تازہ ترین
وادی کشمیر میں ۵ اگست کے بعد جلتی دکانیں ، زیارتیں اور ہلاکتیں دیکھیں!
خبراردو ڈیسک :
وادی کشمیر میں ۵ اگست کے بعد مختلف جگہوں پر صرف محدود پیمانے پر سنگبازی کے وقعات اور احتجاجی مظاہرے ہوتے رہے لیکن مجموعی طور پر وادی کے حالات کو سیکورٹی ایجنسیاں قابوکرنے میں پوری طرح کامیاب رہی۔
لیکن دوسری جانب سے وادی میں پہلے سو روز غیر اعلانیہ ہڑتالاور اسکے بعد جزوی طور پر معمولات زندگی بحال ہونے تک جنوبی کشمیر میں ہوئی ہلاکتوں ، سرینگر اور دیگر اضلاع میں ہوئے دھماکوں ، شمال و جنوب میں دکانیں پراسرار طور پر جلانے کے واقعات کو یہ ایجنسیاں نہیں روک پائی ۔
۵ اگست کے بعد سے جنوبی کشمیر کے اضلاع میں کئی جھڑپوں کے دوران ایک درجن کے قریب عسکریت پسند بھی مارے گئے ۔ اگست میں ہی پہلے سرینگر کے پارم پورہ مارکیٹ میں دن دھاڑے ایک دکاندار کو موت کی نیند سلا دیا گیا ۔
جنوبی کشمیر میں سب سے پہلے اکتوبر میں غیر ریاستی مزدوروں اور سیب کے کاروبار سے وابستہ افراد پر کئی حملے کئے گئے ۔ ۱۴ اکتوبر کو راجھستان سے تعلق رکھنے والے محمد شریف جو کہ ایک ٹرک ڈرائیور تھے اور یہاں سے سیب لیجانے کےلئے آئے تھے کو شوپیان میں نامعلوم بندو ق برداروںنے گولیاں چلا کر موت کی ابدی نیند سلا دیا اور ساتھ ہی ٹرک کو نذر اآتش کر دیا ۔
اسکے دو دن بعد ہی پلوامہ میں چھتیس گڑھ کے سیٹھی کمار ساگر جو اینٹ کے بٹھے میں کام کر تے تھے ،بندوق برداروں کے ہاتھوں ہلاک کئے گئے ۔اسی روز شام کو پنجا ب کے ایک ٹرک ڈرائیور چرن جیت سنگھ کو شوپیان میں ہلاک کیا گیا ، جبکہاس کا ساتھی زخمی ہوا ۔
یہ سلسلہ یہی نہیں رکا بلکہ ۲۳ اکتوبر کو پھر سے راجھستان کے دو ٹرک ڈرائیور محمد الیاس اور زاہد نامعلوم بندوق برداروں کی گولیوں کا نشانہ بنے ۔۲۸ اکتوبر کو جموں صوبے کے کٹرا کے رہنے والے ٹرک ڈرائیور نارائن دت بجبہاڑہ میں ہلاک کئے گئے ۔
اس کے اگلے روز ہی جس دن یورپی یونین کا ۲۳ رکنی وفد وادی کے دورے پر آیا تھا ، کلگام میں مغربی بنگال کے پانچ مزدور اپنے کرائے کے مکان میں نامعلوم بندوق برداروں نے قتل کر ڈالے۔
اسکے علاوہ مقامی افراد کی بھی کچھ ہلاکتیں اس غیر یقینی صورتحال کے بیچ نامعلوم اسلحہ برداروں کے ہاتھوں ہوئی ہے ۔ ۱۳ نومبر کو ترال کے مارکیٹ میں دو بچوں کا باپ معراج الدین زرگر جو کہ وہیں ایک دکان پر بطور سیلز مین کام کرتا تھا بندو ق برداروں کی گولیاں کا نشانہ بن گیا ۔
۲۶ نومبر کو اننت ناگ کے ہاکورہ علاقے میں بیک ٹو ولیج پروگرام کے دوران نامعلوم بندوق برداروں نے پہلے وہاں موجود بھیڑ پر ہتھ گولہ داغا اور اسکے بعد فائرنگ بھی کی ، حملے میں ایک سرکار افسر اور مقامی سرپنچ ہلاک ہوئے جبکہ دیگر ۵ زخمی ہوئے ۔
بھیڑ والی جگہوں پر دھماکے :
