تازہ ترین
ویڈیو:کولگام اور ترال میں الگ الگ خونین جھڑپیں :ذاکر موسیٰ اور نوید جٹ کے قریبی ساتھیوں سمیت 3جنگجو جاں بحق، مکمل رپورٹ
خبراردو:
سیکورٹی فورسز نے آپریشن آل آؤٹ کے تحت جنوبی کشمیر کے ریشی پورہ ترال اور ریڈونی کیموہ میں 2الگ الگ آپریشنوں میں فورسز کو انتہائی مطلوب ترین 3جنگجوؤں کو جاں بحق کردیا ۔ اطلاعات کے مطابق فوج کی 1آر آر، سی آر پی ایف اور ایس او جی کی مشترکہ جمعیت نے 26اور 27کی درمیانی شب کو ایک مصدقہ اطلاع ملنے کے بعد ریڈونی کیموہ کا محاصرہ عمل میں لایا جس دوران فورسز نے علاقے میں تمام راستوں پر سخت پہرے بٹھاتے ہوئے لوگوں کی نقل و حمل مسدود بنائی۔ معلوم ہوا ہے کہ سیکورٹی فورسز نے دوران شب 3بجے ریڈونی کا کڑا محاصرہ کرکے یہاں گھر گھر تلاشیوں کا آغاز کیا۔ فورسز اہلکاروں نے جونہی مشتبہ مقام کی جانب پیش قدمی شروع کی تو یہاں چھپے بیٹھے جنگجوؤں نے تلاشی پارٹی پر خودکار ہتھیاروں سے فائرنگ شروع کی۔
ادھر فورسز اہلکاروں نے بھی مورچہ سنبھالتے ہوئے جنگجوؤں کی فائرنگ کا جواب دیا جس کے ساتھ ہی علاقے میں جھڑپ شروع ہوئی جس کے بعد علاقہ گولیوں کی گن گرج سے دہل اُٹھا۔ پولیس نے بتایا کہ ایک مصدقہ اطلاع ملنے کے بعد سیکورٹی فورسز اور پولیس نے درمیانی رات کو ریڈونی کولگام میں تلاشی آپریشن شروع کیا جس دوران علاقے میں موجود جنگجوؤں نے حفاظتی عملے پر اندھا دھند فائرنگ شروع کی۔انہوں نے بتایا کہ ابتدائی گولیوں کے تبادلے میں فسٹ آر آر اور 163بٹالین سی آر پی ایف سے وابستہ 3 اہلکار زخمی ہوئے جنہیں علاج ومعالجہ کی خاطر فوری طورپر نزدیکی اسپتال منتقل کیا گیا تاہم فوجی جوان زخموں کی تاب نہ لا کر دم توڑ بیٹھا جبکہ2ہلکاروں کی حالت مستحکم ہے۔پولیس نے مارے گئے فوجی اہلکار کی شناخت پرکاش یادو کے بطور کی جبکہ 2زخمی سی آر پی ایف اہلکاروں میں سب انسپکٹر امت کمار اور کانسٹیبل اویناش شامل ہیں۔انہوں نے بتایا کہ فورسز اہلکاروں نے بھی جوابی کارروائی کی جس کے نتیجے میں 2جنگجو ہلاک ہوئے جن کی شناخت اعجاز احمد مکرو ولد مرحوم غلام رسول ساکنہ کیموہ اور وارث احمد ملک ولد بشیر احمد ساکنہ آرونی کے بطور ہوئی ہے۔ پولیس نے بتایا کہ مہلوک جنگجوکالعدم تنظیم لشکر طیبہ سے وابستہ تھے اور وہ پولیس وفورسز کو کئی کیسوں میں مطلوب تھے۔ پولیس نے بتایا کہ مارے گئے جنگجوپولیس وفورسز پر حملوں ، عام شہریوں کو تشدد کا نشانہ بنانے کی کارروائیوں اور دیگر تخریبی سرگرمیوں میں پیش پیش تھے۔ پولیس ریکارڈ کے مطابق اعجاز احمد مکرو نامی عسکریت پسندکے خلاف سال 2017سے جرائم کی ایک لمبی فہرست موجود ہے اور وہ نوید جھاٹ اور آزاد دادا کے قریبی ساتھیوں میں شمار ہوتا تھا۔
