تازہ ترین
کورونا لاک ڈاءون کا 5واں ہفتہ ،رمضان سے قبل ہر سو پسرا سناٹا
آج یعنی سنیچر وار سے رحمتوں ،برکتوں اور مغفرتوں کا مہینہ رمضان المبارک شروع ہورہا ہے، تاہم اس سے قبل کورونا لاک ڈاءون کے نتیجے میں وادی کشمیر میں چہار سو سناٹا پسرا ہوا ہے ۔ عالمی وبا کو پھیلنے سے روکنے کےلئے نافذ کئے گئے سرکاری لاک ڈاءون کے 5ہفتے کشمیر وادی میں مکمل ہوگئے ،جس دوران مسلسل پانچویں جمعے کو بھی تاریخی جامع مسجد سرینگر ،آثار شریف حضرت بل سمیت سبھی عباد ت گاہوں میں جمعہ اجتماعات منعقد نہ ہوسکے ۔ مرکزی وزارت داخلہ نے ملک بھر میں ماہ رمضان میں بھی مذہبی اجتماعات پر پابندی عائد کر رکھی ہے اور حکومتی احکامات پر سختی کیساتھ عمل در آمد کیا جارہا ہے ۔
کشمیر نیوز سروس کے مطابق وادی کشمیر میں گذشتہ37روزسے جاری لاک ڈاءون کو جمعہ اجتماعات کے پیش نظر مزید سخت رہا،جس دوران خانیار سے خادنیار تک پابندیاں اور بندشیں سختی کیساتھ لاگو رہیں ۔ وادی کے شہر ودیہات میں لگاتار پانچویں جمعے(پانچویں ہفتے) کو بھی کہیں بھی نماز جمعہ ادا نہیں کی گئی جبکہ عبادت گاہو ں سے آزان بھی نہیں گونجی ۔ انتظامیہ کی اپیل کے بعد بیشتر جگہوں پر مساجد، خانقاہوں ،زیارت گاہوں ، امام بارگاہوں اور دیگر عبادت گاہوں کے منتظمین نے رضاکارانہ طور پر یہ مقامات نمازیوں اور عقیدتمندوں کے لئے بند رکھے ہیں ۔ گذشتہ دنوں ایک بیان میں انجمن اوقاف جامع مسجد سرینگر نے ماہ رمضان المبارک کی آمد پر ملت اسلامیہ خصوصاً مسلمانان جموں وکشمیر کو مبارک باد پیش کرتے ہوئے اپنی نیک خواہشات کا اظہار کیا ہے ۔
بیان کے مطابق کووڈ ۔ 19 کی بڑھتی ہوئی وبا کے پیش نظر طبی ماہرین اور ڈاکٹروں کی’ ایڈ وائزی‘ کو مدنظر رکھ کر انجمن اوقاف جامع مسجد نے سردست جامع مسجد میں نہ صرف نماز جمعہ بلکہ نماز تراویح بھی موقوف کردی ہے ۔ تاہم حالات سازگار ہوتے ہی جامع مسجد میں حسب سابق نمازوں کا اہتمام ہوگا ۔
لہٰذا مسلمانوں کو تلقین کیا جاتا ہے کہ وہ پنچگانہ نمازوں کے ساتھ ساتھ تراویح کی نماز بھی اپنے اپنے گھروں میں ہی پڑھیں اور اللہ رب العزت سے اس سنگین وبا کے خاتمہ کیلئے دعائیں کریں ۔ اس دوران وادی کشمیر میں کورونا وائرس کے مثبت کیسز میں مسلسل اور تشویشناک اضافے سے جہاں لوگ دہشت زدہ ہیں ، وہیں حکومت نے بھی لوگوں کی نقل و حرکت کو محدود کرنے کے لئے پابندیوں کو مزید سنگین کیا ہے ۔ حکومت کا کہنا ہے کہ پابندیوں کا مقصد لوگوں کو اس مہلک وائرس سے محفوظ رکھنا ہے ۔
