانتخابات میں حصہ لینے کے لئے منڈیٹ دیا اور بعد میں انہیں ایم ایل سی بنا دیا۔اور ہم اس پر نیشنل کانفرنس کے ساتھ ڈبیٹ کرنے کے لئے تیار ہیں ۔جس کے لئے ہمارے پاس تمام ثبوت موجود ہے ۔اور لوگ جان لیں گے کہ نیشنل کانفرنس نے کیا ہے ۔جو سچ ہے جس کا این کو سامنا کرنا ہوگا۔پیپلز کانفرنس ترجمان نے مذید بتایا کہ فاروق عبد اللہ نے اپنے دور میں ملک کا سب سے بڑا شہری ایوارڑاس شہری انسان کو دینے کی سفارش کی ہے جو درجنوں قتلوں میں ملوث ہونے کے علاوہ کشمیر میں تباہی کا زمہ دار رہا ہے ۔
ہندوستان
سودیشی جاگرن منچ کی حکومت سے امریکی ٹیرف کی دھمکیوں کے خلاف ڈٹے رہنے، لوگوں سے امریکی کمپنیوں کا بائیکاٹ کرنے کی اپیل
نئی دہلی، سودیشی جاگرن منچ (ایس جے ایم) نے امریکہ کی سینیٹ کی طرف سے حال ہی میں منظور کیے گئے اس قانون پر گہرے افسوس کا اظہار کیا ہے، جو امریکی صدر کو ان ملکوں پر 100 فیصد تک ٹیرف لگانے کا اختیار دیتا ہے جو روس سے بڑی مقدار میں تیل خریدتے ہیں تنظیم نے بدھ کے روز ایک بیان میں کہا کہ اس کا پختہ یقین ہے کہ کسی بھی ملک کو ہندوستان کی توانائی سکیورٹی اور خود مختار تجارتی پالیسی طے کرنے کا حق نہیں ہے۔ ایس جے ایم کے قومی شریک کنوینر اشونی مہاجن نے کہا، “اگرچہ ہم مانتے ہیں کہ اس قانون کو ابھی پورے قانون سازی کے عمل سے گزرنا باقی ہے اور ڈیوٹی خود بخود نافذ نہیں ہوگی، پھر بھی یہ واضح طور پر آزاد اور منصفانہ بین الاقوامی تجارت کے اصولوں اور ملکوں کے اپنی توانائی پالیسیاں طے کرنے کے خود مختار حق کے لیے ایک سنگین خطرہ پیدا کرتا ہے۔”
ایس جے ایم کا کہنا ہے کہ وہ اس معاملے پر حکومت ہند کے موقف کی مکمل حمایت کرتا ہے کہ روس سے خام تیل کی ہندوستان کی خریداری توانائی سکیورٹی، دستیابی، قیمت، سپلائی میں تنوع اور ہندوستانی صارفین کے مفادات پر مبنی ہے۔
ہندوستان نے بار بار یہ واضح کیا ہے کہ جائز بین الاقوامی منڈیوں سے توانائی خریدنے کے ہمارے خود مختار حق کو کوئی تیسرا ملک طے نہیں کر سکتا۔ تنظیم نے کہا ہے کہ یہ پہلی بار نہیں ہے جب امریکہ میں آنے والے سامان پر غیر منصفانہ ڈیوٹی لگانے کی دھمکی دی گئی ہے۔ ایسی دھمکیاں امریکی صدر کے طور پر ڈونلڈ ٹرمپ کی دوسری مدت کار کے آغاز سے ہی ملتی رہی ہیں؛ درحقیقت، امریکہ میں آنے والے ہندوستانی سامان پر کبھی کبھی بھاری ڈیوٹی لگائی گئی ہے، جس سے ہماری برآمدات پر کافی اثر پڑا ہے۔ ان ٹیرف کو الگ الگ ناموں سے جانا گیا ہے— جیسے ریسیپروکل ٹیرف اور قومی سکیورٹی ڈیوٹی سے لے کر سیکشن 301 ڈیوٹی، سیکشن 232 ڈیوٹی، تادیبی ڈیوٹی (روسی تیل خریدنے کے لیے)، تجارتی خسارہ ڈیوٹی اور جبری مشقت ڈیوٹی— اور یہ فہرست کبھی ختم نہیں ہوتی۔
یو این آئی ۔ ایف اے
