تازہ ترین
کرونا وائرس سیاحت کو بھی نگل گی
ورلڈ ٹریول اینڈ ٹورازم کونسل نے خبردار کیا ہے کہ COVID-19 کی عالمی وبا نے دنیا بھر میں سفر اور سیاحت کی صنعت کو بے حد نقصان پہنچایا ہے اور اندازہ ہے کہ اس کے نتیجے میں پچاس ملین یا پانچ کروڑ ملازمتوں کا خاتمہ ہو سکتا ہے۔
توقع یہ ہے کہ ایشیا اس وبا سے بدترین انداز میں متاثر ہو گا۔ جب یہ وبا ختم ہو گی تو اس کے بعد سفر اور سیاحت کی صنعت کو بحال ہونے میں دس ماہ تک کا عرصہ لگ سکتا ہے۔
سفر اور سیاحت کی صنعت عالمی اجتماعی پیداوار کا دس فی صد ہے۔ آئیے کچھ مسائل کا جائزہ لیتے ہیں جو کرونا وائرس کی وجہ سے سفر اور سیاحت کے شعبے کو درپیش ہیں۔
ہوٹل ہوں یا ائرلائینز۔ یا پھر کروز ٹریول، یہ چند ایسی مثالیں ہیں جنہیں فوری طور پر انتہائی نقصان کا سامنا ہے۔ پھر بڑے بڑے ادارے اور کمپنیاں کاروباری دوروں، کانفرنسوں اور پبلک ایونٹس کو منسوخ کر رہی ہیں جس کی وجہ سے سفر اور سیاحت کی آمدن کو بڑا دھچکہ لگا ہے۔
انٹرنیشنل ایئر ٹرانسپورٹ ایسوسی ایشن کے اندازے کے مطابق، عالمی سطح پر ایئر ٹرانسپورٹ کی آمدن میں اس سال پانچ فی صد کمی ہو گی یعنی ڈالروں میں یہ نقصان انتیس اعشاریہ تین ارب ڈالر رہے گا۔
سیاحت کی صنعت اس وقت انتہائی نقصان کے ساتھ ایک غیر یقینی صورتحال کا شکار ہے۔ پھر سٹاک منڈیوں میں کئی روز سے جاری مندی کے رجحان نے تمام بڑی ایئر لائینز۔ آپریٹرز اور ہوٹلوں کے کاروبار کو بھی متاثر کیا ہے۔ ان میں امریکی، یورپی اور ایشیائی سب ہی شامل ہیں۔
تازہ ترین اعداد و شمار کے مطابق، چین کی سیاحت کی صنعت کو بے پناہ نقصان ہوگا، کیونکہ حالیہ برسوں میں سیاحت کی صنعت چین کی مجموعی پیداوار کا گیارہ فیصد تھی۔ پھر تقریباً ساڑھے آٹھ لاکھ افراد ہر ماہ یورپ سے امریکہ کا سفر کرتے تھے جس سے امریکی معیشت کو ہر ماہ تین اعشاریہ چار ارب ڈالر ملتے تھے۔ اعداد و شمار پر نظر ڈالیں تو واقعتاً گھبراہٹ ہونے لگتی ہے آنے والے دور کی تصویر دیکھتے ہوئے۔
اس سارے پس منظر میں ہم نے ڈاکٹر ظفر اے بخاری سے بات کی۔ ڈاکٹر بخاری کالج آف بزنس، شکاگو سٹیٹ یونیورسٹی میں چیئرپرسن اور پروفیسر آف مارکیٹنگ اینڈ انٹرنیشنل بزنس ہیں۔ ہمارے اس سوال کے جواب میں کہ کرونا وائرس نے ٹورازم انڈسٹری اور بزنس پر کس حد تک اثرات مرتب کئے ہیں۔
ڈاکٹر بخاری بتاتے ہیں کہ کرونا وائرس نے دنیا بھر میں لوگوں کے اندر بے پناہ خوف بھر دیا ہے۔ امریکی فطری طور پر محتاط ہیں۔ ٹورازم یا سیاحت کی صنعت ایئر لائینز۔ ریل روڈ، کار رینٹل، ہوٹل، ریستوران اور متعدد چھوٹے کاروباروں کے ساتھ مربوط ہے اور یہ سب ایک دوسرے کے ساتھ مربوط ہوتے ہوئے ایک دوسرے پر انحصار بھی کرتے ہیں۔ اس ساری صورتحال کے مجموعی اثرات کا تعلق مختلف عوامل سے ہے جیسے آنے والے دنوں میں کتنے لوگ ملک کے اندر اور بیرون ملک سفر کریں گے۔ اور پابندیاں ختم ہونے کے بعد دنیا بھر سے یہاں آنے والوں کی صورت کیا ہوگی۔ اور اس شعبے سے تعلق رکھنے والے چھوٹے کاروبار اپنے پاؤں پر دوبارہ کھڑے ہونے کے لئے کیا اقدام اٹھائیں گے۔
