تازہ ترین
کشمیریوں کی جدوجہد مبنی بر حق؛ ہر صورت میں جاری رکھا جائے گا: میر واعظ
خبراردو:
حریت کانفرنس (ع) چیرمین میر واعظ عمر فاروق نے حکومت ہندوستان کی طرف سے فوجی قوت کے بل پر مسئلہ کشمیر کو حل کرنے کی پالیسی کو غیر حقیقت پسندانہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ طاقت کے بل کر نوجوانوں کو پشت بہ دیوار کرنے انہیں انتہائی اقدام اُٹھانے کے لیے مجبور کیا جارہا ہے۔ انہوں نے اندرون و بیرون ریاست کی جیلوں میں سالہا سال سے بند سیاسی قیدیوں کے تئیں سیاسی انتقام گیری کی کڑی الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا کہ کشمیریوں کو جرم بے گناہی کی پاداش میں پابند سلاسل کرتے ہوئے انہیں مختلف نوعیت کے اذیت ناک مراحل سے گزار کر تشدد کا نشانہ بنایا جارہا ہے۔
حریت کانفرنس (ع) چیرمین میر واعظ عمر فاروق نے مرکزی جامع مسجد میں نماز جمعہ سے قبل عوام کے بھاری اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ حکومت ہندوستان مسئلہ کشمیر کو حل کرنے کی خاطر فوجی قوت اور دھونس و دباؤ کی پالیسی جاری رکھے ہوا ہے جس کے نتیجے میں وہ اپنی غیر حقیقت پسندانہ پالیسی کو عملاتے ہوئے نوجوانوں کو پشت بہ دیوار کررہا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ حکومت ہند نوجوانوں کو مختلف ذریعے سے ٹارچر کررہا ہے اور انہیں انتہائی اقدام اُٹھانے کے لیے مجبور کر رہا ہے۔ بھارت کی طرف سیمسئلہ کشمیر کو حل کرنے کی پالیسی کو غیر حقیقت پسندانہ اور ضد ار ہٹ دھرمی سے عبارت قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ کشمیر کی نوجوان نسل کو طاقت کے بل پر پشت بہ دیوار کرکے عسکریت کا راستہ اختیار کرنے پر مجبور کیا جارہا ہے اورگزشتہ دنوں بارہمولہ ،شوپیان اور بڈگام میں جو خونین سانحات پیش آئے ان سے ہر کشمیری کا دل چھلنی ہوکر رہ جاتا ہے ۔حریت چیرمین نے کہا کہ حکومت ہندوستان کو یہ بات سمجھ لینی چاہئے کہ وہ طاقت اور تشدد کے ذریعہ اس مسئلہ کو حل نہیں کرسکتی۔انہوں نے کہا کہ ایک طرف ہمارے نوجوان جو اس قوم کے معمار ہیں اپنے سلب شدہ حقوق کی بازیابی کیلئے اپنی جانیں قربان کررہے ہیں اور دوسری طرف جموں وکشمیر اور بھارت کی مختلف جیلوں اور عقوبت خانوں میں سالہا سال سے مقید کشمیری سیاسی نظر بندوں کو کالے قوانین کے تحت پابند سلاسل کرکے بغیر کسی جرم اور بلا کسی جواز کے ان کی مدت قید کو طول دیا جارہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ جیلوں میں بند یہ لوگ کوئی پیشہ ور مجرم یا ڈاکو نہیں بلکہ ایک عظیم نصب العین کے شیدائی ہیں مگر افسوس کا مقام ہے کہ ان لوگوں کو نہ تو وقت پر تاریخ ہائے پیشیوں میں عدالتوں میں پیش کیا جارہا ہے اور نہ ان قیدیوں کے تئیں عدل و انصاف کے تقاضوں کو پورا کیا جارہا ہے گویا ان لوگوں کوJustice Delayed is Justice Denied کا شکار بنایا جا رہا ہے۔
