تازہ ترین
کرونا وائرس چیلنج سے دنیا کیسے نمٹ رہی ہے؟
واشنگٹن —
علی عمران
کرونا وائرس کے پھیلاؤ نے اقوام عالم کو بہت سے مسائل سے دوچار کرنے کے ساتھ ساتھ صحت عامہ اور انسانی ترقی میں گہرے تعلق کی اہمیت کو پہلے سے کہیں نمایاں کیا ہے۔
دنیا کو لاک ڈاؤن اور قرنطینہ کی صورتحال سے نکالنے اور پھر سے ترقی کی راہ پر ڈالنے کے لیے حفاظتی انتظامات کو یقینی بنانا انتہائی ضروری عمل ہے۔ امریکہ سمیت دنیا کے ممالک اسی بڑے چیلنج سے نبردآزما ہیں۔ چونکہ اس وبائی مرض سے بچنے کے لئے تاحال کوئی ویکسین میسر نہیں ہے، اس لیے اس کے مزید پھیلاؤ کو روکنے کے لیے حفاظتی تدابیر انتہائی اہمیت کی حامل ہیں۔
عالمی صحت کے تناظر میں دیکھا جائے تو کرونا وائرس کے اثرات مزید پھیل رہے ہیں؛ لیکن ساتھ ہی اس کے پھیلاؤ کو روکنے کے حوالے سےکچھ حوصلہ افزا پیش رفت بھی ہوئی ہے۔
جانز ہاپکنز یونیورسٹی کے مطابق، کوڈ نائن ٹین COVID-19 نے اس وقت 20 لاکھ سے زائد افراد کو بیماری میں مبتلا کر رکھا ہے، جبکہ ایک لاکھ 8 ہزار سے زائد افراد لقمہ اجل بن گئے ہیں۔
یونیورسٹی کے عالمی چارٹ پر نظر ڈالی جائے تو امریکہ میں اس وقت 6 لاکھ سے زائد افراد کرونا وائرس سے متاثر ہیں، جس کے بعد سپین، اٹلی، جرمنی، فرانس اور برطانیہ آتے ہیں جب کہ آخر میں چین ہے، جہاں سے اس موذی مرض کا آغاز ہوا۔
کرونا وائرس کے پھیلنے کے آغاز سے اب تک جو اقتصادی اثرات مرتب ہوئے ہیں وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ ان میں اضافہ ہو رہا ہے۔ اقوام متحدہ کے تجارت اور ترقی سے وابستہ ادارے کے مطابق، موجودہ معاشی بحران سے عالمی اقتصادیات پر دو کھرب ڈالر تک کا نقصان ہو سکتا ہے، جبکہ بین الاقوامی مالیاتی ادارے، آئی ایم ایف کے مطابق، اقتصادی شرح نمو گھٹ کر منفی تین رہ جائے گی۔
جہاں تک اب تک کیے گئے حفاظتی اقدامات کا تعلق ہے، تجزیہ نگاروں کے مطابق ان سے کئی جگہوں پر کرونا وائرس کے مزید پھیلاؤ کو روکنے میں مدد ملی ہے۔
اس سلسلے میں ایک انتہائی اہم قدم ٹیسٹنگ کٹس کی دستیابی ہے، خاص طور پر نیویارک جیسے شہروں میں ٹیسٹنگ کٹس کی تیاری اور امریکی کمپنیوں کی طرف سے اس ساز و سامان کے بنانے کی رفتار میں اضافہ ایک امید افزا پیش رفت ہے۔ واشنگٹن میں بھی ایسی ٹیسٹ کٹس کا استعمال شروع ہوگیا ہے جو کچھ ہی منٹوں میں ٹیسٹ کا رزلٹ بتا دیتی ہیں۔
دوسری طرف، کرونا وائرس کی وجہ سے سر اٹھانے والے اقتصادی مسائل سے نمٹنے کے لیے، ٹرمپ انتظامیہ اور کانگریس کے تعاون سے ایک 2 کھرب سے زائد ڈالر کے ریلیف پروگرام کا اعلان کیا گیا ہے۔
عالمی سطح پر ایک حوصلہ افزا پیش رفت یہ ہوئی ہے کہ ترقی یافتہ ممالک کے گروپ، جی ٹونٹی نے ترقی پذیر ممالک کے لیےقرضے ادا کرنے کی چھوٹ کا اعلان کیا ہے۔ ان ترقی پذیر ملکوں میں پاکستان بھی شامل ہے۔
