جموں و کشمیر
وزیراعظم مودی اجلاس سے خطاب نہیں کریں گے،وزیر خارجہ جے شنکرکا 27 ستمبر کو خطاب
اقوام متحدہ کی80ویں سالگرہ، 9ستمبرکو جنرل اسمبلی کا 80 واں سالانہ اجلاس شروع ہوگا
23سے 29 ستمبر تک اعلیٰ سطحی عام بحث
سری نگر: جے کے این ایس : اقوام متحدہ کی جانب سے نیویارک میں جاری مقررین کی ایک نظر ثانی شدہ عارضی فہرست کے مطابق وزیر اعظم نریندر مودی رواں ماہ کے آخر میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے سالانہ اعلیٰ سطحی اجلاس میں جنرل ڈیبیٹ سے خطاب نہیں کریں گے۔جے کے این ایس مانٹرینگ ڈیسک کے مطابق اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کا 80 واں اجلاس9 ستمبر2025 کو شروع ہوگا۔ اعلیٰ سطحی عام بحث23 سے 29 ستمبر تک جاری رہے گا، جس میں برازیل اس سیشن کا روایتی پہلا مقرر ہوگا، اس کے بعد امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ23 ستمبر کو اقوام متحدہ جنرل اسمبلی کے مشہور پوڈیم سے عالمی رہنماو ¿ں سے خطاب کریں گے، یہ وائٹ ہاو ¿س میں اپنی دوسری مدت کے دوران اقوام متحدہ کے اجلاس سے صڈرٹرمپکا پہلا خطاب ہے۔جمعہ کو جاری ہونے والے جنرل اسمبلی کے80ویں اجلاس کے اعلیٰ سطحی جنرل مباحثے کے لیے مقررین کی ایک نظرثانی شدہ عارضی فہرست کے مطابق، ہندوستان کی نمائندگی ایک’وزیر‘کرے گا۔وزیر خارجہ ایس جے شنکر 27 ستمبر کو اجلاس سے خطاب کریں گے۔جولائی میں جاری ہونے والے مقررین کی سابقہ عارضی فہرست کے مطابق وزیراعظم مودی 26 ستمبر کو جنرل ڈیبیٹ سے خطاب کرنے والے تھے۔اسرائیل، چین، پاکستان اور بنگلہ دیش کے حکومتی سربراہان 26 ستمبر کو اقوام متحدہ کی اعلیٰ سطحی عام بحث سے خطاب کریں گے۔وزیراعظم مودی اس سال فروری میں واشنگٹن میں وائٹ ہاو ¿س میں ٹرمپ کےساتھ دو طرفہ ملاقات کے لیے امریکہ گئے تھے۔ ٹرمپ نے ہندوستان پر کل 50 فیصد محصولات عائد کیے ہیں، جس میں دہلی سے روسی تیل کی خریداری پر 25 فیصد بھی شامل ہے۔اعلیٰ سطحی عام بحث کے لیے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے مقررین کی فہرست عارضی ہے اور اعلیٰ سطحی ہفتے کے آغاز سے پہلے نظام الاوقات اور مقررین میں تبدیلیوں کا ہمیشہ امکان رہتا ہے۔
