ہندوستان
لوک سبھا اسپیکر کی آئی پی یو کی گورننگ کونسل میٹنگ میں شرکت
جنیوا/نئی دہلی، لوک سبھا کے اسپیکر اوم برلا کی قیادت میں ہندوستانی پارلیمانی وفد نے بین پارلیمانی یونین (آئی پی یو) کی 149ویں اسمبلی کی کارروائی کے دوران دیگر ممالک کے ساتھ باہمی تعلقات کو مضبوط بنانے اور پارلیمانوں کے درمیان تعاون کو فروغ دینے کے مقصد سے اسمبلی کے ساتھ ساتھ آئی پی یو کی قائمہ کمیٹیوں اور دیگر تقریبات میں سرگرمی سے حصہ لیا۔ آئی پی یو اسمبلی کی یہ کارروائی 13 اکتوبر 2024 کو جنیوا میں شروع ہوئی، جو آج بھی جاری رہی۔
مسٹر برلا نے اسمبلی کارروائی کے اختتامی دن آئی پی یو کی گورننگ کونسل میٹنگ میں شرکت کی۔ اس موقع پر لوک سبھا اسپیکر نے کہا کہ ہندوستانی وفد نے اسمبلی کے مرکزی موضوع سے متعلق اہم عالمی مسائل کی طرف توجہ مبذول کرائی جس پر ہندوستان نے اہم پیش رفت کی ہے اور بہترین طریقوں کا اشتراک کیا ہے۔ اس کے ساتھ ہی ہندوستان کے عالمی وعدوں کا اعادہ کرتے ہوئے انہوں نے باہمی تعاون پر پالیسی پر مبنی بحث اور مذاکرات میں حصہ لے کر تعاون مزید تعاون کی یقین دہانی کرائی ۔
لوک سبھا اسپیکر نے مزید کہا کہ آئی پی یو پارلیمانی تعاون کے ذریعے جامع ترقی اور امن کے لیے عالمی عزم کو آگے بڑھانے کے لیے ایک مفید پلیٹ فارم ہے۔
ریکارڈ کو برقرار رکھنے، پارلیمنٹ میں مباحثے اور تقریر کرنے کے ساتھ ساتھ دیگر معلومات کو لوگوں تک پہنچانے اور پارلیمنٹ کو لوگوں کے قریب لانے میں ٹیکنالوجی اور اے آئی کے استعمال پر روشنی ڈالتے ہوئے مسٹر برلا نے کہا کہ ٹیکنالوجی کے ذریعے اپنی پسند کی زبان میں ممبران پارلیمنٹ کے خیالات کا اظہار ممکن ہو گیا ہے، جس کی وجہ سے پارلیمنٹ کے بارے میں معلومات عوام تک پہنچنے میں آسانی ہوگئی ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ عالمی برادری نے ہندوستان کی سبز، ٹیکنالوجی سے چلنے والی اور پیپر لیس پارلیمنٹ کی تعریف کی ہے۔
اراکین پارلیمنٹ اور عہدیداروں کی استعداد کار میں اضافے کے بارے میں بات کرتے ہوئے مسٹر برلا نے کہا کہ 100 سے زیادہ ممالک کے اسپیکروں اور اراکین پارلیمنٹ نے پرائڈ کو پارلیمانی تربیت کے ایک اعلیٰ عالمی ادارے کے طور پر تسلیم کیا ہے اور اس کی تعریف کی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ پرائیڈ نے منتخب اراکین اور پارلیمنٹ سیکریٹریٹ کے عہدیداروں کو مختلف پارلیمانی موضوعات پر تربیت دی ہے۔
آئی پی یو اسمبلی کے دوران ہندوستانی پارلیمانی وفد نے دوسرے ممالک کے ساتھ تعلقات کو مضبوط بنانے اور پارلیمانی تعلقات کو فروغ دینے کے لیے بڑے پیمانے پر بات چیت اور مذاکرات کئے ۔
