کھیل
پکل پروز کو فروغ کے لیے ہندوستان کے تین مشہور ترین کرکٹر ایک ساتھ جمع ہوئے
گروگرام(ہریانہ) ہندوستان میں پہلی مرتبہ پکل پروز کوفروغ دینے اور اس جامع کھیل ثقافت کو فروغ دینے کی غرض سے ہندوستان کے تین مشہور ترین کرکٹر ایشانت شرما، بھونیشور کمار اور امیش یادوپکل پروز کے لیے ایک ساتھ آئے۔ اس کا مقصد کھیل کے ارد گرد ایک متحرک، جامع ماحولیاتی نظام سازی کے ذریعے ہندوستان کوپکل بال کے عالمی مرکز کے طور پر متعارف کرانا ہے۔ یہ پہل عالمی معیار کی کورٹس کا ایک ملک گیر نیٹ ورک بنائے گی، جس میں زمینی سطح کی ترقی کو بہترین انفرااسٹرکچر کے ساتھ ملایا جائے گا۔ ٹورنامنٹس، تربیتی کیمپوں اور کمیونٹی سے چلنے والی تقریبات کی میزبانی کرکے پکل پروز ہر عمر اور مہارت کی سطح کے کھلاڑیوں کوموقع دے گا، جس سے پکل بال کو ایک پرجوش اور قابل رسائی کھیل بنایا جاسکے گا۔
اس موقع پر اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کرکٹرایشانت شرما نے کہا کہ پکل پروز کا حصہ بن کر میں بہت پرجوش ہوں کیوں کہ یہ فٹنس، تفریح اور کمیونٹی کو ایک کھیل میں ملا دیتا ہے۔پکل بال شروع کرنا آسان ہے، لیکن اس میں مہارت حاصل کرنا مشکل ہے اور مجھے یقین ہے کہ یہ ہندوستان بھر کے کھلاڑیوں زبردست طریقے پر متاثر کر سکتا ہے۔
ایم 3ایم فاؤنڈیشن کے چیئر پرسن اور ٹرسٹی ڈاکٹر پائل کنودیانے اس موقع پر کہا کہ ایم 3ایم فاؤنڈیشن میں ہم سمجھتے ہیں کہ کھیل صرف ایک کھیل نہیں بلکہ یہ تبدیلی کے لیے ایک طاقتور محرک ہے۔پکل پروز کے ذریعے ہم ایک ایسی تحریک کی قیادت کر رہے ہیں جو فعال اور صحت مند زندگی گزارنے کی ترغیب دیتی ہے اور ترقی کی نئی راہیں کھولتی ہے۔یہ مقصد پر مبنی اثر،جہاں کھیلا جانے والا ہر کھیل موقع، صحت اور یکجہتی کے جذبے سے متاثر ہوتا ہے۔
اس موقع پر لیگاسی کے بانی اور سی ای او مسٹر امیتیش شاہ نے کہا کہ پکل پروز صرف ایک کھیل کی پہل نہیں بلکہ اس بڑھ کر ہے۔ یہ ایک ایسی تحریک ہے جو رسائی، عمدگی اور خوشی کا جشن مناتی ہے۔ اس وژن کی حمایت میں پہلی بار کرکٹ کے تین لیجنڈز کو ایک ساتھ لانا اس کی اس کی اہمیت اور صلاحیت کا ثبوت ہے۔ ہم ہر ایک کو اس متحرک کھیل میں شامل ہونے کی ترغیب دیتے ہوئے عالمی پکل بال کے میدان میں ہندوستان کو طاقتور بنانے کے لیے پرعزم ہیں۔
