تازہ ترین
ویڈیو: منان وانی کے جنازے میں ہزاروں لوگوں کی شرکت ، مکمل رپورٹ
خبراردو:
سرحدی قصبہ ہندوارہ میں بدھوار اور جمعرات کی درمیانی شب فوج اور جنگجوؤں کے درمیان خونین تصادم آرائی کے دوران حزب المجاہدین کے نامور کمانڈر اور معروف اسکاکر عبدالمنان وانی اپنے ساتھی سمیت جاں بحق ہوئے۔ اطلاعات کے مطابق فوج، سی آر پی ایف اور ایس او جی کی مشترکہ جمعیت نے ہندوارہ کے شاٹ گنڈ بالا قلم آباد بستی کا بدھوار اور جمعرات کی درمیانی شب کو محاصرے میں لیتے ہوئے یہاں چھپے بیٹھے جنگجوؤں کو ڈھونڈ نکالنے کی خاطر بڑے پیمانے پر تلاشی کارروائی کاآغاز کردیا۔ معلوم ہوا ہے کہ فوج اور فورسز کی بھاری جمعیت نے بدھوار اور جمعرات کی درمیانی شب 2:30بجے شاٹ گنڈ قلم آباد کا سخت محاصرہ عمل میں لاتے ہوئے بستی کے اندرون اور بیرون راستوں کو مکمل طور پر اپنی تحویل میں لے لیا۔ اس دوران فوج اور فورسز نے دوران شب ہی شاٹ گنڈ نامی بستی کی گلی کوچوں پر موبائل بنکروں کی تعیناتی یقینی بنانے کے علاوہ یہاں خاردار تاریں بھی نصب کیں اور تمام ممکنہ راستوں پر کڑا پہرہ بٹھایا۔ اس دوران تلاشی پارٹی نے جونہی بستی میں جنگجوؤں کی تلاش کے لیے پیش قدمی شروع تو انہوں نے مشتبہ مکان کی جانب گولیوں کے کئی راؤنڈ فائر کئے جس کے بعد یہاں چھپے بیٹھے جنگجوؤں نے بھی تلاشی پارٹی پر خودکار ہتھیاروں سے فائرنگ شروع کی جس کے ساتھ ہی یہاں گولیوں کی گن گرج سے پوری بستی لرز اٹھی۔اس دوران فوج نے علاقہ کے چاروں اطراف مورچہ تنگ کرتے ہوئے جنگجوؤں کے خلاف حتمی کارروائی کرنے کا فیصلہ کیا۔ رات کی تاریکی کی وجہ سے کئی گھنٹوں تک فوج و فورسز نے جنگجو مخالف آپریشن معطل کیا تاہم صبح سورج کی کرنیں پھوٹتے ہیں گولیوں کا پھر سے تبادلہ ہوا۔ انہوں نے بتایا کہ جمعرات کی صبح 9بجے طرفین کے درمیان گولیوں کا تبادلہ تھم دیا جس کے بعد یہاں موجود فورسز پارٹی نے جائے جھڑپ کے نزدیک جانے کی کوشش کی۔ انہوں نے بتایا کہ جونہی فورسز اہلکار مکان کے نزدیک جانے لگے تو یہاں پھر سے جھڑپ کا باضابطہ آغاز ہوا جس کے ساتھ ہی کئی منٹوں تک پھر سے شدید گولہ باری ہوئی ۔ انہوں نے بتایا جن مکان میں جنگجوؤں نے پناہ لی تھی طرفین کی گولہ باری کے نتیجے میں وہ مکمل طور پر زمین بوس ہوگیا جس کے بعد فورسز اہلکاروں نے ملبے سے 2جنگجوؤں کی نعشیں برآمد کیں۔
منان وانی کے جنازے میں ہزاروں لوگوں نے شرکت …
پولیس بیان:
پولیس ذرائع نے بتایا کہ فوج، ایس او جی اور سی آر پی ایف کی نفری نے مصدقہ اطلاع کی بنا پر شاٹ گنڈ قلم آباد علاقے کو گھیرے میں لیتے ہوئے جنگجوؤں کے خلاف آپریشن شروع کردیا۔انہوں نے بتایاکہ ابتدائی طور پر فورسز پارٹی نے مشتبہ مکان کے نزدیک گولیوں کے کچھ راؤنڈ فائر کئے۔ ایس ایس پی ہندوارہ آشیش مہرا نے بتایا کہ سیکورٹی فورسز نے مصدقہ اطلاع ملنے کے بعد ہی علاقے میں محاصرے میں لے کر جنگجوؤں کی تلاش شروع کی۔ ادھر جھڑپ کے کئی گھنٹوں تک جاں بحق جنگجوؤں کی شناخت معلوم نہ ہونے کی وجہ سے وادی کے شمال و جنوب میں غیر یقینی صورتحال بپا رہی تاہم جمعرات سہ پہر کو پولیس نے دونوں جنگجوؤں کی شناخت عبدالمنان وانی ولد بشیر احمدوانی ساکن ٹکی پورہ لولاب اور عاشق حسین زرگر ساکن تلواری لنگیٹ کے بطور کی۔ اس دوران پولیس نے اپنے بیان میں کہا کہ پولیس اور سیکورٹی فورسز نے شاٹھ گنڈ بالا قلم آباد ہندواڑہ گاؤں کو اعلیٰ الصبح جونہی محاصرے میں لے کر تلاشی آپریشن شروع کیاتو اسی دوران علاقے میں موجود جنگجوؤں نے حفاظتی عملے پر اندھا دھند فائرنگ شروع کی۔ چنانچہ سیکورٹی فورسز نے آس پاس رہائش پذیر لوگوں کو محفوظ مقامات کی اور منتقل کیاجبکہ محصور جنگجوؤں کو بار بار خود سپردگی کی پیشکش کی گئی تاہم انہوں نے فائرنگ کا سلسلہ جاری رکھا جس کے بعد حفاظتی عملے نے بھی جوابی کارروائی کی جس کے نتیجے میں 2جنگجوہلاک ہوئے جن کی شناخت منان بشیر وانی و لد بشیر احمد وانی ساکنہ ٹکی پورہ سوگام کپواڑہ اور عاشق حسین زرگر ولد غلام محی الدین ساکنہ تلواری لنگیٹ کے بطور ہوئی ہے۔پولیس نے بتایا کہ جھڑپ کی جگہ اسلحہ و گولہ بارود اور قابل اعتراض مواد برآمد کیا گیا۔ پولیس نے اس سلسلے میں کیس درج کرکے تحقیقات شروع کی ہے۔ادھرمعلوم ہوا ہے کہ جاں بحق جنگجو کمانڈر عبدالمنان وانی نے علی گڑھ مسلم یونی ورسٹی سے شعبہ جیالونی اینڈ مائیننگ میں پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کی تھے جس کے بعد ہی جنوری 2018میں انہوں نے تعلیم سے فراغت حاصل کرکے حزب المجاہدین کی صفوں میں شمولیت اختیار کی۔

جھڑپ کے بعد کی صورتحال :
ادھرشاٹ گنڈ جھڑپ کی خبر پھیلتے ہیں ہندوارہ کے ملحقہ علاقوں سے نوجوانوں کی بڑی تعداد نے جائے جھڑپ کی طرف پیش قدمی شروع کی جسے فورسز نے طاقت کے بل پر ناکام بنایا۔ عینی شاہدین نے بتایا کہ جونہی شاٹ گنڈ نامی علاقے میں جھڑپ کی خبر پھیل گئی تو یہاں نوجوانوں کی مختلف ٹولیوں نے نمودار ہوکر فورسز کی کارروائی میں رخنہ ڈالنے کی خاطر ان پر سنگ باری کی جس کے نتیجے میں یہاں مزید افرا تفری کا ماحول پیدا ہوا۔ اس دوران مظاہرین کو منشتر کرنے کے لیے فورسز اہلکاروں نے نوجوانوں کا تعاقب کرنے کے علاوہ آنسو گیس کے درجنوں گولے داغے جس کے نتیجے میں یہاں ایک درجن کے قریب افراد بری طرح زخمی ہوگئے جنہیں مختلف ہسپتالوں میں علاج و معالجے کی خاطر داخل کرایا گیا۔ادھر نامور اسکالر کی ہلاکت کی خبر پھیلتے ہی وادی کے شمال و جنوب میں افرا تفری کا ماحول پیدا ہوا جس پر طوری قابو پانے کے لیے انتظامیہ نے شمالی کشمیر کے کپوارہ، بارہمولہ، اور بانڈی پورہ کے تحت آنے والے تعلیمی ادارے اگلے احکامات تک بند رکھنے کا فیصلہ کیا۔ ڈپٹی کمشنر کپوارہ خالد جہانگیر نے ضلع میں امن و قانون کی صورتحال کو برقرار رکھنے کے لیے ضلع کے تحت آنے والے جملہ اسکولوں اور کالجوں میں تدریسی عمل معطل رکھنے کے احکامات جاری کردئے ۔ ادھربانڈی پورہ اور بارہمولہ میں بھی انتظامیہ نے کسی بھی امکانی گڑبڑ سے نمٹنے کے لیے بانڈی پورہ، سمبل، حاجن، پٹن، سوپور اور بارہمولہ میں جملہ تعلیمی اداروں میں کام کاج کو بند رکھنے کا فیصلہ کیا۔

