مکالمہ
کیا واقعی حکومت دل اور دلّی کی دوری ختم کرنا چاہتی ہے؟… سہیل انجم
کشمیر میں ترقیاتی کاموں کا آغاز کیا جائے تاکہ بے روزگار نوجوانوں کو کام ملے اور انھیں ایک باعزت زندگی گزارنے کے مواقع ملیں۔ جب تک یہ سب نہیں ہوگا دل اور دلّی کی دوری دور نہیں ہوگی۔
وزیر اعظم نریندر مودی قافیہ بندی کرکے عوام کو بیوقوف بنانے میں مہارت رکھتے ہیں۔ جب سے وہ وزیر اعظم کے منصب پر فائز ہوئے ہیں یہ کام بہت اہتمام کے ساتھ کر رہے ہیں۔ حالیہ مثال اگر دینی ہو تو جب تک دوائی نہیں تب تک ڈھلائی نہیں، دوائی بھی اور کڑائی بھی اور جہاں بیمار وہیں اُپچار وغیرہ کی مثال دی جا سکتی ہے۔ وہ جب بھی قوم سے خطاب کرتے ہیں تو پہلے سے ہی کوئی نہ کوئی جملہ سوچ کے رکھتے ہیں۔ ان کی اس قافیہ بندی یا جملہ سازی سے عوام تو سحرزدہ ہوتے ہی ہیں سیاست داں اور تعلیم یافتہ افراد بھی اسی رو میں بہہ جاتے ہیں۔ اس کا ذکر بھی خوب ہوتا ہے اور گودی میڈیا اس کو اپنا موضوع بھی بنا لیتی ہے۔ ان کی تازہ جملہ سازی کشمیری رہنماوں کے ساتھ ملاقات کے دوران اس وقت سامنے آئی جب انھوں نے کہا کہ وہ دل کی اور دلّی کی دوری ختم کرنا چاہتے ہیں۔ میٹنگ سے باہر آنے والے رہنماوں نے باربار اس جملے کو دوہرایا۔ ایسا لگا کہ جیسے وہ بھی وزیر اعظم کی قافیہ بندی یا جملہ سازی کے سحر میں گرفتار ہو گئے ہیں۔ تجزیہ کاروں نے بھی اس جملے کو کافی اہمیت دی۔
لیکن یہ دیکھنے کی ضرورت ہے کہ کیا واقعی وزیر اعظم دل کی اور دلّی کی دوری کو ختم کرنا چاہتے ہیں۔ اگر ہم کشمیری عوام کے ردعمل اور رہنماوں کے بیانات کا جائزہ لیں تو ایسا نہیں لگتا کہ وہ اس جملے پر یقین کرنے کو تیار ہیں۔ جب وزیر اعظم کی جانب سے کشمیری لیڈروں کو میٹنگ میں شرکت کی دعوت دی گئی تو کہا گیا کہ اس کا کوئی ایجنڈہ نہیں ہے۔ کشمیری رہنماوں نے اس کا یہ مطلب نکالا کہ جب ایجنڈہ نہیں ہے تو وہ ہر وہ بات کہہ سکتے ہیں جو وہ کہنا چاہتے ہیں۔ یعنی وہ دفعہ 370 اور 35 اے کے خاتمے کا معاملہ بھی اٹھا سکتے ہیں اور حکومت سے ریاست کی خصوصی حیثیت کی بحالی کا مطالبہ بھی کر سکتے ہیں۔ پی ڈی پی رہنما اور سابق وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی نے اس معاملے کو اٹھایا بھی اور کہا کہ دفعہ 370 کا خاتمہ غیر جمہوری و غیر آئینی تھا۔ یہ فیصلہ واپس لیا جائے۔ لیکن دیگر رہنماوں نے اسے یہ کہتے ہوئے اٹھانے سے گریز کیا کہ چونکہ یہ معاملہ سپریم کورٹ میں زیر التوا ہے اس لیے اس پر گفتگو نہیں کی جا سکتی۔
