دنیا
سینٹکام کی سعودی افواج کے ساتھ ملکر ایران نواز گروہوں پر حملوں کی تصدیق، حشد الشعبی کے 20 اہلکار ہلاک
واشنگٹن، امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹکام) نے ایران نواز گروہوں پر حملے کی تصدیق کر دی۔
غیر ملکی میڈیا کی رپورٹس کے مطابق سینٹ کام کا کہنا ہے کہ اس نے سعودی عرب کی افواج کے ساتھ مل کر عراق میں ایران نواز گروہوں کے ٹھکانوں کو نشانہ بنایا ہے۔
سینٹ کام کا دعویٰ ہے کہ ان ایران نواز گروہوں نے ایرانی پاسدارانِ انقلاب کی ہدایات پر امریکی افواج اور سعودی توانائی کے بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنایا تھا۔
سینٹ کام نے کہا ہے کہ امریکی اور سعودی لڑاکا طیاروں نے گزشتہ 72 گھنٹوں کے دوران مشرقی عراق میں دہشت گردوں کے متعدد لاجسٹک اور اسلحہ ذخائر کو نشانہ بنایا ہے، یہ کارروائی آئی آر جی سی کی ہدایت پر کیے گئے 30 سے زائد فضائی ڈرون حملوں کے جواب میں کی گئی۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ آئی آر جی سی کی جانب سے کیے گئے حملے بلاجواز تھے جو اپنے مقاصد حاصل کرنے میں ناکام رہے۔
سینٹ کام کے مطابق فروری سے اپریل کے درمیان عراق میں ایران نواز مسلح گروہوں نے امریکی شہریوں اور تنصیبات پر 600 سے زائد حملوں کی کوشش کی۔
بیان میں خبردار کیا گیا ہے کہ آئی آر جی سی اور اس کے پراکسی گروہوں کو یہ حملے بند کرنا ہوں گے، بصورتِ دیگر امریکہ مزید فوجی کارروائی کر سکتا ہے۔
ادھر سعودی عرب نے بھی عراق میں ایرانی حمایت یافتہ ملیشیاؤں پر حملوں کی تصدیق کر دی۔
سعودی عرب کی وزارتِ دفاع نے کہا ہے کہ یہ کارروائی حالیہ ڈرون حملوں کے جواب میں امریکی سینٹرل کمانڈ کے ساتھ مل کر کی گئی۔وزارت کے مطابق جوابی کارروائی بین الاقوامی قانونن کے تحت حاصل حقِ دفاع کی بنیاد پر کی گئی۔
سعودی وزارتِ دفاع نے کہا ہے کہ سعودی عرب مزید کشیدگی نہیں چاہتا، تاہم اگر مستقبل میں اس پر مزید حملے کیے گئے تو وہ اپنی خود مختاری، شہریوں اور قومی اثاثوں کے تحفظ کے لیے تمام ضروری اقدامات کرنے سے گریز نہیں کرے گا۔
عراق کے نیم فوجی گروپ حشد الشعبی (پاپولر موبلائزیشن فورسز) نے تصدیق کی ہے کہ ملک بھر میں ان کے ہیڈ کوارٹرز کو نشانہ بنایا گیا۔
پاپولر موبلائزیشن فورسز (پی ایم ایف) جسے حشد الشعبی کے نام سے بھی جانا جاتا ہے، مختلف مسلح گروہوں پر مشتمل ایک اتحاد ہے، جن میں سے متعدد گروہ ایران سے وابستہ سمجھے جاتے ہیں۔
حشد الشعبی کے عہدیدار کے مطابق امریکی سعودی حملوں میں سب سے بڑا حملہ شمالی صوبے نینوا میں ہوا، جنوبی عراقی صوبے بصریٰ میں بھی پی ایم ایف کے ہیڈ کوارٹر کو نشانہ بنایا گیا۔
حشد الشعبی کے ذرائع کے مطابق عراق کے 7 صوبوں میں امریکی و سعودی مشترکہ فضائی حملوں میں 20 اہلکار مارے گئے، جبکہ ان حملوں میں 30 سے زائد جنگجو زخمی بھی ہوئے۔
یاد رہے کہ اس سے قبل سعودی عرب کے مشرقی علاقے میں تیل تنصیبات پر ڈرون حملہ ناکام بنا دیا گیا تھا۔ عراق سے داغے گئے متعدد ڈرونز کو ہدف تک پہنچنے سے پہلے ہی تباہ کردیا گیا تھا۔
ادھر ایرانی میڈیا کے مطابق سعودی عرب پر دیگر ممالک سے کیے گئے حملوں سے ایران کا کوئی تعلق نہیں۔
یو این آئی۔ ع ا۔
دنیا
شام کے سابق صدر بشار الاسد کو سزائے موت سنادی گئی
