جموں و کشمیر
وادی کشمیر میں تانبے کے برتنوں کا رواج برقرار، شادی بیاہ اور گھریلو استعمال میں پہلی پسند
سری نگر،وادی کشمیر کی صدیوں پر محیط شاندار تہذیب و ثقافت میں جن چیزوں کو ایک خاص مقام حاصل ہے ان میں سے تانبے کے مختلف النوع برتن خصوصی اہمیت کے حامل ہیں اگرچہ بدلتے زمانے کے ساتھ اسٹیل اور جدید کچن ویئر نے مارکیٹ میں اپنی جگہ بنائی ہے، لیکن اس سب کے باوجود وادی کے عوام میں تانبے کے برتن آج بھی بڑی چاہت اور شوق کے ساتھ استعمال کیے جاتے ہیں سری نگر کے پائین شہر میں واقع مہاراج گنج مارکیٹ تانبے کے برتنوں کے کاروبار کے حوالے سے نہ صرف کشمیر بلکہ پورے شمالی ہندوستان میں اپنی ایک الگ شناخت رکھتا ہے۔ یہاں کی گلیوں میں قدم رکھتے ہی تانبے کی چمک دمک اور ہتھوڑے کی آواز کانوں میں رس گھول دیتی ہے۔ یہاں روزانہ سینکڑوں خریدار آتے ہیں، کچھ اپنی روزمرہ کی ضرورت کے لئے تو کچھ شادی بیاہ کی تیاری کے سلسلے میں۔
یہاں کے معروف تاجر نثار احمد نے یو این آئی کو بتایا:’وادی کشمیر میں تانبے سے بنی مصنوعات کا رواج اب بھی قائم ہے۔ لوگ بڑے ذوق و شوق سے یہ چیزیں خرید کر اپنے گھروں کی زینت بناتے ہیں۔ ہمارے کاروبار سے سینکڑوں نہیں بلکہ ہزاروں کنبے وابستہ ہیں جو اپنی روزی روٹی اچھی طرح سے کما رہے ہیں۔‘
کشمیر میں شادی بیاہ کی رسومات اپنی ثقافت اور رنگا رنگی کے لئے مشہور ہیں۔ ان رسومات میں ایک اہم پہلو یہ بھی ہے کہ دولہن کو جہیز یا تحائف میں تانبے کے برتن دیے جاتے ہیں۔ نثار احمد کے مطابق:’یہ روایت آج بھی پوری طرح قائم ہے۔ دولہن کو تانبے کے بڑے برتن جیسے ڈگچی، تھالی، کڑاہی اور دیگر برتن دیے جاتے ہیں۔ یہ نہ صرف روایت کا حصہ ہے بلکہ تانبے کے برتنوں میں پکایا گیا کھانا ذائقہ اور صحت کے لئے بھی بہترین مانا جاتا ہے۔‘
اگرچہ وادی میں آنے والے غیر مقامی سیاح کشمیری دستکاریوں اور خشک میوہ جات میں زیادہ دلچسپی دکھاتے ہیں، تاہم تانبے کے برتنوں کی خریداری میں ان کی دلچسپی محدود ہے۔ تاجر نثار احمد کا کہنا ہے کہ صرف دو فیصد سیاح ہی یہ برتن خریدتے ہیں، باقی زیادہ تر خریدار مقامی سطح کے ہوتے ہیں۔
سری نگر کے ایک اور دکاندار بشیر احمد نے بتایا:’سیاح زیادہ تر چھوٹی چیزیں جیسے یادگار کے طور پر پلیٹیں یا چھوٹے پیالے خرید لیتے ہیں، لیکن بڑی خریداری صرف کشمیری عوام کرتے ہیں۔ ہمارے لئے اصل سہارا مقامی گاہک ہیں۔‘
پہلگام حملے اور اس کے بعد وادی میں پیدا ہونے والی صورتحال نے اس صنعت کو بھی متاثر کیا ہے۔ نثار احمد کے مطابق:’اس بات میں کوئی شک نہیں کہ تیس سے چالیس فیصد کام متاثر ہوا ہے۔ رواں برس معاشی صورتحال خراب ہونے کی وجہ سے لوگوں نے بہت کم تعداد میں خریداری کی ہے۔ پہلے ستمبر سے دسمبر تک اچھا کام ہوتا تھا لیکن اب حالات کے اثرات ہمارے کاروبار پر بھی پڑے ہیں۔‘
سری نگر کی رہائشی شمیمہ بیگم، جو اپنی بہو کے لئے تانبے کے برتن خریدنے آئی تھیں، کہتی ہیں:’یہ روایت ہمارے گھروں میں نسلوں سے چلی آ رہی ہے۔ شادی بیاہ کے موقع پر اگر دولہن کو تانبے کے برتن نہ دیے جائیں تو ایسا لگتا ہے کچھ کمی رہ گئی۔‘