کشمیری رہنما تو اپنے دل میں بہت کچھ ارمان لے کر گئے تھے۔ لیکن میٹنگ میں یہ اندازہ ہوا کہ یہ بات درست نہیں تھی کہ میٹنگ کا کوئی ایجنڈہ نہیں ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ میٹنگ کا ایجنڈہ تھا اور وہ تھا ڈی لمیٹیشن یعنی حد بندی کا معاملہ۔ حکومت نے اس بات پر زور دیا کہ پہلے حد بندی کا کام مکمل ہو جائے اس کے بعد انتخابات کرائے جائیں گے اور پھر ریاستی حیثیت کی بحالی پر غور کیا جائے گا۔ ابھی اس کا وقت نہیں آیا ہے۔ حالانکہ کشمیری رہنماوں نے کہا کہ پہلے ریاستی حیثیت کی بحالی ہو اس کے بعد انتخابات ہوں اور پھر حد بندی ہو۔
ان کا کہنا تھا کہ جب ملک کے بقیہ حصے میں ابھی حد بندی نہیں ہو رہی ہے وہاں 2026 میں ہوگی اور پھر آسام میں بھی کشمیر کے ساتھ حدبندی کی بات کہی گئی تھی لیکن وہاں پہلے الیکشن کرایا گیا اور حد بندی کو ملتوی کر دیا گیا تو پھر کشمیر میں پہلے حدبندی پر کیوں زور دیا جا رہا ہے۔ ایک طرف یہ کہا جا رہا ہے کہ کشمیر کو ملک سے جوڑنا اور ملک کے ساتھ ملانا ہے اور دوسری طرف اس کے ساتھ دوسری ریاستوں سے الگ معاملہ کیا جا رہا ہے۔ بعض لیڈروں نے بتایا کہ حکومت کی جانب سے اس کی وجہ یہ بتائی گئی کہ چونکہ جموں و کشمیر اسمبلی کے لیے سات نشستیں بڑھائی گئی ہیں ا س لیے پہلے حد بندی کرائی جا رہی ہے۔
سوال یہ ہے کہ سات نشستوں کے اضافے یا حدبندی پر زور کیوں دیا جا رہا ہے اس سلسلے میں بعض حلقوں کا کہنا ہے کہ دراصل حکومت ریاست کی سیاست پر کشمیر کی بالادستی کو ختم کرنا چاہتی ہے۔ کشمیر میں نشستوں کی تعداد زیادہ ہے اور جموں وغیرہ میں کم ہے۔ جس کے منتخب ارکانِ اسمبلی کی تعداد زیادہ ہوتی ہے وہ وہیں کا وزیر اعلیٰ ہوتا ہے۔ ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ کشمیر میں آبادی زیادہ ہے مگر رقبہ جموں وغیرہ کا بڑا ہے۔ اس لیے حکومت چاہتی ہے کہ کم از کم دونوں خطوں کی حیثیت برابر کر دی جائے تاکہ بی جے پی کو وہاں کے اقتدار پر گرفت کا موقع مل سکے۔ لیکن بعض دیگر ماہرین کی رائے ہے کہ حکومت اس سلسلے میں کامیاب نہیں ہو سکتی۔ اس کی متعدد وجوہات ہیں۔
بہرحال حکومت نے یہ طے کیا ہے کہ پہلے حدبندی ہوگی۔ اس کے بعد انتخابات ہوں گے اور پھر ریاست کی حیثیت کی بحالی پر غور کیا جائے گا۔ لیکن کشمیری رہنماوں کا کہنا ہے کہ وہ اس کو تسلیم نہیں کرتے۔ پہلے انتخابات ہوں اور ریاست کی حیثیت بحال کی جائے اور پھر حدبندی ہو۔ لیکن اس کا امکان بہت کم ہے کہ ایسا ہوگا۔ وہی ہوگا جو حکومت چاہتی ہے۔ وزیر اعظم نے شرکائے میٹنگ پر اسی سلسلے میں زور دیا ہے۔ یہ دراصل بی جے پی کا اپنا ایجنڈہ ہے اور وہ اس سے ہٹنے والی نہیں ہے۔