میرواعظ نے کہا کہ بھارت کی سپریم کورٹ کے ان احکامات کے باوجود کہ ان قیدیوں کو اپنے گھروں کے نزدیکی جیلوں میں رکھا جائے۔ حکومت ہندوستان اپنی ہی اعلیٰ عدالت کے احکامات کو یکسر نظر انداز کرکے اور قیدیوں کے حوالے سے مسلمہ عالمی قوانین اور جنیوا کنونشن کے اصولوں کو بالائے طاق رکھ کر ان قیدیوں کو دور دراز کی بھارتی ریاستوں کی جیلوں میں مقید رکھا گیا ہے اور ان میں سے بیشتر ایسے قیدی ہیں جو مدتوں سے جیلوں میں رہنے کے باعث مختلف جسمانی بیماریوں کا شکار ہو گئے ہیں اور اس طرح ان قیدیوں کو شدید سیاسی انتقام گیری کا نشانہ بنایا جارہا ہے۔میرواعظ نے جموں وکشمیر اور بھارت کی مختلف ریاستوں کی جیلوں میں مقید سیاسی قیدیوں کی تفصیلات بتا تے ہوئے کہا کہ ڈاکٹر محمد قاسم فکتو ادھمپور جیل میں 26 سال سے ، جاوید احمد خان تہاڑ جیل نئی دہلی میں22 سال، محمد ایوب خان المعروف محمود ٹوپی والا تہاڑ جیل نئی دہلی میں24 سال سے، مرزا نثار حسین جے پور راجستھان جیل 22 سال سے ،لطیف احمد وازہ جے پور راجستھان جیل 22 سال سے، علی محمد بٹ جے پور راجستھان 22 سال سے ، عبدالغنی گونی جے پور راجستھان جیل22 سال سے، غلام قادر بٹ امپھالا جیل24 سال سے، ڈاکٹر محمد شفیع خان ہیرا نگر جیل 13 سال سے، فیروز احمد خان تہاڑ جیل دہلی16 سال سے، پرویز احمد میر تہاڑ جیل دلی16 سال سے، مقصود احمد بٹ کورٹ بلوال جیل جموں12 سال سے، بلال احمد کوٹہ بنگلور سینٹرل جیل13 سال سے، غلام محمد بٹ کورٹ بلوال جیل جموں17 سال سے، محمد اسلم گجر ممبئی جیل 13 سال سے، محمد ایوب میر14سال سے،محمد ایوب ڈار سینٹرل جیل سرینگر 18 سال سے، شوکت احمد خان سینٹرل جیل سرینگر11 سال سے، نذیر احمد شیخ کورٹ بلوال جموں18 سال سے، فاروق احمد شیخ کورٹ بلوال جموں11 سال سے، محمد عباس وانی کورٹ بلوال جیل12 سال سے، شیخ عمران سینٹرل جیل سرینگر15 سال سے، برکت علی خان سینٹرل جیل سرینگر16 سال سے، عبدالحمید تیلی سینٹرل جیل سرینگر13 سال، محمد اقبال خان سینٹرل جیل سرینگر16 سال سے، محمد صادق گجر سینٹرل جیل سرینگر17 سال سے، سائیں محمد گجر سینٹرل جیل سرینگر16 سال سے، مہندیا گجر سینٹرل جیل سرینگر16 سال سے، اشفاق احمد پال کورٹ بلوال جموں15 سال سے، ڈاکٹر غلام محمد بٹ تہاڑ جیل دہلی8 سال سے، محمد اسلم وانی تہاڑ جیل دلی 7 سال سے، مسرت عالم بٹ کورٹ بلوال جیل میں کبھی ان کو رہا کیا جاتا ہے کبھی گرفتار اور کل ملا کر25 سال سے جیل میں ہے، مظفر احمد راتھر کورٹ بلوال جموں10 سال سے، بشیر احمد بابا گجرات جیل 9 سال سے، مظفر احمد ڈار تہاڑ جیل11 سال سے، محمد شفیع شاہ تہاڑ جیل9 سال سے، ڈاکٹر وسیم تہاڑ جیل10 سال سے، مشتاق احمد لون تہاڑ جیل6 سال سے مقید ہیں۔ اس کے علاوہ NIA اور ED کی جانب سے گرفتار کئے گئے کشمیری سیاسی نظر بندوں کو جن میں شبیر احمد شاہ، ایڈوکیٹ شاہدالاسلام،ڈاکٹر غلام محمد بٹ، الطاف احمد فنٹوش، ایاز اکبر، پیر سیف اللہ، معراج الدین کلوال ، نعیم احمد خان، فاروق احمد ڈار ، شاہد یوسف ، تاجر ظہور وٹالی، محترمہ آسیہ اندرابی، محترمہ فہمیدہ صوفی اور محترمہ ناہیدہ نسرین شامل ہیں کو دلی کے تہاڑ جیل میں مقید رکھا گیا ہے۔
اس کے علاوہ لا تعداد ایسے قیدی ہیں جو جموں وکشمیر اور بھارت کی دیگر ریاستوں کی جیلوں میں کئی سالوں سے جرم بے گناہی کی پاداش میں اذیتوں کا نشانہ بنائے جارہے ہیں۔انہوں نے حکومت ہندوستان کی جانب سے ان قیدیوں کے تئیں روا رکھی جارہی ظلم و جبر کی پالیسی کی شدید مذمت کرتے ہوئے حقوق بشر کے عالمی اداروں سے اپیل کی کہ وہ اپنے وفود ان جیلوں میں روانہ کریں اور ان قیدیوں کی حالت زار کا جائزہ لیکر ان کے تئیں عدل و انصاف کے تقاضوں کو پورا کرنے کیلئے بھارت پر دباؤ ڈالیں۔ میرواعظ نے 1990ء میں کپوارہ اور ہندوارہ میں اورپیش آئے خونین سانحات میں شہید کئے گے افراد کو خراج عقیدت ادا کرتے ہوئے کہا کہ آج تک کشمیر میں ان گنت خونین سانحات پیش آئے لیکن اب تک نہ کسی واقعہ کی تحقیقات ہوئی اور نہ کسی متاثر کو انصاف ملا۔ انہوں نے 1998 میں وندہامہ گاندربل میں پیش آئے خونین سانحہ جس میں نا معلوم افراد کے ہاتھوں 23 کے قریب کشمیری پنڈتوں کو قتل کیا گیا کی غیر جانبدارانہ تحقیقات کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ اس خونین سانحہ کی اب تک نہ کوئی غیر جانبدارانہ تحقیقات عمل میں لائی گئی اورنہ اس سانحہ میں ملوث مجرموں کو سزا دی گئی۔
انہوں نے اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ ہماری جدوجہد مبنی برحق ہے اور یہ جدوجہد اپنے منطقی انجام تک ہر سطح پر جاری و ساری رکھی جائیگی۔جنوری کو اٹانومی سے مشروط کرتے ہوئے کہا کہ جموں وکشمیر سے چھینی گئی اندرونی خودمختاری کی بحالی سے ہی 26جنوری کی تقریب کو منانے کا مقصد پورا ہوسکتا ہے۔ انہوں نے انکشاف کرتے ہوئے کہا کہ ریاست کی بچی کچی خود مختاری کو بھی سلب کرنے کے لیے مزید راستے ڈھونڈے جارہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ آئین ہند کے تحت جہاں ملک کے تمام مذاہب اور طبقوں سے تعلق رکھنے والے لوگوں کو مذہبی اوراظہارِ رائے کی آزادی کا حق حاصل ہواوہیں اسی آئین میں جموں وکشمیر کی اندرونی خودمختاری کا اندراج بھی ہوا، لیکن موجودہ دور میں بھارت کی اقلیتوں کی مذہبی آزادی سلب کی جارہی ہے، لوگوں سے اظہارِ رائے کا حق چھینا جارہا ہے اور جموں وکشمیر کی خصوصی پوزیشن پر شب خون مارنے کے مزید راستے ڈھونڈے جارہے ہیں، ایسے میں 26جنوری کی تقریبات میں جمہوریت اور آئین کی رکھوالی کے بلند بانگ دعوے کرنا لوگوں کو گمراہ کرنے کے مترادف ہے۔ انہوں نے کہا کہ انگریز سامراج سے آزادی حاصل کرنے کے بعد جموں وکشمیر نے آزاد ہندوستان کیساتھ مشروط الحاق کیا اور اس مشروط الحاق کو بھارت کے آئین میں شامل کرکے ہماری ریاست کو خصوصی درجہ حاصل ہوا۔
