ہندوستان
وزیراعظم مودی نے گروگرام، ہریانہ میں نیشنل ہائی وے پروجیکٹس کے افتتاح/ سنگ بنیاد رکھا
گروگرام، وزیراعظم نریندر مودی نے آج ہریانہ کے گروگرام نیشنل ہائی ویز کے کئی پروجکٹوں کے افتتاح کیا اور اس دوران عوام کو خطاب کرتے ہوئے کہا کہ وہ صرف اپنے سامنے موجود اسکرین پر دیکھ رہے تھے کہ ملک کے کونے کونے میں لاکھوں لوگ جدید ٹیکنالوجی کے ذریعے ان کے پروگرام سے جڑے ہوئے ہیں۔ ایک وقت تھا جب دہلی کے وگیان بھون سے پروگرام منعقد ہوتے تھے اور ملک جڑتا تھا۔ وقت بدل گیا، اب جب گروگرام میں پروگرام ہوتے ہیں، پورا ملک اس میں شامل ہوتا ہے۔ ہریانہ یہ صلاحیت دکھا رہا ہے۔ آج ملک نے جدید رابطے کی طرف ایک اور اہم قدم اٹھایا ہے۔
انہیں اس بات کی خوشی ہے کہ آج انہیں دوارکا ایکسپریس وے کو ملک کے نام وقف کرنے کا موقع ملا ہے۔ اس ایکسپریس وے پر 9 ہزار کروڑ روپے سے زیادہ خرچ ہوئے ہیں۔ آج سے دہلی-ہریانہ کے درمیان ٹریفک کا تجربہ ہمیشہ کے لیے بدل جائے گا۔ یہ جدید ایکسپریس وے نہ صرف موٹر گاڑیوں میں بلکہ دہلی-این سی آر کے لوگوں کی زندگیوں میں بھی گیئرز شفٹ کرنے کا کام کرے گا۔ وہ دہلی-این سی آر اور ہریانہ کے لوگوں کو اس جدید ایکسپریس وے کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کرتا ہیں۔
وزیراعظم نے کہا کہ پہلے کی حکومتیں کوئی نہ کوئی چھوٹا سا منصوبہ بناتی تھیں، کوئی چھوٹا سا پروگرام ترتیب دیتی تھیں اور پانچ سال تک اس کا ڈھنڈورا پیٹتی رہتی تھیں۔ بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی)حکومت جس رفتار سے کام کر رہی ہے، اسی رفتار سے سنگ بنیاد رکھنے اور افتتاح کا وقت ختم ہو رہا ہے، دن گزر رہے ہیں۔ یہاں کے لوگ زیادہ سمجھدار ہیں۔ آپ سن لیں، 2024 میں ہی، یعنی 2024 کے تین مہینے بھی ابھی پورے نہیں ہوئے۔ اتنے کم وقت میں 10 لاکھ کروڑ روپے کے پروجیکٹوں کا یا تو بنیاد رکھا گیا ہے یا افتتاح کیا گیا ہے۔ اور وہ جو کچھ بھی کہہ رہا ہیں، وہ صرف ان منصوبوں پر بات کر رہےہیں جن میں میں خود شامل رہے ہیں۔
مسٹر مودی نے کہا کہ ان کے وزراء اور وزرائے اعلیٰ نے جو کچھ کیا وہ الگ ہے۔ اور آپ نے دیکھا، پچھلے 5 ۔ 5 برسوں میں آپ نے 2014 سے پہلے کا دور نہ کبھی سنا ہو گا اور نہ ہی دیکھا ہو گا، ذرا یاد رکھیں۔ آج بھی ایک ہی دن میں ایک لاکھ کروڑ روپے سے زیادہ کے 100 سے زیادہ پروجیکٹوں کا یا تو افتتاح کیا گیا ہے یا پورے ملک کے لیے سنگ بنیاد رکھا گیا ہے۔ ان میں جنوب میں کرناٹک، کیرالہ، آندھرا پردیش کے ترقیاتی کام، شمال میں ہریانہ اور یوپی کے ترقیاتی کام، مشرق میں بہار اور بنگال کے منصوبے اور مہاراشٹر، پنجاب اور راجستھان کے لیے ہزاروں کروڑ روپے کے ترقیاتی منصوبے شامل ہیں۔ مغرب میں آج افتتاح کے موقع پر راجستھان میں امرتسر-بھٹنڈا-جام نگر کوریڈور کی لمبائی 540 کلومیٹر تک بڑھائی جائے گی۔ بنگلورو رنگ روڈ کی ترقی سے وہاں ٹریفک کے مسائل کافی حد تک کم ہوں گے۔ مشرق سے مغرب، شمال سے جنوب تک، بہت ساری ترقیاتی اسکیموں کے لیے وہ تمام ریاستوں کے کروڑوں شہریوں کو مبارکباد پیش کرتے ہیں،۔
وزیراعظم مودی نے کہا کہ مسائل اور امکان میں صرف سوچ کا فرق ہے اور مسائل کو امکانات میں بدلنا، یہ مودی کی ضمانت ہے۔ دوارکا ایکسپریس وے خود اس کی ایک بڑی مثال ہے۔ جہاں آج دوارکا ایکسپریس وے بنایا گیا ہے، ایک وقت تھا جب لوگ شام کے بعد یہاں آنے سے گریز کرتے تھے۔ یہاں تک کہ ٹیکسی ڈرائیور بھی منع کرتے تھے کہ یہاں نہ آئیں۔ یہ پورا علاقہ غیر محفوظ سمجھا جاتا تھا۔ لیکن آج کئی بڑی کمپنیاں یہاں آکر اپنے پروجیکٹس لگا رہی ہیں۔ یہ علاقہ این سی آر کے تیزی سے ترقی کرتے ہوئے علاقوں میں سے ایک بنتا جا رہا ہے۔ یہ ایکسپریس وے دہلی کے اندرا گاندھی بین الاقوامی ہوائی اڈے سے رابطے کو بہتر بنائے گا۔ اس سے این سی آر کے انضمام میں بہتری آئے گی اور یہاں کی اقتصادی سرگرمیوں کو تقویت ملے گی۔
مسٹر مودی نے کہا کہ جب دوارکا ایکسپریس وے دہلی-ممبئی ایکسپریس وے سے جڑے گا تو ایک نئے باب کا آغاز ہوگا۔ یہ راہداری پورے مغربی ہندوستان میں صنعت اور برآمدات کو ایک نئی توانائی فراہم کرے گی۔ آج وہ اس ایکسپریس وے کی تعمیر میں ہریانہ حکومت اور خاص طور پر وزیر اعلیٰ منوہر لال جی کی طرف سے کی گئی تیز رفتار ی کی بھی تعریف کریں گے ۔
انہوں نے کہا کہ منوہر لال جی جس طرح ہریانہ کی ترقی کے لیے دن رات کام کر رہے ہیں، انھوں نے ریاست میں جدید انفراسٹرکچر کا ایک بڑا نیٹ ورک بنایا ہے اور منوہر لال جی اور وہ بہت پرانے دوست ہیں، ہم اس وقت بھی ساتھ کام کرتے تھے جب قالین پر سونے کا دور تھا۔ اور منوہر لال جی کے پاس موٹرسائیکل تھی، تو وہ موٹر سائیکل چلاتے تھے اور وہ ان کے پیچھے بیٹھا کرتے تھے۔ یہ روہتک سے نکل کر گروگرام پر رکتا تھا۔ ہمارا ہریانہ کا سفر اکثر موٹر سائیکل پر ہوتا تھا اور انہیں یاد ہے کہ اس وقت ہم موٹر سائیکلوں پر گروگرام آتے تھے، سڑکیں چھوٹی تھیں، بہت سارے مسائل تھے۔ آج وہ اس بات سے خوش ہیں کہ ہم ساتھ ہیں اور آپ کا مستقبل بھی ساتھ ہے۔ ہریانہ کی ریاستی حکومت منوہر جی کی قیادت میں ترقی یافتہ ہریانہ-ترقی یافتہ ہندوستان کے بنیادی منتر کو مسلسل مضبوط کر رہی ہے۔
