تازہ ترین
کورونا وائرس کا خوف
نیشنل کانفرنس،پی ڈی پی،اپنی پارٹی سمیت دیگر سیاسی جماعتوں نے اپنی سرگرمیاں یا تو معطل کیں یا پھر محدود کردیں۔کشمیر نیوز سروس کو موصولہ اطلاعات کے مطابق ’جموں و کشمیر اپنی پارٹی‘کے بانی الطاف بخاری نے اعلان کیا کہ ان کی پارٹی نے31مارچ تک سیاسی سرگرمیوں کو معطل کردیا ہے۔پی ڈی پی نے اعلان کیا ہے کہ پارٹی کی جانب سے سبھی عوامی اجتماعات بند رہیں گے،تاہم پارٹی ہیڈ کواٹر کھلا رہے گا۔نیشنل کانفرنس کے صدر،ڈاکٹر فاروق عبداللہ نے عوام سے اپیل کی ہے کہ کورونا وائرس سے بچنے کیلئے احتیاطی تدابیرپر من و عن عمل کیا جائے تاکہ اس وائرس کو پھیلنے سے روکا جاسکے۔
ڈاکٹر فاروق نے کہا موجودہ صورتحال کے پیش نظر مجھ سے ملنے کے خواہاں لوگ خصوصا پارٹی لیڈران، عہدیداران اور کارکنان فی الحال مجھ سے ملاقات کا پروگرام موخر کریں۔ادھر پنتھرس پارٹی نے پارٹی کے یوم تاستیس کو منانے کا اعلان کیا ہے۔پارٹی کی جانب سے جاری بیان کے مطابقنیشنل پنتھرس پارٹی کے سرپرست اعلی پروفیسر بھیم سنگھ نے جموں وکشمیر اور لداخ کے تمام 22اضلاع کے صدور کو مشورہ دیا ہے کہ وہ اپنی سہولت کے مطابق ضلعی سطح پر یوم تاسیس کی تقریب کا انعقاد کرسکتے ہیں اور پنتھرس پارٹی کے تمام رضاکاروں اور خیر خواہوں کو پنتھرس پارٹی اور اس کی حصولیابیوں کی یاد دلائی۔پنتھرس سپریمو نے ضلعی صدور اور ڈسٹرکٹ کمیٹیوں کے نام پیغام میں کہا کہ ڈسٹرکٹ قیادت کے لئے کورونا وائرس کی وجہ سے جموں ہیڈکوارٹر پہنچ پانا مشکل ہوگا اس لئے انہیں مشورہ دیا کہ وہ پنتھرس پارٹی کی 39ویں یوم تاسیس کی تقریب کا انعقاد وہ کسی بند مقام پر کرسکتی ہیں۔
یاد رہے کہ پروفیسر بھیم سنگھ کانگریس پارٹی سے استعفی دیکرجموں وکشمیر کے باشندوں کو انصاف، مساوات، سماجی تحفظ اور تمام بنیادی حقوق کے، جو انہیں حاصل نہیں تھے، نفاذ کے مشن کے ساتھ 23مارچ، 1982کو پنتھرس پارٹی قائم کی تھی۔ پروفیسر بھیم سنگھ نے پنتھرس پارٹی کے چیرمین ہرشدیو سنگھ اور صدر بلونت سنگھ منکوٹیا سے اس سلسلہ میں بات چیت کی ہے۔ انہوں نے پارٹی کے سینئر لیڈروں پی کے گنجو، مسعود اندرابی، محمد اقبال چودھری، انیتا ٹھاکر، یش پال کنڈل، بنسی لال شرمااور دیگر سے بھی اس سلسلہ میں بات چیت کی ہے اور اس بات پر اتفاق رائے ہوا ہے کہ یوم تاسیس کی تقریب کا ہر ضلع اور جموں اور سری نگر کے ہیڈکوارٹر میں منعقد کی جائے گی۔
دنیا
سعودی عرب میں فیکٹری میں آگ کے سبب 16 بنگلہ دیشی مزدور ہلاک
ڈھاکہ، بنگلہ دیش کی وزارتِ سمندر پار روزگار اور بہبودِ تارکینِ وطن نے اتوار کے روز سعودی عرب کے دارالحکومت ریاض میں ایک صوفہ فیکٹری میں لگنے والی آگ کے نتیجے میں کم از کم 16 بنگلہ دیشی تارکینِ وطن مزدوروں کی ہلاکت کا اعلان کیا ہے۔
وزارت نے اس معلومات کی تصدیق سعودی عرب کے محکمہ فائر بریگیڈ کے حوالے سے کی ہے۔
وزیر عارف الحق چودھری نے ان قیمتی جانوں کے ضیاع پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا ہے۔
چودھری نے اپنے بیان میں کہا کہ سعودی عرب میں روزی کمانے کے لیے محنت کرنے والے ان تارکینِ وطن کی اس طرح کی بے وقت اور المناک اموات انتہائی دل دہلا دینے والی ہیں۔ ملک کی معیشت میں ان کا تعاون بہت بڑا ہے۔