کرکٹر بھونیشور کمار نے کہا کہ پکل پروز محض کھیل نہیں بلکہ اس سے کہیں بڑھ کر ہے۔ یہ ایک مثبت ماحول پیدا کرے گا، جہاں ہر کوئی عمر یا پس منظر سے قطع نظر پیڈل اٹھا کر کھیل سکتا ہے۔ کھیل زندگیوں کو بدلنے کی طاقت رکھتا ہے اورپکل پروز اس طاقت کو ہندوستان بھر کی کمیونٹیوں تک پہنچاتا ہے۔ یہاں اس دلچسپ کھیل کو فروغ دینے اور دنیا بھر کے کھلاڑیوں میں اس سے پیدا ہونے والے جوش و خروش کو دیکھنا ایک اعزاز کی بات ہے۔ کرکٹرامیش یادو نے کہا کہ پکل پروز کو ہر سطح پر امکانات پیدا کرنے کے لیے ڈیزائن کیا گیا ہے، جس سے تفریح، تندرستی اور مصروفیت کے مواقع پیدا ہوتے ہیں جب کہ عالمی پکل بال اسٹیج پر ہندوستان کی موجودگی کو تقویت ملتی ہے۔
اس کا مقصد دنیا کے سب سے تیزی سے ترقی کرنے والے کھیلوں میں سے ایک پکل بال کو قومی سطح پرسرخیوں میں لانا اور اسے ہندوستان کے اگلے بڑے کھیلوں کے جنون میں بدلنا ہے۔اس کا مقصد اور کھیل کے ایک طاقتور امتزاج کے ساتھپکل پروز شہری، دیہی اور زمینی سطح پر اعلیٰ درجے کے بنیادی ڈھانچے کی تخلیق میں رہنمائی کرے گا، اس بات کو یقینی بناتے ہوئے کہ ہندوستان کا ہر گوشہ اس فعال او رپرجوش کھیل تک رسائی حاصل کر سکے اوراسے اپناسکے۔
آئندہ تین برسوں میں یہ پہل پورے ہندوستان میں جدید ترین پکل بال کورٹس بنائے گی، جو پکل بال بال کو ایک ابھرتے ہوئے رجحان سے مرکزی دھارے اورعوامی تحریک میں تبدیل کرے گی۔ایک ایسی تحریک جوسبھی کے لئے شمولیاتی، قابل توجہ اورلائق رسائی ہو۔ یہ کھیلوں کی پہل سے بڑھ کر ہے۔ یہ ایک نئی میراث کا آغاز ہے۔پکل پروز میں خوش آمدید، جہاں جذبہ صلاحیتوں تکمیل کرتا ہے اور ہندوستانی کھیلوں کا مستقبل پرواز کرتا ہے۔
یو این آئی۔ م س۔م الف
کھیل
میسی کی شکست کے باوجود اسکالونی کو ٹیم پر فخر
نیویارک، ارجنٹینا کے مینیجر لیونل اسکالونی نے اعتراف کیا کہ اسپین ورلڈ کپ جیتنے کا حقدار تھا، لیکن ہار کے باوجود انہیں اپنی ٹیم پر فخر ہے۔
دفاعی چیمپئن نے اپنے پچھلے چاروں ناک آؤٹ میچوں میں سے ہر ایک کو جیتنے کے لیے آخری لمحات میں گول کیے تھے، لیکن نیو جرسی اسٹیڈیم میں ایک اور ڈرامائی کھیل سے بچنے میں ناکام رہے۔
میچ کے بعد اسکالونی نے کہا، “مجھے دکھ ہو رہا ہے۔ کوئی اس بارے میں بہت کچھ کہہ سکتا ہے کہ ہم یہاں تک کیسے پہنچے، لیکن یہ اس کے لائق نہیں ہے۔ میں بس ان کھلاڑیوں کا تہہ دل سے شکریہ ادا کرنا چاہتا ہوں جو ایک بار پھر ہمیں فائنل میں لے گئے۔ وہ (اسپین) بہتر تھے، یہ سچ ہے، لیکن میرے کھلاڑیوں نے جو کچھ حاصل کیا، اس کی زبردست یادیں میرے پاس رہیں گی۔ ہم جیت میں عظیم ہیں اور ہار میں بھی ایسا ہی ہونا چاہیے۔ آج رات، ہم دکھاتے ہیں کہ ہم ہارنا جانتے ہیں۔
