ہندوستان
متبادل فصلوں پر کم از کم سہارا قیمت کی ضمانت دی جائے: مان
چنڈی گڑھ، پنجاب کے وزیر اعلی بھگونت سنگھ نے کسانوں کے مفادات کے تحفظ کے لیے متبادل فصلوں پر کم از کم سہارا قیمت (ایم ایس پی) کی ضمانت دینے کا مطالبہ کیا ہے۔
مرکزی وزراء پیوش گوئل، ارجن منڈا اور نتیا نند رائے اور مختلف کسان یونینوں کے نمائندوں کی میٹنگ کے بعد اتوار کی رات دیر گئے نامہ نگاروں سے بات کرتے ہوئے وزیراعلیٰ نے کہا کہ انہوں نے موزمبیق اور کولمبیا سے دالوں کی درآمد کا مدا اٹھایا۔ یہ درآمد دو ارب ڈالر سے زیادہ ہے اور اگر اس فصل کے لئے کم از کم سہارا قیمت دی جائے تو پنجاب دالوں کی پیداوار میں ملک میں سرفہرست ہو سکتا ہے۔ اگرچہ پنجاب نے سبز انقلاب کی وجہ سے زرخیز مٹی اور پانی کا زیادہ استعمال کرکے اپنے واحد قدرتی وسائل کو گنوا لیاہے لیکن پھر بھی یہ ملک میں دوسرا سبز انقلاب ہوگا۔
وزیر اعلیٰ نے کہا کہ ریاست کے کسان کپاس اور مکئی کو تب ہی اپنا سکتے ہیں جب انہیں ان فصلوں کے لیے ایم ایس پی ملے۔ ان فصلوں کی یقینی مارکیٹنگ فصلوں کے تنوع کے لیے کسانوں کی حوصلہ افزائی کر سکتی ہے۔ مان نے کہا کہ اس معاملے پر تفصیلی بات چیت ہوئی اور اس حوالے سے ضمانتیں مانگی گئیں اور کہا گیا کہ ان فصلوں کی خریداری کا معاہدہ کیا جائے۔
وزیر اعلیٰ نے کہا کہ یہ ملک میں فصلوں کے تنوع کو فروغ دینے میں مدد کرے گا کیونکہ یہ لوگوں کے لیے فائدہ مند ہو گا۔ آج ہندوستان بیرون ملک سے دالیں درآمد کرتا ہے اور اگر کسانوں کو مناسب قیمت مل جائے تو وہ یہاں دالیں پیدا کر سکتے ہیں۔ اس سے نہ صرف ملک کے غیر ملکی ذخائر کی بچت ہوگی بلکہ کسانوں کو دھان کے چکر سے نکالنے کے ساتھ ساتھ ریاست کے قیمتی پانی کی بھی بچت ہوگی۔
وزیر اعلیٰ نے کہا کہ وہ کسانوں کے وکیل کی حیثیت سے میٹنگ میں شریک ہوئے تھے اور حتمی فیصلہ متعلقہ فریقین کو کرنا ہے۔ ہڑتال کے دوران امن و امان کو ہر صورت برقرار رکھا جائے۔ انہوں نے کہا کہ وہ ریاست کے جان و مال کے تحفظ کے لیے پرعزم ہیں۔ ریاست کے کسانوں اور مرکزی حکومت کے درمیان بات چیت کے دروازے کھلے ہیں۔
ریاست کے تقریباً پانچ اضلاع میں انٹرنیٹ خدمات بند کر دی گئی ہیں، جس کی وجہ سے طلباء کی تعلیم بری طرح متاثر ہو رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ان دنوں امتحانات چل رہے ہیں اور پڑھائی آن لائن ہو رہی ہے لیکن انٹرنیٹ سروس بند کرنا انتہائی قابل مذمت ہے۔
انہوں نے امید ظاہر کی کہ آنے والے وقتوں میں کسانوں اور عوام کے وسیع تر مفادات میں مذاکرات کا دور جاری رہے گا۔ انہوں نے کہا کہ ریاستی حکومت پنجاب میں امن، بھائی چارے اور خیر سگالی کو برقرار رکھنے کے لیے پرعزم ہے، جس کے لیے تمام اسٹیک ہولڈرز کو تعاون کرنا چاہیے۔
یواین آئی۔الف الف
ہندوستان
اروناچل ہندستان کا اٹوٹ حصہ، سرحد کی صورتحال ہی چین کے ساتھ دوطرفہ تعلقات کی بنیاد:ہندستان
نئی دہلی ہندستان نے اروناچل پردیش کو اپنا ناقابلِ تقسیم اور اٹوٹ حصہ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ چین کے ساتھ اس کے دوطرفہ تعلقات سرحد کی صورتحال پر مبنی ہوں گے اور سرحدی صورتحال کا ان تعلقات پر براہِ راست اثر ہوگا۔
