تازہ ترین
قتل کا بازار گرم ہے؛ آواز دو “انصاف” کہاں ہے؟
حافظ محمد ہاشم قادری مصباحی
*قتل کا بازار گرم ہے- آواز دو “انصاف” کہاں؟؟؟…ہے
اللہ رب ا لعز ت نے دنیا تخلیق فر مائی اور انسانوں کو اشرف ا لمخلو قات کا شرف بخشااور علم و دماغ جیسی نعمت بھی عطا فر مائی(یہ رب کریم کا احسان عظیم ہے) علم اور دماغ سے انسان نے ترقی کی سیڑ ھی یاں طے کرتے کرتے مریخ کا سفر،چاند پر کمند اور ان گنت نئی نئی ایجاد کرتے جا رہا ہے جس میں فائدے اور نقصانات کی ایجاد بھی شامل ہے۔ جہاں آرام دہ اورتیز رفتارسفر کے لئے ہوائی جہاز بنائے، وہیں اویکس (Ovix)میراج29 اور ڈرون(Drone) جیسے حملہ آور بمبار طیار ے بھی بنا کر انسانیت پر ظلم کے پہاڑ گرا کر ساری حدیں پار کر دی ہیں، ایک رپورٹ کے مطابق اس وقت دنیا میں مہلک ہتھیا روں کی اتنی مقدار(Quantity) مو جود ہے کہ پوری دنیا 29بار ان ہتھیا روں سے نیست ونا بود ہو سکتی ہے،اس میں روز بروز اضا فہ ہی ہو رہا ہے اللہ رب ا لعزت نے انسانوں کو زینہ بزینہ ترقی دینے کا وعدہ فر مایا۔(القرآن، سورہ نحل16،آیت8) تر جمہ: اسی نے گھوڑے اور خچر پیدا کئے تاکہ تم ان پر سوار ہو اور وہ تمھاری رونق بنیں۔ وہ اور بہت سی چیزیں (تمھارے فائدے کے لیے) پیدا کرتا ہے جن کا تمھیں علم تک نہیں ہے۔ رب تبارک و تعا لیٰ نے انسانوں کو بتد ریج، رفتہ رفتہ، زینہ بزینہ، در جہ بدر جہ، ترقی دینے کا وعدہ فر مایا اللہ ہی کی دی ہو ئی نعمت علم وعقل سے انسان نے ایسی ایجادات کی ہیں جن سے فائدے ہیں لیکن یقینا اس میں بے شمار نقصا نات بھی ہیں۔
*موب لنچیینگ کے بڑھتے واقعات ذمہ دار حکومت اور سوشل میڈیا*: دور جدید کی حیرت انگیز ایجاد مو بائل ہے جو کہ موجودہ زمانہ کی ناگزیر چیز بن گئی ہے امیر، غریب،بچہ، جوان، بوڑھا، کسان سے لے کر پائلٹ تک اس کا گر ویدہ بلکہ صحیح بات تو یہ ہے کہ اس کا غلام بن گیا ہے، نو جوان نسل کی بر بادی میں اس کا بہت بڑا حصہ ہے جدید مواصلاتی نظام نے جہاں انقلاب بر پا کیا ہے وہیں سیکڑوں مسائل بھی پیدا کر دیئے ہیں جن کا حل ڈھونڈنا انتہائی ضرو ری ہے اگر ان مسائل کا حل ڈھونڈھانہ گیا تو آگے اور زیادہ تباہی آئے گی اور اس سے کوئی بھی نہیں بچے گا۔آج واٹس ایپ، انسٹا گرام، یو ٹیوب، ٹیلیگرام وغیرہ وغیرہ کے ذریعہ جہاں اپنی بات دوسروں تک جلد پہچانا بہت آسان اور فائدے مند ہے،وہیں یہ ذرائع انسانی موتوں کے بھی ذمہ دار ہیں اسی سے حضرت انسان جو اشرف المخلوق ہے وہ قدم قدم پر لمحہ بہ لمحہ جھوٹی خبریں گندی چیزیں پھیلا رہا ہے، اسی میں موب لنچنگ جیسا خطر ناک معا ملہ ہے اس میں حکو مت کی بھی شہ ہے جب سے سنٹرل اور صوبوں میں بی جی پی کی حکو متیں بنی ہیں پورے ملک میں اقلیتوں پر طرح طرح کے بہانوں سے حملہ کرکے جا ن سے مار دینا ایک فیشن بن گیا ہے ڈھٹا ئی،بے شر می، بے خوفی،ہٹ دھر می کا یہ حال ہے کہ مار نے کے بعد خود مجرمین ویڈیو بناکرسوشل میڈیا پر جاری کرتے ہیں تاکہ پورے بھارت کو ڈرا یا جاسکے۔ ان کو یہ زعم پیدا ہو گیا ہے ”سیاں بھئے کوتوال تو ڈر کا ہے کا“قا نون کے رکھ والے ان کے چہیتے ہیں ان کا کوئی کچھ نہیں بگاڑ سکتا ہے گائے کے نام پر، بچہ چوری کے نام پر،ٹرینوں میں سیٹ کے جھگڑے میں طرح سے مسلمانوں کو مارا جا رہا ہے ابتک موب لنچنگ (بھیڑ کے ذریعہ جان مارنا)میں 149 سے زیادہ موتیں ہو چکی ہیں جس میں 80 فیصد مسلمان ہیں۔
*جھاڑکھنڈ اور ہریانہ موب لنچیینگ کا گڑھ*
یوں تو پورے ہندوستان میں ہجومی قتل Mob-lynching کا گراف بڑھتا جا رہا ہے والیکن جھاڑکھنڈ اسکا گڑھ بنا ہوا ہے 2016, سے لیکر اب تک 19 لوگ مارے گئے ہیں جن میں 3 دلت ہندو ہیں اور 16 مسلمان شہید ہوئے ہیں،ابھی حالیہ واقعہ 17 جون کو سراہے کیلا کھر ساواں ضلع، سینی تھانہ،کے تحت دھتکیڈیہ گائوں میں تبریز انصاری نامی شخص کو جو کدم ڈیہ گا ئوں سینی تھا نہ،ضلع سرائے کیلا کھر ساواں کا رہنے والا تھا پکڑ کر گائوں والوں نے اور بی جے پی کے “مشہور نیتا پپو منڈل” نے17, گھنٹے مار مار برا حال کر دیا-
اس بیچ اس سے مذہبی نعرے جے شری رام،جے بجرنگ بلی کے نعرے بھی لگوائے اس بیچارے نے مجبوری میں نعرے بھی لگائے لیکن ظالموں نے اس کے بعد اسے پیٹنے کا سلسلہ جاری رکھا،ظلم کی ساری حدیں پار کردیںن ۔۔۔۔ گائوں والوں کی اطلاع پر صبح سینی opپولیس دھتکیڈیہ پہنچی ،دہشت گردوں،ظالموں کی پیٹائی سے بری طرح گھا ئل *تبریز انصاری* کو حراست میں لیکر بغیر علاج کروائے ڈائریکٹ جیل بھیج دیا،22 جون کو جیل میں اس کی حالت تشویشناک ناک حد تک خراب بہت ہو گئی اس کے بعد جیل پرشاسن نے علاج کے لیے صدر اسپتال بھیجا جہاں ڈاکٹروں نے اسے مردہ (مرا ہوا) ہونے کا اعلان کر دیا-
لیکن رشتے داروں نے اس کے کراہ نے اور منھ سے جھاگ نکلتے دیکھ کر اس کے زندہ ہونے کی بات کہی اور اسپتال میں ہنگامہ شروع کیا ہنگامہ بڑھتے دیکھ کر اور رشتے داروں کے ڈیمانڈ پر ڈاکٹروں نے اسے ٹا ٹا مین ہوسپٹل TMH ریفر کر دیا،راستے میں ٹی ایم ایچ لے جانے میں آدیش بدل دیا گیا کہ گور منٹ ہاسپٹل مہاتما گاندھی ہاسپٹل MGM جمشیدپور لے جا یا جائے جمشیدپور کا راستہ ڈھیڑ گھنٹے کا ہے جس میں 6 گھنٹے لگا دیئے گئے،اور اس بیچ بری طرح سے زخمی تبریز انصاری کی موت ہو گئی- *انا للہ وانا الیہ راجعون* – بیوی کی شکایت پر درج FRI پر تبریز انصاری کی باڈی کو ہوسٹ مارٹم ہاؤس پہنچا دیا گیا بیوی اور رشتے داروں کے احتجاج پر سینی او پی پو لیس آفیسرں و ڈاکٹر کے فٹ لکھنے پر بہت احتجاج کرنے پر بہت مشکل سے بیوی کے بیان پر بی جے پی کے لیڈر “پپو منڈل” اور 100 لوگوں پر مقدمہ درج ہوا،یہ سب حکومت کے ذمے داروں کے ڈھیلے رویے کی وجہ سے ہو رہا ہے اسی وجہ کر ان لو گوں کی ہمت بڑھی ہوئی ہے جو انتہائی افسوس ناک اور فکر مندی کی بات ہے-
