جموں و کشمیر
وادی کشمیرمیںلوگوں کو گلا سڑا، بغیر لیبل،غیر معیاری اور مضر صحت گوشت کھلانے کاسنسنی خیز اسکینڈل
لیبارٹری جانچ میں چونکا دینے والے نتائج کاانکشاف
ضبط شدہ گوشت کے بعض نمونے غیر محفوظ قرار، مہلک مرض کینسر پیدا کرنے والے اجزا ءکی نشاندہی
عام صارفین تک پہنچنے سے قبل ہی 11,326 کلوگرام ناقابل استعمال گوشت، مرغ اور موموز تلف
27 کیس درج، 3 لاکھ40 ہزار روپے جرمانہ عائد،9 فوڈ بزنس آوٹ لیٹس کے لائسنس معطل:حکام
سری نگر ر:جے کے این ایس : جموں و کشمیر فوڈ سیفٹی ڈیپارٹمنٹ نے انکشاف کیا ہے کہ وادی کشمیر میں مضرصحت، غیر معیاری اور بغیر لیبل گوشت پر جاری کریک ڈاون کے دوران ضبط شدہ گوشت کے بعض نمونے انسانی استعمال کےلئے غیر محفوظ پائے گئے اور ان میں کینسر پیدا کرنے والے’ کلرنگ ایجنٹس‘ یعنی مضر صحت مصنوعی رنگبھی پائے گئے ہیں جن میں کارموزین، ٹارٹرازین اور اریتھروسین شامل ہیں ۔جے کے این ایس کے مطابق ای ٹی وی بھارت کی ایک رپورٹ میں لیبارٹری رپورٹس کاحوالہ دیتے ہوئے یہ انکشاف کیاگیاہے کہ فوڈ اینڈ ڈرگ ایڈمنسٹریشن (FDA) کی جانب سے وادی کشمیر کے مختلف علاقوں سے حال ہی میں ضبط کئے گئے گلے سڑے گوشت کے بعض نمونے2قومی سطح کی لیبارٹریز میں جانچ کے بعد غیر محفوظ قرار دئےے گئے ہیں۔ رپورٹس میں کہا گیا ہے کہ ان غیر محفوظ نمونوں میں کارموزین، ٹارٹرازین اور اریتھروسین جیسے مضر صحت مصنوعی رنگ شامل ہیں جو فوڈ سیفٹی اینڈ اسٹینڈرڈ ریگولیشنز2011 کے تحت ممنوع ہیں اور انسانی صحت کیلئے کینسر جیسے سنگین خطرات پیدا کرتے ہیں۔جہاں تک ضبط شدہ گوشت کےنمونوں اورلیبارٹری نتائج کاتعلق ہے تو پہلے مرحلے میں کشمیرکے 11 اضلاع سےضبط شدہ گوشت کے57 نمونے جانچ کے لیے حاصل کیے گئے، جن میں سے18 کی رپورٹس موصول ہوئی ہیں۔ ای ٹی وی بھارت کی جانب سے حاصل کیے گئے رپورٹس میں ”نیشنل فوڈ لیبارٹری غازی آباد اور ایف آئی سی سی آئی ریسرچ اینڈ اینالسس سینٹر (FRAC) نئی دہلی کی جانچ میں18 میں سے 4 گوشت اور گوشت مصنوعات کے نمونے غیر محفوظ“ قرار پائے ہیں۔ای ٹی وی بھارت نے حاصل کئے گئے ڈیٹا کا مطالعہ کیا جس میں پایا گیا کہ ضبط شدہ گوشت کے”حاصل کئے گئے زیادہ تر نمونے سرینگر شہر سے لئے گئے تھے۔14 نمونوں کی رپورٹ ابھی باقی ہے، جبکہ2 نمونے غیر محفوظ اور 2 معیاری پائے گئے۔“ وہیں سرینگر شہر سے منجمد اور کچے گوشت کا حاصل کردہ نمونہ ”نیشنل میٹ ریسرچ انسٹیٹیوٹ حیدرآباد میں جانچ کے بعد کارابف (Carabeef) یعنی ایشیائی بھینس (Bubalus-bubalis) کا گوشت“ ثابت ہوا۔