ہندوستان
مرکز دہلی کی منتخب حکومت کو کام کرنے نہیں دے رہا ہے: کیجریوال
نئی دہلی، دہلی کے وزیر اعلی اروند کیجریوال نے پیر کو کہا کہ دہلی ایک مکمل ریاست نہیں ہے اور اس کی اصل طاقت مرکزی حکومت کے پاس ہونے کی وجہ سے وہ دہلی کے اندر منتخب حکومت کو کام نہیں کرنے دے رہی ہے۔
دہلی جل بورڈ کی ’ون ٹائم سیٹلمنٹ‘ اسکیم پر بحث کی حمایت کرتے ہوئے مسٹر کیجریوال نے کہا کہ دہلی میں ہماری حکومت ہے۔ اس کے باوجود ہماری حکومت کی ایک پالیسی پر عمل نہیں ہو رہا۔ دہلی کے اندر لوگوں کو غلط بل مل رہے ہیں اور ان بلوں کو درست کرانے کے لیے یہ پالیسی لائی جا رہی ہے۔ ایوان میں حکمران جماعت کہہ رہی ہے کہ پانی کے صارفین کے غلط بلوں کو درست کیا جائے اور اپوزیشن کہہ رہا ہے کہ ٹھیک نہیں ہونے چاہیے۔ دہلی کے حوالے سے یہ ایک بڑی بے ضابطگی ہے۔
کہنے کو تو دہلی آدھی ریاست ہے، لیکن ہمیں لگتا ہے کہ پانچ فیصد بھی ریاست نہیں ہے۔ اگر دہلی ایک مکمل ریاست ہوتی تو کسی افسر کی ہمت نہیں تھی کہ وہ وزیر اعلیٰ یا وزیر کے حکم کی خلاف ورزی کرکے دو منٹ بھی اپنے عہدے پر برقرار رہ پاتا۔ دہلی ایک مکمل ریاست نہیں ہے اس لیے اصل طاقت مرکزی حکومت کے پاس ہے۔ مرکز میں دوسری پارٹی کی حکومت ہے اور وہ نہیں چاہتی کہ دہلی کے اندر منتخب حکومت کام کرسکے۔
انہوں نے کہا کہ یہاں دہلی جل بورڈ کے تقریباً 27 لاکھ صارفین ہیں۔ ان میں سے تقریباً 10 لاکھ یعنی 40 فیصد گھریلو صارفین اپنے پانی کے بل ادا نہیں کر رہے ہیں۔ ان صارفین کو لگتا ہے کہ ان کے بل غلط آئے ہیں، ان کے بل درست نہیں ہیں۔ اگر کسی ریاست کے 40 فیصد گھریلو صارفین پانی کے بل ادا نہیں کر رہے ہیں تو کسی بھی ذمہ دار حکومت کی ذمہ داری ہے کہ وہ اس بارے میں کوئی پالیسی بنائے۔ ایک طرف تمام صارفین ناخوش ہیں۔ کووڈ کے دوران بڑے پیمانے پر مسائل پیدا ہوئے اور آج 40 فیصد دہلی پانی کے غلط بلوں کی شکار ہے۔
وزیر اعلیٰ نے کہا کہ ہماری حکومت عوام کی حکومت ہے۔ ہم عوام کی فلاح و بہبود کا خیال رکھتے ہیں۔ کئی ارکان نے ایوان کو بتایا کہ اگر وہ اپنے دفتر میں بیٹھے ہیں تو غلط بلوں کو درست کرنے کا رش ہوتا ہے۔ اس کو کیسے نظر انداز کیا جا سکتا ہے؟ ہماری حکومت دہلی کے لوگوں کے پانی کے بل کے مسئلے کو حل کرنے کے لیے ون ٹائم سیٹلمنٹ اسکیم لے کر آئی ہے۔ اس اسکیم کے تحت، اگر کسی صارف نے جب سے اپنے پانی کا بل جمع نہیں کیا ہے، اس دوران اس کی دو یا دو سے زیادہ اوکے ریڈنگ ملتی ہے تو اس ریڈنگ کو درست مان لیاجائے گا اور اس کا اوسط نکال کر اس پر بقیہ ماہ کا بل بنادیاجائے گا۔