اسمبلی کے دوران مسٹر برلا نے نیپال، مالدیپ، آرمینیا، تھائی لینڈ، عمان، سوئٹزرلینڈ، آسٹریلیا، سیشلز، آئی پی یو کے صدر، الجیریا، زمبابوے، بھوٹان، یو اے ای کی پارلیمانوں کے پریذائیڈنگ افسران اور نمائندوں سے ملاقات کی۔ ان ملاقاتوں کے دوران لوک سبھا اسپیکر نے ڈیجیٹل انڈیا، اسٹارٹ اپ انڈیا، ڈی بی ٹی اسکیم وغیرہ جیسے اقدامات کا ذکر کرتے ہوئے ٹیکنالوجی کے استعمال کے ذریعے ہندوستان میں جامع اور پائیدار ترقی کی کامیابیوں کے بارے میں بتایا۔
مسٹر برلا نے قرارداد کا مسودہ تیار کرنے میں ہندوستانی پارلیمانی وفد کے اراکین کے فعال کردار اور ہندوستان کے جامع اور ٹیکنالوجی پر مبنی ترقی کے سفر کو آگے بڑھانے کے لیے قائمہ کمیٹی کے اجلاسوں میں ان کی شرکت کی تعریف کی۔ اسپیکر نے یقین ظاہر کیا کہ ہندوستانی پارلیمانی وفد کا یہ دورہ ہندوستان کی پارلیمنٹ کا موقف عالمی سطح پر پیش کرنے کے حوالے سے ایک یادگار دورہ ہوگا۔
لوک سبھا کے اسپیکر اوم برلا نے کل الجزائر کی قومی عوامی اسمبلی کے صدر ابراہیم بوغالی سے ملاقات کی۔ صدر جمہوریہ ہند کے حالیہ دورہ الجزائر کا حوالہ دیتے ہوئے لوک سبھا اسپیکر نے کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان تجارتی، ثقافتی اور عوام کے درمیان تعلقات ہندوستان کے لیے بہت اہمیت کے حامل ہیں۔ استعمار کے خلاف جنگ میں ہندوستان اور الجزائر دونوں کے تاریخی سفر کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے خوشی کا اظہار کیا کہ دونوں ممالک نے امن، جمہوریت اور عوامی بہبود کو فروغ دینے کے لیے کامیابی سے کام کیا ہے۔
ہندوستان اور الجزائر کی پارلیمانوں کے درمیان باقاعدہ بات چیت کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے لوک سبھا کے اسپیکر نے کہا کہ پارلیمانی تعاون باہمی تعلقات کا ایک لازمی پہلو ہے۔ انہوں نے کہا کہ حالیہ برسوں میں ہندوستان میں اہم تبدیلیاں رونما ہوئی ہیں۔ انہوں نے الجزائر کے باشندوں پر زور دیا کہ وہ ہندوستان میں مزید سرمایہ کاری کریں تاکہ وہ ہندوستان میں کاروبار کرنے میں آسانی کا فائدہ اٹھا سکیں۔ مسٹر برلا نے الجزائر کے اراکین پارلیمنٹ اور پارلیمنٹ کے افسروں کو پرائڈ لوک سبھا سکریٹریٹ میں منعقدہ صلاحیت سازی کے پروگرام میں شرکت کی دعوت دی۔
یو این آئی ۔ ع خ
ہندوستان
مسٹر کووند کی سوانح عمری جدوجہد، عزم اور کامیابی کی ایک متاثر کن کہانی : لوک سبھا اسپیکر
