تازہ ترین
میڈیا چینلوں پر ہنگامہ خیز مباحثوں سے نوجوان نئی دہلی سے مایوس:سابق ڈی جی پی کلدیب کھڈا
خبراردو:
سابق ڈائریکٹر جنرل آف پولیس کلدیپ کھڈا نے بتایاکہ نوجوانوں میں پائی جارہی بیگانگی اور مایوسی انتہا پسندی کی بنیادی وجہ ہے۔ انہوں نے بتایا کہ ریاست جموں وکشمیر کا وفاق ہند سے رشتہ مضبوط کرنے کی خاطر مرکزی سیاسی لیڈران اور میڈیا کو اہم کردار ادا کرنا ہوگا۔
سابق ڈائریکٹر جنرل آف پولیس کلدیپ کھڈا نے وادی کشمیر میں نوجوانوں کا جنگجوؤں کی صفوں میں شمولیت اختیار کرنا انتہائی تشویش ناک امر ہے۔ کلدیپ کھڈا کے مطابق نوجوانوں کے درمیان اس قسم کے رجحان کی اصل وجہ نوجوانوں میں پائی جارہی مایوسی اور بیگانگی ہے جسے دور کرنے کی اشد ضرورت ہے۔سابق پولیس چیف کے مطابق وادی میں جنگجوئیت کے اثر کو کم کرنے اور نوجوانوں کی صلاحیتوں کو مین اسٹریم میں لانے کے لیے یہاں کے سیاسی لیڈران اور میڈیا کو اپنا کردار ادا کرنا ہوگا تاکہ ریاست میں پائی جارہی بے چینی کو سدباب ہوسکے۔
کلدیپ کھڈا کے مطابق نوجوانوں کے اندر پائی جارہی مایوسی اور بیگانگی بڑی حد تک انتہاپسندی کے ساتھ جڑی ہوئی ہے۔سابق پولیس سربراہ کے مطابق جب مایوسی اور نااُمیدی جگہ بنالیتی ہے توایسے میں انتہا پسندی کا پروان چڑھنا فطری عمل ہے جو کہ جنگجوئیت کی جانب نوجوانوں کو دھکیلنے میں بڑا کردار ادا کرتی ہے۔انہوں نے واضح کیا کہ نوجوانوں میں پائی جارہی بیگانگی کے بہت ساری وجوہات ہوسکتی ہیں۔ سابق ڈی جی پی کلدیپ کھڈا نے پاکستان اور علیحدگی پسندوں پر چوٹ کرتے ہوئے کہا کہ یہی دونوں فیکٹر کشمیر میں نوجوانوں کے درمیان مایوسی اور انتہا پسندی کو پروان چڑھانے کی ذمہ دار ہے۔انہوں نے بتایا کہ پاکستان اور علیحدگی پسند جماعتیں یہاں نوجوانوں کو ورغلا کر اپنا سیاسی مقصد حاصل کرکے اپنے منصوبے کو پایہ تکمیل تک لے جانا چاہتے ہیں۔انہوں نے پاکستان پر الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ پڑوسی ملک نے 1990سے ہی یہاں نوجوانوں کو عسکریت کی طرف مائل کرنے میں اہم کردار ادا کیا تاکہ وہ زیادہ سے زیادہ نوجوانوں کو جنگجوئیت کی صفوں میں شامل کرکے آزادی کے بیانیہ کو قائم رکھ سکے۔
انہوں نے بتایا کہ سال 2014کے مابعد وادی کشمیر میں نوجوانوں کے درمیان انتہا پسندی کے رجحان میں ہوشربا اضافہ دیکھنے کو ملا۔ اگر ہم سیکورٹی زاویے سے وادی کشمیر کا گزشتہ برسوں کے دوران تجریہ کریں گے تو یہ بات عیاں ہوجاتی ہے سال 2014کے مابعد نوجوانوں کے درمیان انتہا پسندی کے رجحان نے ایک انقلابی کیفیت اختیار کی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ گزشتہ برسوں کے دوران نوجوانوں کو ورغلانے اور اُن میں تشدد کا مادہ پیدا کرنے کی لئے علیحدگی پسند جماعتیں اور الیکٹرانک میڈیا ذمہ دار ہے۔