جموں و کشمیر
مرکزی وزیرداخلہ امت شاہ نے کئے جموں و کشمیر تنظیم نوایکٹ (ترمیمی) بل2025 سمیت3بل لوک سبھا میں پیش
سنگین جرائم میں گرفتار یانظر بند وزیر اعظم، وزرائے اعلیٰ اور وزراءکوہٹانے کےلئے قانونی ڈھانچہ فراہم
جموںو کشمیر تنظیم نو ایکٹ2019 کے سیکشن 54 میں ترمیم اورتینوں بلوں کوپارلیمنٹ کی ایک مشترکہ کمیٹی کو بھیجنے کی تجویز
سری نگر:جے کے این ایس: وزیرداخلہ امت شاہ نے آئین (130ویں ترمیم) بل2025 پیش کیا، جس میں ہندوستان کے آئین اور حکومت کے زیر انتظام علاقوں (ترمیمی) بل2025 میں مزید ترمیم کی جائے گی، اس کے علاوہ جموں و کشمیر تنظیم نو ایکٹ2019 میں ترمیم کرنے کے بل کے علاوہ، انہوں نے پارلیمنٹ کی ایک مشترکہ کمیٹی کو بھیجنے کی تجویز بھی پیش کی۔جموں و کشمیر تنظیم نو (ترمیمی) بل 2025 ،جموں و کشمیر تنظیم نو ایکٹ 2019 کے سیکشن 54 میں ترمیم کرنے کی کوشش کرتا ہے، تاکہ سنگین مجرمانہ الزامات کی وجہ سے گرفتاری یا حراست میں رکھے جانے کی صورت میں وزیراعظم ، وزیر اعلیٰ یا وزیر کو ہٹانے کے لیے قانونی ڈھانچہ فراہم کیا جا سکے۔جے کے این ایس مانٹرینگ ڈیسک کے مطابق مرکزی وزیر داخلہ امیت شاہ نے بدھ کو لوک سبھا میں3اہم بل پیش کئے، جن میں آئین (130ویں) ترمیمی بل2025، مرکز کے زیر انتظام علاقوں کی حکومت (ترمیمی) بل، 2025 اور جموں و کشمیر تنظیم نوایکٹ2019 (ترمیمی) بل2025 شامل ہیں۔
جے کے این ایس کے مطابق وزیر داخلہ امت شاہ نے پارلیمان کے ایوان زیریں میں جموں و کشمیر تنظیم نو (ترمیمی) بل2025 پیش کی، جس میں وزیر اعلیٰ یا وزیر کو ہٹانے کے لئے قانونی ڈھانچہ فراہم کرنے کے لیے جموںو کشمیر تنظیم نو ایکٹ2019 کے سیکشن 54 میں ترمیم کی کوشش کی جائے گی۔انہوں نے تینوں ترمیمی بلوں کوپارلیمنٹ کی ایک مشترکہ کمیٹی کو بھیجنے کی تجویز بھی پیش کی۔ جموں و کشمیر تنظیم نو (ترمیمی) بل، 2025 سے منسلک اعتراضات اور وجوہات کے بیان میں کہا گیا ہے کہ ایک وزیراعلیٰ یا وزیر، جسے سنگین مجرمانہ جرائم کے الزامات کا سامنا ہے، گرفتار کیا گیا ہے اور حراست میں رکھا گیا ہے، وہ آئینی اخلاقیات اور اچھی حکمرانی کے اصولوں کو ناکام بنا سکتا ہے یا اس میں رکاوٹ ڈال سکتا ہے اور آخر کار اس پر لوگوں کے اعتماد کو ختم کر سکتا ہے۔ تاہم، جموں و کشمیر تنظیم نو ایکٹ، 2019 (34 کا 2019) کے تحت وزیر اعلیٰ یا کسی ایسے وزیر کو ہٹانے کا کوئی انتظام نہیں ہے جسے سنگین مجرمانہ الزامات کی وجہ سے گرفتار کیا گیا ہو اور حراست میں رکھا گیا ہو۔ اس کے پیش نظر جموں و کشمیر کی تنظیم نو کے ایکٹ کے سیکشن54 میں ترمیم کرنے کی ضرورت ہے یا چیف منسٹر ری آرگنائزیشن ایکٹ2019 کے لیے قانونی فریم فراہم کرنے کی ضرورت ہے۔بل میں کہا گیاکہ بل ان مقاصد کو حاصل کرنے کی کوشش کرتا ہے۔