ہندوستان
پانچ ممالک کے میرے دورے سے جنوب کے ممالک کے ساتھ تعاون کے تعلقات مضبوط ہوں گے: مودی
نئی دہلی، وزیر اعظم نریندر مودی نے افریقہ، کیریبیائی اور جنوبی امریکہ کے پانچ ممالک کے دورے پر روانہ ہونے سے پہلے بدھ کو کہا کہ ان کے دورے سے جنوبی نصف کرہ کے ترقی پذیر ممالک کے ساتھ ہندوستان کے تعلقات مزید مضبوط ہوں گے وزیراعظم نے کہا کہ 2 سے 9 جولائی 2025 تک گھانا، ٹرینیڈاڈ اور ٹوباگو، ارجنٹینا، برازیل اور نمیبیا کے پانچ ممالک کے دورے پر جا رہا ہوں۔
صدر جان ڈرامانی مہاما کی دعوت پر میں 2-3 جولائی کو گھانا کا دورہ کروں گا۔ گھانا گلوبل ساؤتھ میں ایک قابل قدر شراکت دار ہے اور افریقی یونین اور مغربی افریقی ریاستوں کی اقتصادی برادری میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔ میں ان سےاپنی ملاقاتوں کا منتظر ہوں جس کا مقصد ہمارے تاریخی تعلقات کو مزید گہرا کرنا اور تعاون کے نئے دروازے کھولنا ہے، جس میں سرمایہ کاری، توانائی، صحت، سلامتی، صلاحیت سازی اور ترقیاتی شراکت داری کے شعبے شامل ہیں۔ ساتھی جمہوریتوں کے طور پر، گھانا کی پارلیمنٹ میں خطاب کرنا اعزاز کی بات ہوگی۔
وزیراعظم نے مزید کہا کہ میں 3 -4 جولائی کو، ریپبلک آف ٹرینیڈاڈ اینڈ ٹوباگو میں قیام کروں گا، ایک ایسا ملک جس کے ساتھ ہمارے گہرے تاریخی، ثقافتی اور لوگوں کے درمیان تعلقات ہیں۔ میں صدرعزت مآب محترمہ کرسٹین کارلا کنگالو، جو اس سال کے پرواسی بھارتیہ دیوس میں مہمان خصوصی تھیں اور وزیر اعظم محترمہ کملا پرسادبیسسر، جنہوں نے حال ہی میں دوسری میعاد کے لیے عہدہ سنبھالا ہے، سے ملاقات کروں گا۔
ہندوستانی پہلی بار ٹرینیڈاڈ اور ٹوباگو میں 180 برس پہلے پہنچے تھے۔ یہ دورہ نسب اور رشتہ داری کے خصوصی بندھنوں کو پھر سے زندہ کرنے کا موقع فراہم کرے گا جو ہمیں متحد کرتے ہیں۔
مسٹر مودی نے کہا کہ اس کے علاوہ پورٹ آف ا سپین سے، میں بیونس آئرس کا سفر کروں گا۔ 57 برسوں میں کسی بھارتی وزیر اعظم کا ارجنٹینا کا یہ پہلا دو طرفہ دورہ ہوگا۔
ارجنٹینا لاطینی امریکہ میں ایک اہم اقتصادی شراکت دار اور جی 20 کا قریبی معاون ہے۔
میں صدر عزت مآب جیویر میلیئی کے ساتھ اپنی بات چیت کا منتظر ہوں، جن سے مجھےگذشتہ برس بھی ملنے کا شرف حاصل ہوا تھا۔ ہم زراعت، اہم معدنیات، توانائی، تجارت، سیاحت، ٹیکنالوجی اور سرمایہ کاری کے شعبوں سمیت اپنے باہمی فائدہ مند تعاون کو آگے بڑھانے پر توجہ مرکوز کریں گے۔
انہوں نے کہا کہ میں 6-7 جولائی کو ریو ڈی جنیرو میں برکس سربراہی اجلاس میں شرکت کروں گا۔ ایک بانی رکن کے طور پر، بھارت ابھرتی ہوئی معیشتوں کے درمیان تعاون کے لیے ایک اہم پلیٹ فارم کے طور پر برکس کے لیے پابند عہد ہے۔ ہم مل کر ایک زیادہ پرامن، منصفانہ، مساوی، جمہوری اور متوازن کثیر قطبی عالمی نظام کے لیے کوشاں ہیں۔
سربراہی اجلاس کے موقع پر میں کئی عالمی رہنماؤں سے بھی ملاقات کروں گا۔ میں دو طرفہ رسمی دورے کے لیے برازیلیا کا سفر کروں گا، جوتقریباً چھ دہائیوں میں کسی ہندوستانی وزیر اعظم کا پہلا دورہ ہے۔ یہ دورہ برازیل کے ساتھ ہماری قریبی شراکت داری کو مضبوط کرنے اور گلوبل ساؤتھ کی ترجیحات کو آگے بڑھانے کے لئے میرے دوست صدر عزت مآب لوئیز اناسیو لولا دا سلوا، کے ساتھ کام کرنے کا موقع فراہم کرے گا۔