وزارتِ خارجہ کے ترجمان رندھیر جیسوال نے منگل کے روز یہاں میڈیا بریفنگ میں سوالات کے جواب دیتے ہوئے یہ بات کہی۔ دراصل چین کی جانب سے اروناچل پردیش اور اس کے کچھ مقامات کے نام تبدیل کرنے کے ردعمل میں ہندستان نے حال ہی میں اروناچل پردیش کی 27 اہم جگہوں کو سروے آف انڈیا کے نقشے میں سرکاری طور پر نشان زد کر دیا ہے۔ اس پر چین کی طرف سے منفی ردعمل سامنے آیا ہے۔ چین کے اس ردعمل کے بارے میں پوچھے جانے پر مسٹر جیسوال نے کہا کہ اروناچل پردیش ہندستان کا ناقابلِ تقسیم اور اٹوٹ حصہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ ایک مسلمہ حقیقت ہے اور کوئی بھی اس ناقابلِ تردید سچائی کو بدل نہیں سکتا۔
دونوں ممالک کے درمیان سرحد پر صورتحال کے بارے میں پوچھے گئے سوال کے جواب میں ترجمان نے کہا کہ ہندستان سرحد سے جڑے معاملات کو انتہائی سنجیدہ مانتا ہے اور سرحد پر امن و استحکام اس کی ترجیح ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ سرحد کی صورتحال کا ہندستان اور چین کے تعلقات پر براہِ راست اثر پڑے گا۔ ترجمان نے کہا، “ہندستان اور چین کے درمیان سرحدی علاقوں سے جڑے معاملات میں، ہم نے ہمیشہ چین کے ساتھ بات چیت میں اس بات پر زور دیا ہے کہ ہم ان مسائل کو بے حد سنجیدہ مانتے ہیں اور ان علاقوں میں امن و استحکام برقرار رکھنا سب سے زیادہ اہم ہے۔ ہم نے یہ بھی واضح کیا ہے کہ سرحدی معاملات کی صورتحال ہمارے وسیع دوطرفہ تعلقات کی صورتحال کی عکاسی کرے گی۔ اس بات کو 06 اگست کو حال ہی میں منعقدہ ‘ہند-چین سرحدی معاملات پر مشاورت اور ہم آہنگی کے ورکنگ میکانزم’ کی 36ویں میٹنگ میں بھی دہرایا گیا۔ اس میٹنگ میں دونوں فریقوں نے کھلی اور واضح بات چیت کی اورحقیقی کنٹرول لائن (ایل اے سی) پر صورتحال کا جائزہ لیا۔”
مسٹر جیسوال نے کہا کہ میٹنگ میں ہندستان نے اس بات پر زور دیا کہ دوطرفہ تعلقات کی ہمہ گیر ترقی کے لیے سرحدی علاقوں میں امن و استحکام برقرار رکھنا انتہائی ضروری ہے۔ اس بات پر اتفاق ہوا کہ لائن آف ایکچوئل کنٹرول پر غلط فہمی اور غلط اندازوں سے بچنے نیز باقی بچے ہوئے مسائل کو حل کرنے کے لیے ورکنگ میکانزم کی میٹنگوں، مقامی کمانڈر سطح کی میٹنگوں اور دیگر میکانزم سمیت موجودہ سفارتی اور فوجی ذرائع کا استعمال جاری رکھا جائے گا۔
یو این آئی ایف اے
ہندوستان
سندوش کمار نے نِرملا سیتارمن کے تبصرے راجیہ سبھا کے ریکارڈ سے ہٹانے کا مطالبہ کیا
نئی دہلی، کمیونسٹ پارٹی آف انڈیا (سی پی آئی) کے راجیہ سبھا رکنِ پارلیمنٹ پی سندوش کمار نے وزیر خزانہ نِرملا سیتارمن کے ذریعہ پارلیمنٹ میں کمیونسٹ تحریک کے خلاف کیے گئے مبینہ قابلِ اعتراض تبصروں کو راجیہ سبھا کے ریکارڈ سے ہٹانے کا مطالبہ کیا ہے انہوں نے اس سلسلے میں راجیہ سبھا کے چیئرمین سی پی رادھا کرشنن کو منگل کے روز خط لکھا ہے۔