ہندوستان
امت شاہ کی تقریر نہیں، ہمیں جواب چاہیے: راہل
نئی دہلی، لوک سبھا میں اپوزیشن لیڈر راہل گاندھی نے طلباء کے خلاف پولیس کارروائی پر وزیر داخلہ امت شاہ سے پارلیمنٹ میں جواب دینے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ اب تقریر نہیں، سوالات کے جواب چاہیئں مسٹر گاندھی نے بدھ کے روز پارلیمنٹ ہاؤس کے احاطے میں صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا، “مسٹر شاہ نے بچوں پر گولی چلانے کا حکم دیا تھا یا نہیں۔ دونوں ہی صورتوں میں انہیں استعفیٰ دینا چاہیے۔ ہمیں اب امت شاہ کی تقریر نہیں چاہیے۔ ہمیں جواب چاہیے۔ ہمارے طلباء پر گولی کس نے چلائی؟ گولی چلانے کا حکم کس نے دیا؟ کس نے ایک طالب علم کی آنکھ کی بینائی چھینی؟ کیلوں والی لاٹھیوں کے استعمال کا حکم کس نے دیا؟”
انہوں نے دعویٰ کیا کہ یہ حکم وزارتِ داخلہ سے آیا تھا۔ انہوں نے سوال کیا کہ کیا مسٹر شاہ نے بچوں پر گولی چلانے کا حکم دیا تھا یا نہیں۔ مسٹر گاندھی نے کہا کہ دونوں ہی صورتوں میں مسٹر شاہ کو استعفیٰ دینا چاہیے۔
اپوزیشن لیڈر نے کہا، “سچ یہ ہے کہ امت شاہ کی امیج کا غبارہ پھٹ چکا ہے۔ ان کے اندر پارلیمنٹ آنے کی ہمت ہی نہیں ہے۔”
مسٹر گاندھی نے میڈیا سے بھی سوال کیا کہ جب مسٹر شاہ بولتے ہیں تو کیا میڈیا انہیں بیچ میں روکتا ہے؟ انہوں نے پوچھا، “امت شاہ میں ایسی کیا خاص بات ہے کہ پورا میڈیا خاموشی سے کھڑا رہتا ہے؟” انہوں نے کہا کہ جب ملک کے طلباء وزیر اعظم نریندر مودی اور مسٹر شاہ سے نہیں ڈر رہے ہیں تو میڈیا کو بھی ان سے ڈرنا نہیں چاہیے۔
لوک سبھا میں اپوزیشن لیڈر نے کہا، “مسٹر شاہ میں پارلیمنٹ آنے کی ہمت ہی نہیں ہے۔ وہ 20 دنوں سے غائب ہیں۔ اپنے چیمبر میں بیٹھے رہتے ہیں لیکن ایوان میں نہیں آتے۔ ان کے قافلے میں تقریباً 30 گاڑیاں چلتی ہیں، گھر کے آگے ہزاروں پولیس والے کھڑے رہتے ہیں کہ کوئی بچہ نہ آ جائے۔ ان کی شبیہ والے غبارے کی ہوا نکل چکی ہے۔ اب زبردستی اس میں ہوا بھرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔”
یو این آئی ایف اے
جموں و کشمیر
معروف کشمیری مصنف سروا نند کول ‘پریمی’، ان کے چھوٹے بیٹے ویریندر کول کے قتل کیس میں جموں و کشمیر میں نو مقامات پر چھاپے
سرینگر، جموں و کشمیر کی اسٹیٹ انویسٹی گیشن ایجنسی (ایس آئی اے) نے بدھ کے روز معروف کشمیری شاعر و مصنف سروا نند کول ‘پریمی’ اور ان کے چھوٹے بیٹے ویریندر کول کے 1990 میں ہونے والے قتل کے سلسلے میں جموں و کشمیر میں نو مقامات پر چھاپے مارے۔
حکام نے بتایا کہ یہ تلاشی ضلع اننت ناگ کے ڈورو تھانے میں درج ایف آئی آر کے تحت لی گئی۔ اس کیس کی تحقیقات اب ایس آئی اے کے سپرد کر دی گئی ہیں۔