جمعہ کوشہر سرینگر میں ہر سو سناٹا اور خوف وخاموشی چھائی ہوئی ہے لوگ گھروں سے باہر نکلنے میں حد درجہ احتیاط کررہے ہیں ۔ سڑکوں اور گلی کوچوں پر سیکورٹی اہلکار ہاتھوں میں ڈنڈے لئے کھڑے ہیں اور خار دار تار سے بچھا کر بھی لوگوں کی نقل وحمل کو محدود کردیا گیا ۔ سخت ترین بندشوں ،پابندیوں ،تار بندی کے سبب سرینگر کی تاریخی جامع مسجد،آثار شریف حضرتبل سمیت سبھی چھوٹی بڑی مساجد میں نماز جمعہ کی ادائیگی نہ ہوسکی ۔ جمعہ کوبھی شہرسری نگرسمیت کشمیرسے سبھی اضلاع میں لوگ گھروں میں ہی محدود رہے ۔
سری نگرکومختلف اضلاع سے ملانے والی شاہراہوں ،بین الاضلاعی سڑکوں اورلنک روڈز پربھی پولیس اورفورسزنے رکاوٹیں کھڑی کر رکھی ہیں جبکہ جگہ جگہ چیک پوائنٹ پوسٹس قائم کی گئی ہیں جہاں سے لازمی خدمات سے منسلک افسروں ،ڈاکٹروں اورملازمین کے بغیرکسی بھی شہری کوپیدل یاگاڑیوں میں سوارہوکر آگے جانے کی اجازت نہیں دی جاتی ۔ شہر سری نگر کی تمام چھوٹی بڑی مساجد بند ہیں اور لوگ گھروں میں ہی نماز پنجگانہ ادا کررہے ہیں ۔ وادی کے دیگر ضلع و تحصیل صدر مقامات سے بھی اسی نوعیت کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں ۔ انتظامیہ کی طرف سے دفعہ 144 کے تحت کرفیو جیسی پابندیاں نافذ ہیں اور لوگوں کو گھروں میں بیٹھے رہنے کو یقینی بنانے کے لئے پولیس گاڑیاں مسلسل چکر کاٹ رہی ہیں اور لوگوں کو گھروں میں ہی بیٹھنے کی اپیل کرتے ہیں ۔ وادی میں سری نگر سے لے کر دیہات تک کہیں بھی نماز جمعہ ادا نہیں کی گئی ۔ اطلاعات کے مطابق لوگوں نے گھروں میں ہی نماز ادا کرکے اس وبا کے فوری خاتمے کے لئے دعائیں کیں ۔ کئی علاقوں میں لوگوں نے خیرات دینے کا سلسلہ بھی شروع کیا ہے تاکہ اس وبا سے چھٹکارا پایا جاسکے ۔ حکومت کے علاوہ مذہبی تنظیموں نے بھی نماز جمعہ کی ادائیگی کو موجودہ حالات کے پیش نظر معطل رکھنے کا فیصلہ لیا تھا ۔ جموں وکشمیر میں انتظامیہ نے درجنوں ایسے علاقوں کو ’ریڈ زون‘ قرار دیا ہے جہاں سے کورونا وائرس کے مصدقہ یا مشتبہ کیسز سامنے آئے ہیں ۔ ان علاقوں کواب سلاخوں سے مکمل طور پر سیل کیا گیا ہے اور لوگوں کو اپنے گھروں تک ہی محدود کرکے قرنطینہ میں رکھا گیا ہے ۔ انتظامیہ کے مطابق ایسے علاقوں میں لوگوں کے لئے ضروریات زندگی کا مناسب انتظام کیا گیا ہے اور اس مقصد کےلئے ہوم ڈیلوری بھی کی جارہی ہے ۔
ادھرصوبہ جموں ، جہاں کشمیر کے نسبت کورونا وائرس کے بہت کم مصدقہ کیسز سامنے آئے ہیں ، میں جمعہ کو مسلسل لاک ڈاءون جاری رہا ۔ جموں شہر اور صوبہ کے دیگر 9 اضلاع کے ضلعی و تحصیل ہیڈکوارٹروں میں سڑکوں پر گاڑیوں کی آمدورفت معطل ہے اور کاروباری و دیگر سرگرمیاں ٹھپ پڑی ہیں ۔ پابندیوں کو سختی سے نافذ کرنے کے لئے سڑکوں پر سیکورٹی فورسز بالخصوص جموں وکشمیر پولیس کی بھاری نفری تعینات ہے ۔ صوبہ جموں میں بھی کہیں بھی نماز جمعہ کا اجتماع منعقد نہیں ہوا ۔ جموں کو مندروں کا شہر بھی کہا جاتا ہے ،تاہم لاک ڈاءون کی وجہ سے یہاں مندروں میں پوجا پاٹ نہیں ہورہی ہے ۔
یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ کورونا وائرس کے باعث احتیاطی تدابیر کو مدنظر رکھتے ہوئے مسجد الحرام اور مسجد نبوی;248; میں نماز تراویح کو10 رکعت تک محدود کردیا گیا ہے ۔ عرب خبر رساں ادارے کے مطابق حرمین جنرل پریذیڈنسی کےسربراہ اعلی شیخ ڈاکٹر عبدالرحمان السدیس نے اپنے ایک بیان میں بتایا تھا کہ دونوں مساجد میں رمضان کے دوران نمازیوں پر پابندی برقرار رہےگی اور احتیاطی اقدامات کے تحت اس سال رمضان کے دوران اعتکاف بھی نہیں ہوگا ۔
سربراہ اعلیٰ شیخ ڈاکٹر عبدالرحمان السدیس نے کہا تھاکہ تراویح کی رکعت 20 کے بجائے 10 ہوں گی جسے دو امام پڑھائیں گے جن میں سے پہلا امام6 رکعت اور دوسرا امام 4 رکعت اور وتر پڑھائیں گے، تہجد کی نماز بھی ہوگی جب کہ ختم قرآن 29 ویں شب کو ہوگا ۔
جموں و کشمیر
جموں و کشمیر میں 7 تا 10 ستمبر تک بین الاقوامی فلم فیسٹیول
جموں، جموں و کشمیر میں آنے والے سات سے دس ستمبر تک پہلی بار چار روزہ بین الاقوامی فلم فیسٹیول کا اہتمام کیا جا رہا ہے۔
اطلاعات و تعلقات عامہ ڈائرکٹوریٹ (ڈی آئی پی آر) نے اس فیسٹیول کا خاکہ تیار کیا ہے۔ یہ فیسٹیول نہ صرف جموں و کشمیر کے لوگوں تک بین الاقوامی سنیما کو پہنچائے گا، بلکہ مقامی صلاحیتوں کو فلمی صنعت کی معروف شخصیات کے ساتھ بات چیت کرنے، اپنی صلاحیتوں کو نکھارنے اور پیشہ ورانہ نیٹ ورک بنانے کا شاندار موقع بھی فراہم کرے گا۔
جموں و کشمیر کے فنکاروں نے اس پہل کی تعریف کرتے ہوئے اسے مقامی صلاحیتوں اور سنیما سے جڑے وسیع تر طبقے کے لیے ایک سنگ میل قرار دیا ہے۔
سال 2014 میں اپنی ڈوگری فلم ‘گیتیئاں’ کی ریلیز کے بعد سرخیوں میں آئے جموں و کشمیر کے معروف ڈائریکٹر راہل شرما نے یو این آئی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ جموں و کشمیر کا پہلا بین الاقوامی فلم فیسٹیول (آئی ایف ایف جے کے) ایک شاندار پہل ہے۔ انہوں نے کہا، “سنیما میں دلوں اور ذہنوں کو جیتنے کی ایک منفرد صلاحیت ہے، جو ہماری ثقافت، جدوجہد اور کہانیوں کی ایک زندہ دستاویز ہے۔ اس سطح کے اہتمام بین الاقوامی سطح پر جموں و کشمیر کی بھرپور صلاحیتوں کو یقینی طور پر بیدار کریں گے۔ میں ان تمام شعبوں اور حصہ داروں کو مبارکباد دیتا ہوں جو اس خواب کو شرمندہ تعبیر کر رہے ہیں۔”