انہوں نے آگے کہا کہ میری آخری منزل نمیبیا ہوگی،جس کے ساتھ ہم نوآبادیاتی نظام کے خلاف جدوجہد کی ایک مشترکہ تاریخ ساجھا کرتے ہیں۔ میں صدر عزت مآب ڈاکٹر نیتمبو نندی-ندیتواہ کے ساتھ ملاقات کا منتظر ہوں اور اس دوران ہم ہمارے لوگوں، ہمارے خطوں اور وسیع تر گلوبل ساؤتھ کے فائدے کے لیے تعاون کے لیے ایک نیا روڈ میپ تیار کریں گے۔ نمیبیا کی پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس سے بھی خطاب کرنا ایک اعزاز کی بات ہوگی کیونکہ ہم آزادی اور ترقی کے لیے اپنی پائیدار یکجہتی اور مشترکہ عزم کا جشن مناتے ہیں۔
مسٹر مودی نے کہا کہ مجھے یقین ہے کہ میرے پانچ ممالک کے دورے پورے گلوبل ساؤتھ میں ہماری گہری دوستی کو تقویت دیں گے، بحر اوقیانوس کے دونوں طرف ہماری شراکت داری کو مضبوط کریں گے اور کثیرجہتی پلیٹ فارم جیسے برکس، افریقی یونین، ایکواس اور کیریکوم میں مصروفیات کو مزید گہرا کریں گے۔
یو این آئی۔ این یو۔
ہندوستان
سودیشی جاگرن منچ کی حکومت سے امریکی ٹیرف کی دھمکیوں کے خلاف ڈٹے رہنے، لوگوں سے امریکی کمپنیوں کا بائیکاٹ کرنے کی اپیل
نئی دہلی، سودیشی جاگرن منچ (ایس جے ایم) نے امریکہ کی سینیٹ کی طرف سے حال ہی میں منظور کیے گئے اس قانون پر گہرے افسوس کا اظہار کیا ہے، جو امریکی صدر کو ان ملکوں پر 100 فیصد تک ٹیرف لگانے کا اختیار دیتا ہے جو روس سے بڑی مقدار میں تیل خریدتے ہیں تنظیم نے بدھ کے روز ایک بیان میں کہا کہ اس کا پختہ یقین ہے کہ کسی بھی ملک کو ہندوستان کی توانائی سکیورٹی اور خود مختار تجارتی پالیسی طے کرنے کا حق نہیں ہے۔ ایس جے ایم کے قومی شریک کنوینر اشونی مہاجن نے کہا، “اگرچہ ہم مانتے ہیں کہ اس قانون کو ابھی پورے قانون سازی کے عمل سے گزرنا باقی ہے اور ڈیوٹی خود بخود نافذ نہیں ہوگی، پھر بھی یہ واضح طور پر آزاد اور منصفانہ بین الاقوامی تجارت کے اصولوں اور ملکوں کے اپنی توانائی پالیسیاں طے کرنے کے خود مختار حق کے لیے ایک سنگین خطرہ پیدا کرتا ہے۔”
ایس جے ایم کا کہنا ہے کہ وہ اس معاملے پر حکومت ہند کے موقف کی مکمل حمایت کرتا ہے کہ روس سے خام تیل کی ہندوستان کی خریداری توانائی سکیورٹی، دستیابی، قیمت، سپلائی میں تنوع اور ہندوستانی صارفین کے مفادات پر مبنی ہے۔
ہندوستان نے بار بار یہ واضح کیا ہے کہ جائز بین الاقوامی منڈیوں سے توانائی خریدنے کے ہمارے خود مختار حق کو کوئی تیسرا ملک طے نہیں کر سکتا۔ تنظیم نے کہا ہے کہ یہ پہلی بار نہیں ہے جب امریکہ میں آنے والے سامان پر غیر منصفانہ ڈیوٹی لگانے کی دھمکی دی گئی ہے۔ ایسی دھمکیاں امریکی صدر کے طور پر ڈونلڈ ٹرمپ کی دوسری مدت کار کے آغاز سے ہی ملتی رہی ہیں؛ درحقیقت، امریکہ میں آنے والے ہندوستانی سامان پر کبھی کبھی بھاری ڈیوٹی لگائی گئی ہے، جس سے ہماری برآمدات پر کافی اثر پڑا ہے۔ ان ٹیرف کو الگ الگ ناموں سے جانا گیا ہے— جیسے ریسیپروکل ٹیرف اور قومی سکیورٹی ڈیوٹی سے لے کر سیکشن 301 ڈیوٹی، سیکشن 232 ڈیوٹی، تادیبی ڈیوٹی (روسی تیل خریدنے کے لیے)، تجارتی خسارہ ڈیوٹی اور جبری مشقت ڈیوٹی— اور یہ فہرست کبھی ختم نہیں ہوتی۔
