پاکستان
فیصلہ سازوں کو ملک کی فکر نہیں، خفیہ اداروں کو پی ٹی آئی ختم کرنے پر لگا دیا گیا: عمران خان کا دعوی
اسلام آباد، سابق وزیر اعظم اور پاکستان تحریک انصا ف (پی ٹی آئی) کے بانی عمران خان نے دعوی کیا ہے کہ فیصلہ سازوں کو ملک کی فکر نہیں، خفیہ اداروں کو ہماری جماعت ختم کرنے پر لگا دیا گیا ہے اڈیالہ جیل راولپنڈی میں اپنے اور اہلیہ بشریٰ بی بی کے خلاف 190 ملین پاؤنڈ ریفرنس کی سماعت کے بعد صحافیوں سے غیر رسمی گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ملک میں صوبائیت کا بہت بڑا خطرہ ہے، بلوچستان دہشت گردی پر پنجاب میں احتجاج کروایا گیا۔
ان کا کہنا تھا کہ سیاسی جماعتیں عوام کو اکٹھا کر سکتی ہیں، فوج نہیں، اگر ایسا ہوتا تو مشرقی پاکستان نہ ٹوٹتا، پی ٹی آئی ملک کی واحد جماعت ہے جو چاروں صوبوں میں موجود ہے، ہم عوام کو متحد کر سکتے ہیں، فیڈرل پارٹی صرف پاکستان تحریک انصاف ہے، باقی ریجنل پارٹیاں ہیں، مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی اگر بوٹ کو عزت نہ دیں تو ختم ہو جائیں۔
عمران خان نے کہا کہ جو یہ فیصلے کر رہے ہیں انہیں ملک کی فکر نہیں، مجھے ملک کے لیے جو سب سے بڑا چیلنج نظر ارہا ہے وہ معیشت ہے، پہلے سنا تھا 50 سال میں سب سے کم سرمایہ کاری ملک میں آئی، اب پتا چلا ہے کہ اس سال تاریخ کی سب سے کم سرمایہ کاری ملک میں آئی۔
سابق وزیر اعظم نے کہا کہ حکمران پہلے ہم پر ڈال رہے تھے کہ دہشت گردی ہمارے سیٹلمنٹ پلان کی وجہ سے ہو رہی ہے، اب کہہ رہے کہ سرحد پار سے دہشت گردی ہو رہی ہے، کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) دہشت، کچے کی دہشت گردی، بلوچستان میں دہشت گردی اور بڑھتے جرائم میں کون ملک میں سرمایہ کاری کرے گا۔
عمران خان کا کہنا تھا کہ ملکی امدن نہیں ہے قرض بڑھ رہے ہیں ملک تباہی کی جانب جا رہا ہے، دوسری جانب دہشت گردی بڑھ رہی ہے، بلوچستان کے جو اس وقت حالات ہیں ہماری کوشش ہونی چاہیے بلوچوں کو ساتھ لے کر چلیں۔
بانی پی ٹی آئی نے کہا کہ فراڈ الیکشن کی وجہ سے ہم سیاسی عدم استحکام کا شکار ہیں، خفیہ اداروں کو پی ٹی ائی ختم کرنے پر لگا دیا گیا ہے، جو یہ فیصلے کر رہے ہیں، انہیں ملک کی فکر نہیں۔
انہوں نے کہا کہ اسلام آباد جلسہ ملتوی کرنے پر کارکنان میں غصہ ہے، برا بھلا کہہ رہے ہیں، ملک کی واحد فیڈرل پارٹی کو کمزور کیا جا رہا ہے، باقی جماعتیں جلسے کر رہی ہیں ہمیں ایک بھی جلسہ نہیں کرنے دیا جا رہا، دینی جماعتوں کے احتجاج اور کرکٹ میچ کی وجہ سے جلسہ ملتوی کیا، ملک میں انتشار نہ پھیلے یہ سوچ کر جلسہ ملتوی کیا۔
