ہندوستان
مودی کے دورے سے ہندوستان اور جاپان کے تعلقات مضبوط ہوں گے
نئی دہلی، وزیر اعظم نریندر مودی کے جاپان کے آٹھویں دورے سے، جو 15ویں ہندوستان-جاپان سالانہ چوٹی کانفرنس میں شرکت کے لیے آج شام ٹوکیو روانہ ہو رہے ہیں، توقع ہے کہ دونوں ملکوں کے درمیان دفاع، تجارت، سرمایہ کاری اور بنیادی ڈھانچے کی سہولیات کے میدان میں تعاون کو فروغ ملے گا۔ مودی، جو جاپان کے وزیر اعظم شیگیرو ایشیبا کی دعوت پر دو روزہ دورے پر جا رہے ہیں، ان کا مقصد دونوں ممالک کے درمیان 2000 سے جاری عالمی شراکت داری اور 2014 میں شروع ہونے والی خصوصی اسٹریٹجک شراکت داری کو مزید مضبوط بنانا ہے۔ مودی کے جاپان کے دورے کو بہت اہم قرار دیا جا رہا ہے، جو کہ جاپان کے ساتھ تعطل اور امریکہ کے ساتھ تعطل کے درمیان آ رہا ہے۔ وزیر اعظم ایشیبا کے ساتھ مسٹر مودی کی یہ پہلی سالانہ چوٹی کانفرنس ہے اور اسے اس لیے بھی اہم سمجھا جا رہا ہے کیونکہ گزشتہ سات برسوں میں یہ پہلا دورہ ہے جو مکمل طور پر دو طرفہ تعلقات کے لیے وقف ہے۔ 2014 میں عہدہ سنبھالنے کے بعد سے یہ وزیر اعظم کا جاپان کا آٹھواں دورہ ہے۔ اس سے جاپان کے ساتھ ہندوستان کے تعلقات کی اہمیت ظاہر ہوتی ہے۔ دونوں ممالک کے درمیان دوطرفہ تعلقات کے دائرہ کار اور خواہشات میں گزشتہ دہائی کے دوران مسلسل اضافہ ہوا ہے۔ اب اس میں تجارت اور سرمایہ کاری، دفاع اور سلامتی، سائنس اور ٹیکنالوجی، انفراسٹرکچر اور نقل و حرکت، عوام سے عوام کے رابطے اور دونوں فریقوں کے درمیان ثقافتی تعلقات شامل ہیں۔ جاپان طویل عرصے سے ہندوستان کا قابل اعتماد اور قابلبھروسہ دوست رہا ہے۔ اس کی ایک خصوصیت یہ ہے کہ دونوں ایشیائی ممالک کے درمیان دو طرفہ تجارت نے سال 2023-24 میں نئی بلندیوں کو چھو لیا، جو 22.8 بلین ڈالر تک پہنچ گئی۔
ہندوستان سے جاپان بھیجی جانے والی اشیاء میں کیمیکل، گاڑیاں، ایلومینیم اور سی فوڈ شامل ہیں جب کہ ہندوستان جاپان سے مشینری،ا سٹیل، تانبہ وغیرہ درآمد کرتا ہے۔ جاپان ہندوستان میں براہ راست غیر ملکی سرمایہ کاری کرنے والا پانچواں بڑا ملک ہے۔ جاپان نے 2023-24 میں ہندوستان میں 3.1 بلین امریکی ڈالر کی سرمایہ کاری کرکے ہندوستان کو ایک طویل مدتی سرمایہ کاری کی منزل کے طور پر رکھا ہے۔ اس کے نتیجے میں، تقریباً 1400 جاپانی کمپنیاں ہندوستان میں کامیابی سے کام کر رہی ہیں جبکہ 100 سے زیادہ ہندوستانی کمپنیاں جاپان میں کام کر رہی ہیں۔ ہندوستان میں جاپان کی سرمایہ کاری میں مسلسل اضافہ ہورہا ہے۔ گزشتہ دو برسوں میں 170 سے زیادہ معاہدے اور 13 بلین ڈالر سے زیادہ کی سرمایہ کاری ہندوستانی معیشت پر جاپان کے گہرے اعتماد کی عکاسی کرتی ہے۔ دونوں ممالک کے درمیان تعاون کے ابھرتے ہوئے کلیدی شعبوں میں سیمی کنڈکٹرز، اسٹارٹ اپس، صاف توانائی، رئیل اسٹیٹ، ایرو اسپیس اور مہارت کی ترقی شامل ہیں۔ سرمایہ کاری کی اس توسیع سے ہندوستان کی طویل مدتی اقتصادی صلاحیت پر جاپان کے یقین کو تقویت ملتی ہے۔ ہندوستانی چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباری ادارے جاپان کی سرمایہ کاری سے خاص طور پر فائدہ اٹھا رہے ہیں۔ جاپانی کمپنیاں ٹوکیو الیکٹران اور فیوجی فلم، ٹویوٹا اور سوزوکی، فیوجٹسو ان کاروباری اداروں کی ترقی میں مدد کر رہی ہیں۔ دونوں ممالک کے درمیان یہ باہمی شراکت داری اس بات کو یقینی بناتی ہے کہ میک ان انڈیا، میک فار دی ورلڈ کا خواب پورا ہو گا۔ جاپان اپنے سبز توانائی کے منصوبوں کے ذریعے ہندوستان کی دیہی معیشت کو براہ راست بااختیار بنا رہا ہے۔ جاپانی کمپنی سوجٹز کارپوریشن، انڈین آئل کے ساتھ شراکت میں 30 بایو گیس پلانٹس لگانے کے لیے395 ملین امریکی ڈالر کی سرمایہ کاری کر رہی ہے۔ اس اقدام سے ہندوستانی کسانوں کی آمدنی میں اضافہ ہوگا اور صاف توانائی کے شعبے میں بھی ایک بڑی پیش رفت ہوگی۔
مزید برآں، سوزوکی موٹر کارپوریشن، نیشنل ڈیری ڈیولپمنٹ بورڈ اور مقامی ڈیری کوآپریٹیو کے ساتھ مل کر، بایو گیس کی ایک پہل شروع کر رہے ہیں جو کاربن کے اخراج کو کم کرے گی، دیہی ملازمتیں پیدا کرے گی اور کسانوں کی آمدنی میں اضافہ کرے گی۔ اپنی نوعیت کے پہلے تعاون میں، ہندوستان اور جاپان نے گزشتہ پانچ برسوں میں پانچ لاکھ ہندوستانیوں اور جاپانیوں کا تعلیم، انٹرن شپ اور روزگار کے ذریعے تبادلہ کیا ہے۔ ہندوستان-جاپان شراکت داری نہ صرف معیشتوں بلکہ علاقائی سلامتی اور لچک کو بھی تشکیل دے رہی ہے۔ یہ حقیقت علاقائی اور عالمی تناظر میں واضح طور پر نظر آتی ہے۔ ہندوستان کی ایکٹ ایسٹ پالیسی اور انڈو پیسیفک اوشین انیشیٹو اور جاپان کا فری اینڈ اوپن انڈو پیسیفک آپس میں گہرا تعلق ہے۔ دونوں ممالک کے درمیان دو طرفہ تعاون کواڈ، انٹرنیشنل سولر الائنس، ڈیزاسٹر ریزیلینٹ انفراسٹرکچر کولیشن جیسے کثیر جہتی فورمز تک پھیلا ہوا ہے۔ ہندوستان اور جاپان کے درمیان دفاعی محاذ پر بھی گہرا تعاون ہے۔ دونوں ممالک کے درمیان اہم معاہدوں میں سیکورٹی تعاون پر مشترکہ اعلامیہ (2008)، دفاعی تعاون اور تبادلے پر مفاہمت کی یادداشت (2014)، معلومات کے تحفظ کا معاہدہ (2015)، سپلائی اور خدمات کی باہمی فراہمی کا معاہدہ وغیره شامل ہیں۔ اس کے علاوہ وزرائے خارجہ کی اسٹریٹجک ڈائیلاگ اور ٹو پلس ٹو وزارتی مذاکرات نے باہمی تعلقات کو نئی توانائی بخشی۔ آسام، مدھیہ پردیش، میگھالیہ اور تلنگانہ کے وزرائے اعلیٰ نے سرمایہ کاری کو راغب کرنے کے لیے 2025 میں جاپان کا دورہ کیا۔