مارے گئے جنگجوکے خلاف ایف آئی آر زیر نمبر 60/2016ایف آئی آر زیر نمبر 45/2017، ایف آئی آر زیر نمبر 100/2017، ایف آئی آر زیر نمبر 10/2018، ایف آئی آر زیر نمبر 13/2018کے تحت پولیس اسٹیشن کولگام میں کیس درج ہیں۔ سیکورٹی فورسز کے ساتھ تصادم میں مارے گئے دوسرے جنگجو وارث بھی کئی تخریبی کیسوں میں پولیس کو مطلوب تھا۔ ادھر ترال کے ریشی پورہ علاقے میں بھی درمیانی شب کو فوج اور جنگجوؤں کے درمیان خونین تصادم آرائی ہوئی جس میں چیف انصار غزوۃ الہند کے سربراہ ذاکر موسیٰ کے نائب کو جاں بحق کردیا گیا۔ تفصیلات کے مطابق 42آر آر، 180بٹالین سی آر پی ایف اور ایس او جی نے ہفو ریشی پورہ نامی گاؤں کا ایک مصدقہ اطلاع ملنے کے بعد محاصرہ کیا جس دوران یہاں مکان میں چھپے بیٹھے جنگجوؤں نے فورسز اہلکاروں پر شدید فائرنگ کی۔ معلوم ہوا ہے کہ سیکورٹی فورسز نے گاؤں میں 2سے3جنگجوؤں کی چھپے بیٹھے کی مصدقہ اطلاع کے بعد یہاں کڑا محاصرہ عمل میں لایا جس کے بعد یہاں گھر گھر تلاشی آپریشن شروع کیا گیا۔ اس دوران فورسز نے دوران شب ہی گاؤں میں فورسز کی بھاری کمک کو طلب کرتے ہوئے یہاں کسی بھی احتجاجی منصوبے کو ناکام بنانے کی خاطر تمام چوراہوں اور گلیوں کو سیل کردیا۔ تلاشی پارٹی نے جونہی گاؤں میں گھر گھر تلاشیوں کا آغاز کرتے ہوئے یہاں چھپے بیٹھے جنگجوؤں کو ڈھونڈ نکانے کی کوشش کی تو یہاں موجود قریبی مکان سے جنگجوؤں نے فورسز پر جدید ہتھیاروں سے فائرنگ کی۔
معلوم ہوا ہے کہ فورسز نے بھی جنگجوؤں کی کارروائی کا بھر پور جواب دیتے ہوئے گاؤں میں محاصرے کو مزید سخت کردیا۔ اس دوران طرفین کی گولہ باری کے نتیجے میں چیف انصار غزوۃ الہند کے سربراہ کے نائب اور قریبی ساتھی شاکر احمد ڈار ولد غلام حسن ڈار ساکن رٹھسونہ ترال جاں بحق ہوئے جبکہ گولی باری اور دھماکوں کے نتیجے میں 2رہائشی مکانات، ایک گاؤ خانہ سمیت غسل خانہ مکمل طور پر زمین بوس ہوگیا۔پولیس نے بتایا کہ ترال ہفوریشی پورہ میں علی الصبح سیکورٹی فورسز اورپولیس نے ایک مصدقہ اطلاع ملنے پر تلاشی آپریشن شروع کیا جس دوران علاقے میں موجودجنگجوؤں نے تلاشی پارٹی پر فائرنگ کی۔ تلاشی پارٹی نے بھی جوابی کاروائی کی جس کے نتیجے میں ایک جنگجو ہلاک ہوا جس کی شناخت شاکر حسن ڈار ولد غلام حسن ساکنہ رٹھسنہ ترال کے بطور ہوئی ہے۔ پولیس نے بتایا کہ مارا گیا جنگجو ذاکر موسیٰ گروپ کے ساتھ وابستہ تھااور اُس کے خلاف بھی سال 2015سے جرائم کی ایک لمبی فہرست موجود ہے۔ شاکر حسن نامی جنگجو پولیس وفورسز پر حملوں اور عام شہریوں کو تشدد کا نشانہ بنانے کی کارروائیوں میں ملوث رہ چکا ہے۔ پولیس نے اس سلسلے میں کیس درج کرکے تحقیقات شروع کی ہے۔