ڈاکٹر کمال نے کہا کہ 26جنوری کے موقعے پر ہم اُن شخصیات کو خراج عقیدت پیش کرتے ہیں جنہوں نے ملک کا آئین مرتب کیا اور اس آئین میں جموں وکشمیر کی اندرونی خودمختاری کو آئینی شکل دی۔ انہوں نے کہا کہ 26جنوری منانے کا مقصد اُسی صورت میں پورا ہوسکتا ہے جب طاقت کے بلبوتے پر جموں وکشمیر سے چھینی گئی اندرونی خودمختاری کو واپس بحال کیا جائے گا۔ 9اگست 1953کے بعد سے لیکر آج تک ریاست کی خصوصی پوزیشن کیساتھ ہوئی ہر ایک چھیڑ چھیڑغیر آئینی اور غیر جمہوری ہے۔ ڈاکٹر کمال نے کہا کہ آج ہی قومی یوم رائے دہندگان بھی منا رہے ہیں۔ یہ بات کسی سے ڈھکی چھپی نہیں کہ جموں و کشمیر کے لوگوں کو ووٹ پرچی کا حق نیشنل کانفرنس کی کوششوں اور کاوشوں کی ہی دین ہے۔ نیشنل کانفرنس کے متوالوں اور جانثاروں کی بدولت ہی جموں وکشمیر میں جمہوریت کا بول بالا ہوا ۔ انہوں نے کہا کہ جموں وکشمیر برصغیر میں ایسی واحد ریاست تھی جہاں 18سال کی عمر میں ہی ووٹ پرچی کا حق حاصل ہوتا تھا جبکہ بھارت میں لوگوں کو یہ حق 21سال کی عمر میں حاصل ہوتا تھا۔ شیر کشمیر شیخ محمد عبداللہ نے 18سال کی عمر ووٹ پرچی کا حق اس لئے سے دیا تھا کیونکہ وہ روشن اور تابناک مستقبل میں نوجوانوں کے رول کی اہمیت بخوبی سمجھتے تھے۔ انہوں نے کہا کہ بھارت اور برصغیر کے دیگر ممالک نے بعد میں جموں وکشمیر کے آئین سے ترغیب لیکر نہ صرف ووٹ ڈالے کی عمر 18سال کی بلکہ پنچایت راج کا قیام بھی عمل میں لایا۔
ہندوستان
اروناچل ہندستان کا اٹوٹ حصہ، سرحد کی صورتحال ہی چین کے ساتھ دوطرفہ تعلقات کی بنیاد:ہندستان
نئی دہلی ہندستان نے اروناچل پردیش کو اپنا ناقابلِ تقسیم اور اٹوٹ حصہ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ چین کے ساتھ اس کے دوطرفہ تعلقات سرحد کی صورتحال پر مبنی ہوں گے اور سرحدی صورتحال کا ان تعلقات پر براہِ راست اثر ہوگا۔
وزارتِ خارجہ کے ترجمان رندھیر جیسوال نے منگل کے روز یہاں میڈیا بریفنگ میں سوالات کے جواب دیتے ہوئے یہ بات کہی۔ دراصل چین کی جانب سے اروناچل پردیش اور اس کے کچھ مقامات کے نام تبدیل کرنے کے ردعمل میں ہندستان نے حال ہی میں اروناچل پردیش کی 27 اہم جگہوں کو سروے آف انڈیا کے نقشے میں سرکاری طور پر نشان زد کر دیا ہے۔ اس پر چین کی طرف سے منفی ردعمل سامنے آیا ہے۔ چین کے اس ردعمل کے بارے میں پوچھے جانے پر مسٹر جیسوال نے کہا کہ اروناچل پردیش ہندستان کا ناقابلِ تقسیم اور اٹوٹ حصہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ ایک مسلمہ حقیقت ہے اور کوئی بھی اس ناقابلِ تردید سچائی کو بدل نہیں سکتا۔
