تازہ ترین
نئی دہلی پاکستان کیطرف سے دوستی کی پیشکش کا مثبت جواب دیں: محبوبہ مفتی
خبراردو:
پی ڈی پی صدر اور سابق وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی نے وسطی کشمیر کے کنگن گاندربل میں پارٹی کارکنوں کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ریاست جموں وکشمیر میں منعقد ہونے والے پنچایتی اور بلدیاتی انتخابات سے قبل سیاسی پارٹیوں کا کل جماعتی اجلاس طلب کرنے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے بتایا کہ ریاست میں حالات فی الوقت الیکشن کے لیے موزوں نہیں ہیں لہٰذا ریاست کے گورنر کو تمام سیاسی پارٹیوں کا اجلاس طلب کر کے اُن کے ساتھ سیاسی و سیکورٹی صورتحال کے حوالے سے مشاورت کرنی چاہیے۔ پی ڈی پی صدر نے بتایا کہ گورنر کی سربراہی والی انتظامیہ نے الیکشن عمل کو منعقد کرانے کے لیے شیڈول بھی جاری کردیا ہے تاہم ہم سمجھتے ہیں انتخابات کے لیے فی الوقت حالات ناسازگار ہے۔
انہوں نے بتایا کہ وادی میں بالعموم اور جنوبی کشمیرمیں بالخصوص الیکشن عمل کو منعقد کرانے کے لیے حالات موافق نہیں ہے ۔ پی ڈی پی سمجھتی ہے کہ ریاستی گورنر ستیہ پال ملک تمام سیاسی جماعتوں کا اجلاس طلب کرکے حالات کو جاننے کی کوشش کریں۔ انہوں نے بتایا کہ گورنر کو چاہیے کہ وہ کل جماعتی اجلاس طلب کرکے تمام سیاسی پارٹیوں کے ساتھ صلاح و مشورہ کریں اور جہاں تک پی ڈی پی کا تعلق ہے ہم بھی زمینی صورتحال کو گورنر کے سامنے بیان کریں گے۔ محبوبہ مفتی نے بتایا کہ دفعہ 35Aکی شنوائی کو الیکشن تک مؤخر کرانے سے عوام میں مزید بے چینی کا اضافہ ہوا ہے۔ ریاستی حکومت نے سپریم کورٹ میں دفعہ 35Aکے حوالے جو مؤقف اختیار کیا اس سے عوام میں مزید کنفیوژن پید اہوا ہے۔ لوگ اس وقت یہ محسوس کررہے ہیں کہ الیکشن کے بعد پھر سے وادی میں امن و قانون کی صورتحال ابتر ہونے جارہی ہے۔
سابق وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی نے نئی دہلی پر زور دیتے ہوئے کہا کہ وہ پاکستانی وزیرا عظم عمران خان کی طرف سے دوستی کی پیش کش کا مثبت طریقے سے جواب دیں۔ انہوں نے کہا کہ حال ہی میں پاکستانی وزیراعظم عمران خان نے تمام مسائل کے تصفیہ کی خاطر بات چیت پر زور دیا ہے لہٰذا ہم سمجھتے ہیں کہ نئی دہلی کو پاکستان کی پیش کش کا خاطر خواہ جواب دینا چاہیے۔ محبوبہ مفتی نے بتایا کہ دونوں ممالک کی ترقی اس بات میں ہے کہ تمام مسائل کو بات چیت کے ذریعے سازگار ماحول میں حل کیا جائے تاکہ ریاست جموں وکشمیر کو مصیبت سے نجات دلائی جاسکے۔ انہوں نے بتایا کہ مرحوم مفتی محمد سعید نے بھی بار بار ہندوپاک مملکتوں کے درمیان دوستی پر زور دیا ۔ مرحوم مفتی محمد سعید کو ریاست کی وزارت اعلیٰ کی کرسی پر براجمان ہونے کا کوئی شوق نہیں تھا بلکہ وہ ریاستی عوام کو امن و سکون کی زندگی فراہم کرنے کی خاطر ایک سیاسی پہل کو شروع کرنے کے حق میں تھے۔ مرحوم مفتی محمد سعید ریاست کو مصیبت کے اس بھنور سے باہر نکالنے چاہتے تھے اسی لیے انہوں نے سابق وزیر اعظم آنجہانی اٹل بہاری واجپائی کے ساتھ ایک سیاسی پہل کی شروعات کی۔
