تازہ ترین
پولیس گیلنٹری میڈل سے شیر کشمیر کی شبیہ کو ہذف کرنا حکمرانوں کی تنگ نظری اور فرقہ پرست ذہنیت کی عکاسی/نیشنل کانفرنس
سری نگر،(یو این آئی): جموں وکشمیر نیشنل کانفرنس نے حکومت کی طرف سے پولیس گیلنٹری میڈل سے شیر کشمیر شیخ محمد عبداللہ کی شبیہ ہذف کرنے کیاحکامات پر شدید برہمی کااظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان اقدامات سے شیر کشمیر کی شخصیت، شیر کشمیر کی لیڈرشپ اور شیر کشمیر کی مقبولیت پر آنچ نہیں آئے گی الٹا اْن عناصر کی رسوائی ہورہی ہے جو ایک ایسے شخص کے نام سے لرزہ کھا رہے ہیں جو 40 سال قبل فوت ہوچکے ہیں۔
پارٹی کے ریاستی ترجمان عمران نبی ڈار نے اپنے ایک بیان میں حکومت کے ان اقدامات کی شدید الفاظ میں مذمت کی جن کے ذریعے نیشنل کانفرنس اور اس کی قیادت کو انتقام گیری کا نشانہ بنایا جارہا ہے۔انہوں نے کہا کہ شیر کشمیر کی پوری زندگی کشمیر، کشمیریت اور کشمیریوں کے مفادات کیلئے وقف تھی اور جو انہوں نے ریاستی عوام کیلئے حاصل کیا اْس کے نقوش یہاں کے لوگوں کے دلوں پر ہمیشہ قائم و دائم رہیں گے۔
ان کے مطابق پولیس بہادری ایوارڈ سے شیر کشمیر کے عکس کو ہذف کرنے سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ موجودہ حکمران کے اندر شیر کشمیر اور نیشنل کانفرنس کیخلاف کس قدر زہر برا ہوا ہے۔ترجمان نے کہا کہ شیر کشمیر بذات خود ایک ایسی شخصیت تھی، جس نے کشمیر کے وجود کو ہمیشہ قائم و دائم اور زندہ رکھا اور آر ایس ایس، بھاجپااور دیگر بھگوا جماعتوں کو اْن کی شخصیت ہر دور میں کھٹکتی رہی ہے۔
نئی دلی جموں وکشمیر کی تاریخ کو مسخ کرنا چاہتی اور شیر کشمیر کے نام سے منسوب ادارے، اعزازات اور تعطیل کو ہذف کرنا اسی کی ایک کڑی ہے۔ انہوں نے کہا کہ شیر کشمیر کے نام سے جو ادارے، اعزازات اور مقامات منسوب ہیں، وہ دوتہائی اکثریت سے عوامی نمائندوں نے منظور کئے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ نئی دلی کے سنگھانس پر براجمان حکمران جماعت نے اپنی آنکھوں پر تعصب اور فرقہ پرستی کی کالی پٹی باندھ رکھی ہے اور بھاجپا حکومت جمہوری اقداروں اور آئینی اصولوں کو تہس نہس کررہی ہے۔ترجمان نے کہاکہ بھاجپا حکومت جموں وکشمیر کی شناخت کو ختم کرنا چاہتی ہے اور اس کیلئے پہلے دفعہ 370 کو غیر آئینی اور غیر جمہوری طور ختم کیاگیا اور پھر شیر کشمیر سے منسوب اداروں،تعمیرات، تعطیلات اور اعزاز ات کا نام تبدیل کیا گیا اور آج پولیس میڈل سے مرحوم کے عکس کو ہدف کرنے کے احکامات صادر کئے گئے۔