وزیراعظم نے کہا کہ 21 ویں صدی کا ہندوستان بڑے وژن کا ہندوستان ہے۔ یہ بڑے مقاصد کا ہندوستان ہے۔ آج کا ہندوستان ترقی کی رفتار پر کوئی سمجھوتہ نہیں کر سکتا اور آپ لوگوں نے انہیں اچھی طرح جانا، پہچانا بھی اور سمجھا بھی ہے ۔ آپ نے دیکھا ہو گا کہ نہ وہ چھوٹا سوچ سکتے ہیں، نہ چھوٹے خواب دیکھتے ہیں اور نہ ہی چھوٹے چھوٹے عزم کرتے ہیں۔
ہریانہ کے گورنر بندارو دتاتریہ ، وزیر اعلیٰ منوہر لال کھٹر ، مرکزی وزیر نتن گڈکری ، رکن پارلیمنٹ راؤ اندرجیت سنگھ، کرشن پال گرجر ، ہریانہ کے نائب وزیر اعلیٰ دشینت چوٹالہ ، بی جے پی کے ریاستی صدر رکن پارلیمنٹ نائب سنگھ سینی اور دیگر اہم شخصیات اس موقع پر موجود تھیں ۔
یو این آئی ۔ ع خ
ہندوستان
اروناچل ہندستان کا اٹوٹ حصہ، سرحد کی صورتحال ہی چین کے ساتھ دوطرفہ تعلقات کی بنیاد:ہندستان
نئی دہلی ہندستان نے اروناچل پردیش کو اپنا ناقابلِ تقسیم اور اٹوٹ حصہ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ چین کے ساتھ اس کے دوطرفہ تعلقات سرحد کی صورتحال پر مبنی ہوں گے اور سرحدی صورتحال کا ان تعلقات پر براہِ راست اثر ہوگا۔
وزارتِ خارجہ کے ترجمان رندھیر جیسوال نے منگل کے روز یہاں میڈیا بریفنگ میں سوالات کے جواب دیتے ہوئے یہ بات کہی۔ دراصل چین کی جانب سے اروناچل پردیش اور اس کے کچھ مقامات کے نام تبدیل کرنے کے ردعمل میں ہندستان نے حال ہی میں اروناچل پردیش کی 27 اہم جگہوں کو سروے آف انڈیا کے نقشے میں سرکاری طور پر نشان زد کر دیا ہے۔ اس پر چین کی طرف سے منفی ردعمل سامنے آیا ہے۔ چین کے اس ردعمل کے بارے میں پوچھے جانے پر مسٹر جیسوال نے کہا کہ اروناچل پردیش ہندستان کا ناقابلِ تقسیم اور اٹوٹ حصہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ ایک مسلمہ حقیقت ہے اور کوئی بھی اس ناقابلِ تردید سچائی کو بدل نہیں سکتا۔
دونوں ممالک کے درمیان سرحد پر صورتحال کے بارے میں پوچھے گئے سوال کے جواب میں ترجمان نے کہا کہ ہندستان سرحد سے جڑے معاملات کو انتہائی سنجیدہ مانتا ہے اور سرحد پر امن و استحکام اس کی ترجیح ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ سرحد کی صورتحال کا ہندستان اور چین کے تعلقات پر براہِ راست اثر پڑے گا۔ ترجمان نے کہا، “ہندستان اور چین کے درمیان سرحدی علاقوں سے جڑے معاملات میں، ہم نے ہمیشہ چین کے ساتھ بات چیت میں اس بات پر زور دیا ہے کہ ہم ان مسائل کو بے حد سنجیدہ مانتے ہیں اور ان علاقوں میں امن و استحکام برقرار رکھنا سب سے زیادہ اہم ہے۔ ہم نے یہ بھی واضح کیا ہے کہ سرحدی معاملات کی صورتحال ہمارے وسیع دوطرفہ تعلقات کی صورتحال کی عکاسی کرے گی۔ اس بات کو 06 اگست کو حال ہی میں منعقدہ ‘ہند-چین سرحدی معاملات پر مشاورت اور ہم آہنگی کے ورکنگ میکانزم’ کی 36ویں میٹنگ میں بھی دہرایا گیا۔ اس میٹنگ میں دونوں فریقوں نے کھلی اور واضح بات چیت کی اورحقیقی کنٹرول لائن (ایل اے سی) پر صورتحال کا جائزہ لیا۔”
مسٹر جیسوال نے کہا کہ میٹنگ میں ہندستان نے اس بات پر زور دیا کہ دوطرفہ تعلقات کی ہمہ گیر ترقی کے لیے سرحدی علاقوں میں امن و استحکام برقرار رکھنا انتہائی ضروری ہے۔ اس بات پر اتفاق ہوا کہ لائن آف ایکچوئل کنٹرول پر غلط فہمی اور غلط اندازوں سے بچنے نیز باقی بچے ہوئے مسائل کو حل کرنے کے لیے ورکنگ میکانزم کی میٹنگوں، مقامی کمانڈر سطح کی میٹنگوں اور دیگر میکانزم سمیت موجودہ سفارتی اور فوجی ذرائع کا استعمال جاری رکھا جائے گا۔
یو این آئی ایف اے
ہندوستان
سندوش کمار نے نِرملا سیتارمن کے تبصرے راجیہ سبھا کے ریکارڈ سے ہٹانے کا مطالبہ کیا
نئی دہلی، کمیونسٹ پارٹی آف انڈیا (سی پی آئی) کے راجیہ سبھا رکنِ پارلیمنٹ پی سندوش کمار نے وزیر خزانہ نِرملا سیتارمن کے ذریعہ پارلیمنٹ میں کمیونسٹ تحریک کے خلاف کیے گئے مبینہ قابلِ اعتراض تبصروں کو راجیہ سبھا کے ریکارڈ سے ہٹانے کا مطالبہ کیا ہے انہوں نے اس سلسلے میں راجیہ سبھا کے چیئرمین سی پی رادھا کرشنن کو منگل کے روز خط لکھا ہے۔
مسٹر کمار نے کہا کہ انکم ٹیکس (ترمیم) آرڈیننس 2026 کو منسوخ کرنے کے مطالبے پر ہونے والی بحث کے دوران وزیر خزانہ نے سی پی آئی (ایم) کے رکنِ پارلیمنٹ جان برٹاس کے حوالے سے کمیونسٹوں کو “ٹوٹل کائر” بتاتے ہوئے پوری کمیونسٹ تحریک پر تبصرہ کیا۔ سی پی آئی کے رکنِ پارلیمنٹ نے ان تبصروں پر سخت اعتراض ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ سیاسی اختلاف کو ذاتی اہانت یا کسی پوری سیاسی تحریک کی تذلیل تک محدود نہیں کیا جا سکتا۔ انہوں نے کہا کہ کمیونسٹوں نے ملک کی جدوجہدِ آزادی میں حصہ لیا، جیل گئے اور انگریزی حکومت کے مظالم اور جبر کا سامنا کیا نیز جمہوریت، مزدوروں کے حقوق، سماجی انصاف اور عوام کے حقوق کی جدوجہد میں اہم قربانیاں دیں۔