جہاں تک دفعہ 370 کی واپسی کا معاملہ ہے تو یہ بھی بعید از امکان ہے۔ نیشنل کانفرنس کے نائب صدر اور سابق وزیر اعلیٰ عمر عبد اللہ کا کہنا ہے کہ اس حکومت سے یہ توقع کرنا کہ وہ دفعہ 370 کو بحال کر دے گی احمقانہ بات ہوگی۔ یہ تو ان لوگوں کا پرانا ایجنڈہ رہا ہے اور اب ستر برسوں میں انھیں یہ موقع ملا کہ اس ایجنڈے پر عمل کریں۔ لہٰذا اس حکومت میں اس کی واپسی کی کوئی امید نہیں ہے۔ البتہ ہم اس کی قانونی لڑائی لڑیں گے اور اس کی بحالی کے لئے اپنی کوشش جاری رکھیں گے۔ جبکہ پی ڈی پی کی لیڈر اور سابق وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی نے اعلان کیا ہے کہ جب تک دفعہ 370 کی بحالی نہیں ہو جاتی وہ انتخابی سیاست میں حصہ نہیں لیں گی۔
خیال رہے کہ حکومت کی جانب سے دفعہ 370 کے خاتمے کے خلاف سپریم کورٹ میں کئی عرضیاں داخل ہیں۔ لیکن نہ تو سابق چیف جسٹس رنجن گوگوئی نے اس سلسلے میں کوئی دلچسپی دکھائی نہ سابق چیف جسٹس ایس آر بوبڈے نے اور نہ ہی موجودہ چیف جسٹس ایس وی رمنا نے اب تک کوئی دلچسپی دکھائی ہے۔ قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ عدالت عظمیٰ چھوٹے چھوٹے معاملات پر فوراً سماعت کرتی ہے لیکن اتنے بڑے معاملے پر سماعت نہیں کر رہی ہے۔ ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ اس حکومت میں اس کی امید کم ہے کہ اس بارے میں کوئی پیش رفت ہوگی۔
بعض مبصرین کے مطابق حکومت نے جن کشمیری لیڈروں کو نظربند کیا یا جیلوں میں ڈالا اب انھیں کے ساتھ میٹنگ کرنے کے لیے مجبور ہوئی اور اسے انھیں سیاست دانوں کا سہارا لینا پڑ رہا ہے۔ لیکن بعض مبصرین کا یہ بھی کہنا ہے کہ اسے حکومت کی پسپائی نہیں بلکہ حکمت عملی سمجھنا چاہیے۔ دوسری طرف وہی کشمیری سیاست داں جن کی حکومت نے بری طرح تضحیک و تذلیل کی وزیر اعظم کی دعوت پر بھاگے چلے آئے۔ دراصل صورت حال یہ ہے کہ یہ دونوں کی مجبوری ہے۔ جہاں حکومت کو دنیا کو یہ دکھانا ہے کہ وہ کشمیر میں سیاسی تعطل دور کرنے کی کوشش کر رہی ہے وہیں کشمیری رہنماوں کو اپنے عوام کو جواب دینا ہے۔ لہٰذا یہ نہ تو کسی کی پسپائی ہے اور نہ ہی کسی کی جیت ہے۔
لیکن سوال پھر وہی اٹھتا ہے کہ کیا حکومت نے جو ٹائم لائن بنائی ہے اس سے دل کی اور دلّی کی دوری دور ہوگی۔ غیر جانبدار تجزیہ کار اس سے اتفاق نہیں کرتے۔ ان کے مطابق دفعہ 370 کی منسوخی سے کشمیری عوام جذباتی طور پر ٹوٹ گئے ہیں۔ ان کے دل زخم خوردہ ہیں۔ ان پر مرہم رکھنے کی ضرورت ہے۔ یہ کام اسی صورت میں ہو سکتا ہے جب پہلے اسٹیٹ ہڈ بحال کی جائے یعنی جموں و کشمیر کو مرکز کے زیر انتظام علاقہ کے بجائے ایک ریاست کا درجہ دیا جائے اور پھر انتخابات کرائے جائیں۔ کشمیر میں بحالی اعتماد کے اقدامات کیے جائیں۔ یہ تاثر ختم کیا جائے کہ اب کشمیر کے باہر کے لوگ بھی وہاں زمین خرید سکیں گے اور کشمیر میں ترقیاتی کاموں کا آغاز کیا جائے تاکہ بے روزگار نوجوانوں کو کام ملے اور انھیں ایک باعزت زندگی گزارنے کے مواقع ملیں۔ جب تک یہ سب نہیں ہوگا دل اور دلّی کی دوری دور نہیں ہوگی۔