یہ سب اس لئے کیا جارہاہے کیونکہ جموں وکشمیر کی تاریخ اور سیاست شیر کشمیر کے نام کیساتھ منسلک ہے۔ اگر شیر کشمیر نے اس سرزمین پر جنم نہیں لیا ہوتا اور اس قوم کی رہنمائی نہیں کی ہوتی تو شائد آج بھی یہ قوم چکداری، جاگیردار اور شخصی راج کی چکی تلے پس رہی ہوتی۔شیر کشمیر کسی ایک طبقے یا مذہب کے رہنما نہیں تھے بلکہ انہوں نے ہر طبقے اور مذہب کے لوگوں کی رہنمائی کی۔انہوں نے کہاکہ شیر کشمیر شیخ محمد عبداللہ کی سیاست علاقائی، لسانی اور مذہبی نظریہ سے بالاتر تھی۔
شیر کشمیر شیخ محمد عبداللہ ایک قد آور اور بین الاقوامی شہرت یافتہ لیڈر تھے، جن کی لیڈرشپ کو ملکی اور بین الاقوامی لیڈران نے تسلیم کیا تھا۔ صدام حسین سے لیکر جنرل ناصر تک، گاندھی سے لیکر نہرو تک، مولانا آزاد سے لیکر خان عبدالغفار خان تک اور فیض احمد فیض سے لیکر علامہ اقبال? تک سبھی نے شیر کشمیر کی لیڈرشپ اور اْن کے قد و قامت کو تسلیم اور خراج تحسین پیش کیا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ بھارت کے سابق صدر شری سنجوا ریڈی نے 1977میں شالیمار باغ میں اپنے خطاب میں کہا تھا کہ ”شیر کشمیر صرف کشمیر کے شیر نہیں بلکہ پورے بھارت کے شیر ہیں اس لئے انہیں شیر بھارت کے نام سے پکارا جانا چاہئے“ جبکہ بھاجپا کے آنجہانی رہنما شری اٹل بہاری واجپائی نے شیر کشمیر کو ایک مہان لیڈر، قدآور شخصیت اور عظیم رہنما قرار دیا تھا اور کہا کہ شیر کشمیر کے دل میں ہر ایک کیلئے محبت ہے اوروہی جموں وکشمیر کے عوام کے حقیقی محسن ہیں۔
این سی ترجمان نے کہا کہ شیر کشمیر شیخ محمد عبداللہ کی شخصیت کسی ادارے، اعزاز یا تعمیر سے منسوب نام کی محتاج نہیں۔ اْن کے تاریخ ساز انقلابی اقدامات کی بنا پر اْن کا نام ہمیشہ اور ہمیشہ قائم و دائم رہے گا اور شیر کشمیر کی ذات آنے والی نسلوں کیلئے بھی مشعل راہ ہوگی۔
ہندوستان
اروناچل ہندستان کا اٹوٹ حصہ، سرحد کی صورتحال ہی چین کے ساتھ دوطرفہ تعلقات کی بنیاد:ہندستان
نئی دہلی ہندستان نے اروناچل پردیش کو اپنا ناقابلِ تقسیم اور اٹوٹ حصہ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ چین کے ساتھ اس کے دوطرفہ تعلقات سرحد کی صورتحال پر مبنی ہوں گے اور سرحدی صورتحال کا ان تعلقات پر براہِ راست اثر ہوگا۔
وزارتِ خارجہ کے ترجمان رندھیر جیسوال نے منگل کے روز یہاں میڈیا بریفنگ میں سوالات کے جواب دیتے ہوئے یہ بات کہی۔ دراصل چین کی جانب سے اروناچل پردیش اور اس کے کچھ مقامات کے نام تبدیل کرنے کے ردعمل میں ہندستان نے حال ہی میں اروناچل پردیش کی 27 اہم جگہوں کو سروے آف انڈیا کے نقشے میں سرکاری طور پر نشان زد کر دیا ہے۔ اس پر چین کی طرف سے منفی ردعمل سامنے آیا ہے۔ چین کے اس ردعمل کے بارے میں پوچھے جانے پر مسٹر جیسوال نے کہا کہ اروناچل پردیش ہندستان کا ناقابلِ تقسیم اور اٹوٹ حصہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ ایک مسلمہ حقیقت ہے اور کوئی بھی اس ناقابلِ تردید سچائی کو بدل نہیں سکتا۔
