تازہ ترین
پی ڈی پی کے لیڈران باغی کیوں بنے ؟
رضوان سلطان:
ریاست میں بی جے پی کے پی ڈی پی کے ساتھ اتحا د توڑنے کے صرف دس دن بعدہی پی ڈی پی پارٹی میں خلفشار پیدا ہو گیا ۔ اور کہی ممبران پارٹی کے خلاف بغاوت کرنے لگے ہیں ،جس کا سلسلہ اب بھی جاری ہے ۔جس سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ پارٹی کے اندر کچھ بھی ٹھیک نہیں چل رہا ،جو پارٹی صدر محبوبہ مفتی کے لئے بہت بری خبر ہے۔پارٹی کے کہی سینئرلیڈران نے پارٹی صدر محبوبہ مفتی پر الزامات کی بوچھاڑ کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ بڑے بڑے عہددوں پر اپنے رشتہ داروں کو تعینات کرتی ہیں ،جبکہ پارٹی کے دیگر لیڈران کی بات تک نہیں سُنتی۔
اس طرح کے الزامات لگانے والوں میں سب سے پہلے پارٹی سے ایم ایل اے جڈی بل عابد حسین انصاری سامنے آئے ،جنہوں نے محبوبہ مفتی پر پارٹی میں خاندانی راج قائم کرنے کاالزام لگایا ہے۔عابد حسین کے لگائے گئے الزامات کو تب تقویت ملی جب بھاجپا ۔پی ڈی پی سرکار میں منسٹر رہ چکے پارٹی کے سینئر لیڈر عمران رضا انصاری نے اپنے چچا عابد حسین کے لگائے گئے الزامات کو درست ٹھراتے ہوئے کہا کہ محبوبہ مفتی نے پارٹی کو اب ’’فیملی ڈیموکریٹک پارٹی ‘‘بنایا ہے ۔امکان ظاہر کیا جا رہا ہے کہ پارٹی کے کچھ اور لیڈران بھی ایسی ہی سوچ رکھتے ہیں ۔اسی طریقے سے ایک اور پارٹی لیڈر اور ایم ایل اے ٹنگمرگ محمد عباس وانی نے بھی ایسے ہی خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ پارٹی کو کچھ لوگوں نے ہائی جیک کیا ہوا ہے۔وہیں ان تینوں نے اپنے الگ الگ دئے گئے بیانات میں پارٹی کو خدا حافظ کہہ دیا ہے ۔
محبو بہ مفتی اور اس کی پارٹی پر الزامات کا سلسلہ رکا ہی نہیں تھا کہ کل دو اورممبران نے پارٹی پر تیکھے وار کر کے باغی لیڈروں کی صف میں شامل ہونے کا اشارہ دے دیا ۔کل سویرے پی ڈی پی کے لیڈر اور نو رآباد سے ممبر اسمبلی مجید پڈر الزام لگایا کہ پارٹی میں نہ صرف میں بلکہ ۲۰ سے زائد ممبران گھٹن محسوس کر رہے ہیں ،کیونکہ پارٹی میں لئے جانے والے فیصلوں میں ہمیں کبھی اعتماد میں نہیں لیا جاتا ۔وہیں انہوں نے پارٹی سے الگ ہونے کا اشارہ دیتے ہوئے کہا کہ وہ ابھی پی ڈی پی کا حصہ ہیں ،لیکن اپنے حلقہ انتخاب کے لوگ مجھے اسی پارٹی کے ساتھ دیکھنا چاہتے ہیں ،جو سرکار بنائے گی ۔
کل دوپہر کے بعد ہی پی ڈی پی سے ایم ایل اے بارہ مولہ جاوید حسین بیگ نے کہا ہے انہوں نے پی ڈی پی میں ۲۰ سال ضائع کئے ہیں ،پارٹی میں صرف چاپلوس لوگوں کی جگہ ہے۔اس طریقے سے اب انہوں نے بھی پارٹی کے خلاف باغی تیور دیکھانا شروع کئے ہیں ۔اگر ذرائع پر یقین کیا جائے تو پی ڈی پی سے ۱۲ ایسے ممبران ہیں جو پارٹی سے الگ ہوسکتے ہیں ،جن میں عمران رضا انصاری ،عابد انصاری ،محمد عباس وانی ،عبدلمجید پڈر اور جاوید بیگ کے علاوہ ابھی کھل کر سامنے نہ آنے والوں میں عبدالحق خان ،راجہ منظور ،ایم ایل سی یاسر رشی ،عبدالرحیم راتھر ،حسیب درابو،چودھری قمر کے علاوہ شاہ محمد تانترے شامل ہیں ،جوشاید آنے والے دنوں میں اپنی زبان کھول سکتے ہیں ۔ اسکے علاوہ اور بھی کچھ ایسے نام ہیں جو آنے والے دنوں میں آگے آسکتے ہیں ۔ نیوز ۱۸ کے مطابق پی ڈی پی باغی ممبران بھاجپا کے رابطے میں ہیں اور جلد ہی ایک نیا محا ز کھڑاکرکے نئی حکومت تشکیل دے سکتے ہیں ۔