انہوں نے بتایا کہ پی ڈی پی نے اسی مقصد کو سامنے رکھتے ہوئے نریندر مودی کی قیادت والی بھارتیہ جنتا پارٹی کے ساتھ ریاست میں حکومت سازی کی۔ انہوں نے بتایا کہ ہمارا بنیادی مقصد ریاست میں بات چیت کا سرنو آغاز تھا۔ انہوں نے نئی دہلی پر زور دیا کہ وہ بھی سابق وزیر اعظم اٹل بہاری واجپائی کے طریق کار پر چلتے ہوئے پاکستان کے ساتھ دوستی کا ہاتھ بڑھائیں۔ انہوں نے نئی دہلی کو مخاطب ہوکر کہا کہ جب تک نہ آپ مسائل کے تصفیہ کی خاطر سیاسی پہل کی شروعات کریں گے تب تک امن کا خواب شرمندہ تعبیر ہونے والا نہیں! انہوں نے بتایا کہ پاکستان کے وزیر اعظم عمران خان نے دونوں ممالک کے درمیان تنازعات کو بات چیت اور مذاکرات کے ذریعے حل کرنے کی پیش کش کی ہے لہٰذا نئی دہلی کو بھی آگے آکر پاکستان کی پیش کش کامثبت جواب دینا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ تمام مسائل کا حل بات چیت کے ذریعے ہی ممکن ہے اور اس کا کوئی متبادل بھی نہیں ہے۔ انہوں نے کہا جب ہی بات چیت اور مذاکرات کی شروعات ہوگی تب ہی ریاست جموں وکشمیر میں امن، خوشحالی اور ترقی کا راہیں کھلیں گی۔
جموں و کشمیر
یومِ آزادی سے قبل کشمیر بھر میں کثیر سطحی سکیورٹی انتظامات
سری نگر، 15 اگست کو یومِ آزادی کی تقریبات کے پیش نظر سری نگر اور وادیٔ کشمیر کے دیگر علاقوں میں کثیر سطحی سکیورٹی انتظامات کیے گئے ہیں۔
سری نگر میں جہاں وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ بخشی اسٹیڈیم میں قومی پرچم لہرائیں گے، سکیورٹی فورسز نے تقریب کے مقام اور اس سے متصل علاقوں میں سکیورٹی نظام کو مزید مضبوط کر دیا ہے۔
کشمیر کے انسپکٹر جنرل پولیس وی کے بردی نے منگل کو کہا کہ یومِ آزادی کی تقریبات کو خوش اسلوبی سے منعقد کرنے کے لیے نہ صرف مرکزی مقام بلکہ پورے شہر اور وادی کے مختلف اضلاع میں بھی وسیع سکیورٹی انتظامات کیے جا رہے ہیں۔
بردی نے نامہ نگاروں سے کہاکہ ’’جیسا کہ آپ جانتے ہیں، 15 اگست کو سری نگر میں مرکزی تقریب منعقد ہونے والی ہے۔
اس کے لیے سکیورٹی انتظامات اور پریڈ کی تیاریاں جاری ہیں۔ مکمل لباس میں ریہرسل کی جا رہی ہیں تاکہ 15 اگست کی مرکزی تقریب سری نگر میں بخوبی منعقد کی جا سکے۔‘‘
انہوں نے کہا کہ جموں و کشمیر پولیس نے پوری وادی میں کثیر سطحی سکیورٹی انتظامات کیے ہیں۔
آئی جی پی نے کہاکہ ’’جموں و کشمیر پولیس نے نہ صرف سری نگر بلکہ وادی کے مختلف اضلاع میں بھی کثیر سطحی سکیورٹی انتظامات کیے ہیں۔ یہ انتظامات صرف تقریبات کے مقامات تک محدود نہیں ہیں بلکہ شہر کے اطراف بھی کیے گئے ہیں۔ اس بار بھی اسی طرح کے انتظامات کیے گئے ہیں۔‘‘
جنوبی کشمیر میں حالیہ واقعات کے بعد ممکنہ دہشت گردانہ حملوں یا دیگر خطرات کے بارے میں کسی پیش رفت کے متعلق پوچھے جانے پر بردی نے کہا کہ معاملہ زیرِ تفتیش ہونے کی وجہ سے اس کی تفصیلات ظاہر کرنا مناسب نہیں ہوگا۔