وادی میں ۵ اگست کے بعد سے ایک درجن کے قریب چھوٹے بڑے دھماکے بھی ہوئے ہیں ۔، جن میں درجنوں زخمی اور کچھ ہلاکتیں بھی ہوئی ۔ اگست اور ستمبر میں سرینگر کے ئی علاقوں میں فورسز پارٹیوں پر گرینیڈ داغے گئے لیکن ان میں کسی قسم کا کوئی جانی نقصان نہیں ہوا ۔
۵ اکتوبر کو اننت ناگ میں ضلعی ترقیاتی کمشنر کے دفتر کے باہر ایک دھماکے میں ۱۴ افراد زخمی ہوئے تھے۔ ۱۲ اکتوبر کو سرینگر کے ہری سنگھ ہائی اسٹریٹ مارکیٹ میں ہوئے ایک دھماکے میں کم از کم ۵ افراد زخمی ہوئے تھے ۔
اسی طرح سے ۲۸ اکتوبر کو سوپور کے بس سٹینڈ میں ایک زور دار دھماکے میں ۲۰ افراد زخمی ہوئے تھے ۔اسکے بعد پھر سے بھیڑ کو ہی نشانہ بناتے ہوئے سرینگر کے گونی کھن مارکیٹ میں جہاں دکانیں کھلی تھیں اور لوگ خریداری میں مصروف تھے کہ اسی اثنا میں ایک زور دار دھماکہ ہوا ، جس میں ایک غیر مقامی کھلونے بیچنے والا شخص ہلاک جبکہ دیگر ۴۰ زخمی ہوئے ۔
درجنوں دکانیں نذرآتش :
وادی میں اس غیر یقینی صورتحال کے دوران اب تک جنوب و شما ل میں ایک درجن سے زائد دکانیں آگ کے حوالے ہوئی ہیں ۔ دکانیں جلانے والے کی جانب سے دکھنے میں یہ ایک تنبیہ کیا جا تا ہے کہ دکانیں نہ کھولیں ورنہ آپ کی دکانوں کا بھی ایسا ہی حال ہو گا ۔ اور ایسا تب شروع ہوا جب شمال و جنوب میں دکانیں کئی جگہوں پر پورے دن کےلئے کھلی رہنے لگی تھی۔
۲۵اکتوبر کو بٹہ مالو میں پراسرار طور پر چھ دکانوں میں آگ نمودار ہو گئی اور کچھ منٹوں کے بعد لاکھوں کا سامان راکھ میں تبدیل ہوا ۔
۵ نومبر کو بٹہ مالو کے ہی اقبال مارکیٹ میں دس دکانیں آگ کی وجہ سے مکمل طور خاکستر ہو گئی ۔ اسی طرح ۲۰ نومبر کو چار دکانیں ڈاون ٹاون میں جل کر راکھ ہو گئی ۔
۲۵ نومبر کو اسی طرح سے بارہ مولہ میں مختلف جگہوں پر تین دکانیں اور اسی روز اننت ناگ کے ڈانگر پورہ علاقے میں سات دکانیں آگ کے حوالے ہو گئی ۔
ان تمام دکانوں میں سے پولیس کےمطابق شارٹ سرکٹ کی وجہ سے بھی کچھ نذر آتش ہوئے ۔
ادھر دوسری جانب ۲۵ نومبر کو ترال میں شر پسندوں نے ایک زیارت میں آگ لگا دی گئی جس سے زیارت کو نقصان پہنچا ۔ لیفٹننٹ گورنر جی سی مرمو نے واقع کی مذمت کرتے ہوئے کہاکہ زیارت کی مرمت کےلئے حکومت پیسہ دے گی ۔ اس سے پہلے ۱۷ نومبر کو ترال کے ہی سنگرامہ اور دادسرہ علاقے میں ایک مسجد کو نقصان پہنچایا گیا جبکہ قرآن کی بھی بے حرمتی کی گئی تھی۔
کچھ روز قبل وزیر دفاع راجناتھ سنگھ نے ایوان میں بتایا تھا کہ جموں کشمیر میں تشدد کے واقعا ت میں کمی آئی ہے بلکہ یہ کہا تھا کہ نہ کے برابر ہیں ۔ ان کے مطابق ۱۷ نومبر تک کل تشدد سے جڑے ۵۹۶ واقعات پیش آئے ، جن میں ۷۹ فورسز اہلکار اور ۳۷ شہری ہلاک ہوئے ۔ لیکن ۵ اگست کے بعد واد ی میں ترقی کے بجائے بے چینی ، اداسی ور کب کیا ہو والی صورتحال دیکھی جا سکتی ہے ۔
فن و ادب
ریکھا کی ادکاری ہندی سنیما کی تاریخ کا ایک یادگار باب
ممبئی،