بانی پی ٹی آئی نے کہا کہ پارٹی میں لڑائی ختم نہیں ہو رہی ہے، برے وقت میں جو پارٹی چھوڑ کر گئے، ان کے لیے پی ٹی آئی میں کوئی جگہ نہیں ہے۔ان کا کہنا تھا کہ مجھے پتا ہے برے وقت میں کون سے لوگ چھوڑ کر گئے، بہت کم ایسے لوگ ہیں جنہوں نے بہت مشکل وقت میں پارٹی کو مجبوری میں چھوڑا، جو اچھے وقت میں فل ٹائم چارلز تھے، برے وقت میں پارٹی چھوڑ گئے، ان کے لیے ہمارے پاس کوئی جگہ نہیں۔
عمران خان نے کہا کہ میں کسی کا نام نہیں لیتا جو سیدھا سادا پارٹی کو چھوڑ کر گئے ہیں ان کو واپس نہیں لوں گا، جنہوں نے مشکل وقت گزارا اور پارٹی کے ساتھ کھڑے رہے، وہ تسلی رکھیں، وہ تمام لوگ جو سخت حالات میں انڈر گراؤنڈ چلے گئے سختیاں اور تشدد برداشت کیا ان کیلئے بہتر فیصلہ ہو گا۔
میڈیا ٹاک کے دوران صحافیوں کے سوال کر نے پر ڈپٹی سپرٹینڈنٹ جیل نے میڈیا نمائندوں کو سوال کرنے سے روکا، بانی پی ٹی آئی کے ڈپٹی سپرٹینڈنٹ کو منع کرنے کے باوجود جیل انتظامیہ نے صحافیوں کو سوالات کی اجازت نہ دی، ڈپٹی سپرٹینڈنٹ نے بانی پی ٹی آئی کو جواب دیا کہ عدالتی حکم ہے کہ آپ پریس کانفرنس اور میڈیا سوال نہیں کر سکتے، جس پر عمران خان نے کہا کہ فیئر ٹرائل میرا حق ہے اور یہاں فیئر ٹرائل کی دھجیاں اڑائی جارہی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ جتنے حالات خراب ہو رہے ہیں، اتنی سختیاں بڑھائی جارہی ہیں، پارٹی لیڈرز اور وکلا سے ملنے نہیں دیا جاتا، تیسرا ہفتہ ہے بچوں سے بھی فون پر بات نہیں کروائی جارہی۔
یو این آئی۔ ع ا۔
پاکستان
پاکستان اور ترکی سعودی عرب کی حوثیوں کے خلاف جنگ میں شمولیت کے قریب
اسلام آباد، سعودی عرب کی جانب سے فوری اجلاس کی درخواست کے بعد پاکستان اور ترکی کے اعلیٰ فوجی سربراہان ریاض پہنچنے کی تیاری کر رہے ہیں۔ یہ پیش رفت یمن میں حوثیوں کے خلاف جاری جنگ کے سعودی سرزمین تک پھیلنے کے درمیان ہوئی ہے، تاہم دونوں ممالک اب بھی اپنی ممکنہ فوجی شمولیت کی حد کے معاملے میں محتاط ہیں۔
ترک وزارت دفاع نے جمعہ کو تصدیق کی کہ چیف آف جنرل اسٹاف جنرل سلجوق بایراکتار اوغلو سعودی عرب کا دورہ کریں گے۔ پاکستان کے چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل عاصم منیر کے بھی جلد ریاض پہنچنے کی توقع ہے، تاہم پاکستانی فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) نے ان کی روانگی کی تصدیق نہیں کی۔
یہ پیش رفت سعودی عرب کی جانب سے ترکی اور پاکستان سے فوجی سربراہان کا اجلاس بلانے کی درخواست کے بعد سامنے آئی ہے۔ سعودی سرزمین پر کئی ہفتوں سے حوثی ملیشیا کے میزائل اور ڈرون حملے جاری ہیں۔
الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق حوثیوں نے جمعرات کو سعودی اہداف پر درجنوں میزائل اور ڈرون داغنے کا دعویٰ کیا، جن میں ریاض میں ایک ‘حساس ہدف’ اور ینبع میں سعودی آرامکو کی تنصیبات کو نشانہ بنانے کا دعویٰ بھی شامل ہے۔ سعودی حکام کے مطابق فضائی دفاعی نظام نے طائف اور ینبع کی جانب آنے والے چھ بیلسٹک میزائلوں کو مار گرایا، جبکہ مکہ، جدہ اور ینبع کے لیے ہنگامی انتباہات جاری کیے گئے۔