اسی طرح کالج کے طالب علم فیاض احمد کا کہنا تھا:’میری ماں ہمیشہ کہتی ہیں کہ تانبے کے برتنوں میں کھانا مزیدار اور صحت بخش بنتا ہے۔ اسی لئے ہم آج بھی یہ چیزیں خریدتے ہیں، چاہے ان کی قیمت بڑھ ہی کیوں نہ جائے۔‘
تاجروں کے مطابق ہر سال خام مال کی قیمتوں میں اضافہ ہوتا ہے جس کے سبب برتنوں کی قیمت بھی بڑھ جاتی ہے۔ اس وجہ سے عام خریداروں کے لئے یہ چیزیں مہنگی ثابت ہو رہی ہیں۔
انہوں نے کہا:’خام تانبے کی قیمتوں میں اضافہ نے ہمارا کاروبار مشکل بنا دیا ہے۔ ہمیں جو مال باہر سے آتا ہے وہ مہنگا پڑتا ہے، اس لئے ہم بھی مجبور ہیں کہ برتن مہنگے داموں فروخت کریں۔‘
اس صنعت سے وادی میں ہزاروں خاندان جڑے ہوئے ہیں، خاص کر سری نگر کے پائین علاقوں میں۔ یہاں کے بیشتر گھرانے اس کاروبار پر ہی انحصار کرتے ہیں۔ کاریگر دن رات محنت کرکے مختلف ڈیزائن اور نقش و نگار کے برتن تیار کرتے ہیں جو کشمیری ثقافت کی جھلک پیش کرتے ہیں۔
ایک مقامی کاریگر، محمد شفیع، نے کہا:’یہ صرف روزگار نہیں بلکہ ہماری پہچان ہے۔ میں پچھلے تیس برس سے یہ کام کر رہا ہوں۔ اگرچہ آج کل وقت مشکل ہے مگر ہم امید کرتے ہیں کہ حالات بہتر ہوں گے اور ہمارا فن زندہ رہے گا۔‘
اگرچہ مشکلات اور معاشی دباؤ اس صنعت پر سایہ فگن ہیں، لیکن تاجروں اور کاریگروں کو یقین ہے کہ تانبے کے برتنوں کی کشش کبھی ختم نہیں ہوگی۔ یہ وادی کی تہذیب، ثقافت اور روایات کا لازمی حصہ ہیں۔
جیسا کہ نثار احمد نے کہا:’چاہے حالات کیسے بھی ہوں، کشمیری عوام تانبے کے برتنوں کو ہمیشہ اپنے گھروں کی زینت بناتے رہیں گے۔ یہ ہماری ثقافت ہے، ہماری پہچان ہے، اور ہماری تاریخ کا حصہ ہے۔‘
یو این آئی۔ ارشید بٹ،ایم افضل
جموں و کشمیر
مشتبہ افراد اور دہشت گردانہ سرگرمیوں کی فوری اطلاع دیں: جموں و کشمیر پولیس کی عوام سے اپیل
جموں، جموں و کشمیر پولیس نے پونچھ ضلع کے بفلیاز میں پولیس-عوام شراکت داری گروپ (پی سی پی جی) کے اجلاس کے دوران شہریوں سے اپیل کی کہ وہ کسی بھی مشتبہ شخص یا دہشت گردانہ سرگرمی کے بارے میں فوری طور پر پولیس کو اطلاع دیں۔
یہ اجلاس ایڈیشنل ایس پی پونچھ ڈاکٹر اجے شرما کی صدارت میں منعقد ہوا، جس میں دیگر پولیس افسران بھی موجود تھے۔
اجلاس میں عوامی نمائندوں، سماجی کارکنوں، سابق فوجیوں، مذہبی نمائندوں اور مقامی باشندوں نے شرکت کی۔ اس کا مقصد پولیس اور عوام کے درمیان تال میل کو مضبوط بنانا اور منشیات، دہشت گردی کے خلاف کارروائی، خواتین و بچوں کی حفاظت، سائبر جرائم اور عوامی مسائل سے متعلق امور پر تبادلۂ خیال کرنا تھا۔
اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے ایڈیشنل ایس پی پونچھ ڈاکٹر اجے شرما نے عوام کی فعال شرکت کو سراہا اور کہا کہ امن و سلامتی برقرار رکھنے کے لیے شہریوں کی جانب سے بروقت اور قابل اعتماد معلومات فراہم کرنا انتہائی اہم ہے۔
