اہم خبریں
ئیق رضوی، کربلائی ادب اور دریافت کے نئے دریچے… معین شاداب
نوحے اور مرثیے پر تحقیقی اور تنقیدی کام کی تاریخ اتنی ہی قدیم ہے جتنی ادبی نقد و تحقیق کی روایت لیکن لئیق رضوی کی تصنیف ’عوامی مرثیے کی روایت‘ اس اعتبار سے اپنی نوعیت کی پہلی تحقیقی کاوش ہے کہ انہوں نے رثائی ادب کے ڈانڈے اردو کے وجود میں آنے سے قبل کی ہندوستانی بولیوں سے جوڑے ہیں۔ آثار وقرائن اس بات کی طرح اشارہ کرتے رہے ہیں کہ اردو مرثیے کی بنیادیں ہندوستانی مٹّی میں ہی پیوست ہیں۔ محققین عام طور پر ہندوستان میں مرثیے کا نکتہ آغاز ملّا وجہی اور قلی قطب شاہ وغیرہ کے یہاں تلاش کرتے ہیں لیکن یہ بنیادیں ذرا اور گہری ہیں۔ لئیق رضوی نے ہندوستان میں مرثیے کی جڑوں کو دریافت کیا ہے۔
ہندوستان میں مرثیے کا آغاز اردو زبان سے نہیں ہوتا بلکہ اردو کے وجود میں آنے سے قبل یہاں کی مختلف زبانوں میں مرثیہ لوک گیتوں کی شکل میں موجود تھا۔ محققین کو اس کا اندازہ تھا لیکن اسے نہ جانے کیوں نظر انداز کیا گیا۔ اس کی ایک وجہ تو عربی اور فارسی کا زور رہا، دوسرے اردو ادب کی نستعلیق تہذیب نے اس لوک ورثے کو قابل اعتنا نہ سمجھا۔ اس طرح یہ قدیم رثائی سرمایہ سمٹتا چلا گیا۔
جن لوگوں نے لوک گیتوں پر کام کیا ہے انہوں نے لوک رثائی ادب یا عوامی مرثیے کے خال خال اشارے ضرور دیئے ہیں۔ بعض لوگوں نے محرم کے گیت وغیرہ کے ضمن میں انہیں رکھا ہے لیکن ان پر کوئی منصوبہ بند تحقیقی یا تنقیدی کام نہیں ہوا۔ مرثیے اور نوحے کے ناقدین نے عوامی مرثیے کی اہمیت کا تذکرہ تو ضرور کیا ہے اور اس پر تحقیق کی ضرورت پر بھی زور دیا ہے لیکن کسی کویہ توفیق نہ ہو سکی۔ اظہر علی فاروقی نے اس پر تھوڑا بہت کام کیا ہے۔ جو کچھ اور کام بھی لوک گیتوں پرسامنے آئے ہیں اس میں محرم کے گیت بھی مل جاتے ہیں۔ اظہر فاروقی کا کام اس لحاظ سے بہتر ہے کہ انہوں نے اس تعلق سے کچھ چیزیں جمع کی ہیں۔ لیکن ان کا مقصد عوامی گیتوں پر کام کرنا تھا مرثیوں پر نہیں۔ کچھ برس قبل ایک اور کتاب دکنی لوک گیتوں پر آئی ہے جس میں دو دو چار چار مصرعوں کے ایک دو گیت شامل ہیں۔
تلنگانہ اور آندھرا پردیش میں لوک گیتوں کی ایک مضبوط روایت ہے۔ ان گیتوں میں رثائی مواد بھی موجود ہے لیکن وہ نظر انداز ہوتا رہا۔ جبکہ اسے منظر عام پر لانے کی ضرورت تھی۔ لئیق رضوی نے اس کا بیڑہ اٹھایا اور سنجیدگی و تن دہی سے اس پر کام شروع کیا۔ اس تعلق سے ان کے کچھ مضمون ادھرادھر شائع ہوئے۔ سہ ماہی ’فکرو تحقیق‘ میں’دہے‘ پر ان کا تحقیقی مقالہ چھپا تھا۔ جس کا عنوان تھا ’عوامی مرثیہ دہا: روایت اور آداب‘۔ روزنامہ راشٹریہ سہارا کے محرم نمبر میں لئیق رضوی کا ایک مضمون ’نوحہ حسین کے عوامی رنگ‘ شائع ہوا۔ اب اس اہم موضوع پر ان ایک پوی کتاب ’عوامی مرثیے کی روایت‘ شائع ہوگئی ہے۔