دونوں ممالک کے درمیان سرحد پر صورتحال کے بارے میں پوچھے گئے سوال کے جواب میں ترجمان نے کہا کہ ہندستان سرحد سے جڑے معاملات کو انتہائی سنجیدہ مانتا ہے اور سرحد پر امن و استحکام اس کی ترجیح ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ سرحد کی صورتحال کا ہندستان اور چین کے تعلقات پر براہِ راست اثر پڑے گا۔ ترجمان نے کہا، “ہندستان اور چین کے درمیان سرحدی علاقوں سے جڑے معاملات میں، ہم نے ہمیشہ چین کے ساتھ بات چیت میں اس بات پر زور دیا ہے کہ ہم ان مسائل کو بے حد سنجیدہ مانتے ہیں اور ان علاقوں میں امن و استحکام برقرار رکھنا سب سے زیادہ اہم ہے۔ ہم نے یہ بھی واضح کیا ہے کہ سرحدی معاملات کی صورتحال ہمارے وسیع دوطرفہ تعلقات کی صورتحال کی عکاسی کرے گی۔ اس بات کو 06 اگست کو حال ہی میں منعقدہ ‘ہند-چین سرحدی معاملات پر مشاورت اور ہم آہنگی کے ورکنگ میکانزم’ کی 36ویں میٹنگ میں بھی دہرایا گیا۔ اس میٹنگ میں دونوں فریقوں نے کھلی اور واضح بات چیت کی اورحقیقی کنٹرول لائن (ایل اے سی) پر صورتحال کا جائزہ لیا۔”
مسٹر جیسوال نے کہا کہ میٹنگ میں ہندستان نے اس بات پر زور دیا کہ دوطرفہ تعلقات کی ہمہ گیر ترقی کے لیے سرحدی علاقوں میں امن و استحکام برقرار رکھنا انتہائی ضروری ہے۔ اس بات پر اتفاق ہوا کہ لائن آف ایکچوئل کنٹرول پر غلط فہمی اور غلط اندازوں سے بچنے نیز باقی بچے ہوئے مسائل کو حل کرنے کے لیے ورکنگ میکانزم کی میٹنگوں، مقامی کمانڈر سطح کی میٹنگوں اور دیگر میکانزم سمیت موجودہ سفارتی اور فوجی ذرائع کا استعمال جاری رکھا جائے گا۔
یو این آئی ایف اے
دنیا
موساد کے سابق سربراہ کا انکشاف، ماضی میں ایران کی فردو جوہری تنصیب کا کئی بار دورہ کیا
یروشلم، اسرائیلی خفیہ ایجنسی موساد کے سابق سربراہ یوسی کوہن نے کہا ہے کہ انہوں نے ماضی میں ایران کی فردو یورینیم افزودگی تنصیب کا کئی مرتبہ دورہ کیا تھا، تاہم انہوں نے یہ نہیں بتایا کہ یہ دورے کب کیے گئے اور ان کے ہمراہ کون تھا۔
عبرانی زبان کے میڈیا کے مطابق صفد میں منعقدہ گیلیلی فورم سے خطاب کرتے ہوئے کوہن نے کہا، ’’ہم نے فردو جوہری تنصیب کا کئی بار دورہ کیا تاکہ اس مقام کو سمجھ سکیں۔‘‘
انہوں نے مزید کہا، ’’امریکیوں کی جانب سے اس پر بمباری میرے تمام خوابوں کی تکمیل تھی۔‘‘
فردو کے علاوہ ایران کی اصفہان اور نطنز میں موجود جوہری تنصیبات کو بھی جون 2025 میں ہونے والی 12 روزہ اسرائیل۔ایران جنگ کے دوران امریکی حملوں سے شدید نقصان پہنچا تھا۔
بعد ازاں ایسی رپورٹس سامنے آئی تھیں کہ ان تنصیبات پر موجود تقریباً 440 کلوگرام انتہائی افزودہ یورینیم زمین میں دفن کر دی گئی تھی۔ تاہم اسرائیل نے بعد میں اندازہ لگایا کہ تہران نے اس مواد میں سے کچھ کو ممکنہ طور پر پکیکس ماؤنٹین کے مقام پر منتقل کر دیا تھا۔
