تازہ ترین
ملک گیر لاک ڈاءون :14روزہ چوتھا مرحلے کا تیسرا دن
ملک گیر لاک ڈاؤن کے چوتھے مرحلے کے تیسرے دن بھی وادی کشمیر کے شہر و دیہات میں معمولات زندگی بری طرح مفلوج ہو کر رہ گئی ہے۔ اس دوران جگہ جگہ شہر و دیہات میں سناٹا چھایا رہا جبکہ شب قدر کی تقریب کے باوجود اکثر بازاروں میں مکمل خاموشی چھائی تھی جبکہ مرغ اور گوشت کی دکانین بزاروں میں بند پڑے دیکھے گئے ہیں ا۔گزشتہ دو روز سے اموات اور مثبت کیسو میں اضافے کے باعث جموں و کشمیر کے لوگ سخت ذہنی اضطراب میں مبتلا ہوئے ہیں ۔
کشمیر نیوز سروس (کے این ایس) کے مطابق وادی کشمیر میں بدھ کو مسلسل 63ویں روز بھی کورونا لاک ڈاؤن سختی کیساتھ نافذ رہا۔گزشتہ دنوں کے مقابلے میں لاک ڈاؤن میں مزید سختی لائی گئی۔اور 3روز کے دوران 4مریضوں کی موت ہوئی ہے اس طرح سے جموں و کشمیر میں یہ تعداد19تک پہنچ گیا ہے جبکہ مریضوں کی تعدادمیں مسلسل اضافہ ہونے کے بیچ بدھوار کو لاک ڈاؤن میں مزید سختی لائی گئی،تاکہ اس وبا کو مزید پھیلنے سے روکا جاسکے۔وادی کشمیر میں شمال وجنوب میں معمولات زندگی مکمل طور پر مفلوج ہو کر رہ گئے۔شہر ودیہات میں ہر طرح کی دکانیں،بازار،تجارتی و کاروباری اداے مرکز بند ہیں جبکہ پبلک ٹرانسپورٹ سڑکوں سے غائب ہے۔اس دوران لاک ڈاؤن کو سختی کیساتھ لاگو کرنے کیلئے سڑکوں،پلوں اور چوراہو ں پر پولیس وفورسز کی بھاری نفری تعینات کی گئی تھی جبکہ لوگوں کی نقل وحرکت کو روکنے کیلئے جگہ جگہ ناکہ بندی اور تار بندی بھی کی گئی ہے۔
گزشتہ دنوں کے دوران شہر کے سیول لائنز میں نجی گاڑیوں میں کافی اضافہ دیکھنے کو ملا جبکہ شہر خاص میں بھی نقل وحرکت میں اضافہ ہی دیکھنے کو ملا۔ادھر ضلع انتظامیہ بڈگام اور ترال میں نے منگل کے روز وسطی کشمیر کے ضلع میں دفعہ144کا نفاذ عمل میں لایا۔یہ اقدام کورونا وائرس کے پھیلاؤ کو روکنے کیلئے عمل میں لایا گیا ہے۔اس سلسلے میں ضلع کمشنر بڈگام کی طرف ایک حکمنامہ جاری کیا گیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ مہلک وائرس سے پورے ملک کے ساتھ ساتھ جموں کشمیر میں بھی تشویشناک صورتحال پیدا ہوگئی ہے۔
آرڈر میں بتایا گیا ہے ضلع کے اندر کورونا کے پھیلاؤ کو روکنے کیلئے اضافی اقدامات کئے گئے ہیں۔آرڈر میں درج ہے کہ ضلع میں کورونا کے پھیلاؤکو روکنے کیلئے دفعہ144نافذ کیا گیا ہے اور ساتھ ہی شام 7 بجے سے صبح 7 بجے تک لوگوں اور گاڑیوں کی نقل و حمل پر مکمل پابندی عاید کی گئی ہے۔آرڈر کے مطابق لوگوں کو صرف شدید مجبوری کے تحت ہی کہیں جانے کی اجازت دی جائے گی۔ آرڈر میں بتایا گیا ہے کہ مذکورہ احکامات کی خلاف ورزی کرنے والوں کیخلاف سخت قانون کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔ادھرذرائع سے معلوم ہوا ہے کہ سرینگر سمیت وادی بھردفعہ 144کے تحت حکم امتناعی برقرار ہے۔
