تازہ ترین
کلگام میں فورسز نے شروع کیا تلاشی آپریشن
خبراردو :
کلگام میں فورسز نے سوموار کی صبح محاصرہ اور تلاشی آپریشن شروع کیا ہے ۔
اطلاعات کے مطابق کلگام کے کنڈی پورہ علاقے میں جنگجوؤں کی موجودگی کی اطلاع ملنے کے بعدفوج اور ایس او جی کی مشترکہ ٹیم نے نے علاقے میں محاصرہ اور تلاشی آپریشن شروع کیا ۔
علاقے میں آخری اطلاعات ملنے تک محاصر ہ اور تلاشی آپریشن جاری تھا جبکہ ابھی تک جھڑپ کی کوئی خبر نہیں آئی ہے ۔
مزید اطلاعات آنا ابھی باقی ہیں
دنیا
زمبابوے میں فیری الٹنے سے کم از کم 15 افراد ہلاک، درجنوں لاپتہ
ہرارے، زمبابوے کی سول پروٹیکشن یونٹ کے مطابق جھیل کاریبا میں گنجائش سے زیادہ مسافروں سے بھری ایک فیری الٹنے کے نتیجے میں کم از کم 15 افراد ہلاک جبکہ 27 لاپتہ ہوگئے ہیں۔
حکام کے مطابق کشتی منگل کو تیز لہروں کی زد میں آکر الٹ گئی۔ حادثے کے بعد کم از کم 77 افراد کو بچا لیا گیا۔
سول پروٹیکشن یونٹ نے بتایا کہ یہ کشتی شمالی شہر کاریبا کو جھیل میں واقع متعدد جزائر اور ماہی گیری کے کیمپوں سے ملانے کے لیے استعمال ہوتی تھی۔ حادثے کے وقت فیری اپنی مقررہ گنجائش 90 افراد سے زیادہ مسافروں کو لے جا رہی تھی۔
حکام نے کہا کہ کشتی میں موجود مسافروں اور عملے کی حتمی تعداد ابھی معلوم نہیں ہوسکی، تاہم رجسٹرڈ ٹکٹوں کی بنیاد پر کم از کم 114 بالغ مسافروں اور عملے کے پانچ ارکان کی موجودگی کی تصدیق ہوئی ہے۔
حکام کے مطابق کشتی میں ٹکٹ خریدنے کی عمر سے کم تعداد میں بچے بھی سوار ہوسکتے تھے جن کا ابھی تک حساب نہیں لگایا جاسکا۔
زمبابوے کی قومی پولیس نے بتایا کہ امدادی اور تلاش کی کارروائیاں جاری ہیں۔
سرکاری نشریاتی ادارے زیڈ بی سی نے ایسی ویڈیو نشر کی جس میں تیز رفتار کشتیاں جھیل میں الٹی ہوئی کشتی کی جانب جاتی دکھائی دیں جبکہ ایک ہیلی کاپٹر اوپر پرواز کر رہا تھا۔ رپورٹ کے مطابق تلاش اور امداد کے لیے زیر آب کارروائی کرنے والی ٹیم بھی وسیع جھیل میں تعینات کی گئی ہے۔
حادثے کے عینی شاہد میکسٹن کانہیما نے خبر رساں ایجنسی اے ایف پی کو بتایا کہ کشتی خراب موسم کے دوران روانہ ہوئی تھی اور ممکنہ طور پر ایک بڑی لہر کشتی سے ٹکرائی، جس کے باعث اس کے انجن بند ہوگئے۔انہوں نے کہا، ’’جب ہم پانی میں تھے تو ایک ہنگامی اشارہ نظر آیا، جس کے بعد قریب موجود کشتیوں نے مدد کے لیے رخ کیا۔‘‘
کانہیما کے مطابق ماتوسادونا نیشنل پارک نے امدادی کارروائی میں مدد کے لیے ایک ہیلی کاپٹر فراہم کیا، جبکہ بڑی کشتیاں اور مقامی علاقے اور فوج کے غوطہ خور بھی امدادی سرگرمیوں میں شریک ہوئے۔
انہوں نے کہا، ’’لوگ مشکل میں تھے… پانی میں لاشیں موجود تھیں اور یہ ایک انتہائی افسوسناک منظر تھا۔ جن لوگوں کو بچایا جاسکتا تھا، انہیں بچا لیا گیا۔‘‘
ان کے مطابق خراب موسم کے باعث امدادی کارروائی میں کچھ تاخیر ہوئی۔ انہوں نے کہا کہ حادثے کی جگہ تک پہنچنے میں وقت لگا اور بدقسمتی سے کئی قیمتی جانیں ضائع ہوگئیں۔