سی پی آئی کے رکنِ پارلیمنٹ نے چیئرمین سے پارلیمانی ضوابط اور قائم کردہ روایتوں کے مطابق قابلِ اعتراض تبصروں کو سرکاری ریکارڈ سے ہٹانے کی اپیل کی۔ انہوں نے کہا کہ پارلیمنٹ کے وقار کو برقرار رکھنے کے لیے تلخ سیاسی بحث تو قابلِ قبول ہے لیکن کسی نظریے یا سیاسی تحریک کے خلاف ذاتی اہانت اور قابلِ اعتراض تبصرے مناسب نہیں ہیں۔
یو این آئی ایف اے
ہندوستان
پارلیمنٹ کے احاطے میں اپوزیشن ارکانِ پارلیمنٹ کا احتجاج
نئی دہلی، کانگریس اور اپوزیشن جماعتوں کے ارکانِ پارلیمنٹ نے چڑھاوا چوری اور طلبہ پر پولیس کارروائی کے معاملے پر حکومت سے جواب طلب کرنے کے اپنے مطالبات کی حمایت میں منگل کے روز پارلیمنٹ کی کارروائی شروع ہونے سے پہلے پارلیمنٹ ہاؤس کے احاطے میں احتجاج کیا۔
مظاہرین ارکانِ پارلیمنٹ ہاتھوں میں بینرز اور تختیاں تھامے حکومت مخالف نعرے لگاتے رہے۔ احتجاجی ارکانِ پارلیمنٹ وزیرِ داخلہ امت شاہ سے پولیس کارروائی پر جواب دینے اور چڑھاوا چوری کے معاملے کی وسیع پیمانے پر تحقیقات کرانے کا مطالبہ کر رہے تھے۔
بارش کی بوچھاڑوں کے درمیان احتجاج کرنے والے ارکانِ پارلیمنٹ میں کانگریس کی پرینکا گاندھی واڈرا، سماج وادی پارٹی کے اکھلیش یادو، اودھیش پرساد، ترنمول کانگریس کی پرتیما منڈل، جھارکھنڈ مکتی مورچہ، شیو سینا (ادھو گروپ) اور دیگر کئی جماعتوں کے ارکانِ پارلیمنٹ موجود تھے۔
یواین آئی۔الف الف
-
دنیا2 days agoایران کا فی الحال امریکہ کے ساتھ کوئی مذاکرات نہیں: ایرانی وزیر خارجہ
-
دنیا2 days agoسعودی عرب میں فیکٹری میں آگ کے سبب 16 بنگلہ دیشی مزدور ہلاک
-
ہندوستان2 days agoطلبہ پر کارروائی کے معاملے پر حکومت کو گھیرتے ہوئے راہل کا مضمون، کھڑگے اور پرینکا نے حمایت کی
-
جموں و کشمیر16 hours agoیومِ آزادی سے قبل جموں و کشمیر پولیس نے سرحدی سامبا میں طویل فاصلے کی گشت اور فرضی انسدادِ دہشت گردی مشق کی
-
دنیا2 days agoٹرمپ جوہری معاہدے کے بغیر ایران کے ساتھ تنازع ختم کرنے پر تیار: رپورٹ
-
ہندوستان18 hours agoپارلیمنٹ کے احاطے میں اپوزیشن ارکانِ پارلیمنٹ کا احتجاج
-
دنیا16 hours agoایران نے خود کو ایک ‘ناقابل تسخیر طاقت’ ثابت کیا ہے: عراقچی
-
دنیا16 hours agoشام کے سابق صدر بشار الاسد کو سزائے موت سنادی گئی
-
دنیا20 hours agoیمن میں حوثیوں کے المخا اور مارب پر بیلسٹک میزائل حملے
-
دنیا20 hours agoٹرمپ کا ایران سے معاوضے کا مطالبہ، آبنائے ہرمز پر مذاکرات جاری
-
دنیا20 hours agoایران اور عمان کے درمیان آبنائے ہرمز پر مذاکرات جاری
-
دنیا2 days agoتجربہ کار آئی آر جی سی کمانڈر محسن رضائی ایران کے قومی سلامتی کے سربراہ مقرر