حال ہی میں، اکس فیم تنظیم نے کہا تھا کہ اگر اس موذی مرض کی مشکلات کو سامنے رکھتے ہوئے اقتصادی اقدام نہ کیا گیا تو دنیا کی تقریبا نصف ارب آبادی غربت کی لکیر سے نیچے چلی جائے گی۔
ماہرین اقتصادیات کے مطابق، اگر امریکہ جیسے اخراجاتی پروگراموں کا بروقت فیصلہ کیا جائے تو ان کا اقتصادی بحالی کی کوششوں پر ایک مثبت اثر پڑے گا۔
لیکن، عالمی سطح پر کرونا وائرس کے پھیلاؤ کی وجہ سے پیدا ہونے والی غیر یقینی صورتحال کو دیکھتے ہوئے بہت سے ممالک اقتصادی تحفظ پسندی کی پالیسی اپنانے کی باتیں کر رہے ہیں اور دیگر ممالک نے گندم جیسی خوراک کا ذخیرہ کرنا بھی شروع کر دیا ہے۔ کچھ ممالک میڈیکل ایکوپمنٹ اور دوائیوں کی برآمدات پر بھی شکوک کا اظہار کر رہے ہیں۔
ان نت نئے چیلنجز کو سامنے رکھتے ہوئے، عالمی برادری کی نظریں اس وقت امریکا پر لگی ہوئی ہیں، کیونکہ موجودہ عالمی اقتصادی نظام امریکہ کے اردگرد گھومتا ہے۔ ڈالر کی کرنسی سے لے کر اسٹاک مارکیٹس اور تجارت سے لے کر تجارتی راستوں کی حفاظت تک یہ عالمی اقتصادی نظام امریکہ سے جڑا ہوا ہے۔
ماہرین کے مطابق، کرونا وائرس سے پیدا ہونے والی صورتحال نے یہ واضح کر دیا ہے کہ دنیا کو جس چیلنج کا سامنا ہے وہ بیک وقت صحت عامہ کا اور اقتصادی ترقی کا چیلنج ہے۔
بہت سے ماہرین کا کہنا ہے کہ دنیا اب اس غیر معمولی صورتحال سے نکل کر ایک نیے معمول کی طرف جائے گی جہاں اس بات کا احساس شدت سے ہوگا کہ صحت عامہ ہی قوموں کی دولت کی ضامن ہے۔
ہندوستان
اروناچل ہندستان کا اٹوٹ حصہ، سرحد کی صورتحال ہی چین کے ساتھ دوطرفہ تعلقات کی بنیاد:ہندستان
نئی دہلی ہندستان نے اروناچل پردیش کو اپنا ناقابلِ تقسیم اور اٹوٹ حصہ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ چین کے ساتھ اس کے دوطرفہ تعلقات سرحد کی صورتحال پر مبنی ہوں گے اور سرحدی صورتحال کا ان تعلقات پر براہِ راست اثر ہوگا۔
وزارتِ خارجہ کے ترجمان رندھیر جیسوال نے منگل کے روز یہاں میڈیا بریفنگ میں سوالات کے جواب دیتے ہوئے یہ بات کہی۔ دراصل چین کی جانب سے اروناچل پردیش اور اس کے کچھ مقامات کے نام تبدیل کرنے کے ردعمل میں ہندستان نے حال ہی میں اروناچل پردیش کی 27 اہم جگہوں کو سروے آف انڈیا کے نقشے میں سرکاری طور پر نشان زد کر دیا ہے۔ اس پر چین کی طرف سے منفی ردعمل سامنے آیا ہے۔ چین کے اس ردعمل کے بارے میں پوچھے جانے پر مسٹر جیسوال نے کہا کہ اروناچل پردیش ہندستان کا ناقابلِ تقسیم اور اٹوٹ حصہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ ایک مسلمہ حقیقت ہے اور کوئی بھی اس ناقابلِ تردید سچائی کو بدل نہیں سکتا۔
