تازہ ترین
نئی دہلی کے پاس کشمیر سے متعلق کوئی ٹھوس اور واضح پالیسی نہیں: سابق ڈی جی پی کے راجندرا
خبراردو:
ریاستی پولیس کے سابق ڈائریکٹر جنرل آف پولیس کے راجندرا نے پونے شہر میں ایک تقریب کے دوران بولتے ہوئے افغانستان سے امریکی فوج کے انخلا پر اپنے ردعمل میں کہا کہ اس طرح کی کارروائی سے ریاست جموں وکشمیر کے حالات و واقعات پر نمایاں اثرات مرتب ہونے کا قوی امکان موجود ہونے کے ساتھ ساتھ یہاں سرگرم جنگجو گروپوں کے حوصلے بھی بلند ہونے کا خدشہ ہے۔سابق پولیس سربراہ نے دعویٰ کرتے ہوئے نئی دہلی کو مورد الزام ٹھہراتے ہوئے کہا کہ ان کے پاس کشمیر سے متعلق کوئی ٹھوس اور واضح پالیسی موجود نہیں ہے۔
انہوں نے کہا کہ کشمیر کے سیاسی و سیکورٹی حالات کو قابو میں رکھنے کے لیے نئی دہلی کے پاس کوئی ٹھوس روڑ میپ موجود نہیں ہے۔انہوں نے کہا کہ افغانستان میں دہائیوں تک موجود امریکی فوج کے انخلا سے ریاست جموں وکشمیر کی سیکورٹی صورتحال پر منفی اثرات مرتب ہونے کا اندیشہ ہے جس کے نتیجے میں یہاں سرگرم جنگجوگروپوں کے حوصلے مزید بلند ہوں گے۔ انہوں نے کہا کہ نئی دہلی کے پاس کشمیر میں جاری امن دشمن سرگرمیوں کو قابو میں رکھنے کے حوالے سے کوئی روڑ میپ موجود نہیں ہے لہٰذا انہیں چاہیے کہ وہ پالیسی میں سختی پیدا کرکے پاکستان کو کرارہ جواب دیں۔انہوں نے کہا کہ پاکستان میں اگر حکومتیں بھی تبدیل ہوتی ہیں تاہم وہاں مسئلہ کشمیر کے حوالے سے پالیسی میں کوئی تبدیلی واقع نہیں ہوتی لیکن بھارت میں ہر ہمیشہ سے اس میں کمی دیکھنے کو مل رہی ہے۔ہمیں اپنی روایتی پالیسی میں تبدیلی لانی ہوگی۔ انہوں نے پاکستان پر الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ وہ بھارت کے اندرونی معاملات میں مداخلت کرکے یہاں دہشت گردی کو ہوا دے رہا ہے اور اس کے لیے اُس نے اپنی سرزمین میں بڑے بڑے تربیتی مراکز قائم کئے ہوئے ہیں جہاں پر جنگجوؤں کو تیار کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے نئی دہلی پر زور دیا کہ وہ پاکستان کو سبق سکھانے کے لیے منہ توڑ جواب دے تاکہ پاکستان مستقبل میں جنگجوؤں کی معاونت کرنے سے احتراز کرے۔انہوں نے افغانستان کی سیاسی صورتحال پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ امریکہ اپنی فوج افغانستان سے واپس بلارہا ہے جس کے کشمیر پر منفی اثرات مرتب ہوں گے۔ یہ ایسا وقت ہے جب ہم افغانستان سے امریکی فوجیوں کے انخلا کے اثرات ہم محسوس کریں گے۔
