تازہ ترین
ویڈیو: پلوامہ خود کش حملہ
خبراردو:
۱۴ فرور ی کو دوپہر کے بعد جمون سے سرینگر کی جانب سی آر پی ایف قافلہ بڑھ رہا تھا ، لگ بھگ اسی گاڑیوں پر مشتمل قافلے میں ۲۵۰۰ سو کے قریب فورسز اہلکار شامل تھے ۔
لیکن قافلہ جب سرینگر سے لگ بھگ بیس کلو میٹر دور پلوامہ ضلع کے اونتی پورہ لتہ پورہ علاقے میں شاہر ہ پر سرینگر کی اور بڑھ رہا تھا تو اسی اثنا میں ایک مخالف سمت سے آرہی سکارپیو ایس یو وی کار ایک سی آر پی ایف بس کیساتھ ٹکرا گئی ۔ اور اس کیساتھ ہی ایک خوفناک دھماکہ ہوا ، جس سے زمین ہلی آواز کہیں کلو میٹر تک سنی گئی ۔ بسوں کے پرخچے اڑ گئے ، آسمان میں دھواں ہی دھواں دیکھائی دے رہا تھا ، سومیٹر تک شاہراہ پر لاشوں کے اعضا بکھرے پڑے تھے ۔ ساتھ ہی دکانوں مکانوں گاڑیوں کے شیشے توٹ گئے ، اور پھر چینخون کی آوازیں۔
کشمیرمیں دہائیوں بعد اس طرح کے سب سے بڑے جنگجو حملے میں کم از کم ۴۴ سی آر پی ایف ہلکا ر ہوئے جبکہ متعدد زخمی ہوئے ہیں ۔دھماکے کے بعد جنگجوؤں نے فورسز پر فائرنگ بھی کی ہے ۔ادھر حملے کے فوراً بعد فوج، سی آر پی ایف اور پولیس کے اعلیٰ افسران نے جائے واردات کا دورہ کرتے ہوئے زمینی صورتحال کا باریک بینی سے جائزہ لیا۔
اطلاعات کے مطابق فورسز کی کانوائی جموں سے صبح ساڑھے تین بجے نکلی ۔ مسلسل شاہراہ بند رہنے کی وجہ سے ایک ساتھ پچیس سو اہلکاروں نکلنا پڑا ۔
اس خوف ناک دھماکے کی زمہ داری جنگجو گروپ جیش محمد نے قبول کی ۔ اور جیش نے خود کش بمبار کی شناخت عادل احمد ڈار عرف وقاص کمانڈو ساکنہ پلوامہ کاکہ پورہ کے بطور کی ہے ۔ مزید گروپ نے حملہ کرنے سے پہلے بنایا گیا ویڈیو بھی سوشل میڈیا پر وایرل کیا ہے ۔ اس دھماکے کی شدت کو دیکھتے ہوئے بتایا جا رہا ہے کہ اس میں لگ بھگ ساڑھے تین سو کلو کا بارودی مواد استعمال کیا گیا تھا ۔
وقاص کمانڈو نے ایک سال قبل ہی جیش میں شمولیت اختیار کی تھی ،۔
اس حملے کی تما م سیاسی جماعتوں شدید الفاط میں مذت کی وہیں بالی ووڈ کے کہیں اداکاروں نے اسے بہت بڑا صدمہ قرار دیا ہے ۔
مرکزی میں بھاجپا سرکار نے کہا ہے کہ اس حملے کا بھر پور جواب دیا جائے گا ۔ وزیرعظم مودی نے کہا کہ قربانیاں رائیگاں نہیں جائیں گی ۔
اور اس سلسلے مرکز ی وزارت خارجہ نے اقوام متحدہ سے اپیل کی ہے کہ وہ جیش محمد پر پابندی عائد کی جائے مزید مسعود اظہر کو گلوبل ٹررسٹ لسٹ میں ڈالا جائے ۔
دوسری طرف اس حملے کی اقوام متحدہ کے علاوہ امریکہ ، فرانس ، اسرائل ، روس ، مالدیوپ ، سرینلکا ، بھوٹان ، اور نیپال بنگلہ دیش اور پاکستان نے مذمت کی ہے ۔
پاکستان نے بھارت کی طرف سے لگائے گئے حملے میں ملوث ہونے کے الزامات کو مسترد کر دیا ہے