ہم نے ڈاکٹر بخاری سے پوچھا کہ کاروبار باقاعدگی سے دوبارہ شروع ہونے کے بارے میں ایک غیر یقینی ماحول ہے۔ اس صورتحال میں اس کی بقا کے بارے میں کیا کہیں گے جس کے جواب میں ڈاکٹر بخاری کا کہنا تھا کہ ایسے چھوٹے کاروبار جن میں ملازموں کی تنخواہ کا معاملہ بھی شامل ہے ممکنہ طور پر لمبے عرصے تک خود کو قائم نہ رکھ پائیں گے۔
بیشتر چھوٹے کاروباروں کے پاس ٹھوس اثاثے نہیں ہیں جن میں عمارت، سازو سامان اور مشینری شامل ہے۔ اس لئے وہ دیوالیہ ہو جانے کا اندراج بھی نہیں کرا سکتے، کیونکہ ان کے قرضوں کو معاف نہیں کیا جا سکتا۔
ایسی صورت میں وہ یا تو مستقل بنیادوں پر نقصان اٹھائیں گے یا پھر حکومت کی طرف سے دی جانے والی امداد کے ساتھ کم شرح سود کے قرضوں پر نئے سرے سے خود کو بحال کرنے کی کوشش کریں گے۔ اس صورت میں ایسے تاجروں کی کریڈٹ ہسٹری کا بھی اہم رول ہو گا اور انہیں تین سال کے ٹیکس کا ریکارڈ بھی دینا ہو گا جس میں ان کا کاروبار منفعت بخش رہا ہو۔
ہمیں یہ بات جاننے کی بھی ضرورت ہے کہ جب کاروبار معمول کے مطابق دوبارہ شروع ہونگے تو انھیں اس وقت ہونے والے نقصان کو پورا کرنے اور پھر سے خوشحال ہونے میں کتنا وقت لگے گا۔
ڈاکٹر بخاری اس کا جواب دیتے ہوئے کہتے ہیں کہ بیشتر چھوٹے کاروبار اپنے تجربے کی بنیاد پر اپنا کاروبار دوبارہ شروع کر لیں گے جبکہ بڑے کاروباروں میں مدد مل سکے گی جیسے میکڈانلڈ کو ایک ارب ڈالر کی کریڈٹ لائن مل گئی ہے۔ اسی طرح الاسکا ایئر کو ان کے بیس سے زائد ہوائی جہازوں کی ملکیت پر چار سو ملین ڈالر دیا گیا ہے۔
بڑے کاروبار تو خود کو برقرار رکھیں گے اگر انہیں عالمی مقابلہ بازی، بد انتظامی یا سٹاک منڈیوں سے نقصان نہ اٹھانا پڑے جبکہ درمیانے سائز کے کاروبار ان دونوں حوالوں کے ساتھ دوبارہ آگے بڑھیں گے۔
متعدد ماہر اقتصادیات بڑی کساد بازاری کے بارے میں خبردار کر رہے ہیں۔ امریکیوں کی ایک ریکارڈ تعداد نے بیروزگاری کے کلیمز داخل کئے ہیں۔ تاہم، امریکہ میں حکومت کی طرف سے دئے گئے بڑے امدادی پیکج سے حالات کو بہتر بنانے میں مدد ضرور ملے گی۔ لیکن، کرونا وائرس کی وجہ سے جامد ہو جانے والی زندگی کب معمول پر آئے گی؟ ابھی اس کی پیش گوئی اور حالات کے بارے میں ایک یقینی جائزہ قبل از وقت ہے۔
جموں و کشمیر
جموں میں آبادیاتی تبدیلیوں سے متعلق پینل کو پناہ گزینوں کی تنظیم نے یادداشت پیش کی
جموں، پی او جے کے سے بے گھر افراد کی تنظیم ایس او ایس انٹرنیشنل کے ایک وفد نے منگل کو یہاں جسٹس پرکاش پربھاکر نولیکر (ریٹائرڈ) کی سربراہی میں آبادیاتی تبدیلیوں سے متعلق پینل کو ایک تفصیلی یادداشت پیش کی۔