منشیات کی لعنت کے حوالے سے انہوں نے زور دیا کہ اس کاروبار میں ملوث اصل سپلائرز اور منشیات فروخت کرنے والوں کی شناخت کرکے انہیں گرفتار کیا جائے۔ اس کے ساتھ ہی نشے کی لت سے چھٹکارا دلانے، بحالی اور کونسلنگ کے اقدامات کو بھی فروغ دیا جائے، تاکہ اصلاح کے خواہش مند افراد کو مدد فراہم کی جاسکے۔
دہشت گردی کے خلاف کارروائی کے موضوع پر ایڈیشنل ایس پی نے خبردار کیا کہ ملک دشمن عناصر نوجوانوں کو گمراہ کرنے کے لیے منشیات، ہتھیاروں، دہشت گردی، مذہب اور دیگر جذباتی معاملات کا استحصال کرسکتے ہیں۔
انہوں نے شہریوں سے اپیل کی کہ وہ کسی بھی مشتبہ شخص، نقل و حرکت، آمد و رفت یا دہشت گردانہ سرگرمی کی فوری اطلاع پولیس کو دیں۔ انہوں نے واضح طور پر کہا کہ دہشت گردوں کو پناہ، حمایت یا کسی بھی قسم کی مدد فراہم نہ کی جائے۔
انہوں نے ماضی میں دہشت گردی کے خلاف کارروائیوں، بشمول آپریشن سرپ وناش، میں مقامی باشندوں کے اہم کردار کو بھی تسلیم کیا۔
ایڈیشنل سپرنٹنڈنٹ آف پولیس نے پہاڑی اور دشوار گزار علاقوں میں درپیش سلامتی کے چیلنجوں کے پیش نظر نگرانی مزید سخت کرنے، مؤثر معلومات جمع کرنے اور انہیں بروقت متعلقہ حکام تک پہنچانے کی ضرورت پر بھی زور دیا۔
انہوں نے عوام سے غیر قانونی کان کنی، درختوں کی غیر مجاز کٹائی، تجاوزات اور جنگلاتی یا پہاڑی زمین کو غیر قانونی طور پر صاف کرنے کے واقعات کی اطلاع دینے کی اپیل کی۔
مویشیوں کی اسمگلنگ پر گہری تشویش ظاہر کرتے ہوئے انہوں نے متعلقہ افسران کو ہدایت دی کہ اس معاملے میں کسی قسم کی نرمی نہ برتی جائے اور خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف سخت قانونی کارروائی یقینی بنائی جائے۔
مقامی تنازعات کے حوالے سے انہوں نے باشندوں کو مشورہ دیا کہ وہ ایف آئی آر اور جوابی ایف آئی آر درج کرانے کے ذریعے معمولی معاملات کو بلاوجہ طول دینے سے گریز کریں اور جہاں ممکن ہو، چھوٹے تنازعات کو پُرامن طریقے سے حل کریں۔
یواین آئی۔ ظ ا
جموں و کشمیر
جموں و کشمیر میں سی جی ڈی پالیسی نافذ، تمام 20 اضلاع میں گیس کنکٹیویٹی اور سنگل ونڈو منظوری
سری نگر، جموں و کشمیر حکومت نے جموں و کشمیر سٹی گیس ڈسٹری بیوشن (سی جی ڈی) پالیسی 2026 کو نافذ کردیا ہے، جس کے تحت تمام 20 اضلاع میں مرحلہ وار سی جی ڈی نیٹ ورک کی توسیع، مقررہ مدت میں سنگل ونڈو منظوری اور بڑے صنعتی علاقوں کو ترجیحی بنیاد پر گیس کنکٹیویٹی فراہم کرنے کا انتظام کیا گیا ہے۔
وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے جمعرات کو پالیسی کے نوٹیفکیشن کو جموں و کشمیر میں صاف ایندھن تک رسائی بڑھانے، صنعتی مسابقت کو مضبوط بنانے اور توانائی کے بنیادی ڈھانچے کو جدید بنانے کی سمت ایک اہم قدم قرار دیا۔