*فر قہ پرستوں کی آئی ٹی سیل* جھوٹے مسییج سیکنڈوں میں بناکر وائر ل کر کے بھیڑ جمع کر لیتی ہے اور اب تو با قائدہ اس نے ایک انڈسٹری کی شکل اختیار کرلی ہے اور ساری حدیں پار کردیںن ہیں،
سوشل میڈیانے تو ساری حدیں پار کر دی ہیں کوئی خبر آئی یا پھر غلط خبر ہی کیوں نہ ہو فوراً بھیجنا(Share) کر نا دل و ماغ سے بغیر سوچے سمجھے ایک سکنڈ بھی ضائع کئے بغیر ڈاکیہ کا کام کر نے لگتے ہیں۔واضع رہے ڈاکیئے کا کام ہے جو چیز اسے پہچا نے کے لیے دی جائے وہ اس چیز کو اسی کو دے جسے دینا ہے نہ کہ وہ ساری دنیا کو بانٹتا پھرے کو ئی خبر کوئی اطلاع کسی بھی انسان کے پاس آئی تو سب سے پہلے اطلاع پانے والے انسان کی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ یہ پتہ لگا ئے کی یہ اطلا ع (information) صحیح ہے یا جھوٹ ہے اس کی تحقیق کرے اگر غلط ہے تو سب سے پہلے اطلاع بھیجنے والے سے بات کرے اور سختی سے منع کرے کہ آئندہ قطعی ہم تک جھوٹی باتیں نہ بھیجیں۔حضرت سلیمان علیہ ا لسلام کے پاس جب ان کا پرندہ ھُدْھُدْ جو انکی خد مت پر معمور تھا اطلاع لا یا جس کا ذکر قرآن مجید میں اسطرح ہے۔ ھُدْ ھُدْ پرندہ بھی خبروں کو بیان کر نے میں اصول وضوابط کا پابند تھا چنانچہ اس نے حضرت سلیمان علیہ السلام سے کہا: (القر آن، سورہ نمل27،آیت22) ترجمہ: میں سبا کے متعلق ایک یقینی خبر لایاہوں۔ یہا ں ھُدْ ھُدْ نے یہ نہیں کہا کہ میں نے یہ سنا ہے یا ایسا پڑھا ہے یا مجھے ایسی خبر پہنچی ہے۔ اسی طرح ھُدْ ھُدْ کی خبر کے تئیں حضرت سلیمان علیہ ا لسلام کا موقف بھی آج کے لوگوں یا ہماری طرح نہیں تھا کہ کوئی خبر ملنے کے بعد فورً اسے آگے (Forward) کردیں یا اسے (copy paste) کر نے لگیں بلکہ ھُدْھد کی خبر سننے کے بعد حضرت سلیمان علیہ ا لسلام نے فر مایا:(القرآن،سورہ نمل27،آیت27)سلیمان (علیہ ا لسلام) نے کہا”ابھی ہم دیکھے لیتے ہیں کہ تو نے سچ کہا ہے یا تو جھوٹ بولنے والوں میں سے ہے۔
قر آن کریم سے یہ معلوم ہوا کہ خبر کی تحقیق کرنا اور اس کی سچائی یا جھوٹ کا پتہ لگانا یہ انبیائے کرام کا طریقہ رہا ہے۔ اس لیے ہم کو آپ کو بھی چا ہیے کوئی بھی ایسی خبر ادھر ادھر نہ پھیلائیں جس کی سچائی کا علم اور یقین آپ کو نہ ہو۔ دوسری بات یہ ہے کہ اگر وہ خبر سچ بھی ہے تو اس کی ذمہ داری ہے کہ وہ اس خبر اس پیغام کو دیکھے سمجھے کہ اس پیغام(Massage) کو دوسروں کو پہنچا نا فائدہ مند ہے یا نہیں، کہیں اس خبر سے فتنہ فساد نہ پھیل جائے خوب اچھی طرح سوچے۔