ایس او ایس انٹرنیشنل کے چیئرمین راجیو چونی کی قیادت میں وفد میں پروفیسر این این شرما (نائب چیئرمین)، ونود کمار دتہ (جنرل سکریٹری)، بھائی رام سنگھ (سکریٹری) اور وید راج بالی (سکریٹری) شامل تھے۔ وفد نے یادداشت پیش کرتے ہوئے 1947 سے پاکستان کے زیر قبضہ جموں و کشمیر (پی او جے کے) کی ہندو اور سکھ آبادی کے ساتھ روا رکھے گئے تاریخی ناانصافی کو ریکارڈ پر لایا اور پینل سے ٹھوس اصلاحی اقدامات کرنے کا مطالبہ کیا۔
جاری کردہ بیان کے مطابق یادداشت میں نشاندہی کی گئی کہ 1947 کے حملے کے بعد اس وقت کی جموں و کشمیر حکومت نے ابتدائی طور پر تقریباً 31,600 خاندانوں کا اندراج کیا تھا، جبکہ تقریباً 9,500 خاندانوں کو معمولی اور غیر معقول وجوہات کی بنیاد پر من مانے طریقے سے رجسٹریشن سے محروم کر دیا گیا۔
رجسٹرڈ خاندانوں میں سے صرف تقریباً 26,300 خاندانوں کو ریاست کے اندر آباد کیا گیا، جبکہ تقریباً 5,300 رجسٹرڈ خاندانوں کے ساتھ ساتھ 9,500 غیر رجسٹرڈ خاندانوں کو ہندوستان کے دیگر حصوں میں پناہ لینے پر مجبور ہونا پڑا۔ باقاعدہ طور پر رجسٹر کیے گئے خاندانوں کے ریکارڈ اب بھی جموں و کشمیر حکومت کے سرکاری ریکارڈ میں موجود ہیں۔
یادداشت میں کہا گیاکہ ’’یہ خاندان مہاراجہ ہری سنگھ کے 1927 کے اسٹیٹ سبجیکٹ قانون کے تحت ریاست کے اصل باشندے تھے اور انہوں نے بارہا اپنے آبائی وطن واپس جانے کی خواہش کا اظہار کیا ہے۔‘‘
تاہم بحالیِ آبادکاری کی کسی جامع پالیسی یا ادارہ جاتی مدد کی مکمل عدم موجودگی کے باعث ان کے پاس دوسری جگہ اپنی زندگی دوبارہ شروع کرنے کے علاوہ کوئی راستہ نہیں تھا۔ بیان کے مطابق اس وقت ریاست سے باہر رہنے والی ان کی آبادی کا تخمینہ پانچ سے چھ لاکھ ہے۔
ایس او ایس انٹرنیشنل نے یہ بھی نشاندہی کی کہ جموں و کشمیر کی اُس وقت کی حکومت کے 2014 کے کابینہ فیصلے میں ہر متاثرہ خاندان کو 25 لاکھ روپے نقد امداد، تعلیم یافتہ بے روزگار نوجوانوں کے لیے 8,500 سرکاری ملازمتیں اور پیشہ ورانہ و تکنیکی اداروں میں ریزرویشن دینے کا وعدہ کیا گیا تھا، لیکن جموں و کشمیر یا سابق ریاست سے باہر جلاوطنی کی زندگی گزارنے والے خاندانوں کے لیے اس پر عمل نہیں کیا گیا۔
جاری۔یواین آئی۔ طـ ا
جموں و کشمیر
یومِ آزادی سے قبل کشمیر بھر میں کثیر سطحی سکیورٹی انتظامات
سری نگر، 15 اگست کو یومِ آزادی کی تقریبات کے پیش نظر سری نگر اور وادیٔ کشمیر کے دیگر علاقوں میں کثیر سطحی سکیورٹی انتظامات کیے گئے ہیں۔
سری نگر میں جہاں وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ بخشی اسٹیڈیم میں قومی پرچم لہرائیں گے، سکیورٹی فورسز نے تقریب کے مقام اور اس سے متصل علاقوں میں سکیورٹی نظام کو مزید مضبوط کر دیا ہے۔