ایک سرکاری ترجمان نے بتایا کہ وزرا کی کونسل کی منظوری کے بعد جاری کی گئی اس پالیسی میں گھریلو صارفین، تجارتی اداروں، صنعتوں اور ٹرانسپورٹ شعبے میں پائپڈ نیچرل گیس (پی این جی) اور کمپریسڈ نیچرل گیس (سی این جی) کے استعمال کو فروغ دینے کے لیے واضح، سرمایہ کار دوست اور مقررہ مدت پر مبنی فریم ورک قائم کیا گیا ہے۔
پالیسی کے تحت جموں و کشمیر کے تمام 20 اضلاع میں سٹی گیس ڈسٹری بیوشن نیٹ ورک کو مرحلہ وار توسیع دی جائے گی، جس سے صارفین تک زیادہ صاف اور قابل اعتماد قدرتی گیس پہنچے گی اور روایتی ایندھن سے منتقلی میں مدد ملے گی۔
پالیسی کا ایک اہم مقصد سنگل ونڈو اور مقررہ مدت میں منظوری کے نظام کے ذریعے منصوبوں کے نفاذ کو آسان اور تیز بنانا، سی این جی اسٹیشن قائم کرنے کے طریقہ کار کو ہموار کرنا اور رائٹ آف وے کے معیارات کو یکساں بنانا ہے۔ اس کے علاوہ بڑے صنعتی علاقوں، جن میں کٹھوعہ، سانبہ اور پلوامہ کے صنعتی علاقے شامل ہیں، کو ترجیحی بنیاد پر گیس کنکٹیویٹی فراہم کی جائے گی، تاکہ صنعتی ترقی کو فروغ ملے اور قابل اعتماد توانائی تک رسائی بہتر ہو۔
پی این جی اور سی این جی کے بنیادی ڈھانچے کی توسیع سے محفوظ، صاف اور زیادہ سستی توانائی کے متبادل دستیاب ہونے، ایندھن کی لاگت کم کرنے، صنعتی کارکردگی اور مسابقت بہتر بنانے اور ابھرتے ہوئے صاف توانائی کے شعبے میں سرمایہ کاری کی حوصلہ افزائی کی توقع ہے۔
پالیسی میں مقامی روزگار، اپرنٹس شپ اور ہنرمندی کی ترقی کو بھی فروغ دینے کا انتظام کیا گیا ہے، جس سے گیس ڈسٹری بیوشن کے بنیادی ڈھانچے اور متعلقہ خدمات کی تعمیر، آپریشن اور دیکھ بھال کے شعبوں میں روزگار کے نئے مواقع پیدا ہوں گے۔
وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے وزیر برائے خوراک، شہری رسد و امور صارفین ستیش شرما اور متعلقہ محکمہ کو پالیسی کے نوٹیفکیشن پر مبارکباد دیتے ہوئے اسے جموں و کشمیر میں صاف ستھری ترقی، پائیدار ترقی اور جدید توانائی کے نظام کی جانب ایک اہم قدم قرار دیا۔
وزیر اعلیٰ نے کہاکہ ”سٹی گیس ڈسٹری بیوشن پالیسی سے صاف اور قابل اعتماد توانائی تک رسائی کو وسعت دینے میں مدد ملے گی، جبکہ صنعت اور سرمایہ کاری کے لیے سازگار ماحول بھی پیدا ہوگا۔ یہ جموں و کشمیر کے لیے زیادہ صاف، مؤثر اور پائیدار توانائی کے مستقبل کی تعمیر کی جانب ایک اہم قدم ہے۔”
یواین آئی۔ ط ا
جموں و کشمیر
فاروق عبداللہ نے نانا پاٹیکر کو ‘بہت اچھا دوست’ اور ‘بہت اچھا انسان’ قرار دے کر یاد کیا
سری نگر، نیشنل کانفرنس کے صدر اور جموں و کشمیر کے سابق وزیر اعلیٰ فاروق عبداللہ نے جمعرات کو معروف اداکار نانا پاٹیکر کو اپنا ”بہت اچھا دوست” اور ”بہت اچھا انسان” قرار دیتے ہوئے کہا کہ انہوں نے اپنی زندگی غریبوں اور ضرورت مندوں کی مدد کے لیے وقف کردی تھی۔
75 سالہ نانا پاٹیکر جمعرات کی صبح گوا میں واقع اپنی رہائش گاہ پر دل کا دورہ پڑنے سے انتقال کرگئے۔
عبداللہ نے صحافیوں سے کہاکہ ”وہ میرے بہت اچھے دوست تھے اور سب سے بڑھ کر ایک بہت اچھے انسان تھے۔ انہوں نے اپنی پوری زندگی غریبوں اور ضرورت مندوں کی مدد کی۔” انہوں نے کہاکہ ”وہ قبائلی دیہات میں پسماندہ لوگوں کے درمیان رہتے تھے اور ضرورت مند افراد کے مسائل حل کرنے کے لیے کام کرتے تھے۔”