سوشل میڈیا میں جو پیغام آتے ہیں اس کے یوزر زیا دہ تر جلد باز ہو تے ہیں ادھر میسیج آیا اور لگے ادھر فاروڈ کرنے سب سے پہلے بھیج کراپنے کو بڑا تیس مار سمجھتے ہیں اور اس کا کر یڈٹ اپنے نام کر نا چاہتے ہیں یہ نہیں سوچتے کہ یہ پیغام آن کے آن سکنڈوں میں تمام دنیا میں پہنچ جا تا ہے اور پھر یہی نہیں جن تک یہ پیغام پہنچتا ہے وہ بھی دوسروں تک پہنچانے میں ذر ادیر نہیں لگا تے دوسروں تک آگے(forward) کر نے میں اور آپ کا بھیجا ہوا پیغام سیکڑوں، ہزا روں لو گوں تک پہنچ جاتا ہے پھر اس جھوٹی خبر سے کتنے مسائل پیدا ہو رہے ہیں کیا کبھی آپ نے سو چا ہے، کتنا گناہ ہو تا ہے معلوم ہے آپ کو ذرا سوچئے،قرآن کریم میں رب ذو الجلال کا فر مان ہے۔ (القر آن، سورہ نمل27،آیت105) تر جمہ: جھوٹ بہتان وہی باندھتے ہیں جو اللہ کی آیتوں پر ایمان نہیں رکھتے اور وہی وہی جھو ٹے ہیں،(کنز الایمان) ایک جگہ ہے لعنۃ اللہ علی الکذ بین۔ جھو ٹوں پر اللہ کی لعنت ہے، جس پر اللہ کی لعنت ہو گی وہ کیسے فلاح پائے گا۔ حدیث پاک ہے۔یحیٰ بن یحیٰ، سلیمان تیمی، ابو عثمان ہدی، کی حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فر مایا: آ دمی کے لیے جھو ٹا ہونے کے لیے اتنا کافی ہے(جس کی بنا پر وہ جھوٹا قرار دیاجاسکتا ہے) کہ ہر سنی ہوئی بات بیان کردے۔(صحیح مسلم،باب ہر سنی ہوئی بات بیان کر نے کی مما نعت،حدیث 9)دوسری حدیث حضرت عبداللہ ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہیکہ آپ نے فر مایا:آدمی کے جھو ٹے ہونے میں یہی کافی ہے کہ وہ ہر سنی ہوئی بات بیان کر دے۔ (صحیح مسلم، حدیث 11،) جھوٹ اتنا بڑا گناہ ہے کہ ربِ ذوالجلال کی اس پر لعنت ہے۔ جھوٹ ایک ایسا متعدی مرض ہے و ائرس(virus) زہریلا مادہ کی طرح تیزی سے پھیلتا ہے جھوٹ بھی سائبر کرائم کی طرح ایک جرم ہے،واٹس ایپ کے جھوٹے میسیجوں نے کتنے معصوموں کی جان لے لی ہے سوشل(social media) کے ذریعہ جھوٹ کو بری طرح سے بڑھا وا مل رہاہے آپ دیکھیں جھوٹے میسیج بھیج کر بھیڑ اکٹھا کرنا ماب لنچنگ، جنو نی بھیڑ کے ذریعہ کہیں بچہ چوری کے نام پر، کہیں گؤ ہتھیا کے بہانے، کہیں گائے کے گوشت کے زیا دہ تر مسلمانوں کو مارا جارہا ہے حکو متیں ٹک ٹک دیدم، دم نہ کشیدم کے مصداق اندھی بہری بنی ہوئی ہیں یہ ظلم و نا انصافی اب ساری حدیں پار کر گئی ہے یہ ہمارے ملک ہندوستان کی گنگا جمنی تہذ یب کو بر باد کر رہی ہے جو سب کے لیے نقصان ہو گا۔حالیہ واقعہ ہا پوڑ ضلع کے پلکھوا علاقے کے بچھیڑا گاؤں میں ایک مسلمان اپنے کھیت میں گھسی گائے کو کھیت سے با ہر کر رہا تھا اور کسی نے فوٹو لیکر واٹس ایپ کر دیا کہ گائے کی تسکری کر رہا ہے آن واحد میں بھیڑ جمع ہو گئی اور قا سم اور اس کے ساتھی کو مار مار کر شدید زخمی کر دیا قاسم کی موت کھیت میں ہی ہوگئی اور دوسرا ساتھی سیریس ہے۔ یہ کوئی پہلا واقعہ نہیں ہے ہندو دہشت گردی کا، ملک کے حالات بہت خراب ہیں۔ *جرائم کا بڑھتا گراف ارباب حکو مت کے لیے چیلنج ہے۔