جھڑپ کی جگہ بڑی مقدار میں اسلحہ و گولہ بارود اور قابل اعتراض مواد برآمد کرکے ضبط کیا گیا۔اس دوران پولیس نے عوام الناس سے اپیل کی کہ وہ جھڑپ کی جگہ جانے گریز کریں کیوں کہ وہاں پر ممکنہ بارودی مواد موجود ہونے کے باعث خطرہ لاحق ہوسکتا ہے۔ ’لوگوں سے گذارش کی جاتی ہے کہ وہ پولیس کے ساتھ اس سلسلے میں تعاون کریں اور جب تک جھڑپ کی جگہ کو صاف کرکے محفوظ قرار نہ دیا جائے تب تک تصادم کی جگہ جانے سے اجتناب کیا جائے‘۔اس دوران متعلقہ علاقوں میں جھڑپ شروع ہونے کے ساتھ ہی دوران شب نوجوانوں کی مختلف ٹولیوں نے سڑکوں پر نکل کر فورسز کارروائی کے خلاف احتجاج کیا۔ مظاہرین نے یہاں تعینات فورسز کی مختلف ٹولیوں پر سنگ باری کی جس کے جواب میں فورسز نے بھی مظاہرین کو منتشر کرنے کی خاطر ہوا میں گولیوں کے کئی راؤنڈ فائر کرنے کے علاوہ پیلٹ فائرنگ کی جس کے نتیجے میں ایک درجن کے قریب افراد کے زخمی ہونے کی اطلاع ہے۔ریڈونی کیموہ میں جونہی جھڑپ شروع ہوئی تو یہاں فورسز کارروائی میں رخنہ ڈالنے کے لیے نوجوانوں نے سڑکوں پر نکل کر زور دار احتجاج اور پتھراؤ کیا۔ فورسز نے بھی جوابی کارروائی کرتے ہوئے پیلٹ فائرنگ کی جس کے جواب میں کئی افراد زخمی ہوئے جنہیں پبلک ہیلتھ سنٹر فرصل منتقل کیا گیا۔ پی ایچ سی فرصل کے ذرائع نے بتایا کہ فورسز کارروائی کے نتیجے میں کئی افراد زخمی ہوئے جنہیں علاج و معالجے کی خاطر یہاں منتقل کیا گیا تھا تاہم بعد میں انہیں بہتر طبی سہولیات کی فراہمی کے لیے ڈسٹرکٹ ہسپتال اننت ناگ منتقل کیا گیا۔ علاوہ ازیں انتظامیہ نے جنوبی کشمیر میں 2الگ الگ جھڑپوں کے مابعد کی صورتحال کو مدنظر رکھتے ہوئے ضلع کولگام اور پولیس ڈسٹرکٹ اونتی پورہ میں موبائل انٹرنیٹ خدمات کو اگلے احکامات تک معطل رکھنے کا فیصلہ کیا۔ادھر جنگجوؤں کی ہلاکت کے خلاف جنوبی ضلع کولگام سمیت پلوامہ کے ترال، اونتی پورہ، ڈاڈسرہ، آری پل، کیگام میں مکمل ہڑتال رہی جس دوران یہاں معمولات زندگی بری طرح متاثررہے۔
معلوم ہوا ہے کہ متعلقہ علاقوں میں عوامی، تجارتی، کاروباری اور غیر سرکاری سرگرمیاں پوری طرح مفلوج رہیں جبکہ سڑکوں پر سے ٹریفک کی نقل و حمل بھی ٹھپ ہوکر رہ گئی۔ادھر ریلوے حکام نے بھی جنوبی کشمیر میں سیکورٹی صورتحال کے پیش نظر سرینگر سے بانہال چلنے والی ریل سروس کو اگلے احکامات تک معطل کردیا۔ ریلوے حکام نے بتایا کہ جنوبی کشمیر میں سیکورٹی صورتحال کے پیش نظر ریل سروس کو احتیاطی طور پر بند رکھا گیا ہے تاہم سرینگر سے بارہمولہ ٹریک پر ریل سروس شیڈول کے مطابق چلے گی۔
ہندوستان
اروناچل ہندستان کا اٹوٹ حصہ، سرحد کی صورتحال ہی چین کے ساتھ دوطرفہ تعلقات کی بنیاد:ہندستان
نئی دہلی ہندستان نے اروناچل پردیش کو اپنا ناقابلِ تقسیم اور اٹوٹ حصہ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ چین کے ساتھ اس کے دوطرفہ تعلقات سرحد کی صورتحال پر مبنی ہوں گے اور سرحدی صورتحال کا ان تعلقات پر براہِ راست اثر ہوگا۔