تازہ ترین
کانگریس سے علیحدگی زندگی کا کٹھن فیصلہ تھا ،دو دن سو نہیں پایا۔ بھاجپا میں شمولیت خارج از امکان: غلام نبی آزاد
سری نگر، 28اگست(یو این آئی)غلام نبی آزاد کا کہنا ہے کہ کانگریس سے علیحدگی اُن کی زندگی کا سب سے کٹھن فیصلہ تھا کیونکہ پچاس سال تک اس پارٹی کے لئے دن رات ایک کئے ۔
انہوں نے بتایا کہ دو دن نیند نہیں آئی اور کئی بار خط کو بھی پھاڑ ڈالا ۔اُن کے مطابق اگر مجھے کانگریس سے کچھ ملا تو میں نے بھی کانگریس کو بہت کچھ دیا ہے۔
بھاجپا میں شمولیت اختیار کرنے کے بارے میں غلام نبی آزاد نے کہاکہ میرا دماغ خراب ہے ۔ جو لوگ ایسی افواہیں پھیلا رہے ہیں وہ خیالوں کی دن میں رہ رہے ہیں۔
ان باتوں کا اظہار موصوف نے ایک قومی نیوز چینل کو دئے گئے انٹرویو کے دوران کیا۔
غلام نبی آزاد نے کہاکہ مستعفی ہونے سےایک ماہ قبل پارٹی صدر سونیا گاندھی کو خط لکھا لیکن اُس کو کوئی جواب نہیں ملا۔انہوں نے بتایا کہ کانگریس سے مستعفی ہونے کا فیصلہ اُن کی زندگی کا کٹھن فیصلہ تھا۔
کانگریس سے علیحدگی اختیار کرنے کے بارے میں غلام نبی آزاد نے کہاکہ اس وقت کانگریس میں نویں فیصد ایسے لوگ ہیں جو کانگریسی ہی نہیں، کسی کو یونیورسٹی اور کسی کو دفتر سے اُٹھاکر لیڈر بنایا گیا. انہوں نے بتایا کہ میں نے آنجہانی اندراگاندھ، سنجے گاندھی او ر راجیو گاندھی سے سیکھا ہے ، وہ لوگ مجھے کیا سکھائیں گے جنہیں سیاست کی کوئی سمجھ ہی نہیں ۔
مسٹر آزاد نے کہا : ’ایک ماہ قبل کانگریس صدر کو خط کے ذریعے آگاہ کیا کہ پارٹی میں سب کچھ ٹھیک نہیں چل رہا۔لیکن صدر موصوف نے اُس پر کوئی کارروائی نہیں دی‘۔
راہول گاندھی کے ساتھ اختلافات پیدا ہونے کے بارے میں غلام نبی آزاد نے کہاکہ مجھ سے کہا گیا کہ آپ نے ’چوکیدار چور ہے‘ نہیں بولا ۔
غلام نبی آزاد نے کہاکہ یہ ان لوگوں کی بھاشا ہو سکتی ہے لیکن میں نے اندراگاندھی، راجیو گاندھی سے لیڈران کی عزت کرنا سیکھا ہے ۔انہوں نے بتایا کہ آنجہانی اندرا گاندھی مجھے اپوزیشن لیڈروں کے ساتھ ملاقات کرنے کے بارے میں ہمیشہ بولتی رہتی تھیں ۔
غلام نبی آزاد نے مزید کہاکہ راہول گاندھی نے پارٹی کا بیڑا غرق کیا اور یہاں تک کہ میڈیم سونیا گاندھی کا بھی اسٹائل خراب کیا۔