یو این آئی ۔ ایف اے
ہندوستان
امت شاہ کی تقریر نہیں، ہمیں جواب چاہیے: راہل
نئی دہلی، لوک سبھا میں اپوزیشن لیڈر راہل گاندھی نے طلباء کے خلاف پولیس کارروائی پر وزیر داخلہ امت شاہ سے پارلیمنٹ میں جواب دینے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ اب تقریر نہیں، سوالات کے جواب چاہیئں مسٹر گاندھی نے بدھ کے روز پارلیمنٹ ہاؤس کے احاطے میں صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا، “مسٹر شاہ نے بچوں پر گولی چلانے کا حکم دیا تھا یا نہیں۔ دونوں ہی صورتوں میں انہیں استعفیٰ دینا چاہیے۔ ہمیں اب امت شاہ کی تقریر نہیں چاہیے۔ ہمیں جواب چاہیے۔ ہمارے طلباء پر گولی کس نے چلائی؟ گولی چلانے کا حکم کس نے دیا؟ کس نے ایک طالب علم کی آنکھ کی بینائی چھینی؟ کیلوں والی لاٹھیوں کے استعمال کا حکم کس نے دیا؟”
انہوں نے دعویٰ کیا کہ یہ حکم وزارتِ داخلہ سے آیا تھا۔ انہوں نے سوال کیا کہ کیا مسٹر شاہ نے بچوں پر گولی چلانے کا حکم دیا تھا یا نہیں۔ مسٹر گاندھی نے کہا کہ دونوں ہی صورتوں میں مسٹر شاہ کو استعفیٰ دینا چاہیے۔
اپوزیشن لیڈر نے کہا، “سچ یہ ہے کہ امت شاہ کی امیج کا غبارہ پھٹ چکا ہے۔ ان کے اندر پارلیمنٹ آنے کی ہمت ہی نہیں ہے۔”
مسٹر گاندھی نے میڈیا سے بھی سوال کیا کہ جب مسٹر شاہ بولتے ہیں تو کیا میڈیا انہیں بیچ میں روکتا ہے؟ انہوں نے پوچھا، “امت شاہ میں ایسی کیا خاص بات ہے کہ پورا میڈیا خاموشی سے کھڑا رہتا ہے؟” انہوں نے کہا کہ جب ملک کے طلباء وزیر اعظم نریندر مودی اور مسٹر شاہ سے نہیں ڈر رہے ہیں تو میڈیا کو بھی ان سے ڈرنا نہیں چاہیے۔
لوک سبھا میں اپوزیشن لیڈر نے کہا، “مسٹر شاہ میں پارلیمنٹ آنے کی ہمت ہی نہیں ہے۔ وہ 20 دنوں سے غائب ہیں۔ اپنے چیمبر میں بیٹھے رہتے ہیں لیکن ایوان میں نہیں آتے۔ ان کے قافلے میں تقریباً 30 گاڑیاں چلتی ہیں، گھر کے آگے ہزاروں پولیس والے کھڑے رہتے ہیں کہ کوئی بچہ نہ آ جائے۔ ان کی شبیہ والے غبارے کی ہوا نکل چکی ہے۔ اب زبردستی اس میں ہوا بھرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔”
یو این آئی ایف اے
ہندوستان
اروناچل ہندستان کا اٹوٹ حصہ، سرحد کی صورتحال ہی چین کے ساتھ دوطرفہ تعلقات کی بنیاد:ہندستان
نئی دہلی ہندستان نے اروناچل پردیش کو اپنا ناقابلِ تقسیم اور اٹوٹ حصہ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ چین کے ساتھ اس کے دوطرفہ تعلقات سرحد کی صورتحال پر مبنی ہوں گے اور سرحدی صورتحال کا ان تعلقات پر براہِ راست اثر ہوگا۔
وزارتِ خارجہ کے ترجمان رندھیر جیسوال نے منگل کے روز یہاں میڈیا بریفنگ میں سوالات کے جواب دیتے ہوئے یہ بات کہی۔ دراصل چین کی جانب سے اروناچل پردیش اور اس کے کچھ مقامات کے نام تبدیل کرنے کے ردعمل میں ہندستان نے حال ہی میں اروناچل پردیش کی 27 اہم جگہوں کو سروے آف انڈیا کے نقشے میں سرکاری طور پر نشان زد کر دیا ہے۔ اس پر چین کی طرف سے منفی ردعمل سامنے آیا ہے۔ چین کے اس ردعمل کے بارے میں پوچھے جانے پر مسٹر جیسوال نے کہا کہ اروناچل پردیش ہندستان کا ناقابلِ تقسیم اور اٹوٹ حصہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ ایک مسلمہ حقیقت ہے اور کوئی بھی اس ناقابلِ تردید سچائی کو بدل نہیں سکتا۔