ہم ہار گئے اور ہم نے اسے قبول کر لیا۔”
یواین آئی۔الف الف
کھیل
طویل علالت کے بعد شہپور زادران انتقال کر گئے
نئی دہلی، افغانستان کے سابق فاسٹ گیندباز شہپور زادران 39ویں سالگرہ سے ایک روز قبل طویل علالت کے بعد انتقال کر گئے۔ وہ گزشتہ کئی ماہ سے دہلی کے ایک اسپتال میں نایاب بیماری ہیموفیگوسائٹک لمفوہسٹیوسائٹوسس (ایچ ایل ایچ) کے باعث زیر علاج تھے۔
ان کے انتقال کی تصدیق ان کے چھوٹے بھائی غمئی زادران نے کی، جو جنوری میں علاج کے لیے دہلی منتقل کیے جانے کے بعد سے مسلسل ان کے ساتھ تھے۔ شہپور زادران ایچ ایل ایچ کی شدید نوعیت میں مبتلا تھے، جو ایک نایاب بیماری ہے جس میں جسم کا مدافعتی نظام درست طریقے سے کام کرنا چھوڑ دیتا ہے۔
2000 اور 2010 کی دہائی میں افغانستان کرکٹ کے عروج کے دوران شہپور زادران نمایاں شخصیات میں شمار ہوتے تھے۔ چھ فٹ دو انچ قد کے شہپور زادران اپنے طویل رن اپ اور لہراتے بالوں کے ساتھ گیندبازی کے لیے مشہور تھے۔ افغانستان کرکٹ بورڈ کے مطابق ملک میں کرکٹ کی بنیاد مضبوط کرنے میں ان کا اہم کردار رہا۔ انہوں نے 2009 سے 2020 کے درمیان 44 ایک روزہ اور 36 ٹی20 بین الاقوامی میچ کھیلے اور مجموعی طور پر 80 بین الاقوامی وکٹیں حاصل کیں۔
2015 کے ایک روزہ ورلڈ کپ میں انہوں نے شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے 10 وکٹیں حاصل کیں اور افغانستان کے سب سے کامیاب گیندباز رہے۔ اس کے علاوہ انہوں نے 2010 سے 2016 کے درمیان چار ٹی20 ورلڈ کپ کھیلے، جن میں نو میچوں میں نو وکٹیں حاصل کیں۔
شہپور زادران کی علالت کے دوران راشد خان، سابق کپتان اصغر افغان اور دیگر کئی نمایاں کرکٹرز مسلسل ان کے رابطے میں رہے۔
افغانستان کرکٹ بورڈ نے اپنے تعزیتی بیان میں کہا کہ شہپور زادران نے اپنے پورے کریئر میں عزت، حوصلے اور فخر کے ساتھ افغانستان کرکٹ کی خدمت کی اور ان کی خدمات ہمیشہ یاد رکھی جائیں گی۔ بورڈ نے کہا کہ وہ نوجوان افغان کرکٹرز اور دنیا بھر کے شائقین کے لیے ایک تحریک تھے، جبکہ ان کی جرات، عزم اور کھیل سے محبت نے نئی نسل کو بڑے خواب دیکھنے کا حوصلہ دیا۔
بیان میں شہپور زادران کے اہل خانہ، دوستوں، سابق ساتھیوں اور افغانستان کرکٹ برادری سے بھی گہرے تعزیت کا اظہار کیا گیا۔