نئی دہلی، وزیر اعظم نریندر مودی نے آج یہاں سابق صدر رام ناتھ کووند کی سوانح عمری ‘ٹرائمف آف دی انڈین ریپبلک: مائی لائف، مائی اسٹرگلس’ نامی کتاب کا اجرا کیا لوک سبھا اسپیکر اوم برلا اس موقع پر موجود تھے اور کہا کہ اس کتاب کا اجراء فخر کی بات ہے معززین سے خطاب کرتے ہوئے برلا نے کہا کہ سابق صدرجمہوریہ رام ناتھ کووند کی سوانح عمری، جو اعلیٰ آئینی نظریات کا مظہر ہے، عزم، جدوجہد اور کامیابیوں کی ایک متاثر کن کہانی ہے۔ تعلیم کے حصول کے دورانمسٹر کووند کو اپنی ابتدائی زندگی میں درپیش مشکلات اور چیلنجوں کے بارے میں بات کرتے ہوئے، انہوں نے کہا کہ ایک عاجز اور معاشی طور پر کمزور پس منظر سے ملک کے اعلیٰ ترین آئینی عہدے تک کا سفر ان کے غیر معمولی عزم کو ظاہر کرتا ہے اور یہ عزم آنے والی نسلوں کے لیے ایک لازوال ترغیب کا ذریعہ رہے گا۔
مسٹر برلا نے مزید کہا کہ مسٹر کووند نے آئینی اقدار کے تئیں اپنی غیر متزلزل وابستگی کے ذریعے ایک وکیل کے طور پر ایک انمٹ نشان چھوڑا۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ بطور ممبر پارلیمنٹ ان کا دور ان کی درج فہرست ذاتوں اور درج فہرست قبائل کی فلاح و بہبود، سماجی انصاف اور عوامی زندگی میں قابلیت کے لیے ایک سنہری باب ہے۔
گورنر کے طور پر مسٹر کووند کے دور کا ذکر کرتے ہوئے مسٹر برلا نے کہا کہ انہوں نے اعلیٰ تعلیم کے میدان میں شفافیت، معیار اور تکنیکی اختراع کو ایک نئی سمت دی۔ ہندوستان کے صدر کے طور پر، انہوں نے ہندوستانی جمہوریت کی آئینی روایات کو مضبوط کرتے ہوئے، سماجی ہم آہنگی اور جامع ترقی کے لیے ایک غیر متزلزل عزم کا مظاہرہ کیا۔ انہوں نے مزید کہا کہ کئی ممالک کے اپنے دوروں کے ذریعے انہوں نے ہندوستان کے بین الاقوامی سفارتی تعلقات کو مضبوط بنانے میں بھی اپنا حصہ ڈالا۔
مسٹر برلا نے یہ بھی کہا کہ کووڈ-19 وبائی مرض کے پیش نظر، مسٹر کووند نے ہمت، اتحاد اور ملک کے لوگوں میں اعتماد پیدا کیا اور راشٹرپتی بھون کو عوام کے لیے مزید قابل رسائی بنایا۔ انہوں نے اسے مسٹر کووند کی اہم کامیابیوں میں سے ایک قرار دیا۔
لوک سبھا کے اسپیکر نے مزید کہا کہ صدر کے عہدے سے سبکدوش ہونے کے بعد بھی مسٹر کووند اپنی سوچ، عوامی زندگی میں بھرپور تجربہ اور سماجی انصاف کے لیے اپنی وابستگی کے ذریعے ملک، آئین اور سماج کے لیے اپنا حصہ ڈال رہے ہیں۔ انہوں نے یقین ظاہر کیا کہ ‘ٹرائمف آف دی انڈین ریپبلک: مائی لائف، مائی اسٹرگلس’ کے ذریعے قارئین مسٹر کووند کی زندگی کے اہم واقعات کے بارے میں جانیں گے، جو انہیں عوامی زندگی میں بامعنی کردار ادا کرنے کی ترغیب دیں گے۔ اپنے خطاب کے اختتام پر،مسٹر برلا نے کتاب کی اشاعت پر مسٹر رام ناتھ کووند کو دلی مبارکباد اور نیک خواہشات کا اظہار کیا۔
یو این آئی۔ْ ع ا۔
ہندوستان
سودیشی جاگرن منچ کی حکومت سے امریکی ٹیرف کی دھمکیوں کے خلاف ڈٹے رہنے، لوگوں سے امریکی کمپنیوں کا بائیکاٹ کرنے کی اپیل