انہوں نے کہاکہ ’’دیکھیے، یہ تفتیش کا معاملہ ہے۔ اس لیے میرے خیال میں ابھی اس کی تفصیلات ظاہر کرنا مناسب نہیں ہوگا۔
جب بھی ایسی کوئی بات ہوگی جسے آپ کے ساتھ شیئر کرنا ضروری ہوگا، ہم مناسب وقت پر آپ کو اس سے آگاہ کریں گے۔‘‘
یومِ آزادی کی تقریبات کے دوران عوام کے لیے پولیس کے پیغام کے بارے میں بردی نے کہا کہ یہ تقریب عوام کی ہے اور انہوں نے شہریوں سے بڑی تعداد میں تقریبات میں شرکت کرنے کی اپیل کی۔
آئی جی پی نے کہاکہ ’’دیکھیے، یہ عوام کی تقریب ہے۔ پولیس اس میں مددگار یا منتظم کا کردار ادا کرتی ہے۔ چونکہ یہ عوام کی تقریب ہے، اس لیے ہم لوگوں سے اپیل کرتے ہیں کہ وہ بڑی تعداد میں اس میں شرکت کریں اور اسے کامیاب بنائیں۔‘‘
دریں اثنا، منگل کو سکیورٹی اداروں نے یومِ آزادی کی تقریبات میں خلل ڈالنے کی کسی بھی کوشش کو ناکام بنانے کے لیے سخت سکیورٹی اقدامات کے تحت سری نگر بھر میں تخریب کاری مخالف جانچ، علاقے میں غلبہ قائم کرنے کی کارروائیوں، نگرانی اور تلاشی کی کارروائیاں تیز کر دیں۔
کئی چیک پوسٹوں پر دو پہیہ گاڑیوں کو روکا گیا اور سواروں کی شناخت کی تصدیق کے ساتھ ان کی تلاشی بھی لی گئی۔
یواین آئی۔ـظ ا
جموں و کشمیر
یومِ آزادی سے قبل جموں و کشمیر پولیس نے سرحدی سامبا میں طویل فاصلے کی گشت اور فرضی انسدادِ دہشت گردی مشق کی
جموں، آئندہ یومِ آزادی کی تقریبات کے پیش نظر آپریشنل تیاریوں کا جائزہ لینے، سکیورٹی انتظامات کو مضبوط بنانے اور کسی بھی ہنگامی صورت حال سے فوری طور پر نمٹنے کو یقینی بنانے کے لیے جموں و کشمیر پولیس نے منگل کو سامبا ضلع کے سرحدی علاقوں میں طویل فاصلے کی گشت (ایل آر پی) اور فرضی انسدادِ دہشت گردی مشق کا انعقاد کیا۔
عہدیداروں کے مطابق اسپیشل آپریشن گروپ (ایس او جی)، سامبا نے جموں-پٹھان کوٹ قومی شاہراہ پر جٹوال سے لالہ چک تک طویل فاصلے کی گشت کی۔
انہوں نے بتایا کہ گشت کے بعد سرحدی سڑک پر واقع بی پی پی لالہ چک میں فرضی مشق کی گئی، جس کا مقصد فرضی دہشت گردانہ صورت حال سے نمٹنے کے لیے حصہ لینے والے اہلکاروں کی تیاری کا جائزہ لینا تھا۔ مشق کے دوران دو فرضی دہشت گردوں کو تنصیب پر حملہ کرتے ہوئے دکھایا گیا۔
انہوں نے کہاکہ ’’فرضی خطرے پر فوری کارروائی کرتے ہوئے ایس او جی کے اہلکاروں نے علاقے کو مناسب طریقے سے گھیرے میں لے لیا اور دونوں فرضی دہشت گردوں کو کامیابی سے بے اثر کر دیا۔‘‘
عہدیداروں نے بتایا کہ اس مشق کا مقصد ایس او جی سامبا اور بی پی پی لالہ چک کے حصہ لینے والے اہلکاروں کے ردعمل کے نظام، باہمی تال میل، حربی تیاری اور ہنگامی صورت حال سے نمٹنے کی صلاحیتوں کو جانچنا تھا۔
ایس ایس پی سامبا نے پولیس کی جانب سے مضبوط سکیورٹی انتظامات برقرار رکھنے اور عوام کی سلامتی و تحفظ کو یقینی بنانے کے عزم کا اعادہ کیا، خاص طور پر آئندہ یومِ آزادی کی تقریبات اور جاری شری امرناتھ یاترا کے پیش نظر۔