کمزور وقت میں کانگریس کو خیر باد کہنے کے بارے میں پوچھے گئے سوال کے جواب میں غلام نبی آزاد نے سوالیہ انداز میں کہا کہ کیا میں مزید پچاس سالوں تک انتظار کرتا رہتا۔؟
بھاجپا کی بولی بولنے کے بارے میں غلام نبی آزاد نے کہاکہ جو نئے لیڈران پارٹی میں ہیں اُنہیں میری باتیں پسند نہیں ۔
اُن کے مطابق میں دن میں بیس گھنٹے پارٹی کے لئے کام کر تا تھا جس وجہ سے پارٹی نے متعدد ریاستوں میں جیت حاصل کی۔
بھارتیہ جنتا پارٹی میں شمولیت اختیار کرنے کے بارے میں غلام نبی آزاد نے کہا میرا دماغ خراب ہے ۔
انہوں نے کہاکہ جو لوگ ایسی افواہیں پھیلا رہے ہیں دراصل اُن کا دماغ خراب ہے ۔ میں نے واضح کیا ہے کہ اپنی پارٹی تشکیل دوں گا لہذا جو یہ کہہ رہے ہیں کہ بھاجپا میں شمولیت اختیار کریں گے اُن کا دماغ کام نہیں کررہا ہے۔
وزیر اعظم نریندر مودی کے تئیں نرم گوشہ رکھنے کے بارے میں غلام نبی آزاد نے کہاکہ میرے حوالے سے تین باتیں پھیلائی جارہی ہیں ایک تو مودی جی نے آپ کے لئے کیوں آنسوں بہائے ، دوسرا گھر ملا اور تیسرا زڈ پلس سیکورٹی ۔
انہوں نے بتایا کہ زڈ پلس سیکورٹی دراصل مجھے اس لئے فراہم کی گئی کیونکہ مجھ پر آج تک 26 مرتبہ حملے ہوئے اور سری نگر میں ایک دفعہ مجھ پر راکٹ لانچر سے بھی حملہ کیا گیا لیکن میں اُس وقت بال بال بچ گیا۔اُن کے مطابق اگر میرے پاس مکان ہے تو میں اُس کی کرایہ بھی دیتا ہوں۔
اہم خبریں
کیا کویڈ صرف اسکولوں میں ے؟آخر کب تک بچوں کا مستقبل داو پر لگا رہے گا۔
اہم خبریں
ئیق رضوی، کربلائی ادب اور دریافت کے نئے دریچے… معین شاداب
نوحے اور مرثیے پر تحقیقی اور تنقیدی کام کی تاریخ اتنی ہی قدیم ہے جتنی ادبی نقد و تحقیق کی روایت لیکن لئیق رضوی کی تصنیف ’عوامی مرثیے کی روایت‘ اس اعتبار سے اپنی نوعیت کی پہلی تحقیقی کاوش ہے کہ انہوں نے رثائی ادب کے ڈانڈے اردو کے وجود میں آنے سے قبل کی ہندوستانی بولیوں سے جوڑے ہیں۔ آثار وقرائن اس بات کی طرح اشارہ کرتے رہے ہیں کہ اردو مرثیے کی بنیادیں ہندوستانی مٹّی میں ہی پیوست ہیں۔ محققین عام طور پر ہندوستان میں مرثیے کا نکتہ آغاز ملّا وجہی اور قلی قطب شاہ وغیرہ کے یہاں تلاش کرتے ہیں لیکن یہ بنیادیں ذرا اور گہری ہیں۔ لئیق رضوی نے ہندوستان میں مرثیے کی جڑوں کو دریافت کیا ہے۔
ہندوستان میں مرثیے کا آغاز اردو زبان سے نہیں ہوتا بلکہ اردو کے وجود میں آنے سے قبل یہاں کی مختلف زبانوں میں مرثیہ لوک گیتوں کی شکل میں موجود تھا۔ محققین کو اس کا اندازہ تھا لیکن اسے نہ جانے کیوں نظر انداز کیا گیا۔ اس کی ایک وجہ تو عربی اور فارسی کا زور رہا، دوسرے اردو ادب کی نستعلیق تہذیب نے اس لوک ورثے کو قابل اعتنا نہ سمجھا۔ اس طرح یہ قدیم رثائی سرمایہ سمٹتا چلا گیا۔