کشمیر کے انسپکٹر جنرل پولیس وی کے بردی نے منگل کو کہا کہ یومِ آزادی کی تقریبات کو خوش اسلوبی سے منعقد کرنے کے لیے نہ صرف مرکزی مقام بلکہ پورے شہر اور وادی کے مختلف اضلاع میں بھی وسیع سکیورٹی انتظامات کیے جا رہے ہیں۔
بردی نے نامہ نگاروں سے کہاکہ ’’جیسا کہ آپ جانتے ہیں، 15 اگست کو سری نگر میں مرکزی تقریب منعقد ہونے والی ہے۔
اس کے لیے سکیورٹی انتظامات اور پریڈ کی تیاریاں جاری ہیں۔ مکمل لباس میں ریہرسل کی جا رہی ہیں تاکہ 15 اگست کی مرکزی تقریب سری نگر میں بخوبی منعقد کی جا سکے۔‘‘
انہوں نے کہا کہ جموں و کشمیر پولیس نے پوری وادی میں کثیر سطحی سکیورٹی انتظامات کیے ہیں۔
آئی جی پی نے کہاکہ ’’جموں و کشمیر پولیس نے نہ صرف سری نگر بلکہ وادی کے مختلف اضلاع میں بھی کثیر سطحی سکیورٹی انتظامات کیے ہیں۔ یہ انتظامات صرف تقریبات کے مقامات تک محدود نہیں ہیں بلکہ شہر کے اطراف بھی کیے گئے ہیں۔ اس بار بھی اسی طرح کے انتظامات کیے گئے ہیں۔‘‘
جنوبی کشمیر میں حالیہ واقعات کے بعد ممکنہ دہشت گردانہ حملوں یا دیگر خطرات کے بارے میں کسی پیش رفت کے متعلق پوچھے جانے پر بردی نے کہا کہ معاملہ زیرِ تفتیش ہونے کی وجہ سے اس کی تفصیلات ظاہر کرنا مناسب نہیں ہوگا۔
انہوں نے کہاکہ ’’دیکھیے، یہ تفتیش کا معاملہ ہے۔ اس لیے میرے خیال میں ابھی اس کی تفصیلات ظاہر کرنا مناسب نہیں ہوگا۔
جب بھی ایسی کوئی بات ہوگی جسے آپ کے ساتھ شیئر کرنا ضروری ہوگا، ہم مناسب وقت پر آپ کو اس سے آگاہ کریں گے۔‘‘
یومِ آزادی کی تقریبات کے دوران عوام کے لیے پولیس کے پیغام کے بارے میں بردی نے کہا کہ یہ تقریب عوام کی ہے اور انہوں نے شہریوں سے بڑی تعداد میں تقریبات میں شرکت کرنے کی اپیل کی۔
آئی جی پی نے کہاکہ ’’دیکھیے، یہ عوام کی تقریب ہے۔ پولیس اس میں مددگار یا منتظم کا کردار ادا کرتی ہے۔ چونکہ یہ عوام کی تقریب ہے، اس لیے ہم لوگوں سے اپیل کرتے ہیں کہ وہ بڑی تعداد میں اس میں شرکت کریں اور اسے کامیاب بنائیں۔‘‘
دریں اثنا، منگل کو سکیورٹی اداروں نے یومِ آزادی کی تقریبات میں خلل ڈالنے کی کسی بھی کوشش کو ناکام بنانے کے لیے سخت سکیورٹی اقدامات کے تحت سری نگر بھر میں تخریب کاری مخالف جانچ، علاقے میں غلبہ قائم کرنے کی کارروائیوں، نگرانی اور تلاشی کی کارروائیاں تیز کر دیں۔
کئی چیک پوسٹوں پر دو پہیہ گاڑیوں کو روکا گیا اور سواروں کی شناخت کی تصدیق کے ساتھ ان کی تلاشی بھی لی گئی۔
یواین آئی۔ـظ ا
جموں و کشمیر
یومِ آزادی سے قبل جموں و کشمیر پولیس نے سرحدی سامبا میں طویل فاصلے کی گشت اور فرضی انسدادِ دہشت گردی مشق کی