فہرست اسی کے مطابق اپ ڈیٹ ہوتی رہے گی۔اقوام متحدہ کے ہیڈ کوارٹر میں سال کا’مصروف ترین سفارتی موسم‘سمجھا جاتا ہے، اعلیٰ سطحی اجلاس ہر سال ستمبر میں شروع ہوتا ہے۔اس سال یہ سیشن اسرائیل اور حماس کی جاری جنگ کے ساتھ ساتھ یوکرین کے تنازع کے درمیان ہو رہا ہے۔ 80ویں سیشن کا تھیم ”بہتر ایک ساتھ: امن، ترقی اور انسانی حقوق کے لیے 80 سال اور زیادہ“ ہے۔سیشن کا آغاز22 ستمبر کو ’اقوام متحدہ کی 80 ویں سالگرہ کی یاد میں‘ایک میٹنگ سے ہوگا۔خواتین پر چوتھی عالمی کانفرنس کی 30 ویں سالگرہ کے موقع پر، اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی ایک اعلیٰ سطحی اجلاس بلائے گی جس کا موضوع”صنفی مساوات کے حصول اور خواتین اور لڑکیوں کو بااختیار بنانے کے لیے بیجنگ اعلامیہ اور پلیٹ فارم فار ایکشن کے نفاذ کے لیے دوبارہ کمٹمنٹ، ریسورسنگ اور اس میں تیزی لانا“ ہے۔اقوام متحدہ نے کہا کہ یہ اجلاس بیجنگ میں1995 کی تاریخی کانفرنس کے بعد کی پیش رفت پر غور کرے گا اور دنیا بھر میں صنفی مساوات کو آگے بڑھانے میں کامیابیوں، بہترین طریقوں، فرقوں اور جاری چیلنجوں پر روشنی ڈالے گا۔اقوام متحدہ کے سکریٹری جنرل انتونیو گوٹیرس 24 ستمبر کو موسمیاتی سربراہی اجلاس طلب کریں گے تاکہ عالمی رہنماو ¿ں کے لیے اپنے نئے قومی موسمیاتی ایکشن پلان پیش کرنے اور صاف توانائی کے نئے دور کے فوائد سے فائدہ اٹھانے کے لیے ایک پلیٹ فارم کے طور پر کام کیا جا سکے۔اس ہفتے کے دوران منعقد ہونے والی دیگر اعلیٰ سطحی میٹنگوں میں پائیدار، جامع اور لچکدار عالمی معیشت کے لیے سمٹ شامل ہے۔ غیر متعدی بیماریاں اور دماغی صحت اور بہبود؛ ورلڈ پروگرام آف ایکشن فار یوتھ کی30 ویں سالگرہ؛ اے آئی گورننس پر عالمی ڈائیلاگ کا آغاز؛ جوہری ہتھیاروں کے مکمل خاتمے کا عالمی دن؛ اور میانمار میں روہنگیا مسلمانوں اور دیگر اقلیتوں کی صورتحال۔ (ایجنسیاں)
جموں و کشمیر
جموں میں آبادیاتی تبدیلیوں سے متعلق پینل کو پناہ گزینوں کی تنظیم نے یادداشت پیش کی
جموں، پی او جے کے سے بے گھر افراد کی تنظیم ایس او ایس انٹرنیشنل کے ایک وفد نے منگل کو یہاں جسٹس پرکاش پربھاکر نولیکر (ریٹائرڈ) کی سربراہی میں آبادیاتی تبدیلیوں سے متعلق پینل کو ایک تفصیلی یادداشت پیش کی۔
ایس او ایس انٹرنیشنل کے چیئرمین راجیو چونی کی قیادت میں وفد میں پروفیسر این این شرما (نائب چیئرمین)، ونود کمار دتہ (جنرل سکریٹری)، بھائی رام سنگھ (سکریٹری) اور وید راج بالی (سکریٹری) شامل تھے۔ وفد نے یادداشت پیش کرتے ہوئے 1947 سے پاکستان کے زیر قبضہ جموں و کشمیر (پی او جے کے) کی ہندو اور سکھ آبادی کے ساتھ روا رکھے گئے تاریخی ناانصافی کو ریکارڈ پر لایا اور پینل سے ٹھوس اصلاحی اقدامات کرنے کا مطالبہ کیا۔