کوہن کے مطابق 60 فیصد تک افزودہ یورینیم اب بھی ’’بم بنانے سے بہت دور‘‘ ہے۔ تاہم یہ دعویٰ جوہری ماہرین کی بعض جائزہ رپورٹس سے مختلف ہے۔ جوہری ماہر ڈیوڈ البرائٹ کا کہنا ہے کہ 60 فیصد افزودہ یورینیم کو مزید افزودہ کرکے چند ہفتوں یا حتیٰ کہ چند دنوں میں ہتھیاروں کے درجے کے مواد میں تبدیل کیا جا سکتا ہے۔
کوہن اس سے قبل ایران کے جوہری پروگرام کو نشانہ بنانے والی موساد کی کارروائیوں کے بارے میں بھی کھل کر بات کر چکے ہیں۔ 2021 میں موساد کی سربراہی چھوڑنے کے فوراً بعد ایک غیر معمولی ٹیلی ویژن انٹرویو میں انہوں نے کئی کارروائیوں کی تفصیلات فراہم کی تھیں، جن میں 2018 میں تہران کے ایک گودام سے ایران کے جوہری محفوظ شدہ ریکارڈ چوری کرنے کی کارروائی بھی شامل تھی۔
انہوں نے یہ بھی اشارہ دیا تھا کہ نطنز میں ایران کی زیر زمین سینٹری فیوج تنصیب کے ایک حصے کی تباہی کے پیچھے بھی موساد کا ہاتھ تھا۔ انہوں نے تصدیق کی تھی کہ ایرانی جوہری سائنس دان محسن فخری زادہ کو موساد نے ہی ہلاک کیا تھا اور تہران کو جوہری ہتھیار تیار کرنے کی کوشش سے باز رہنے کی تنبیہ کی تھی۔
چینل 12 کو دیے گئے اس انٹرویو میں موساد کے سابق سربراہ نے ایران کے جوہری بنیادی ڈھانچے سے اپنی واقفیت کا بھی اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ اگر انہیں موقع دیا جائے تو وہ دیان کو نطنز میں زیر زمین موجود اس ’’تہہ خانے‘‘ میں لے جائیں گے جہاں، ان کے بقول، ’’سینٹری فیوجز گھومتے تھے۔‘‘
یو این آئی۔ ع ا۔
جموں و کشمیر
جموں میں آبادیاتی تبدیلیوں سے متعلق پینل کو پناہ گزینوں کی تنظیم نے یادداشت پیش کی
جموں، پی او جے کے سے بے گھر افراد کی تنظیم ایس او ایس انٹرنیشنل کے ایک وفد نے منگل کو یہاں جسٹس پرکاش پربھاکر نولیکر (ریٹائرڈ) کی سربراہی میں آبادیاتی تبدیلیوں سے متعلق پینل کو ایک تفصیلی یادداشت پیش کی۔
ایس او ایس انٹرنیشنل کے چیئرمین راجیو چونی کی قیادت میں وفد میں پروفیسر این این شرما (نائب چیئرمین)، ونود کمار دتہ (جنرل سکریٹری)، بھائی رام سنگھ (سکریٹری) اور وید راج بالی (سکریٹری) شامل تھے۔ وفد نے یادداشت پیش کرتے ہوئے 1947 سے پاکستان کے زیر قبضہ جموں و کشمیر (پی او جے کے) کی ہندو اور سکھ آبادی کے ساتھ روا رکھے گئے تاریخی ناانصافی کو ریکارڈ پر لایا اور پینل سے ٹھوس اصلاحی اقدامات کرنے کا مطالبہ کیا۔
جاری کردہ بیان کے مطابق یادداشت میں نشاندہی کی گئی کہ 1947 کے حملے کے بعد اس وقت کی جموں و کشمیر حکومت نے ابتدائی طور پر تقریباً 31,600 خاندانوں کا اندراج کیا تھا، جبکہ تقریباً 9,500 خاندانوں کو معمولی اور غیر معقول وجوہات کی بنیاد پر من مانے طریقے سے رجسٹریشن سے محروم کر دیا گیا۔