افغانستان سے امریکی فوج کے انخلا کے بعد ریاست جمو ں وکشمیر میں پاکستان کی درپردہ دہشت گردی حوصلہ پائے گی۔اس طرح کی کارروائی سے ریاست میں سرگرم جنگجو گروپ کے حوصلے بلند ہوں گے اور جنگجوئیت میں مزید اضافہ دیکھنے کو مل سکتا ہے۔انہوں نے کہا کہ ریاست جموں وکشمیر میں سرگرم جنگجو اسے ایک بڑی کامیابی سے تعبیر کررہے ہیں ، وہ سمجھتے ہیں جب افغانستان کی سرزمین سے امریکی فوج کا انخلا ممکن ہوگیا تو اسی طرح کشمیر سے بھی بھارتی فوج کا انخلا ممکن ہوسکتا ہے، لہٰذا اس صورتحال کو مدنظر رکھتے ہوئے نئی دہلی کوٹھوس پالیسی ترتیب دینے کی ضرورت ہے اور اس جنگجوئیت کے ساتھ آہنی ہاتھوں سے ہی نپٹنا ہوگا تاکہ انہیں واضح پیغام ارسال کیا جائے۔خیال رہے امریکی نے حال ہی میں افغانستان سے اپنی فوج میں تخفیف کرنے کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ افغانستان سے 7000امریکی فوجیوں کو واپس اپنے ملک بلایا جائے گا۔ امریکی فوجیوں کو افغانستان میں مقامی افغان فوجیوں کو تربیت فراہم کرنے اور طالبان مخالف کارروائیوں پر مامور کیا گیا تھا۔سابق پولیس سربراہ نے بتایا کہ کشمیر میں جنگجو سوشل میڈیا کا بھر پور استعمال کررہے ہیں جس کے نتیجے میں وہ مقامی نوجوانوں کو امن دشمن سرگرمیوں میں ملوث کررہے ہیں۔ جنگجوتنظیمیں کشمیر میں مقامی سطح پر غیر یقینی صورتحال کو برقرار رکھنے کے لیے سوشل میڈیا کا کثرت سے استعمال کررہے ہیں اور اس طرح وہ نئی نسل کے ذہن میں بھارت مخالف رجحان کو پیدا کرنا چاہتے ہیں لیکن قدقسمتی سے ہمارے پاس اس کا کاؤنٹر کرنے کے لیے کوئی میکانزم موجود نہیں ہے۔
انہوں نے اس بات پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ماضی میں کشمیر میں صورتحال بالکل مختلف تھی کیوں کہ وہاں پر عوام صرف آزادی کا مطالبہ کررہے تھے ۔ ماضی میں کشمیری عوام بھارت اور پاکستان دونوں سے چھٹکارا چاہتے تھے لیکن موجودہ صورتحال ماضی کے مقابلے میں انتہائی تشویش ناک ہے کیوں کہ اب کشمیری عوام ریاست میں خلافت قائم کرنا چاہتے ہیں جو کہ ہمارے لیے ایک چیلنج سے کم نہیں ہے۔1984میں آئی پی ایس کا امتحان پاس کرنے والے کے راجندرا نے بتایا کہ سیکورٹی فورسز نے آج تک سرنڈر پالیسی سے اچھی طرح استفادہ نہیں کیا۔ انہوں نے کہا کہ ریاست جموں وکشمیر میں اس وقت 25000سرنڈرڈ جنگجو ہیں لیکن اُن کے ساتھ ڈیل کرنے میں سیکورٹی فورسز بری طرح سے ناکام ہوگئے۔ حالانکہ آج نوبت یہاں تک پہنچ چکی ہے کہ اُن میں 10فیصدی اب دوبارہ جنگجوؤں کی صفوں میں شامل ہونے کے لیے پرتول مار رہے ہیں جو کہ سیکورٹی فورسز کے لیے ایک خطرناک چیلنج ثابت ہوسکتا ہے۔ ریاست میں تعینات سیکورٹی فورسز کو چاہیے کہ وہ سرنڈرڈ جنگجوؤں کی طرف توجہ کرکے اُن کے ساتھ رابطہ بنائے رکھیں اور ان کی صلاحیتوں کو مین اسٹریم کے دائرے میں لائے۔