جاری کردہ بیان کے مطابق یادداشت میں نشاندہی کی گئی کہ 1947 کے حملے کے بعد اس وقت کی جموں و کشمیر حکومت نے ابتدائی طور پر تقریباً 31,600 خاندانوں کا اندراج کیا تھا، جبکہ تقریباً 9,500 خاندانوں کو معمولی اور غیر معقول وجوہات کی بنیاد پر من مانے طریقے سے رجسٹریشن سے محروم کر دیا گیا۔
رجسٹرڈ خاندانوں میں سے صرف تقریباً 26,300 خاندانوں کو ریاست کے اندر آباد کیا گیا، جبکہ تقریباً 5,300 رجسٹرڈ خاندانوں کے ساتھ ساتھ 9,500 غیر رجسٹرڈ خاندانوں کو ہندوستان کے دیگر حصوں میں پناہ لینے پر مجبور ہونا پڑا۔ باقاعدہ طور پر رجسٹر کیے گئے خاندانوں کے ریکارڈ اب بھی جموں و کشمیر حکومت کے سرکاری ریکارڈ میں موجود ہیں۔
یادداشت میں کہا گیاکہ ’’یہ خاندان مہاراجہ ہری سنگھ کے 1927 کے اسٹیٹ سبجیکٹ قانون کے تحت ریاست کے اصل باشندے تھے اور انہوں نے بارہا اپنے آبائی وطن واپس جانے کی خواہش کا اظہار کیا ہے۔‘‘
تاہم بحالیِ آبادکاری کی کسی جامع پالیسی یا ادارہ جاتی مدد کی مکمل عدم موجودگی کے باعث ان کے پاس دوسری جگہ اپنی زندگی دوبارہ شروع کرنے کے علاوہ کوئی راستہ نہیں تھا۔ بیان کے مطابق اس وقت ریاست سے باہر رہنے والی ان کی آبادی کا تخمینہ پانچ سے چھ لاکھ ہے۔
ایس او ایس انٹرنیشنل نے یہ بھی نشاندہی کی کہ جموں و کشمیر کی اُس وقت کی حکومت کے 2014 کے کابینہ فیصلے میں ہر متاثرہ خاندان کو 25 لاکھ روپے نقد امداد، تعلیم یافتہ بے روزگار نوجوانوں کے لیے 8,500 سرکاری ملازمتیں اور پیشہ ورانہ و تکنیکی اداروں میں ریزرویشن دینے کا وعدہ کیا گیا تھا، لیکن جموں و کشمیر یا سابق ریاست سے باہر جلاوطنی کی زندگی گزارنے والے خاندانوں کے لیے اس پر عمل نہیں کیا گیا۔
جاری۔یواین آئی۔ طـ ا
جموں و کشمیر
یومِ آزادی سے قبل کشمیر بھر میں کثیر سطحی سکیورٹی انتظامات
سری نگر، 15 اگست کو یومِ آزادی کی تقریبات کے پیش نظر سری نگر اور وادیٔ کشمیر کے دیگر علاقوں میں کثیر سطحی سکیورٹی انتظامات کیے گئے ہیں۔
سری نگر میں جہاں وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ بخشی اسٹیڈیم میں قومی پرچم لہرائیں گے، سکیورٹی فورسز نے تقریب کے مقام اور اس سے متصل علاقوں میں سکیورٹی نظام کو مزید مضبوط کر دیا ہے۔
کشمیر کے انسپکٹر جنرل پولیس وی کے بردی نے منگل کو کہا کہ یومِ آزادی کی تقریبات کو خوش اسلوبی سے منعقد کرنے کے لیے نہ صرف مرکزی مقام بلکہ پورے شہر اور وادی کے مختلف اضلاع میں بھی وسیع سکیورٹی انتظامات کیے جا رہے ہیں۔
بردی نے نامہ نگاروں سے کہاکہ ’’جیسا کہ آپ جانتے ہیں، 15 اگست کو سری نگر میں مرکزی تقریب منعقد ہونے والی ہے۔