دونوں ممالک کے درمیان سرحد پر صورتحال کے بارے میں پوچھے گئے سوال کے جواب میں ترجمان نے کہا کہ ہندستان سرحد سے جڑے معاملات کو انتہائی سنجیدہ مانتا ہے اور سرحد پر امن و استحکام اس کی ترجیح ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ سرحد کی صورتحال کا ہندستان اور چین کے تعلقات پر براہِ راست اثر پڑے گا۔ ترجمان نے کہا، “ہندستان اور چین کے درمیان سرحدی علاقوں سے جڑے معاملات میں، ہم نے ہمیشہ چین کے ساتھ بات چیت میں اس بات پر زور دیا ہے کہ ہم ان مسائل کو بے حد سنجیدہ مانتے ہیں اور ان علاقوں میں امن و استحکام برقرار رکھنا سب سے زیادہ اہم ہے۔ ہم نے یہ بھی واضح کیا ہے کہ سرحدی معاملات کی صورتحال ہمارے وسیع دوطرفہ تعلقات کی صورتحال کی عکاسی کرے گی۔ اس بات کو 06 اگست کو حال ہی میں منعقدہ ‘ہند-چین سرحدی معاملات پر مشاورت اور ہم آہنگی کے ورکنگ میکانزم’ کی 36ویں میٹنگ میں بھی دہرایا گیا۔ اس میٹنگ میں دونوں فریقوں نے کھلی اور واضح بات چیت کی اورحقیقی کنٹرول لائن (ایل اے سی) پر صورتحال کا جائزہ لیا۔”
مسٹر جیسوال نے کہا کہ میٹنگ میں ہندستان نے اس بات پر زور دیا کہ دوطرفہ تعلقات کی ہمہ گیر ترقی کے لیے سرحدی علاقوں میں امن و استحکام برقرار رکھنا انتہائی ضروری ہے۔ اس بات پر اتفاق ہوا کہ لائن آف ایکچوئل کنٹرول پر غلط فہمی اور غلط اندازوں سے بچنے نیز باقی بچے ہوئے مسائل کو حل کرنے کے لیے ورکنگ میکانزم کی میٹنگوں، مقامی کمانڈر سطح کی میٹنگوں اور دیگر میکانزم سمیت موجودہ سفارتی اور فوجی ذرائع کا استعمال جاری رکھا جائے گا۔
یو این آئی ایف اے
دنیا
موساد کے سابق سربراہ کا انکشاف، ماضی میں ایران کی فردو جوہری تنصیب کا کئی بار دورہ کیا
یروشلم، اسرائیلی خفیہ ایجنسی موساد کے سابق سربراہ یوسی کوہن نے کہا ہے کہ انہوں نے ماضی میں ایران کی فردو یورینیم افزودگی تنصیب کا کئی مرتبہ دورہ کیا تھا، تاہم انہوں نے یہ نہیں بتایا کہ یہ دورے کب کیے گئے اور ان کے ہمراہ کون تھا۔
عبرانی زبان کے میڈیا کے مطابق صفد میں منعقدہ گیلیلی فورم سے خطاب کرتے ہوئے کوہن نے کہا، ’’ہم نے فردو جوہری تنصیب کا کئی بار دورہ کیا تاکہ اس مقام کو سمجھ سکیں۔‘‘
انہوں نے مزید کہا، ’’امریکیوں کی جانب سے اس پر بمباری میرے تمام خوابوں کی تکمیل تھی۔‘‘
فردو کے علاوہ ایران کی اصفہان اور نطنز میں موجود جوہری تنصیبات کو بھی جون 2025 میں ہونے والی 12 روزہ اسرائیل۔ایران جنگ کے دوران امریکی حملوں سے شدید نقصان پہنچا تھا۔
بعد ازاں ایسی رپورٹس سامنے آئی تھیں کہ ان تنصیبات پر موجود تقریباً 440 کلوگرام انتہائی افزودہ یورینیم زمین میں دفن کر دی گئی تھی۔ تاہم اسرائیل نے بعد میں اندازہ لگایا کہ تہران نے اس مواد میں سے کچھ کو ممکنہ طور پر پکیکس ماؤنٹین کے مقام پر منتقل کر دیا تھا۔