جموں و کشمیر کے تھیٹر اور بڑے پردے کی ایک اور معروف شخصیت کسم ٹیکو نے کہا، “بین الاقوامی فلم فیسٹیول کی میزبانی کرنا حکومت کا ایک خیر مقدمی قدم ہے۔ یہ ہمارے خطے کے لیے ایک تاریخی لمحہ ہے۔ یہ نہ صرف مقامی فنکاروں کو اپنی صلاحیت دکھانے کا موقع فراہم کرتا ہے بلکہ دنیا بھر کی صنعت کے ماہرین کے ساتھ تعاون اور نیٹ ورکنگ کی راہ بھی ہموار کرتا ہے۔”
جموں و کشمیر کے مشہور فنکار پنکج کھجوریا نے بتایا کہ 1947 میں آزادی کے بعد جب سے ہندوستان میں فلمیں بننا شروع ہوئیں، تب سے شاید ہی کوئی ایسا فلم ساز رہا ہو جو اس بات سے ناواقف ہو کہ جموں و کشمیر، بالخصوص کشمیر، ہمیشہ سے فلمی شوٹنگ کے لیے پسندیدہ مقامات میں سے ایک رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ 1990 تک یہاں کئی فلموں کی شوٹنگ ہوئی اور کئی فلموں کی کہانیاں کشمیر پر مبنی رہیں۔ رامانند ساگر اور وید راہی جیسے جموں کے فلم سازوں کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ آرٹیکل 370 کے خاتمے کے بعد سے مزید فلم ساز جموں و کشمیر کا رخ کر رہے ہیں۔ یہ فیسٹیول ہندستانی سنیما کو فروغ دے گا اور مقامی صلاحیتوں کے ساتھ ساتھ سیاحت کی صنعت کو بھی بڑا تحرک دے گا۔
جموں کے فلم ساز اور صنعت کار اتل ونود دگل نے بھی اس قدم کو گیم چینجر قرار دیا۔ ‘شکارہ’، ‘ایک لڑکی کو دیکھا تو ایسا لگا’، ‘دی اسکائی از پنک’ اور ’12ویں فیل’ جیسی کئی بالی ووڈ اور علاقائی فلموں سے وابستہ مسٹر دگل نے امید ظاہر کی کہ یہ تقریب ہر سال منعقد کی جائے گی۔
دریں اثنا، بین الاقوامی فلم فیسٹیول کے سلسلے میں جموں میں منعقدہ ایک تقریب میں ڈائریکٹر اطلاعات شریا سنگھل نے کہا کہ جموں و کشمیر دہائیوں سے فلموں سے گہرے طور پر جڑا رہا ہے۔ دنیا بھر کے لوگوں کے لیے جموں و کشمیر کی پہچان اکثر سنیما کے ذریعے ہی پہنچی ہے، اس لیے اب یہاں بین الاقوامی فلم فیسٹیول کا ہونا مکمل طور پر مناسب ہے۔
محترمہ سنگھل نے کہا کہ اس فیسٹیول کا مقصد جموں و کشمیر میں فلم سازی کے جذبے کو دوبارہ بیدار کرنا اور اسے ایک اہم فلم شوٹنگ کا مرکز بنانا ہے۔ ساتھ ہی فلم انڈسٹری سے وابستہ یہاں کے باصلاحیت نوجوانوں کو ایک ایسا پلیٹ فارم دینا ہے جہاں وہ سیکھ سکیں، قائم شدہ شخصیات سے رابطہ قائم کر سکیں اور خود آگے بڑھ سکیں۔
ڈائریکٹر اطلاعات نے بتایا کہ فیسٹیول کے دوران بین الاقوامی، قومی اور علاقائی سنیما کی فیچر فلموں، شارٹ فلموں اور ڈاکیومنٹریز کی اسکریننگ کے علاوہ فلم سازی کے جدید پہلوؤں پر ماسٹر کلاس اور تکنیکی سیشن بھی منعقد کیے جائیں گے۔
یو این آئی۔ م س۔ م الف
جموں و کشمیر
ڈی آئی جی نارتھ نے ہندواڑہ میں یومِ آزادی کی تیاریاں اور سیکورٹی انتظامات کا جائزہ لیا