اسی طرح اسلامک یونیورسٹی آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی اونتی پورہ کی انتظامیہ نے بھی وادی میں غیر یقینی صورتحال کے پیش نظر یورنی ورسٹی کو بند کردیا۔ یونیورسٹی کے ترجمان نے بتایا کہ شمالی کشمیر میں جاں بحق جنگجوؤں کے مابعد صورتحال کے پیش نظر انتظامیہ نے یونیورسٹی میں اگلے احکامات تک کاج کاج کو معطل رکھنے کا فیصلہ کیا ہے۔اسی طرح ضلع سرینگر میں بھی انتظامیہ نے کئی تعلیمی اداروں اور کالجوں کو بند رکھنے کا فیصلہ لیا۔ امن و قانون کی صورتحال کو برقرار رکھنے اور ممکنہ عوامی احتجاج کو زائل کرنے کے لیے انتظامیہ نے وادی بھر میں موبائل انٹرنیٹ سروس کو کہیں مکمل تو کہیں جزوی طور پر بند کردیا۔ معلوم ہوا ہے کہ شمالی کشمیر کے کپوارہ، ہندوارہ، بارہمولہ، سوپور، رفیع آباد، پٹن، بانڈی پورہ، حاجن سمیت متعدد دیہات میں انتظامیہ نے موبائل انٹرنیٹ سروس کو مکمل طور پر بند کردیا جبکہ شہر سرینگر سمیت جنوبی کشمیر کے کولگام، شوپیان ، اسلام آباد اور پلوامہ میں موبائل انٹرنیٹ سروس کی رفتار کم کردی۔ شاٹ گنڈ جھڑپ کے بعد جونہی پولیس ذرائع نے جنگجو کمانڈر عبدالمنان وانی کے جاں بحق ہونے کی تصدیق کردی تو جنوبی کشمیر کے کولگام، اسلام آباد، پلوامہ اور شوپیان سمیت وسطی کشمیر کے بڈگام، سرینگر اور گاندربال علاقوں سے نوجوانوں کی بڑی تعداد نے اسکوٹروں اور گاڑیوں میں سوار ہوکر ہندوارہ کا رخ کرنا شروع کردیا جس کے ساتھ ہی وادی میں عجیب صورتحال بپا ہوئی۔ معلوم ہوا ہے کہ اس دوران پولیس نے جنگجوؤں کمانڈر منان وانی کی تدفین اور آخری رسومات میں لوگوں کی شرکت کو ناممکن بنانے کے لیے شمالی کشمیر کو جانے والی شاہراہ پرجگہ جگہ رکاوٹیں کھڑا کیں جبکہ شمالی کشمیر میں قائم پیٹرول پمپ مالکان کو اسکوٹر سواروں کو تیل نہ فراہم کرنے کے واضح احکامات جاری کردئے گئے۔
ہندوستان
اروناچل ہندستان کا اٹوٹ حصہ، سرحد کی صورتحال ہی چین کے ساتھ دوطرفہ تعلقات کی بنیاد:ہندستان
نئی دہلی ہندستان نے اروناچل پردیش کو اپنا ناقابلِ تقسیم اور اٹوٹ حصہ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ چین کے ساتھ اس کے دوطرفہ تعلقات سرحد کی صورتحال پر مبنی ہوں گے اور سرحدی صورتحال کا ان تعلقات پر براہِ راست اثر ہوگا۔