ریکھا محض ایک اداکارہ نہیں بلکہ ہندی سنیما کی تاریخ کا ایک یادگار باب ہیں۔ ان کی اداکاری، شخصیت اور فن آنے والی نسلوں کے لیے بھی اہمیت رکھتے ہیں۔ ان کا فلمی سفر اس حقیقت کی گواہی دیتا ہے کہ اصل عظمت صرف شہرت حاصل کرنے میں نہیں، بلکہ اپنے فن کے ذریعے وقت کی حدود سے آگے نکل جانے میں ہے۔
ریکھا کی زندگی کامیابی، جدوجہد، تنہائی، شہرت اور خود کو نئے انداز میں پیش کرنے کی ایک طویل داستان ہے۔ انہوں نے بچپن کی مشکلات سے نکل کر ہندوستانی فلمی دنیا میں وہ مقام حاصل کیا جس تک پہنچنا ہر فنکار کے لیے ممکن نہیں ہوتا۔
‘خوب صورت’ کی زندہ دل منجو ہو، ‘امراو جان’ کی غم زدہ شاعرہ، ‘گھر’ کی دکھ سہنے والی عورت یا ‘خون بھری مانگ’ کی مضبوط کردار والی ہیروئن، ریکھا نے ہر کردار میں اپنی الگ شناخت قائم کی۔
بالی وڈ کی امراؤ جان، قاتل نگاہیں اور نمکین رنگت والی مشہور اداکارہ ریکھا دس اکتوبر 1954 کو مدراس کے ایک گھرانے میں پیدا ہوئیں۔ اُن کا حقیقی نام بھانو ریکھا گنیشن ہے۔ان کے والد جیمنی گنیشن اور ان کی ماں تیلگو اداکارہ پشپ دیوی نے باقاعدہ شادی نہیں کی تھی۔ بچپن سے ہی تیلگو فلموں سے اپنا فلمی سفر شروع کرنے والی ریکھا کو کافی جدوجہد کرنی پڑی۔
ریکھا نے محض گیارہ سال کی عمر میں تیلگو فلم میں اداکاری سے اپنےکیرئیر کاآغاز کیا، 1969 میں ہندی فلم ‘دو شکاری’ کی ہیروئن کے روپ میں جلوہ گر ہوئیں اور جلد ہی فلمی دنیا پر راج کرنے لگیں۔
سال 1976 میں انہوں نے پہلی بار امیتابھ بچن کے ساتھ فلم ‘دو انجانے’ میں کام کیا اور فلم کو امر کردیا۔ اس کے بعد یہ جوڑی نٹور لال، خون پسینہ، مقدر کا سکندر اور بہت سی فلموں میں ایک ساتھ نظر آئی ۔
1978 میں فلم ‘مقدرکا سکندر’ نے ریکھا کو شہرت کی بلندیوں پر پہنچادیا اورانہیں فلم فیئر ایوارڈ سے بھی نوازا گیا۔
جاری یو این آئی۔ ایم جے
دنیا
ہزیشکیان نے پوتن کو ایران اور امریکہ کے مابین نئی مذاکراتی تجاویز سے آگاہی کرائی
تہران، صدرِ ایران مسعود پزشکیان نے کہا ہے کہ ایران اور امریکہ نے جنگ ختم کرنے اور آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے کے لیے نئی تجاویز کا تبادلہ کیا ہے۔
ایرانی صدر نے ترکمانستان میں اپنے روسی ہم منصب ولادیمیر پوتن سے دوطرفہ اقتصادی اور اسٹریٹجک تعاون کو بڑھانے پر بات چیت کے لیے ملاقات کی۔
ایرانی سرکاری خبر رساں ایجنسی ایرنا کے مطابق یہ ملاقات کامن ویلتھ آف انڈیپنڈنٹ سٹیٹس (سی آئی ایس) سربراہی اجلاس اور بحیرہ کیسپین کے ماحولیاتی اجلاس کے اجلاس کے موقع پر ہوئی۔
دونوں رہنماؤں نے دوطرفہ تعلقات میں پیش رفت کا جائزہ لیا اور توانائی، زراعت، نقل و حمل اور تجارت سمیت اہم شعبوں میں تعاون کو مضبوط بنانے پر تبادلہ خیال کیا۔ انہوں نے مشترکہ منصوبوں کی تکمیل اور حتمی منظوری میں تیزی لانے کی ضرورت پر زور دیا اور دونوں ممالک کے قومی مفادات اور علاقائی استحکام کے مطابق جامع تعاون کو وسیع کرنے کے عزم کی تکرار کی۔
