اہم خبریں
وادی میں داعش کی کوئی موجودگی نہیں، 190عساکر ہلاک200متحرک
سرینگر// وادی میں لشکر لیڈرشپ کا صفایا کرنے کا دعویٰ کرتے ہوئے فوج کی15ویں کور کے کمانڈر لیفٹنٹ جنرل جے ایس ساندھو نے اس بات کا اعتراف کیا کہ سرحدوں پر سخت چوکیسی کے باوجود بھی دراندازی ہو رہی ہے۔ ریاستی پولیس سربراہ ڈاکٹر ایس پی وید نے وادی میں قیام امن کیلئے تشدد،جنگجویت اور منشیات کے خاتمے کو لازمی قرار دیتے ہوئے کہا کہ مقامی جنگجو اگر واپس آئیں گے،تو انکی مدد کی جائے گی تاہم سرگرم جنگجوئوں کے خلاف آپریشن آل اوٹ جاری رہے گا۔ حاجن آپریشن کے بعد سرینگر کے چنار کور میں،15ویں کور کے کمانڈر لیفٹنٹ جنرل جے ایس ساندھو ، ریاستی پولیس کے سربراہ ڈاکٹر ایس پی وید ن اور انسپکٹر جنرل سی آر پی ایف ذوالفقار حسین نے مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ وادی میںجنگجوئوں کے خلاف پائیداد آپریشن کی وجہ سے صورتحال میں غیر معمولی تبدیلی نظر آنی لگی۔
کور کمانڈر
وادی میں جلد امن کی بحالی کی امید ظاہر کرتے ہوئے فوج کے15ویں کور کے کمانڈر لیفٹنٹ جنرل جے ایس ساندھو نے کہا کہ وادی میں امسال فورسز،فوج اور پولیس نے مشترکہ طور پر کامیاب آپریشن کئے،جس کے دوران190کے قریب عساکروں کو ہلاک کیا گیا۔انہوں نے اعدادو شمار ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ ان جنگجوئوں میں سے80مقامی جبکہ110کے قریب غیر ملکی تھے۔ لیفٹنٹ جنرل نے مزید کہا کہ جہاں قریب66جنگجوئوں کو دراندازی کے دوران جاں بحق کیا گیا،وہیں125سے 130کے قریب وادی کے مختلف علاقوں میں ہلاک ہوئے۔انہوں نے اس بات کا اعتراف کیا کہ سرحدوں پر فوج کی چوکسی کے بعد بھی کچھ حد تک دراندازی ہو رہی ہے۔فوجی کمانڈر نے کہا’’نامساعد موسمی صورتحال کی وجہ سے کھبی کھبار درانداز اس پار آنے میں کامیاب ہوتے ہیں‘‘۔انہوں نے کہا کہ امسال کے اوائل میں جو ایجی ٹیشن شروع کی گئی تھی،وہ بھی تبدیل ہوگئی،اور اس میں بھی بہتری آئی۔حاجن جھڑپ کے بارے میں انہوں نے کہا کہ اس سال حاجن علاقے میں کئی تشدد آمیز واقعات رونما ہوئے،جس کے دوران رشید بلا،اور محمد رمضان پرے کو ہلاک کیا گیا،جس کے بعد روزانہ کی بنیادوں پر حاجن اور اس کے دیگر نواحی علاقوں پر تلاشیوں کا آپریشن جاری رکھا گیا،اور خصوصی نظر بھی رکھی گئی۔ان کا کہنا تھا کہ گزشتہ کچھ دنوں سے چندر گیر پر انکی نظر تھی،اور مصدقہ اطلاعات ملنے پر آپریشن شروع کیا گیا،جس کے دوران6 جنگجوئوں کو ہلاک کیا گیا،جن میں محمود بھائی بھی شامل ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ دیگر جنگجوئوں میں رپورٹوں کے مطابق ائوید ذکی الرحمان کا بھتیجے تھا۔جے ایس ساندھو نے کہا کہ حاجن آپریشن کے بعد لشکر کی بیشتر لیڈرشپ ختم ہوچکی ہے،اور امید ظاہر کی کہ اب وادی میں عنقریب ہی امن قائم ہوگا۔ساندھو نے کہا کہ مذکورہ جنگجو3 دنوں سے علاقے میں چھپے تھے،اور انہیں لگ رہا تھا کہ وہ وہاں محفوظ ہیں۔