’عوامی مرثیے کی روایت‘ ایک پر مغز تصنیف ہے جو کربلائی ادب کے ذیل میں دریافت کے نئے دریچے بناتی ہے۔ یہ کتاب گیارہ ابواب پر مشتمل ہے اور اس کا ہر باب اہمیت کا حامل ہے۔ پہلے باب میں ’ہندوستان میں عزاداری کی تاریخ‘ کا جائزہ لیا گیا ہے۔ دوسرے باب میں ’عزاداری میں ہندوستان‘ کے مختلف رنگوں کا تعارف کرایا گیا ہے۔ تیسرا باب ’غم حسین کے عوامی اظہارات‘ کا محاکمہ کرتا ہے۔ جبکہ چوتھے باب میں ’عوامی مرثیے کے ر نگ، روپ اور رویّے‘ سے بحث کی گئی ہے۔ پانچویں، چھٹے اور ساتویں باب میں بالترتیب شمالی ہند، بنگال اور دکن میں مرثیے کے آغاز اور ارتقا پر سیر حاصل روشنی ڈالی گئی ہے۔ کتاب کا آٹھواں اور نواں حصہ ’دہے‘ اور ’زاری‘ پر مرکوز ہے۔ جس میں ان عوامی اصناف کے آثار ڈھونڈے گئے ہیں۔ دسویں باب میں ’اردو ررثائی شاعری پرعوامی اثرات‘ کا جائزہ لیا گیا ہے۔ کتاب کا آخری حصہ ’عوامی مرثیے‘ کا انتخاب ہے۔ انّیس صفحات پر مشتمل لوک مرثیوں کا یہ ذخیرہ اپنی مثال آپ ہے جسے لئیق رضوی نے برسوں کی تلاش و جستجوکے بعد جمع کیا ہے۔
لئیق رضوی اپنی اس کتاب میں ’ہندوستان میں عزاداری‘ کے ساتھ ساتھ’ عزاداری میں ہندوستان‘ کے پہلو کو بھی ابھارتے ہیں۔ اور یہاں کی گنگا جمنی تہذیب کے زیر اثرمرثیے اور نوحے کے دیسی رنگوں سے بھی وہ متعارف کراتے چلتے ہیں۔ انہوں نے عربی فارسی کے قدیم عزائی متن کے ساتھ ساتھ ہندوستانی بولیوں میں ترتیب دیئے جا رہے دیسی عزائی متن پر بھی روشنی ڈالی ہے اور اس ضمن میں دکن میں ’نوسرہار‘ (شہادت نامہ) اور شمالی ہندوستان میں فضلیؔ کی ’کربل کتھا‘ اور روشن ؔعلی کا ’عاشور نامہ‘ جیسی ابتدائی دیسی چیزوں کا بطور خاص حوالہ دیا ہے۔
ہندوستان کثیر المذاہب ملک ہے اور تہذیبی وثقافتی رنگا رنگی کا حامل ہے چناچہ یہاں کربلا کا غم مختلف انداز میں ظہور پذیر ہوتا ہے۔ مختلف ریاستوں میں غم حسین الگ الگ شکلوں میں منایا جاتا ہے۔ غیر مسلموں میں عزاداری اور مراسم کے اپنے اطوار ہیں۔ مصنّف نے ماتمی رقص وموسیقی، سوانگ، اکھاڑے، جھنڈے، گروہ، لنگر، سینہ زنی، آگ اور زنجیری ماتم کی مختلف صورتوں کا ریاست وار تعارف کرایا ہے۔ اس باب میں ’حسینی برہمنوں‘ کا بھی خصوصیت سے ذکر کیا گیا ہے۔
لئیق رضوی نے لوک مرثیے کی صدیوں پرانی روایت کا تاریخی اور تہذیبی پس منظر میں جائزہ لیا ہے۔ عہد بہ عہد تبدیل ہوتی اس کی مختلف صورتوں سے آشنا کرایا ہے۔ اس میں پہلی مرتبہ ملک محمد جائسی کو شامل کیا گیا۔ اس کے علاوہ جائسی سے قبل بھاشا کے دیگر شعرا سیّد بھیکہ، قطبین اور تاج بخش کا بھی انہوں نے حوالہ دیا ہے۔
’شمالی ہند میں عوامی مرثیہ‘ ’بنگال میں عوامی مرثیہ‘ اور ’دکن میں عوامی مرثیہ‘ یہ تینوں ابواب اس کتاب کا مغز ہیں۔ مصنف نے ان خطّوں میں عوامی رثائی متن کا تحقیقی اور تنقیدی نقطۂ نظر سے مطالعہ کیا ہے۔عوامی مرثیے کے نام پر پہلے لوگ ’دہے‘ اور ’زاری‘ کو جانتے تھے۔ مرثیے کی اس نوع کی دیگر اصناف سے لوگ کم واقف تھے یا ناواقف تھے جو ملک کے دوسرے حصوں میں پھیلی ہوئی ہیں۔ لئیق رضوی نے ساتھ ہی یہ نتیجہ اخذ کیا ہے کہ اردو مرثیوں اور نوحوں کا موجودہ تاثر اور کیفیت دہے اور زاری ہی کا مرہونِ منّت ہے۔