وزارتِ خارجہ کے ترجمان رندھیر جیسوال نے منگل کے روز یہاں میڈیا بریفنگ میں سوالات کے جواب دیتے ہوئے یہ بات کہی۔ دراصل چین کی جانب سے اروناچل پردیش اور اس کے کچھ مقامات کے نام تبدیل کرنے کے ردعمل میں ہندستان نے حال ہی میں اروناچل پردیش کی 27 اہم جگہوں کو سروے آف انڈیا کے نقشے میں سرکاری طور پر نشان زد کر دیا ہے۔ اس پر چین کی طرف سے منفی ردعمل سامنے آیا ہے۔ چین کے اس ردعمل کے بارے میں پوچھے جانے پر مسٹر جیسوال نے کہا کہ اروناچل پردیش ہندستان کا ناقابلِ تقسیم اور اٹوٹ حصہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ ایک مسلمہ حقیقت ہے اور کوئی بھی اس ناقابلِ تردید سچائی کو بدل نہیں سکتا۔
دونوں ممالک کے درمیان سرحد پر صورتحال کے بارے میں پوچھے گئے سوال کے جواب میں ترجمان نے کہا کہ ہندستان سرحد سے جڑے معاملات کو انتہائی سنجیدہ مانتا ہے اور سرحد پر امن و استحکام اس کی ترجیح ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ سرحد کی صورتحال کا ہندستان اور چین کے تعلقات پر براہِ راست اثر پڑے گا۔ ترجمان نے کہا، “ہندستان اور چین کے درمیان سرحدی علاقوں سے جڑے معاملات میں، ہم نے ہمیشہ چین کے ساتھ بات چیت میں اس بات پر زور دیا ہے کہ ہم ان مسائل کو بے حد سنجیدہ مانتے ہیں اور ان علاقوں میں امن و استحکام برقرار رکھنا سب سے زیادہ اہم ہے۔ ہم نے یہ بھی واضح کیا ہے کہ سرحدی معاملات کی صورتحال ہمارے وسیع دوطرفہ تعلقات کی صورتحال کی عکاسی کرے گی۔ اس بات کو 06 اگست کو حال ہی میں منعقدہ ‘ہند-چین سرحدی معاملات پر مشاورت اور ہم آہنگی کے ورکنگ میکانزم’ کی 36ویں میٹنگ میں بھی دہرایا گیا۔ اس میٹنگ میں دونوں فریقوں نے کھلی اور واضح بات چیت کی اورحقیقی کنٹرول لائن (ایل اے سی) پر صورتحال کا جائزہ لیا۔”
مسٹر جیسوال نے کہا کہ میٹنگ میں ہندستان نے اس بات پر زور دیا کہ دوطرفہ تعلقات کی ہمہ گیر ترقی کے لیے سرحدی علاقوں میں امن و استحکام برقرار رکھنا انتہائی ضروری ہے۔ اس بات پر اتفاق ہوا کہ لائن آف ایکچوئل کنٹرول پر غلط فہمی اور غلط اندازوں سے بچنے نیز باقی بچے ہوئے مسائل کو حل کرنے کے لیے ورکنگ میکانزم کی میٹنگوں، مقامی کمانڈر سطح کی میٹنگوں اور دیگر میکانزم سمیت موجودہ سفارتی اور فوجی ذرائع کا استعمال جاری رکھا جائے گا۔
یو این آئی ایف اے
دنیا
موساد کے سابق سربراہ کا انکشاف، ماضی میں ایران کی فردو جوہری تنصیب کا کئی بار دورہ کیا
یروشلم، اسرائیلی خفیہ ایجنسی موساد کے سابق سربراہ یوسی کوہن نے کہا ہے کہ انہوں نے ماضی میں ایران کی فردو یورینیم افزودگی تنصیب کا کئی مرتبہ دورہ کیا تھا، تاہم انہوں نے یہ نہیں بتایا کہ یہ دورے کب کیے گئے اور ان کے ہمراہ کون تھا۔
عبرانی زبان کے میڈیا کے مطابق صفد میں منعقدہ گیلیلی فورم سے خطاب کرتے ہوئے کوہن نے کہا، ’’ہم نے فردو جوہری تنصیب کا کئی بار دورہ کیا تاکہ اس مقام کو سمجھ سکیں۔‘‘
انہوں نے مزید کہا، ’’امریکیوں کی جانب سے اس پر بمباری میرے تمام خوابوں کی تکمیل تھی۔‘‘
فردو کے علاوہ ایران کی اصفہان اور نطنز میں موجود جوہری تنصیبات کو بھی جون 2025 میں ہونے والی 12 روزہ اسرائیل۔ایران جنگ کے دوران امریکی حملوں سے شدید نقصان پہنچا تھا۔
