پاکستان
پاکستان کی تمام خفیہ ایجنسیوں پر مشتمل نئی کمیٹی کیوں بنائی گئی؟
اسلام آباد —
پاکستان کی حکومت نے خفیہ ایجنسیوں کے درمیان ہم آہنگی اور سرگرمیوں کو مربوط بنانے کے لیے نیشنل انٹیلی جنس کوآرڈنیشن کمیٹی (این آئی سی سی) کے قیام کا فیصلہ کیا ہے۔
وزیر اعظم عمران خان کی منظوری سے قائم اس مشترکہ کمیٹی کے سربراہ انٹر سروسز انٹیلی جنس (آئی ایس آئی) کے ڈائریکٹر جنرل (ڈی جی) ہوں گے۔
حکام کے مطابق کمیٹی کا مقصد ملک کے خفیہ اداروں کی استعداد کار کو بڑھانا اور ان کے باہمی تعاون کو مزید مربوط کرنا ہے۔
سیکیورٹی ذرائع کے مطابق اس مقصد کے لیے تمام خفیہ ایجنسیوں کے درمیان ابتدائی اجلاس ہو چکے ہیں جس میں اتفاق رائے کے بعد یہ تجویز وزیر اعظم کے سامنے رکھی گئی۔
وزیر اعظم نے مشترکہ کمیٹی کے قیام کی منظوری دے دی ہے جس کے بعد اس کمیٹی کا پہلا اجلاس آئندہ ہفتے بلایا جا رہا ہے۔
پاکستان میں لگ بھگ دو درجن خفیہ ایجنسیاں کام کرتی ہیں جن کے درمیان ہم آہنگی اور شراکت داری نہ ہونے پر اکثر سوالات اٹھائے جاتے رہے ہیں۔

این آئی سی سی’ ملک میں انٹیلی جنس اداروں کو مربوط کرنے کے طریقۂ کار پر کام کرے گی جب کہ نیشنل کاؤنٹر ٹیررزم اتھارٹی (نیکٹا) بھی اس نئے ڈھانچے کا حصہ ہو گی۔
دفاعی اُمور کے ماہر جنرل ریٹائرڈ خالد لودھی کہتے ہیں کہ پاکستان کو درپیش موجودہ دور کے خطرات کے تدارک کے لیے یہ ایک لازمی اقدام تھا جس سے ملک کے داخلی اور سرحدی دفاع میں مدد ملے گی۔
وائس آف امریکہ سے گفتگو میں انہوں نے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ لڑتے ہوئے بہت سے مواقع پر خفیہ اداروں کے درمیان ہم آہنگی اور تعاون کی ضرورت کو محسوس کیا گیا تاہم اس کے طریقۂ کار پر اتفاق نہ ہو سکنے کے باعث قیام میں تاخیر ہوئی۔
خالد لودھی کہتے ہیں کہ خفیہ اداروں کی اپنی اپنی ترجیحات، ذمہ داریاں اور صلاحیتیں ہوتی ہیں۔ تاہم موجودہ دور میں جس قسم کے خطرات اور ‘ہائبرڈ وار’ کا سامنا ہے اس کا مقابلہ مشترکہ سوچ اور حکمت عملی کے بغیر ممکن نہیں ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق ایبٹ آباد کمشن نے اپنی رپورٹ میں سول اور عسکری خفیہ اداروں کے درمیان تعاون کے طریقہ کار کی عدم موجودگی کا انکشاف کرتے ہوئے امریکی محکمۂ داخلی سیکیورٹی کی طرز پر ایک ادارے کے قیام کی تجویز دی تھی۔
ایبٹ آباد کمیشن کی رپورٹ باقاعدہ طور پر عام نہیں کی گئی جو 2011 میں امریکی کارروائی میں اسامہ بن لادن کی ہلاکت کی تحقیقات کے لیے قائم کیا گیا تھا۔
بعض سیاسی حلقوں کی جانب سے تاحال یہ رپورٹ عام نہ کرنے پر تنقید بھی ہوتی رہی ہے۔
پیپلز پارٹی کے سیکرٹری جنرل فرحت اللہ بابر کہتے ہیں کہ آئی ایس آئی چیف کے ماتحت تمام خفیہ اداروں کی کمیٹی کا قیام خطرناک اور غلط اقدام ہے۔
اپنے ایک ٹوئٹ میں انہوں نے کہا کہ خفیہ اداروں کو قانون کے تابع بنانے کی ضرورت ہے نہ کہ ان کے غیر قانونی اقدامات کو سراہا جائے۔
فرحت اللہ بابر کہتے ہیں کہ پارلیمنٹ کو اس عمل پر مداخلت کرنی ہو گی۔
Coordination Committee for spy agencies under ISI chief is dangerously flawed. A fundamental weakness of agencies, in words of Benazir Bhutto is, “it has run amock”. Bring them under ambit of law, not encourage their lawlessness. Parliament must intervene https://t.co/UZ9Cr1scnJ