ادھر اس حملے کی تحقتیات این آئی اے اور این ایس جی کر رہہی ہے ، آپ کو بتا دیں یہ ریاست میں پچھلی دو دہائیون میں سب سے بڑا جنگجو حملہ ہے ۔ اس سے پہلے ۲۰۰۱ میں جموں کشمیر اسمبلی کے باہر جنگجو حملے میں ۳۸ افراد ہلاک ہوئے تھے ، اور اسکے بعد ۲۰۱۶ میں اوڑی میں ایک آرمی بریگیڈ ہیڈکوارٹر پر حملے میں بیس اہلکار ہلاک ہوئے تھے ،
آپ کو بتادیں جیش محمد گروپ سنہ ۲۰۰۰ میں اظہر مسعود نے بنایا ۔اس جماعت پر بھارت نے کہیں بڑے حملے کرا نے کا ا الزام لگایا ہے ، جن میں ۲۰۰۱ پارلیمنٹ حملہ ۲۰۱۶ پٹھانکوٹ ایر بیس حملہ شامل ہے ۔ ۲۰۰۰۲ میں پاکساتن نے اس جماعت پر پابندی عائد کی تھی ۔
قابل زکر ہے کہ ۲۰۰۱ اسمبلی حملے کی ذمہ داری پہلے جیش نے قبول کی لیکن پھر انکار کیا ۔
واضح رہے بھارت کافی عرصے سے اقوام متحدہ سے مسعود اظر کو گلوبل ٹررسٹ کی فہرست مییں ڈالنے کی مانگ کر رہا ہے۔ لیکن چین اس کی مخلافت کرتا آرہا ہے ۔
دنیا
ایران کا فی الحال امریکہ کے ساتھ کوئی مذاکرات نہیں: ایرانی وزیر خارجہ
تہران، ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا ہے کہ وہ فی الوقت امریکہ کے ساتھ کسی بھی قسم کے مذاکراتی عمل میں مصروف نہیں ہیں اور جب تک واشنگٹن انتظامیہ متفقہ معاہدے کی خلاف ورزیوں کا ازالہ نہیں کرتی مذاکرات دوبارہ شروع نہیں ہوں گے۔
ایران کے سرکاری ٹیلی ویژن سے بات کرتے ہوئے عراقچی نے امریکہ کے ساتھ رابطوں اورآبنائے ہرمز کے حوالے سے بیان دیا۔
فریقین کے درمیان ثالثوں کے ذریعے پیغامات کے تبادلے کے جاری رہنے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے عراقچی نے کہا، “اس وقت ہم امریکہ کے ساتھ کسی بات چیت میں نہیں ہیں۔ ثالثوں کے ذریعے پیغامات کا تبادلہ ہو رہا ہے مگر اسے مذاکرات کہنا درست نہیں۔”
عراقچی نے کہا کہ ثالث دوبارہ باہمی سمجھ بوجھ کی بنیاد قائم کرنے کے لیے کوششیں جاری رکھے ہوئے ہیں اور مذاکرات کے دوبارہ شروع ہونے کے لیے امریکہ کو متفقہ معاہدے کی خلاف ورزیوں کے حوالے سے اپنی ذمہ داریوں کو پورا کرنا ہوگا۔
عباس عراقچی نے کہا، “جب تک مفاہمت ِیادداشت کی خلاف ورزیاں ختم نہیں ہوتیں اور امریکہ نے متفقہ معاہدے کی خلاف ورزیوں کا ازالہ نہیں کیا، مذاکرات کے دوبارہ شروع ہونے کا امکان ممکن نہیں۔”
ہرمز کے سلسلے میں عمان کے ساتھ جاری مذاکرات کے بارے میں عراقچی نے اعادہ کیا اس ملک کے ساتھ کسی معاہدے تک پہنچ جانا اس بات کی ضمانت نہیں کہ آبنائے ہرمز دوبارہ کھل جائے گی۔اس کے لیے دیگر شرائط بھی پوری ہونی چاہئیں۔ یہ شرائط ثالثوں کے ذریعے امریکی فریق تک پہنچا دی گئی ہیں۔”
یو این آئی۔ ع ا۔
دنیا
سعودی عرب میں فیکٹری میں آگ کے سبب 16 بنگلہ دیشی مزدور ہلاک