انہوں نے کہا کہ مقامی نوجوان خود کو’’مجاہد‘‘ سمجھتے ہیں،تاہم انہیں پاکستانی وزیر اعظم کا حالیہ بیان سمجھنا چاہیے،جو اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ پاکستان انہیں ’’پراکسی‘‘ ہی سمجھتا ہے۔ جنگجوئوں کو سرینڈر کرنے کی اپیل کرتے ہوئے چنار کور کے کمانڈر نے کہا’’ مین اسٹریم میں واپس آئو،اس سے وادی میں امن قائم ہوگا،اور ہم انہیں عزت کے ساتھ واپس آنے میں مدد دیں گے‘‘۔انہوں نے والدین سے بھی کہا کہ وہ اپنے بچوں کو واپس لوٹنے کیلئے سمجھائیں۔ایک سوال کے جواب میں 15ویں کور کے کمانڈر نے کہا کہ فی الوقت فوج2راستوں پر کام کر رہی ہے،اول یہ کہ جنگجوئوں کے خلاف آپریشن جاری رکھا جائے،اور ثانیاً یہ کہ مقامی نوجوانوں کو واپس لایا جائے۔ان کا کہنا تھا کہ کولگام میں ایک نوجوان کو زخمی حالات میں اسپتال پہنچایا گیا جبکہ 2 جنگجوئوں کی گرفتاری عمل میں لائی گئی۔ ایک اور سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ وادی میں فی الوقت قریب200جنگجو متحرک ہیں،جن میں قریب110مقامی اور باقی غیر مقامی ہے۔
ڈائریکٹر جنرل
ریاستی پولیس کے سربراہ ڈاکٹر ایس پی وید نے کشمیر میں بہت جلد امن قائم ہونے کی امید کرتے ہوئے کہا کہ بندوق اور انتہا پسندی سے کشمیر کو پاک کرنے کی ضرورت ہے۔انہوں نے کہا’’وادی کشمیر کو دہشت،بندوق،منشیات سے صاف کرنے کی ضرورت ہے‘‘۔انہوں نے تمام سیکورٹی ایجنسیوں کو مبارکباد پیش کرتے ہوئے کہا ’’امید کرتے ہیں کہ کشمیر تشدد سے بہت جلد پاک ہوگا‘‘۔وید نے کہا کہ حاجن میں امسال دہشت تھا،اور گزشتہ روز کے آپریشن کے بعد اب وہ دہشت ختم ہوچکا ہے۔ڈائریکٹر جنرل نے کہا کہ پاکستان کو مقتولین کی نعشیں واپس لینے کیلئے کہا جائے گا۔انہوں نے کہا کہ انسانیت کا تقاضاہے کہ ان کے گھر والے لاشوں کی سپردگی کا دعویٰ کریں،تاکہ وہ اپنے بچوں کی آخری رسومات ادا
کرسکیں،کیونکہ وہ بھی انسان ہی ہیں۔ پولیس سربراہ نے زکورہ میں حملے پر داعش کے دعوئے کو مسترد کرتے ہوئے کہا ’’اب تک یہ ثابت نہیں ہوا،مجھے نہیں لگ رہا ہے،کہ یہاں داعش کی کوئی موجودگی ہے‘‘۔
آئی جی پولیس
پولیس کے صوبائی سربراہ منیر احمد خان نے زکورہ جھڑپ میں جان بحق ہوئے نوجوان کی داعش سے وابستگی کو خارج از امکان قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس سلسلے میں تحقیقات جاری ہے۔ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ چونکہ وادی میں عسکریت پسند گروپوں کو لیڈر شپ کی کمی کا سامنا ہے،اس لئے وہ اپنے رشتہ داروں کو یہاں بھیج رہے ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ جنگجوئوں کے لیڈروں پر بھی سوالات اٹھتے ہیں،اس لئے بھی وہ اپنے رشتہ داروں کو روانہ کر رہے ہیں۔آئی جی کشمیر نے آئی ایس آئی ایس کی موجودگی کو مسترد کیا۔انہوں نے کہا’’ میں اس کو خارج از امکان قرار دیتا ہوں،تحریک المجاہدین نے اس کا دعویٰ کیا ہے،کیا وہ تحریک المجاہدین سے وابستہ نہیں تھا‘‘۔
آئی جی،سی آر پی ایف