ایرانی طلبا کی خبر رساں ایجنسی اسنا کے مطابق پزشکیان نے کہا کہ جنگ کے باوجود ایران امریکہ کے ساتھ مذاکرات سے کنارہ کش نہیں ہوگا۔
“ہم بات چیت کر رہے ہیں، مگر جب بھی ہم امریکہ سے بات کرتے ہیں، وہ دوبارہ حملہ کر دیتے ہیں۔ تاہم ہم مذاکراتی میز اور گفت و شنید سے پیچھے نہیں ہٹیں گے۔”
پزشکیان نے کہا کہ تہران اور واشنگٹن نے دو طرفہ طور پر نئی تجاویز پیش کی ہیں۔
“ہم نے ان تجاویز میں اپنی ترامیم کی ہیں۔ جب یہ حتمی ہو جائیں گی تو ہمیں موجودہ ثالثوں کے ذریعے بیٹھ کر انہیں یکجا کرنا ہوگا۔”
پزشکیان نے علاقائی امور اور اقوامِ متحدہ میں روس کے موقف کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ ماسکو نے یکطرفہ پالیسیوں کے خلاف مدد کی۔انہوں نے یہ بھی امید ظاہر کی کہ تہران اور ماسکو کے درمیان بڑھتی ہوئی ہم آہنگی “تیزی اورمظبوطی کے ساتھ” آگے بڑھے گی، اور کہا کہ موجودہ حالات تعاون کو گہرا کرنے کا موقع فراہم کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ تہران جنگ کے خاتمے کا خواہاں ہے، بشرطیکہ ایرانی عوام کے حقوق بین الاقوامی قانون کے تحت محفوظ رہیں۔
دونوں رہنماؤں کی آخری ذاتی ملاقات یکم ستمبر کو کرغزستان میں شنگھائی تعاون تنظیم کے اجلاس کے موقع پر ہوئی تھی، جہاں انہوں نے دوطرفہ تعلقات اور امریکہ-ایران جنگ پر بات کی تھی۔
اس ملاقات کے دوران پوتن نے امریکہ اور ایران کے درمیان جنگ بندی کو “غیر مستحکم اور بہت نازک” قرار دیا اور تہران کی حمایت جاری رکھنے کا عندیہ دیا۔
مزید یہ کہ پزشکیان اور پوتن نے تاکہ ایران-امریکہ مذاکرات پر تبادلہ خیال کرنے کے لیے بدھ کو فون پر بات کی تھی، جس میں روسی صدر نے تنازع کے حل کے لیے سفارتی کوششوں کی حمایت میں ماسکو کی آمادگی ظاہر کی۔
پوتن سی آئی ایس سربراہی اجلاس اور بحیرہ کیسپین کے ماحولیاتی اجلاس میں شرکت کرنے کے لیے جمعرات کو دو روزہ دورے پر ترکمانستان پہنچے تھے۔
توقع ہے کہ سی آئی ایس اجلاس رکن ممالک کے درمیان تعاون کے ساتھ ساتھ علاقائی اور بین الاقوامی پیش رفت کا جائزہ لے گا۔
بحیرہ کیسپین ماحولیاتی اجلاس میں پانچ ساحلی ممالک – آذربائیجان، ایران، قازقستان، روس اور ترکمانستان – کے رہنما یکجا ہوئے ہیں ، اجلاس کے ایجنڈے میں خطے میں ماحولیاتی تعاون شامل ہے۔
یو این آئی۔ ع ا۔
ہندوستان
مودی حکومت کی پالیسیوں نے معاشی لبرلائزیشن کو برباد کر دیا: کھرگے
نئی دہلی، کانگریس صدر ملکارجن کھرگے نے مودی حکومت کی معاشی پالیسیوں پر شدید نکتہ چینی کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس حکومت نے عام لوگوں کے مفادات کو نظر انداز کر کے صارفین کے لیے متعدد اختیارات کی مسابقت کو ختم کر دیا ہے اور منتخب سرمایہ دار دوستوں کو فائدہ پہنچایا جا رہا ہے، جس سے معاشی لبرلائزیشن کی بنیاد برباد ہو گئی ہے۔