ڈھاکہ، بنگلہ دیش کی وزارتِ سمندر پار روزگار اور بہبودِ تارکینِ وطن نے اتوار کے روز سعودی عرب کے دارالحکومت ریاض میں ایک صوفہ فیکٹری میں لگنے والی آگ کے نتیجے میں کم از کم 16 بنگلہ دیشی تارکینِ وطن مزدوروں کی ہلاکت کا اعلان کیا ہے۔
وزارت نے اس معلومات کی تصدیق سعودی عرب کے محکمہ فائر بریگیڈ کے حوالے سے کی ہے۔
وزیر عارف الحق چودھری نے ان قیمتی جانوں کے ضیاع پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا ہے۔
چودھری نے اپنے بیان میں کہا کہ سعودی عرب میں روزی کمانے کے لیے محنت کرنے والے ان تارکینِ وطن کی اس طرح کی بے وقت اور المناک اموات انتہائی دل دہلا دینے والی ہیں۔ ملک کی معیشت میں ان کا تعاون بہت بڑا ہے۔
وزیر نے بتایا کہ سعودی عرب میں بنگلہ دیشی سفارت خانہ جائے حادثہ پر موجود ہے اور مقامی حکام کے ساتھ 24 گھنٹے رابطے میں ہے۔ انہوں نے متعلقہ حکام کو ہدایت دی ہے کہ وہ ہلاک ہونے والے تارکینِ وطن کی میتوں کی وطن واپسی کے عمل کو تیز کریں اور ان کے خاندانوں کو تمام ضروری سرکاری امداد اور معاوضے کی فراہمی یقینی بنائیں۔
دوسری جانب، بنگلہ دیشی وزارتِ خارجہ نے بھی کہا ہے کہ صورتحال کی کڑی نگرانی کی جا رہی ہے اور ہر ممکن مدد فراہم کی جا رہی ہے۔
سعودی عرب بنگلہ دیشی تارکینِ وطن مزدوروں کے لیے سب سے اہم ترین منزل بنا ہوا ہے، جہاں تقریباً 35 لاکھ بنگلہ دیشی شہری مقیم ہیں اور کام کر رہے ہیں۔
کم مہارت والے کاموں میں مصروف ان بنگلہ دیشی تارکینِ وطن مزدوروں نے گزشتہ سال اپنے ملک کو 2.7 ارب ڈالر سے زائد زرمبادلہ بھیجا ہے ۔
یو این آئی۔ ع ا۔
ہندوستان
طلبہ پر کارروائی کے معاملے پر حکومت کو گھیرتے ہوئے راہل کا مضمون، کھڑگے اور پرینکا نے حمایت کی
نئی دہلی، کانگریس کے سابق صدر اور لوک سبھا میں اپوزیشن کے رہنما راہل گاندھی نے طلبہ کے احتجاج کے دوران پولیس کی کارروائی کو لے کر حکومت پر حملہ کرتے ہوئے ایک انگریزی روزنامے میں مضمون لکھا ہے۔ انہوں نے کہا ہے کہ نوجوانوں کی آواز دبانے کے لیے ان کے خلاف کارروائی کی گئی ہے، جس پر حکومت کو جواب دینا ضروری ہے۔
مسٹر گاندھی کے اس مضمون کی حمایت کرتے ہوئے کانگریس صدر ملکارجن کھڑگے اور پارٹی کی جنرل سکریٹری پرینکا گاندھی واڈرا نے کہا ہے کہ طلبہ کے خلاف کارروائی کے لیے وزیر داخلہ امت شاہ ذمہ دار ہیں۔
انگریزی روزنامے ’دی ہندو‘ میں شائع اپنے مضمون میں مسٹر گاندھی نے طلبہ پر طاقت کے استعمال کا ذکر کرتے ہوئے کہا ہے کہ اپنے مستقبل کے بارے میں سوال پوچھنے والے طلبہ پر پیلٹ گن، کیل لگی لاٹھیاں اور آنسو گیس استعمال کی گئی۔
انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم نریندر مودی حقیقت سے پوری طرح کٹ چکے ہیں اور طلبہ کی یہ تحریک ان کے لیے ایک انتباہ ہے کہ ملک کے نوجوان بیدار ہو چکے ہیں۔