اگر پارٹی لیڈران کے لگائے گئے الزامات پر یقین کیا جائے تو حساس معاملات پارٹی کے سینئر لیڈر نعیم اختر ہی چلاتے ہیں ۔نعیم اختر کو ایم ایل سی چنے جانے کے بعد پارٹی کے انہیں کابینہ میں شامل کیا ۔اسی طرح محبوبہ مفتی نے اپنے بھائی تصدق مفتی کو (جن کا سیاست کے ساتھ دور دور کا واسطہ بھی نہیں ہے) کابینہ کا وزیر بنا دیا ۔جس سے پارٹی میں اندرونی معاملات میں مزید خرابی آئی ۔ تصدق پر الزام ہے کہ ان کے ٹیم ممبران میں اکثریت ان کے دوستوں اور رشتہ داروں کی ہے ۔محبوبہ مفتی کے ماموں سرتاج مدنی کو پارٹی کا نائب صدر بنانے پر بھی پارٹی لیڈران ناراض ہوگئے ہیں ۔
وہیں ان لئے گئے فیصلوں سے کہیں نہ کہیں محبوبہ مفتی کے پارٹی میں خاندانی راج قائم کرنے کے اشارے ملتے ہیں ، اب آنے والا وقت ہی بتائے گا کہ محبوبہ مفتی ان تمام پیدا شدہ مسائل سے کیسے نمٹتی ہیں ۔اور پی ڈی پی کے باغی لیڈران کی فہرست میں کتنے اور شامل ہوکے نیا محاز کھڑا کرنے میں کامیاب ہوتے ہیں یا نہیں ۔
دنیا
پاکستان کے افغانستان میں فضائی حملے، 22 عسکریت پسندوں کی ہلاکت کا دعویٰ، کابل کے مطابق 9 شہری جاں بحق
کابل، پاکستان نے افغانستان میں تازہ فضائی حملے کرتے ہوئے عسکریت پسندوں کے کیمپوں اور ٹھکانوں کو نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا ہے، جبکہ افغان طالبان حکومت نے کہا ہے کہ حملوں میں خواتین اور بچوں سمیت کم از کم نو شہری جاں بحق ہوئے ہیں۔
پاکستان کی وزارت اطلاعات نے جمعرات کو کہا کہ قابل اعتماد خفیہ اطلاعات کی بنیاد پر افغانستان میں دو مقامات پر ’’دہشت گردوں کے ٹھکانوں‘‘ کو نشانہ بنایا گیا۔ وزارت کے مطابق ابتدائی اطلاعات میں 22 عسکریت پسندوں کے مارے جانے اور ان ٹھکانوں پر ذخیرہ کیے گئے ہتھیاروں اور گولہ بارود کی تباہی کی تصدیق ہوئی ہے۔
پاکستان کے دعوے کی تردید کرتے ہوئے افغان طالبان حکومت کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے کہا کہ کنڑ اور ہلمند صوبوں میں تین مکانات کو نشانہ بنایا گیا، جس کے نتیجے میں نو افراد جاں بحق اور 11 دیگر زخمی ہوئے۔
مجاہد نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ایک پوسٹ میں کہا، ’’ہم اس کارروائی کو جارحیت اور تمام تسلیم شدہ اصولوں کی خلاف ورزی کرتے ہوئے جرم قرار دیتے ہوئے اس کی مذمت کرتے ہیں۔‘‘
میڈیا رپورٹس کے مطابق فضائی حملے مقامی وقت کے مطابق تقریباً صبح ساڑھے تین بجے شروع ہوئے اور لگ بھگ 30 منٹ تک جاری رہے۔ افغان میڈیا کے مطابق ایک بم ایک مکان پر گرا، جس میں ایک خاندان کے کئی افراد جاں بحق اور دیگر زخمی ہوئے۔