وزارتِ خارجہ کے ترجمان رندھیر جیسوال نے منگل کے روز یہاں میڈیا بریفنگ میں سوالات کے جواب دیتے ہوئے یہ بات کہی۔ دراصل چین کی جانب سے اروناچل پردیش اور اس کے کچھ مقامات کے نام تبدیل کرنے کے ردعمل میں ہندستان نے حال ہی میں اروناچل پردیش کی 27 اہم جگہوں کو سروے آف انڈیا کے نقشے میں سرکاری طور پر نشان زد کر دیا ہے۔ اس پر چین کی طرف سے منفی ردعمل سامنے آیا ہے۔ چین کے اس ردعمل کے بارے میں پوچھے جانے پر مسٹر جیسوال نے کہا کہ اروناچل پردیش ہندستان کا ناقابلِ تقسیم اور اٹوٹ حصہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ ایک مسلمہ حقیقت ہے اور کوئی بھی اس ناقابلِ تردید سچائی کو بدل نہیں سکتا۔
دونوں ممالک کے درمیان سرحد پر صورتحال کے بارے میں پوچھے گئے سوال کے جواب میں ترجمان نے کہا کہ ہندستان سرحد سے جڑے معاملات کو انتہائی سنجیدہ مانتا ہے اور سرحد پر امن و استحکام اس کی ترجیح ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ سرحد کی صورتحال کا ہندستان اور چین کے تعلقات پر براہِ راست اثر پڑے گا۔ ترجمان نے کہا، “ہندستان اور چین کے درمیان سرحدی علاقوں سے جڑے معاملات میں، ہم نے ہمیشہ چین کے ساتھ بات چیت میں اس بات پر زور دیا ہے کہ ہم ان مسائل کو بے حد سنجیدہ مانتے ہیں اور ان علاقوں میں امن و استحکام برقرار رکھنا سب سے زیادہ اہم ہے۔ ہم نے یہ بھی واضح کیا ہے کہ سرحدی معاملات کی صورتحال ہمارے وسیع دوطرفہ تعلقات کی صورتحال کی عکاسی کرے گی۔ اس بات کو 06 اگست کو حال ہی میں منعقدہ ‘ہند-چین سرحدی معاملات پر مشاورت اور ہم آہنگی کے ورکنگ میکانزم’ کی 36ویں میٹنگ میں بھی دہرایا گیا۔ اس میٹنگ میں دونوں فریقوں نے کھلی اور واضح بات چیت کی اورحقیقی کنٹرول لائن (ایل اے سی) پر صورتحال کا جائزہ لیا۔”
مسٹر جیسوال نے کہا کہ میٹنگ میں ہندستان نے اس بات پر زور دیا کہ دوطرفہ تعلقات کی ہمہ گیر ترقی کے لیے سرحدی علاقوں میں امن و استحکام برقرار رکھنا انتہائی ضروری ہے۔ اس بات پر اتفاق ہوا کہ لائن آف ایکچوئل کنٹرول پر غلط فہمی اور غلط اندازوں سے بچنے نیز باقی بچے ہوئے مسائل کو حل کرنے کے لیے ورکنگ میکانزم کی میٹنگوں، مقامی کمانڈر سطح کی میٹنگوں اور دیگر میکانزم سمیت موجودہ سفارتی اور فوجی ذرائع کا استعمال جاری رکھا جائے گا۔
یو این آئی ایف اے
دنیا
موساد کے سابق سربراہ کا انکشاف، ماضی میں ایران کی فردو جوہری تنصیب کا کئی بار دورہ کیا
یروشلم، اسرائیلی خفیہ ایجنسی موساد کے سابق سربراہ یوسی کوہن نے کہا ہے کہ انہوں نے ماضی میں ایران کی فردو یورینیم افزودگی تنصیب کا کئی مرتبہ دورہ کیا تھا، تاہم انہوں نے یہ نہیں بتایا کہ یہ دورے کب کیے گئے اور ان کے ہمراہ کون تھا۔
عبرانی زبان کے میڈیا کے مطابق صفد میں منعقدہ گیلیلی فورم سے خطاب کرتے ہوئے کوہن نے کہا، ’’ہم نے فردو جوہری تنصیب کا کئی بار دورہ کیا تاکہ اس مقام کو سمجھ سکیں۔‘‘
انہوں نے مزید کہا، ’’امریکیوں کی جانب سے اس پر بمباری میرے تمام خوابوں کی تکمیل تھی۔‘‘
فردو کے علاوہ ایران کی اصفہان اور نطنز میں موجود جوہری تنصیبات کو بھی جون 2025 میں ہونے والی 12 روزہ اسرائیل۔ایران جنگ کے دوران امریکی حملوں سے شدید نقصان پہنچا تھا۔