دونوں ممالک کے درمیان سرحد پر صورتحال کے بارے میں پوچھے گئے سوال کے جواب میں ترجمان نے کہا کہ ہندستان سرحد سے جڑے معاملات کو انتہائی سنجیدہ مانتا ہے اور سرحد پر امن و استحکام اس کی ترجیح ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ سرحد کی صورتحال کا ہندستان اور چین کے تعلقات پر براہِ راست اثر پڑے گا۔ ترجمان نے کہا، “ہندستان اور چین کے درمیان سرحدی علاقوں سے جڑے معاملات میں، ہم نے ہمیشہ چین کے ساتھ بات چیت میں اس بات پر زور دیا ہے کہ ہم ان مسائل کو بے حد سنجیدہ مانتے ہیں اور ان علاقوں میں امن و استحکام برقرار رکھنا سب سے زیادہ اہم ہے۔ ہم نے یہ بھی واضح کیا ہے کہ سرحدی معاملات کی صورتحال ہمارے وسیع دوطرفہ تعلقات کی صورتحال کی عکاسی کرے گی۔ اس بات کو 06 اگست کو حال ہی میں منعقدہ ‘ہند-چین سرحدی معاملات پر مشاورت اور ہم آہنگی کے ورکنگ میکانزم’ کی 36ویں میٹنگ میں بھی دہرایا گیا۔ اس میٹنگ میں دونوں فریقوں نے کھلی اور واضح بات چیت کی اورحقیقی کنٹرول لائن (ایل اے سی) پر صورتحال کا جائزہ لیا۔”
مسٹر جیسوال نے کہا کہ میٹنگ میں ہندستان نے اس بات پر زور دیا کہ دوطرفہ تعلقات کی ہمہ گیر ترقی کے لیے سرحدی علاقوں میں امن و استحکام برقرار رکھنا انتہائی ضروری ہے۔ اس بات پر اتفاق ہوا کہ لائن آف ایکچوئل کنٹرول پر غلط فہمی اور غلط اندازوں سے بچنے نیز باقی بچے ہوئے مسائل کو حل کرنے کے لیے ورکنگ میکانزم کی میٹنگوں، مقامی کمانڈر سطح کی میٹنگوں اور دیگر میکانزم سمیت موجودہ سفارتی اور فوجی ذرائع کا استعمال جاری رکھا جائے گا۔
یو این آئی ایف اے
دنیا
موساد کے سابق سربراہ کا انکشاف، ماضی میں ایران کی فردو جوہری تنصیب کا کئی بار دورہ کیا
یروشلم، اسرائیلی خفیہ ایجنسی موساد کے سابق سربراہ یوسی کوہن نے کہا ہے کہ انہوں نے ماضی میں ایران کی فردو یورینیم افزودگی تنصیب کا کئی مرتبہ دورہ کیا تھا، تاہم انہوں نے یہ نہیں بتایا کہ یہ دورے کب کیے گئے اور ان کے ہمراہ کون تھا۔
عبرانی زبان کے میڈیا کے مطابق صفد میں منعقدہ گیلیلی فورم سے خطاب کرتے ہوئے کوہن نے کہا، ’’ہم نے فردو جوہری تنصیب کا کئی بار دورہ کیا تاکہ اس مقام کو سمجھ سکیں۔‘‘
انہوں نے مزید کہا، ’’امریکیوں کی جانب سے اس پر بمباری میرے تمام خوابوں کی تکمیل تھی۔‘‘
فردو کے علاوہ ایران کی اصفہان اور نطنز میں موجود جوہری تنصیبات کو بھی جون 2025 میں ہونے والی 12 روزہ اسرائیل۔ایران جنگ کے دوران امریکی حملوں سے شدید نقصان پہنچا تھا۔