اداکار کے ساتھ اپنی وابستگی کو یاد کرتے ہوئے عبداللہ نے کہا کہ نانا پاٹیکر کئی مرتبہ جموں و کشمیر آئے تھے۔
انہوں نے کہاکہ ”وہ بار بار یہاں آتے تھے اور مجھ سے ملاقات کرتے تھے۔ ایک مرتبہ وہ میری ایک شادی میں بھی آئے تھے، جہاں مجھے ان کے ساتھ رقص کرنے کا موقع ملا۔”
سابق وزیر اعلیٰ نے کہا کہ اداکار میں ”نرم دلی” کی ایک نایاب خوبی تھی اور انہوں نے کبھی مذہبی معاملات کو لوگوں کی مدد کی راہ میں حائل نہیں ہونے دیا۔
انہوں نے کہاکہ ”وہ کبھی مذہب نہیں دیکھتے تھے، بلکہ کسی شخص کے درد کو دیکھتے تھے اور اسے زیادہ سے زیادہ کم کرنے کی کوشش کرتے تھے۔”
عبداللہ نے کہا کہ معاشرے کے لیے نانا پاٹیکر کی خدمات کو فراموش نہیں کیا جائے گا۔
انہوں نے کہاکہ ”اللہ نے انہیں بہت نوازا تھا۔ انہوں نے لوگوں کی مدد کے لیے جو کچھ کرسکتے تھے، کیا اور ان کی خدمات کو کوئی فراموش نہیں کرسکتا۔ ان کی یاد ہمیشہ ہمارے ساتھ رہے گی۔”
اداکار کے انتقال پر اظہارِ افسوس کرتے ہوئے عبداللہ نے کہا کہ جمعرات کی صبح یہ خبر سن کر انہیں بہت دکھ ہوا اور انہوں نے آنجہانی کی روح کے لیے دعا کی۔
نانا پاٹیکر کی اداکاری کی صلاحیتوں کی تعریف کرتے ہوئے عبداللہ نے انہیں ایک شاندار اداکار قرار دیا اور کہا کہ ان کی آخری فلم، جس کی شوٹنگ انہوں نے حال ہی میں گوا میں مکمل کی تھی، ان کی صلاحیتوں کی بھی عکاسی کرے گی۔
یواین آئی۔ ط ا
-
جموں و کشمیر1 week agoسری نگر پولیس نے بین ریاستی منشیات نیٹ ورک کا پردہ فاش کیا، آٹھ افراد گرفتار
-
دنیا1 week agoقطری ثالثی کی امریکہ، ایران کے درمیان مذاکرات میں معمولی پیش رفت
-
دنیا1 week agoروس پر براہِ راست حملے کی صورت میں ہر قسم کے ہتھیار استعمال کرنےکا معاملہ ایجنڈے پر ہو گا :پوتن
-
ہندوستان1 week agoوندے بھارت نے چِناب پل اور کیبل اسٹڈ انجی پل کو 100 کلومیٹر کی رفتار سے عبور کیا
-
جموں و کشمیر7 days agoگاندھی کے عدم تشدد اور سودیشی کے نظریات آج بھی اہم ہیں: جموں کے ڈویژنل کمشنر
-
جموں و کشمیر1 week agoکشمیر میراتھن اتحاد اور نوجوانوں کے متبادل خواہشات کا پیغام دیتی ہے: ایل جی سنہا
-
دنیا6 days agoخمیس مشیط کی جانب داغے گئے تین حوثی بیلسٹک میزائل تباہ
-
جموں و کشمیر1 week agoجاوید ڈار نے اسمبلی میں سی اے جی کی رپورٹیں پیش کیں
-
دنیا1 week agoایران امریکہ سے مذاکرات کی کوشش جاری رکھے گا: پیزشکیان
-
جموں و کشمیر1 week agoاپوزیشن لیڈر کا عمر پر ریاستی حیثیت کی بحالی کے مطالبے کو ’سبوتاژ‘ کرنے کا الزام، جموں و کشمیر اسمبلی کا اجلاس ’بدقسمت‘ قرار
-
دنیا7 days agoامریکہ، ایران جنگ بندی معاہدے کی راہ میں بداعتمادی اور گہرے اختلافات حائل
-
ہندوستان1 week agoکھرگے- راہل نے گاندھی اور شاستری کو یومِ پیدائش پر خراجِ عقیدت پیش کیا