پاکستان نے کہا کہ اس کا آپریشن ’’مکمل منصوبہ بندی اور محتاط انداز‘‘ میں کیا گیا اور شہری ہلاکتوں سے بچنے کے لیے زیادہ سے زیادہ احتیاطی تدابیر اختیار کی گئیں۔
تازہ فضائی حملوں کے بعد دونوں پڑوسی ممالک کے درمیان کئی ماہ کی نسبتاً کشیدگی کے بعد ایک بار پھر تناؤ بڑھ گیا ہے۔ اسلام آباد مسلسل افغان طالبان حکومت پر الزام عائد کرتا رہا ہے کہ وہ تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) سمیت مسلح گروپوں کو افغان سرزمین سے سرگرمیاں انجام دینے اور پاکستان کے اندر حملے کرنے کی اجازت دے رہی ہے۔
تاہم افغان طالبان حکومت پاکستان کے ان الزامات کو مسلسل مسترد کرتی رہی ہے۔ کابل کا مؤقف ہے کہ پاکستانی سرحدوں کے اندر بڑھتی ہوئی عسکریت پسندی مکمل طور پر داخلی معاملہ ہے، جس کی وجہ ملکی سکیورٹی اور سیاسی ناکامیاں ہیں، نہ کہ سرحد پار سے کسی قسم کی سہولت کاری۔
دونوں پڑوسی ممالک کے تعلقات رواں سال کے آغاز میں ہلاکت خیز جھڑپوں اور سرحد پار حملوں کے بعد تیزی سے خراب ہوئے تھے۔
گزشتہ ماہ شمال مغربی پاکستان میں پولیس کی ایک تنصیب پر عسکریت پسندوں کے حملے میں 24 افراد ہلاک ہوئے تھے، جس کے بعد کشیدگی مزید بڑھ گئی۔ پاکستان نے افغانستان سے ہونے والے حملوں کے لیے عسکریت پسند گروپوں کو ذمہ دار ٹھہرایا ہے، جبکہ کابل نے اسلام آباد کے الزامات مسترد کیے ہیں۔
پاکستان نے حالیہ ہفتوں کے دوران بھی افغانستان کے اندر متعدد فضائی حملے کیے ہیں۔
یو این آئی ۔ ع ا ۔
جموں و کشمیر
اے سی بی نے سری نگر میں 50000 روپے رشوت کے الزام میں ایگریکلچر کے ڈپٹی ڈائریکٹر اور معاون کو گرفتار کیا
سری نگر، جموں و کشمیر کے انسداد بدعنوانی بیورو (اے سی بی) سری نگر نے زراعت کے ایک ڈپٹی ڈائریکٹر اور اس کے معاون کو بیج فروش سے مبینہ طور پر 50000 روپے رشوت طلب کرنے اور قبول کرنے کے الزام میں گرفتار کیا ہے۔ حکام نے یہ اطلاع دی۔
ملزم سرکاری ملازم کی شناخت زراعت کے ڈپٹی ڈائریکٹر، قانون نافذ کرنے والے شعبے، نصیر احمد خان کے طور پر ہوئی ہے، جبکہ اس کے مبینہ بچولئے کی شناخت سری نگر کے قمرواڑی کے محمد اویس بھٹ کے طور پر کی گئی ہے۔
اے سی بی کے مطابق، اسے ایک تحریری شکایت موصول ہوئی تھی، جس میں الزام لگایا گیا تھا کہ خان نے ایک بیج فروش سے اس کی دکان پر پودوں کے بیج فروخت کرنے کی اجازت دینے کے لیے 2 لاکھ روپے کا مطالبہ کیا ہے۔ شکایت کنندہ پہلے ہی مجبوری میں ایک لاکھ روپے ادا کر چکا تھا، جبکہ باقی رقم 50000 روپے کی 2 قسطوں میں ادا کرنے پر مبینہ طور پر اتفاق ہوا تھا۔
شکایت موصول ہونے کے بعد اے سی بی نے تصدیق کی، جس میں ابتدائی طور پر غیر قانونی رقم کے مطالبے کے الزامات درست پائے گئے۔ اس کے بعد انسداد بدعنوانی ایکٹ، 1988 کی دفعات 7 اور 7 اے اور بی این ایس کی دفعہ 61(2) کے تحت اے سی بی پولیس اسٹیشن سری نگر میں ایف آئی آر درج کی گئی۔