جموں، آئندہ یومِ آزادی کی تقریبات کے پیش نظر آپریشنل تیاریوں کا جائزہ لینے، سکیورٹی انتظامات کو مضبوط بنانے اور کسی بھی ہنگامی صورت حال سے فوری طور پر نمٹنے کو یقینی بنانے کے لیے جموں و کشمیر پولیس نے منگل کو سامبا ضلع کے سرحدی علاقوں میں طویل فاصلے کی گشت (ایل آر پی) اور فرضی انسدادِ دہشت گردی مشق کا انعقاد کیا۔
عہدیداروں کے مطابق اسپیشل آپریشن گروپ (ایس او جی)، سامبا نے جموں-پٹھان کوٹ قومی شاہراہ پر جٹوال سے لالہ چک تک طویل فاصلے کی گشت کی۔
انہوں نے بتایا کہ گشت کے بعد سرحدی سڑک پر واقع بی پی پی لالہ چک میں فرضی مشق کی گئی، جس کا مقصد فرضی دہشت گردانہ صورت حال سے نمٹنے کے لیے حصہ لینے والے اہلکاروں کی تیاری کا جائزہ لینا تھا۔ مشق کے دوران دو فرضی دہشت گردوں کو تنصیب پر حملہ کرتے ہوئے دکھایا گیا۔
انہوں نے کہاکہ ’’فرضی خطرے پر فوری کارروائی کرتے ہوئے ایس او جی کے اہلکاروں نے علاقے کو مناسب طریقے سے گھیرے میں لے لیا اور دونوں فرضی دہشت گردوں کو کامیابی سے بے اثر کر دیا۔‘‘
عہدیداروں نے بتایا کہ اس مشق کا مقصد ایس او جی سامبا اور بی پی پی لالہ چک کے حصہ لینے والے اہلکاروں کے ردعمل کے نظام، باہمی تال میل، حربی تیاری اور ہنگامی صورت حال سے نمٹنے کی صلاحیتوں کو جانچنا تھا۔
ایس ایس پی سامبا نے پولیس کی جانب سے مضبوط سکیورٹی انتظامات برقرار رکھنے اور عوام کی سلامتی و تحفظ کو یقینی بنانے کے عزم کا اعادہ کیا، خاص طور پر آئندہ یومِ آزادی کی تقریبات اور جاری شری امرناتھ یاترا کے پیش نظر۔
یواین آئی۔ظ ا
-
دنیا1 day agoایران کا فی الحال امریکہ کے ساتھ کوئی مذاکرات نہیں: ایرانی وزیر خارجہ
-
ہندوستان1 day agoطلبہ پر کارروائی کے معاملے پر حکومت کو گھیرتے ہوئے راہل کا مضمون، کھڑگے اور پرینکا نے حمایت کی
-
دنیا1 day agoسعودی عرب میں فیکٹری میں آگ کے سبب 16 بنگلہ دیشی مزدور ہلاک
-
دنیا1 day agoٹرمپ جوہری معاہدے کے بغیر ایران کے ساتھ تنازع ختم کرنے پر تیار: رپورٹ
-
دنیا23 hours agoتجربہ کار آئی آر جی سی کمانڈر محسن رضائی ایران کے قومی سلامتی کے سربراہ مقرر
-
دنیا23 hours agoآبنائے ہرمز کے مستقبل پر ایرانی مطالبات سے غیر یقینی بڑھنے کے باعث تیل کی قیمتوں میں اضافہ
-
جموں و کشمیر2 hours agoیومِ آزادی سے قبل جموں و کشمیر پولیس نے سرحدی سامبا میں طویل فاصلے کی گشت اور فرضی انسدادِ دہشت گردی مشق کی
-
دنیا21 hours agoکیسپین سمندر معاہدے کا مستقبل ایران کی پارلیمنٹ طے کرے گی: اسماعیل بقائی
-
دنیا6 hours agoیمن میں حوثیوں کے المخا اور مارب پر بیلسٹک میزائل حملے
-
دنیا6 hours agoٹرمپ کا ایران سے معاوضے کا مطالبہ، آبنائے ہرمز پر مذاکرات جاری
-
جموں و کشمیر22 hours ago7.12 لاکھ روپے کے کپواڑہ پل گھپلے کے معاملے میں اے سی بی نے 10 افراد کے خلاف فردِ جرم عائد کی
-
دنیا6 hours agoایران اور عمان کے درمیان آبنائے ہرمز پر مذاکرات جاری