مو بائل چلانے والوں کو بہت احتیاط اور سوچ سمجھ کر پیغام فار وڈ کر نا چاہیئے کہ اس غلط خبر سے سماج پر کیا اثر ہو گا؟ افسوس کوئی سمجھنے کے لیے تیار نہیں ہے جس کے ہاتھ میں دیکھوموبائل چیٹنگ میں لگا ہے بغیر سوچے سمجھے میسیج بھیجنے میں لگا ہے ضرورت ہے کہ لوگ ایسے فالتو کا سے باز آئیں اور دوسروں کو بھی سنجید گی سے، پیار سے سمجھائیں گناہ بے لذت کی فہرست بہت لمبی ہے جھوٹ پھیلا نا، جھوٹی گواہی دینا، فحش گو ئی، فحش گندی تصویریں دیکھنا یہ سب گناہِ کبیرہ ہیں۔
*حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ نے فر مایا*:
جھوٹ گنا ہوں کی جڑ ہے اور جھوٹ گناہوں کی کھیتی کو ہرا بھرا کر دیتا ہے، اتنے بڑے گناہ کر نے والے کو کیا ملتا ہے؟ کچھ نہیں ایسے ہی گناہ کو بے لذت گناہ کہا جاتا ہے۔۔ *خون کا قطرہ نہ آستین پہ ہے، نہ دھبہ زیر دامن میں*— *آپ کی حر کت سے کسی کی جان گئی آپ کی ادا ٹھری*– موب لنچیینگ پر حکو متوں کے رویے سے ہائی کورٹ اور سپریم کورٹ کی طرف سے کئی بار پھٹکا ر پڑ چکی ہے والیکن حکو متوں کے کان پر جوئیں نہیں رینگ رہی ہے کورٹ نےقا نون بنانے کی ہدایت بھی کی ہے ضروری ہے کہ حکومت ہر شہری کی حفاظت کرے خواہ وہ کسی بھی مذہب کا ہو اللہ ظالموں کی پکڑ فرمائے آ مین ثم آمین۔
رابطہ: (Mob.:09386379632)
نوٹ: مضمون نگار کی رائے سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں.
ہندوستان
اروناچل ہندستان کا اٹوٹ حصہ، سرحد کی صورتحال ہی چین کے ساتھ دوطرفہ تعلقات کی بنیاد:ہندستان
نئی دہلی ہندستان نے اروناچل پردیش کو اپنا ناقابلِ تقسیم اور اٹوٹ حصہ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ چین کے ساتھ اس کے دوطرفہ تعلقات سرحد کی صورتحال پر مبنی ہوں گے اور سرحدی صورتحال کا ان تعلقات پر براہِ راست اثر ہوگا۔
وزارتِ خارجہ کے ترجمان رندھیر جیسوال نے منگل کے روز یہاں میڈیا بریفنگ میں سوالات کے جواب دیتے ہوئے یہ بات کہی۔ دراصل چین کی جانب سے اروناچل پردیش اور اس کے کچھ مقامات کے نام تبدیل کرنے کے ردعمل میں ہندستان نے حال ہی میں اروناچل پردیش کی 27 اہم جگہوں کو سروے آف انڈیا کے نقشے میں سرکاری طور پر نشان زد کر دیا ہے۔ اس پر چین کی طرف سے منفی ردعمل سامنے آیا ہے۔ چین کے اس ردعمل کے بارے میں پوچھے جانے پر مسٹر جیسوال نے کہا کہ اروناچل پردیش ہندستان کا ناقابلِ تقسیم اور اٹوٹ حصہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ ایک مسلمہ حقیقت ہے اور کوئی بھی اس ناقابلِ تردید سچائی کو بدل نہیں سکتا۔