فورسز اور دیگر ایجنسیوں کے درمیان تال میل کو بہترین قرار دیتے ہوئے سی آر پی ایف کے آئی جی آپریشنز ذوالفقار حسین نے کہا کہ حاجن میں ہی امسال آپریشن کے دوران سی آر پی ایف کا کمانڈنٹ چیتن چیتا زخمی ہوا،جبکہ بعد میں جون میں فدائن حملہ بھی کیا گیا۔انہوں نے کہا کہ اس دوران کافی نوجوانوں کی کونسلنگ بھی کی گئی اور انہیںعسکریت پسندوں کے صفوں میںجانے سے روک دیا گیا۔حسین نے کہا کہ کوئی بھی مقامی جنگجو واپس آسکتا ہے،اور اس کیلئے فوج،پولیس اور سی آر پی ایف نے پہلے ہی مددگار ہلپ لائن کے نمبرات کو منظرعام پر لایا ہے۔انہوں نے کہا’’ہم بھی چاہتے ہیں کہ وہ واپس آئیں،جبکہ کئی عسکریت پسند واپس لوٹنا چاہتے ہیں،تاہم انہیں وہ ذرائع معلوم نہیں ہے،جس سے وہ واپس لوٹ سکتے ہیں‘‘۔ جنوبی کشمیر سے تعلق رکھنے والے فٹ بال کھلاڑی ماجد کی گھر واپسی کا ذکر کرتے ہوئے آئی جی آپریشنز نے کہا ’’ انہیں ہراساں نہیں کیا جائے گا،بلکہ امید سے بھی زیادہ مدد فراہم کی جائے گی‘‘۔
اہم خبریں
اسکولی لائبریریوں میں مبینہ ‘علیحدگی پسند مواد’ پر جموں و کشمیر حکومت کی بڑی کارروائی، 8 تعلیمی افسران معطل، اعلیٰ سطحی تحقیقات کا حکم
جموں و کشمیر حکومت نے سرکاری اسکولوں کی لائبریریوں میں مبینہ طور پر علیحدگی پسند مواد پر مشتمل کتابوں کی شمولیت کے معاملے میں بڑی کارروائی کرتے ہوئے محکمہ اسکولی تعلیم کے آٹھ افسران کو معطل کر دیا ہے، ایک کنٹریکچول ملازم کی خدمات ختم کر دی ہیں، دو کتابوں کے مصنفین اور پبلشرز کو بلیک لسٹ کرنے کا حکم دیا ہے اور پورے معاملے کی اعلیٰ سطحی تحقیقات شروع کر دی ہیں۔
یہ کارروائی جموں و کشمیر پیپلز فورم (جے کے پی ایف) کی جانب سے ان کتابوں کے خلاف سخت اعتراضات سامنے آنے کے چند روز بعد عمل میں آئی ہے۔ فورم نے اپنی تفصیلی رپورٹ میں دعویٰ کیا تھا کہ سرکاری اسکولوں کی لائبریریوں کے لیے منتخب کی گئی ایک کتاب میں سزا یافتہ دہشت گرد مقبول بٹ کو “شہید” قرار دیا گیا ہے، بھارت کو “قابض ریاست” کہا گیا ہے، “انڈین آکیوپائیڈ کشمیر (IOK)” کی اصطلاح استعمال کی گئی ہے اور متعدد علیحدگی پسند رہنماؤں کے بارے میں ایسا مواد شامل کیا گیا ہے جسے فورم نے ملک مخالف قرار دیا۔ فورم نے یہ سوال بھی اٹھایا تھا کہ سمگر شکشا اسکیم کے تحت ایسی کتابوں کو آخر کس بنیاد پر اسکولی طلبہ کے لیے موزوں قرار دے کر سرکاری لائبریریوں کے لیے منظور کیا گیا۔
اس معاملے پر کارروائی کرتے ہوئے محکمہ اسکولی تعلیم نے حکومتی حکم نامہ نمبر 257-JK(Edu) آف 2026 جاری کیا، جس میں کہا گیا کہ متعلقہ کتابوں میں “انتہائی نامناسب مواد” موجود ہے اور ابتدائی طور پر ایسا محسوس ہوتا ہے کہ ان کتابوں کی سفارش کرنے والی ماہرین کمیٹی کے ارکان نے سنگین غفلت، فرائض میں کوتاہی اور مطلوبہ جانچ پڑتال نہیں کی۔
حکم نامے کے مطابق “Personalities and Legends of J&K” اور “Great Personalities of Jammu and Kashmir” نامی کتابیں سمگر شکشا کے تحت خریدی گئی سینکڑوں کتابوں میں سے ہائر سیکنڈری (سریز-4) ایکسپرٹ کمیٹی نے منتخب کی تھیں، تاہم اعتراضات سامنے آنے کے بعد انہیں فوری طور پر واپس لے لیا گیا۔