جن لوگوں نے لوک گیتوں پر کام کیا ہے انہوں نے لوک رثائی ادب یا عوامی مرثیے کے خال خال اشارے ضرور دیئے ہیں۔ بعض لوگوں نے محرم کے گیت وغیرہ کے ضمن میں انہیں رکھا ہے لیکن ان پر کوئی منصوبہ بند تحقیقی یا تنقیدی کام نہیں ہوا۔ مرثیے اور نوحے کے ناقدین نے عوامی مرثیے کی اہمیت کا تذکرہ تو ضرور کیا ہے اور اس پر تحقیق کی ضرورت پر بھی زور دیا ہے لیکن کسی کویہ توفیق نہ ہو سکی۔ اظہر علی فاروقی نے اس پر تھوڑا بہت کام کیا ہے۔ جو کچھ اور کام بھی لوک گیتوں پرسامنے آئے ہیں اس میں محرم کے گیت بھی مل جاتے ہیں۔ اظہر فاروقی کا کام اس لحاظ سے بہتر ہے کہ انہوں نے اس تعلق سے کچھ چیزیں جمع کی ہیں۔ لیکن ان کا مقصد عوامی گیتوں پر کام کرنا تھا مرثیوں پر نہیں۔ کچھ برس قبل ایک اور کتاب دکنی لوک گیتوں پر آئی ہے جس میں دو دو چار چار مصرعوں کے ایک دو گیت شامل ہیں۔
تلنگانہ اور آندھرا پردیش میں لوک گیتوں کی ایک مضبوط روایت ہے۔ ان گیتوں میں رثائی مواد بھی موجود ہے لیکن وہ نظر انداز ہوتا رہا۔ جبکہ اسے منظر عام پر لانے کی ضرورت تھی۔ لئیق رضوی نے اس کا بیڑہ اٹھایا اور سنجیدگی و تن دہی سے اس پر کام شروع کیا۔ اس تعلق سے ان کے کچھ مضمون ادھرادھر شائع ہوئے۔ سہ ماہی ’فکرو تحقیق‘ میں’دہے‘ پر ان کا تحقیقی مقالہ چھپا تھا۔ جس کا عنوان تھا ’عوامی مرثیہ دہا: روایت اور آداب‘۔ روزنامہ راشٹریہ سہارا کے محرم نمبر میں لئیق رضوی کا ایک مضمون ’نوحہ حسین کے عوامی رنگ‘ شائع ہوا۔ اب اس اہم موضوع پر ان ایک پوی کتاب ’عوامی مرثیے کی روایت‘ شائع ہوگئی ہے۔
’عوامی مرثیے کی روایت‘ ایک پر مغز تصنیف ہے جو کربلائی ادب کے ذیل میں دریافت کے نئے دریچے بناتی ہے۔ یہ کتاب گیارہ ابواب پر مشتمل ہے اور اس کا ہر باب اہمیت کا حامل ہے۔ پہلے باب میں ’ہندوستان میں عزاداری کی تاریخ‘ کا جائزہ لیا گیا ہے۔ دوسرے باب میں ’عزاداری میں ہندوستان‘ کے مختلف رنگوں کا تعارف کرایا گیا ہے۔ تیسرا باب ’غم حسین کے عوامی اظہارات‘ کا محاکمہ کرتا ہے۔ جبکہ چوتھے باب میں ’عوامی مرثیے کے ر نگ، روپ اور رویّے‘ سے بحث کی گئی ہے۔ پانچویں، چھٹے اور ساتویں باب میں بالترتیب شمالی ہند، بنگال اور دکن میں مرثیے کے آغاز اور ارتقا پر سیر حاصل روشنی ڈالی گئی ہے۔ کتاب کا آٹھواں اور نواں حصہ ’دہے‘ اور ’زاری‘ پر مرکوز ہے۔ جس میں ان عوامی اصناف کے آثار ڈھونڈے گئے ہیں۔ دسویں باب میں ’اردو ررثائی شاعری پرعوامی اثرات‘ کا جائزہ لیا گیا ہے۔ کتاب کا آخری حصہ ’عوامی مرثیے‘ کا انتخاب ہے۔ انّیس صفحات پر مشتمل لوک مرثیوں کا یہ ذخیرہ اپنی مثال آپ ہے جسے لئیق رضوی نے برسوں کی تلاش و جستجوکے بعد جمع کیا ہے۔