اس کے لیے سکیورٹی انتظامات اور پریڈ کی تیاریاں جاری ہیں۔ مکمل لباس میں ریہرسل کی جا رہی ہیں تاکہ 15 اگست کی مرکزی تقریب سری نگر میں بخوبی منعقد کی جا سکے۔‘‘
انہوں نے کہا کہ جموں و کشمیر پولیس نے پوری وادی میں کثیر سطحی سکیورٹی انتظامات کیے ہیں۔
آئی جی پی نے کہاکہ ’’جموں و کشمیر پولیس نے نہ صرف سری نگر بلکہ وادی کے مختلف اضلاع میں بھی کثیر سطحی سکیورٹی انتظامات کیے ہیں۔ یہ انتظامات صرف تقریبات کے مقامات تک محدود نہیں ہیں بلکہ شہر کے اطراف بھی کیے گئے ہیں۔ اس بار بھی اسی طرح کے انتظامات کیے گئے ہیں۔‘‘
جنوبی کشمیر میں حالیہ واقعات کے بعد ممکنہ دہشت گردانہ حملوں یا دیگر خطرات کے بارے میں کسی پیش رفت کے متعلق پوچھے جانے پر بردی نے کہا کہ معاملہ زیرِ تفتیش ہونے کی وجہ سے اس کی تفصیلات ظاہر کرنا مناسب نہیں ہوگا۔
انہوں نے کہاکہ ’’دیکھیے، یہ تفتیش کا معاملہ ہے۔ اس لیے میرے خیال میں ابھی اس کی تفصیلات ظاہر کرنا مناسب نہیں ہوگا۔
جب بھی ایسی کوئی بات ہوگی جسے آپ کے ساتھ شیئر کرنا ضروری ہوگا، ہم مناسب وقت پر آپ کو اس سے آگاہ کریں گے۔‘‘
یومِ آزادی کی تقریبات کے دوران عوام کے لیے پولیس کے پیغام کے بارے میں بردی نے کہا کہ یہ تقریب عوام کی ہے اور انہوں نے شہریوں سے بڑی تعداد میں تقریبات میں شرکت کرنے کی اپیل کی۔
آئی جی پی نے کہاکہ ’’دیکھیے، یہ عوام کی تقریب ہے۔ پولیس اس میں مددگار یا منتظم کا کردار ادا کرتی ہے۔ چونکہ یہ عوام کی تقریب ہے، اس لیے ہم لوگوں سے اپیل کرتے ہیں کہ وہ بڑی تعداد میں اس میں شرکت کریں اور اسے کامیاب بنائیں۔‘‘
دریں اثنا، منگل کو سکیورٹی اداروں نے یومِ آزادی کی تقریبات میں خلل ڈالنے کی کسی بھی کوشش کو ناکام بنانے کے لیے سخت سکیورٹی اقدامات کے تحت سری نگر بھر میں تخریب کاری مخالف جانچ، علاقے میں غلبہ قائم کرنے کی کارروائیوں، نگرانی اور تلاشی کی کارروائیاں تیز کر دیں۔
کئی چیک پوسٹوں پر دو پہیہ گاڑیوں کو روکا گیا اور سواروں کی شناخت کی تصدیق کے ساتھ ان کی تلاشی بھی لی گئی۔
یواین آئی۔ـظ ا
جموں و کشمیر
یومِ آزادی سے قبل جموں و کشمیر پولیس نے سرحدی سامبا میں طویل فاصلے کی گشت اور فرضی انسدادِ دہشت گردی مشق کی
جموں، آئندہ یومِ آزادی کی تقریبات کے پیش نظر آپریشنل تیاریوں کا جائزہ لینے، سکیورٹی انتظامات کو مضبوط بنانے اور کسی بھی ہنگامی صورت حال سے فوری طور پر نمٹنے کو یقینی بنانے کے لیے جموں و کشمیر پولیس نے منگل کو سامبا ضلع کے سرحدی علاقوں میں طویل فاصلے کی گشت (ایل آر پی) اور فرضی انسدادِ دہشت گردی مشق کا انعقاد کیا۔