حکومت نے تحقیقات مکمل ہونے تک اس انتخابی عمل سے وابستہ آٹھ افسران، جن میں کوآرڈینیٹرز، اکیڈمک افسران، پرنسپلز اور لیکچررز شامل ہیں، کو معطل کر دیا ہے، جبکہ سمگر شکشا سے وابستہ ایک کنٹریکچول ملازم کی خدمات بھی ختم کر دی گئی ہیں۔ اس کے علاوہ ایک سینئر آئی اے ایس افسر کو انکوائری آفیسر مقرر کرتے ہوئے 30 دن کے اندر رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت دی گئی ہے۔
حکومت نے دونوں کتابوں کے مصنفین اور پبلشرز کو جموں و کشمیر میں بلیک لسٹ کرنے کے ساتھ ساتھ ان کے شائع کردہ تمام مواد کو بھی یونین ٹیریٹری سے واپس لینے کا حکم دیا ہے۔ اس پورے معاملے نے سرکاری فنڈز سے خریدی جانے والی تعلیمی کتابوں کی جانچ پڑتال کے نظام اور انہیں منظور کرنے والی ماہرین کمیٹیوں کی جوابدہی پر بھی سنگین سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔
ادھر وزیر تعلیم، صحت اور سماجی بہبود سکینہ ایتو نے اس معاملے کو “ناقابل برداشت اور ناقابل قبول” قرار دیتے ہوئے وقت مقررہ تحقیقات کا حکم دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ محکمہ اسکولی تعلیم کے سیکریٹری کو فوری طور پر تحقیقات شروع کرنے کی ہدایت دے دی گئی ہے تاکہ یہ معلوم کیا جا سکے کہ متنازع مواد سرکاری اسکولوں کی کتابوں تک کیسے پہنچا۔ سکینہ ایتو نے واضح کیا کہ جو بھی اس معاملے میں قصوروار پایا جائے گا اسے قانون کے مطابق سخت سزا دی جائے گی اور کسی کو بھی بخشا نہیں جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ حکومت تعلیمی نظام کی ساکھ برقرار رکھنے اور طلبہ کو معیاری اور ذمہ دارانہ تعلیمی مواد فراہم کرنے کے لیے پوری طرح پرعزم ہے۔
دوسری جانب جموں و کشمیر اسمبلی میں قائد حزب اختلاف اور بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے سینئر رہنما سنیل شرما نے کتاب “Personalities and Legends of J&K” پر فوری پابندی عائد کرنے اور اسے تمام سرکاری لائبریریوں اور تعلیمی اداروں سے واپس لینے کا مطالبہ کیا ہے۔ انہوں نے ڈاکٹر نریندر سنگھ، سنیل سیٹھی اور زوراور سنگھ جموال کے ہمراہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ یہ کتاب دہشت گردی، علیحدگی پسندی اور بھارت مخالف نظریات کو فروغ دینے کی کوشش ہے اور اسے سرکاری لائبریریوں تک پہنچانا ایک منظم سازش کی عکاسی کرتا ہے۔
سنیل شرما نے دعویٰ کیا کہ ہلال احمد اور سنتوش مینا کی تصنیف اور پیراڈائز پریس کی شائع کردہ یہ کتاب تاریخ کے نام پر نوجوان نسل کے ذہنوں کو متاثر کرنے کی کوشش کرتی ہے۔ ان کے مطابق کتاب میں دہشت گردی اور علیحدگی پسند سرگرمیوں سے وابستہ بعض شخصیات کو “لیجنڈز” اور “آزادی پسند” کے طور پر پیش کیا گیا ہے جبکہ بھارت اور اس کی سیکورٹی فورسز کے خلاف سرگرمیوں کو ہمدردانہ انداز میں بیان کیا گیا ہے۔
انہوں نے الزام لگایا کہ کتاب میں مقبول بٹ، ہاشم قریشی، مسرت عالم بھٹ، سید علی شاہ گیلانی، عبدالغنی لون اور محمد فاروق رحمانی سمیت متعدد علیحدگی پسند شخصیات کو غیر معمولی اہمیت دی گئی ہے، جو نہ صرف تاریخ کو مسخ کرنے کی کوشش ہے بلکہ نوجوانوں کو گمراہ کرنے کا ذریعہ بھی بن سکتی ہے۔