سرینگر، یومِ آزادی کی آنے والی تقریبات کے پیش نظر ہندواڑہ سب ڈسٹرکٹ میں سیکورٹی انتظامات کا جائزہ لیا گیا، جس کے دوران ڈپٹی انسپکٹر جنرل (ڈی آئی جی) آف پولیس، نارتھ کشمیر ونود کمار نے سیکورٹی فورسیز کو انتہائی چوکس رہنے اور فول پروف سیکورٹی یقینی بنانے کی ہدایت دی۔
ڈی آئی جی ونود کمار نے پولیس ڈسٹرکٹ ہندواڑہ کا دورہ کیا اور ہندواڑہ پولیس، سی اے پی ایف اور دیگر متعلقہ ایجنسیوں کے افسران کے ساتھ ایک سیکورٹی جائزہ اجلاس کی صدارت کی۔ پولیس ترجمان کے مطابق اجلاس کے دوران تقریبات کے پرامن اور خوش اسلوبی سے انعقاد کو یقینی بنانے کے لیے سیکورٹی انتظامات، تعیناتی کے منصوبوں، علاقے میں غلبہ قائم رکھنے، رسائی کے کنٹرول، ٹریفک مینجمنٹ اور مختلف سیکورٹی ایجنسیوں کے درمیان باہمی ہم آہنگی پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔
ایس ایس پی ہندواڑہ ساحل سارنگل نے 15 اگست کے سلسلے میں اب تک کیے گئے سیکورٹی اور احتیاطی تدابیر کے ساتھ ساتھ آنے والے دنوں کے لیے طے شدہ اقدامات پر ایک تفصیلی پریزنٹیشن دی۔ انہوں نے ڈی آئی جی این کے آر کو پورے پولیس ڈسٹرکٹ میں تیز تر تلاشی اور جانچ، گشت، علاقے میں غلبہ اور آپریشنل تیاریوں کے بارے میں بھی بریفنگ دی۔ مجموعی سیکورٹی صورتحال کا بھی تفصیلی جائزہ لیا گیا۔
ڈی آئی جی نے تمام افسران کو ہدایت دی کہ وہ چوکس رہیں، حساس مقامات پر سیکورٹی تدابیر کو مضبوط بنائیں، گشت اور جانچ میں تیزی لائیں اور تمام ایجنسیوں کے درمیان مؤثر ہم آہنگی اور خفیہ معلومات کا بر وقت تبادلہ یقینی بنائیں۔
عام لوگوں کو کم سے کم زحمت کو یقینی بناتے ہوئے اعلیٰ سطح کی الرٹ اور تیاری کو برقرار رکھنے پر زور دیا گیا۔ پولیس اور تمام شریک ایجنسیوں نے پورے پولیس ڈسٹرکٹ میں محفوظ، پرامن اور ناخوشگوار واقعات سے پاک یومِ آزادی کی تقریبات کو یقینی بنانے کے اپنے عزم کا اعادہ کیا۔
یو این آئی۔ م س۔ م الف
ہندوستان
سودیشی جاگرن منچ کی حکومت سے امریکی ٹیرف کی دھمکیوں کے خلاف ڈٹے رہنے، لوگوں سے امریکی کمپنیوں کا بائیکاٹ کرنے کی اپیل
نئی دہلی، سودیشی جاگرن منچ (ایس جے ایم) نے امریکہ کی سینیٹ کی طرف سے حال ہی میں منظور کیے گئے اس قانون پر گہرے افسوس کا اظہار کیا ہے، جو امریکی صدر کو ان ملکوں پر 100 فیصد تک ٹیرف لگانے کا اختیار دیتا ہے جو روس سے بڑی مقدار میں تیل خریدتے ہیں تنظیم نے بدھ کے روز ایک بیان میں کہا کہ اس کا پختہ یقین ہے کہ کسی بھی ملک کو ہندوستان کی توانائی سکیورٹی اور خود مختار تجارتی پالیسی طے کرنے کا حق نہیں ہے۔ ایس جے ایم کے قومی شریک کنوینر اشونی مہاجن نے کہا، “اگرچہ ہم مانتے ہیں کہ اس قانون کو ابھی پورے قانون سازی کے عمل سے گزرنا باقی ہے اور ڈیوٹی خود بخود نافذ نہیں ہوگی، پھر بھی یہ واضح طور پر آزاد اور منصفانہ بین الاقوامی تجارت کے اصولوں اور ملکوں کے اپنی توانائی پالیسیاں طے کرنے کے خود مختار حق کے لیے ایک سنگین خطرہ پیدا کرتا ہے۔”