— Farhatullah Babar (@FarhatullahB) November 24, 2020
یاد رہے کے پیپلز پارٹی کے دور حکومت میں آئی ایس آئی اور آئی بی کو وزارتِ داخلہ کے ماتحت کیا گیا تھا تاہم ان میں سے ایک ادارے کے ردِ عمل کے بعد اس اعلامیے کو واپس لے لیا گیا تھا۔
جنرل ریٹائرڈ خالد لودھی کہتے ہیں کہ ماضی میں خفیہ اداروں کی مشترکہ کمیٹی کے قیام پر اتفاق کے باوجود اس کے سربراہ کے انتخاب پر اختلاف تھا جو کہ یقیناً اب دور ہو گیا ہے۔
وہ کہتے ہیں کہ عملی طور پر جو ادارہ زیادہ مضبوط، مؤثر اور صلاحیت رکھتا ہے اسی کے سربراہ کو این آئی سی سی کا سربراہ ہونا چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ اگر یہ فیصلہ نہیں ہو پاتا کہ کون سی ایجنسی کا سربراہ این آئی سی سی کا چیئرمین ہو گا تو وزیر اعظم خود سے اس کی سربراہی کر سکتے ہیں۔
پاکستان
بلوچستان میں خوفناک حادثہ، مسافر بس کھائی میں گرنے سے 39 افراد جاں بحق
کوئٹہ،بلوچستان کے ضلع ژوب میں خوفناک حادثہ پیش آیا ہے جہاں بس گہری کھائی میں گرنے سے 39 مسافر جاں بحق ہو گئے ہیں۔
اے آر وائی نیوز کے نمائندے رفیق ژوب مطابق حادثہ شیرانی کے علاقے دانہ سر میں اس وقت پیش آیا، جب موڑ کاٹتے ہوئے تیز رفتاری کے باعث بس کے بریک فیل ہو گئے، جس کے نتیجے میں بس گہری کھائی میں جا گری۔
حادثے کی اطلاع ملتے ہی پولیس، ضلع انتظامیہ اور ریسکیو ادارے جائے حادثہ پہنچ گئے اور امدادی سرگرمیاں شروع کر دیں۔
حادثہ اتنا سنگین تھا کہ بس مکمل طور پر تباہ ہو گئی اور بس کے حصوں کو کاٹ کر لاشوں اور زخمیوں کو نکالنا پڑا۔ جاں بحق ہونے والوں میں خواتین اور بچے بھی شامل ہیں۔
ریسکیو حکام نے لاشوں اور زخمیوں کو قریبی اسپتال پہنچایا، جہاں کئی زخمیوں کی حالت تشویشناک بتائی جاتی ہے۔
ڈی سی ژوب حضرت ولی کاکڑ کے مطابق حادثے میں 16 افراد موقع پر ہی جاں بحق ہو گئے تھے جب کہ باقی افراد نے امدادی سرگرمیوں اور اسپتال پہنچنے کے بعد دم توڑا۔
یو این آئی۔ ع ا۔
پاکستان
پاکستان کے افغانستان میں دہشت گردوں کے ٹھکانوں پر حملے، 29 دہشت گرد ہلاک
اسلام آباد، پاکستان نے افغانستان کے مشرقی علاقوں میں دہشت گردوں کی پناہ گاہوں کو نشانہ بنا کر فضائی حملے اور زمینی کارروائیاں کی ہیں۔
حکام کے مطابق یہ کارروائیاں پاکستان کی سرحد کے اندر ہونے والے مہلک حملوں کے جواب میں کی گئی ہیں۔ کاروائیوں کے نتیجے میں 29 دہشت گرد ہلاک ہوگئے ہیں۔
پاکستان کے وزیرِ اطلاعات عطا اللہ تارڑ نے کہا ہے کہ “پکتیا، پکتیکا اور کنڑ میں تین اہداف کو انتہائی درست فضائی حملوں کے ذریعے تباہ کر دیا گیا ہے”۔ تارڑ کے مطابق یہ فضائی حملے ایک وسیع آپریشن کا حصہ تھے جس میں پاکستان۔افغانستان سرحد پر خفیہ معلومات کی بنیاد پر زمینی کارروائیاں بھی شامل تھیں۔
انہوں نے کہا ہےکہ اس آپریشن کا ہدف جماعت الاحرار تھا جسے عموماً تحریک طالبان پاکستان سے منسلک ایک دہشت گرد تنظیم قرار دیا جاتا ہے۔ عطا اللہ تارڑ نے کہا ہےکہ رات کے وقت کی جانے والی یہ کارروائی کراچی میں ہفتے کے روز ہونے والے اور تین نیم فوجی اہلکار وں کی ہلاکت کا سبب بننے والےحملے کے جواب میں کی گئی ہے۔ اس کے علاوہ پاکستان کے سرحدی صوبوں میں حالیہ پُرتشدد واقعات بھی اس کارروائی کا سبب بنے ہیں۔