یواین آئی، م ش
ہندوستان
مودی حکومت کی پالیسیوں نے معاشی لبرلائزیشن کو برباد کر دیا: کھرگے
نئی دہلی، کانگریس صدر ملکارجن کھرگے نے مودی حکومت کی معاشی پالیسیوں پر شدید نکتہ چینی کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس حکومت نے عام لوگوں کے مفادات کو نظر انداز کر کے صارفین کے لیے متعدد اختیارات کی مسابقت کو ختم کر دیا ہے اور منتخب سرمایہ دار دوستوں کو فائدہ پہنچایا جا رہا ہے، جس سے معاشی لبرلائزیشن کی بنیاد برباد ہو گئی ہے۔
مسٹر کھرگے نے جمعہ کے روز سوشل میڈیا پلیٹ فارم ‘ایکس’ پر لکھا کہ مودی حکومت کی معاشی پالیسیوں کا مقصد معیشت کا کنٹرول اپنے چہیتے سرمایہ دار دوستوں کے ہاتھوں میں سونپنا ہے، تاکہ بدلے میں منافع میں بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کا حصہ برقرار رہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ مسابقت کو ختم کر کے اجارہ داری اور دو کمپنیوں کے غلبے والے نظام کو نافذ کر کے بی جے پی کے خزانے کو بھرنے کا کام کیا گیا ہے۔
کانگریس صدر نے کہا کہ ٹیلی کام کے شعبے میں 2014 سے پہلے 13 کمپنیاں تھیں، جبکہ اب صرف تین بڑی نجی کمپنیاں رہ گئی ہیں۔ اسی طرح اندرونِ ملک ہوا بازی کے شعبے میں 2014 سے پہلے سات کمپنیوں کے مقابلے اب صرف دو بڑی کمپنیاں رہ گئی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ڈیجیٹل ادائیگی، سیمنٹ اور فوڈ ڈیلیوری ایپس سمیت مختلف شعبوں میں حکومت کی ترجیح مسابقت کو ختم کرنا رہی ہے۔ مسٹر کھرگے نے کہا کہ کانگریس معاشی لبرلائزیشن کی بانی ہے، جبکہ بی جے پی پر اپنے منافع کے لیے ‘معاشی دہشت گردی’ نافذ کرنے کا الزام لگایا۔
مسٹر کھرگے نے دعویٰ کیا کہ حکومت کی معاشی پالیسیوں سے مائیکرو، اسمال اینڈ میڈیم انٹرپرائزز (ایم ایس ایم ای) اور دیگر چھوٹے و درمیانے درجے کی صنعتوں کو نقصان پہنچا ہے نیز ملک کے نوجوانوں کو شدید بے روزگاری کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔
یواین آئی ایف اے
ہندوستان
انڈیا اتحاد کے رہنماؤں سے جمعہ کی رات آٹھ بجے ملاقات کریں گی مرمو
نئی دہلی، انڈیا اتحاد کے رہنما جمعہ کی رات آٹھ بجے صدرِ جمہوریہ دروپدی مرمو سے ملاقات کر کے ووٹر لسٹ کی خصوصی تفصیلی نظرثانی (ایس آئی آر) کےعمل کے ذریعے دھاندلی کرنے اور الیکشن کمیشن کے طریقہ کار سے متعلق مسائل پر اپنے خدشات پیش کریں گے۔
