تازہ ترین
ویڈیو: منان وانی کے جنازے میں ہزاروں لوگوں کی شرکت ، مکمل رپورٹ
خبراردو:
سرحدی قصبہ ہندوارہ میں بدھوار اور جمعرات کی درمیانی شب فوج اور جنگجوؤں کے درمیان خونین تصادم آرائی کے دوران حزب المجاہدین کے نامور کمانڈر اور معروف اسکاکر عبدالمنان وانی اپنے ساتھی سمیت جاں بحق ہوئے۔ اطلاعات کے مطابق فوج، سی آر پی ایف اور ایس او جی کی مشترکہ جمعیت نے ہندوارہ کے شاٹ گنڈ بالا قلم آباد بستی کا بدھوار اور جمعرات کی درمیانی شب کو محاصرے میں لیتے ہوئے یہاں چھپے بیٹھے جنگجوؤں کو ڈھونڈ نکالنے کی خاطر بڑے پیمانے پر تلاشی کارروائی کاآغاز کردیا۔ معلوم ہوا ہے کہ فوج اور فورسز کی بھاری جمعیت نے بدھوار اور جمعرات کی درمیانی شب 2:30بجے شاٹ گنڈ قلم آباد کا سخت محاصرہ عمل میں لاتے ہوئے بستی کے اندرون اور بیرون راستوں کو مکمل طور پر اپنی تحویل میں لے لیا۔ اس دوران فوج اور فورسز نے دوران شب ہی شاٹ گنڈ نامی بستی کی گلی کوچوں پر موبائل بنکروں کی تعیناتی یقینی بنانے کے علاوہ یہاں خاردار تاریں بھی نصب کیں اور تمام ممکنہ راستوں پر کڑا پہرہ بٹھایا۔ اس دوران تلاشی پارٹی نے جونہی بستی میں جنگجوؤں کی تلاش کے لیے پیش قدمی شروع تو انہوں نے مشتبہ مکان کی جانب گولیوں کے کئی راؤنڈ فائر کئے جس کے بعد یہاں چھپے بیٹھے جنگجوؤں نے بھی تلاشی پارٹی پر خودکار ہتھیاروں سے فائرنگ شروع کی جس کے ساتھ ہی یہاں گولیوں کی گن گرج سے پوری بستی لرز اٹھی۔اس دوران فوج نے علاقہ کے چاروں اطراف مورچہ تنگ کرتے ہوئے جنگجوؤں کے خلاف حتمی کارروائی کرنے کا فیصلہ کیا۔ رات کی تاریکی کی وجہ سے کئی گھنٹوں تک فوج و فورسز نے جنگجو مخالف آپریشن معطل کیا تاہم صبح سورج کی کرنیں پھوٹتے ہیں گولیوں کا پھر سے تبادلہ ہوا۔ انہوں نے بتایا کہ جمعرات کی صبح 9بجے طرفین کے درمیان گولیوں کا تبادلہ تھم دیا جس کے بعد یہاں موجود فورسز پارٹی نے جائے جھڑپ کے نزدیک جانے کی کوشش کی۔ انہوں نے بتایا کہ جونہی فورسز اہلکار مکان کے نزدیک جانے لگے تو یہاں پھر سے جھڑپ کا باضابطہ آغاز ہوا جس کے ساتھ ہی کئی منٹوں تک پھر سے شدید گولہ باری ہوئی ۔ انہوں نے بتایا جن مکان میں جنگجوؤں نے پناہ لی تھی طرفین کی گولہ باری کے نتیجے میں وہ مکمل طور پر زمین بوس ہوگیا جس کے بعد فورسز اہلکاروں نے ملبے سے 2جنگجوؤں کی نعشیں برآمد کیں۔
منان وانی کے جنازے میں ہزاروں لوگوں نے شرکت …
پولیس بیان:
پولیس ذرائع نے بتایا کہ فوج، ایس او جی اور سی آر پی ایف کی نفری نے مصدقہ اطلاع کی بنا پر شاٹ گنڈ قلم آباد علاقے کو گھیرے میں لیتے ہوئے جنگجوؤں کے خلاف آپریشن شروع کردیا۔انہوں نے بتایاکہ ابتدائی طور پر فورسز پارٹی نے مشتبہ مکان کے نزدیک گولیوں کے کچھ راؤنڈ فائر کئے۔ ایس ایس پی ہندوارہ آشیش مہرا نے بتایا کہ سیکورٹی فورسز نے مصدقہ اطلاع ملنے کے بعد ہی علاقے میں محاصرے میں لے کر جنگجوؤں کی تلاش شروع کی۔ ادھر جھڑپ کے کئی گھنٹوں تک جاں بحق جنگجوؤں کی شناخت معلوم نہ ہونے کی وجہ سے وادی کے شمال و جنوب میں غیر یقینی صورتحال بپا رہی تاہم جمعرات سہ پہر کو پولیس نے دونوں جنگجوؤں کی شناخت عبدالمنان وانی ولد بشیر احمدوانی ساکن ٹکی پورہ لولاب اور عاشق حسین زرگر ساکن تلواری لنگیٹ کے بطور کی۔ اس دوران پولیس نے اپنے بیان میں کہا کہ پولیس اور سیکورٹی فورسز نے شاٹھ گنڈ بالا قلم آباد ہندواڑہ گاؤں کو اعلیٰ الصبح جونہی محاصرے میں لے کر تلاشی آپریشن شروع کیاتو اسی دوران علاقے میں موجود جنگجوؤں نے حفاظتی عملے پر اندھا دھند فائرنگ شروع کی۔ چنانچہ سیکورٹی فورسز نے آس پاس رہائش پذیر لوگوں کو محفوظ مقامات کی اور منتقل کیاجبکہ محصور جنگجوؤں کو بار بار خود سپردگی کی پیشکش کی گئی تاہم انہوں نے فائرنگ کا سلسلہ جاری رکھا جس کے بعد حفاظتی عملے نے بھی جوابی کارروائی کی جس کے نتیجے میں 2جنگجوہلاک ہوئے جن کی شناخت منان بشیر وانی و لد بشیر احمد وانی ساکنہ ٹکی پورہ سوگام کپواڑہ اور عاشق حسین زرگر ولد غلام محی الدین ساکنہ تلواری لنگیٹ کے بطور ہوئی ہے۔پولیس نے بتایا کہ جھڑپ کی جگہ اسلحہ و گولہ بارود اور قابل اعتراض مواد برآمد کیا گیا۔ پولیس نے اس سلسلے میں کیس درج کرکے تحقیقات شروع کی ہے۔ادھرمعلوم ہوا ہے کہ جاں بحق جنگجو کمانڈر عبدالمنان وانی نے علی گڑھ مسلم یونی ورسٹی سے شعبہ جیالونی اینڈ مائیننگ میں پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کی تھے جس کے بعد ہی جنوری 2018میں انہوں نے تعلیم سے فراغت حاصل کرکے حزب المجاہدین کی صفوں میں شمولیت اختیار کی۔

جھڑپ کے بعد کی صورتحال :
ادھرشاٹ گنڈ جھڑپ کی خبر پھیلتے ہیں ہندوارہ کے ملحقہ علاقوں سے نوجوانوں کی بڑی تعداد نے جائے جھڑپ کی طرف پیش قدمی شروع کی جسے فورسز نے طاقت کے بل پر ناکام بنایا۔ عینی شاہدین نے بتایا کہ جونہی شاٹ گنڈ نامی علاقے میں جھڑپ کی خبر پھیل گئی تو یہاں نوجوانوں کی مختلف ٹولیوں نے نمودار ہوکر فورسز کی کارروائی میں رخنہ ڈالنے کی خاطر ان پر سنگ باری کی جس کے نتیجے میں یہاں مزید افرا تفری کا ماحول پیدا ہوا۔ اس دوران مظاہرین کو منشتر کرنے کے لیے فورسز اہلکاروں نے نوجوانوں کا تعاقب کرنے کے علاوہ آنسو گیس کے درجنوں گولے داغے جس کے نتیجے میں یہاں ایک درجن کے قریب افراد بری طرح زخمی ہوگئے جنہیں مختلف ہسپتالوں میں علاج و معالجے کی خاطر داخل کرایا گیا۔ادھر نامور اسکالر کی ہلاکت کی خبر پھیلتے ہی وادی کے شمال و جنوب میں افرا تفری کا ماحول پیدا ہوا جس پر طوری قابو پانے کے لیے انتظامیہ نے شمالی کشمیر کے کپوارہ، بارہمولہ، اور بانڈی پورہ کے تحت آنے والے تعلیمی ادارے اگلے احکامات تک بند رکھنے کا فیصلہ کیا۔ ڈپٹی کمشنر کپوارہ خالد جہانگیر نے ضلع میں امن و قانون کی صورتحال کو برقرار رکھنے کے لیے ضلع کے تحت آنے والے جملہ اسکولوں اور کالجوں میں تدریسی عمل معطل رکھنے کے احکامات جاری کردئے ۔ ادھربانڈی پورہ اور بارہمولہ میں بھی انتظامیہ نے کسی بھی امکانی گڑبڑ سے نمٹنے کے لیے بانڈی پورہ، سمبل، حاجن، پٹن، سوپور اور بارہمولہ میں جملہ تعلیمی اداروں میں کام کاج کو بند رکھنے کا فیصلہ کیا۔

اسی طرح اسلامک یونیورسٹی آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی اونتی پورہ کی انتظامیہ نے بھی وادی میں غیر یقینی صورتحال کے پیش نظر یورنی ورسٹی کو بند کردیا۔ یونیورسٹی کے ترجمان نے بتایا کہ شمالی کشمیر میں جاں بحق جنگجوؤں کے مابعد صورتحال کے پیش نظر انتظامیہ نے یونیورسٹی میں اگلے احکامات تک کاج کاج کو معطل رکھنے کا فیصلہ کیا ہے۔اسی طرح ضلع سرینگر میں بھی انتظامیہ نے کئی تعلیمی اداروں اور کالجوں کو بند رکھنے کا فیصلہ لیا۔ امن و قانون کی صورتحال کو برقرار رکھنے اور ممکنہ عوامی احتجاج کو زائل کرنے کے لیے انتظامیہ نے وادی بھر میں موبائل انٹرنیٹ سروس کو کہیں مکمل تو کہیں جزوی طور پر بند کردیا۔ معلوم ہوا ہے کہ شمالی کشمیر کے کپوارہ، ہندوارہ، بارہمولہ، سوپور، رفیع آباد، پٹن، بانڈی پورہ، حاجن سمیت متعدد دیہات میں انتظامیہ نے موبائل انٹرنیٹ سروس کو مکمل طور پر بند کردیا جبکہ شہر سرینگر سمیت جنوبی کشمیر کے کولگام، شوپیان ، اسلام آباد اور پلوامہ میں موبائل انٹرنیٹ سروس کی رفتار کم کردی۔ شاٹ گنڈ جھڑپ کے بعد جونہی پولیس ذرائع نے جنگجو کمانڈر عبدالمنان وانی کے جاں بحق ہونے کی تصدیق کردی تو جنوبی کشمیر کے کولگام، اسلام آباد، پلوامہ اور شوپیان سمیت وسطی کشمیر کے بڈگام، سرینگر اور گاندربال علاقوں سے نوجوانوں کی بڑی تعداد نے اسکوٹروں اور گاڑیوں میں سوار ہوکر ہندوارہ کا رخ کرنا شروع کردیا جس کے ساتھ ہی وادی میں عجیب صورتحال بپا ہوئی۔ معلوم ہوا ہے کہ اس دوران پولیس نے جنگجوؤں کمانڈر منان وانی کی تدفین اور آخری رسومات میں لوگوں کی شرکت کو ناممکن بنانے کے لیے شمالی کشمیر کو جانے والی شاہراہ پرجگہ جگہ رکاوٹیں کھڑا کیں جبکہ شمالی کشمیر میں قائم پیٹرول پمپ مالکان کو اسکوٹر سواروں کو تیل نہ فراہم کرنے کے واضح احکامات جاری کردئے گئے۔
دنیا
روس اور یوکرین کے دو طرفہ حملوں میں کم از کم 38 افراد ہلاک، 100 سے زیادہ زخمی
ماسکو، یف،
روسی اور یوکرینی حکام نے شہروں اور بنیادی ڈھانچے پر مہلک حملوں کی اطلاع دی جب ماسکو اور کیف ایک دوسرے کو نشانہ بناتے رہے اور کشیدگی میں اضافہ جاری رہا۔