بعد ازاں ایسی رپورٹس سامنے آئی تھیں کہ ان تنصیبات پر موجود تقریباً 440 کلوگرام انتہائی افزودہ یورینیم زمین میں دفن کر دی گئی تھی۔ تاہم اسرائیل نے بعد میں اندازہ لگایا کہ تہران نے اس مواد میں سے کچھ کو ممکنہ طور پر پکیکس ماؤنٹین کے مقام پر منتقل کر دیا تھا۔
کوہن کے مطابق 60 فیصد تک افزودہ یورینیم اب بھی ’’بم بنانے سے بہت دور‘‘ ہے۔ تاہم یہ دعویٰ جوہری ماہرین کی بعض جائزہ رپورٹس سے مختلف ہے۔ جوہری ماہر ڈیوڈ البرائٹ کا کہنا ہے کہ 60 فیصد افزودہ یورینیم کو مزید افزودہ کرکے چند ہفتوں یا حتیٰ کہ چند دنوں میں ہتھیاروں کے درجے کے مواد میں تبدیل کیا جا سکتا ہے۔
کوہن اس سے قبل ایران کے جوہری پروگرام کو نشانہ بنانے والی موساد کی کارروائیوں کے بارے میں بھی کھل کر بات کر چکے ہیں۔ 2021 میں موساد کی سربراہی چھوڑنے کے فوراً بعد ایک غیر معمولی ٹیلی ویژن انٹرویو میں انہوں نے کئی کارروائیوں کی تفصیلات فراہم کی تھیں، جن میں 2018 میں تہران کے ایک گودام سے ایران کے جوہری محفوظ شدہ ریکارڈ چوری کرنے کی کارروائی بھی شامل تھی۔
انہوں نے یہ بھی اشارہ دیا تھا کہ نطنز میں ایران کی زیر زمین سینٹری فیوج تنصیب کے ایک حصے کی تباہی کے پیچھے بھی موساد کا ہاتھ تھا۔ انہوں نے تصدیق کی تھی کہ ایرانی جوہری سائنس دان محسن فخری زادہ کو موساد نے ہی ہلاک کیا تھا اور تہران کو جوہری ہتھیار تیار کرنے کی کوشش سے باز رہنے کی تنبیہ کی تھی۔
چینل 12 کو دیے گئے اس انٹرویو میں موساد کے سابق سربراہ نے ایران کے جوہری بنیادی ڈھانچے سے اپنی واقفیت کا بھی اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ اگر انہیں موقع دیا جائے تو وہ دیان کو نطنز میں زیر زمین موجود اس ’’تہہ خانے‘‘ میں لے جائیں گے جہاں، ان کے بقول، ’’سینٹری فیوجز گھومتے تھے۔‘‘
یو این آئی۔ ع ا۔
جموں و کشمیر
جموں میں آبادیاتی تبدیلیوں سے متعلق پینل کو پناہ گزینوں کی تنظیم نے یادداشت پیش کی
جموں، پی او جے کے سے بے گھر افراد کی تنظیم ایس او ایس انٹرنیشنل کے ایک وفد نے منگل کو یہاں جسٹس پرکاش پربھاکر نولیکر (ریٹائرڈ) کی سربراہی میں آبادیاتی تبدیلیوں سے متعلق پینل کو ایک تفصیلی یادداشت پیش کی۔
ایس او ایس انٹرنیشنل کے چیئرمین راجیو چونی کی قیادت میں وفد میں پروفیسر این این شرما (نائب چیئرمین)، ونود کمار دتہ (جنرل سکریٹری)، بھائی رام سنگھ (سکریٹری) اور وید راج بالی (سکریٹری) شامل تھے۔ وفد نے یادداشت پیش کرتے ہوئے 1947 سے پاکستان کے زیر قبضہ جموں و کشمیر (پی او جے کے) کی ہندو اور سکھ آبادی کے ساتھ روا رکھے گئے تاریخی ناانصافی کو ریکارڈ پر لایا اور پینل سے ٹھوس اصلاحی اقدامات کرنے کا مطالبہ کیا۔