لئیق رضوی اپنی اس کتاب میں ’ہندوستان میں عزاداری‘ کے ساتھ ساتھ’ عزاداری میں ہندوستان‘ کے پہلو کو بھی ابھارتے ہیں۔ اور یہاں کی گنگا جمنی تہذیب کے زیر اثرمرثیے اور نوحے کے دیسی رنگوں سے بھی وہ متعارف کراتے چلتے ہیں۔ انہوں نے عربی فارسی کے قدیم عزائی متن کے ساتھ ساتھ ہندوستانی بولیوں میں ترتیب دیئے جا رہے دیسی عزائی متن پر بھی روشنی ڈالی ہے اور اس ضمن میں دکن میں ’نوسرہار‘ (شہادت نامہ) اور شمالی ہندوستان میں فضلیؔ کی ’کربل کتھا‘ اور روشن ؔعلی کا ’عاشور نامہ‘ جیسی ابتدائی دیسی چیزوں کا بطور خاص حوالہ دیا ہے۔
ہندوستان کثیر المذاہب ملک ہے اور تہذیبی وثقافتی رنگا رنگی کا حامل ہے چناچہ یہاں کربلا کا غم مختلف انداز میں ظہور پذیر ہوتا ہے۔ مختلف ریاستوں میں غم حسین الگ الگ شکلوں میں منایا جاتا ہے۔ غیر مسلموں میں عزاداری اور مراسم کے اپنے اطوار ہیں۔ مصنّف نے ماتمی رقص وموسیقی، سوانگ، اکھاڑے، جھنڈے، گروہ، لنگر، سینہ زنی، آگ اور زنجیری ماتم کی مختلف صورتوں کا ریاست وار تعارف کرایا ہے۔ اس باب میں ’حسینی برہمنوں‘ کا بھی خصوصیت سے ذکر کیا گیا ہے۔
لئیق رضوی نے لوک مرثیے کی صدیوں پرانی روایت کا تاریخی اور تہذیبی پس منظر میں جائزہ لیا ہے۔ عہد بہ عہد تبدیل ہوتی اس کی مختلف صورتوں سے آشنا کرایا ہے۔ اس میں پہلی مرتبہ ملک محمد جائسی کو شامل کیا گیا۔ اس کے علاوہ جائسی سے قبل بھاشا کے دیگر شعرا سیّد بھیکہ، قطبین اور تاج بخش کا بھی انہوں نے حوالہ دیا ہے۔
’شمالی ہند میں عوامی مرثیہ‘ ’بنگال میں عوامی مرثیہ‘ اور ’دکن میں عوامی مرثیہ‘ یہ تینوں ابواب اس کتاب کا مغز ہیں۔ مصنف نے ان خطّوں میں عوامی رثائی متن کا تحقیقی اور تنقیدی نقطۂ نظر سے مطالعہ کیا ہے۔عوامی مرثیے کے نام پر پہلے لوگ ’دہے‘ اور ’زاری‘ کو جانتے تھے۔ مرثیے کی اس نوع کی دیگر اصناف سے لوگ کم واقف تھے یا ناواقف تھے جو ملک کے دوسرے حصوں میں پھیلی ہوئی ہیں۔ لئیق رضوی نے ساتھ ہی یہ نتیجہ اخذ کیا ہے کہ اردو مرثیوں اور نوحوں کا موجودہ تاثر اور کیفیت دہے اور زاری ہی کا مرہونِ منّت ہے۔
ہندوستان میں قدیم لوک گیتوں کی کم وبیش ہزار سال پرانی تاریخ ہے۔ عام مرثیے اور نوحے کی موجودگی کے با وجود ایک عوامی دھارا ایسا تھا جو لوک گیتوں میں مرثیہ اور نوحہ کہہ رہا تھا۔ اردو کی رثائی شاعری پر اس لوک ورثے کا کتنا اثر پڑا اس کا تفصیلی جائزہ بھی مصنف نے لیا ہے۔ اس لوک ورثے میں شامل برج بھاشا، اودھی، بھوج پوری، مگہی، پنجابی، بنگلہ، تیلگو، مراٹھی، کشمیری اور دوسری کئی ہندوستانی زبانوں میں عزائی ادب کے نقوش کو ابھارا گیا ہے۔