7 اگست کو طے پانے والے مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے کے تحت سعودی عرب، ترکی یا پاکستان میں سے کسی ایک پر حملہ تینوں ممالک پر حملہ تصور کیا جائے گا۔
تینوں ممالک کے فوجی سربراہان کے اجلاس کا اعلان 24 ستمبر کو نیویارک میں سعودی وزیر خارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان، پاکستان کے نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار اور ترک وزیر خارجہ حاقان فیدان کی ملاقات کے بعد کیا گیا۔
سعودی وزارت خارجہ کے مطابق اجلاس میں دفاعی معاہدے کے تحت سعودی عرب کی حمایت کے طریقوں پر غور کے لیے فوجی سربراہان کی فوری ملاقات کی تیاریوں پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ سعودی عرب نے مکہ اور شہری و اقتصادی تنصیبات پر حملوں کی مذمت کرتے ہوئے اقوام متحدہ کے چارٹر کی دفعہ 51 کے تحت اپنے دفاع کے حق پر زور دیا۔
تاہم پاکستان نے اسی ملاقات کے بارے میں نسبتاً محتاط مؤقف اختیار کیا۔ اسحاق ڈار نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ‘ایکس’ پر کہا کہ مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے کے تحت معاہدے کے ادارہ جاتی ڈھانچے کے قیام کی پیش رفت کا جائزہ لیا گیا اور علاقائی و بین الاقوامی سلامتی کے معاملات پر تبادلہ خیال ہوا۔
ترکی نے بھی نیویارک ملاقات کو معاہدے کو ادارہ جاتی شکل دینے کے لیے جاری ‘تکنیکی مذاکرات’ کا جائزہ قرار دیا۔
اس کے برعکس ترک وزیر خارجہ حاقان فیدان نے چند روز قبل ایک ٹی وی انٹرویو میں کہا تھا کہ دونوں ممالک کا معاہدہ ‘اتحادی عزم’ پر مشتمل ہے اور ترکی اپنے وعدے پر قائم رہے گا۔ ان کے مطابق سعودی عرب کو بعض تکنیکی شعبوں میں فوجی مدد کی ضرورت ہو سکتی ہے اور ترکی کو اسے پورا کرنے میں کوئی مسئلہ نہیں ہوگا۔
تجزیہ کاروں کے مطابق دونوں ممالک کا محتاط رویہ حوثیوں کی جانب سے براہ راست دھمکیوں سے بھی منسلک ہو سکتا ہے۔
حوثی سیاسی بیورو کے رکن محمد البخیتی نے رواں ہفتے عراقی ٹی وی کو بتایا کہ اگر پاکستان اور ترکی جنگ میں داخل ہوئے تو انہیں ‘آہنی مٹھی’ کا سامنا کرنا پڑے گا۔
اسلام آباد کے انسٹی ٹیوٹ آف پالیسی اسٹڈیز کے سینئر ایسوسی ایٹ اور ریٹائرڈ بریگیڈیئر تغرل یامین نے کہا کہ معاہدے کے دونوں فریقوں کو عملی مشکلات کا سامنا ہے۔ ان کے مطابق پاکستان کی فوج اندرونی و بیرونی خطرات کے باعث پہلے ہی کئی محاذوں پر مصروف ہے، جبکہ ترکی کے لیے بھی سعودی عرب میں فوج بھیجنے کا فیصلہ آسان نہیں ہوگا کیونکہ اسے نیٹو سے متعلق ذمہ داریوں اور شام کے ساتھ اپنی سرحدی صورتحال کو بھی دیکھنا ہے۔
جاری۔ یو این آئی۔ ع ا۔
پاکستان
عمران خان کی رہائی کے مطالبے پر مظاہرے سے قبل اسلام آباد کی سڑکیں سیل