بعد ازاں ایسی رپورٹس سامنے آئی تھیں کہ ان تنصیبات پر موجود تقریباً 440 کلوگرام انتہائی افزودہ یورینیم زمین میں دفن کر دی گئی تھی۔ تاہم اسرائیل نے بعد میں اندازہ لگایا کہ تہران نے اس مواد میں سے کچھ کو ممکنہ طور پر پکیکس ماؤنٹین کے مقام پر منتقل کر دیا تھا۔
کوہن کے مطابق 60 فیصد تک افزودہ یورینیم اب بھی ’’بم بنانے سے بہت دور‘‘ ہے۔ تاہم یہ دعویٰ جوہری ماہرین کی بعض جائزہ رپورٹس سے مختلف ہے۔ جوہری ماہر ڈیوڈ البرائٹ کا کہنا ہے کہ 60 فیصد افزودہ یورینیم کو مزید افزودہ کرکے چند ہفتوں یا حتیٰ کہ چند دنوں میں ہتھیاروں کے درجے کے مواد میں تبدیل کیا جا سکتا ہے۔
کوہن اس سے قبل ایران کے جوہری پروگرام کو نشانہ بنانے والی موساد کی کارروائیوں کے بارے میں بھی کھل کر بات کر چکے ہیں۔ 2021 میں موساد کی سربراہی چھوڑنے کے فوراً بعد ایک غیر معمولی ٹیلی ویژن انٹرویو میں انہوں نے کئی کارروائیوں کی تفصیلات فراہم کی تھیں، جن میں 2018 میں تہران کے ایک گودام سے ایران کے جوہری محفوظ شدہ ریکارڈ چوری کرنے کی کارروائی بھی شامل تھی۔
انہوں نے یہ بھی اشارہ دیا تھا کہ نطنز میں ایران کی زیر زمین سینٹری فیوج تنصیب کے ایک حصے کی تباہی کے پیچھے بھی موساد کا ہاتھ تھا۔ انہوں نے تصدیق کی تھی کہ ایرانی جوہری سائنس دان محسن فخری زادہ کو موساد نے ہی ہلاک کیا تھا اور تہران کو جوہری ہتھیار تیار کرنے کی کوشش سے باز رہنے کی تنبیہ کی تھی۔
چینل 12 کو دیے گئے اس انٹرویو میں موساد کے سابق سربراہ نے ایران کے جوہری بنیادی ڈھانچے سے اپنی واقفیت کا بھی اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ اگر انہیں موقع دیا جائے تو وہ دیان کو نطنز میں زیر زمین موجود اس ’’تہہ خانے‘‘ میں لے جائیں گے جہاں، ان کے بقول، ’’سینٹری فیوجز گھومتے تھے۔‘‘
یو این آئی۔ ع ا۔
جموں و کشمیر
جموں میں آبادیاتی تبدیلیوں سے متعلق پینل کو پناہ گزینوں کی تنظیم نے یادداشت پیش کی
جموں، پی او جے کے سے بے گھر افراد کی تنظیم ایس او ایس انٹرنیشنل کے ایک وفد نے منگل کو یہاں جسٹس پرکاش پربھاکر نولیکر (ریٹائرڈ) کی سربراہی میں آبادیاتی تبدیلیوں سے متعلق پینل کو ایک تفصیلی یادداشت پیش کی۔
ایس او ایس انٹرنیشنل کے چیئرمین راجیو چونی کی قیادت میں وفد میں پروفیسر این این شرما (نائب چیئرمین)، ونود کمار دتہ (جنرل سکریٹری)، بھائی رام سنگھ (سکریٹری) اور وید راج بالی (سکریٹری) شامل تھے۔ وفد نے یادداشت پیش کرتے ہوئے 1947 سے پاکستان کے زیر قبضہ جموں و کشمیر (پی او جے کے) کی ہندو اور سکھ آبادی کے ساتھ روا رکھے گئے تاریخی ناانصافی کو ریکارڈ پر لایا اور پینل سے ٹھوس اصلاحی اقدامات کرنے کا مطالبہ کیا۔
جاری کردہ بیان کے مطابق یادداشت میں نشاندہی کی گئی کہ 1947 کے حملے کے بعد اس وقت کی جموں و کشمیر حکومت نے ابتدائی طور پر تقریباً 31,600 خاندانوں کا اندراج کیا تھا، جبکہ تقریباً 9,500 خاندانوں کو معمولی اور غیر معقول وجوہات کی بنیاد پر من مانے طریقے سے رجسٹریشن سے محروم کر دیا گیا۔