جھیل کاریبا زمبابوے اور زیمبیا کی سرحد پر دارالحکومت ہرارے سے 300 کلومیٹر سے زیادہ شمال مشرق میں واقع ہے۔ حجم کے اعتبار سے یہ دنیا کی سب سے بڑی مصنوعی جھیل ہے۔
یہ جھیل 1950 کی دہائی کے اواخر اور 1960 کی دہائی کے اوائل میں دریائے زمبیزی کا راستہ روکنے کے لیے ڈیم تعمیر کرکے بنائی گئی تھی۔ پانی بھرنے کے بعد وجود میں آنے والی یہ وسیع جھیل اب 200 کلومیٹر سے زیادہ طویل اور بعض مقامات پر 40 کلومیٹر تک چوڑی ہے۔
یو این آئی۔ ع ا۔
دنیا
حوثیوں کے باب المندب میں بحری جہاز پر حملے میں 6 افراد ہلاک، یمنی حکومت کا دعویٰ
صنعا، یمن کی بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ حکومت نے الزام عائد کیا ہے کہ حوثی باغیوں نے باب المندب آبنائے میں ایک مال بردار جہاز پر دو مرحلوں میں حملہ کرکے کم از کم 6 افراد کو ہلاک اور 10 کو زخمی کردیا۔
مصر کی ملکیت والے بحری جہاز تہامہ پر منگل کو ہونے والا یہ حملہ 28 فروری کو امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایران کے خلاف جنگ شروع کیے جانے کے بعد حوثیوں سے منسوب بحری جہازوں پر ایسا پہلا حملہ ہے جس میں ہلاکتیں ہوئی ہیں۔
یمن کی وزارتِ نقل و حمل کے مطابق حوثیوں نے تجارتی جہاز پر تین بیلسٹک میزائل داغے، جس کے نتیجے میں جہاز میں آگ بھڑک اٹھی اور اسے ’’شدید نقصان‘‘ پہنچا۔
وزارت کے مطابق ہلاک ہونے والوں میں تین پاکستانی اور ایک انڈونیشی شہری شامل ہیں۔
یمن کی کوسٹ گارڈ نے ایک الگ بیان میں کہا کہ امدادی اہلکار جب ہلاک اور زخمی افراد کو جہاز سے نکال رہے تھے تو حوثیوں نے ایک اور میزائل داغ دیا۔
کوسٹ گارڈ کے مطابق، ’’حملہ امدادی کارروائی کے مقام پر ہوا، جس کے نتیجے میں امدادی کارروائی میں حصہ لینے والی فورسز کے اہلکار بھی ہلاک اور زخمی ہوئے۔‘‘
دوسرے حملے میں کم از کم دو فوجی ہلاک ہوئے۔
حکام کے مطابق مجموعی طور پر 10 افراد زخمی ہوئے، جن میں جہاز کے سات عملے کے ارکان بھی شامل ہیں۔
یمن کی وزارت خارجہ نے حملے کی مذمت کرتے ہوئے عالمی برادری پر زور دیا کہ وہ حوثیوں کے خلاف محض مذمت تک محدود نہ رہے بلکہ ’’مؤثر اور فیصلہ کن کارروائی‘‘ کرے۔
حوثیوں کی جانب سے اس حملے پر فوری طور پر کوئی سرکاری تبصرہ نہیں کیا گیا۔تاہم حوثیوں کے زیر انتظام خبر رساں ادارے صبا نے رپورٹ کیا کہ گروپ نے باب المندب میں فوجی سازوسامان لے جانے والے ایک سعودی بحری جہاز کو نشانہ بنایا۔ رپورٹ میں جہاز کا نام نہیں بتایا گیا اور سعودی عرب کی جانب سے بھی فوری ردعمل سامنے نہیں آیا۔
ایک الگ واقعے میں امریکی فوج نے منگل کو کہا کہ اس نے خلیج عمان میں ایرانی بندرگاہوں کی امریکی ناکہ بندی توڑنے کی کوشش کرنے والے ایک بحری جہاز پر فائرنگ کی۔ امریکی سینٹرل کمانڈ کے مطابق امریکی بحریہ کے ایک ہیلی کاپٹر نے پاناما کے پرچم والے مال بردار جہاز ویلا نووا پر دو ہیل فائر میزائل داغے، تاہم یہ نہیں بتایا گیا کہ عملے کا کوئی رکن زخمی ہوا یا نہیں۔