دمشق، دمشق کی ایک عدالت نے منگل کو شام کے سابق صدر بشار الاسد کو منصوبہ بند قتل کا مجرم قرار دیتے ہوئے موت کی سزا سنائی ہے عدالت نے شام کے صوبہ درعا میں سیاسی سلامتی کے سابق سربراہ عاطف نجیب کو بھی سزائے موت سنائی عدالت نے نجیب کو منصوبہ بند قتل اور تشدد کا مجرم قرار دیا غور طلب ہے کہ بشار الاسد 2000 میں اپنے والد حافظ الاسد کی موت کے بعد شام کے صدر بنے تھے۔ ابتدائی طور پر، انہیں ایک جدید اور اصلاح پسند رہنما کے طور پر دیکھا جاتا تھا، لیکن جب 2011 میں ملک بھر میں ان کی حکمرانی کے خلاف بڑے پیمانے پر مظاہرے شروع ہوئے، تو انہوں نے انہیں کچلنے کے لیے سخت فوجی کارروائی کا سہارا لیا۔ اس کے بعد شام ایک طویل اور تباہ کن خانہ جنگی میں الجھ گیا، جس میں لاکھوں شہری مارے گئے اور لاکھوں بے گھر ہو گئے۔ اپنی دو دہائیوں سے زیادہ کی آمرانہ حکومت کے دوران، اسد پر اپنے ہی لوگوں کے خلاف کیمیائی ہتھیاروں کے استعمال، انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں اور جنگی جرائم کے الزامات ہیں۔
شامی باغی افواج کے ہاتھوں دمشق پر قبضے اور دسمبر 2024 میں حکومت کے خاتمے کے بعد، بشار الاسد 8 دسمبر 2024 کو روسی فوج کی مدد سے راتوں رات شام سے فرار ہو گئے، جہاں صدر ولادیمیر پوتن نے انہیں اور ان کے خاندان کو سیاسی پناہ دے دی۔ وہ اس وقت روس کے دارالحکومت ماسکو میں اپنے خاندان کے ساتھ سیاسی پناہ گزین کے طور پر مقیم ہیں۔
یو این آئی۔ ع ا۔
دنیا
ایران نے خود کو ایک ‘ناقابل تسخیر طاقت’ ثابت کیا ہے: عراقچی
تہران، ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا ہے کہ ان کے ملک نے دنیا کے سامنے خود کو ایک “مضبوط اور ناقابل تسخیر طاقت” کے طور پر ثابت کیا ہے اور امریکہ اور اس کے اتحادیوں کے خلاف مضبوطی سے کھڑے ہو کر سب کو حیران کر دیا ہے۔
مسٹر عراقچی نے ایران کے سرکاری ٹیلی ویژن پر نشر ہونے والی ایک نیوز کانفرنس میں کہا کہ مختلف ممالک کے وزرائے خارجہ اور حکام نے انہیں کئی بار بتایا ہے کہ ایران نے “معجزہ کر کے پوری دنیا کو حیران کر دیا ہے۔”
انہوں نے کہا کہ “کسی نے سوچا بھی نہیں تھا کہ ایران امریکہ کا اس طرح مقابلہ کر سکتا ہے،” انہوں نے مزید کہا کہ امریکہ کو اسرائیل، مغربی ممالک اور کچھ دوسرے ممالک کی حمایت حاصل تھی، اس کے باوجود ایران نے اس کا سامنا کیا۔
مسٹر عراقچی نے جنگ کے آغاز میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایران سے کیے گئے مطالبات کا بھی ذکر کیا۔
انہوں نے کہا کہ مسٹر ٹرمپ نے جنگ کے آغاز میں سوشل میڈیا پر دو الفاظ لکھے تھے: ’’غیر مشروط ہتھیار ڈالنا‘‘۔ وہ ہم سے یہی چاہتے تھے اور 20 دن بعد وہی دشمن مذاکرات کی التجا کر رہا تھا۔
مسٹر عراقچی کے تبصرے ایک ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب ایران اور امریکہ کے درمیان کشیدگی کے درمیان مذاکرات اور سفارتی کوششوں کے حوالے سے متضاد دعوے سامنے آ رہے ہیں۔
یو این آئی۔ ع ا۔
دنیا
کولمبیا میں زلزلے سے ہلاکتوں کی تعداد 132 ہو گئی، صدر کا قومی ایمرجنسی کا اعلان