عہدیداروں کے مطابق اسپیشل آپریشن گروپ (ایس او جی)، سامبا نے جموں-پٹھان کوٹ قومی شاہراہ پر جٹوال سے لالہ چک تک طویل فاصلے کی گشت کی۔
انہوں نے بتایا کہ گشت کے بعد سرحدی سڑک پر واقع بی پی پی لالہ چک میں فرضی مشق کی گئی، جس کا مقصد فرضی دہشت گردانہ صورت حال سے نمٹنے کے لیے حصہ لینے والے اہلکاروں کی تیاری کا جائزہ لینا تھا۔ مشق کے دوران دو فرضی دہشت گردوں کو تنصیب پر حملہ کرتے ہوئے دکھایا گیا۔
انہوں نے کہاکہ ’’فرضی خطرے پر فوری کارروائی کرتے ہوئے ایس او جی کے اہلکاروں نے علاقے کو مناسب طریقے سے گھیرے میں لے لیا اور دونوں فرضی دہشت گردوں کو کامیابی سے بے اثر کر دیا۔‘‘
عہدیداروں نے بتایا کہ اس مشق کا مقصد ایس او جی سامبا اور بی پی پی لالہ چک کے حصہ لینے والے اہلکاروں کے ردعمل کے نظام، باہمی تال میل، حربی تیاری اور ہنگامی صورت حال سے نمٹنے کی صلاحیتوں کو جانچنا تھا۔
ایس ایس پی سامبا نے پولیس کی جانب سے مضبوط سکیورٹی انتظامات برقرار رکھنے اور عوام کی سلامتی و تحفظ کو یقینی بنانے کے عزم کا اعادہ کیا، خاص طور پر آئندہ یومِ آزادی کی تقریبات اور جاری شری امرناتھ یاترا کے پیش نظر۔
یواین آئی۔ظ ا
-
دنیا1 day agoایران کا فی الحال امریکہ کے ساتھ کوئی مذاکرات نہیں: ایرانی وزیر خارجہ
-
دنیا1 day agoسعودی عرب میں فیکٹری میں آگ کے سبب 16 بنگلہ دیشی مزدور ہلاک
-
دنیا1 day agoٹرمپ جوہری معاہدے کے بغیر ایران کے ساتھ تنازع ختم کرنے پر تیار: رپورٹ
-
ہندوستان1 day agoطلبہ پر کارروائی کے معاملے پر حکومت کو گھیرتے ہوئے راہل کا مضمون، کھڑگے اور پرینکا نے حمایت کی
-
جموں و کشمیر5 hours agoیومِ آزادی سے قبل جموں و کشمیر پولیس نے سرحدی سامبا میں طویل فاصلے کی گشت اور فرضی انسدادِ دہشت گردی مشق کی
-
دنیا9 hours agoٹرمپ کا ایران سے معاوضے کا مطالبہ، آبنائے ہرمز پر مذاکرات جاری
-
دنیا1 day agoتجربہ کار آئی آر جی سی کمانڈر محسن رضائی ایران کے قومی سلامتی کے سربراہ مقرر
-
دنیا10 hours agoیمن میں حوثیوں کے المخا اور مارب پر بیلسٹک میزائل حملے
-
دنیا9 hours agoایران اور عمان کے درمیان آبنائے ہرمز پر مذاکرات جاری
-
دنیا8 hours agoکولمبیا میں زلزلے سے ہلاکتوں کی تعداد 132 ہو گئی، صدر کا قومی ایمرجنسی کا اعلان
-
ہندوستان7 hours agoپارلیمنٹ کے احاطے میں اپوزیشن ارکانِ پارلیمنٹ کا احتجاج
-
دنیا5 hours agoایران نے خود کو ایک ‘ناقابل تسخیر طاقت’ ثابت کیا ہے: عراقچی