بعد ازاں ایسی رپورٹس سامنے آئی تھیں کہ ان تنصیبات پر موجود تقریباً 440 کلوگرام انتہائی افزودہ یورینیم زمین میں دفن کر دی گئی تھی۔ تاہم اسرائیل نے بعد میں اندازہ لگایا کہ تہران نے اس مواد میں سے کچھ کو ممکنہ طور پر پکیکس ماؤنٹین کے مقام پر منتقل کر دیا تھا۔
کوہن کے مطابق 60 فیصد تک افزودہ یورینیم اب بھی ’’بم بنانے سے بہت دور‘‘ ہے۔ تاہم یہ دعویٰ جوہری ماہرین کی بعض جائزہ رپورٹس سے مختلف ہے۔ جوہری ماہر ڈیوڈ البرائٹ کا کہنا ہے کہ 60 فیصد افزودہ یورینیم کو مزید افزودہ کرکے چند ہفتوں یا حتیٰ کہ چند دنوں میں ہتھیاروں کے درجے کے مواد میں تبدیل کیا جا سکتا ہے۔
کوہن اس سے قبل ایران کے جوہری پروگرام کو نشانہ بنانے والی موساد کی کارروائیوں کے بارے میں بھی کھل کر بات کر چکے ہیں۔ 2021 میں موساد کی سربراہی چھوڑنے کے فوراً بعد ایک غیر معمولی ٹیلی ویژن انٹرویو میں انہوں نے کئی کارروائیوں کی تفصیلات فراہم کی تھیں، جن میں 2018 میں تہران کے ایک گودام سے ایران کے جوہری محفوظ شدہ ریکارڈ چوری کرنے کی کارروائی بھی شامل تھی۔
انہوں نے یہ بھی اشارہ دیا تھا کہ نطنز میں ایران کی زیر زمین سینٹری فیوج تنصیب کے ایک حصے کی تباہی کے پیچھے بھی موساد کا ہاتھ تھا۔ انہوں نے تصدیق کی تھی کہ ایرانی جوہری سائنس دان محسن فخری زادہ کو موساد نے ہی ہلاک کیا تھا اور تہران کو جوہری ہتھیار تیار کرنے کی کوشش سے باز رہنے کی تنبیہ کی تھی۔
چینل 12 کو دیے گئے اس انٹرویو میں موساد کے سابق سربراہ نے ایران کے جوہری بنیادی ڈھانچے سے اپنی واقفیت کا بھی اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ اگر انہیں موقع دیا جائے تو وہ دیان کو نطنز میں زیر زمین موجود اس ’’تہہ خانے‘‘ میں لے جائیں گے جہاں، ان کے بقول، ’’سینٹری فیوجز گھومتے تھے۔‘‘
یو این آئی۔ ع ا۔
جموں و کشمیر
جموں میں آبادیاتی تبدیلیوں سے متعلق پینل کو پناہ گزینوں کی تنظیم نے یادداشت پیش کی
جموں، پی او جے کے سے بے گھر افراد کی تنظیم ایس او ایس انٹرنیشنل کے ایک وفد نے منگل کو یہاں جسٹس پرکاش پربھاکر نولیکر (ریٹائرڈ) کی سربراہی میں آبادیاتی تبدیلیوں سے متعلق پینل کو ایک تفصیلی یادداشت پیش کی۔
ایس او ایس انٹرنیشنل کے چیئرمین راجیو چونی کی قیادت میں وفد میں پروفیسر این این شرما (نائب چیئرمین)، ونود کمار دتہ (جنرل سکریٹری)، بھائی رام سنگھ (سکریٹری) اور وید راج بالی (سکریٹری) شامل تھے۔ وفد نے یادداشت پیش کرتے ہوئے 1947 سے پاکستان کے زیر قبضہ جموں و کشمیر (پی او جے کے) کی ہندو اور سکھ آبادی کے ساتھ روا رکھے گئے تاریخی ناانصافی کو ریکارڈ پر لایا اور پینل سے ٹھوس اصلاحی اقدامات کرنے کا مطالبہ کیا۔