ذرائع کے مطابق انڈیا اتحاد کے رہنماؤں نے 30 ستمبر کو یہاں منعقدہ میٹنگ میں صدرِ جمہوریہ سے ملاقات کر کے ان مسائل پر ان کے سامنے اپنا موقف رکھنے کا فیصلہ کیا تھا۔ اتحاد کے رہنما ایس آئی آر کے عمل اور چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے طریقہ کار سے متعلق اپنے خدشات سے صدرِ جمہوریہ کو آگاہ کرنا چاہتے ہیں۔
اس سلسلے میں صدرِ جمہوریہ سے ملاقات کے لیے پہلی بار دو اکتوبر کو مکتوب بھیج کر وقت مانگا گیا تھا۔ راشٹرپتی بھون کی طرف سے وفد میں شامل ہونے والے رہنماؤں کے نام مانگے جانے کے بعد اتحاد نے پانچ اکتوبر کو دوبارہ مکتوب بھیجا اور سات، آٹھ یا نو اکتوبر میں سے کسی بھی دن ملاقات کا وقت دینے کی درخواست کی تھی۔
انڈیا اتحاد کے رہنما چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار پر ووٹر لسٹ میں مبینہ دھاندلیوں کے تعلق سے سوال اٹھاتے ہوئے ان کے استعفے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ اس معاملے پر اتحاد کے اراکینِ پارلیمنٹ نے مظاہرے اور مارچ بھی نکالے ہیں۔
کانگریس نے الیکشن کمیشن کے خلاف اپنے احتجاج کو تیز کرنے کے لیے تقریباً ڈیڑھ ماہ تک جاری رہنے والی تحریک کے پروگرام کی بھی توثیق کی ہے۔ کانگریسی رہنما راہل گاندھی اور پرینکا گاندھی واڈرا کو پولیس مظاہرے کے دوران مسلسل دو بار حراست میں بھی لے چکی ہے۔
یواین آئی ایف اے
ہندوستان
ہندوستان نے امریکہ کے پی ای آر ایم پروگرام پر روک پر تشویش کا اظہار کیا، کہا – یہ دونوں ممالک کے مفادات کے خلاف
نئی دہلی، ہندوستان نے امریکی محکمہ محنت کے مستقل لیبر سرٹیفیکیشن پروگرام (پی ای آر ایم) سے جڑے فیصلے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اسے دونوں ممالک کے مفادات کے خلاف بتایا ہے۔
امریکہ کی جانب سے جمعرات کی رات اس قدم کے اعلان کے بعد وزارتِ خارجہ نے جمعہ کے روز ایک بیان جاری کر کے کہا کہ اس قدم سے متاثرہ کمپنیوں کے اہل ملازمین کے گرین کارڈ کے عمل پر اثر پڑ سکتا ہے۔ تاہم پی ای آر ایم درخواستوں پر روک سے موجودہ ایچ-1بی ویزا یا ویزا ہولڈرز اور ان کے زیرِ کفالت افراد کی حیثیت پر خود بخود کوئی اثر نہیں پڑتا۔
ہندوستان نے کہا کہ پی ای آر ایم پروگرام، ایچ-1بی ویزا پروگرام سے مختلف ہے۔ متاثرہ کمپنیوں کے اہل ملازمین کی مستقل رہائش یعنی گرین کارڈ حاصل کرنے کے عمل پر اس کا کچھ اثر ہو سکتا ہے، لیکن اس سے موجودہ ایچ-1بی ویزا کی میعاد اپنے آپ ختم نہیں ہوتی۔
