تازہ ترین
وادی کے زعفران زاروں میں مایوسی کا عالم
خبراردو:
وادی میں زعفران کے کاشت کاروں کو جہاں ایک دہائی کے بعد زعفران کے فصل کی اچھی پیدوار کی امید تھی،اور بروقت بارشوں نے انکی امیدوں اور توقعات میں اضافہ کیا تھا،تاہم برفباری نے انکی امیدوں پر پانی پھیر دیا۔ کاشتکاروں کے مطابق زعفران کے گل برف کے نیچے دب گئے اور انہیں نا قابل تلافی نقصانات سے دو چار ہونا پڑا۔ریاست کی زراعی اراضی کو بین الاقوامی شناخت حاصل ہیں،جبکہ دنیا کے بہترین زعفران کی پیدوار جو کہ قریب مجموعی پیداوار کا7 فیصد ہیں وادی کے پلوامہ اور بڈگام اضلاع میں ہی کاشت ہوتی ہے۔ کشمیر کے زعفران نے سالہا سال بین الاقوامی بازاروں میں راج کیا،تاہم اب یہ زوال پذئر ہو رہا ہے۔
جموں کشمیر میں قریب4ہزار496ہیکٹر اراضی بالخصوص زعفران کی کاشت کیلئے مخصوص رکھی گئی ہے۔ماہرین کا مانے تو ریاست میں زعفران کی اوسط پیدوار شرح ،کاشت میں سال در سال کمی واقع ہورہی ہے۔ ماہرین زراعت کا کہنا ہے کہ وادی میں1996-97سے زعفران کی پیدوار میں کمی واقع ہوری ہے،جبکہ1996-97 میں5700ہیکٹر اراضی سے2007-8میں یہ3000ہیکٹر تک پہنچ چکی ہے۔ان ماہرین کے مطابق پیدوار میں بھی2003-4 میں3.72کلو فی ہیکٹرسے یہ2.52کلو فی ہیکٹر تک پہنچ چکی ہے۔محکمہ مال کی طرف سے جمع کئے گئے اعداد شمار کے مطابق1996-97میں15.95میٹرک ٹن زعفران کی جہاں پیدوار ہوئی،وہی2010-11میں اس کے گراف میں تنزلی ہوئی اور یہ9.85میٹرک ٹن تک پہنچ گیا۔ سال2015-16تک کے عرصے میں اس میں مزید10ٹن کی کمی واقع ہوئی۔
وادی میں پانپور کا قصبہ زعفران کی کاشت کیلئے مشہور ہیں،جہاں نواحی علاقوں سمیت قریب2100کلو گرام کی شرح سے زعفران کی پیدور ہوتی ہے،تاہم اس کی پیدوار2.5کلو فی ہیکٹر کو عبور نہ کرسکی۔ سرینگر ضلع میں2016-17سے2017-18تک زعفران کی پیدوار 5.5کلو سے2.20کلو فی ہیکٹر تک پہنچ گئی،جبکہ ضلع پلوامہ ہیں اس عرصے میں5.50کلو فی ہیکٹر سے1.64فی ہیکٹر تک پہنچ گئی،ضلع بڈگام کا بھی یہی حال ہے جہاں بھی پیدوار میں تنزلی دیکھنے کو ملی۔ مرکزی حکومت کی طرف سے سال2010میں زعفران کی کاشت کو فروغ دینے کیلئے قومی زعفران مشن شروع کیا گیا،تاہم اگر چہ سال2015میں اس پروجیکٹ کی مدت میں توسئع بھی کی گئی تاہم ،یہ مشن بھی خاطر خواہ نتائب برآمد کرنے میں کاناک ثابت ہوا۔ قومی زعفران مشن کو371کروڑ روپے کے ساتھ شروع کیا گیا،جس کو بعد میں400کروڑ روپے تک پہنچایا گیا۔ محکمہ مال ذرائع کا کہنا ہے کہ اس مشن کے دوران زعفران کی کاشت میں اراضی ہی سکڑ گئی ۔
محکمہ کے اندروانی ذرائع کا کہنا ہے کہ مبینہ طور پر اراضی میں تبدیلی،زمین کی قیمتوں میں اضافے کے پیش نظر نذر انداز کی گئی،جبکہ2014کے تباہ کن سیلاب کے نتیجے میں ان کاشت کاروں کو کافی نقصانات کا سامنا کرنا پرا،جن کا سال بھر کا روزگار اسی زعفران کی کاشت پر منحصر تھی۔ محکمانہ ذرائع نے مزید کہا کہ جہاں چند سال قبل19ہزار کنبے زعفران کی کاشت پر منحصر تھے،وہی اب ان کی تعداد میں کمی واقع ہوئی اور وہ16ہزار تک پہنچ چکی ہے۔ ان ذرائع کا مزید کہنا ہے کہ قریب7ہزار کنبوں نے سال2012میں قومی زعفران مشن کے تحت اپنی اراضی زعفران کی پیدوار میں اضافے کیلئے پیش کی تھی، تاہم یہ شکایتیں سامنے آئے کہ اصل مقصد کے برعکس زعفران کی کاشت کے تحت اراضی سکڑ گئی،بلکہ فصل کی فی ہیکٹر شرح پیدوار مین بھی کمی واقع ہوئی۔ مقامی کاشت کاروں کا کہنا ہے کہ شہری علاقوں میں پھیلاﺅ کی وجہ سے زعفران کی کاشت کیلئے مخصوص اراضی سکڑ گئی،جس سے پیدوار میں بھی تنزلی ہوئی،تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ اصل مسئلہ آبپاشی کا ہے۔اس دوران زعفران کی پیدوار میں کمی کی وجہ سے اس کی قیمتیں بھی آسمان کو چھونے لگی۔ماہرین کا ماننا ہے کہ اگرچہ پیدوار میں کمی کیلئے وجوہات کارفرما ہے،تاہم موسم کی وابستگی بالخصوص بارشوں میں کمی ایک اہم وجہ ہے۔
ماہر زراعت ڈاکٹر فرحین ملک کا کہنا ہے” زعفران کی پیدوار میں درجہ حرارت اہم کردار ادا کرتی ہے،جبکہ زعفران کی پیدوار کیلئے زیادہ سے زیادہ درجہ حرارت10سے20ڈگری سیلشیس ہوتا ہے،تاہم سخت موسمی تغیر سے عالمی سطح پر درجہ حرارت میں متواتر اضافہ ہو رہا ہے،جس کے نتیجے میں زعفران کی نسبتاً اچھی پیدوار سنگین بنتی جا رہی ہے۔ انہوں نے کشمیر میں زعفران کی پیدوار میں کمی کو متوقع درجہ حرارت میں عدم توازن کو اہم وجہ قرار دیا
ہندوستان
مودی حکومت کی پالیسیوں نے معاشی لبرلائزیشن کو برباد کر دیا: کھرگے
نئی دہلی، کانگریس صدر ملکارجن کھرگے نے مودی حکومت کی معاشی پالیسیوں پر شدید نکتہ چینی کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس حکومت نے عام لوگوں کے مفادات کو نظر انداز کر کے صارفین کے لیے متعدد اختیارات کی مسابقت کو ختم کر دیا ہے اور منتخب سرمایہ دار دوستوں کو فائدہ پہنچایا جا رہا ہے، جس سے معاشی لبرلائزیشن کی بنیاد برباد ہو گئی ہے۔
مسٹر کھرگے نے جمعہ کے روز سوشل میڈیا پلیٹ فارم ‘ایکس’ پر لکھا کہ مودی حکومت کی معاشی پالیسیوں کا مقصد معیشت کا کنٹرول اپنے چہیتے سرمایہ دار دوستوں کے ہاتھوں میں سونپنا ہے، تاکہ بدلے میں منافع میں بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کا حصہ برقرار رہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ مسابقت کو ختم کر کے اجارہ داری اور دو کمپنیوں کے غلبے والے نظام کو نافذ کر کے بی جے پی کے خزانے کو بھرنے کا کام کیا گیا ہے۔
کانگریس صدر نے کہا کہ ٹیلی کام کے شعبے میں 2014 سے پہلے 13 کمپنیاں تھیں، جبکہ اب صرف تین بڑی نجی کمپنیاں رہ گئی ہیں۔ اسی طرح اندرونِ ملک ہوا بازی کے شعبے میں 2014 سے پہلے سات کمپنیوں کے مقابلے اب صرف دو بڑی کمپنیاں رہ گئی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ڈیجیٹل ادائیگی، سیمنٹ اور فوڈ ڈیلیوری ایپس سمیت مختلف شعبوں میں حکومت کی ترجیح مسابقت کو ختم کرنا رہی ہے۔ مسٹر کھرگے نے کہا کہ کانگریس معاشی لبرلائزیشن کی بانی ہے، جبکہ بی جے پی پر اپنے منافع کے لیے ‘معاشی دہشت گردی’ نافذ کرنے کا الزام لگایا۔