رجسٹرڈ خاندانوں میں سے صرف تقریباً 26,300 خاندانوں کو ریاست کے اندر آباد کیا گیا، جبکہ تقریباً 5,300 رجسٹرڈ خاندانوں کے ساتھ ساتھ 9,500 غیر رجسٹرڈ خاندانوں کو ہندوستان کے دیگر حصوں میں پناہ لینے پر مجبور ہونا پڑا۔ باقاعدہ طور پر رجسٹر کیے گئے خاندانوں کے ریکارڈ اب بھی جموں و کشمیر حکومت کے سرکاری ریکارڈ میں موجود ہیں۔
یادداشت میں کہا گیاکہ ’’یہ خاندان مہاراجہ ہری سنگھ کے 1927 کے اسٹیٹ سبجیکٹ قانون کے تحت ریاست کے اصل باشندے تھے اور انہوں نے بارہا اپنے آبائی وطن واپس جانے کی خواہش کا اظہار کیا ہے۔‘‘
تاہم بحالیِ آبادکاری کی کسی جامع پالیسی یا ادارہ جاتی مدد کی مکمل عدم موجودگی کے باعث ان کے پاس دوسری جگہ اپنی زندگی دوبارہ شروع کرنے کے علاوہ کوئی راستہ نہیں تھا۔ بیان کے مطابق اس وقت ریاست سے باہر رہنے والی ان کی آبادی کا تخمینہ پانچ سے چھ لاکھ ہے۔
ایس او ایس انٹرنیشنل نے یہ بھی نشاندہی کی کہ جموں و کشمیر کی اُس وقت کی حکومت کے 2014 کے کابینہ فیصلے میں ہر متاثرہ خاندان کو 25 لاکھ روپے نقد امداد، تعلیم یافتہ بے روزگار نوجوانوں کے لیے 8,500 سرکاری ملازمتیں اور پیشہ ورانہ و تکنیکی اداروں میں ریزرویشن دینے کا وعدہ کیا گیا تھا، لیکن جموں و کشمیر یا سابق ریاست سے باہر جلاوطنی کی زندگی گزارنے والے خاندانوں کے لیے اس پر عمل نہیں کیا گیا۔
جاری۔یواین آئی۔ طـ ا
-
دنیا2 days agoسعودی عرب میں فیکٹری میں آگ کے سبب 16 بنگلہ دیشی مزدور ہلاک
-
دنیا2 days agoایران کا فی الحال امریکہ کے ساتھ کوئی مذاکرات نہیں: ایرانی وزیر خارجہ
-
ہندوستان2 days agoطلبہ پر کارروائی کے معاملے پر حکومت کو گھیرتے ہوئے راہل کا مضمون، کھڑگے اور پرینکا نے حمایت کی
-
دنیا19 hours agoیمن میں حوثیوں کے المخا اور مارب پر بیلسٹک میزائل حملے
-
دنیا19 hours agoٹرمپ کا ایران سے معاوضے کا مطالبہ، آبنائے ہرمز پر مذاکرات جاری
-
دنیا2 days agoٹرمپ جوہری معاہدے کے بغیر ایران کے ساتھ تنازع ختم کرنے پر تیار: رپورٹ
-
ہندوستان17 hours agoپارلیمنٹ کے احاطے میں اپوزیشن ارکانِ پارلیمنٹ کا احتجاج
-
دنیا15 hours agoایران نے خود کو ایک ‘ناقابل تسخیر طاقت’ ثابت کیا ہے: عراقچی
-
جموں و کشمیر15 hours agoیومِ آزادی سے قبل جموں و کشمیر پولیس نے سرحدی سامبا میں طویل فاصلے کی گشت اور فرضی انسدادِ دہشت گردی مشق کی
-
دنیا19 hours agoایران اور عمان کے درمیان آبنائے ہرمز پر مذاکرات جاری
-
دنیا2 days agoتجربہ کار آئی آر جی سی کمانڈر محسن رضائی ایران کے قومی سلامتی کے سربراہ مقرر
-
دنیا15 hours agoشام کے سابق صدر بشار الاسد کو سزائے موت سنادی گئی