دونوں ممالک کے درمیان سرحد پر صورتحال کے بارے میں پوچھے گئے سوال کے جواب میں ترجمان نے کہا کہ ہندستان سرحد سے جڑے معاملات کو انتہائی سنجیدہ مانتا ہے اور سرحد پر امن و استحکام اس کی ترجیح ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ سرحد کی صورتحال کا ہندستان اور چین کے تعلقات پر براہِ راست اثر پڑے گا۔ ترجمان نے کہا، “ہندستان اور چین کے درمیان سرحدی علاقوں سے جڑے معاملات میں، ہم نے ہمیشہ چین کے ساتھ بات چیت میں اس بات پر زور دیا ہے کہ ہم ان مسائل کو بے حد سنجیدہ مانتے ہیں اور ان علاقوں میں امن و استحکام برقرار رکھنا سب سے زیادہ اہم ہے۔ ہم نے یہ بھی واضح کیا ہے کہ سرحدی معاملات کی صورتحال ہمارے وسیع دوطرفہ تعلقات کی صورتحال کی عکاسی کرے گی۔ اس بات کو 06 اگست کو حال ہی میں منعقدہ ‘ہند-چین سرحدی معاملات پر مشاورت اور ہم آہنگی کے ورکنگ میکانزم’ کی 36ویں میٹنگ میں بھی دہرایا گیا۔ اس میٹنگ میں دونوں فریقوں نے کھلی اور واضح بات چیت کی اورحقیقی کنٹرول لائن (ایل اے سی) پر صورتحال کا جائزہ لیا۔”
مسٹر جیسوال نے کہا کہ میٹنگ میں ہندستان نے اس بات پر زور دیا کہ دوطرفہ تعلقات کی ہمہ گیر ترقی کے لیے سرحدی علاقوں میں امن و استحکام برقرار رکھنا انتہائی ضروری ہے۔ اس بات پر اتفاق ہوا کہ لائن آف ایکچوئل کنٹرول پر غلط فہمی اور غلط اندازوں سے بچنے نیز باقی بچے ہوئے مسائل کو حل کرنے کے لیے ورکنگ میکانزم کی میٹنگوں، مقامی کمانڈر سطح کی میٹنگوں اور دیگر میکانزم سمیت موجودہ سفارتی اور فوجی ذرائع کا استعمال جاری رکھا جائے گا۔
یو این آئی ایف اے
دنیا
موساد کے سابق سربراہ کا انکشاف، ماضی میں ایران کی فردو جوہری تنصیب کا کئی بار دورہ کیا
یروشلم، اسرائیلی خفیہ ایجنسی موساد کے سابق سربراہ یوسی کوہن نے کہا ہے کہ انہوں نے ماضی میں ایران کی فردو یورینیم افزودگی تنصیب کا کئی مرتبہ دورہ کیا تھا، تاہم انہوں نے یہ نہیں بتایا کہ یہ دورے کب کیے گئے اور ان کے ہمراہ کون تھا۔
عبرانی زبان کے میڈیا کے مطابق صفد میں منعقدہ گیلیلی فورم سے خطاب کرتے ہوئے کوہن نے کہا، ’’ہم نے فردو جوہری تنصیب کا کئی بار دورہ کیا تاکہ اس مقام کو سمجھ سکیں۔‘‘
انہوں نے مزید کہا، ’’امریکیوں کی جانب سے اس پر بمباری میرے تمام خوابوں کی تکمیل تھی۔‘‘
فردو کے علاوہ ایران کی اصفہان اور نطنز میں موجود جوہری تنصیبات کو بھی جون 2025 میں ہونے والی 12 روزہ اسرائیل۔ایران جنگ کے دوران امریکی حملوں سے شدید نقصان پہنچا تھا۔
بعد ازاں ایسی رپورٹس سامنے آئی تھیں کہ ان تنصیبات پر موجود تقریباً 440 کلوگرام انتہائی افزودہ یورینیم زمین میں دفن کر دی گئی تھی۔ تاہم اسرائیل نے بعد میں اندازہ لگایا کہ تہران نے اس مواد میں سے کچھ کو ممکنہ طور پر پکیکس ماؤنٹین کے مقام پر منتقل کر دیا تھا۔