سابق ڈی جی پی کے مطابق گزشتہ برسوں میں وادی کشمیر کے اندر نوجوانوں میں مایوسی اور وفاق کے تئیں نفرت پیدا کرنے میں علیحدگی پسند جماعتوں کے بیانات نے جلتی پر تیل کا کام کیا۔ انہوں نے الیکٹرانک میڈیاکو بھی ذمہ دار ٹھہراتے ہوئے کہا کہ کشمیر وادی میں گزشتہ برسوں کے دوران الیکٹرانک میڈیا پر چلائے جارہے بے بنیاد پروپگنڈہ سے یہاں کی نوجوان نسل کو ورغلایا گیا اور اس طرح اُن میں وفاق کے تئیں بھر پور نفرت بھر دی گئی۔
کلدیپ کھڈا کے مطابق اس دوران وادی کشمیر میں پائی جارہی ہنگامہ خیز صورتحال کے بیچ یہاں کے نوجوان کو یہ سوچنے پر مجبور کردیا گیا کہ اُس کا مستقبل وفاق کے ساتھ محفوظ نہیں ہے۔ سابق ڈی جی پی نے وفاقی میڈیا پر برستے ہوئے کہا کہ کشمیر میں نوجوانوں کے اندر پائی جارہی مایوسی کی ایک بڑی وجہ اُن کا آئے روز غیر ضروری مختلف معاملات پر غیر ضروری بحث و مباحثہ ہے۔کلدیب کھڈا کے مطابق نوجوانوں کی طرف سے تشدد کی راہ اختیار کرنے کے بنیادی ذمہ دار وفاقی میڈیا پر آئے روز بحث و مباحثے ہیں جو غیر ضروری معاملات میں الجھ کر کشمیری نوجوان کو اس بات پر مجبور کرتے ہیں کہ اُن کا مستقبل بھارت کے ساتھ محفوظ نہیں ہے۔
انہوں نے بتایا کہ جب آپ کشمیریوں کو پاکستانی تصور کریں گے اور بحث و مباحثوں میں انہیں قوم دشمن جیسے القابات سے نوازیں گے تو انسان ہونے کے ناطے لازمی طور پر وہ انتہا پسندی کی جانب مائل ہوں گے۔ کشمیر نیوز سروس کے ساتھ بات کرتے ہوئے سابق ڈی جی پی نے بتایا کہ وادی میں پائی جارہی بیگانگی کو دور کرنے کی خاطر مرکزی سیاسی لیڈران کو آگے آکر ملک بھر میں اس کشمیریوں کی شناخت سے متعلق پروپگنڈے کو دور کرنا ہوگا۔انہوں نے مرکزی سیاسی لیڈران کو مشورہ دیتے ہوئے بتایا کہ وہ آگے آکر تشدد کی راہ اختیار کرچکے نوجوانوں کے دلوں کو جیتنے کے لیے ٹھوس اقدامات اُٹھائیں۔ انہوں نے وفاقی الیکٹرانک میڈیا کو بھی صلاح دیتے ہوئے کہا کہ انہیں بھی اپنے طور طریقے میں بدلاؤلانے کی ضرورت ہے اور انہیں بھی ایسے عوام دوست اقدامات اُٹھانے چاہیں جس کے نتیجے میں وادی کے نوجوانوں میں پائی جارہی مایوسی کو دور کیا جاسکے۔
کے این ایس
ہندوستان
اروناچل ہندستان کا اٹوٹ حصہ، سرحد کی صورتحال ہی چین کے ساتھ دوطرفہ تعلقات کی بنیاد:ہندستان
نئی دہلی ہندستان نے اروناچل پردیش کو اپنا ناقابلِ تقسیم اور اٹوٹ حصہ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ چین کے ساتھ اس کے دوطرفہ تعلقات سرحد کی صورتحال پر مبنی ہوں گے اور سرحدی صورتحال کا ان تعلقات پر براہِ راست اثر ہوگا۔