بل میں مزید کہا گیا کہ منتخب نمائندے ہندوستانی عوام کی امیدوں اور امنگوں کی نمائندگی کرتے ہیں۔ توقع کی جاتی ہے کہ وہ سیاسی مفادات سے اوپر اٹھ کر صرف عوامی مفاد اور عوام کی فلاح و بہبود کے لیے کام کریں۔ اس میں کہا گیا کہ یہ توقع کی جاتی ہے کہ عہدہ پر فائز وزراءکا کردار اور طرز عمل کسی بھی شک و شبہ سے بالاتر ہو۔ترمیم کے مطابق، ایک وزیر، جو اپنے عہدے پر فائز رہنے کے دوران مسلسل30 دنوں تک کسی بھی مدت کےلئے، کسی بھی وقت کےلئے نافذ العمل قانون کے تحت کسی جرم کے ارتکاب کے الزام میں گرفتار اور حراست میں رکھا جاتا ہے، جس کی سزا5سال یا اس سے زیادہ ہو سکتی ہے، کو حراست میں لینے کے بعد دن وزیر اعلیٰ کے مشورے پر اس کے عہدے سے ہٹا دیا جائے گا۔’بشرطیکہ اگر وزیراعلیٰ کی جانب سے ایسے وزیر کو ہٹانے کا مشورہ31ویں دن تک لیفٹیننٹ گورنر کو پیش نہیں کیا جاتا ہے، تو وہ اس کے بعد آنے والے دن سے وزیر نہیں رہے گا،‘ترمیم کی تجویز پیش کی گئی۔وزیر اعلیٰ کے معاملے میں، ترمیم میں تجویز کیا گیا کہ اگر عہدے پر فائز رہنے کے دوران مسلسل30 دنوں تک، اسے کسی وقت کے لیے کسی بھی قانون کے تحت جرم کرنے کے الزام میں گرفتار کیا جاتا ہے اور حراست میں رکھا جاتا ہے، جس کی سزا 5 سال یا اس سے زیادہ ہو سکتی ہے، تو وہ گرفتاری کے31 دن بعد استعفیٰ دے دے گا۔
اور اگر انہوں نے اپنا استعفیٰ پیش نہیں کیا، تو وہ اس کے بعد آنے والے دن سے وزیر اعلیٰ کے عہدے سے دستبردار ہو جائیں گے، ترمیم کی تجویز۔تاہم، کوئی بھی چیز ایسے وزیر اعلیٰ یا وزیر کو حراست سے رہائی کے بعد لیفٹیننٹ گورنر کے ذریعے وزیر اعلیٰ یا وزیر کے طور پر مقرر ہونے سے نہیں روک سکتی۔دریں اثنا، مرکز کے زیر انتظام علاقوں کی حکومت (ترمیمی) بل، 2025 نے بھی ایسے ہی معاملات میں وزیر اعلیٰ یا وزیر کو ہٹانے کے لیے قانونی فریم ورک فراہم کرنے کے لیے اسی طرح کی دفعات تجویز کی ہیں۔تاہم، آئین (ایک سو تیسویں ترمیم) بل2025 کے مقاصد میں کہا گیا ہے کہ آئین کے تحت کسی ایسے وزیر کو ہٹانے کا کوئی بندوبست نہیں ہے جسے سنگین مجرمانہ الزامات کی وجہ سے گرفتار اور حراست میں رکھا گیا ہو۔اس لیے ایسے معاملات میں وزیر اعظم یا یونین کونسل میں وزیر اور وزیر اعلیٰ یا ریاستوں کی وزرائ کی کونسل میں وزیر اعلیٰ یا وزیر کو ہٹانے کے لیے قانونی ڈھانچہ فراہم کرنے کے لیے آئین کے آرٹیکل 75، 164 اور 239AA میں ترمیم کرنے کی ضرورت ہے۔ بل مندرجہ بالا مقاصد کو حاصل کرنے کی کوشش کرتا ہے، مضامین اور وجوہات کا بیان پڑھا گیا ہے۔
جموں و کشمیر
جموں میں آبادیاتی تبدیلیوں سے متعلق پینل کو پناہ گزینوں کی تنظیم نے یادداشت پیش کی