کوہن کے مطابق 60 فیصد تک افزودہ یورینیم اب بھی ’’بم بنانے سے بہت دور‘‘ ہے۔ تاہم یہ دعویٰ جوہری ماہرین کی بعض جائزہ رپورٹس سے مختلف ہے۔ جوہری ماہر ڈیوڈ البرائٹ کا کہنا ہے کہ 60 فیصد افزودہ یورینیم کو مزید افزودہ کرکے چند ہفتوں یا حتیٰ کہ چند دنوں میں ہتھیاروں کے درجے کے مواد میں تبدیل کیا جا سکتا ہے۔
کوہن اس سے قبل ایران کے جوہری پروگرام کو نشانہ بنانے والی موساد کی کارروائیوں کے بارے میں بھی کھل کر بات کر چکے ہیں۔ 2021 میں موساد کی سربراہی چھوڑنے کے فوراً بعد ایک غیر معمولی ٹیلی ویژن انٹرویو میں انہوں نے کئی کارروائیوں کی تفصیلات فراہم کی تھیں، جن میں 2018 میں تہران کے ایک گودام سے ایران کے جوہری محفوظ شدہ ریکارڈ چوری کرنے کی کارروائی بھی شامل تھی۔
انہوں نے یہ بھی اشارہ دیا تھا کہ نطنز میں ایران کی زیر زمین سینٹری فیوج تنصیب کے ایک حصے کی تباہی کے پیچھے بھی موساد کا ہاتھ تھا۔ انہوں نے تصدیق کی تھی کہ ایرانی جوہری سائنس دان محسن فخری زادہ کو موساد نے ہی ہلاک کیا تھا اور تہران کو جوہری ہتھیار تیار کرنے کی کوشش سے باز رہنے کی تنبیہ کی تھی۔
چینل 12 کو دیے گئے اس انٹرویو میں موساد کے سابق سربراہ نے ایران کے جوہری بنیادی ڈھانچے سے اپنی واقفیت کا بھی اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ اگر انہیں موقع دیا جائے تو وہ دیان کو نطنز میں زیر زمین موجود اس ’’تہہ خانے‘‘ میں لے جائیں گے جہاں، ان کے بقول، ’’سینٹری فیوجز گھومتے تھے۔‘‘
یو این آئی۔ ع ا۔
جموں و کشمیر
جموں میں آبادیاتی تبدیلیوں سے متعلق پینل کو پناہ گزینوں کی تنظیم نے یادداشت پیش کی
جموں، پی او جے کے سے بے گھر افراد کی تنظیم ایس او ایس انٹرنیشنل کے ایک وفد نے منگل کو یہاں جسٹس پرکاش پربھاکر نولیکر (ریٹائرڈ) کی سربراہی میں آبادیاتی تبدیلیوں سے متعلق پینل کو ایک تفصیلی یادداشت پیش کی۔
ایس او ایس انٹرنیشنل کے چیئرمین راجیو چونی کی قیادت میں وفد میں پروفیسر این این شرما (نائب چیئرمین)، ونود کمار دتہ (جنرل سکریٹری)، بھائی رام سنگھ (سکریٹری) اور وید راج بالی (سکریٹری) شامل تھے۔ وفد نے یادداشت پیش کرتے ہوئے 1947 سے پاکستان کے زیر قبضہ جموں و کشمیر (پی او جے کے) کی ہندو اور سکھ آبادی کے ساتھ روا رکھے گئے تاریخی ناانصافی کو ریکارڈ پر لایا اور پینل سے ٹھوس اصلاحی اقدامات کرنے کا مطالبہ کیا۔
جاری کردہ بیان کے مطابق یادداشت میں نشاندہی کی گئی کہ 1947 کے حملے کے بعد اس وقت کی جموں و کشمیر حکومت نے ابتدائی طور پر تقریباً 31,600 خاندانوں کا اندراج کیا تھا، جبکہ تقریباً 9,500 خاندانوں کو معمولی اور غیر معقول وجوہات کی بنیاد پر من مانے طریقے سے رجسٹریشن سے محروم کر دیا گیا۔