چرنی ہیف کے گورنر ویاسیِسلاو چاوس نے جمعرات کو کہا کہ یوکرین کے شمالی شہر پرلوکی پر روسی میزائل حملے میں 22 افراد ہلاک اور 50 سے زائد زخمی ہو گئے۔
چاوس نے ٹیلگرام پر اپنے بیان میں کہا کہ پرلوکی میں ہلاک ہونے والوں میں پانچ بچے بھی شامل تھے۔ چار موقع پر ہلاک ہوئے اور ایک بچہ اسپتال میں چل بسا۔
یوکرینی فضائیہ کا کہنا ہے کہ اس کے فضائی دفاع نے رات بھر روس کی طرف سے داغے گئے 130 اسٹرائیک ڈرونوں میں سے 117 اور کم از کم 44 بیلسٹک اور کروز میزائلوں کو مار گرایا۔
یوکرینی صدر وولودیمیر زیلنسکی کا کہنا ہے کہ یہ حملے مزید فضائی دفاعی نظاموں اور گولہ بارود کی فراہمی کے مطالبات کو تقویت دیتے ہیں۔
زیلنسکی نے کہا کہ “خطرہ ہر وقت موجود ہے، لہذا ہماری فضائی دفاعی بیٹریوں کے پاس میزائل تیار ہونے چاہئیں “اور کیف اپنے شراکت داروں سے فوری ترسیل اور مناسب پیداوار پر انحصار کر رہا ہے۔
مقامی حکام نے جمعرات کو کہا کہ ایک دوسرے روسی حملے میں مشرقی یوکرینی شہر کراماتورسک میں دو مسافر بسوں کو نشانہ بنایا گیا جس میں 30 افراد ہلاک اور 18 زخمی ہو گئے۔
دونتسک کے علاقائی دفترِ گورنر کا کہنا ہے کہ صبح کے حملے میں ہلاکتوں کی تعداد 30 تک پہنچ گئی ہے، اور عوامی نقل و حمل معطل کر دی گئی ہے۔
دریں اثنا، روسی حکام نے کہا کہ ساحلی شہر نووروسیسک پر ایک یوکرینی ڈرون حملے میں ایک بچہ سمیت چار افراد ہلاک اور 29 زخمی ہو گئے۔ تین زخمیوں کی حالت نازک ہے۔
علاقائی گورنر وینیامین کونڈراتیف نے یوکرین پر شہریوں کو نشانہ بنانے کا الزام لگایا اور کہا کہ تین مکانات، پانچ اپارٹمنٹس، ایک گرجا گھر اور ایک کنڈرگارٹن کو نقصان پہنچا۔
ڈرون کے ملبے نے قریب کے شہر اناپا میں بھی مکانات اور ایک کنڈرگارٹن کو نقصان پہنچایا، اگرچہ وہاں کوئی جانی نقصان رپورٹ نہیں ہوا۔
روسی وزارت دفاع نے دعویٰ کیا کہ اس کے فضائی دفاع نے 11 علاقوں، بحیرہ اسود اور روس کے الحاق شدہ کریمیا علاقے کی فضاوں میں 596 یوکرینی ڈرونز مار گرائے ہیں۔
یوکرینی فوج نے کہا کہ اس نے رات کے دوران نووروسیسک نیول بیس کو نشانہ بنایا، جس سے بیس اور سمندری تیل ٹرمینل میں آگ لگ گئی۔ اس نے اس بیس کو روسی بحیرہ اسود بیڑے کے جہازوں کی موجودگی، مرمت اور لاجسٹک سپورٹ کے لیے اہم مرکز قرار دیا۔ اس دعوے کی آزادانہ طور پر تصدیق نہیں ہو سکی۔
روسی سرکاری خبر رساں ادارے تاس نے رپورٹ کیا کہ ایک دوسرےڈرون حملے نے روسی ٹیکنالوجی کمپنی یانڈیکس کے زیرِ انتظام ساسوو میں واقع ایک ڈیٹا سینٹر میں آگ لگا دی ۔
یانڈیکس نے کہا کہ حملے سے اس کے انفراسٹرکچر کا کچھ حصہ متاثر ہوا، جس کی وجہ سے اس نے اس تنصیب میں آپریشنز معطل کر دیے ہیں اور ممکنہ طور پر کچھ خدمات متاثر ہو سکتی ہیں۔ کمپنی نے کوئی جانی نقصان نہ ہونے کی اطلاع دی۔