ہندوستان
سودیشی جاگرن منچ کی حکومت سے امریکی ٹیرف کی دھمکیوں کے خلاف ڈٹے رہنے، لوگوں سے امریکی کمپنیوں کا بائیکاٹ کرنے کی اپیل
نئی دہلی، سودیشی جاگرن منچ (ایس جے ایم) نے امریکہ کی سینیٹ کی طرف سے حال ہی میں منظور کیے گئے اس قانون پر گہرے افسوس کا اظہار کیا ہے، جو امریکی صدر کو ان ملکوں پر 100 فیصد تک ٹیرف لگانے کا اختیار دیتا ہے جو روس سے بڑی مقدار میں تیل خریدتے ہیں تنظیم نے بدھ کے روز ایک بیان میں کہا کہ اس کا پختہ یقین ہے کہ کسی بھی ملک کو ہندوستان کی توانائی سکیورٹی اور خود مختار تجارتی پالیسی طے کرنے کا حق نہیں ہے۔ ایس جے ایم کے قومی شریک کنوینر اشونی مہاجن نے کہا، “اگرچہ ہم مانتے ہیں کہ اس قانون کو ابھی پورے قانون سازی کے عمل سے گزرنا باقی ہے اور ڈیوٹی خود بخود نافذ نہیں ہوگی، پھر بھی یہ واضح طور پر آزاد اور منصفانہ بین الاقوامی تجارت کے اصولوں اور ملکوں کے اپنی توانائی پالیسیاں طے کرنے کے خود مختار حق کے لیے ایک سنگین خطرہ پیدا کرتا ہے۔”
ایس جے ایم کا کہنا ہے کہ وہ اس معاملے پر حکومت ہند کے موقف کی مکمل حمایت کرتا ہے کہ روس سے خام تیل کی ہندوستان کی خریداری توانائی سکیورٹی، دستیابی، قیمت، سپلائی میں تنوع اور ہندوستانی صارفین کے مفادات پر مبنی ہے۔
ہندوستان نے بار بار یہ واضح کیا ہے کہ جائز بین الاقوامی منڈیوں سے توانائی خریدنے کے ہمارے خود مختار حق کو کوئی تیسرا ملک طے نہیں کر سکتا۔ تنظیم نے کہا ہے کہ یہ پہلی بار نہیں ہے جب امریکہ میں آنے والے سامان پر غیر منصفانہ ڈیوٹی لگانے کی دھمکی دی گئی ہے۔ ایسی دھمکیاں امریکی صدر کے طور پر ڈونلڈ ٹرمپ کی دوسری مدت کار کے آغاز سے ہی ملتی رہی ہیں؛ درحقیقت، امریکہ میں آنے والے ہندوستانی سامان پر کبھی کبھی بھاری ڈیوٹی لگائی گئی ہے، جس سے ہماری برآمدات پر کافی اثر پڑا ہے۔ ان ٹیرف کو الگ الگ ناموں سے جانا گیا ہے— جیسے ریسیپروکل ٹیرف اور قومی سکیورٹی ڈیوٹی سے لے کر سیکشن 301 ڈیوٹی، سیکشن 232 ڈیوٹی، تادیبی ڈیوٹی (روسی تیل خریدنے کے لیے)، تجارتی خسارہ ڈیوٹی اور جبری مشقت ڈیوٹی— اور یہ فہرست کبھی ختم نہیں ہوتی۔
یو این آئی ۔ ایف اے
ہندوستان
امت شاہ کی تقریر نہیں، ہمیں جواب چاہیے: راہل