نئی دہلی، سودیشی جاگرن منچ (ایس جے ایم) نے امریکہ کی سینیٹ کی طرف سے حال ہی میں منظور کیے گئے اس قانون پر گہرے افسوس کا اظہار کیا ہے، جو امریکی صدر کو ان ملکوں پر 100 فیصد تک ٹیرف لگانے کا اختیار دیتا ہے جو روس سے بڑی مقدار میں تیل خریدتے ہیں تنظیم نے بدھ کے روز ایک بیان میں کہا کہ اس کا پختہ یقین ہے کہ کسی بھی ملک کو ہندوستان کی توانائی سکیورٹی اور خود مختار تجارتی پالیسی طے کرنے کا حق نہیں ہے۔ ایس جے ایم کے قومی شریک کنوینر اشونی مہاجن نے کہا، “اگرچہ ہم مانتے ہیں کہ اس قانون کو ابھی پورے قانون سازی کے عمل سے گزرنا باقی ہے اور ڈیوٹی خود بخود نافذ نہیں ہوگی، پھر بھی یہ واضح طور پر آزاد اور منصفانہ بین الاقوامی تجارت کے اصولوں اور ملکوں کے اپنی توانائی پالیسیاں طے کرنے کے خود مختار حق کے لیے ایک سنگین خطرہ پیدا کرتا ہے۔”
ایس جے ایم کا کہنا ہے کہ وہ اس معاملے پر حکومت ہند کے موقف کی مکمل حمایت کرتا ہے کہ روس سے خام تیل کی ہندوستان کی خریداری توانائی سکیورٹی، دستیابی، قیمت، سپلائی میں تنوع اور ہندوستانی صارفین کے مفادات پر مبنی ہے۔
ہندوستان نے بار بار یہ واضح کیا ہے کہ جائز بین الاقوامی منڈیوں سے توانائی خریدنے کے ہمارے خود مختار حق کو کوئی تیسرا ملک طے نہیں کر سکتا۔ تنظیم نے کہا ہے کہ یہ پہلی بار نہیں ہے جب امریکہ میں آنے والے سامان پر غیر منصفانہ ڈیوٹی لگانے کی دھمکی دی گئی ہے۔ ایسی دھمکیاں امریکی صدر کے طور پر ڈونلڈ ٹرمپ کی دوسری مدت کار کے آغاز سے ہی ملتی رہی ہیں؛ درحقیقت، امریکہ میں آنے والے ہندوستانی سامان پر کبھی کبھی بھاری ڈیوٹی لگائی گئی ہے، جس سے ہماری برآمدات پر کافی اثر پڑا ہے۔ ان ٹیرف کو الگ الگ ناموں سے جانا گیا ہے— جیسے ریسیپروکل ٹیرف اور قومی سکیورٹی ڈیوٹی سے لے کر سیکشن 301 ڈیوٹی، سیکشن 232 ڈیوٹی، تادیبی ڈیوٹی (روسی تیل خریدنے کے لیے)، تجارتی خسارہ ڈیوٹی اور جبری مشقت ڈیوٹی— اور یہ فہرست کبھی ختم نہیں ہوتی۔
یو این آئی ۔ ایف اے
ہندوستان
امت شاہ کی تقریر نہیں، ہمیں جواب چاہیے: راہل
نئی دہلی، لوک سبھا میں اپوزیشن لیڈر راہل گاندھی نے طلباء کے خلاف پولیس کارروائی پر وزیر داخلہ امت شاہ سے پارلیمنٹ میں جواب دینے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ اب تقریر نہیں، سوالات کے جواب چاہیئں مسٹر گاندھی نے بدھ کے روز پارلیمنٹ ہاؤس کے احاطے میں صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا، “مسٹر شاہ نے بچوں پر گولی چلانے کا حکم دیا تھا یا نہیں۔ دونوں ہی صورتوں میں انہیں استعفیٰ دینا چاہیے۔ ہمیں اب امت شاہ کی تقریر نہیں چاہیے۔ ہمیں جواب چاہیے۔ ہمارے طلباء پر گولی کس نے چلائی؟ گولی چلانے کا حکم کس نے دیا؟ کس نے ایک طالب علم کی آنکھ کی بینائی چھینی؟ کیلوں والی لاٹھیوں کے استعمال کا حکم کس نے دیا؟”