یہ گوشت اور گوشت کی مصنوعات جیسے رستہ، کباب، گوشتابہ، چکن موموز، فرائیڈ چکن، کچی مچھلی اور پنیر (چیز) ضلع کپوارہ، شوپیاں، بانڈی پورہ، گاندربل، کولگام، سرینگر، پلوامہ، بارہمولہ، بڈگام، اننت ناگ اور جموں سے لیے گئے تھے۔معائنے اور کارروائیاں کے حوالے سے حکام نے13 اضلاع میں 834 معائنوں کے دوران1677 کلوگرام گوشت، مرغ، مچھلی، پنیر اور گوشت کی مصنوعات ضبط کیں۔ سرینگر میں سب سے زیادہ 1400 کلوگرام، کولگام میں 130 کلوگرام اور اننت ناگ میں 147 کلوگرام گوشت ضبط کیا گیا۔ جبکہ سرکاری ریکارڈز کے مطابق عوام تک پہنچنے سے قبل ہی 11,326 کلوگرام خراب اور ناقابل استعمال گوشت، مرغ اور موموز تلف کئے گئے۔
اب تک فوڈ اینڈ ڈرگ ایڈمنسٹریشن( ایف ڈی اے )نے ایڈیشنل ڈپٹی کمشنرز (ایڈجوڈیکیٹنگ آفیسرز) کی عدالتوں میں 27 کیسز درج کیے ہیں، جن میں سے8 پر 3 لاکھ40 ہزار روپے جرمانہ بھی عائد کیا گیا۔ اس کے علاوہ مختلف فوڈ بزنس آپریٹرز (FBOs) پر 84 لاکھ روپے کا جرمانہ بھی عائد کیا جا چکا ہے۔ علاوہ ازیں ایف ڈی اے نے57 دکانوں کو ’امپرومنٹ نوٹس‘ بھیجا جبکہ 151 دکانوں پر2 لاکھ 1500 روپے جرمانہ بھی عائد کیا۔9 فوڈ بزنس آوٹ لیٹس کے لائسنس بھی معطل کر دئیے گئے، جن میں التقویٰ فوڈز (لسجن، سرینگر، الطاف احمد چاڈینو)۔ عارف انٹرپرائزز (بلبل باغ، ٹینگ پورہ، سرینگر)۔ سن شائن فوڈز (انڈسٹریل اسٹیٹ، ذکورہ، سرینگر)۔ انمول فوڈز (پارمپورہ گھاٹ، قمرواری، سرینگر)۔ جوبیلنٹ فوڈ ورکس لمیٹڈ (ڈومینوز پیزا، کے پی روڈ، اننت ناگ)۔ شاہن شاہی بریانی (کے پی روڈ، اننت ناگ)۔ شان فش فرائی (اچھہ بل اڈہ، اننت ناگ)۔ بسم اللہ سویٹس (انڈسٹریل اسٹیٹ، اننت ناگ)۔ کھانڈے پولٹری (کادی پورہ، اننت ناگ)شامل ہے۔
جموں و کشمیر
جموں میں آبادیاتی تبدیلیوں سے متعلق پینل کو پناہ گزینوں کی تنظیم نے یادداشت پیش کی
جموں، پی او جے کے سے بے گھر افراد کی تنظیم ایس او ایس انٹرنیشنل کے ایک وفد نے منگل کو یہاں جسٹس پرکاش پربھاکر نولیکر (ریٹائرڈ) کی سربراہی میں آبادیاتی تبدیلیوں سے متعلق پینل کو ایک تفصیلی یادداشت پیش کی۔
ایس او ایس انٹرنیشنل کے چیئرمین راجیو چونی کی قیادت میں وفد میں پروفیسر این این شرما (نائب چیئرمین)، ونود کمار دتہ (جنرل سکریٹری)، بھائی رام سنگھ (سکریٹری) اور وید راج بالی (سکریٹری) شامل تھے۔ وفد نے یادداشت پیش کرتے ہوئے 1947 سے پاکستان کے زیر قبضہ جموں و کشمیر (پی او جے کے) کی ہندو اور سکھ آبادی کے ساتھ روا رکھے گئے تاریخی ناانصافی کو ریکارڈ پر لایا اور پینل سے ٹھوس اصلاحی اقدامات کرنے کا مطالبہ کیا۔