مسٹر گاندھی نے کہا کہ نوجوانوں کے درمیان وزیر اعظم کی شبیہ تباہ ہو چکی ہے اور اسے دوبارہ بحال نہیں کیا جا سکتا۔
ملک کے نوجوان مسٹر مودی، مسٹر شاہ یا کسی افسر کو ان کے اقدامات کے نتائج سے بچنے نہیں دیں گے۔ انہوں نے کہا کہ اپوزیشن نوجوانوں کے ساتھ کھڑی ہے اور ان مبینہ جرائم کو سزا کے بغیر نہیں جانے دے گی۔
مسٹر کھڑگے نے مسٹر گاندھی کے مضمون کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے اپنے مضمون کے ذریعے نوجوانوں کی آواز کو مضبوطی سے اٹھایا ہے۔ کانگریس صدر نے کہا کہ نوجوانوں کے ساتھ ہوئی زیادتی کا جواب حکومت کو دینا ہوگا۔
محترمہ واڈرا نے بھی مسٹر گاندھی کے الزامات کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ پارلیمنٹ سے محض 500 میٹر کی دوری پر طلبہ کے خلاف وحشیانہ کارروائی کی گئی اور اس کی ذمہ داری مسٹر شاہ کی ہے۔
انہوں نے راہل گاندھی کے حوالے سے کہا کہ اس معاملے میں صرف 2 امکانات ہیں—یا تو وزیر داخلہ نے طلبہ کے خلاف کارروائی کی اجازت دی، ایسی صورت میں وہ ذمہ دار ہیں، یا پھر انہیں اس کی اطلاع ہی نہیں تھی، تو یہ ان کی مکمل نااہلی کو ظاہر کرتا ہے۔ دونوں صورتوں میں وزیر داخلہ کی حیثیت سے اس واقعے کی ذمہ داری انہی کی ہے اور انہیں استعفیٰ دینا چاہیے۔
راہل گاندھی نے ایک اور تبصرے میں کہا کہ نوجوان خواتین کے ساتھ پولیس اہلکاروں نے مارپیٹ کی، کئی طلبہ زخمی ہوئے اور نابالغ طلبہ کی ہڈیاں تک ٹوٹنے کی بات سامنے آئی۔ انہوں نے سوال کیا کہ حکومت طلبہ کے سوالوں کا جواب اس طرح کیوں دے رہی ہے۔
انہوں نے الزام لگایا کہ واقعے کے تقریباً 20 دن بعد بھی وزیر داخلہ امت شاہ پارلیمنٹ میں اس معاملے پر جواب دینے نہیں آئے ہیں اور بحث کے لیے اپوزیشن کی جانب سے پیش کی گئی ہر تجویز کو مسترد کر دیا گیا ہے۔
مسٹر گاندھی نے کہا کہ وزیر داخلہ کی خاموشی محض کوتاہی نہیں ہے، بلکہ یہ تشدد کو منظوری دینے کے مترادف ہے۔ انہوں نے پورے معاملے کی سپریم کورٹ کی نگرانی میں تحقیقات کرانے کا مطالبہ کیا اور کہا کہ اپوزیشن طلبہ کو انصاف دلانے اور ذمہ دار لوگوں کی جواب دہی طے ہونے تک اپنی جدوجہد جاری رکھے گی۔
یو این آئی ایم جے
-
ہندوستان5 hours agoطلبہ پر کارروائی کے معاملے پر حکومت کو گھیرتے ہوئے راہل کا مضمون، کھڑگے اور پرینکا نے حمایت کی
-
دنیا4 hours agoسعودی عرب میں فیکٹری میں آگ کے سبب 16 بنگلہ دیشی مزدور ہلاک
-
دنیا7 hours agoٹرمپ جوہری معاہدے کے بغیر ایران کے ساتھ تنازع ختم کرنے پر تیار: رپورٹ
-
دنیا12 minutes agoایران کا فی الحال امریکہ کے ساتھ کوئی مذاکرات نہیں: ایرانی وزیر خارجہ