بی جے پی رہنما نے مطالبہ کیا کہ کتاب کی تمام کاپیاں فوری طور پر ضبط کر کے سرکاری لائبریریوں، تعلیمی اداروں اور عوامی گردش سے ہٹا دی جائیں۔ انہوں نے کتاب کی خریداری اور منظوری دینے والے افسران، اسکریننگ کمیٹیوں اور لائبریرینز کے خلاف قانونی کارروائی کا بھی مطالبہ کیا۔ اس کے علاوہ انہوں نے جموں و کشمیر کی تمام سرکاری اور اسکولی لائبریریوں کا مکمل آڈٹ کرانے کی اپیل کی تاکہ اگر کسی اور کتاب میں بھی ایسا متنازع یا مبینہ علیحدگی پسند مواد موجود ہو تو اسے بھی فوری طور پر ہٹا دیا جائے۔
اس پورے معاملے نے جموں و کشمیر میں سرکاری تعلیمی اداروں کے لیے کتابوں کے انتخاب، ان کی جانچ پڑتال اور منظوری کے نظام پر نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ حکومت نے 30 دن کے اندر تحقیقات مکمل کرنے کی ہدایت دی ہے، جس کے بعد ذمہ دار افراد کے خلاف مزید انتظامی اور قانونی کارروائی کیے جانے کا امکان ہے۔
جموں و کشمیر
بارہمولہ میں منشیات سے متعلق بیداری پروگرام: ماہرین نے بڑھتی ہوئی منشیات کی لت کو قومی سلامتی کے لیے خطرہ قرار دیا
بارہمولہ کے بوائز ہائر سیکنڈری اسکول میں جمعرات کے روز منشیات سے متعلق ایک بیداری پروگرام کامیابی کے ساتھ منعقد کیا گیا۔ یہ پروگرام نشہ مکت بھارت ابھیان کے تحت سول ڈیفنس بارہمولہ کی جانب سے، ایس ڈی آر ایف/ڈیزاسٹر رسپانس ڈویژن بارہمولہ کے تعاون سے منعقد ہوا۔
اس پروگرام میں گیارہویں اور بارہویں جماعت کے طلبہ کی بڑی تعداد نے جوش و خروش کے ساتھ شرکت کی، جو نوجوانوں میں منشیات کے استعمال اور اس کے نقصانات کے حوالے سے بڑھتی ہوئی آگاہی اور تشویش کی عکاسی کرتا ہے۔ پروگرام کا آغاز ایک تعارفی نشست سے ہوا جس میں مقامی اور قومی سطح پر منشیات کے بڑھتے رجحان، اہم خطراتی عوامل اور بروقت روک تھام کی اہمیت پر روشنی ڈالی گئی۔
ماہرین کی ٹیم میں ڈاکٹر بالی (ڈویژنل وارڈن، سول ڈیفنس بارہمولہ)، محترمہ روحیلا (سینئر سائیکالوجسٹ)، جناب عابد سلیم (کلینیکل سائیکالوجسٹ) اور جناب ایوب (سیکٹر وارڈن، سول ڈیفنس) شامل تھے۔ ان ماہرین نے طلبہ کو منشیات کے جسمانی، نفسیاتی اور سماجی اثرات سے آگاہ کیا اور بروقت بیداری اور احتیاطی تدابیر کی اہمیت پر زور دیا۔
اس پروگرام کا مقصد طلبہ کو منشیات کی بڑھتی ہوئی وبا کے خطرات سے آگاہ کرنا، انہیں معلومات سے بااختیار بنانا اور ایک منشیات سے پاک معاشرے کی تعمیر میں فعال کردار ادا کرنے کی ترغیب دینا تھا۔
اپنے بیان میں ڈاکٹر عنایت میر، چیف وارڈن سول ڈیفنس بارہمولہ، نے کہا کہ منشیات کی لت کو جو روایتی طور پر ایک صحت عامہ کا مسئلہ سمجھا جاتا تھا، اب ایک سنجیدہ سماجی، تزویراتی اور قومی سلامتی کے چیلنج کے طور پر دیکھنا ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ خاص طور پر سرحدی اور حساس علاقوں میں ابھرتے رجحانات اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ منشیات کا پھیلاؤ محض اتفاقی نہیں بلکہ ایک منظم حکمت عملی کے تحت معاشروں کو اندر سے کمزور کرنے کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے، جو ہائبرڈ جنگ کا حصہ ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ منشیات کے منظرنامے میں تبدیلی فردی مسئلے سے بڑھ کر اجتماعی کمزوری کی شکل اختیار کر چکی ہے۔ نوجوانوں کی صلاحیتوں کا زوال، سماجی ڈھانچے کی کمزوری اور انسانی کمزوریوں کا استعمال اس بات کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ معاشرتی استحکام کو متاثر کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ اس تناظر میں منشیات کا پھیلاؤ ایک ایسا ہتھیار بن چکا ہے جو کم نظر آتا ہے مگر اس کے اثرات انتہائی گہرے ہوتے ہیں۔
ڈاکٹر میر نے زور دیا کہ منشیات کی لت کو صرف طبی مسئلہ سمجھنے کے بجائے ایک سماجی اور تزویراتی خطرہ سمجھا جائے جس کے لیے فوری اور مربوط اقدامات ناگزیر ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کسی بھی قوم کی طاقت صرف اس کی سرحدوں میں نہیں بلکہ اس کے معاشرے کی صحت، مضبوطی اور یکجہتی میں ہوتی ہے۔ نوجوانوں کا تحفظ، سماجی ہم آہنگی کا فروغ اور منشیات کے نیٹ ورکس کا خاتمہ قومی سلامتی کے اہم تقاضے ہیں۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر بروقت اقدامات نہ کیے گئے تو یہ خاموش وبا ایک مستقل خطرے میں تبدیل ہو سکتی ہے۔
پروگرام کے اختتام پر طلبہ اور ماہرین کے درمیان ایک باہمی تبادلہ خیال ہوا، جس میں اجتماعی ذمہ داری، باشعور فیصلے اور نوجوانوں کی فعال شرکت کی اہمیت کو اجاگر کیا گیا۔
اہم خبریں
عالمی توانائی بحران کے خدشات کے باوجود دہلی کے گردواروں میں لنگر کی روایت جاری
امریکہ، اسرائیل اور ایران کے درمیان جاری کشیدگی اور عالمی توانائی بحران کے باعث شہر میں کُکنگ گیس کی قلت کے خدشات بڑھنے کے باوجود دہلی کے گردواروں نے فیصلہ کیا ہے کہ ان کے لنگر خانے چوبیس گھنٹے جاری رہیں گے اور صدیوں پرانی لنگر کی روایت کسی بھی صورت میں متاثر نہیں ہونے دی جائے گی۔
قومی دارالحکومت کے اہم گردواروں، جن میں گردوارہ رکاب گنج صاحب، گردوارہ بنگلا صاحب اور گردوارہ سیس گنج صاحب شامل ہیں، کے کمیونٹی کچن ہر ہفتے تقریباً 40 ہزار افراد کو کھانا فراہم کرتے ہیں جبکہ ہفتے کے آخر میں یہ تعداد ایک لاکھ سے بھی تجاوز کر جاتی ہے۔ ان گردواروں کی انتظامیہ اور رضاکاروں نے فیصلہ کیا ہے کہ لنگر سیوا مسلسل جاری رکھی جائے گی۔ اس مقصد کے لیے گیس کے استعمال میں احتیاط، پائپ لائن گیس کی فراہمی اور ہنگامی منصوبہ بندی جیسے اقدامات کیے جا رہے ہیں تاکہ کوئی بھی زائر بھوکا واپس نہ جائے۔
یہ فیصلہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب کمرشل ایل پی جی سلنڈروں کی کمی کے باعث شہر کے کئی ہوٹل اور ریستوران اپنے کام بند کرنے پر مجبور ہو چکے ہیں جبکہ متعدد دیگر بندش کے دہانے پر ہیں۔
خبر رساں ایجنسی یو این آئی (UNI) سے بات کرتے ہوئے گردوارہ حکام نے یقین دلایا کہ سپلائی میں مشکلات کے باوجود لنگر میں کھانے کی فراہمی بلا تعطل جاری رہے گی۔