گزشتہ چند مہینوں میں ماسکو اور کیف نے ایک دوسرے کے لاجسٹکس مراکز، بندرگاہوں اور توانائی کے بنیادی ڈھانچوں کو زیادہ حد تک نشانہ بنانا شروع کر دیا ہے۔
دونوں فریق یہ انکار کرتے ہیں کہ وہ جان بوجھ کر شہری بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنا رہے ہیں، اور ان کا کہنا ہے کہ ان کے حملے عسکری اہداف یا فوجی سرگرمیوں سے متعلق تنصیبات کو نشانہ بناتے ہیں۔
یو این آئی۔ ع ا۔
دنیا
یوکرین کے ٹرانسپورٹ نظام پر روسی حملے تیز، کراماتورسک میں مزید ہلاکتیں
کیف، یوکرین کے مشرقی شہر کراماتورسک میں جمعرات کی صبح روسی گلائیڈ بم کے دو مسافر بسوں پر حملے میں کم از کم 30 افراد ہلاک اور 18 زخمی ہوگئے۔ علاقائی حکام نے یہ اطلاع دی۔
یوکرینی حکام نے حملے کو دانستہ کارروائی قرار دیا ہے۔ ان کے مطابق، روسی علاقے میں موجود طیاروں سے گرائے جانے والے گلائیڈ بم زمین پر پہلے سے مقررہ مقامات کو نشانہ بنا سکتے ہیں۔ اس حملے میں شہر کی ایک سڑک کو نشانہ بنایا گیا، جو محاذِ جنگ سے تقریباً 20 کلومیٹر دور واقع ہے۔
علاقائی انتظامیہ کے سربراہ وادیم فیلاشکن نے ٹیلی گرام پر لکھا، ”روسی جان بوجھ کر شہریوں کو نشانہ بنا رہے ہیں۔ ان کے لیے مسافروں سے بھری بس ایک پُرکشش ہدف ہے، کیونکہ ایک ہی حملے میں زیادہ سے زیادہ افراد کو ہلاک کیا جا سکتا ہے۔”
انہوں نے کہا کہ روس جنگ کے تمام قابلِ تصور اصولوں اور بین الاقوامی انسانی قانون کے ضابطوں کو نظرانداز کر رہا ہے اور ایسے اہداف منتخب کر رہا ہے جہاں شہریوں کو زیادہ سے زیادہ نقصان پہنچایا جا سکے۔
فیلاشکن نے روسی حملوں میں شدت کے پیش نظر کراماتورسک اور پڑوسی شہر سلوویانسک میں تمام عوامی ٹرانسپورٹ کی آمد و رفت معطل کرنے کا حکم دیا ہے۔
روس اب یوکرین کے نقل و حمل کے بنیادی ڈھانچے، بشمول ٹرینوں، منی بسوں، پیٹرول پمپوں، پلوں، سمندری بندرگاہوں اور مال بردار جہازوں کو نشانہ بنا رہا ہے، جس سے ملک کا ٹرانسپورٹ نظام مفلوج ہو رہا ہے۔
کیف میں قائم تھنک ٹینک پینٹا کے سربراہ وولودیمیر فیسینکو نے الجزیرہ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا، ”یہ روس کی ایک نئی حکمت عملی ہے۔ پہلے اس کی توجہ یوکرین کی بجلی کی فراہمی اور حرارتی نظام کو بند کرنے پر تھی، لیکن اب اس کا مقصد بنیادی ڈھانچے کو بھی ناکارہ بنانا اور نقل و حمل کے نظام کو مکمل طور پر مفلوج کرنا ہے۔”
انہوں نے کہا کہ ریلوے لائنوں اور پیٹرول پمپوں پر حملوں سے روسی حکمت عملی کو کسی حد تک کامیابی مل رہی ہے اور وہ اپنی شرائط پر یوکرین کو امن کے لیے مجبور کرنا چاہتا ہے۔ان کے مطابق، ان حملوں کا مقصد عوام پر نفسیاتی دباؤ ڈالنا اور ان کے معمولاتِ زندگی کو درہم برہم کرنا بھی ہے۔