جموں، پی او جے کے سے بے گھر افراد کی تنظیم ایس او ایس انٹرنیشنل کے ایک وفد نے منگل کو یہاں جسٹس پرکاش پربھاکر نولیکر (ریٹائرڈ) کی سربراہی میں آبادیاتی تبدیلیوں سے متعلق پینل کو ایک تفصیلی یادداشت پیش کی۔
ایس او ایس انٹرنیشنل کے چیئرمین راجیو چونی کی قیادت میں وفد میں پروفیسر این این شرما (نائب چیئرمین)، ونود کمار دتہ (جنرل سکریٹری)، بھائی رام سنگھ (سکریٹری) اور وید راج بالی (سکریٹری) شامل تھے۔ وفد نے یادداشت پیش کرتے ہوئے 1947 سے پاکستان کے زیر قبضہ جموں و کشمیر (پی او جے کے) کی ہندو اور سکھ آبادی کے ساتھ روا رکھے گئے تاریخی ناانصافی کو ریکارڈ پر لایا اور پینل سے ٹھوس اصلاحی اقدامات کرنے کا مطالبہ کیا۔
جاری کردہ بیان کے مطابق یادداشت میں نشاندہی کی گئی کہ 1947 کے حملے کے بعد اس وقت کی جموں و کشمیر حکومت نے ابتدائی طور پر تقریباً 31,600 خاندانوں کا اندراج کیا تھا، جبکہ تقریباً 9,500 خاندانوں کو معمولی اور غیر معقول وجوہات کی بنیاد پر من مانے طریقے سے رجسٹریشن سے محروم کر دیا گیا۔
رجسٹرڈ خاندانوں میں سے صرف تقریباً 26,300 خاندانوں کو ریاست کے اندر آباد کیا گیا، جبکہ تقریباً 5,300 رجسٹرڈ خاندانوں کے ساتھ ساتھ 9,500 غیر رجسٹرڈ خاندانوں کو ہندوستان کے دیگر حصوں میں پناہ لینے پر مجبور ہونا پڑا۔ باقاعدہ طور پر رجسٹر کیے گئے خاندانوں کے ریکارڈ اب بھی جموں و کشمیر حکومت کے سرکاری ریکارڈ میں موجود ہیں۔
یادداشت میں کہا گیاکہ ’’یہ خاندان مہاراجہ ہری سنگھ کے 1927 کے اسٹیٹ سبجیکٹ قانون کے تحت ریاست کے اصل باشندے تھے اور انہوں نے بارہا اپنے آبائی وطن واپس جانے کی خواہش کا اظہار کیا ہے۔‘‘
تاہم بحالیِ آبادکاری کی کسی جامع پالیسی یا ادارہ جاتی مدد کی مکمل عدم موجودگی کے باعث ان کے پاس دوسری جگہ اپنی زندگی دوبارہ شروع کرنے کے علاوہ کوئی راستہ نہیں تھا۔ بیان کے مطابق اس وقت ریاست سے باہر رہنے والی ان کی آبادی کا تخمینہ پانچ سے چھ لاکھ ہے۔
ایس او ایس انٹرنیشنل نے یہ بھی نشاندہی کی کہ جموں و کشمیر کی اُس وقت کی حکومت کے 2014 کے کابینہ فیصلے میں ہر متاثرہ خاندان کو 25 لاکھ روپے نقد امداد، تعلیم یافتہ بے روزگار نوجوانوں کے لیے 8,500 سرکاری ملازمتیں اور پیشہ ورانہ و تکنیکی اداروں میں ریزرویشن دینے کا وعدہ کیا گیا تھا، لیکن جموں و کشمیر یا سابق ریاست سے باہر جلاوطنی کی زندگی گزارنے والے خاندانوں کے لیے اس پر عمل نہیں کیا گیا۔
جاری۔یواین آئی۔ طـ ا
جموں و کشمیر
یومِ آزادی سے قبل کشمیر بھر میں کثیر سطحی سکیورٹی انتظامات
سری نگر، 15 اگست کو یومِ آزادی کی تقریبات کے پیش نظر سری نگر اور وادیٔ کشمیر کے دیگر علاقوں میں کثیر سطحی سکیورٹی انتظامات کیے گئے ہیں۔
سری نگر میں جہاں وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ بخشی اسٹیڈیم میں قومی پرچم لہرائیں گے، سکیورٹی فورسز نے تقریب کے مقام اور اس سے متصل علاقوں میں سکیورٹی نظام کو مزید مضبوط کر دیا ہے۔