جاری کردہ بیان کے مطابق یادداشت میں نشاندہی کی گئی کہ 1947 کے حملے کے بعد اس وقت کی جموں و کشمیر حکومت نے ابتدائی طور پر تقریباً 31,600 خاندانوں کا اندراج کیا تھا، جبکہ تقریباً 9,500 خاندانوں کو معمولی اور غیر معقول وجوہات کی بنیاد پر من مانے طریقے سے رجسٹریشن سے محروم کر دیا گیا۔
رجسٹرڈ خاندانوں میں سے صرف تقریباً 26,300 خاندانوں کو ریاست کے اندر آباد کیا گیا، جبکہ تقریباً 5,300 رجسٹرڈ خاندانوں کے ساتھ ساتھ 9,500 غیر رجسٹرڈ خاندانوں کو ہندوستان کے دیگر حصوں میں پناہ لینے پر مجبور ہونا پڑا۔ باقاعدہ طور پر رجسٹر کیے گئے خاندانوں کے ریکارڈ اب بھی جموں و کشمیر حکومت کے سرکاری ریکارڈ میں موجود ہیں۔
یادداشت میں کہا گیاکہ ’’یہ خاندان مہاراجہ ہری سنگھ کے 1927 کے اسٹیٹ سبجیکٹ قانون کے تحت ریاست کے اصل باشندے تھے اور انہوں نے بارہا اپنے آبائی وطن واپس جانے کی خواہش کا اظہار کیا ہے۔‘‘
تاہم بحالیِ آبادکاری کی کسی جامع پالیسی یا ادارہ جاتی مدد کی مکمل عدم موجودگی کے باعث ان کے پاس دوسری جگہ اپنی زندگی دوبارہ شروع کرنے کے علاوہ کوئی راستہ نہیں تھا۔ بیان کے مطابق اس وقت ریاست سے باہر رہنے والی ان کی آبادی کا تخمینہ پانچ سے چھ لاکھ ہے۔
ایس او ایس انٹرنیشنل نے یہ بھی نشاندہی کی کہ جموں و کشمیر کی اُس وقت کی حکومت کے 2014 کے کابینہ فیصلے میں ہر متاثرہ خاندان کو 25 لاکھ روپے نقد امداد، تعلیم یافتہ بے روزگار نوجوانوں کے لیے 8,500 سرکاری ملازمتیں اور پیشہ ورانہ و تکنیکی اداروں میں ریزرویشن دینے کا وعدہ کیا گیا تھا، لیکن جموں و کشمیر یا سابق ریاست سے باہر جلاوطنی کی زندگی گزارنے والے خاندانوں کے لیے اس پر عمل نہیں کیا گیا۔
جاری۔یواین آئی۔ طـ ا
جموں و کشمیر
یومِ آزادی سے قبل کشمیر بھر میں کثیر سطحی سکیورٹی انتظامات
سری نگر، 15 اگست کو یومِ آزادی کی تقریبات کے پیش نظر سری نگر اور وادیٔ کشمیر کے دیگر علاقوں میں کثیر سطحی سکیورٹی انتظامات کیے گئے ہیں۔
سری نگر میں جہاں وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ بخشی اسٹیڈیم میں قومی پرچم لہرائیں گے، سکیورٹی فورسز نے تقریب کے مقام اور اس سے متصل علاقوں میں سکیورٹی نظام کو مزید مضبوط کر دیا ہے۔
کشمیر کے انسپکٹر جنرل پولیس وی کے بردی نے منگل کو کہا کہ یومِ آزادی کی تقریبات کو خوش اسلوبی سے منعقد کرنے کے لیے نہ صرف مرکزی مقام بلکہ پورے شہر اور وادی کے مختلف اضلاع میں بھی وسیع سکیورٹی انتظامات کیے جا رہے ہیں۔