وزارتِ خارجہ نے کہا ہے کہ ہندوستانی ٹیلنٹ کے امریکہ جانے سے دونوں ممالک کی معیشتوں کو فائدہ ہوتا ہے۔ اس سے ہندوستانیوں کو مواقع ملتے ہیں، جبکہ امریکی کمپنیوں کو ہنر مند ملازمین، نئی ٹیکنالوجی، تحقیق، جدت طرازی، پیداواری صلاحیت اور مسابقتی صلاحیت بڑھانے میں مدد ملتی ہے۔ اس سے امریکہ میں روزگار کے مواقع پیدا ہوتے ہیں اور شیئر ہولڈرز کے اثاثوں میں بھی اضافہ ہوتا ہے۔
ہندوستان نے کہا کہ امریکہ کا یہ قدم دونوں ممالک کے مشترکہ اہداف کو آگے بڑھانے میں مدد نہیں کرتا۔ ہندوستان نے امریکی نائب صدر کے اس معاملے پر کیے گئے تبصروں پر بھی اعتراض ظاہر کیا۔ ہندوستان کے مطابق ایسے تبصرے غیر مناسب ہیں اور امریکہ کی معیشت نیز جدت طرازی میں ہندوستانی پیشہ ور افراد کی خدمات کو نظر انداز کرتے ہیں۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ ہندوستانی پیشہ ور افراد امریکہ کی معیشت اور جدت طرازی کے نظام میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ امریکہ کی تاریخ بھی ایسے تارکینِ وطن کی خدمات سے بنی ہے جنہوں نے اپنے کام، کاروبار اور نئے خیالات سے ملک کی ترقی میں مدد کی ہے۔ ہندوستان نے کہا کہ دردناک تاریخی اور نوآبادیاتی دور کی یاد دلانے والے الفاظ کا استعمال انتہائی قابلِ اعتراض ہے۔
وزارتِ خارجہ نے کہا کہ وہ اس معاملے سے جڑی صورتحال پر مسلسل نظر رکھے ہوئے ہے۔
یواین آئی ایف اے
-
جموں و کشمیر1 week agoسری نگر پولیس نے بین ریاستی منشیات نیٹ ورک کا پردہ فاش کیا، آٹھ افراد گرفتار
-
دنیا1 week agoقطری ثالثی کی امریکہ، ایران کے درمیان مذاکرات میں معمولی پیش رفت
-
دنیا1 week agoروس پر براہِ راست حملے کی صورت میں ہر قسم کے ہتھیار استعمال کرنےکا معاملہ ایجنڈے پر ہو گا :پوتن
-
ہندوستان1 week agoوندے بھارت نے چِناب پل اور کیبل اسٹڈ انجی پل کو 100 کلومیٹر کی رفتار سے عبور کیا
-
جموں و کشمیر7 days agoگاندھی کے عدم تشدد اور سودیشی کے نظریات آج بھی اہم ہیں: جموں کے ڈویژنل کمشنر
-
جموں و کشمیر1 week agoکشمیر میراتھن اتحاد اور نوجوانوں کے متبادل خواہشات کا پیغام دیتی ہے: ایل جی سنہا
-
دنیا6 days agoخمیس مشیط کی جانب داغے گئے تین حوثی بیلسٹک میزائل تباہ
-
جموں و کشمیر1 week agoجاوید ڈار نے اسمبلی میں سی اے جی کی رپورٹیں پیش کیں
-
دنیا7 days agoامریکہ، ایران جنگ بندی معاہدے کی راہ میں بداعتمادی اور گہرے اختلافات حائل
-
ہندوستان1 week agoکھرگے- راہل نے گاندھی اور شاستری کو یومِ پیدائش پر خراجِ عقیدت پیش کیا
-
دنیا1 week agoایران امریکہ سے مذاکرات کی کوشش جاری رکھے گا: پیزشکیان
-
جموں و کشمیر1 week agoاپوزیشن لیڈر کا عمر پر ریاستی حیثیت کی بحالی کے مطالبے کو ’سبوتاژ‘ کرنے کا الزام، جموں و کشمیر اسمبلی کا اجلاس ’بدقسمت‘ قرار