روس نے جنگ کے دوران مسلسل اس بات کی تردید کی ہے کہ وہ یوکرین کے شہریوں کو نشانہ بناتا ہے، تاہم یوکرینی عوام کے لیے یہ دعوے بے معنی ہیں۔ اقوام متحدہ کے مطابق، 2026 کے پہلے آٹھ ماہ میں 15,280 شہری ہلاک یا زخمی ہوئے، جو 2025 کے اسی عرصے کے مقابلے میں 55 فیصد زیادہ ہے۔
2022 میں روس کے مکمل پیمانے پر حملے کے بعد یوکرین کی فضائی حدود میں شہری طیاروں کی پروازیں بند ہیں۔ ایسے میں ٹرینیں، بسیں اور ٹرک شہریوں اور کاروباری اداروں کے لیے زندگی کی اہم سہولت بن چکے ہیں۔ ان کے ذریعے فوجی اور انسانی امداد کا سامان بھی منتقل کیا جاتا ہے۔
یوکرین کی مال برداری کا تقریباً دو تہائی حصہ ریل گاڑیوں کے ذریعے منتقل ہوتا ہے۔ اس میں اسٹیل کی سلیبیں، اناج اور نباتاتی تیل کی برآمدات شامل ہیں، جو ملکی معیشت کو سہارا دیتی ہیں۔
سرکاری ریلوے کمپنی یوکرزالیزنیتسیا کے مطابق، 2022 سے اب تک کم از کم 521 انجن ڈرون حملوں اور گولہ باری کا نشانہ بن چکے ہیں، جن میں سے تقریباً تین پانچواں حصہ رواں سال متاثر ہوا۔
بعض انجن چلتی ٹرینوں کے دوران نشانہ بنے، جب کہ ڈرون حملوں سے مسافر ڈبوں میں بھی آگ لگنے، ہلاکتوں اور زخمی ہونے کے واقعات پیش آئے۔
جنوری میں شمال مشرقی علاقے خارکیف میں ایک ایسے ہی حملے میں پانچ مسافر ہلاک ہو گئے تھے۔ یوکرین کے صدر وولودیمیر زیلنسکی نے اس حملے کو ”دہشت گردی” قرار دیتے ہوئے کہا تھا کہ اس کا کوئی فوجی جواز نہیں تھا۔
یو این آئی۔ ع ا۔
دنیا
ٹرمپ کا وسط مدتی انتخابات سے قبل ایران پر حملہ نہ کرنے کا اعلان
اے آئی سرچ لوگو
واشنگٹن، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ امریکہ 3 نومبر کو ہونے والے وسط مدتی انتخابات سے قبل ایران پر حملہ نہیں کرے گا۔
ٹرمپ نے جمعرات کی شب اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ‘ٹروتھ سوشل’ پر لکھا، ”اسلامی جمہوریہ ایران کے ساتھ ہماری مفید بات چیت جاری ہے۔ ہم امریکہ میں 3 نومبر کو ہونے والے وسط مدتی انتخابات سے قبل کسی بھی وقت ایران پر حملہ نہیں کریں گے۔”
ٹرمپ کے اس بیان کے بعد جمعہ کی صبح تیل کی قیمتوں میں کمی درج کی گئی، کیونکہ حالیہ ہفتوں کے دوران توانائی سے مالا مال خلیجی خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث تیل کی سپلائی متاثر ہونے کے خدشات میں کچھ کمی آئی۔
جمعرات کو کاروبار کے دوران ممکنہ طور پر دوبارہ جنگ چھڑنے کے خدشات نے تیل کی قیمتوں میں اضافہ کیا تھا۔ بعض تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ ٹرمپ کا بیان تیل کی قیمتوں کو دوبارہ نیچے لانے کی کوشش بھی ہو سکتا ہے۔
ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا کہ تہران آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے سے متعلق اپنے سات روزہ منصوبے پر امریکہ کے جواب کا جائزہ لے رہا ہے اور آئندہ چند روز میں اپنا ردعمل دے گا۔
ایران کی خبر رساں ایجنسی تسنیم کے مطابق، عراقچی نے مزید کہا کہ ثالثوں کے ذریعے مذاکرات جاری ہیں۔
ایرانی ذرائع ابلاغ نے جمعہ کو آبنائے ہرمز کے جنوبی حصے میں ”شدید دھماکوں” کی اطلاع دی۔ خبر رساں ایجنسی فارس نے نامعلوم فوجی ذرائع کے حوالے سے بتایا کہ ممکن ہے غیر مجاز راستے استعمال کرنے والے تیل بردار جہاز سمندری بارودی سرنگوں سے ٹکرا گئے ہوں۔
منگل کو امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے کہا تھا کہ جنگ کے خاتمے کے لیے کسی معاہدے کے تحت ایران کو یورینیم افزودہ کرنے کی اپنی صلاحیت میں ”بامعنی” کمی کرنا ہوگی۔ ماہرین کے مطابق، یہ مطالبہ واشنگٹن کے اس سابقہ اصرار میں نرمی کا اشارہ ہو سکتا ہے کہ تہران یورینیم کی افزودگی مکمل طور پر ترک کر دے۔
پیر کو ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے واشنگٹن کے ساتھ مذاکرات کو ”بے سود” قرار دیتے ہوئے الزام لگایا تھا کہ امریکہ مذاکرات کو ایران پر حملے کے لیے استعمال کر رہا ہے۔
دریں اثنا، روسی صدر ولادیمیر پوتن نے جمعرات کو ایرانی صدر سے کہا کہ روس ایران کے خلاف امریکہ کی قیادت میں جاری جنگ ختم کرانے کے لیے ”ہر ممکن کوشش” کرے گا۔ روسی خبر رساں ایجنسیوں نے یہ اطلاع دی۔
یو این آئی۔ ع ا۔
-
جموں و کشمیر1 week agoسری نگر پولیس نے بین ریاستی منشیات نیٹ ورک کا پردہ فاش کیا، آٹھ افراد گرفتار
-
دنیا1 week agoقطری ثالثی کی امریکہ، ایران کے درمیان مذاکرات میں معمولی پیش رفت
-
دنیا1 week agoروس پر براہِ راست حملے کی صورت میں ہر قسم کے ہتھیار استعمال کرنےکا معاملہ ایجنڈے پر ہو گا :پوتن
-
ہندوستان7 days agoوندے بھارت نے چِناب پل اور کیبل اسٹڈ انجی پل کو 100 کلومیٹر کی رفتار سے عبور کیا
-
جموں و کشمیر7 days agoگاندھی کے عدم تشدد اور سودیشی کے نظریات آج بھی اہم ہیں: جموں کے ڈویژنل کمشنر
-
جموں و کشمیر1 week agoکشمیر میراتھن اتحاد اور نوجوانوں کے متبادل خواہشات کا پیغام دیتی ہے: ایل جی سنہا
-
ہندوستان1 week agoگیانیش کمار استعفیٰ دیں، ہٹائے گئے ووٹروں کی فہرست عام کی جائے: کھرگے
-
ہندوستان1 week agoشیئر بازاروں میں گراوٹ جاری، سینسیکس 49 پوائنٹس پھسلا
-
دنیا6 days agoخمیس مشیط کی جانب داغے گئے تین حوثی بیلسٹک میزائل تباہ
-
ہندوستان1 week agoڈیفنس اکاؤنٹس ڈیپارٹمنٹ کے 279ویں سالانہ دن پر کئی نئی پہل کی شروعات کریں گے راج ناتھ
-
جموں و کشمیر1 week agoجاوید ڈار نے اسمبلی میں سی اے جی کی رپورٹیں پیش کیں
-
دنیا7 days agoامریکہ، ایران جنگ بندی معاہدے کی راہ میں بداعتمادی اور گہرے اختلافات حائل