اسلام آباد، پاکستان میں انتظامیہ نے جیل میں بند سابق وزیر اعظم عمران خان کی رہائی کے مطالبے پر مجوزہ مظاہرے سے قبل دارالحکومت اسلام آباد میں داخل ہونے والی اہم سڑکوں کو بند کرنا شروع کر دیا ہے۔
اسلام آباد پولیس نے بدھ کو بتایا کہ اسلام آباد-پشاور موٹروے، اسلام آباد-ڈیرہ اسماعیل خان موٹروے اور گرینڈ ٹرنک روڈ کو بدھ کی شام سے متعدد مقامات پر بند کیا جائے گا۔ پولیس نے لوگوں سے اپیل کی ہے کہ وہ اسی کے مطابق اپنے سفر کا منصوبہ بنائیں۔
پاکستانی مقامی میڈیا کے مطابق، سڑکوں کی بندش غیر معینہ مدت کے لیے ہے اور اس کا مقصد عمران خان کی پارٹی پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے حامیوں کو 27 ستمبر کو دارالحکومت کی جانب مارچ کرنے سے روکنا ہے۔
عمران خان اگست 2023 سے جیل میں ہیں۔ انہیں متعدد مقدمات میں قصوروار قرار دیا گیا تھا، تاہم ان کی پارٹی نے ان مقدمات کو سیاسی بنیادوں پر قائم قرار دیا ہے۔ ان میں سے زیادہ تر مقدمات میں بعد میں اپیل کے دوران سزائیں معطل یا فیصلے منسوخ کیے جا چکے ہیں۔
عمران خان کی صحت، بالخصوص ان کی دائیں آنکھ کی حالت پر بھی تشویش کا اظہار کیا جا رہا ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ ان کی آنکھ کے علاج کے لیے کئی ماہ سے ماہر طبی نگہداشت کی ضرورت ہے۔ پی ٹی آئی نے ان کی رہائی کے لیے اپنی مہم تیز کر دی ہے۔
مجوزہ مارچ میں شرکا کی پاکستان کے سب سے بڑے شہر کراچی سے تقریباً 1,150 کلومیٹر اور لاہور سے تقریباً 270 کلومیٹر کا فاصلہ طے کرکے اسلام آباد پہنچنے کی منصوبہ بندی تھی۔
مقامی میڈیا کے مطابق، حکام نے دارالحکومت اور شمال مغربی صوبہ خیبر پختونخوا سے آنے والے اہم راستے اٹک پل پر تقریباً 2,000 مال بردار کنٹینر تعینات کیے ہیں۔ خیبر پختونخوا اور پنجاب کے درمیان ایک اور اہم راستے ہارون پل پر بھی کنٹینر اور ریت کی بوریاں رکھی گئی ہیں۔ ضلع اٹک میں تقریباً 30,000 سکیورٹی اہلکار تعینات کیے گئے ہیں۔
وزیر داخلہ محسن نقوی نے پیر کو پی ٹی آئی کو مظاہرے کے خلاف خبردار کیا تھا۔ انہوں نے کہا تھا کہ ایسے اقدامات سے کوئی مقصد حاصل نہیں کیا جا سکتا اور پارٹی کو مظاہرے سے قبل اپنی حکمت عملی پر نظر ثانی کرنی چاہیے۔
دریں اثنا، ایک اور اپوزیشن جماعت جماعت اسلامی نے ایندھن کی بلند قیمتوں کے خلاف اتوار کو کراچی سے اسلام آباد کے لیے اپنا مارچ شروع کیا تھا۔ پارٹی کے سربراہ حافظ نعیم الرحمن نے روانگی سے قبل کہا تھا کہ اگر حکومت پٹرولیم مصنوعات پر فی لیٹر 100 پاکستانی روپے سے زائد کا لیوی واپس نہیں لیتی تو یہ تحریک حکومت ہٹانے کی مہم میں تبدیل ہو سکتی ہے۔
پنجاب کے شہر ملتان پہنچنے کے بعد نعیم الرحمن نے منگل کو کہا کہ وزیر اعظم شہباز شریف کی درخواست پر مارچ ملتوی کیا جائے گا۔ اس معاملے پر دونوں رہنماؤں کے درمیان ملاقات بھی مجوزہ ہے۔