شہپور زادران افغانستان کے صوبہ لوگر میں پیدا ہوئے، تاہم جنگ کے باعث ان کا خاندان پشاور منتقل ہوگیا، جہاں انہوں نے نیاز اسٹیڈیم اور جمخانہ میں کرکٹ سیکھی۔ ابتدا میں وہ پاکستان کی نمائندگی کرنا چاہتے تھے اور شعیب اختر ان کے آئیڈیل تھے، لیکن بعد میں سابق کرکٹر اقبال سکندر کی ترغیب پر افغانستان واپس آ گئے۔
انہوں نے اگست 2009 میں نیدرلینڈز کے خلاف ایک روزہ میچ سے بین الاقوامی کریئر کا آغاز کیا اور 24 رنز دے کر 4 وکٹیں حاصل کیں، جو ان کے ون ڈے کریئر کی بہترین بولنگ رہی۔ فروری 2010 میں آئرلینڈ کے خلاف ٹی20 بین الاقوامی کریئر کا آغاز کیا، جبکہ اس فارمیٹ میں ان کی بہترین بولنگ 2018 میں دہرادون میں بنگلہ دیش کے خلاف 40 رنز دے کر 3 وکٹیں تھی۔
یو این آئی۔ م س
کھیل
میسی ورلڈ کپ کی تاریخ کے ٹاپ اسکورر بنے
ڈلاس، کلب اور قومی ٹیم کے لیے 750 سے زائد سینئر گول کر چکے ارجنٹینا کے لیونل میسی فٹبال ورلڈ کپ کی تاریخ کے سب سے زیادہ گول کرنے والے کھلاڑی بن گئے ہیں۔
میسی فیفا ورلڈ کپ میں 28 میچوں میں 17 گول کے ساتھ ٹورنامنٹ میں سب سے زیادہ گول کرنے والے کھلاڑی بن گئے ہیں۔ انہوں نے جرمنی کے میروسلاو کلوز (24 میچوں میں 16 گول) کو پیچھے چھوڑ دیا ہے۔
ارجنٹینا کے لئے آسٹریا کے خلاف پہلا ہاف تاریخی ثابت ہوا۔ ابتدا میں گھبراہٹ کے باعث لیونل میسی نے ایک پنالٹی مس کی اور ایک اور موقع گنوا دیا، لیکن ارجنٹینا کے کپتان نے شاندار واپسی کرتے ہوئے میروسلاو کلوزکا ورلڈ کپ میں سب سے زیادہ گولوں کا ریکارڈ توڑ دیا۔ میسی کے اس یادگار گول کی بدولت موجودہ چیمپئن ارجنٹینا کو ہاف ٹائم تک 1-0 کی برتری دلائی۔
میسی نے الجیریا کے خلاف ارجنٹینا کی گزشتہ ہفتے 3-0 سے جیت میں ہیٹ ٹرک بھی اسکور کی تھی۔
میسی فٹ بال ورلڈ کپ میں ارجنٹینا کے لیے سب سے زیادہ گول کرنے والے کھلاڑی بھی ہیں۔ ان میں سے سات گول قطر میں ہوئے 2022 فیفا ورلڈ کپ میں کئے تھے، جسے ارجنٹینا نے جیتا تھا۔
انہوں نے اپنے بین الاقوامی کیریئر میں 201 میچوں میں 121 گول کیے ہیں، جس سے وہ ارجنٹینا کے لئے اب تک کے سب سے زیادہ گول کرنے والے کھلاڑی بن گئے ہیں۔ بین الاقوامی فٹبال میں سب سے زیادہ گول کرنے والوں کی فہرست میں بھی میسی دوسرے نمبر پر ہیں، ان سے آگے صرف ان کے حریف کرسٹیانو رونالڈو ہیں۔
میسی سے پہلے، گیبریل بٹسٹوٹا (12 میچوں میں 10 گول) فیفا ورلڈ کپ میں ارجنٹائن کے سب سے زیادہ گول کرنے والے کھلاڑی تھے۔ ڈیاگو میراڈونا (21 میچز) اور یوراگوئے 1930 کے گولڈن بوٹ کے فاتح گیلرمو سٹیبیل (چار میچز) نے آٹھ آٹھ گول کئے ہیں۔