دونوں ممالک کے درمیان سرحد پر صورتحال کے بارے میں پوچھے گئے سوال کے جواب میں ترجمان نے کہا کہ ہندستان سرحد سے جڑے معاملات کو انتہائی سنجیدہ مانتا ہے اور سرحد پر امن و استحکام اس کی ترجیح ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ سرحد کی صورتحال کا ہندستان اور چین کے تعلقات پر براہِ راست اثر پڑے گا۔ ترجمان نے کہا، “ہندستان اور چین کے درمیان سرحدی علاقوں سے جڑے معاملات میں، ہم نے ہمیشہ چین کے ساتھ بات چیت میں اس بات پر زور دیا ہے کہ ہم ان مسائل کو بے حد سنجیدہ مانتے ہیں اور ان علاقوں میں امن و استحکام برقرار رکھنا سب سے زیادہ اہم ہے۔ ہم نے یہ بھی واضح کیا ہے کہ سرحدی معاملات کی صورتحال ہمارے وسیع دوطرفہ تعلقات کی صورتحال کی عکاسی کرے گی۔ اس بات کو 06 اگست کو حال ہی میں منعقدہ ‘ہند-چین سرحدی معاملات پر مشاورت اور ہم آہنگی کے ورکنگ میکانزم’ کی 36ویں میٹنگ میں بھی دہرایا گیا۔ اس میٹنگ میں دونوں فریقوں نے کھلی اور واضح بات چیت کی اورحقیقی کنٹرول لائن (ایل اے سی) پر صورتحال کا جائزہ لیا۔”
مسٹر جیسوال نے کہا کہ میٹنگ میں ہندستان نے اس بات پر زور دیا کہ دوطرفہ تعلقات کی ہمہ گیر ترقی کے لیے سرحدی علاقوں میں امن و استحکام برقرار رکھنا انتہائی ضروری ہے۔ اس بات پر اتفاق ہوا کہ لائن آف ایکچوئل کنٹرول پر غلط فہمی اور غلط اندازوں سے بچنے نیز باقی بچے ہوئے مسائل کو حل کرنے کے لیے ورکنگ میکانزم کی میٹنگوں، مقامی کمانڈر سطح کی میٹنگوں اور دیگر میکانزم سمیت موجودہ سفارتی اور فوجی ذرائع کا استعمال جاری رکھا جائے گا۔
یو این آئی ایف اے
-
دنیا2 days agoایران کا فی الحال امریکہ کے ساتھ کوئی مذاکرات نہیں: ایرانی وزیر خارجہ
-
جموں و کشمیر22 hours agoیومِ آزادی سے قبل جموں و کشمیر پولیس نے سرحدی سامبا میں طویل فاصلے کی گشت اور فرضی انسدادِ دہشت گردی مشق کی
-
ہندوستان2 days agoطلبہ پر کارروائی کے معاملے پر حکومت کو گھیرتے ہوئے راہل کا مضمون، کھڑگے اور پرینکا نے حمایت کی
-
دنیا2 days agoسعودی عرب میں فیکٹری میں آگ کے سبب 16 بنگلہ دیشی مزدور ہلاک
-
دنیا22 hours agoایران نے خود کو ایک ‘ناقابل تسخیر طاقت’ ثابت کیا ہے: عراقچی
-
دنیا22 hours agoشام کے سابق صدر بشار الاسد کو سزائے موت سنادی گئی
-
دنیا2 days agoٹرمپ جوہری معاہدے کے بغیر ایران کے ساتھ تنازع ختم کرنے پر تیار: رپورٹ
-
دنیا1 day agoیمن میں حوثیوں کے المخا اور مارب پر بیلسٹک میزائل حملے
-
دنیا19 hours agoموساد کے سابق سربراہ کا انکشاف، ماضی میں ایران کی فردو جوہری تنصیب کا کئی بار دورہ کیا
-
دنیا1 day agoٹرمپ کا ایران سے معاوضے کا مطالبہ، آبنائے ہرمز پر مذاکرات جاری
-
دنیا1 day agoایران اور عمان کے درمیان آبنائے ہرمز پر مذاکرات جاری
-
ہندوستان24 hours agoپارلیمنٹ کے احاطے میں اپوزیشن ارکانِ پارلیمنٹ کا احتجاج