بدھ کے روز چلائے گئے اس آپریشن کے دوران تلاشی والے مقامات، برآمد شدہ مواد یا ثبوتوں کے حوالے سے تفصیلی معلومات کا ابھی انتظار ہے۔
مسٹر پریمی (65) اور ان کے بیٹے ویریندر (27) کو مئی 1990 میں جنوبی کشمیر کے ضلع اننت ناگ میں واقع ان کے آبائی گاؤں میں دہشت گردوں نے قتل کر دیا تھا۔ اس واقعے کے ایک ہفتے کے اندر ہی کول خاندان نے کشمیر چھوڑ دیا تھا۔
مسٹر پریمی ایک معروف شاعر، مصنف اور مترجم تھے، جنہوں نے تین درجن سے زائد کتابیں تصنیف کی تھیں۔ ان کی اہم ادبی تخلیقات میں ‘بھگود گیتا’ کا اردو میں، ‘رامائن’ کا کشمیری میں اور ربندر ناتھ ٹیگور کی ‘گیتانجلی‘ کا ترجمہ شامل ہے۔
یہ تازہ چھاپے ایس آئی اے کی جانب سے 1990 میں کشمیری پنڈت نرس سرلا بھٹ کے قتل سے جڑے ایک اور طویل عرصے سے زیر التواء کیس میں چارج شیٹ داخل کرنے کے ایک ماہ سے زائد عرصے بعد سامنے آئے ہیں۔
ایجنسی نے 29 جون کو سرینگر کی ایک خصوصی عدالت کے سامنے 737 صفحات پر مشتمل چارج شیٹ پیش کی تھی، جس میں محترمہ سرلا بھٹ کے اغوا اور قتل کے کیس میں جیل میں بند محمد یاسین ملک سمیت جموں کشمیر لبریشن فرنٹ (جے کے ایل ایف) کے پانچ کارندوں کے نام شامل ہیں۔ ملزمان میں سے تین کی موت ہو چکی ہے، جبکہ خورشید احمد چالکو فرار ہے اور اس کے پاکستان بھاگ جانے کا اندیشہ ہے۔
ایس آئی اے نے کشمیر میں دہشت گردی کے ابتدائی دور کے پرانے مقدمات کی تحقیقات کی کوششوں کے تحت سرلا بھٹ کیس کو دوبارہ کھولا تھا۔
یواین آئی۔الف الف
-
دنیا2 days agoایران کا فی الحال امریکہ کے ساتھ کوئی مذاکرات نہیں: ایرانی وزیر خارجہ
-
ہندوستان2 days agoطلبہ پر کارروائی کے معاملے پر حکومت کو گھیرتے ہوئے راہل کا مضمون، کھڑگے اور پرینکا نے حمایت کی
-
دنیا2 days agoسعودی عرب میں فیکٹری میں آگ کے سبب 16 بنگلہ دیشی مزدور ہلاک
-
دنیا2 days agoٹرمپ جوہری معاہدے کے بغیر ایران کے ساتھ تنازع ختم کرنے پر تیار: رپورٹ
-
دنیا21 hours agoایران نے خود کو ایک ‘ناقابل تسخیر طاقت’ ثابت کیا ہے: عراقچی
-
دنیا21 hours agoشام کے سابق صدر بشار الاسد کو سزائے موت سنادی گئی
-
جموں و کشمیر21 hours agoیومِ آزادی سے قبل جموں و کشمیر پولیس نے سرحدی سامبا میں طویل فاصلے کی گشت اور فرضی انسدادِ دہشت گردی مشق کی
-
دنیا1 day agoیمن میں حوثیوں کے المخا اور مارب پر بیلسٹک میزائل حملے
-
دنیا19 hours agoموساد کے سابق سربراہ کا انکشاف، ماضی میں ایران کی فردو جوہری تنصیب کا کئی بار دورہ کیا
-
دنیا1 day agoٹرمپ کا ایران سے معاوضے کا مطالبہ، آبنائے ہرمز پر مذاکرات جاری
-
دنیا1 day agoایران اور عمان کے درمیان آبنائے ہرمز پر مذاکرات جاری
-
ہندوستان23 hours agoپارلیمنٹ کے احاطے میں اپوزیشن ارکانِ پارلیمنٹ کا احتجاج