انہوں نے کہا کہ ون ٹائم سیٹلمنٹ اسکیم 13 جون 2023 کو منظور ہوئی تھی۔ اس پلان پر فوری عمل درآمد ہونا چاہیے تھا۔ ڈی جے بی بورڈ سے اسے منظور ہوئے آٹھ ماہ ہوچکے ہیں لیکن افسران نے اس پر عمل درآمد کرنے سے انکار کردیا۔ آج صورتحال یہ ہے کہ منصوبہ کابینہ میں لانا پڑا۔ اس منصوبے پر عملدرآمد اسی صورت میں ہو گا جب کابینہ اسے منظور کر لے گی۔
انہوں نے کہا کہ دہلی میں سنگین آئینی بحران پیدا کرنے کے پیچھے بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کا ہاتھ ہے۔ بی جے پی دہلی والوں سے نفرت کرتی ہے۔ جب دہلی کے لوگ غمگین ہوتے ہیں تو بی جے پی کے اندر خوشی کی لہر دوڑ جاتی ہے۔ جب دہلی والے بیمار ہوتے ہیں تو بی جے پی والے خوش ہوتے ہیں۔ بی جے پی کے لوگ دہلی کو برباد کرنا چاہتے ہیں۔ انہوں نے دو مہینے تک دہلی حکومت کے اسپتالوں کی ادویات بند کر دیں۔ انہوں نے محلہ کلینک کا تین ماہ تک کرایہ ادا کرنے کی اجازت نہیں دی۔ اب یہ لوگ ون ٹائم سیٹلمنٹ سکیم کی مخالفت کر رہے ہیں۔
یواین آئی۔الف الف
ہندوستان
اروناچل ہندستان کا اٹوٹ حصہ، سرحد کی صورتحال ہی چین کے ساتھ دوطرفہ تعلقات کی بنیاد:ہندستان
نئی دہلی ہندستان نے اروناچل پردیش کو اپنا ناقابلِ تقسیم اور اٹوٹ حصہ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ چین کے ساتھ اس کے دوطرفہ تعلقات سرحد کی صورتحال پر مبنی ہوں گے اور سرحدی صورتحال کا ان تعلقات پر براہِ راست اثر ہوگا۔
وزارتِ خارجہ کے ترجمان رندھیر جیسوال نے منگل کے روز یہاں میڈیا بریفنگ میں سوالات کے جواب دیتے ہوئے یہ بات کہی۔ دراصل چین کی جانب سے اروناچل پردیش اور اس کے کچھ مقامات کے نام تبدیل کرنے کے ردعمل میں ہندستان نے حال ہی میں اروناچل پردیش کی 27 اہم جگہوں کو سروے آف انڈیا کے نقشے میں سرکاری طور پر نشان زد کر دیا ہے۔ اس پر چین کی طرف سے منفی ردعمل سامنے آیا ہے۔ چین کے اس ردعمل کے بارے میں پوچھے جانے پر مسٹر جیسوال نے کہا کہ اروناچل پردیش ہندستان کا ناقابلِ تقسیم اور اٹوٹ حصہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ ایک مسلمہ حقیقت ہے اور کوئی بھی اس ناقابلِ تردید سچائی کو بدل نہیں سکتا۔
دونوں ممالک کے درمیان سرحد پر صورتحال کے بارے میں پوچھے گئے سوال کے جواب میں ترجمان نے کہا کہ ہندستان سرحد سے جڑے معاملات کو انتہائی سنجیدہ مانتا ہے اور سرحد پر امن و استحکام اس کی ترجیح ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ سرحد کی صورتحال کا ہندستان اور چین کے تعلقات پر براہِ راست اثر پڑے گا۔ ترجمان نے کہا، “ہندستان اور چین کے درمیان سرحدی علاقوں سے جڑے معاملات میں، ہم نے ہمیشہ چین کے ساتھ بات چیت میں اس بات پر زور دیا ہے کہ ہم ان مسائل کو بے حد سنجیدہ مانتے ہیں اور ان علاقوں میں امن و استحکام برقرار رکھنا سب سے زیادہ اہم ہے۔ ہم نے یہ بھی واضح کیا ہے کہ سرحدی معاملات کی صورتحال ہمارے وسیع دوطرفہ تعلقات کی صورتحال کی عکاسی کرے گی۔ اس بات کو 06 اگست کو حال ہی میں منعقدہ ‘ہند-چین سرحدی معاملات پر مشاورت اور ہم آہنگی کے ورکنگ میکانزم’ کی 36ویں میٹنگ میں بھی دہرایا گیا۔ اس میٹنگ میں دونوں فریقوں نے کھلی اور واضح بات چیت کی اورحقیقی کنٹرول لائن (ایل اے سی) پر صورتحال کا جائزہ لیا۔”
مسٹر جیسوال نے کہا کہ میٹنگ میں ہندستان نے اس بات پر زور دیا کہ دوطرفہ تعلقات کی ہمہ گیر ترقی کے لیے سرحدی علاقوں میں امن و استحکام برقرار رکھنا انتہائی ضروری ہے۔ اس بات پر اتفاق ہوا کہ لائن آف ایکچوئل کنٹرول پر غلط فہمی اور غلط اندازوں سے بچنے نیز باقی بچے ہوئے مسائل کو حل کرنے کے لیے ورکنگ میکانزم کی میٹنگوں، مقامی کمانڈر سطح کی میٹنگوں اور دیگر میکانزم سمیت موجودہ سفارتی اور فوجی ذرائع کا استعمال جاری رکھا جائے گا۔
یو این آئی ایف اے
ہندوستان
سندوش کمار نے نِرملا سیتارمن کے تبصرے راجیہ سبھا کے ریکارڈ سے ہٹانے کا مطالبہ کیا
نئی دہلی، کمیونسٹ پارٹی آف انڈیا (سی پی آئی) کے راجیہ سبھا رکنِ پارلیمنٹ پی سندوش کمار نے وزیر خزانہ نِرملا سیتارمن کے ذریعہ پارلیمنٹ میں کمیونسٹ تحریک کے خلاف کیے گئے مبینہ قابلِ اعتراض تبصروں کو راجیہ سبھا کے ریکارڈ سے ہٹانے کا مطالبہ کیا ہے انہوں نے اس سلسلے میں راجیہ سبھا کے چیئرمین سی پی رادھا کرشنن کو منگل کے روز خط لکھا ہے۔
مسٹر کمار نے کہا کہ انکم ٹیکس (ترمیم) آرڈیننس 2026 کو منسوخ کرنے کے مطالبے پر ہونے والی بحث کے دوران وزیر خزانہ نے سی پی آئی (ایم) کے رکنِ پارلیمنٹ جان برٹاس کے حوالے سے کمیونسٹوں کو “ٹوٹل کائر” بتاتے ہوئے پوری کمیونسٹ تحریک پر تبصرہ کیا۔ سی پی آئی کے رکنِ پارلیمنٹ نے ان تبصروں پر سخت اعتراض ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ سیاسی اختلاف کو ذاتی اہانت یا کسی پوری سیاسی تحریک کی تذلیل تک محدود نہیں کیا جا سکتا۔ انہوں نے کہا کہ کمیونسٹوں نے ملک کی جدوجہدِ آزادی میں حصہ لیا، جیل گئے اور انگریزی حکومت کے مظالم اور جبر کا سامنا کیا نیز جمہوریت، مزدوروں کے حقوق، سماجی انصاف اور عوام کے حقوق کی جدوجہد میں اہم قربانیاں دیں۔