وزارتِ خارجہ کے ترجمان رندھیر جیسوال نے منگل کے روز یہاں میڈیا بریفنگ میں سوالات کے جواب دیتے ہوئے یہ بات کہی۔ دراصل چین کی جانب سے اروناچل پردیش اور اس کے کچھ مقامات کے نام تبدیل کرنے کے ردعمل میں ہندستان نے حال ہی میں اروناچل پردیش کی 27 اہم جگہوں کو سروے آف انڈیا کے نقشے میں سرکاری طور پر نشان زد کر دیا ہے۔ اس پر چین کی طرف سے منفی ردعمل سامنے آیا ہے۔ چین کے اس ردعمل کے بارے میں پوچھے جانے پر مسٹر جیسوال نے کہا کہ اروناچل پردیش ہندستان کا ناقابلِ تقسیم اور اٹوٹ حصہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ ایک مسلمہ حقیقت ہے اور کوئی بھی اس ناقابلِ تردید سچائی کو بدل نہیں سکتا۔
دونوں ممالک کے درمیان سرحد پر صورتحال کے بارے میں پوچھے گئے سوال کے جواب میں ترجمان نے کہا کہ ہندستان سرحد سے جڑے معاملات کو انتہائی سنجیدہ مانتا ہے اور سرحد پر امن و استحکام اس کی ترجیح ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ سرحد کی صورتحال کا ہندستان اور چین کے تعلقات پر براہِ راست اثر پڑے گا۔ ترجمان نے کہا، “ہندستان اور چین کے درمیان سرحدی علاقوں سے جڑے معاملات میں، ہم نے ہمیشہ چین کے ساتھ بات چیت میں اس بات پر زور دیا ہے کہ ہم ان مسائل کو بے حد سنجیدہ مانتے ہیں اور ان علاقوں میں امن و استحکام برقرار رکھنا سب سے زیادہ اہم ہے۔ ہم نے یہ بھی واضح کیا ہے کہ سرحدی معاملات کی صورتحال ہمارے وسیع دوطرفہ تعلقات کی صورتحال کی عکاسی کرے گی۔ اس بات کو 06 اگست کو حال ہی میں منعقدہ ‘ہند-چین سرحدی معاملات پر مشاورت اور ہم آہنگی کے ورکنگ میکانزم’ کی 36ویں میٹنگ میں بھی دہرایا گیا۔ اس میٹنگ میں دونوں فریقوں نے کھلی اور واضح بات چیت کی اورحقیقی کنٹرول لائن (ایل اے سی) پر صورتحال کا جائزہ لیا۔”
مسٹر جیسوال نے کہا کہ میٹنگ میں ہندستان نے اس بات پر زور دیا کہ دوطرفہ تعلقات کی ہمہ گیر ترقی کے لیے سرحدی علاقوں میں امن و استحکام برقرار رکھنا انتہائی ضروری ہے۔ اس بات پر اتفاق ہوا کہ لائن آف ایکچوئل کنٹرول پر غلط فہمی اور غلط اندازوں سے بچنے نیز باقی بچے ہوئے مسائل کو حل کرنے کے لیے ورکنگ میکانزم کی میٹنگوں، مقامی کمانڈر سطح کی میٹنگوں اور دیگر میکانزم سمیت موجودہ سفارتی اور فوجی ذرائع کا استعمال جاری رکھا جائے گا۔
یو این آئی ایف اے
دنیا
موساد کے سابق سربراہ کا انکشاف، ماضی میں ایران کی فردو جوہری تنصیب کا کئی بار دورہ کیا
یروشلم، اسرائیلی خفیہ ایجنسی موساد کے سابق سربراہ یوسی کوہن نے کہا ہے کہ انہوں نے ماضی میں ایران کی فردو یورینیم افزودگی تنصیب کا کئی مرتبہ دورہ کیا تھا، تاہم انہوں نے یہ نہیں بتایا کہ یہ دورے کب کیے گئے اور ان کے ہمراہ کون تھا۔
عبرانی زبان کے میڈیا کے مطابق صفد میں منعقدہ گیلیلی فورم سے خطاب کرتے ہوئے کوہن نے کہا، ’’ہم نے فردو جوہری تنصیب کا کئی بار دورہ کیا تاکہ اس مقام کو سمجھ سکیں۔‘‘
انہوں نے مزید کہا، ’’امریکیوں کی جانب سے اس پر بمباری میرے تمام خوابوں کی تکمیل تھی۔‘‘
فردو کے علاوہ ایران کی اصفہان اور نطنز میں موجود جوہری تنصیبات کو بھی جون 2025 میں ہونے والی 12 روزہ اسرائیل۔ایران جنگ کے دوران امریکی حملوں سے شدید نقصان پہنچا تھا۔