رجسٹرڈ خاندانوں میں سے صرف تقریباً 26,300 خاندانوں کو ریاست کے اندر آباد کیا گیا، جبکہ تقریباً 5,300 رجسٹرڈ خاندانوں کے ساتھ ساتھ 9,500 غیر رجسٹرڈ خاندانوں کو ہندوستان کے دیگر حصوں میں پناہ لینے پر مجبور ہونا پڑا۔ باقاعدہ طور پر رجسٹر کیے گئے خاندانوں کے ریکارڈ اب بھی جموں و کشمیر حکومت کے سرکاری ریکارڈ میں موجود ہیں۔
یادداشت میں کہا گیاکہ ’’یہ خاندان مہاراجہ ہری سنگھ کے 1927 کے اسٹیٹ سبجیکٹ قانون کے تحت ریاست کے اصل باشندے تھے اور انہوں نے بارہا اپنے آبائی وطن واپس جانے کی خواہش کا اظہار کیا ہے۔‘‘
تاہم بحالیِ آبادکاری کی کسی جامع پالیسی یا ادارہ جاتی مدد کی مکمل عدم موجودگی کے باعث ان کے پاس دوسری جگہ اپنی زندگی دوبارہ شروع کرنے کے علاوہ کوئی راستہ نہیں تھا۔ بیان کے مطابق اس وقت ریاست سے باہر رہنے والی ان کی آبادی کا تخمینہ پانچ سے چھ لاکھ ہے۔
ایس او ایس انٹرنیشنل نے یہ بھی نشاندہی کی کہ جموں و کشمیر کی اُس وقت کی حکومت کے 2014 کے کابینہ فیصلے میں ہر متاثرہ خاندان کو 25 لاکھ روپے نقد امداد، تعلیم یافتہ بے روزگار نوجوانوں کے لیے 8,500 سرکاری ملازمتیں اور پیشہ ورانہ و تکنیکی اداروں میں ریزرویشن دینے کا وعدہ کیا گیا تھا، لیکن جموں و کشمیر یا سابق ریاست سے باہر جلاوطنی کی زندگی گزارنے والے خاندانوں کے لیے اس پر عمل نہیں کیا گیا۔
جاری۔یواین آئی۔ طـ ا
-
دنیا1 day agoایران کا فی الحال امریکہ کے ساتھ کوئی مذاکرات نہیں: ایرانی وزیر خارجہ
-
دنیا1 day agoسعودی عرب میں فیکٹری میں آگ کے سبب 16 بنگلہ دیشی مزدور ہلاک
-
ہندوستان1 day agoطلبہ پر کارروائی کے معاملے پر حکومت کو گھیرتے ہوئے راہل کا مضمون، کھڑگے اور پرینکا نے حمایت کی
-
دنیا1 day agoتجربہ کار آئی آر جی سی کمانڈر محسن رضائی ایران کے قومی سلامتی کے سربراہ مقرر
-
دنیا1 day agoٹرمپ جوہری معاہدے کے بغیر ایران کے ساتھ تنازع ختم کرنے پر تیار: رپورٹ
-
ہندوستان6 hours agoپارلیمنٹ کے احاطے میں اپوزیشن ارکانِ پارلیمنٹ کا احتجاج
-
جموں و کشمیر4 hours agoیومِ آزادی سے قبل جموں و کشمیر پولیس نے سرحدی سامبا میں طویل فاصلے کی گشت اور فرضی انسدادِ دہشت گردی مشق کی
-
دنیا8 hours agoیمن میں حوثیوں کے المخا اور مارب پر بیلسٹک میزائل حملے
-
دنیا8 hours agoٹرمپ کا ایران سے معاوضے کا مطالبہ، آبنائے ہرمز پر مذاکرات جاری
-
دنیا8 hours agoایران اور عمان کے درمیان آبنائے ہرمز پر مذاکرات جاری
-
دنیا7 hours agoکولمبیا میں زلزلے سے ہلاکتوں کی تعداد 132 ہو گئی، صدر کا قومی ایمرجنسی کا اعلان
-
ہندوستان6 hours agoسندوش کمار نے نِرملا سیتارمن کے تبصرے راجیہ سبھا کے ریکارڈ سے ہٹانے کا مطالبہ کیا