جاری کردہ بیان کے مطابق یادداشت میں نشاندہی کی گئی کہ 1947 کے حملے کے بعد اس وقت کی جموں و کشمیر حکومت نے ابتدائی طور پر تقریباً 31,600 خاندانوں کا اندراج کیا تھا، جبکہ تقریباً 9,500 خاندانوں کو معمولی اور غیر معقول وجوہات کی بنیاد پر من مانے طریقے سے رجسٹریشن سے محروم کر دیا گیا۔
رجسٹرڈ خاندانوں میں سے صرف تقریباً 26,300 خاندانوں کو ریاست کے اندر آباد کیا گیا، جبکہ تقریباً 5,300 رجسٹرڈ خاندانوں کے ساتھ ساتھ 9,500 غیر رجسٹرڈ خاندانوں کو ہندوستان کے دیگر حصوں میں پناہ لینے پر مجبور ہونا پڑا۔ باقاعدہ طور پر رجسٹر کیے گئے خاندانوں کے ریکارڈ اب بھی جموں و کشمیر حکومت کے سرکاری ریکارڈ میں موجود ہیں۔
یادداشت میں کہا گیاکہ ’’یہ خاندان مہاراجہ ہری سنگھ کے 1927 کے اسٹیٹ سبجیکٹ قانون کے تحت ریاست کے اصل باشندے تھے اور انہوں نے بارہا اپنے آبائی وطن واپس جانے کی خواہش کا اظہار کیا ہے۔‘‘
تاہم بحالیِ آبادکاری کی کسی جامع پالیسی یا ادارہ جاتی مدد کی مکمل عدم موجودگی کے باعث ان کے پاس دوسری جگہ اپنی زندگی دوبارہ شروع کرنے کے علاوہ کوئی راستہ نہیں تھا۔ بیان کے مطابق اس وقت ریاست سے باہر رہنے والی ان کی آبادی کا تخمینہ پانچ سے چھ لاکھ ہے۔
ایس او ایس انٹرنیشنل نے یہ بھی نشاندہی کی کہ جموں و کشمیر کی اُس وقت کی حکومت کے 2014 کے کابینہ فیصلے میں ہر متاثرہ خاندان کو 25 لاکھ روپے نقد امداد، تعلیم یافتہ بے روزگار نوجوانوں کے لیے 8,500 سرکاری ملازمتیں اور پیشہ ورانہ و تکنیکی اداروں میں ریزرویشن دینے کا وعدہ کیا گیا تھا، لیکن جموں و کشمیر یا سابق ریاست سے باہر جلاوطنی کی زندگی گزارنے والے خاندانوں کے لیے اس پر عمل نہیں کیا گیا۔
جاری۔یواین آئی۔ طـ ا
-
دنیا1 day agoایران کا فی الحال امریکہ کے ساتھ کوئی مذاکرات نہیں: ایرانی وزیر خارجہ
-
دنیا1 day agoسعودی عرب میں فیکٹری میں آگ کے سبب 16 بنگلہ دیشی مزدور ہلاک
-
دنیا2 days agoٹرمپ جوہری معاہدے کے بغیر ایران کے ساتھ تنازع ختم کرنے پر تیار: رپورٹ
-
ہندوستان1 day agoطلبہ پر کارروائی کے معاملے پر حکومت کو گھیرتے ہوئے راہل کا مضمون، کھڑگے اور پرینکا نے حمایت کی
-
دنیا1 day agoتجربہ کار آئی آر جی سی کمانڈر محسن رضائی ایران کے قومی سلامتی کے سربراہ مقرر
-
دنیا9 hours agoایران نے خود کو ایک ‘ناقابل تسخیر طاقت’ ثابت کیا ہے: عراقچی
-
جموں و کشمیر8 hours agoیومِ آزادی سے قبل جموں و کشمیر پولیس نے سرحدی سامبا میں طویل فاصلے کی گشت اور فرضی انسدادِ دہشت گردی مشق کی
-
دنیا13 hours agoٹرمپ کا ایران سے معاوضے کا مطالبہ، آبنائے ہرمز پر مذاکرات جاری
-
دنیا12 hours agoایران اور عمان کے درمیان آبنائے ہرمز پر مذاکرات جاری
-
دنیا12 hours agoکولمبیا میں زلزلے سے ہلاکتوں کی تعداد 132 ہو گئی، صدر کا قومی ایمرجنسی کا اعلان
-
ہندوستان10 hours agoپارلیمنٹ کے احاطے میں اپوزیشن ارکانِ پارلیمنٹ کا احتجاج
-
دنیا8 hours agoشام کے سابق صدر بشار الاسد کو سزائے موت سنادی گئی