کوہن کے مطابق 60 فیصد تک افزودہ یورینیم اب بھی ’’بم بنانے سے بہت دور‘‘ ہے۔ تاہم یہ دعویٰ جوہری ماہرین کی بعض جائزہ رپورٹس سے مختلف ہے۔ جوہری ماہر ڈیوڈ البرائٹ کا کہنا ہے کہ 60 فیصد افزودہ یورینیم کو مزید افزودہ کرکے چند ہفتوں یا حتیٰ کہ چند دنوں میں ہتھیاروں کے درجے کے مواد میں تبدیل کیا جا سکتا ہے۔
کوہن اس سے قبل ایران کے جوہری پروگرام کو نشانہ بنانے والی موساد کی کارروائیوں کے بارے میں بھی کھل کر بات کر چکے ہیں۔ 2021 میں موساد کی سربراہی چھوڑنے کے فوراً بعد ایک غیر معمولی ٹیلی ویژن انٹرویو میں انہوں نے کئی کارروائیوں کی تفصیلات فراہم کی تھیں، جن میں 2018 میں تہران کے ایک گودام سے ایران کے جوہری محفوظ شدہ ریکارڈ چوری کرنے کی کارروائی بھی شامل تھی۔
انہوں نے یہ بھی اشارہ دیا تھا کہ نطنز میں ایران کی زیر زمین سینٹری فیوج تنصیب کے ایک حصے کی تباہی کے پیچھے بھی موساد کا ہاتھ تھا۔ انہوں نے تصدیق کی تھی کہ ایرانی جوہری سائنس دان محسن فخری زادہ کو موساد نے ہی ہلاک کیا تھا اور تہران کو جوہری ہتھیار تیار کرنے کی کوشش سے باز رہنے کی تنبیہ کی تھی۔
چینل 12 کو دیے گئے اس انٹرویو میں موساد کے سابق سربراہ نے ایران کے جوہری بنیادی ڈھانچے سے اپنی واقفیت کا بھی اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ اگر انہیں موقع دیا جائے تو وہ دیان کو نطنز میں زیر زمین موجود اس ’’تہہ خانے‘‘ میں لے جائیں گے جہاں، ان کے بقول، ’’سینٹری فیوجز گھومتے تھے۔‘‘
یو این آئی۔ ع ا۔
جموں و کشمیر
جموں میں آبادیاتی تبدیلیوں سے متعلق پینل کو پناہ گزینوں کی تنظیم نے یادداشت پیش کی
جموں، پی او جے کے سے بے گھر افراد کی تنظیم ایس او ایس انٹرنیشنل کے ایک وفد نے منگل کو یہاں جسٹس پرکاش پربھاکر نولیکر (ریٹائرڈ) کی سربراہی میں آبادیاتی تبدیلیوں سے متعلق پینل کو ایک تفصیلی یادداشت پیش کی۔
ایس او ایس انٹرنیشنل کے چیئرمین راجیو چونی کی قیادت میں وفد میں پروفیسر این این شرما (نائب چیئرمین)، ونود کمار دتہ (جنرل سکریٹری)، بھائی رام سنگھ (سکریٹری) اور وید راج بالی (سکریٹری) شامل تھے۔ وفد نے یادداشت پیش کرتے ہوئے 1947 سے پاکستان کے زیر قبضہ جموں و کشمیر (پی او جے کے) کی ہندو اور سکھ آبادی کے ساتھ روا رکھے گئے تاریخی ناانصافی کو ریکارڈ پر لایا اور پینل سے ٹھوس اصلاحی اقدامات کرنے کا مطالبہ کیا۔
جاری کردہ بیان کے مطابق یادداشت میں نشاندہی کی گئی کہ 1947 کے حملے کے بعد اس وقت کی جموں و کشمیر حکومت نے ابتدائی طور پر تقریباً 31,600 خاندانوں کا اندراج کیا تھا، جبکہ تقریباً 9,500 خاندانوں کو معمولی اور غیر معقول وجوہات کی بنیاد پر من مانے طریقے سے رجسٹریشن سے محروم کر دیا گیا۔