رجسٹرڈ خاندانوں میں سے صرف تقریباً 26,300 خاندانوں کو ریاست کے اندر آباد کیا گیا، جبکہ تقریباً 5,300 رجسٹرڈ خاندانوں کے ساتھ ساتھ 9,500 غیر رجسٹرڈ خاندانوں کو ہندوستان کے دیگر حصوں میں پناہ لینے پر مجبور ہونا پڑا۔ باقاعدہ طور پر رجسٹر کیے گئے خاندانوں کے ریکارڈ اب بھی جموں و کشمیر حکومت کے سرکاری ریکارڈ میں موجود ہیں۔
یادداشت میں کہا گیاکہ ’’یہ خاندان مہاراجہ ہری سنگھ کے 1927 کے اسٹیٹ سبجیکٹ قانون کے تحت ریاست کے اصل باشندے تھے اور انہوں نے بارہا اپنے آبائی وطن واپس جانے کی خواہش کا اظہار کیا ہے۔‘‘
تاہم بحالیِ آبادکاری کی کسی جامع پالیسی یا ادارہ جاتی مدد کی مکمل عدم موجودگی کے باعث ان کے پاس دوسری جگہ اپنی زندگی دوبارہ شروع کرنے کے علاوہ کوئی راستہ نہیں تھا۔ بیان کے مطابق اس وقت ریاست سے باہر رہنے والی ان کی آبادی کا تخمینہ پانچ سے چھ لاکھ ہے۔
ایس او ایس انٹرنیشنل نے یہ بھی نشاندہی کی کہ جموں و کشمیر کی اُس وقت کی حکومت کے 2014 کے کابینہ فیصلے میں ہر متاثرہ خاندان کو 25 لاکھ روپے نقد امداد، تعلیم یافتہ بے روزگار نوجوانوں کے لیے 8,500 سرکاری ملازمتیں اور پیشہ ورانہ و تکنیکی اداروں میں ریزرویشن دینے کا وعدہ کیا گیا تھا، لیکن جموں و کشمیر یا سابق ریاست سے باہر جلاوطنی کی زندگی گزارنے والے خاندانوں کے لیے اس پر عمل نہیں کیا گیا۔
جاری۔یواین آئی۔ طـ ا
-
دنیا1 day agoایران کا فی الحال امریکہ کے ساتھ کوئی مذاکرات نہیں: ایرانی وزیر خارجہ
-
دنیا1 day agoسعودی عرب میں فیکٹری میں آگ کے سبب 16 بنگلہ دیشی مزدور ہلاک
-
دنیا1 day agoٹرمپ جوہری معاہدے کے بغیر ایران کے ساتھ تنازع ختم کرنے پر تیار: رپورٹ
-
ہندوستان1 day agoطلبہ پر کارروائی کے معاملے پر حکومت کو گھیرتے ہوئے راہل کا مضمون، کھڑگے اور پرینکا نے حمایت کی
-
جموں و کشمیر5 hours agoیومِ آزادی سے قبل جموں و کشمیر پولیس نے سرحدی سامبا میں طویل فاصلے کی گشت اور فرضی انسدادِ دہشت گردی مشق کی
-
دنیا9 hours agoٹرمپ کا ایران سے معاوضے کا مطالبہ، آبنائے ہرمز پر مذاکرات جاری
-
دنیا1 day agoتجربہ کار آئی آر جی سی کمانڈر محسن رضائی ایران کے قومی سلامتی کے سربراہ مقرر
-
دنیا5 hours agoایران نے خود کو ایک ‘ناقابل تسخیر طاقت’ ثابت کیا ہے: عراقچی
-
دنیا5 hours agoشام کے سابق صدر بشار الاسد کو سزائے موت سنادی گئی
-
دنیا9 hours agoیمن میں حوثیوں کے المخا اور مارب پر بیلسٹک میزائل حملے
-
دنیا9 hours agoایران اور عمان کے درمیان آبنائے ہرمز پر مذاکرات جاری
-
دنیا8 hours agoکولمبیا میں زلزلے سے ہلاکتوں کی تعداد 132 ہو گئی، صدر کا قومی ایمرجنسی کا اعلان