بردی نے نامہ نگاروں سے کہاکہ ’’جیسا کہ آپ جانتے ہیں، 15 اگست کو سری نگر میں مرکزی تقریب منعقد ہونے والی ہے۔
اس کے لیے سکیورٹی انتظامات اور پریڈ کی تیاریاں جاری ہیں۔ مکمل لباس میں ریہرسل کی جا رہی ہیں تاکہ 15 اگست کی مرکزی تقریب سری نگر میں بخوبی منعقد کی جا سکے۔‘‘
انہوں نے کہا کہ جموں و کشمیر پولیس نے پوری وادی میں کثیر سطحی سکیورٹی انتظامات کیے ہیں۔
آئی جی پی نے کہاکہ ’’جموں و کشمیر پولیس نے نہ صرف سری نگر بلکہ وادی کے مختلف اضلاع میں بھی کثیر سطحی سکیورٹی انتظامات کیے ہیں۔ یہ انتظامات صرف تقریبات کے مقامات تک محدود نہیں ہیں بلکہ شہر کے اطراف بھی کیے گئے ہیں۔ اس بار بھی اسی طرح کے انتظامات کیے گئے ہیں۔‘‘
جنوبی کشمیر میں حالیہ واقعات کے بعد ممکنہ دہشت گردانہ حملوں یا دیگر خطرات کے بارے میں کسی پیش رفت کے متعلق پوچھے جانے پر بردی نے کہا کہ معاملہ زیرِ تفتیش ہونے کی وجہ سے اس کی تفصیلات ظاہر کرنا مناسب نہیں ہوگا۔
انہوں نے کہاکہ ’’دیکھیے، یہ تفتیش کا معاملہ ہے۔ اس لیے میرے خیال میں ابھی اس کی تفصیلات ظاہر کرنا مناسب نہیں ہوگا۔
جب بھی ایسی کوئی بات ہوگی جسے آپ کے ساتھ شیئر کرنا ضروری ہوگا، ہم مناسب وقت پر آپ کو اس سے آگاہ کریں گے۔‘‘
یومِ آزادی کی تقریبات کے دوران عوام کے لیے پولیس کے پیغام کے بارے میں بردی نے کہا کہ یہ تقریب عوام کی ہے اور انہوں نے شہریوں سے بڑی تعداد میں تقریبات میں شرکت کرنے کی اپیل کی۔
آئی جی پی نے کہاکہ ’’دیکھیے، یہ عوام کی تقریب ہے۔ پولیس اس میں مددگار یا منتظم کا کردار ادا کرتی ہے۔ چونکہ یہ عوام کی تقریب ہے، اس لیے ہم لوگوں سے اپیل کرتے ہیں کہ وہ بڑی تعداد میں اس میں شرکت کریں اور اسے کامیاب بنائیں۔‘‘
دریں اثنا، منگل کو سکیورٹی اداروں نے یومِ آزادی کی تقریبات میں خلل ڈالنے کی کسی بھی کوشش کو ناکام بنانے کے لیے سخت سکیورٹی اقدامات کے تحت سری نگر بھر میں تخریب کاری مخالف جانچ، علاقے میں غلبہ قائم کرنے کی کارروائیوں، نگرانی اور تلاشی کی کارروائیاں تیز کر دیں۔
کئی چیک پوسٹوں پر دو پہیہ گاڑیوں کو روکا گیا اور سواروں کی شناخت کی تصدیق کے ساتھ ان کی تلاشی بھی لی گئی۔
یواین آئی۔ـظ ا
جموں و کشمیر
یومِ آزادی سے قبل جموں و کشمیر پولیس نے سرحدی سامبا میں طویل فاصلے کی گشت اور فرضی انسدادِ دہشت گردی مشق کی
جموں، آئندہ یومِ آزادی کی تقریبات کے پیش نظر آپریشنل تیاریوں کا جائزہ لینے، سکیورٹی انتظامات کو مضبوط بنانے اور کسی بھی ہنگامی صورت حال سے فوری طور پر نمٹنے کو یقینی بنانے کے لیے جموں و کشمیر پولیس نے منگل کو سامبا ضلع کے سرحدی علاقوں میں طویل فاصلے کی گشت (ایل آر پی) اور فرضی انسدادِ دہشت گردی مشق کا انعقاد کیا۔