اسی دوران پولیس نے اتوار کو عمران خان کی بہن علیمہ خان کو لاہور میں واقع ان کی رہائش گاہ سے امن عامہ سے متعلق قانون کے تحت گرفتار کر لیا۔ ان کی دو دیگر بہنوں، عظمیٰ خان اور نورین نیازی سمیت کئی دیگر رشتہ داروں کو بھی گرفتار کیا گیا ہے۔
یو این آئی۔ ع ا۔
پاکستان
سنگین ایندھن قلت کی صورت میں پاکستان میں پٹرول کی قیمت 1000 پاکستانی روپے فی لیٹر تک پہنچنے کا اندیشہ
اسلام آباد، پاکستان میں پٹرول کی قیمت سنگین ایندھن قلت کی صورت میں 1000 پاکستانی روپے (3.61 امریکی ڈالر) فی لیٹر تک پہنچ سکتی ہے۔ پٹرولیم کے وزیر علی پرویز ملک نے اتوار کو یہ بات کہی۔ عالمی سطح پر خام تیل کی بڑھتی قیمتوں کے باعث ملکی مارکیٹ پر دباؤ برقرار ہے۔
ڈالر کے مقابلے میں پاکستانی روپے کی قیمت حالیہ درمیانی مارکیٹ شرح تقریباً 277.2 پاکستانی روپے فی ایک ڈالر کی بنیاد پر یہ حساب کیا گیا ہے۔
وزیر کی جانب سے پیش کیے گئے اعداد و شمار کے مطابق، پاکستان میں اس وقت پٹرول تقریباً 389.14 پاکستانی روپے (1.40 ڈالر) فی لیٹر جبکہ ڈیزل تقریباً 424 پاکستانی روپے (1.53 ڈالر) فی لیٹر فروخت ہو رہا ہے۔
ملک نے کہا کہ پٹرول کی قیمت پہلے ہی تقریباً 50 فیصد بڑھ چکی ہے اور خبردار کیا کہ اگر سپلائی مزید محدود ہوئی تو قیمتوں میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے۔
یہ اضافہ مغربی ایشیا میں جاری تنازع کے درمیان ہوا ہے، جس کے باعث عالمی سطح پر خام تیل کی قیمتوں میں اضافہ ہوا ہے۔
28 فروری کو تنازع شروع ہونے کے وقت پاکستان میں پٹرول کی قیمت تقریباً 258.17 پاکستانی روپے (0.93 ڈالر) فی لیٹر تھی۔ اس کے بعد قیمت میں تقریباً 131 پاکستانی روپے، یعنی تقریباً 51 فیصد اضافہ ہو چکا ہے۔
ایندھن کی بڑھتی قیمتوں کے پیش نظر حکومت نے موٹر سائیکل، رکشہ اور 800 سی سی تک کے انجن والی کاریں استعمال کرنے والوں کے لیے سبسڈی اسکیم شروع کی ہے۔
اس پروگرام کے تحت اہل صارفین کو فی لیٹر 100 پاکستانی روپے (0.36 ڈالر) تک کی سبسڈی دی جا سکتی ہے۔ ہر رجسٹرڈ مستحق کو ماہانہ چار ٹوکن دیے جانے ہیں اور ہر ٹوکن کے ساتھ 500 پاکستانی روپے (1.80 ڈالر) کی سبسڈی منسلک ہے۔
حکومت کے مطابق، اس اسکیم کے لیے 17.5 لاکھ سے زیادہ افراد رجسٹریشن کرا چکے ہیں۔
تقریباً 15 لاکھ ٹوکن جاری کیے جا چکے ہیں، جن میں سے 6.80 لاکھ سے زیادہ استعمال بھی کیے جا چکے ہیں۔
حکومت مقامی سطح پر تیل کی پیداوار بڑھانے کی بھی کوشش کر رہی ہے۔ ملک نے کہا کہ تیل کے کنوؤں پر کام شروع ہو چکا ہے اور مقامی طور پر پیدا ہونے والا خام تیل ممکنہ طور پر اکتوبر تک دستیاب ہو سکتا ہے۔
تنازع شروع ہونے کے فوراً بعد پٹرول کی قیمتوں میں اضافہ شروع ہو گیا تھا۔ یکم مارچ کو پٹرول کی قیمت 266.17 پاکستانی روپے (0.96 ڈالر) فی لیٹر تھی، جو 7 مارچ تک بڑھ کر 321.17 پاکستانی روپے (1.16 ڈالر) ہو گئی۔