یواین آئی۔ظ ا
دنیا
شام کے سابق صدر بشار الاسد کو سزائے موت سنادی گئی
دمشق، دمشق کی ایک عدالت نے منگل کو شام کے سابق صدر بشار الاسد کو منصوبہ بند قتل کا مجرم قرار دیتے ہوئے موت کی سزا سنائی ہے عدالت نے شام کے صوبہ درعا میں سیاسی سلامتی کے سابق سربراہ عاطف نجیب کو بھی سزائے موت سنائی عدالت نے نجیب کو منصوبہ بند قتل اور تشدد کا مجرم قرار دیا غور طلب ہے کہ بشار الاسد 2000 میں اپنے والد حافظ الاسد کی موت کے بعد شام کے صدر بنے تھے۔ ابتدائی طور پر، انہیں ایک جدید اور اصلاح پسند رہنما کے طور پر دیکھا جاتا تھا، لیکن جب 2011 میں ملک بھر میں ان کی حکمرانی کے خلاف بڑے پیمانے پر مظاہرے شروع ہوئے، تو انہوں نے انہیں کچلنے کے لیے سخت فوجی کارروائی کا سہارا لیا۔ اس کے بعد شام ایک طویل اور تباہ کن خانہ جنگی میں الجھ گیا، جس میں لاکھوں شہری مارے گئے اور لاکھوں بے گھر ہو گئے۔ اپنی دو دہائیوں سے زیادہ کی آمرانہ حکومت کے دوران، اسد پر اپنے ہی لوگوں کے خلاف کیمیائی ہتھیاروں کے استعمال، انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں اور جنگی جرائم کے الزامات ہیں۔
شامی باغی افواج کے ہاتھوں دمشق پر قبضے اور دسمبر 2024 میں حکومت کے خاتمے کے بعد، بشار الاسد 8 دسمبر 2024 کو روسی فوج کی مدد سے راتوں رات شام سے فرار ہو گئے، جہاں صدر ولادیمیر پوتن نے انہیں اور ان کے خاندان کو سیاسی پناہ دے دی۔ وہ اس وقت روس کے دارالحکومت ماسکو میں اپنے خاندان کے ساتھ سیاسی پناہ گزین کے طور پر مقیم ہیں۔
یو این آئی۔ ع ا۔
-
دنیا23 hours agoایران کا فی الحال امریکہ کے ساتھ کوئی مذاکرات نہیں: ایرانی وزیر خارجہ
-
ہندوستان1 day agoطلبہ پر کارروائی کے معاملے پر حکومت کو گھیرتے ہوئے راہل کا مضمون، کھڑگے اور پرینکا نے حمایت کی
-
دنیا1 day agoسعودی عرب میں فیکٹری میں آگ کے سبب 16 بنگلہ دیشی مزدور ہلاک
-
دنیا22 hours agoتجربہ کار آئی آر جی سی کمانڈر محسن رضائی ایران کے قومی سلامتی کے سربراہ مقرر
-
دنیا1 day agoٹرمپ جوہری معاہدے کے بغیر ایران کے ساتھ تنازع ختم کرنے پر تیار: رپورٹ
-
دنیا19 hours agoکیسپین سمندر معاہدے کا مستقبل ایران کی پارلیمنٹ طے کرے گی: اسماعیل بقائی
-
دنیا5 hours agoیمن میں حوثیوں کے المخا اور مارب پر بیلسٹک میزائل حملے
-
دنیا22 hours agoآبنائے ہرمز کے مستقبل پر ایرانی مطالبات سے غیر یقینی بڑھنے کے باعث تیل کی قیمتوں میں اضافہ
-
دنیا4 hours agoٹرمپ کا ایران سے معاوضے کا مطالبہ، آبنائے ہرمز پر مذاکرات جاری
-
دنیا4 hours agoایران اور عمان کے درمیان آبنائے ہرمز پر مذاکرات جاری
-
جموں و کشمیر21 hours ago7.12 لاکھ روپے کے کپواڑہ پل گھپلے کے معاملے میں اے سی بی نے 10 افراد کے خلاف فردِ جرم عائد کی
-
جموں و کشمیر21 hours agoکابینہ میں توسیع ’کسی وقت‘ ہوگی، عمر عبداللہ