لئیق رضوی نے یہ ثابت کرنے کی کوشش کی ہے کہ اردو مرثیے کی جڑیں عربی فارسی میں کم فوک لٹریچر میں زیادہ ہیں۔ اردو میں رثائی تخلیقات آنے سے پہلے قدیم ہندوستانی بولیوں میں کربلائی گیت بن چکے تھے اور اردو کے وجود میں آنے کے بعد وہی گیت اردو میں منتقل ہوئے۔ بعد کے شعرا نے یہ لہجہ اپنے مرثیوں کی کیفیت بڑھانے کے لیے اختیار کیا۔ خلیفہ سکندرؔ اور سوداؔ نے دیہاتی پنجابی، مارواڑی اور برج بھاشا وغیرہ سے استفادہ کیا۔ انہوں نے اپنے مرثیوں میں چار مصاریع اردو میں کہے اور بیت ان دیسی زبانوں کی لگائی۔ ان شعرا نے عوامی بولیوں یا زبانوں سے استفادہ کرکے ترقی کے مراحل طے کیے ہیں۔ بعد کے شعرا نے بھی اپنے کلام میں زور اور نشتریت پیدا کرنے کے لیے دیہاتی زبانوں سے اجالا لیا۔ بیسویں صدی میں بھی نجمؔ آفندی اور رجاؔ رام پوری (رضا رامپوری) وغیرہ نے اس روایت کی پیروی کی ہے۔ آج بھی اگر آپ دس نوحے یا مرثیے اردو کے پڑھتے ہیں تو وہیں ایک آدھ نوحہ علاقائی زبان میں بھی کہتے ہیں تاکہ بات کو پر اثر بنایا جاسکے۔ دراصل یہ ہماری گھٹی میں پڑی ہوئی شاعری ہے جو ہمیں اپنے ماضی اور عزائی ادب کی روح سے جوڑتی ہے۔
نایاب اور کم یاب لوک گیتوں کا انتخاب اور یکجائی اس کتاب کا انتہائی اہم حصّہ ہے۔ قدیم دیسی زبانوں میں مختلف صورتوں میں موجود عوامی مرثیوں اور نوحوں کو محفوظ کرنے کی خاطر لئیق رضوی نے دیدہ ریزی کی ہے۔ ان میں بیشتر لوک گیت ایسے ہیں جو تحریری شکل میں دستیاب نہیں تھے لیکن سینہ بہ سینہ منتقل ہو رہے تھے اور ان میں سے کچھ جدید تکنیکی عہد میں ریکارڈنگ کے ضبط میں آگیے تھے۔ انہیں قلم بند کرنے کے لیے لئیق رضوی نے جاںفشانی کی ہے اور اس طرح یہ قدیم اہم سرمایہ پہلی بار تحریر کے ضابطے میں آگیا ہے اور یہ انمول بول محفوظ ہو گیے ہیں۔
یہ کتاب مصنف کی ربع صدی کی جانفشانی اور عرق ریزی کا نتیجہ ہے۔ مصنف نے ان چیزوں کی تحقیق اور بازیافت کے ساتھ ان کی قدرو قیمت کے تعیّن کی قابل قدر کوشش کی ہے۔ یہ کتاب مرثیے کی تاریخ اوراس کی تحقیق کے شعبے میں ایک اضافہ ہے۔
-
ہندوستان6 hours agoطلبہ پر کارروائی کے معاملے پر حکومت کو گھیرتے ہوئے راہل کا مضمون، کھڑگے اور پرینکا نے حمایت کی
-
دنیا5 hours agoسعودی عرب میں فیکٹری میں آگ کے سبب 16 بنگلہ دیشی مزدور ہلاک
-
دنیا1 hour agoایران کا فی الحال امریکہ کے ساتھ کوئی مذاکرات نہیں: ایرانی وزیر خارجہ
-
دنیا12 minutes agoتجربہ کار آئی آر جی سی کمانڈر محسن رضائی ایران کے قومی سلامتی کے سربراہ مقرر
-
دنیا8 hours agoٹرمپ جوہری معاہدے کے بغیر ایران کے ساتھ تنازع ختم کرنے پر تیار: رپورٹ