وزیر نے بتایا کہ سعودی عرب میں بنگلہ دیشی سفارت خانہ جائے حادثہ پر موجود ہے اور مقامی حکام کے ساتھ 24 گھنٹے رابطے میں ہے۔ انہوں نے متعلقہ حکام کو ہدایت دی ہے کہ وہ ہلاک ہونے والے تارکینِ وطن کی میتوں کی وطن واپسی کے عمل کو تیز کریں اور ان کے خاندانوں کو تمام ضروری سرکاری امداد اور معاوضے کی فراہمی یقینی بنائیں۔
دوسری جانب، بنگلہ دیشی وزارتِ خارجہ نے بھی کہا ہے کہ صورتحال کی کڑی نگرانی کی جا رہی ہے اور ہر ممکن مدد فراہم کی جا رہی ہے۔
سعودی عرب بنگلہ دیشی تارکینِ وطن مزدوروں کے لیے سب سے اہم ترین منزل بنا ہوا ہے، جہاں تقریباً 35 لاکھ بنگلہ دیشی شہری مقیم ہیں اور کام کر رہے ہیں۔
کم مہارت والے کاموں میں مصروف ان بنگلہ دیشی تارکینِ وطن مزدوروں نے گزشتہ سال اپنے ملک کو 2.7 ارب ڈالر سے زائد زرمبادلہ بھیجا ہے ۔
یو این آئی۔ ع ا۔
ہندوستان
طلبہ پر کارروائی کے معاملے پر حکومت کو گھیرتے ہوئے راہل کا مضمون، کھڑگے اور پرینکا نے حمایت کی
نئی دہلی، کانگریس کے سابق صدر اور لوک سبھا میں اپوزیشن کے رہنما راہل گاندھی نے طلبہ کے احتجاج کے دوران پولیس کی کارروائی کو لے کر حکومت پر حملہ کرتے ہوئے ایک انگریزی روزنامے میں مضمون لکھا ہے۔ انہوں نے کہا ہے کہ نوجوانوں کی آواز دبانے کے لیے ان کے خلاف کارروائی کی گئی ہے، جس پر حکومت کو جواب دینا ضروری ہے۔
مسٹر گاندھی کے اس مضمون کی حمایت کرتے ہوئے کانگریس صدر ملکارجن کھڑگے اور پارٹی کی جنرل سکریٹری پرینکا گاندھی واڈرا نے کہا ہے کہ طلبہ کے خلاف کارروائی کے لیے وزیر داخلہ امت شاہ ذمہ دار ہیں۔
انگریزی روزنامے ’دی ہندو‘ میں شائع اپنے مضمون میں مسٹر گاندھی نے طلبہ پر طاقت کے استعمال کا ذکر کرتے ہوئے کہا ہے کہ اپنے مستقبل کے بارے میں سوال پوچھنے والے طلبہ پر پیلٹ گن، کیل لگی لاٹھیاں اور آنسو گیس استعمال کی گئی۔
انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم نریندر مودی حقیقت سے پوری طرح کٹ چکے ہیں اور طلبہ کی یہ تحریک ان کے لیے ایک انتباہ ہے کہ ملک کے نوجوان بیدار ہو چکے ہیں۔
مسٹر گاندھی نے کہا کہ نوجوانوں کے درمیان وزیر اعظم کی شبیہ تباہ ہو چکی ہے اور اسے دوبارہ بحال نہیں کیا جا سکتا۔
ملک کے نوجوان مسٹر مودی، مسٹر شاہ یا کسی افسر کو ان کے اقدامات کے نتائج سے بچنے نہیں دیں گے۔ انہوں نے کہا کہ اپوزیشن نوجوانوں کے ساتھ کھڑی ہے اور ان مبینہ جرائم کو سزا کے بغیر نہیں جانے دے گی۔
مسٹر کھڑگے نے مسٹر گاندھی کے مضمون کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے اپنے مضمون کے ذریعے نوجوانوں کی آواز کو مضبوطی سے اٹھایا ہے۔ کانگریس صدر نے کہا کہ نوجوانوں کے ساتھ ہوئی زیادتی کا جواب حکومت کو دینا ہوگا۔
محترمہ واڈرا نے بھی مسٹر گاندھی کے الزامات کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ پارلیمنٹ سے محض 500 میٹر کی دوری پر طلبہ کے خلاف وحشیانہ کارروائی کی گئی اور اس کی ذمہ داری مسٹر شاہ کی ہے۔
انہوں نے راہل گاندھی کے حوالے سے کہا کہ اس معاملے میں صرف 2 امکانات ہیں—یا تو وزیر داخلہ نے طلبہ کے خلاف کارروائی کی اجازت دی، ایسی صورت میں وہ ذمہ دار ہیں، یا پھر انہیں اس کی اطلاع ہی نہیں تھی، تو یہ ان کی مکمل نااہلی کو ظاہر کرتا ہے۔ دونوں صورتوں میں وزیر داخلہ کی حیثیت سے اس واقعے کی ذمہ داری انہی کی ہے اور انہیں استعفیٰ دینا چاہیے۔