پورے ملک میں لاک ڈاؤن کا چوتھا مرحلے کا دوسرا دن جاری۔ مرکزی وزارت داخلہ نے کل ملک میں لاک ڈاؤن کی مدت اِس مہینے کی31 تاریخ تک بڑھانے کا اعلان کیا۔24مارچ سے نافذ لاک ڈاؤن سے ملک میں کووڈ۔19 کو پھیلنے سیروکنے میں کافی مدد ملی ہے۔ البتہ لاک ڈاؤن کے چوتھے مرحلے میں قابل قدر نرمی کی جائیگی۔ مرکزی سرکار نے ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں کو ریڈ، اورینج اور گرینزون کی حدبندی کی اجازت دے دی ہے۔گھیرا بندی والے علاقے ریڈ اور اورینج زون کے دائرے میں آئیں گے، جبکہ علاقے کا ایک چھوٹا حصہ بفر زون ہوگا۔ گھیرا بندی والے علاقوں میں طبی اور ضروری سامان کی رسد کو چھوڑ کر کسی بھی طرح کی سرگرمی کی اجازت نہیں ہوگی۔ وزارت داخلہ نے اْن سرگرمیوں کی ایک فہرست جاری کی ہے، جن پر اگلے14دن تک پورے ملک میں پابندی عائد رہے گی۔
سبھی گھریلو اور بین الاقوامی ہوائی سفر، طبی اور دفاعی خدمات کو چھوڑ کر، باقی لوگوں کے لیے لاک ڈاؤن کے چوتھے مرحلے میں بھی بند رہے گا۔ میٹروریل بھی ابھی بند رہے گی۔ اسکول، کالجز، تعلیمی، تربیتی اور کوچنگ ادارے پورے ملک میں بند رہیں گے۔ ہوٹل اور ریستوراں بھی بند رہیں گے، تاہم مسافروں کی آسانی کے لییہوائیاڈوں، ریلوے اسٹیشنوں اور بس ڈپو میں کینٹین اور کھانے کے اسٹالز کھولنے کی اجازت ہوگی۔ سنیما ہالز، جم، شاپنگ مال، تفریحی پارک یا ایسی ہی جگہیں جہاں لوگ اکٹھا ہوتے ہوں،پورے ملک میں بند رہیں گی۔ سیاسی،سماجی اور ثقافتی عوامی جلسوں سمیت ہر طرح کے جلسے پر احتیاط کے طور پر پابندی رہے گی۔ عبادت گاہوں اور مذہبی اجتماعات پر سختی کے ساتھپابندی عائد رہے گی۔ شام سات بجے سے صبح سات بجے تک کا رات کا کرفیو31 مئی تک جاری رہے گا۔ریاستیں اور مرکزی انتظام والے علاقے بین ریاستی بس خدماتاور دیگر گاڑیوں کی آمد ورفت دوبارہ شروع کرنے کے بارے میں فیصلہ کریں گے۔بین ریاستی بس خدمات کے بارے میں فیصلہ متعلقہ ریاستوں کی باہمی رضامندی سے کیا جائے گا۔
سرکار نے اسپورٹس کمپلیکس اور اسٹیڈیم کھولنے کی بھی اجازتدے دی ہے، لیکن اِن مقامات پر لوگوں کو جانے کی اجازت نہیں ہوگی۔سرکار نے مختلف اداروں اور آجروں پر اس بات کو یقینی بنانے کے لیے زور دیا ہے کہ سبھی ملازمین اپنے موبائل فون پر آروگیہ سیتو ایپ ڈاؤن لوڈ کریں۔سرکار نے65 سال سے زیادہ عمر کے لوگوں،حاملہ خواتین اور10 سال سے کم عمر کے بچوں کو صلاح دی ہے کہ وہ لاک ڈاؤن نافذ رہنے تک اپنے گھروں میں ہی رہیں۔ادھر ایک میڈیا رپورٹ کے مطابق نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی یعنی این ڈی ایم اے نے مرکزی حکومت اور ریاستوں کو لاک ڈاون جاری رکھنے کی ہدایت دی۔ہندوستان میں دنیا کا سب سے بڑا لاک ڈاون مزید 14 دنوں کے لئے بڑھا دیا گیا ہے۔