نئی دہلی، لوک سبھا میں اپوزیشن لیڈر راہل گاندھی نے طلباء کے خلاف پولیس کارروائی پر وزیر داخلہ امت شاہ سے پارلیمنٹ میں جواب دینے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ اب تقریر نہیں، سوالات کے جواب چاہیئں مسٹر گاندھی نے بدھ کے روز پارلیمنٹ ہاؤس کے احاطے میں صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا، “مسٹر شاہ نے بچوں پر گولی چلانے کا حکم دیا تھا یا نہیں۔ دونوں ہی صورتوں میں انہیں استعفیٰ دینا چاہیے۔ ہمیں اب امت شاہ کی تقریر نہیں چاہیے۔ ہمیں جواب چاہیے۔ ہمارے طلباء پر گولی کس نے چلائی؟ گولی چلانے کا حکم کس نے دیا؟ کس نے ایک طالب علم کی آنکھ کی بینائی چھینی؟ کیلوں والی لاٹھیوں کے استعمال کا حکم کس نے دیا؟”
انہوں نے دعویٰ کیا کہ یہ حکم وزارتِ داخلہ سے آیا تھا۔ انہوں نے سوال کیا کہ کیا مسٹر شاہ نے بچوں پر گولی چلانے کا حکم دیا تھا یا نہیں۔ مسٹر گاندھی نے کہا کہ دونوں ہی صورتوں میں مسٹر شاہ کو استعفیٰ دینا چاہیے۔
اپوزیشن لیڈر نے کہا، “سچ یہ ہے کہ امت شاہ کی امیج کا غبارہ پھٹ چکا ہے۔ ان کے اندر پارلیمنٹ آنے کی ہمت ہی نہیں ہے۔”
مسٹر گاندھی نے میڈیا سے بھی سوال کیا کہ جب مسٹر شاہ بولتے ہیں تو کیا میڈیا انہیں بیچ میں روکتا ہے؟ انہوں نے پوچھا، “امت شاہ میں ایسی کیا خاص بات ہے کہ پورا میڈیا خاموشی سے کھڑا رہتا ہے؟” انہوں نے کہا کہ جب ملک کے طلباء وزیر اعظم نریندر مودی اور مسٹر شاہ سے نہیں ڈر رہے ہیں تو میڈیا کو بھی ان سے ڈرنا نہیں چاہیے۔
لوک سبھا میں اپوزیشن لیڈر نے کہا، “مسٹر شاہ میں پارلیمنٹ آنے کی ہمت ہی نہیں ہے۔ وہ 20 دنوں سے غائب ہیں۔ اپنے چیمبر میں بیٹھے رہتے ہیں لیکن ایوان میں نہیں آتے۔ ان کے قافلے میں تقریباً 30 گاڑیاں چلتی ہیں، گھر کے آگے ہزاروں پولیس والے کھڑے رہتے ہیں کہ کوئی بچہ نہ آ جائے۔ ان کی شبیہ والے غبارے کی ہوا نکل چکی ہے۔ اب زبردستی اس میں ہوا بھرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔”
یو این آئی ایف اے
جموں و کشمیر
معروف کشمیری مصنف سروا نند کول ‘پریمی’، ان کے چھوٹے بیٹے ویریندر کول کے قتل کیس میں جموں و کشمیر میں نو مقامات پر چھاپے
سرینگر، جموں و کشمیر کی اسٹیٹ انویسٹی گیشن ایجنسی (ایس آئی اے) نے بدھ کے روز معروف کشمیری شاعر و مصنف سروا نند کول ‘پریمی’ اور ان کے چھوٹے بیٹے ویریندر کول کے 1990 میں ہونے والے قتل کے سلسلے میں جموں و کشمیر میں نو مقامات پر چھاپے مارے۔
حکام نے بتایا کہ یہ تلاشی ضلع اننت ناگ کے ڈورو تھانے میں درج ایف آئی آر کے تحت لی گئی۔ اس کیس کی تحقیقات اب ایس آئی اے کے سپرد کر دی گئی ہیں۔
بدھ کے روز چلائے گئے اس آپریشن کے دوران تلاشی والے مقامات، برآمد شدہ مواد یا ثبوتوں کے حوالے سے تفصیلی معلومات کا ابھی انتظار ہے۔