ایسوسی ایٹڈ پریس نے حکام کے حوالے سے شائع کردہ خبر میں کہا ہے کہ پاکستان کی سکیورٹی فورسز نے اتوار کے روز پاکستان۔افغانستان سرحد پر خفیہ معلومات کی بنیاد پر زمینی آپریشن کیا جس کے بعد دہشت گردوں کی پناہ گاہوں پر “انتہائی درست حملے” کیے گئے، جن میں 29 دہشت گرد مارے گئے ہیں۔ پاکستان نے رواں مہینے کے آغاز میں کئے گئے حملے سمیت حالیہ مہینوں میں افغانستان کے اندر متعدد فضائی حملے کیے ہیں۔ دونوں ہمسایہ ممالک کے درمیان سرحد اکتوبر میں تشدد میں اضافے کے بعد سے بڑی حد تک بند ہےاور دونوں ممالک کے درمیان تجارتی سرگرمیاں بھی معطل ہیں۔
یو این آئی۔ ع ا۔
پاکستان
جمعہ کو امریکہ اور ایران میں ’’اسلام آباد معاہدے‘‘ کی میزبانی پاکستان کرے گا
اسلام آباد،جمعہ کو امریکہ اور ایران میں ’’اسلام آباد معاہدے‘‘ کی میزبانی پاکستان کرے گا پاکستان کی سفارتی کوششیں رنگ لے آئیں اور تیسری عالمی جنگ کے بادل چھٹ گئے، پاکستان جمعہ 19 جون 2026، کو سوئٹزرلینڈ کے شہر جنیوا میں امریکہ اور ایران کے درمیان ایک تاریخی امن معاہدے کی دستخطی تقریب کی میزبانی کرے گا وزیر اعظم شہباز شریف اعلیٰ سطح وفد کے ہمراہ تقریب میں شرکت کریں گے، وزیر اعظم نے قومی اسمبلی سے خطاب میں کہا جنگ کی تاریک رات کے بعد امن کا سورج طلوع ہو گیا، عظیم کامیابی پر مؤرخ پاکستان کا نام سنہرے حروف سے لکھے گا۔
شہباز شریف نے پیر کے روز کہا ہم بالآخر آنے والے جمعہ کو جنیوا میں امن معاہدے پر دستخط ہوتے دیکھنے جا رہے ہیں۔
انھوں نے پیر کی صبح اعلان کیا تھا کہ امریکہ اور ایران کے درمیان طویل اور گہری مذاکراتی کوششوں کے بعد ایک معاہدہ طے پا گیا ہے، جس کے تحت دونوں ممالک نے لبنان سمیت تمام محاذوں پر فوجی کارروائیوں کے فوری اور مستقل خاتمے کا اعلان کیا ہے۔
پاکستان 8 اپریل کو جنگ بندی کرانے میں کامیابی کے بعد سے دونوں فریقوں کے درمیان ثالثی کا کردار ادا کر رہا ہے۔ اور اب فریقین کے درمیان ایک مفاہمتی یادداشت الیکٹرانک طور پر دستخط بھی ہو گئے ہیں، اور امریکہ نے آبنائے ہرمز میں ناکہ بندی بھی ختم کر دی ہے جس کے سبب ایرانی تیل بردار بحری جہاز گزرنا شروع ہو گئے ہیں۔
یو این آئی۔ ع ا۔
-
دنیا2 days agoایران کا فی الحال امریکہ کے ساتھ کوئی مذاکرات نہیں: ایرانی وزیر خارجہ
-
ہندوستان2 days agoطلبہ پر کارروائی کے معاملے پر حکومت کو گھیرتے ہوئے راہل کا مضمون، کھڑگے اور پرینکا نے حمایت کی
-
دنیا2 days agoسعودی عرب میں فیکٹری میں آگ کے سبب 16 بنگلہ دیشی مزدور ہلاک
-
جموں و کشمیر21 hours agoیومِ آزادی سے قبل جموں و کشمیر پولیس نے سرحدی سامبا میں طویل فاصلے کی گشت اور فرضی انسدادِ دہشت گردی مشق کی
-
دنیا2 days agoٹرمپ جوہری معاہدے کے بغیر ایران کے ساتھ تنازع ختم کرنے پر تیار: رپورٹ
-
دنیا21 hours agoایران نے خود کو ایک ‘ناقابل تسخیر طاقت’ ثابت کیا ہے: عراقچی
-
دنیا21 hours agoشام کے سابق صدر بشار الاسد کو سزائے موت سنادی گئی
-
دنیا1 day agoیمن میں حوثیوں کے المخا اور مارب پر بیلسٹک میزائل حملے
-
دنیا19 hours agoموساد کے سابق سربراہ کا انکشاف، ماضی میں ایران کی فردو جوہری تنصیب کا کئی بار دورہ کیا
-
دنیا1 day agoٹرمپ کا ایران سے معاوضے کا مطالبہ، آبنائے ہرمز پر مذاکرات جاری
-
دنیا1 day agoایران اور عمان کے درمیان آبنائے ہرمز پر مذاکرات جاری
-
ہندوستان23 hours agoپارلیمنٹ کے احاطے میں اپوزیشن ارکانِ پارلیمنٹ کا احتجاج