راہل گاندھی نے ایک اور تبصرے میں کہا کہ نوجوان خواتین کے ساتھ پولیس اہلکاروں نے مارپیٹ کی، کئی طلبہ زخمی ہوئے اور نابالغ طلبہ کی ہڈیاں تک ٹوٹنے کی بات سامنے آئی۔ انہوں نے سوال کیا کہ حکومت طلبہ کے سوالوں کا جواب اس طرح کیوں دے رہی ہے۔
انہوں نے الزام لگایا کہ واقعے کے تقریباً 20 دن بعد بھی وزیر داخلہ امت شاہ پارلیمنٹ میں اس معاملے پر جواب دینے نہیں آئے ہیں اور بحث کے لیے اپوزیشن کی جانب سے پیش کی گئی ہر تجویز کو مسترد کر دیا گیا ہے۔
مسٹر گاندھی نے کہا کہ وزیر داخلہ کی خاموشی محض کوتاہی نہیں ہے، بلکہ یہ تشدد کو منظوری دینے کے مترادف ہے۔ انہوں نے پورے معاملے کی سپریم کورٹ کی نگرانی میں تحقیقات کرانے کا مطالبہ کیا اور کہا کہ اپوزیشن طلبہ کو انصاف دلانے اور ذمہ دار لوگوں کی جواب دہی طے ہونے تک اپنی جدوجہد جاری رکھے گی۔
یو این آئی ایم جے
دنیا
ٹرمپ جوہری معاہدے کے بغیر ایران کے ساتھ تنازع ختم کرنے پر تیار: رپورٹ
ماسکو، امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے نجی طور پر ایران کے ساتھ جاری تنازع کو جوہری معاہدے کے بغیر بھی ختم کرنے کا امکان ظاہر کیا ہے۔ وال اسٹریٹ جرنل نے امریکی حکام کے حوالے سے یہ اطلاع دی ہے۔
اخبار کے مطابق ٹرمپ کئی ہفتوں سے اس بات کی راہ ہموار کر رہے ہیں کہ اگر تہران آبنائے ہرمز کو مکمل طور پر دوبارہ کھول دیتا ہے تو ایران کے ساتھ جنگ میں فتح کا اعلان کیا جا سکے۔ یہاں تک کہ انہوں نے اپنے اعلیٰ مشیروں کے سامنے نجی طور پر یہ بھی کہا ہے کہ وہ جوہری معاہدے کے بغیر بھی کسی سمجھوتے پر رضامند ہو سکتے ہیں۔
امریکی ایوانِ صدر کے ایک عہدیدار نے اخبار کو بتایا کہ ایران کے حوالے سے امریکہ اپنے تمام فوجی اہداف حاصل کر چکا ہے۔
عہدیدار نے کہا کہ ٹرمپ کی اب توجہ آبنائے ہرمز کے ذریعے توانائی کی ترسیل کو یقینی بنانے پر ہے۔ اگر ایران بحری جہازوں پر حملے جاری رکھتا ہے تو صدر کے پاس فوجی طاقت استعمال کرنے کا اختیار برقرار رہے گا۔
امریکی حکام نے مزید بتایا کہ صدر نے اپنے اعلیٰ مشیروں سے نجی گفتگو میں کہا ہے کہ ان کے اقتدار میں رہتے ہوئے ایران کے دوبارہ جوہری سرگرمیاں شروع کرنے کا امکان کم ہے، کیونکہ امریکہ 2025 تک ایران کی 3 اہم جوہری تنصیبات کو تباہ کر چکا تھا۔ حالیہ ملاقاتوں میں ٹرمپ نے اس اعتماد کا بھی اظہار کیا کہ ایران پر امریکی حملوں کا خطرہ ایک قابلِ اعتماد بازدار قوت کے طور پر کام کرے گا۔
حکام کے مطابق اگر امریکہ ایران کے جوہری پروگرام پر قابو پانے میں کامیاب ہو جاتا ہے تو ٹرمپ موجودہ جنگ بندی کو غیر معینہ مدت تک بڑھانے پر زیادہ آمادہ ہوں گے۔ توقع ہے کہ اگر تہران آبنائے ہرمز کو مکمل طور پر کھول دیتا ہے تو امریکی صدر ایرانی بندرگاہوں پر عائد فوجی ناکہ بندی بھی ختم کر دیں گے۔
امریکی صدر نے اس سے قبل اعلان کیا تھا کہ انہوں نے ایران پر حملے اس لیے روک دیے ہیں کیونکہ امن معاہدے کی راہ ہموار ہو رہی ہے۔ اس معاہدے کی ابتدائی شرائط میں آبنائے ہرمز کو کھولنا اور ایران کے جوہری پروگرام سے متعلق سمجھوتے شامل ہیں۔ ایرانی وزارت خارجہ نے گزشتہ ہفتے کہا تھا کہ ایران اور عمان نے آبنائے ہرمز میں بحری جہازوں کی آمد و رفت کے لیے مقررہ بحری راستے کی جغرافیائی تفصیلات پر اتفاق کر لیا ہے۔
یو این آئی۔ ایم جے