ہندوستان میں قدیم لوک گیتوں کی کم وبیش ہزار سال پرانی تاریخ ہے۔ عام مرثیے اور نوحے کی موجودگی کے با وجود ایک عوامی دھارا ایسا تھا جو لوک گیتوں میں مرثیہ اور نوحہ کہہ رہا تھا۔ اردو کی رثائی شاعری پر اس لوک ورثے کا کتنا اثر پڑا اس کا تفصیلی جائزہ بھی مصنف نے لیا ہے۔ اس لوک ورثے میں شامل برج بھاشا، اودھی، بھوج پوری، مگہی، پنجابی، بنگلہ، تیلگو، مراٹھی، کشمیری اور دوسری کئی ہندوستانی زبانوں میں عزائی ادب کے نقوش کو ابھارا گیا ہے۔
لئیق رضوی نے یہ ثابت کرنے کی کوشش کی ہے کہ اردو مرثیے کی جڑیں عربی فارسی میں کم فوک لٹریچر میں زیادہ ہیں۔ اردو میں رثائی تخلیقات آنے سے پہلے قدیم ہندوستانی بولیوں میں کربلائی گیت بن چکے تھے اور اردو کے وجود میں آنے کے بعد وہی گیت اردو میں منتقل ہوئے۔ بعد کے شعرا نے یہ لہجہ اپنے مرثیوں کی کیفیت بڑھانے کے لیے اختیار کیا۔ خلیفہ سکندرؔ اور سوداؔ نے دیہاتی پنجابی، مارواڑی اور برج بھاشا وغیرہ سے استفادہ کیا۔ انہوں نے اپنے مرثیوں میں چار مصاریع اردو میں کہے اور بیت ان دیسی زبانوں کی لگائی۔ ان شعرا نے عوامی بولیوں یا زبانوں سے استفادہ کرکے ترقی کے مراحل طے کیے ہیں۔ بعد کے شعرا نے بھی اپنے کلام میں زور اور نشتریت پیدا کرنے کے لیے دیہاتی زبانوں سے اجالا لیا۔ بیسویں صدی میں بھی نجمؔ آفندی اور رجاؔ رام پوری (رضا رامپوری) وغیرہ نے اس روایت کی پیروی کی ہے۔ آج بھی اگر آپ دس نوحے یا مرثیے اردو کے پڑھتے ہیں تو وہیں ایک آدھ نوحہ علاقائی زبان میں بھی کہتے ہیں تاکہ بات کو پر اثر بنایا جاسکے۔ دراصل یہ ہماری گھٹی میں پڑی ہوئی شاعری ہے جو ہمیں اپنے ماضی اور عزائی ادب کی روح سے جوڑتی ہے۔
نایاب اور کم یاب لوک گیتوں کا انتخاب اور یکجائی اس کتاب کا انتہائی اہم حصّہ ہے۔ قدیم دیسی زبانوں میں مختلف صورتوں میں موجود عوامی مرثیوں اور نوحوں کو محفوظ کرنے کی خاطر لئیق رضوی نے دیدہ ریزی کی ہے۔ ان میں بیشتر لوک گیت ایسے ہیں جو تحریری شکل میں دستیاب نہیں تھے لیکن سینہ بہ سینہ منتقل ہو رہے تھے اور ان میں سے کچھ جدید تکنیکی عہد میں ریکارڈنگ کے ضبط میں آگیے تھے۔ انہیں قلم بند کرنے کے لیے لئیق رضوی نے جاںفشانی کی ہے اور اس طرح یہ قدیم اہم سرمایہ پہلی بار تحریر کے ضابطے میں آگیا ہے اور یہ انمول بول محفوظ ہو گیے ہیں۔
یہ کتاب مصنف کی ربع صدی کی جانفشانی اور عرق ریزی کا نتیجہ ہے۔ مصنف نے ان چیزوں کی تحقیق اور بازیافت کے ساتھ ان کی قدرو قیمت کے تعیّن کی قابل قدر کوشش کی ہے۔ یہ کتاب مرثیے کی تاریخ اوراس کی تحقیق کے شعبے میں ایک اضافہ ہے۔
اہم خبریں