انہوں نے دعویٰ کیا کہ یہ حکم وزارتِ داخلہ سے آیا تھا۔ انہوں نے سوال کیا کہ کیا مسٹر شاہ نے بچوں پر گولی چلانے کا حکم دیا تھا یا نہیں۔ مسٹر گاندھی نے کہا کہ دونوں ہی صورتوں میں مسٹر شاہ کو استعفیٰ دینا چاہیے۔
اپوزیشن لیڈر نے کہا، “سچ یہ ہے کہ امت شاہ کی امیج کا غبارہ پھٹ چکا ہے۔ ان کے اندر پارلیمنٹ آنے کی ہمت ہی نہیں ہے۔”
مسٹر گاندھی نے میڈیا سے بھی سوال کیا کہ جب مسٹر شاہ بولتے ہیں تو کیا میڈیا انہیں بیچ میں روکتا ہے؟ انہوں نے پوچھا، “امت شاہ میں ایسی کیا خاص بات ہے کہ پورا میڈیا خاموشی سے کھڑا رہتا ہے؟” انہوں نے کہا کہ جب ملک کے طلباء وزیر اعظم نریندر مودی اور مسٹر شاہ سے نہیں ڈر رہے ہیں تو میڈیا کو بھی ان سے ڈرنا نہیں چاہیے۔
لوک سبھا میں اپوزیشن لیڈر نے کہا، “مسٹر شاہ میں پارلیمنٹ آنے کی ہمت ہی نہیں ہے۔ وہ 20 دنوں سے غائب ہیں۔ اپنے چیمبر میں بیٹھے رہتے ہیں لیکن ایوان میں نہیں آتے۔ ان کے قافلے میں تقریباً 30 گاڑیاں چلتی ہیں، گھر کے آگے ہزاروں پولیس والے کھڑے رہتے ہیں کہ کوئی بچہ نہ آ جائے۔ ان کی شبیہ والے غبارے کی ہوا نکل چکی ہے۔ اب زبردستی اس میں ہوا بھرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔”
یو این آئی ایف اے
-
ہندوستان3 days agoطلبہ پر کارروائی کے معاملے پر حکومت کو گھیرتے ہوئے راہل کا مضمون، کھڑگے اور پرینکا نے حمایت کی
-
دنیا2 days agoایران کا فی الحال امریکہ کے ساتھ کوئی مذاکرات نہیں: ایرانی وزیر خارجہ
-
دنیا1 day agoایران نے خود کو ایک ‘ناقابل تسخیر طاقت’ ثابت کیا ہے: عراقچی
-
جموں و کشمیر1 day agoیومِ آزادی سے قبل جموں و کشمیر پولیس نے سرحدی سامبا میں طویل فاصلے کی گشت اور فرضی انسدادِ دہشت گردی مشق کی
-
دنیا3 days agoٹرمپ جوہری معاہدے کے بغیر ایران کے ساتھ تنازع ختم کرنے پر تیار: رپورٹ
-
دنیا2 days agoسعودی عرب میں فیکٹری میں آگ کے سبب 16 بنگلہ دیشی مزدور ہلاک
-
دنیا2 days agoتجربہ کار آئی آر جی سی کمانڈر محسن رضائی ایران کے قومی سلامتی کے سربراہ مقرر
-
دنیا1 day agoشام کے سابق صدر بشار الاسد کو سزائے موت سنادی گئی
-
دنیا1 day agoموساد کے سابق سربراہ کا انکشاف، ماضی میں ایران کی فردو جوہری تنصیب کا کئی بار دورہ کیا
-
دنیا2 days agoٹرمپ کا ایران سے معاوضے کا مطالبہ، آبنائے ہرمز پر مذاکرات جاری
-
دنیا2 days agoایران اور عمان کے درمیان آبنائے ہرمز پر مذاکرات جاری
-
ہندوستان1 day agoپارلیمنٹ کے احاطے میں اپوزیشن ارکانِ پارلیمنٹ کا احتجاج