بعد ازاں ایسی رپورٹس سامنے آئی تھیں کہ ان تنصیبات پر موجود تقریباً 440 کلوگرام انتہائی افزودہ یورینیم زمین میں دفن کر دی گئی تھی۔ تاہم اسرائیل نے بعد میں اندازہ لگایا کہ تہران نے اس مواد میں سے کچھ کو ممکنہ طور پر پکیکس ماؤنٹین کے مقام پر منتقل کر دیا تھا۔
کوہن کے مطابق 60 فیصد تک افزودہ یورینیم اب بھی ’’بم بنانے سے بہت دور‘‘ ہے۔ تاہم یہ دعویٰ جوہری ماہرین کی بعض جائزہ رپورٹس سے مختلف ہے۔ جوہری ماہر ڈیوڈ البرائٹ کا کہنا ہے کہ 60 فیصد افزودہ یورینیم کو مزید افزودہ کرکے چند ہفتوں یا حتیٰ کہ چند دنوں میں ہتھیاروں کے درجے کے مواد میں تبدیل کیا جا سکتا ہے۔
کوہن اس سے قبل ایران کے جوہری پروگرام کو نشانہ بنانے والی موساد کی کارروائیوں کے بارے میں بھی کھل کر بات کر چکے ہیں۔ 2021 میں موساد کی سربراہی چھوڑنے کے فوراً بعد ایک غیر معمولی ٹیلی ویژن انٹرویو میں انہوں نے کئی کارروائیوں کی تفصیلات فراہم کی تھیں، جن میں 2018 میں تہران کے ایک گودام سے ایران کے جوہری محفوظ شدہ ریکارڈ چوری کرنے کی کارروائی بھی شامل تھی۔
انہوں نے یہ بھی اشارہ دیا تھا کہ نطنز میں ایران کی زیر زمین سینٹری فیوج تنصیب کے ایک حصے کی تباہی کے پیچھے بھی موساد کا ہاتھ تھا۔ انہوں نے تصدیق کی تھی کہ ایرانی جوہری سائنس دان محسن فخری زادہ کو موساد نے ہی ہلاک کیا تھا اور تہران کو جوہری ہتھیار تیار کرنے کی کوشش سے باز رہنے کی تنبیہ کی تھی۔
چینل 12 کو دیے گئے اس انٹرویو میں موساد کے سابق سربراہ نے ایران کے جوہری بنیادی ڈھانچے سے اپنی واقفیت کا بھی اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ اگر انہیں موقع دیا جائے تو وہ دیان کو نطنز میں زیر زمین موجود اس ’’تہہ خانے‘‘ میں لے جائیں گے جہاں، ان کے بقول، ’’سینٹری فیوجز گھومتے تھے۔‘‘
یو این آئی۔ ع ا۔
جموں و کشمیر
جموں میں آبادیاتی تبدیلیوں سے متعلق پینل کو پناہ گزینوں کی تنظیم نے یادداشت پیش کی
جموں، پی او جے کے سے بے گھر افراد کی تنظیم ایس او ایس انٹرنیشنل کے ایک وفد نے منگل کو یہاں جسٹس پرکاش پربھاکر نولیکر (ریٹائرڈ) کی سربراہی میں آبادیاتی تبدیلیوں سے متعلق پینل کو ایک تفصیلی یادداشت پیش کی۔
ایس او ایس انٹرنیشنل کے چیئرمین راجیو چونی کی قیادت میں وفد میں پروفیسر این این شرما (نائب چیئرمین)، ونود کمار دتہ (جنرل سکریٹری)، بھائی رام سنگھ (سکریٹری) اور وید راج بالی (سکریٹری) شامل تھے۔ وفد نے یادداشت پیش کرتے ہوئے 1947 سے پاکستان کے زیر قبضہ جموں و کشمیر (پی او جے کے) کی ہندو اور سکھ آبادی کے ساتھ روا رکھے گئے تاریخی ناانصافی کو ریکارڈ پر لایا اور پینل سے ٹھوس اصلاحی اقدامات کرنے کا مطالبہ کیا۔