ایس جے ایم کا کہنا ہے کہ وہ اس معاملے پر حکومت ہند کے موقف کی مکمل حمایت کرتا ہے کہ روس سے خام تیل کی ہندوستان کی خریداری توانائی سکیورٹی، دستیابی، قیمت، سپلائی میں تنوع اور ہندوستانی صارفین کے مفادات پر مبنی ہے۔
ہندوستان نے بار بار یہ واضح کیا ہے کہ جائز بین الاقوامی منڈیوں سے توانائی خریدنے کے ہمارے خود مختار حق کو کوئی تیسرا ملک طے نہیں کر سکتا۔ تنظیم نے کہا ہے کہ یہ پہلی بار نہیں ہے جب امریکہ میں آنے والے سامان پر غیر منصفانہ ڈیوٹی لگانے کی دھمکی دی گئی ہے۔ ایسی دھمکیاں امریکی صدر کے طور پر ڈونلڈ ٹرمپ کی دوسری مدت کار کے آغاز سے ہی ملتی رہی ہیں؛ درحقیقت، امریکہ میں آنے والے ہندوستانی سامان پر کبھی کبھی بھاری ڈیوٹی لگائی گئی ہے، جس سے ہماری برآمدات پر کافی اثر پڑا ہے۔ ان ٹیرف کو الگ الگ ناموں سے جانا گیا ہے— جیسے ریسیپروکل ٹیرف اور قومی سکیورٹی ڈیوٹی سے لے کر سیکشن 301 ڈیوٹی، سیکشن 232 ڈیوٹی، تادیبی ڈیوٹی (روسی تیل خریدنے کے لیے)، تجارتی خسارہ ڈیوٹی اور جبری مشقت ڈیوٹی— اور یہ فہرست کبھی ختم نہیں ہوتی۔
یو این آئی ۔ ایف اے
-
ہندوستان2 days agoطلبہ پر کارروائی کے معاملے پر حکومت کو گھیرتے ہوئے راہل کا مضمون، کھڑگے اور پرینکا نے حمایت کی
-
دنیا2 days agoایران کا فی الحال امریکہ کے ساتھ کوئی مذاکرات نہیں: ایرانی وزیر خارجہ
-
دنیا2 days agoٹرمپ جوہری معاہدے کے بغیر ایران کے ساتھ تنازع ختم کرنے پر تیار: رپورٹ
-
دنیا2 days agoسعودی عرب میں فیکٹری میں آگ کے سبب 16 بنگلہ دیشی مزدور ہلاک
-
دنیا1 day agoایران نے خود کو ایک ‘ناقابل تسخیر طاقت’ ثابت کیا ہے: عراقچی
-
جموں و کشمیر1 day agoیومِ آزادی سے قبل جموں و کشمیر پولیس نے سرحدی سامبا میں طویل فاصلے کی گشت اور فرضی انسدادِ دہشت گردی مشق کی
-
دنیا22 hours agoموساد کے سابق سربراہ کا انکشاف، ماضی میں ایران کی فردو جوہری تنصیب کا کئی بار دورہ کیا
-
دنیا1 day agoشام کے سابق صدر بشار الاسد کو سزائے موت سنادی گئی
-
دنیا1 day agoیمن میں حوثیوں کے المخا اور مارب پر بیلسٹک میزائل حملے
-
دنیا1 day agoٹرمپ کا ایران سے معاوضے کا مطالبہ، آبنائے ہرمز پر مذاکرات جاری
-
دنیا1 day agoایران اور عمان کے درمیان آبنائے ہرمز پر مذاکرات جاری
-
ہندوستان1 day agoپارلیمنٹ کے احاطے میں اپوزیشن ارکانِ پارلیمنٹ کا احتجاج