مسٹر کمار نے کہا کہ انکم ٹیکس (ترمیم) آرڈیننس 2026 کو منسوخ کرنے کے مطالبے پر ہونے والی بحث کے دوران وزیر خزانہ نے سی پی آئی (ایم) کے رکنِ پارلیمنٹ جان برٹاس کے حوالے سے کمیونسٹوں کو “ٹوٹل کائر” بتاتے ہوئے پوری کمیونسٹ تحریک پر تبصرہ کیا۔ سی پی آئی کے رکنِ پارلیمنٹ نے ان تبصروں پر سخت اعتراض ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ سیاسی اختلاف کو ذاتی اہانت یا کسی پوری سیاسی تحریک کی تذلیل تک محدود نہیں کیا جا سکتا۔ انہوں نے کہا کہ کمیونسٹوں نے ملک کی جدوجہدِ آزادی میں حصہ لیا، جیل گئے اور انگریزی حکومت کے مظالم اور جبر کا سامنا کیا نیز جمہوریت، مزدوروں کے حقوق، سماجی انصاف اور عوام کے حقوق کی جدوجہد میں اہم قربانیاں دیں۔
سی پی آئی کے رکنِ پارلیمنٹ نے چیئرمین سے پارلیمانی ضوابط اور قائم کردہ روایتوں کے مطابق قابلِ اعتراض تبصروں کو سرکاری ریکارڈ سے ہٹانے کی اپیل کی۔ انہوں نے کہا کہ پارلیمنٹ کے وقار کو برقرار رکھنے کے لیے تلخ سیاسی بحث تو قابلِ قبول ہے لیکن کسی نظریے یا سیاسی تحریک کے خلاف ذاتی اہانت اور قابلِ اعتراض تبصرے مناسب نہیں ہیں۔
یو این آئی ایف اے
ہندوستان
پارلیمنٹ کے احاطے میں اپوزیشن ارکانِ پارلیمنٹ کا احتجاج
نئی دہلی، کانگریس اور اپوزیشن جماعتوں کے ارکانِ پارلیمنٹ نے چڑھاوا چوری اور طلبہ پر پولیس کارروائی کے معاملے پر حکومت سے جواب طلب کرنے کے اپنے مطالبات کی حمایت میں منگل کے روز پارلیمنٹ کی کارروائی شروع ہونے سے پہلے پارلیمنٹ ہاؤس کے احاطے میں احتجاج کیا۔
مظاہرین ارکانِ پارلیمنٹ ہاتھوں میں بینرز اور تختیاں تھامے حکومت مخالف نعرے لگاتے رہے۔ احتجاجی ارکانِ پارلیمنٹ وزیرِ داخلہ امت شاہ سے پولیس کارروائی پر جواب دینے اور چڑھاوا چوری کے معاملے کی وسیع پیمانے پر تحقیقات کرانے کا مطالبہ کر رہے تھے۔
بارش کی بوچھاڑوں کے درمیان احتجاج کرنے والے ارکانِ پارلیمنٹ میں کانگریس کی پرینکا گاندھی واڈرا، سماج وادی پارٹی کے اکھلیش یادو، اودھیش پرساد، ترنمول کانگریس کی پرتیما منڈل، جھارکھنڈ مکتی مورچہ، شیو سینا (ادھو گروپ) اور دیگر کئی جماعتوں کے ارکانِ پارلیمنٹ موجود تھے۔
یواین آئی۔الف الف
-
دنیا1 day agoایران کا فی الحال امریکہ کے ساتھ کوئی مذاکرات نہیں: ایرانی وزیر خارجہ
-
ہندوستان2 days agoطلبہ پر کارروائی کے معاملے پر حکومت کو گھیرتے ہوئے راہل کا مضمون، کھڑگے اور پرینکا نے حمایت کی
-
دنیا2 days agoسعودی عرب میں فیکٹری میں آگ کے سبب 16 بنگلہ دیشی مزدور ہلاک
-
جموں و کشمیر11 hours agoیومِ آزادی سے قبل جموں و کشمیر پولیس نے سرحدی سامبا میں طویل فاصلے کی گشت اور فرضی انسدادِ دہشت گردی مشق کی
-
دنیا2 days agoٹرمپ جوہری معاہدے کے بغیر ایران کے ساتھ تنازع ختم کرنے پر تیار: رپورٹ
-
دنیا11 hours agoشام کے سابق صدر بشار الاسد کو سزائے موت سنادی گئی
-
دنیا15 hours agoیمن میں حوثیوں کے المخا اور مارب پر بیلسٹک میزائل حملے
-
دنیا15 hours agoٹرمپ کا ایران سے معاوضے کا مطالبہ، آبنائے ہرمز پر مذاکرات جاری
-
دنیا15 hours agoایران اور عمان کے درمیان آبنائے ہرمز پر مذاکرات جاری
-
دنیا1 day agoتجربہ کار آئی آر جی سی کمانڈر محسن رضائی ایران کے قومی سلامتی کے سربراہ مقرر
-
دنیا11 hours agoایران نے خود کو ایک ‘ناقابل تسخیر طاقت’ ثابت کیا ہے: عراقچی
-
دنیا14 hours agoکولمبیا میں زلزلے سے ہلاکتوں کی تعداد 132 ہو گئی، صدر کا قومی ایمرجنسی کا اعلان