رجسٹرڈ خاندانوں میں سے صرف تقریباً 26,300 خاندانوں کو ریاست کے اندر آباد کیا گیا، جبکہ تقریباً 5,300 رجسٹرڈ خاندانوں کے ساتھ ساتھ 9,500 غیر رجسٹرڈ خاندانوں کو ہندوستان کے دیگر حصوں میں پناہ لینے پر مجبور ہونا پڑا۔ باقاعدہ طور پر رجسٹر کیے گئے خاندانوں کے ریکارڈ اب بھی جموں و کشمیر حکومت کے سرکاری ریکارڈ میں موجود ہیں۔
یادداشت میں کہا گیاکہ ’’یہ خاندان مہاراجہ ہری سنگھ کے 1927 کے اسٹیٹ سبجیکٹ قانون کے تحت ریاست کے اصل باشندے تھے اور انہوں نے بارہا اپنے آبائی وطن واپس جانے کی خواہش کا اظہار کیا ہے۔‘‘
تاہم بحالیِ آبادکاری کی کسی جامع پالیسی یا ادارہ جاتی مدد کی مکمل عدم موجودگی کے باعث ان کے پاس دوسری جگہ اپنی زندگی دوبارہ شروع کرنے کے علاوہ کوئی راستہ نہیں تھا۔ بیان کے مطابق اس وقت ریاست سے باہر رہنے والی ان کی آبادی کا تخمینہ پانچ سے چھ لاکھ ہے۔
ایس او ایس انٹرنیشنل نے یہ بھی نشاندہی کی کہ جموں و کشمیر کی اُس وقت کی حکومت کے 2014 کے کابینہ فیصلے میں ہر متاثرہ خاندان کو 25 لاکھ روپے نقد امداد، تعلیم یافتہ بے روزگار نوجوانوں کے لیے 8,500 سرکاری ملازمتیں اور پیشہ ورانہ و تکنیکی اداروں میں ریزرویشن دینے کا وعدہ کیا گیا تھا، لیکن جموں و کشمیر یا سابق ریاست سے باہر جلاوطنی کی زندگی گزارنے والے خاندانوں کے لیے اس پر عمل نہیں کیا گیا۔
جاری۔یواین آئی۔ طـ ا
-
دنیا1 day agoایران کا فی الحال امریکہ کے ساتھ کوئی مذاکرات نہیں: ایرانی وزیر خارجہ
-
دنیا1 day agoسعودی عرب میں فیکٹری میں آگ کے سبب 16 بنگلہ دیشی مزدور ہلاک
-
ہندوستان1 day agoطلبہ پر کارروائی کے معاملے پر حکومت کو گھیرتے ہوئے راہل کا مضمون، کھڑگے اور پرینکا نے حمایت کی
-
دنیا1 day agoٹرمپ جوہری معاہدے کے بغیر ایران کے ساتھ تنازع ختم کرنے پر تیار: رپورٹ
-
دنیا1 day agoتجربہ کار آئی آر جی سی کمانڈر محسن رضائی ایران کے قومی سلامتی کے سربراہ مقرر
-
جموں و کشمیر6 hours agoیومِ آزادی سے قبل جموں و کشمیر پولیس نے سرحدی سامبا میں طویل فاصلے کی گشت اور فرضی انسدادِ دہشت گردی مشق کی
-
دنیا10 hours agoٹرمپ کا ایران سے معاوضے کا مطالبہ، آبنائے ہرمز پر مذاکرات جاری
-
دنیا9 hours agoکولمبیا میں زلزلے سے ہلاکتوں کی تعداد 132 ہو گئی، صدر کا قومی ایمرجنسی کا اعلان
-
ہندوستان8 hours agoپارلیمنٹ کے احاطے میں اپوزیشن ارکانِ پارلیمنٹ کا احتجاج
-
دنیا6 hours agoایران نے خود کو ایک ‘ناقابل تسخیر طاقت’ ثابت کیا ہے: عراقچی
-
دنیا6 hours agoشام کے سابق صدر بشار الاسد کو سزائے موت سنادی گئی
-
دنیا10 hours agoیمن میں حوثیوں کے المخا اور مارب پر بیلسٹک میزائل حملے