مسٹر پریمی (65) اور ان کے بیٹے ویریندر (27) کو مئی 1990 میں جنوبی کشمیر کے ضلع اننت ناگ میں واقع ان کے آبائی گاؤں میں دہشت گردوں نے قتل کر دیا تھا۔ اس واقعے کے ایک ہفتے کے اندر ہی کول خاندان نے کشمیر چھوڑ دیا تھا۔
مسٹر پریمی ایک معروف شاعر، مصنف اور مترجم تھے، جنہوں نے تین درجن سے زائد کتابیں تصنیف کی تھیں۔ ان کی اہم ادبی تخلیقات میں ‘بھگود گیتا’ کا اردو میں، ‘رامائن’ کا کشمیری میں اور ربندر ناتھ ٹیگور کی ‘گیتانجلی‘ کا ترجمہ شامل ہے۔
یہ تازہ چھاپے ایس آئی اے کی جانب سے 1990 میں کشمیری پنڈت نرس سرلا بھٹ کے قتل سے جڑے ایک اور طویل عرصے سے زیر التواء کیس میں چارج شیٹ داخل کرنے کے ایک ماہ سے زائد عرصے بعد سامنے آئے ہیں۔
ایجنسی نے 29 جون کو سرینگر کی ایک خصوصی عدالت کے سامنے 737 صفحات پر مشتمل چارج شیٹ پیش کی تھی، جس میں محترمہ سرلا بھٹ کے اغوا اور قتل کے کیس میں جیل میں بند محمد یاسین ملک سمیت جموں کشمیر لبریشن فرنٹ (جے کے ایل ایف) کے پانچ کارندوں کے نام شامل ہیں۔ ملزمان میں سے تین کی موت ہو چکی ہے، جبکہ خورشید احمد چالکو فرار ہے اور اس کے پاکستان بھاگ جانے کا اندیشہ ہے۔
ایس آئی اے نے کشمیر میں دہشت گردی کے ابتدائی دور کے پرانے مقدمات کی تحقیقات کی کوششوں کے تحت سرلا بھٹ کیس کو دوبارہ کھولا تھا۔
یواین آئی۔الف الف
-
دنیا2 days agoایران کا فی الحال امریکہ کے ساتھ کوئی مذاکرات نہیں: ایرانی وزیر خارجہ
-
جموں و کشمیر24 hours agoیومِ آزادی سے قبل جموں و کشمیر پولیس نے سرحدی سامبا میں طویل فاصلے کی گشت اور فرضی انسدادِ دہشت گردی مشق کی
-
ہندوستان2 days agoطلبہ پر کارروائی کے معاملے پر حکومت کو گھیرتے ہوئے راہل کا مضمون، کھڑگے اور پرینکا نے حمایت کی
-
دنیا2 days agoسعودی عرب میں فیکٹری میں آگ کے سبب 16 بنگلہ دیشی مزدور ہلاک
-
دنیا24 hours agoایران نے خود کو ایک ‘ناقابل تسخیر طاقت’ ثابت کیا ہے: عراقچی
-
دنیا24 hours agoشام کے سابق صدر بشار الاسد کو سزائے موت سنادی گئی
-
دنیا2 days agoٹرمپ جوہری معاہدے کے بغیر ایران کے ساتھ تنازع ختم کرنے پر تیار: رپورٹ
-
دنیا2 days agoکیسپین سمندر معاہدے کا مستقبل ایران کی پارلیمنٹ طے کرے گی: اسماعیل بقائی
-
دنیا1 day agoیمن میں حوثیوں کے المخا اور مارب پر بیلسٹک میزائل حملے
-
دنیا21 hours agoموساد کے سابق سربراہ کا انکشاف، ماضی میں ایران کی فردو جوہری تنصیب کا کئی بار دورہ کیا
-
دنیا1 day agoٹرمپ کا ایران سے معاوضے کا مطالبہ، آبنائے ہرمز پر مذاکرات جاری
-
دنیا1 day agoایران اور عمان کے درمیان آبنائے ہرمز پر مذاکرات جاری