فیفا ورلڈ کپ کوالیفائر میں بھی لیونل میسی کا گول کرنے کا ریکارڈ شاندار رہا ہے، انہوں نے 72 میچوں میں 36 گول کئے ہیں۔
لیونل میسی کا پہلا فیفا ورلڈ کپ گول
لیونل میسی نے 2006 میں جرمنی میں ہونے والے فیفا ورلڈ کپ کے دوران ہیمبرگ کے ورلڈ کپ اسٹیڈیم میں سربیا اور مونٹی نیگرو کے خلاف ارجنٹینا کے گروپ سی کے دوسرے میچ میں اپنا پہلا ورلڈ کپ گول کیا تھا۔ اپنی ٹیم کو گروپ کے پہلے میچ میں آئیوری کوسٹ کے خلاف 2-1 سے جیتتے ہوئے بنچ سے دیکھنے کے بعد، لیونل میسی نے اگلے میچ میں سربیا اور مونٹی نیگرو کے خلاف 75ویں منٹ میں متبادل کے طور پر میدان پر اتر کر اپنا ورلڈ کپ ڈیبیو کیا۔ اس وقت ارجنٹینا پہلے سے ہی 3-0 سے آگے تھا اور اپنے ڈیبیو کے صرف تین منٹ بعد ہی، لیونل میسی نے ہرنان کریسپو کی مدد سے ارجنٹینا کے لئے میچ کا چوتھا گول کیا۔ 88ویں منٹ میں کارلوس تیویز کے پاس پر میسی نے گول کیا اور مخالف ٹیم کے گول کیپر کو نیئر پوسٹ پر چھکاتے ہوئے 6-0 کی بڑی جیت پکی کی۔
جاری یواین آئی۔الف الف
-
دنیا2 days agoایران کا فی الحال امریکہ کے ساتھ کوئی مذاکرات نہیں: ایرانی وزیر خارجہ
-
جموں و کشمیر22 hours agoیومِ آزادی سے قبل جموں و کشمیر پولیس نے سرحدی سامبا میں طویل فاصلے کی گشت اور فرضی انسدادِ دہشت گردی مشق کی
-
ہندوستان2 days agoطلبہ پر کارروائی کے معاملے پر حکومت کو گھیرتے ہوئے راہل کا مضمون، کھڑگے اور پرینکا نے حمایت کی
-
دنیا2 days agoسعودی عرب میں فیکٹری میں آگ کے سبب 16 بنگلہ دیشی مزدور ہلاک
-
دنیا22 hours agoایران نے خود کو ایک ‘ناقابل تسخیر طاقت’ ثابت کیا ہے: عراقچی
-
دنیا22 hours agoشام کے سابق صدر بشار الاسد کو سزائے موت سنادی گئی
-
دنیا2 days agoٹرمپ جوہری معاہدے کے بغیر ایران کے ساتھ تنازع ختم کرنے پر تیار: رپورٹ
-
ہندوستان24 hours agoسندوش کمار نے نِرملا سیتارمن کے تبصرے راجیہ سبھا کے ریکارڈ سے ہٹانے کا مطالبہ کیا
-
دنیا2 days agoتجربہ کار آئی آر جی سی کمانڈر محسن رضائی ایران کے قومی سلامتی کے سربراہ مقرر
-
دنیا1 day agoیمن میں حوثیوں کے المخا اور مارب پر بیلسٹک میزائل حملے
-
دنیا19 hours agoموساد کے سابق سربراہ کا انکشاف، ماضی میں ایران کی فردو جوہری تنصیب کا کئی بار دورہ کیا
-
دنیا1 day agoٹرمپ کا ایران سے معاوضے کا مطالبہ، آبنائے ہرمز پر مذاکرات جاری