یمن میں تازہ کشیدگی حوثیوں اور سعودی حمایت یافتہ بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ حکومت کے درمیان کئی سال سے جاری جنگ بندی کے خاتمے کے بعد سامنے آئی ہے۔
اقوام متحدہ کی حمایت یافتہ 2022 کی جنگ بندی اس وقت ختم ہوئی جب 13 جولائی کو سعودی عرب نے صنعا ہوائی اڈے کے رن وے پر فضائی حملہ کیا، جس کے باعث ایک ایرانی پرواز کو اترنے سے روک دیا گیا۔ اس پرواز میں حوثیوں کا ایک اعلیٰ سطحی وفد سوار تھا۔اس کے بعد حوثیوں نے جنوب مغربی سعودی عرب میں ابہا ہوائی اڈے کو نشانہ بنایا اور بحیرۂ احمر میں سعودی بحری جہازوں کے خلاف بحری ناکہ بندی کا اعلان کیا۔
حوثیوں نے سعودی بحری جہازوں اور مملکت کی تیل تنصیبات کو بھی نشانہ بنایا، جس سے عالمی معیشت میں مزید خلل پیدا ہوا۔
جواباً سعودی قیادت میں اتحاد نے حوثیوں کے زیر قبضہ حدیدہ اور بحیرۂ احمر کے سب سے بڑے جزیرے کمران کو نشانہ بنایا۔
حوثیوں نے یمن میں حکومت کے زیر کنٹرول علاقوں پر بھی حملے کیے، جن میں بحیرۂ احمر کا ساحلی شہر المخا (موکا) اور وسطی شہر مارب شامل ہیں۔ ان حملوں میں درجنوں فوجی اور شہری ہلاک ہوچکے ہیں۔
یمن کی بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ حکومت نے منگل کو کہا کہ حوثیوں نے ملک کے مغربی ساحل پر مختلف مقامات کو نشانہ بناتے ہوئے مزید حملوں کے دوران 10 میزائل اور چار ڈرون داغے۔
دوسری جانب حوثیوں کا کہنا ہے کہ انہوں نے المخا اور وسطی صوبہ مارب میں سعودی فوجی اجتماع، ہتھیاروں کے ذخائر اور کمانڈ پوسٹوں کو بیلسٹک میزائلوں اور ڈرونز سے نشانہ بنایا۔
اقوام متحدہ نے فریقین سے تحمل کا مظاہرہ کرنے کی اپیل کی ہے اور خبردار کیا ہے کہ دوبارہ شروع ہونے والی دشمنی یمن کو ایک وسیع تر علاقائی تنازع میں گھسیٹ سکتی ہے، جس کے یمنی عوام کے لیے ’’تباہ کن نتائج‘‘ ہوں گے۔
یو این آئی۔ ع ا۔
ہندوستان
اروناچل ہندستان کا اٹوٹ حصہ، سرحد کی صورتحال ہی چین کے ساتھ دوطرفہ تعلقات کی بنیاد:ہندستان
نئی دہلی ہندستان نے اروناچل پردیش کو اپنا ناقابلِ تقسیم اور اٹوٹ حصہ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ چین کے ساتھ اس کے دوطرفہ تعلقات سرحد کی صورتحال پر مبنی ہوں گے اور سرحدی صورتحال کا ان تعلقات پر براہِ راست اثر ہوگا۔
وزارتِ خارجہ کے ترجمان رندھیر جیسوال نے منگل کے روز یہاں میڈیا بریفنگ میں سوالات کے جواب دیتے ہوئے یہ بات کہی۔ دراصل چین کی جانب سے اروناچل پردیش اور اس کے کچھ مقامات کے نام تبدیل کرنے کے ردعمل میں ہندستان نے حال ہی میں اروناچل پردیش کی 27 اہم جگہوں کو سروے آف انڈیا کے نقشے میں سرکاری طور پر نشان زد کر دیا ہے۔ اس پر چین کی طرف سے منفی ردعمل سامنے آیا ہے۔ چین کے اس ردعمل کے بارے میں پوچھے جانے پر مسٹر جیسوال نے کہا کہ اروناچل پردیش ہندستان کا ناقابلِ تقسیم اور اٹوٹ حصہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ ایک مسلمہ حقیقت ہے اور کوئی بھی اس ناقابلِ تردید سچائی کو بدل نہیں سکتا۔