یہ لاک ڈاون کا چوتھا مرحلہ ہے جو پیر کے روز یعنی18 مئی سے شروع ہو گیا اور31 مئی کو ختم ہو گا۔ اس پورے معاملے پر سی این بی سی ٹی وی۔18 کے ساتھ خاص بات چیت میں پی وی آر کے چیئرمین اور ایم ڈی اجئے بجلی نے بتایا کہ15 جون کے آس پاس شاپنگ مال کھل سکتے ہیں۔ اس کے ایک۔ دو ہفتے بعد سنیما ہال کو کھولنے کی منظوری بھی دی جا سکتی ہے۔ آپ کو بتا دیں کہ مارچ کے آخر سے ملک کی سبھی جگہوں پر شاپنگ ہال اور سنیما ہال بند ہیں۔نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی یعنی این ڈی ایم اے نے مرکزی حکومت اور ریاستوں کو لاک ڈاون جاری رکھنے کی ہدایت دی۔
اس کے بعد وزارت داخلہ نے نئے رہنما خطوط جاری کر دئیے۔ اس کے مطابق، سنیما ہال، شاپنگ مال، جم، سوئمنگ پول، انٹرٹینمنٹ پارک، تھئیٹر، آڈیٹوریم اور اسمبلی ہال بند رہیں گے۔اجے بجلی آگے کہتے ہیں کہ سنیما ہال میں بیٹھنے کے لئے کچھ تبدیلی کی جا سکتی ہے۔ جیسے فیملی اینڈ گروپ کو ایک ساتھ بٹھایا جائے گا۔ وہیں، دوسرے لوگوں کو بٹھانے کے لئے کچھ دوری رکھی جائے گی۔ لاک ڈاون کے بعد جلدی۔ جلدی فلمیں ریلیز ہو سکتی ہیں۔ وہیں، سبھی لوگوں کے لئے او ٹی ٹی پلیٹ فارم پر فلمیں ریلیز کرنا آسان کام نہیں ہے۔
ہندوستان
سودیشی جاگرن منچ کی حکومت سے امریکی ٹیرف کی دھمکیوں کے خلاف ڈٹے رہنے، لوگوں سے امریکی کمپنیوں کا بائیکاٹ کرنے کی اپیل
نئی دہلی، سودیشی جاگرن منچ (ایس جے ایم) نے امریکہ کی سینیٹ کی طرف سے حال ہی میں منظور کیے گئے اس قانون پر گہرے افسوس کا اظہار کیا ہے، جو امریکی صدر کو ان ملکوں پر 100 فیصد تک ٹیرف لگانے کا اختیار دیتا ہے جو روس سے بڑی مقدار میں تیل خریدتے ہیں تنظیم نے بدھ کے روز ایک بیان میں کہا کہ اس کا پختہ یقین ہے کہ کسی بھی ملک کو ہندوستان کی توانائی سکیورٹی اور خود مختار تجارتی پالیسی طے کرنے کا حق نہیں ہے۔ ایس جے ایم کے قومی شریک کنوینر اشونی مہاجن نے کہا، “اگرچہ ہم مانتے ہیں کہ اس قانون کو ابھی پورے قانون سازی کے عمل سے گزرنا باقی ہے اور ڈیوٹی خود بخود نافذ نہیں ہوگی، پھر بھی یہ واضح طور پر آزاد اور منصفانہ بین الاقوامی تجارت کے اصولوں اور ملکوں کے اپنی توانائی پالیسیاں طے کرنے کے خود مختار حق کے لیے ایک سنگین خطرہ پیدا کرتا ہے۔”
ایس جے ایم کا کہنا ہے کہ وہ اس معاملے پر حکومت ہند کے موقف کی مکمل حمایت کرتا ہے کہ روس سے خام تیل کی ہندوستان کی خریداری توانائی سکیورٹی، دستیابی، قیمت، سپلائی میں تنوع اور ہندوستانی صارفین کے مفادات پر مبنی ہے۔
ہندوستان نے بار بار یہ واضح کیا ہے کہ جائز بین الاقوامی منڈیوں سے توانائی خریدنے کے ہمارے خود مختار حق کو کوئی تیسرا ملک طے نہیں کر سکتا۔ تنظیم نے کہا ہے کہ یہ پہلی بار نہیں ہے جب امریکہ میں آنے والے سامان پر غیر منصفانہ ڈیوٹی لگانے کی دھمکی دی گئی ہے۔ ایسی دھمکیاں امریکی صدر کے طور پر ڈونلڈ ٹرمپ کی دوسری مدت کار کے آغاز سے ہی ملتی رہی ہیں؛ درحقیقت، امریکہ میں آنے والے ہندوستانی سامان پر کبھی کبھی بھاری ڈیوٹی لگائی گئی ہے، جس سے ہماری برآمدات پر کافی اثر پڑا ہے۔ ان ٹیرف کو الگ الگ ناموں سے جانا گیا ہے— جیسے ریسیپروکل ٹیرف اور قومی سکیورٹی ڈیوٹی سے لے کر سیکشن 301 ڈیوٹی، سیکشن 232 ڈیوٹی، تادیبی ڈیوٹی (روسی تیل خریدنے کے لیے)، تجارتی خسارہ ڈیوٹی اور جبری مشقت ڈیوٹی— اور یہ فہرست کبھی ختم نہیں ہوتی۔