عہدیداروں کے مطابق اسپیشل آپریشن گروپ (ایس او جی)، سامبا نے جموں-پٹھان کوٹ قومی شاہراہ پر جٹوال سے لالہ چک تک طویل فاصلے کی گشت کی۔
انہوں نے بتایا کہ گشت کے بعد سرحدی سڑک پر واقع بی پی پی لالہ چک میں فرضی مشق کی گئی، جس کا مقصد فرضی دہشت گردانہ صورت حال سے نمٹنے کے لیے حصہ لینے والے اہلکاروں کی تیاری کا جائزہ لینا تھا۔ مشق کے دوران دو فرضی دہشت گردوں کو تنصیب پر حملہ کرتے ہوئے دکھایا گیا۔
انہوں نے کہاکہ ’’فرضی خطرے پر فوری کارروائی کرتے ہوئے ایس او جی کے اہلکاروں نے علاقے کو مناسب طریقے سے گھیرے میں لے لیا اور دونوں فرضی دہشت گردوں کو کامیابی سے بے اثر کر دیا۔‘‘
عہدیداروں نے بتایا کہ اس مشق کا مقصد ایس او جی سامبا اور بی پی پی لالہ چک کے حصہ لینے والے اہلکاروں کے ردعمل کے نظام، باہمی تال میل، حربی تیاری اور ہنگامی صورت حال سے نمٹنے کی صلاحیتوں کو جانچنا تھا۔
ایس ایس پی سامبا نے پولیس کی جانب سے مضبوط سکیورٹی انتظامات برقرار رکھنے اور عوام کی سلامتی و تحفظ کو یقینی بنانے کے عزم کا اعادہ کیا، خاص طور پر آئندہ یومِ آزادی کی تقریبات اور جاری شری امرناتھ یاترا کے پیش نظر۔
یواین آئی۔ظ ا
-
دنیا1 day agoایران کا فی الحال امریکہ کے ساتھ کوئی مذاکرات نہیں: ایرانی وزیر خارجہ
-
دنیا1 day agoسعودی عرب میں فیکٹری میں آگ کے سبب 16 بنگلہ دیشی مزدور ہلاک
-
دنیا2 days agoٹرمپ جوہری معاہدے کے بغیر ایران کے ساتھ تنازع ختم کرنے پر تیار: رپورٹ
-
ہندوستان1 day agoطلبہ پر کارروائی کے معاملے پر حکومت کو گھیرتے ہوئے راہل کا مضمون، کھڑگے اور پرینکا نے حمایت کی
-
دنیا1 day agoتجربہ کار آئی آر جی سی کمانڈر محسن رضائی ایران کے قومی سلامتی کے سربراہ مقرر
-
جموں و کشمیر7 hours agoیومِ آزادی سے قبل جموں و کشمیر پولیس نے سرحدی سامبا میں طویل فاصلے کی گشت اور فرضی انسدادِ دہشت گردی مشق کی
-
دنیا11 hours agoٹرمپ کا ایران سے معاوضے کا مطالبہ، آبنائے ہرمز پر مذاکرات جاری
-
ہندوستان9 hours agoپارلیمنٹ کے احاطے میں اپوزیشن ارکانِ پارلیمنٹ کا احتجاج
-
دنیا7 hours agoایران نے خود کو ایک ‘ناقابل تسخیر طاقت’ ثابت کیا ہے: عراقچی
-
دنیا7 hours agoشام کے سابق صدر بشار الاسد کو سزائے موت سنادی گئی
-
دنیا11 hours agoیمن میں حوثیوں کے المخا اور مارب پر بیلسٹک میزائل حملے
-
دنیا11 hours agoایران اور عمان کے درمیان آبنائے ہرمز پر مذاکرات جاری