30 ستمبر کو اے سی بی نے ایک جال بچھانے والی ٹیم تشکیل دی۔ جال بچھانے کی کارروائی کے دوران خان اور بھٹ کو مبینہ طور پر شکایت کنندہ سے 50000 روپے کا مطالبہ کرتے اور رقم قبول کرتے ہوئے رنگے ہاتھوں پکڑ لیا گیا۔
اے سی بی نے بتایا کہ رشوت کی رقم ان کے قبضے سے برآمد کر لی گئی، جس کے بعد دونوں کو موقع پر ہی گرفتار کر لیا گیا۔
بعد ازاں ملزمین کا طبی و قانونی عمل مکمل کیا گیا اور انہیں محفوظ حراست کے لیے سری نگر کے شہید گنج پولیس اسٹیشن میں رکھا گیا ہے۔
معاملے کی مزید تفتیش جاری ہے۔
یو این آئی۔ این یو۔
ہندوستان
راہل نے آن لائن فارم-6 میں تبدیلی پر الیکشن کمیشن، ٹی سی ایس سے پوچھے سوالات
نئی دہلی، کانگریس کے سابق صدر اور لوک سبھا میں قائد حزب اختلاف راہل گاندھی نے نئے ووٹرز کے لیے آن لائن فارم-6 میں کی گئی تبدیلی پر الیکشن کمیشن اور ٹاٹا کنسلٹنسی سروسز (ٹی سی ایس) سے ضروری سوالات پوچھے ہیں۔
راہل نے جمعرات کو سوشل میڈیا پلیٹ فارم ‘ایکس’ پر کہا، “آن لائن فارم-6 میں غیر قانونی طریقے سے تبدیلی کی گئی، جیسا کہ الیکشن کمیشن کے اپنے کمشنروں نے درج کیا ہے۔ الیکشن کمیشن میں کس نے ٹی سی ایس کو یہ تبدیلی کرنے کا حکم دیا؟ ٹی سی ایس میں کس نے اسے منظوری دی اور کیا ان پر ایسا کرنے کے لیے دباؤ ڈالا گیا تھا؟”
قابل ذکر ہے کہ الیکشن کمشنر سکھبیر سنگھ سندھو اور وویک جوشی نے فارم-6 میں ووٹر فہرستوں کی خصوصی تفصیلی نظر ثانی (ایس آئی آر) سے متعلق اضافی اعلان کو شامل کیے جانے پر اعتراض درج کرایا تھا۔
یو این آئی ایف اے
-
دنیا1 week agoروبیو کی آرکٹک اتحادی ممالک کے وزرائے خارجہ سے ملاقات، سلامتی اور سرمایہ کاری پر تبادلہ خیال
-
دنیا1 week agoکم جونگ ان نے شمالی کوریا کے نظریاتی طریقہ کار کو جدید بنانے پر زور دیا
-
ہندوستان1 week agoخواتین کی سکیورٹی یقینی بنائے بغیر بڑے منصوبوں کا کوئی مطلب نہیں : پرینکا
-
ہندوستان1 week agoہندوستان نے جموں و کشمیر پر او آئی سی کے رابطہ گروپ کے بیان کو مسترد کر دیا
-
دنیا1 week agoروس-یوکرین امن معاہدے کی شرائط پر بات چیت جاری : ٹرمپ
-
دنیا7 days agoایران کی وارننگ، امریکہ کے دوبارہ حملے کی صورت میں جنگ بحر ہند تک پھیل سکتی ہے
-
ہندوستان7 days agoلداخ میں چھٹے شیڈول کو نافذ کر کے پولیس فائرنگ میں شہید نوجوانوں کو ملے انصاف: کانگریس
-
دنیا7 days agoایران جنگ کے ساتویں ماہ میں عالمی تیل کی قیمتوں میں 3 فیصد اضافہ، برینٹ 106.24 ڈالر فی بیرل
-
دنیا1 week agoایرانی صدر مسعود پزشکیان کا امریکہ سے مذاکرات پر آمادگی کا اظہار، طاقت کے دباؤ کو مسترد کردیا
-
ہندوستان1 week agoانتخابی کمیشن میں مبینہ اختلافات کی رپورٹ پر اپوزیشن کا چیف الیکشن کمشنر سے استعفیٰ کا مطالبہ
-
جموں و کشمیر1 week agoعمر نے کتابوں پر پابندی کے معاملے پر سوال اٹھائے، میر واعظ نے ان کے نام اور وجوہات عوام کے سامنے رکھنے کا مطالبہ کیا
-
ہندوستان1 week agoمعیشت میں نجی سرمایہ کاری رفتار پکڑ رہی ہے، سرکاری کام میں تاخیر کا پرانا تصور بدل رہا ہے: سیتا رمن