سی پی آئی کے رکنِ پارلیمنٹ نے چیئرمین سے پارلیمانی ضوابط اور قائم کردہ روایتوں کے مطابق قابلِ اعتراض تبصروں کو سرکاری ریکارڈ سے ہٹانے کی اپیل کی۔ انہوں نے کہا کہ پارلیمنٹ کے وقار کو برقرار رکھنے کے لیے تلخ سیاسی بحث تو قابلِ قبول ہے لیکن کسی نظریے یا سیاسی تحریک کے خلاف ذاتی اہانت اور قابلِ اعتراض تبصرے مناسب نہیں ہیں۔
یو این آئی ایف اے
ہندوستان
پارلیمنٹ کے احاطے میں اپوزیشن ارکانِ پارلیمنٹ کا احتجاج
نئی دہلی، کانگریس اور اپوزیشن جماعتوں کے ارکانِ پارلیمنٹ نے چڑھاوا چوری اور طلبہ پر پولیس کارروائی کے معاملے پر حکومت سے جواب طلب کرنے کے اپنے مطالبات کی حمایت میں منگل کے روز پارلیمنٹ کی کارروائی شروع ہونے سے پہلے پارلیمنٹ ہاؤس کے احاطے میں احتجاج کیا۔
مظاہرین ارکانِ پارلیمنٹ ہاتھوں میں بینرز اور تختیاں تھامے حکومت مخالف نعرے لگاتے رہے۔ احتجاجی ارکانِ پارلیمنٹ وزیرِ داخلہ امت شاہ سے پولیس کارروائی پر جواب دینے اور چڑھاوا چوری کے معاملے کی وسیع پیمانے پر تحقیقات کرانے کا مطالبہ کر رہے تھے۔
بارش کی بوچھاڑوں کے درمیان احتجاج کرنے والے ارکانِ پارلیمنٹ میں کانگریس کی پرینکا گاندھی واڈرا، سماج وادی پارٹی کے اکھلیش یادو، اودھیش پرساد، ترنمول کانگریس کی پرتیما منڈل، جھارکھنڈ مکتی مورچہ، شیو سینا (ادھو گروپ) اور دیگر کئی جماعتوں کے ارکانِ پارلیمنٹ موجود تھے۔
یواین آئی۔الف الف
-
دنیا2 days agoسعودی عرب میں فیکٹری میں آگ کے سبب 16 بنگلہ دیشی مزدور ہلاک
-
دنیا2 days agoایران کا فی الحال امریکہ کے ساتھ کوئی مذاکرات نہیں: ایرانی وزیر خارجہ
-
ہندوستان2 days agoطلبہ پر کارروائی کے معاملے پر حکومت کو گھیرتے ہوئے راہل کا مضمون، کھڑگے اور پرینکا نے حمایت کی
-
ہندوستان17 hours agoپارلیمنٹ کے احاطے میں اپوزیشن ارکانِ پارلیمنٹ کا احتجاج
-
دنیا15 hours agoایران نے خود کو ایک ‘ناقابل تسخیر طاقت’ ثابت کیا ہے: عراقچی
-
دنیا15 hours agoشام کے سابق صدر بشار الاسد کو سزائے موت سنادی گئی
-
جموں و کشمیر15 hours agoیومِ آزادی سے قبل جموں و کشمیر پولیس نے سرحدی سامبا میں طویل فاصلے کی گشت اور فرضی انسدادِ دہشت گردی مشق کی
-
دنیا19 hours agoیمن میں حوثیوں کے المخا اور مارب پر بیلسٹک میزائل حملے
-
دنیا19 hours agoٹرمپ کا ایران سے معاوضے کا مطالبہ، آبنائے ہرمز پر مذاکرات جاری
-
دنیا2 days agoٹرمپ جوہری معاہدے کے بغیر ایران کے ساتھ تنازع ختم کرنے پر تیار: رپورٹ
-
دنیا2 days agoتجربہ کار آئی آر جی سی کمانڈر محسن رضائی ایران کے قومی سلامتی کے سربراہ مقرر
-
دنیا19 hours agoایران اور عمان کے درمیان آبنائے ہرمز پر مذاکرات جاری