یو این آئی ۔ ایف اے
ہندوستان
امت شاہ کی تقریر نہیں، ہمیں جواب چاہیے: راہل
نئی دہلی، لوک سبھا میں اپوزیشن لیڈر راہل گاندھی نے طلباء کے خلاف پولیس کارروائی پر وزیر داخلہ امت شاہ سے پارلیمنٹ میں جواب دینے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ اب تقریر نہیں، سوالات کے جواب چاہیئں مسٹر گاندھی نے بدھ کے روز پارلیمنٹ ہاؤس کے احاطے میں صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا، “مسٹر شاہ نے بچوں پر گولی چلانے کا حکم دیا تھا یا نہیں۔ دونوں ہی صورتوں میں انہیں استعفیٰ دینا چاہیے۔ ہمیں اب امت شاہ کی تقریر نہیں چاہیے۔ ہمیں جواب چاہیے۔ ہمارے طلباء پر گولی کس نے چلائی؟ گولی چلانے کا حکم کس نے دیا؟ کس نے ایک طالب علم کی آنکھ کی بینائی چھینی؟ کیلوں والی لاٹھیوں کے استعمال کا حکم کس نے دیا؟”
انہوں نے دعویٰ کیا کہ یہ حکم وزارتِ داخلہ سے آیا تھا۔ انہوں نے سوال کیا کہ کیا مسٹر شاہ نے بچوں پر گولی چلانے کا حکم دیا تھا یا نہیں۔ مسٹر گاندھی نے کہا کہ دونوں ہی صورتوں میں مسٹر شاہ کو استعفیٰ دینا چاہیے۔
اپوزیشن لیڈر نے کہا، “سچ یہ ہے کہ امت شاہ کی امیج کا غبارہ پھٹ چکا ہے۔ ان کے اندر پارلیمنٹ آنے کی ہمت ہی نہیں ہے۔”
مسٹر گاندھی نے میڈیا سے بھی سوال کیا کہ جب مسٹر شاہ بولتے ہیں تو کیا میڈیا انہیں بیچ میں روکتا ہے؟ انہوں نے پوچھا، “امت شاہ میں ایسی کیا خاص بات ہے کہ پورا میڈیا خاموشی سے کھڑا رہتا ہے؟” انہوں نے کہا کہ جب ملک کے طلباء وزیر اعظم نریندر مودی اور مسٹر شاہ سے نہیں ڈر رہے ہیں تو میڈیا کو بھی ان سے ڈرنا نہیں چاہیے۔
لوک سبھا میں اپوزیشن لیڈر نے کہا، “مسٹر شاہ میں پارلیمنٹ آنے کی ہمت ہی نہیں ہے۔ وہ 20 دنوں سے غائب ہیں۔ اپنے چیمبر میں بیٹھے رہتے ہیں لیکن ایوان میں نہیں آتے۔ ان کے قافلے میں تقریباً 30 گاڑیاں چلتی ہیں، گھر کے آگے ہزاروں پولیس والے کھڑے رہتے ہیں کہ کوئی بچہ نہ آ جائے۔ ان کی شبیہ والے غبارے کی ہوا نکل چکی ہے۔ اب زبردستی اس میں ہوا بھرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔”
یو این آئی ایف اے
جموں و کشمیر
معروف کشمیری مصنف سروا نند کول ‘پریمی’، ان کے چھوٹے بیٹے ویریندر کول کے قتل کیس میں جموں و کشمیر میں نو مقامات پر چھاپے
سرینگر، جموں و کشمیر کی اسٹیٹ انویسٹی گیشن ایجنسی (ایس آئی اے) نے بدھ کے روز معروف کشمیری شاعر و مصنف سروا نند کول ‘پریمی’ اور ان کے چھوٹے بیٹے ویریندر کول کے 1990 میں ہونے والے قتل کے سلسلے میں جموں و کشمیر میں نو مقامات پر چھاپے مارے۔