دونوں ممالک کے درمیان سرحد پر صورتحال کے بارے میں پوچھے گئے سوال کے جواب میں ترجمان نے کہا کہ ہندستان سرحد سے جڑے معاملات کو انتہائی سنجیدہ مانتا ہے اور سرحد پر امن و استحکام اس کی ترجیح ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ سرحد کی صورتحال کا ہندستان اور چین کے تعلقات پر براہِ راست اثر پڑے گا۔ ترجمان نے کہا، “ہندستان اور چین کے درمیان سرحدی علاقوں سے جڑے معاملات میں، ہم نے ہمیشہ چین کے ساتھ بات چیت میں اس بات پر زور دیا ہے کہ ہم ان مسائل کو بے حد سنجیدہ مانتے ہیں اور ان علاقوں میں امن و استحکام برقرار رکھنا سب سے زیادہ اہم ہے۔ ہم نے یہ بھی واضح کیا ہے کہ سرحدی معاملات کی صورتحال ہمارے وسیع دوطرفہ تعلقات کی صورتحال کی عکاسی کرے گی۔ اس بات کو 06 اگست کو حال ہی میں منعقدہ ‘ہند-چین سرحدی معاملات پر مشاورت اور ہم آہنگی کے ورکنگ میکانزم’ کی 36ویں میٹنگ میں بھی دہرایا گیا۔ اس میٹنگ میں دونوں فریقوں نے کھلی اور واضح بات چیت کی اورحقیقی کنٹرول لائن (ایل اے سی) پر صورتحال کا جائزہ لیا۔”
مسٹر جیسوال نے کہا کہ میٹنگ میں ہندستان نے اس بات پر زور دیا کہ دوطرفہ تعلقات کی ہمہ گیر ترقی کے لیے سرحدی علاقوں میں امن و استحکام برقرار رکھنا انتہائی ضروری ہے۔ اس بات پر اتفاق ہوا کہ لائن آف ایکچوئل کنٹرول پر غلط فہمی اور غلط اندازوں سے بچنے نیز باقی بچے ہوئے مسائل کو حل کرنے کے لیے ورکنگ میکانزم کی میٹنگوں، مقامی کمانڈر سطح کی میٹنگوں اور دیگر میکانزم سمیت موجودہ سفارتی اور فوجی ذرائع کا استعمال جاری رکھا جائے گا۔
یو این آئی ایف اے
-
دنیا2 days agoایران کا فی الحال امریکہ کے ساتھ کوئی مذاکرات نہیں: ایرانی وزیر خارجہ
-
ہندوستان2 days agoطلبہ پر کارروائی کے معاملے پر حکومت کو گھیرتے ہوئے راہل کا مضمون، کھڑگے اور پرینکا نے حمایت کی
-
دنیا2 days agoسعودی عرب میں فیکٹری میں آگ کے سبب 16 بنگلہ دیشی مزدور ہلاک
-
دنیا2 days agoٹرمپ جوہری معاہدے کے بغیر ایران کے ساتھ تنازع ختم کرنے پر تیار: رپورٹ
-
دنیا21 hours agoایران نے خود کو ایک ‘ناقابل تسخیر طاقت’ ثابت کیا ہے: عراقچی
-
دنیا21 hours agoشام کے سابق صدر بشار الاسد کو سزائے موت سنادی گئی
-
جموں و کشمیر21 hours agoیومِ آزادی سے قبل جموں و کشمیر پولیس نے سرحدی سامبا میں طویل فاصلے کی گشت اور فرضی انسدادِ دہشت گردی مشق کی
-
دنیا1 day agoیمن میں حوثیوں کے المخا اور مارب پر بیلسٹک میزائل حملے
-
دنیا1 day agoٹرمپ کا ایران سے معاوضے کا مطالبہ، آبنائے ہرمز پر مذاکرات جاری
-
دنیا1 day agoایران اور عمان کے درمیان آبنائے ہرمز پر مذاکرات جاری
-
ہندوستان23 hours agoپارلیمنٹ کے احاطے میں اپوزیشن ارکانِ پارلیمنٹ کا احتجاج
-
ہندوستان22 hours agoسندوش کمار نے نِرملا سیتارمن کے تبصرے راجیہ سبھا کے ریکارڈ سے ہٹانے کا مطالبہ کیا