جاری کردہ بیان کے مطابق یادداشت میں نشاندہی کی گئی کہ 1947 کے حملے کے بعد اس وقت کی جموں و کشمیر حکومت نے ابتدائی طور پر تقریباً 31,600 خاندانوں کا اندراج کیا تھا، جبکہ تقریباً 9,500 خاندانوں کو معمولی اور غیر معقول وجوہات کی بنیاد پر من مانے طریقے سے رجسٹریشن سے محروم کر دیا گیا۔
رجسٹرڈ خاندانوں میں سے صرف تقریباً 26,300 خاندانوں کو ریاست کے اندر آباد کیا گیا، جبکہ تقریباً 5,300 رجسٹرڈ خاندانوں کے ساتھ ساتھ 9,500 غیر رجسٹرڈ خاندانوں کو ہندوستان کے دیگر حصوں میں پناہ لینے پر مجبور ہونا پڑا۔ باقاعدہ طور پر رجسٹر کیے گئے خاندانوں کے ریکارڈ اب بھی جموں و کشمیر حکومت کے سرکاری ریکارڈ میں موجود ہیں۔
یادداشت میں کہا گیاکہ ’’یہ خاندان مہاراجہ ہری سنگھ کے 1927 کے اسٹیٹ سبجیکٹ قانون کے تحت ریاست کے اصل باشندے تھے اور انہوں نے بارہا اپنے آبائی وطن واپس جانے کی خواہش کا اظہار کیا ہے۔‘‘
تاہم بحالیِ آبادکاری کی کسی جامع پالیسی یا ادارہ جاتی مدد کی مکمل عدم موجودگی کے باعث ان کے پاس دوسری جگہ اپنی زندگی دوبارہ شروع کرنے کے علاوہ کوئی راستہ نہیں تھا۔ بیان کے مطابق اس وقت ریاست سے باہر رہنے والی ان کی آبادی کا تخمینہ پانچ سے چھ لاکھ ہے۔
ایس او ایس انٹرنیشنل نے یہ بھی نشاندہی کی کہ جموں و کشمیر کی اُس وقت کی حکومت کے 2014 کے کابینہ فیصلے میں ہر متاثرہ خاندان کو 25 لاکھ روپے نقد امداد، تعلیم یافتہ بے روزگار نوجوانوں کے لیے 8,500 سرکاری ملازمتیں اور پیشہ ورانہ و تکنیکی اداروں میں ریزرویشن دینے کا وعدہ کیا گیا تھا، لیکن جموں و کشمیر یا سابق ریاست سے باہر جلاوطنی کی زندگی گزارنے والے خاندانوں کے لیے اس پر عمل نہیں کیا گیا۔
جاری۔یواین آئی۔ طـ ا
-
دنیا1 day agoایران کا فی الحال امریکہ کے ساتھ کوئی مذاکرات نہیں: ایرانی وزیر خارجہ
-
دنیا1 day agoسعودی عرب میں فیکٹری میں آگ کے سبب 16 بنگلہ دیشی مزدور ہلاک
-
دنیا2 days agoٹرمپ جوہری معاہدے کے بغیر ایران کے ساتھ تنازع ختم کرنے پر تیار: رپورٹ
-
ہندوستان1 day agoطلبہ پر کارروائی کے معاملے پر حکومت کو گھیرتے ہوئے راہل کا مضمون، کھڑگے اور پرینکا نے حمایت کی
-
دنیا1 day agoتجربہ کار آئی آر جی سی کمانڈر محسن رضائی ایران کے قومی سلامتی کے سربراہ مقرر
-
جموں و کشمیر7 hours agoیومِ آزادی سے قبل جموں و کشمیر پولیس نے سرحدی سامبا میں طویل فاصلے کی گشت اور فرضی انسدادِ دہشت گردی مشق کی
-
دنیا11 hours agoٹرمپ کا ایران سے معاوضے کا مطالبہ، آبنائے ہرمز پر مذاکرات جاری
-
دنیا11 hours agoایران اور عمان کے درمیان آبنائے ہرمز پر مذاکرات جاری
-
دنیا10 hours agoکولمبیا میں زلزلے سے ہلاکتوں کی تعداد 132 ہو گئی، صدر کا قومی ایمرجنسی کا اعلان
-
ہندوستان9 hours agoپارلیمنٹ کے احاطے میں اپوزیشن ارکانِ پارلیمنٹ کا احتجاج
-
دنیا7 hours agoایران نے خود کو ایک ‘ناقابل تسخیر طاقت’ ثابت کیا ہے: عراقچی
-
دنیا7 hours agoشام کے سابق صدر بشار الاسد کو سزائے موت سنادی گئی