بگوٹا، کولمبیا میں تباہ کن زلزلے کے بعد کم از کم 132 افراد ہلاک اور 570 سے زائد زخمی ہو گئے ہیں. اس سانحے کی شدت کے پیش نظر صدر ابیلارڈو ڈی لا ایسپریلا نے قومی ہنگامی حالت کا اعلان کر دیا ہے جبکہ امدادی ٹیمیں منہدم عمارتوں کے ملبے سے لوگوں کو نکالنے کے لیے کام کر رہی ہیں۔
کولمبیا کی جیولوجیکل سروس کے مطابق یہ اس صدی میں ملک میں ریکارڈ کیا گیا سب سے طاقتور زلزلہ تھا۔ زلزلے کی شدت 7.4 تھی اور اس کا مرکز دارالحکومت بوگوٹا سے تقریباً 240 کلومیٹر دور سانجوس ڈیل پالمر کے قریب تھا۔
حکام نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ ہلاکتوں کی تعداد میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے کیونکہ ملک بھر میں 86 عمارتیں مکمل طور پر منہدم ہو چکی ہیں۔
پیریرا، کولمبیا کے بڑے کافی پیدا کرنے والے علاقے میں سب سے زیادہ اموات ریکارڈ کی گئی ہیں، جن میں کم از کم 60 ہیں۔
کیلی شہر سے مزید 188 افراد کے لاپتہ ہونے کی اطلاع ہے۔ صورتحال کی سنگینی کو دیکھتے ہوئے پانچ بڑے صوبائی دارالحکومتوں میں ریڈ الرٹ جاری کر دیا گیا ہے اور سات ہوائی اڈوں پر آپریشن معطل کر دیا گیا ہے۔ پیریرا میں ایک فضائی کیبل کار میں تقریباً چھ گھنٹے تک پھنسے سولہ افراد کو بچا لیا گیا۔
صدر اسپریلا نے ہنگامی حالت کا اعلان کیا ہے اور امدادی سرگرمیوں کے لیے تمام سرکاری وسائل کی تعیناتی کا حکم دیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ہماری اولین ترجیح ملبے تلے دبے افراد کو نکالنا ہے۔ امریکہ نے کولمبیا کو خوراک، پناہ گاہ اور امدادی سرگرمیوں کے لیے 15.5 ملین ڈالر کی مالی امداد کا اعلان کیا ہے۔
قابل غور بات یہ ہے کہ یہ پہاڑی اور اقتصادی لحاظ سے اہم خطہ 1999 میں ایک بڑے زلزلے سے بھی تباہ ہوا تھا جس میں تقریباً 1200 افراد ہلاک ہوئے تھے۔ امریکی جیولوجیکل سروے کے مطابق پیر کو آنے والے زلزلے کا مرکز سطح سے تقریباً 107 کلومیٹر نیچے تھا۔ لاپتہ افراد کی تلاش اور ریسکیو آپریشن جاری ہے۔
یو این آئی۔ع ا۔
-
دنیا1 day agoایران کا فی الحال امریکہ کے ساتھ کوئی مذاکرات نہیں: ایرانی وزیر خارجہ
-
ہندوستان1 day agoطلبہ پر کارروائی کے معاملے پر حکومت کو گھیرتے ہوئے راہل کا مضمون، کھڑگے اور پرینکا نے حمایت کی
-
دنیا1 day agoسعودی عرب میں فیکٹری میں آگ کے سبب 16 بنگلہ دیشی مزدور ہلاک
-
دنیا23 hours agoتجربہ کار آئی آر جی سی کمانڈر محسن رضائی ایران کے قومی سلامتی کے سربراہ مقرر
-
دنیا1 day agoٹرمپ جوہری معاہدے کے بغیر ایران کے ساتھ تنازع ختم کرنے پر تیار: رپورٹ
-
دنیا23 hours agoآبنائے ہرمز کے مستقبل پر ایرانی مطالبات سے غیر یقینی بڑھنے کے باعث تیل کی قیمتوں میں اضافہ
-
جموں و کشمیر2 hours agoیومِ آزادی سے قبل جموں و کشمیر پولیس نے سرحدی سامبا میں طویل فاصلے کی گشت اور فرضی انسدادِ دہشت گردی مشق کی
-
دنیا21 hours agoکیسپین سمندر معاہدے کا مستقبل ایران کی پارلیمنٹ طے کرے گی: اسماعیل بقائی
-
دنیا6 hours agoیمن میں حوثیوں کے المخا اور مارب پر بیلسٹک میزائل حملے
-
دنیا6 hours agoٹرمپ کا ایران سے معاوضے کا مطالبہ، آبنائے ہرمز پر مذاکرات جاری
-
جموں و کشمیر22 hours ago7.12 لاکھ روپے کے کپواڑہ پل گھپلے کے معاملے میں اے سی بی نے 10 افراد کے خلاف فردِ جرم عائد کی
-
دنیا6 hours agoایران اور عمان کے درمیان آبنائے ہرمز پر مذاکرات جاری