کشمیر کے انسپکٹر جنرل پولیس وی کے بردی نے منگل کو کہا کہ یومِ آزادی کی تقریبات کو خوش اسلوبی سے منعقد کرنے کے لیے نہ صرف مرکزی مقام بلکہ پورے شہر اور وادی کے مختلف اضلاع میں بھی وسیع سکیورٹی انتظامات کیے جا رہے ہیں۔
بردی نے نامہ نگاروں سے کہاکہ ’’جیسا کہ آپ جانتے ہیں، 15 اگست کو سری نگر میں مرکزی تقریب منعقد ہونے والی ہے۔
اس کے لیے سکیورٹی انتظامات اور پریڈ کی تیاریاں جاری ہیں۔ مکمل لباس میں ریہرسل کی جا رہی ہیں تاکہ 15 اگست کی مرکزی تقریب سری نگر میں بخوبی منعقد کی جا سکے۔‘‘
انہوں نے کہا کہ جموں و کشمیر پولیس نے پوری وادی میں کثیر سطحی سکیورٹی انتظامات کیے ہیں۔
آئی جی پی نے کہاکہ ’’جموں و کشمیر پولیس نے نہ صرف سری نگر بلکہ وادی کے مختلف اضلاع میں بھی کثیر سطحی سکیورٹی انتظامات کیے ہیں۔ یہ انتظامات صرف تقریبات کے مقامات تک محدود نہیں ہیں بلکہ شہر کے اطراف بھی کیے گئے ہیں۔ اس بار بھی اسی طرح کے انتظامات کیے گئے ہیں۔‘‘
جنوبی کشمیر میں حالیہ واقعات کے بعد ممکنہ دہشت گردانہ حملوں یا دیگر خطرات کے بارے میں کسی پیش رفت کے متعلق پوچھے جانے پر بردی نے کہا کہ معاملہ زیرِ تفتیش ہونے کی وجہ سے اس کی تفصیلات ظاہر کرنا مناسب نہیں ہوگا۔
انہوں نے کہاکہ ’’دیکھیے، یہ تفتیش کا معاملہ ہے۔ اس لیے میرے خیال میں ابھی اس کی تفصیلات ظاہر کرنا مناسب نہیں ہوگا۔
جب بھی ایسی کوئی بات ہوگی جسے آپ کے ساتھ شیئر کرنا ضروری ہوگا، ہم مناسب وقت پر آپ کو اس سے آگاہ کریں گے۔‘‘
یومِ آزادی کی تقریبات کے دوران عوام کے لیے پولیس کے پیغام کے بارے میں بردی نے کہا کہ یہ تقریب عوام کی ہے اور انہوں نے شہریوں سے بڑی تعداد میں تقریبات میں شرکت کرنے کی اپیل کی۔
آئی جی پی نے کہاکہ ’’دیکھیے، یہ عوام کی تقریب ہے۔ پولیس اس میں مددگار یا منتظم کا کردار ادا کرتی ہے۔ چونکہ یہ عوام کی تقریب ہے، اس لیے ہم لوگوں سے اپیل کرتے ہیں کہ وہ بڑی تعداد میں اس میں شرکت کریں اور اسے کامیاب بنائیں۔‘‘
دریں اثنا، منگل کو سکیورٹی اداروں نے یومِ آزادی کی تقریبات میں خلل ڈالنے کی کسی بھی کوشش کو ناکام بنانے کے لیے سخت سکیورٹی اقدامات کے تحت سری نگر بھر میں تخریب کاری مخالف جانچ، علاقے میں غلبہ قائم کرنے کی کارروائیوں، نگرانی اور تلاشی کی کارروائیاں تیز کر دیں۔
کئی چیک پوسٹوں پر دو پہیہ گاڑیوں کو روکا گیا اور سواروں کی شناخت کی تصدیق کے ساتھ ان کی تلاشی بھی لی گئی۔
یواین آئی۔ـظ ا
جموں و کشمیر
یومِ آزادی سے قبل جموں و کشمیر پولیس نے سرحدی سامبا میں طویل فاصلے کی گشت اور فرضی انسدادِ دہشت گردی مشق کی