گردوارہ انتظامیہ کے رکن ہرمیّت سنگھ کالکا نے بتایا کہ گردواروں کے کچن پائپ نیچرل گیس (PNG) کی پائپ لائن سے منسلک ہیں، اس لیے فی الحال ایندھن کی کوئی فوری کمی نہیں ہے۔
انہوں نے کہا:
“جب کووڈ-19 کے دوران پوری دنیا بند تھی، تب بھی ہم نے تمام انتظامات سنبھالے اور اس وقت بھی لنگر سیوا چوبیس گھنٹے جاری رکھی۔ مارچ کے آخر اور اپریل میں ہمارے دو بڑے پروگرام بھی طے ہیں جن میں بیساخی بھی شامل ہے۔”
کالکا نے مزید بتایا کہ اگرچہ کچن پائپ نیچرل گیس پر چل رہے ہیں، لیکن احتیاط کے طور پر کمرشل گیس سلنڈروں کا ذخیرہ بھی رکھا گیا ہے۔
انہوں نے کہا:
“تمام انتظامات کے باوجود ہم نے سیواداروں کو ہدایت دی ہے کہ وسائل کا ضیاع نہ ہو۔ ہم ہر چیز کو بہتر طریقے سے سنبھال رہے ہیں اور ابھی تک کوئی مسئلہ پیش نہیں آیا۔”
احتیاطی اقدام کے طور پر گردوارہ انتظامیہ نے وزارتِ پٹرولیم و قدرتی گیس کو بھی خط لکھا ہے تاکہ گیس سلنڈروں کی فراہمی بلا تعطل جاری رکھی جا سکے اور لنگر سیوا میں کوئی رکاوٹ پیدا نہ ہو۔
مرکزی وزیر ہردیپ سنگھ پوری کے نام لکھے گئے خط میں کالکا نے کہا کہ دہلی سکھ گردوارہ مینجمنٹ کمیٹی کے زیر انتظام تمام تاریخی گردواروں میں روزانہ عقیدت مندوں کو لنگر پیش کیا جاتا ہے۔
خط میں کہا گیا ہے:
“دنیا میں موجودہ جنگی صورتحال کے باعث گیس ایجنسیوں کی جانب سے سلنڈروں کی سپلائی متاثر ہو رہی ہے جس سے گردواروں میں لنگر کی تقسیم متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔”
انہوں نے وزارت سے اپیل کی کہ ڈی ایس جی ایم سی (DSGMC) کو گیس سلنڈروں کی مسلسل فراہمی یقینی بنائی جائے تاکہ تاریخی گردواروں میں لنگر کی روایت بغیر کسی رکاوٹ کے جاری رہ سکے۔
(مصنف: پرویندر سندھو)
-
دنیا3 days agoایران کا فی الحال امریکہ کے ساتھ کوئی مذاکرات نہیں: ایرانی وزیر خارجہ
-
دنیا3 days agoسعودی عرب میں فیکٹری میں آگ کے سبب 16 بنگلہ دیشی مزدور ہلاک
-
جموں و کشمیر2 days agoیومِ آزادی سے قبل جموں و کشمیر پولیس نے سرحدی سامبا میں طویل فاصلے کی گشت اور فرضی انسدادِ دہشت گردی مشق کی
-
دنیا3 days agoٹرمپ جوہری معاہدے کے بغیر ایران کے ساتھ تنازع ختم کرنے پر تیار: رپورٹ
-
ہندوستان3 days agoطلبہ پر کارروائی کے معاملے پر حکومت کو گھیرتے ہوئے راہل کا مضمون، کھڑگے اور پرینکا نے حمایت کی
-
دنیا2 days agoایران نے خود کو ایک ‘ناقابل تسخیر طاقت’ ثابت کیا ہے: عراقچی
-
دنیا3 days agoتجربہ کار آئی آر جی سی کمانڈر محسن رضائی ایران کے قومی سلامتی کے سربراہ مقرر
-
دنیا2 days agoشام کے سابق صدر بشار الاسد کو سزائے موت سنادی گئی
-
ہندوستان2 days agoپارلیمنٹ کے احاطے میں اپوزیشن ارکانِ پارلیمنٹ کا احتجاج
-
دنیا2 days agoکیسپین سمندر معاہدے کا مستقبل ایران کی پارلیمنٹ طے کرے گی: اسماعیل بقائی
-
دنیا2 days agoموساد کے سابق سربراہ کا انکشاف، ماضی میں ایران کی فردو جوہری تنصیب کا کئی بار دورہ کیا
-
دنیا2 days agoایران اور عمان کے درمیان آبنائے ہرمز پر مذاکرات جاری