حکام نے بتایا کہ یہ تلاشی ضلع اننت ناگ کے ڈورو تھانے میں درج ایف آئی آر کے تحت لی گئی۔ اس کیس کی تحقیقات اب ایس آئی اے کے سپرد کر دی گئی ہیں۔
بدھ کے روز چلائے گئے اس آپریشن کے دوران تلاشی والے مقامات، برآمد شدہ مواد یا ثبوتوں کے حوالے سے تفصیلی معلومات کا ابھی انتظار ہے۔
مسٹر پریمی (65) اور ان کے بیٹے ویریندر (27) کو مئی 1990 میں جنوبی کشمیر کے ضلع اننت ناگ میں واقع ان کے آبائی گاؤں میں دہشت گردوں نے قتل کر دیا تھا۔ اس واقعے کے ایک ہفتے کے اندر ہی کول خاندان نے کشمیر چھوڑ دیا تھا۔
مسٹر پریمی ایک معروف شاعر، مصنف اور مترجم تھے، جنہوں نے تین درجن سے زائد کتابیں تصنیف کی تھیں۔ ان کی اہم ادبی تخلیقات میں ‘بھگود گیتا’ کا اردو میں، ‘رامائن’ کا کشمیری میں اور ربندر ناتھ ٹیگور کی ‘گیتانجلی‘ کا ترجمہ شامل ہے۔
یہ تازہ چھاپے ایس آئی اے کی جانب سے 1990 میں کشمیری پنڈت نرس سرلا بھٹ کے قتل سے جڑے ایک اور طویل عرصے سے زیر التواء کیس میں چارج شیٹ داخل کرنے کے ایک ماہ سے زائد عرصے بعد سامنے آئے ہیں۔
ایجنسی نے 29 جون کو سرینگر کی ایک خصوصی عدالت کے سامنے 737 صفحات پر مشتمل چارج شیٹ پیش کی تھی، جس میں محترمہ سرلا بھٹ کے اغوا اور قتل کے کیس میں جیل میں بند محمد یاسین ملک سمیت جموں کشمیر لبریشن فرنٹ (جے کے ایل ایف) کے پانچ کارندوں کے نام شامل ہیں۔ ملزمان میں سے تین کی موت ہو چکی ہے، جبکہ خورشید احمد چالکو فرار ہے اور اس کے پاکستان بھاگ جانے کا اندیشہ ہے۔
ایس آئی اے نے کشمیر میں دہشت گردی کے ابتدائی دور کے پرانے مقدمات کی تحقیقات کی کوششوں کے تحت سرلا بھٹ کیس کو دوبارہ کھولا تھا۔
یواین آئی۔الف الف
-
دنیا2 days agoایران کا فی الحال امریکہ کے ساتھ کوئی مذاکرات نہیں: ایرانی وزیر خارجہ
-
ہندوستان2 days agoطلبہ پر کارروائی کے معاملے پر حکومت کو گھیرتے ہوئے راہل کا مضمون، کھڑگے اور پرینکا نے حمایت کی
-
دنیا2 days agoسعودی عرب میں فیکٹری میں آگ کے سبب 16 بنگلہ دیشی مزدور ہلاک
-
دنیا21 hours agoایران نے خود کو ایک ‘ناقابل تسخیر طاقت’ ثابت کیا ہے: عراقچی
-
دنیا21 hours agoشام کے سابق صدر بشار الاسد کو سزائے موت سنادی گئی
-
جموں و کشمیر21 hours agoیومِ آزادی سے قبل جموں و کشمیر پولیس نے سرحدی سامبا میں طویل فاصلے کی گشت اور فرضی انسدادِ دہشت گردی مشق کی
-
دنیا2 days agoٹرمپ جوہری معاہدے کے بغیر ایران کے ساتھ تنازع ختم کرنے پر تیار: رپورٹ
-
دنیا1 day agoیمن میں حوثیوں کے المخا اور مارب پر بیلسٹک میزائل حملے
-
دنیا19 hours agoموساد کے سابق سربراہ کا انکشاف، ماضی میں ایران کی فردو جوہری تنصیب کا کئی بار دورہ کیا
-
دنیا1 day agoٹرمپ کا ایران سے معاوضے کا مطالبہ، آبنائے ہرمز پر مذاکرات جاری
-
دنیا1 day agoایران اور عمان کے درمیان آبنائے ہرمز پر مذاکرات جاری
-
ہندوستان23 hours agoپارلیمنٹ کے احاطے میں اپوزیشن ارکانِ پارلیمنٹ کا احتجاج