جموں، آئندہ یومِ آزادی کی تقریبات کے پیش نظر آپریشنل تیاریوں کا جائزہ لینے، سکیورٹی انتظامات کو مضبوط بنانے اور کسی بھی ہنگامی صورت حال سے فوری طور پر نمٹنے کو یقینی بنانے کے لیے جموں و کشمیر پولیس نے منگل کو سامبا ضلع کے سرحدی علاقوں میں طویل فاصلے کی گشت (ایل آر پی) اور فرضی انسدادِ دہشت گردی مشق کا انعقاد کیا۔
عہدیداروں کے مطابق اسپیشل آپریشن گروپ (ایس او جی)، سامبا نے جموں-پٹھان کوٹ قومی شاہراہ پر جٹوال سے لالہ چک تک طویل فاصلے کی گشت کی۔
انہوں نے بتایا کہ گشت کے بعد سرحدی سڑک پر واقع بی پی پی لالہ چک میں فرضی مشق کی گئی، جس کا مقصد فرضی دہشت گردانہ صورت حال سے نمٹنے کے لیے حصہ لینے والے اہلکاروں کی تیاری کا جائزہ لینا تھا۔ مشق کے دوران دو فرضی دہشت گردوں کو تنصیب پر حملہ کرتے ہوئے دکھایا گیا۔
انہوں نے کہاکہ ’’فرضی خطرے پر فوری کارروائی کرتے ہوئے ایس او جی کے اہلکاروں نے علاقے کو مناسب طریقے سے گھیرے میں لے لیا اور دونوں فرضی دہشت گردوں کو کامیابی سے بے اثر کر دیا۔‘‘
عہدیداروں نے بتایا کہ اس مشق کا مقصد ایس او جی سامبا اور بی پی پی لالہ چک کے حصہ لینے والے اہلکاروں کے ردعمل کے نظام، باہمی تال میل، حربی تیاری اور ہنگامی صورت حال سے نمٹنے کی صلاحیتوں کو جانچنا تھا۔
ایس ایس پی سامبا نے پولیس کی جانب سے مضبوط سکیورٹی انتظامات برقرار رکھنے اور عوام کی سلامتی و تحفظ کو یقینی بنانے کے عزم کا اعادہ کیا، خاص طور پر آئندہ یومِ آزادی کی تقریبات اور جاری شری امرناتھ یاترا کے پیش نظر۔
یواین آئی۔ظ ا
-
دنیا1 day agoایران کا فی الحال امریکہ کے ساتھ کوئی مذاکرات نہیں: ایرانی وزیر خارجہ
-
دنیا1 day agoسعودی عرب میں فیکٹری میں آگ کے سبب 16 بنگلہ دیشی مزدور ہلاک
-
دنیا1 day agoٹرمپ جوہری معاہدے کے بغیر ایران کے ساتھ تنازع ختم کرنے پر تیار: رپورٹ
-
ہندوستان1 day agoطلبہ پر کارروائی کے معاملے پر حکومت کو گھیرتے ہوئے راہل کا مضمون، کھڑگے اور پرینکا نے حمایت کی
-
دنیا1 day agoتجربہ کار آئی آر جی سی کمانڈر محسن رضائی ایران کے قومی سلامتی کے سربراہ مقرر
-
جموں و کشمیر5 hours agoیومِ آزادی سے قبل جموں و کشمیر پولیس نے سرحدی سامبا میں طویل فاصلے کی گشت اور فرضی انسدادِ دہشت گردی مشق کی
-
دنیا9 hours agoٹرمپ کا ایران سے معاوضے کا مطالبہ، آبنائے ہرمز پر مذاکرات جاری
-
ہندوستان7 hours agoپارلیمنٹ کے احاطے میں اپوزیشن ارکانِ پارلیمنٹ کا احتجاج
-
دنیا6 hours agoایران نے خود کو ایک ‘ناقابل تسخیر طاقت’ ثابت کیا ہے: عراقچی
-
دنیا5 hours agoشام کے سابق صدر بشار الاسد کو سزائے موت سنادی گئی
-
دنیا10 hours agoیمن میں حوثیوں کے المخا اور مارب پر بیلسٹک میزائل حملے
-
دنیا9 hours agoایران اور عمان کے درمیان آبنائے ہرمز پر مذاکرات جاری