مسٹر کھرگے نے جمعہ کے روز سوشل میڈیا پلیٹ فارم ‘ایکس’ پر لکھا کہ مودی حکومت کی معاشی پالیسیوں کا مقصد معیشت کا کنٹرول اپنے چہیتے سرمایہ دار دوستوں کے ہاتھوں میں سونپنا ہے، تاکہ بدلے میں منافع میں بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کا حصہ برقرار رہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ مسابقت کو ختم کر کے اجارہ داری اور دو کمپنیوں کے غلبے والے نظام کو نافذ کر کے بی جے پی کے خزانے کو بھرنے کا کام کیا گیا ہے۔
کانگریس صدر نے کہا کہ ٹیلی کام کے شعبے میں 2014 سے پہلے 13 کمپنیاں تھیں، جبکہ اب صرف تین بڑی نجی کمپنیاں رہ گئی ہیں۔ اسی طرح اندرونِ ملک ہوا بازی کے شعبے میں 2014 سے پہلے سات کمپنیوں کے مقابلے اب صرف دو بڑی کمپنیاں رہ گئی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ڈیجیٹل ادائیگی، سیمنٹ اور فوڈ ڈیلیوری ایپس سمیت مختلف شعبوں میں حکومت کی ترجیح مسابقت کو ختم کرنا رہی ہے۔ مسٹر کھرگے نے کہا کہ کانگریس معاشی لبرلائزیشن کی بانی ہے، جبکہ بی جے پی پر اپنے منافع کے لیے ‘معاشی دہشت گردی’ نافذ کرنے کا الزام لگایا۔
مسٹر کھرگے نے دعویٰ کیا کہ حکومت کی معاشی پالیسیوں سے مائیکرو، اسمال اینڈ میڈیم انٹرپرائزز (ایم ایس ایم ای) اور دیگر چھوٹے و درمیانے درجے کی صنعتوں کو نقصان پہنچا ہے نیز ملک کے نوجوانوں کو شدید بے روزگاری کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔
یواین آئی ایف اے
-
جموں و کشمیر1 week agoسری نگر پولیس نے بین ریاستی منشیات نیٹ ورک کا پردہ فاش کیا، آٹھ افراد گرفتار
-
دنیا1 week agoقطری ثالثی کی امریکہ، ایران کے درمیان مذاکرات میں معمولی پیش رفت
-
دنیا1 week agoروس پر براہِ راست حملے کی صورت میں ہر قسم کے ہتھیار استعمال کرنےکا معاملہ ایجنڈے پر ہو گا :پوتن
-
جموں و کشمیر7 days agoگاندھی کے عدم تشدد اور سودیشی کے نظریات آج بھی اہم ہیں: جموں کے ڈویژنل کمشنر
-
ہندوستان1 week agoوندے بھارت نے چِناب پل اور کیبل اسٹڈ انجی پل کو 100 کلومیٹر کی رفتار سے عبور کیا
-
جموں و کشمیر1 week agoکشمیر میراتھن اتحاد اور نوجوانوں کے متبادل خواہشات کا پیغام دیتی ہے: ایل جی سنہا
-
جموں و کشمیر1 week agoجاوید ڈار نے اسمبلی میں سی اے جی کی رپورٹیں پیش کیں
-
دنیا6 days agoخمیس مشیط کی جانب داغے گئے تین حوثی بیلسٹک میزائل تباہ
-
جموں و کشمیر1 week agoاپوزیشن لیڈر کا عمر پر ریاستی حیثیت کی بحالی کے مطالبے کو ’سبوتاژ‘ کرنے کا الزام، جموں و کشمیر اسمبلی کا اجلاس ’بدقسمت‘ قرار
-
دنیا7 days agoامریکہ، ایران جنگ بندی معاہدے کی راہ میں بداعتمادی اور گہرے اختلافات حائل
-
ہندوستان1 week agoکھرگے- راہل نے گاندھی اور شاستری کو یومِ پیدائش پر خراجِ عقیدت پیش کیا
-
دنیا1 week agoایران امریکہ سے مذاکرات کی کوشش جاری رکھے گا: پیزشکیان