جاری کردہ بیان کے مطابق یادداشت میں نشاندہی کی گئی کہ 1947 کے حملے کے بعد اس وقت کی جموں و کشمیر حکومت نے ابتدائی طور پر تقریباً 31,600 خاندانوں کا اندراج کیا تھا، جبکہ تقریباً 9,500 خاندانوں کو معمولی اور غیر معقول وجوہات کی بنیاد پر من مانے طریقے سے رجسٹریشن سے محروم کر دیا گیا۔
رجسٹرڈ خاندانوں میں سے صرف تقریباً 26,300 خاندانوں کو ریاست کے اندر آباد کیا گیا، جبکہ تقریباً 5,300 رجسٹرڈ خاندانوں کے ساتھ ساتھ 9,500 غیر رجسٹرڈ خاندانوں کو ہندوستان کے دیگر حصوں میں پناہ لینے پر مجبور ہونا پڑا۔ باقاعدہ طور پر رجسٹر کیے گئے خاندانوں کے ریکارڈ اب بھی جموں و کشمیر حکومت کے سرکاری ریکارڈ میں موجود ہیں۔
یادداشت میں کہا گیاکہ ’’یہ خاندان مہاراجہ ہری سنگھ کے 1927 کے اسٹیٹ سبجیکٹ قانون کے تحت ریاست کے اصل باشندے تھے اور انہوں نے بارہا اپنے آبائی وطن واپس جانے کی خواہش کا اظہار کیا ہے۔‘‘
تاہم بحالیِ آبادکاری کی کسی جامع پالیسی یا ادارہ جاتی مدد کی مکمل عدم موجودگی کے باعث ان کے پاس دوسری جگہ اپنی زندگی دوبارہ شروع کرنے کے علاوہ کوئی راستہ نہیں تھا۔ بیان کے مطابق اس وقت ریاست سے باہر رہنے والی ان کی آبادی کا تخمینہ پانچ سے چھ لاکھ ہے۔
ایس او ایس انٹرنیشنل نے یہ بھی نشاندہی کی کہ جموں و کشمیر کی اُس وقت کی حکومت کے 2014 کے کابینہ فیصلے میں ہر متاثرہ خاندان کو 25 لاکھ روپے نقد امداد، تعلیم یافتہ بے روزگار نوجوانوں کے لیے 8,500 سرکاری ملازمتیں اور پیشہ ورانہ و تکنیکی اداروں میں ریزرویشن دینے کا وعدہ کیا گیا تھا، لیکن جموں و کشمیر یا سابق ریاست سے باہر جلاوطنی کی زندگی گزارنے والے خاندانوں کے لیے اس پر عمل نہیں کیا گیا۔
جاری۔یواین آئی۔ طـ ا
-
دنیا2 days agoایران کا فی الحال امریکہ کے ساتھ کوئی مذاکرات نہیں: ایرانی وزیر خارجہ
-
دنیا2 days agoسعودی عرب میں فیکٹری میں آگ کے سبب 16 بنگلہ دیشی مزدور ہلاک
-
ہندوستان2 days agoطلبہ پر کارروائی کے معاملے پر حکومت کو گھیرتے ہوئے راہل کا مضمون، کھڑگے اور پرینکا نے حمایت کی
-
جموں و کشمیر16 hours agoیومِ آزادی سے قبل جموں و کشمیر پولیس نے سرحدی سامبا میں طویل فاصلے کی گشت اور فرضی انسدادِ دہشت گردی مشق کی
-
ہندوستان18 hours agoپارلیمنٹ کے احاطے میں اپوزیشن ارکانِ پارلیمنٹ کا احتجاج
-
دنیا17 hours agoایران نے خود کو ایک ‘ناقابل تسخیر طاقت’ ثابت کیا ہے: عراقچی
-
دنیا16 hours agoشام کے سابق صدر بشار الاسد کو سزائے موت سنادی گئی
-
دنیا21 hours agoیمن میں حوثیوں کے المخا اور مارب پر بیلسٹک میزائل حملے
-
دنیا20 hours agoٹرمپ کا ایران سے معاوضے کا مطالبہ، آبنائے ہرمز پر مذاکرات جاری
-
دنیا2 days agoٹرمپ جوہری معاہدے کے بغیر ایران کے ساتھ تنازع ختم کرنے پر تیار: رپورٹ
-
دنیا20 hours agoایران اور عمان کے درمیان آبنائے ہرمز پر مذاکرات جاری
-
دنیا2 days agoتجربہ کار آئی آر جی سی کمانڈر محسن رضائی ایران کے قومی سلامتی کے سربراہ مقرر