مسٹر کھرگے نے دعویٰ کیا کہ حکومت کی معاشی پالیسیوں سے مائیکرو، اسمال اینڈ میڈیم انٹرپرائزز (ایم ایس ایم ای) اور دیگر چھوٹے و درمیانے درجے کی صنعتوں کو نقصان پہنچا ہے نیز ملک کے نوجوانوں کو شدید بے روزگاری کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔
یواین آئی ایف اے
ہندوستان
انڈیا اتحاد کے رہنماؤں سے جمعہ کی رات آٹھ بجے ملاقات کریں گی مرمو
نئی دہلی، انڈیا اتحاد کے رہنما جمعہ کی رات آٹھ بجے صدرِ جمہوریہ دروپدی مرمو سے ملاقات کر کے ووٹر لسٹ کی خصوصی تفصیلی نظرثانی (ایس آئی آر) کےعمل کے ذریعے دھاندلی کرنے اور الیکشن کمیشن کے طریقہ کار سے متعلق مسائل پر اپنے خدشات پیش کریں گے۔
ذرائع کے مطابق انڈیا اتحاد کے رہنماؤں نے 30 ستمبر کو یہاں منعقدہ میٹنگ میں صدرِ جمہوریہ سے ملاقات کر کے ان مسائل پر ان کے سامنے اپنا موقف رکھنے کا فیصلہ کیا تھا۔ اتحاد کے رہنما ایس آئی آر کے عمل اور چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے طریقہ کار سے متعلق اپنے خدشات سے صدرِ جمہوریہ کو آگاہ کرنا چاہتے ہیں۔
اس سلسلے میں صدرِ جمہوریہ سے ملاقات کے لیے پہلی بار دو اکتوبر کو مکتوب بھیج کر وقت مانگا گیا تھا۔ راشٹرپتی بھون کی طرف سے وفد میں شامل ہونے والے رہنماؤں کے نام مانگے جانے کے بعد اتحاد نے پانچ اکتوبر کو دوبارہ مکتوب بھیجا اور سات، آٹھ یا نو اکتوبر میں سے کسی بھی دن ملاقات کا وقت دینے کی درخواست کی تھی۔
انڈیا اتحاد کے رہنما چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار پر ووٹر لسٹ میں مبینہ دھاندلیوں کے تعلق سے سوال اٹھاتے ہوئے ان کے استعفے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ اس معاملے پر اتحاد کے اراکینِ پارلیمنٹ نے مظاہرے اور مارچ بھی نکالے ہیں۔
کانگریس نے الیکشن کمیشن کے خلاف اپنے احتجاج کو تیز کرنے کے لیے تقریباً ڈیڑھ ماہ تک جاری رہنے والی تحریک کے پروگرام کی بھی توثیق کی ہے۔ کانگریسی رہنما راہل گاندھی اور پرینکا گاندھی واڈرا کو پولیس مظاہرے کے دوران مسلسل دو بار حراست میں بھی لے چکی ہے۔
یواین آئی ایف اے
ہندوستان
ہندوستان نے امریکہ کے پی ای آر ایم پروگرام پر روک پر تشویش کا اظہار کیا، کہا – یہ دونوں ممالک کے مفادات کے خلاف
نئی دہلی، ہندوستان نے امریکی محکمہ محنت کے مستقل لیبر سرٹیفیکیشن پروگرام (پی ای آر ایم) سے جڑے فیصلے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اسے دونوں ممالک کے مفادات کے خلاف بتایا ہے۔
امریکہ کی جانب سے جمعرات کی رات اس قدم کے اعلان کے بعد وزارتِ خارجہ نے جمعہ کے روز ایک بیان جاری کر کے کہا کہ اس قدم سے متاثرہ کمپنیوں کے اہل ملازمین کے گرین کارڈ کے عمل پر اثر پڑ سکتا ہے۔ تاہم پی ای آر ایم درخواستوں پر روک سے موجودہ ایچ-1بی ویزا یا ویزا ہولڈرز اور ان کے زیرِ کفالت افراد کی حیثیت پر خود بخود کوئی اثر نہیں پڑتا۔