سب سے بڑا اضافہ اپریل کے اوائل میں ہوا۔ حکومت کی جانب سے قیمت میں 4 فیصد سے زیادہ اضافہ کیے جانے کے بعد 3 اپریل کو پٹرول کی قیمت 458.41 پاکستانی روپے (1.65 ڈالر) فی لیٹر تک پہنچ گئی۔بعد میں عالمی خام تیل کی قیمتوں میں کمی کے باعث پٹرول کی قیمت بھی کم ہوئی اور 20 جون کو یہ 299.50 پاکستانی روپے (1.08 ڈالر) فی لیٹر تک آ گئی۔ 19 ستمبر تک پٹرول کی موجودہ قیمت 389.14 پاکستانی روپے (1.40 ڈالر) فی لیٹر ہے۔
آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی (اوگرا) نے کہا کہ قیمتوں میں تازہ ترین ردوبدل عالمی مارکیٹ کی قیمتوں، پریمیم اور قیمتوں کے تعین کے دیگر عوامل کی بنیاد پر کیا گیا ہے۔
پاکستان عالمی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ سے خاص طور پر متاثر ہوتا ہے کیونکہ وہ درآمد شدہ ریفائنڈ ایندھن پر انحصار کرتا ہے۔
مالی سال 2025-26 میں، جو جولائی 2025 سے جون 2026 تک جاری رہا، پاکستان نے موٹر اسپرٹ یعنی پٹرول کی 53.5 لاکھ ٹن مقدار درآمد کی۔
اسی مدت کے دوران ملکی ریفائنریوں نے تقریباً 26.3 لاکھ ٹن پٹرول فراہم کیا، جبکہ آئل مارکیٹنگ کمپنیوں نے تقریباً 76.8 لاکھ ٹن پٹرول فروخت کیا۔
درآمدات آئل مارکیٹنگ کمپنیوں کی پٹرول فروخت کا تقریباً 69.7 فیصد تھیں۔ تاہم، یہ اعداد و شمار سپلائی چین کے مختلف مراحل پر ناپے گئے ہیں اور انہیں مجموعی سپلائی کی 100 فیصد تقسیم تصور نہیں کیا جانا چاہیے۔
یو این آئی۔ ع ا۔
-
جموں و کشمیر1 week agoگوریز میں مجوزہ ’تنتر سائلنس‘ ریٹریٹ پر تنازع
-
دنیا1 week agoجنوبی کوریا کا آبنائے ہرمز میں جنگی کردار سنبھالنے سے انکار ، جنگی مقاصد کی تعنیاتی نہیں ہو گی
-
جموں و کشمیر1 week agoاپوزیشن لیڈر سنیل شرما کا جموں و کشمیر اسمبلی تحلیل کرنے کا مطالبہ
-
دنیا1 week agoباب المندب سے بحری جہازوں کی محفوظ آمدورفت کے لیے اٹلی جنگی بحری جہاز تعینات کرے گا
-
دنیا1 week agoایران میں جنگ چھڑنے کے بعد حکومت کے حق میں بڑی ترین ریلی، لاکھوں ایرانی شہری یکجا ہوئے
-
دنیا1 week agoامریکی ویزا سے انکار کے بعد اقوام متحدہ نے فلسطینی صدر عباس کو ویڈیو خطاب کی اجازت دی
-
دنیا1 week agoامریکہ کی سعودی عرب کو 48 ایف-35 طیارے فروخت کرنے کی ممکنہ منظوری
-
دنیا5 days agoمیں پورے ایران کو ہوا میں اڑا سکتا ہوں:ٹرمپ
-
جموں و کشمیر1 week agoہائی کورٹ نے معزول حضرت بل امام کی عرضی پر نوٹس جاری کیا، 2024 کی عرضداشت پر غور کی ہدایت
-
دنیا7 days agoایرانی وزیر خارجہ عراقچی کا بین الاقوامی قانون کے بلاامتیاز نفاذ پر زور
-
جموں و کشمیر1 week agoجموں میں سالگرہ کی تقریب کے دوران 35 سالہ شخص قتل، 2 گرفتار
-
جموں و کشمیر1 week agoنو قائم شدہ جے کے فور سی متاثرین پر مرکوز طریقہ کار اختیار کرے گا