ہندوستان نے کہا کہ پی ای آر ایم پروگرام، ایچ-1بی ویزا پروگرام سے مختلف ہے۔ متاثرہ کمپنیوں کے اہل ملازمین کی مستقل رہائش یعنی گرین کارڈ حاصل کرنے کے عمل پر اس کا کچھ اثر ہو سکتا ہے، لیکن اس سے موجودہ ایچ-1بی ویزا کی میعاد اپنے آپ ختم نہیں ہوتی۔
وزارتِ خارجہ نے کہا ہے کہ ہندوستانی ٹیلنٹ کے امریکہ جانے سے دونوں ممالک کی معیشتوں کو فائدہ ہوتا ہے۔ اس سے ہندوستانیوں کو مواقع ملتے ہیں، جبکہ امریکی کمپنیوں کو ہنر مند ملازمین، نئی ٹیکنالوجی، تحقیق، جدت طرازی، پیداواری صلاحیت اور مسابقتی صلاحیت بڑھانے میں مدد ملتی ہے۔ اس سے امریکہ میں روزگار کے مواقع پیدا ہوتے ہیں اور شیئر ہولڈرز کے اثاثوں میں بھی اضافہ ہوتا ہے۔
ہندوستان نے کہا کہ امریکہ کا یہ قدم دونوں ممالک کے مشترکہ اہداف کو آگے بڑھانے میں مدد نہیں کرتا۔ ہندوستان نے امریکی نائب صدر کے اس معاملے پر کیے گئے تبصروں پر بھی اعتراض ظاہر کیا۔ ہندوستان کے مطابق ایسے تبصرے غیر مناسب ہیں اور امریکہ کی معیشت نیز جدت طرازی میں ہندوستانی پیشہ ور افراد کی خدمات کو نظر انداز کرتے ہیں۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ ہندوستانی پیشہ ور افراد امریکہ کی معیشت اور جدت طرازی کے نظام میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ امریکہ کی تاریخ بھی ایسے تارکینِ وطن کی خدمات سے بنی ہے جنہوں نے اپنے کام، کاروبار اور نئے خیالات سے ملک کی ترقی میں مدد کی ہے۔ ہندوستان نے کہا کہ دردناک تاریخی اور نوآبادیاتی دور کی یاد دلانے والے الفاظ کا استعمال انتہائی قابلِ اعتراض ہے۔
وزارتِ خارجہ نے کہا کہ وہ اس معاملے سے جڑی صورتحال پر مسلسل نظر رکھے ہوئے ہے۔
یواین آئی ایف اے
-
جموں و کشمیر1 week agoسری نگر پولیس نے بین ریاستی منشیات نیٹ ورک کا پردہ فاش کیا، آٹھ افراد گرفتار
-
دنیا1 week agoقطری ثالثی کی امریکہ، ایران کے درمیان مذاکرات میں معمولی پیش رفت
-
دنیا1 week agoروس پر براہِ راست حملے کی صورت میں ہر قسم کے ہتھیار استعمال کرنےکا معاملہ ایجنڈے پر ہو گا :پوتن
-
ہندوستان1 week agoوندے بھارت نے چِناب پل اور کیبل اسٹڈ انجی پل کو 100 کلومیٹر کی رفتار سے عبور کیا
-
جموں و کشمیر7 days agoگاندھی کے عدم تشدد اور سودیشی کے نظریات آج بھی اہم ہیں: جموں کے ڈویژنل کمشنر
-
جموں و کشمیر1 week agoکشمیر میراتھن اتحاد اور نوجوانوں کے متبادل خواہشات کا پیغام دیتی ہے: ایل جی سنہا
-
ہندوستان1 week agoشیئر بازاروں میں گراوٹ جاری، سینسیکس 49 پوائنٹس پھسلا
-
دنیا6 days agoخمیس مشیط کی جانب داغے گئے تین حوثی بیلسٹک میزائل تباہ
-
ہندوستان1 week agoڈیفنس اکاؤنٹس ڈیپارٹمنٹ کے 279ویں سالانہ دن پر کئی نئی پہل کی شروعات کریں گے راج ناتھ
-
جموں و کشمیر1 week agoجاوید ڈار نے اسمبلی میں سی اے جی کی رپورٹیں پیش کیں
-
دنیا7 days agoامریکہ، ایران جنگ بندی معاہدے کی راہ میں بداعتمادی اور گہرے اختلافات حائل
-
ہندوستان1 week agoکھرگے- راہل نے گاندھی اور شاستری کو یومِ پیدائش پر خراجِ عقیدت پیش کیا