اسکولی لائبریریوں میں مبینہ ‘علیحدگی پسند مواد’ پر جموں و کشمیر حکومت کی بڑی کارروائی، 8 تعلیمی افسران معطل، اعلیٰ سطحی تحقیقات کا حکم
جموں و کشمیر حکومت نے سرکاری اسکولوں کی لائبریریوں میں مبینہ طور پر علیحدگی پسند مواد پر مشتمل کتابوں کی شمولیت کے معاملے میں بڑی کارروائی کرتے ہوئے محکمہ اسکولی تعلیم کے آٹھ افسران کو معطل کر دیا ہے، ایک کنٹریکچول ملازم کی خدمات ختم کر دی ہیں، دو کتابوں کے مصنفین اور پبلشرز کو بلیک لسٹ کرنے کا حکم دیا ہے اور پورے معاملے کی اعلیٰ سطحی تحقیقات شروع کر دی ہیں۔
یہ کارروائی جموں و کشمیر پیپلز فورم (جے کے پی ایف) کی جانب سے ان کتابوں کے خلاف سخت اعتراضات سامنے آنے کے چند روز بعد عمل میں آئی ہے۔ فورم نے اپنی تفصیلی رپورٹ میں دعویٰ کیا تھا کہ سرکاری اسکولوں کی لائبریریوں کے لیے منتخب کی گئی ایک کتاب میں سزا یافتہ دہشت گرد مقبول بٹ کو “شہید” قرار دیا گیا ہے، بھارت کو “قابض ریاست” کہا گیا ہے، “انڈین آکیوپائیڈ کشمیر (IOK)” کی اصطلاح استعمال کی گئی ہے اور متعدد علیحدگی پسند رہنماؤں کے بارے میں ایسا مواد شامل کیا گیا ہے جسے فورم نے ملک مخالف قرار دیا۔ فورم نے یہ سوال بھی اٹھایا تھا کہ سمگر شکشا اسکیم کے تحت ایسی کتابوں کو آخر کس بنیاد پر اسکولی طلبہ کے لیے موزوں قرار دے کر سرکاری لائبریریوں کے لیے منظور کیا گیا۔
اس معاملے پر کارروائی کرتے ہوئے محکمہ اسکولی تعلیم نے حکومتی حکم نامہ نمبر 257-JK(Edu) آف 2026 جاری کیا، جس میں کہا گیا کہ متعلقہ کتابوں میں “انتہائی نامناسب مواد” موجود ہے اور ابتدائی طور پر ایسا محسوس ہوتا ہے کہ ان کتابوں کی سفارش کرنے والی ماہرین کمیٹی کے ارکان نے سنگین غفلت، فرائض میں کوتاہی اور مطلوبہ جانچ پڑتال نہیں کی۔
حکم نامے کے مطابق “Personalities and Legends of J&K” اور “Great Personalities of Jammu and Kashmir” نامی کتابیں سمگر شکشا کے تحت خریدی گئی سینکڑوں کتابوں میں سے ہائر سیکنڈری (سریز-4) ایکسپرٹ کمیٹی نے منتخب کی تھیں، تاہم اعتراضات سامنے آنے کے بعد انہیں فوری طور پر واپس لے لیا گیا۔
حکومت نے تحقیقات مکمل ہونے تک اس انتخابی عمل سے وابستہ آٹھ افسران، جن میں کوآرڈینیٹرز، اکیڈمک افسران، پرنسپلز اور لیکچررز شامل ہیں، کو معطل کر دیا ہے، جبکہ سمگر شکشا سے وابستہ ایک کنٹریکچول ملازم کی خدمات بھی ختم کر دی گئی ہیں۔ اس کے علاوہ ایک سینئر آئی اے ایس افسر کو انکوائری آفیسر مقرر کرتے ہوئے 30 دن کے اندر رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت دی گئی ہے۔
حکومت نے دونوں کتابوں کے مصنفین اور پبلشرز کو جموں و کشمیر میں بلیک لسٹ کرنے کے ساتھ ساتھ ان کے شائع کردہ تمام مواد کو بھی یونین ٹیریٹری سے واپس لینے کا حکم دیا ہے۔ اس پورے معاملے نے سرکاری فنڈز سے خریدی جانے والی تعلیمی کتابوں کی جانچ پڑتال کے نظام اور انہیں منظور کرنے والی ماہرین کمیٹیوں کی جوابدہی پر بھی سنگین سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔
ادھر وزیر تعلیم، صحت اور سماجی بہبود سکینہ ایتو نے اس معاملے کو “ناقابل برداشت اور ناقابل قبول” قرار دیتے ہوئے وقت مقررہ تحقیقات کا حکم دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ محکمہ اسکولی تعلیم کے سیکریٹری کو فوری طور پر تحقیقات شروع کرنے کی ہدایت دے دی گئی ہے تاکہ یہ معلوم کیا جا سکے کہ متنازع مواد سرکاری اسکولوں کی کتابوں تک کیسے پہنچا۔ سکینہ ایتو نے واضح کیا کہ جو بھی اس معاملے میں قصوروار پایا جائے گا اسے قانون کے مطابق سخت سزا دی جائے گی اور کسی کو بھی بخشا نہیں جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ حکومت تعلیمی نظام کی ساکھ برقرار رکھنے اور طلبہ کو معیاری اور ذمہ دارانہ تعلیمی مواد فراہم کرنے کے لیے پوری طرح پرعزم ہے۔
دوسری جانب جموں و کشمیر اسمبلی میں قائد حزب اختلاف اور بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے سینئر رہنما سنیل شرما نے کتاب “Personalities and Legends of J&K” پر فوری پابندی عائد کرنے اور اسے تمام سرکاری لائبریریوں اور تعلیمی اداروں سے واپس لینے کا مطالبہ کیا ہے۔ انہوں نے ڈاکٹر نریندر سنگھ، سنیل سیٹھی اور زوراور سنگھ جموال کے ہمراہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ یہ کتاب دہشت گردی، علیحدگی پسندی اور بھارت مخالف نظریات کو فروغ دینے کی کوشش ہے اور اسے سرکاری لائبریریوں تک پہنچانا ایک منظم سازش کی عکاسی کرتا ہے۔
سنیل شرما نے دعویٰ کیا کہ ہلال احمد اور سنتوش مینا کی تصنیف اور پیراڈائز پریس کی شائع کردہ یہ کتاب تاریخ کے نام پر نوجوان نسل کے ذہنوں کو متاثر کرنے کی کوشش کرتی ہے۔ ان کے مطابق کتاب میں دہشت گردی اور علیحدگی پسند سرگرمیوں سے وابستہ بعض شخصیات کو “لیجنڈز” اور “آزادی پسند” کے طور پر پیش کیا گیا ہے جبکہ بھارت اور اس کی سیکورٹی فورسز کے خلاف سرگرمیوں کو ہمدردانہ انداز میں بیان کیا گیا ہے۔
انہوں نے الزام لگایا کہ کتاب میں مقبول بٹ، ہاشم قریشی، مسرت عالم بھٹ، سید علی شاہ گیلانی، عبدالغنی لون اور محمد فاروق رحمانی سمیت متعدد علیحدگی پسند شخصیات کو غیر معمولی اہمیت دی گئی ہے، جو نہ صرف تاریخ کو مسخ کرنے کی کوشش ہے بلکہ نوجوانوں کو گمراہ کرنے کا ذریعہ بھی بن سکتی ہے۔
بی جے پی رہنما نے مطالبہ کیا کہ کتاب کی تمام کاپیاں فوری طور پر ضبط کر کے سرکاری لائبریریوں، تعلیمی اداروں اور عوامی گردش سے ہٹا دی جائیں۔ انہوں نے کتاب کی خریداری اور منظوری دینے والے افسران، اسکریننگ کمیٹیوں اور لائبریرینز کے خلاف قانونی کارروائی کا بھی مطالبہ کیا۔ اس کے علاوہ انہوں نے جموں و کشمیر کی تمام سرکاری اور اسکولی لائبریریوں کا مکمل آڈٹ کرانے کی اپیل کی تاکہ اگر کسی اور کتاب میں بھی ایسا متنازع یا مبینہ علیحدگی پسند مواد موجود ہو تو اسے بھی فوری طور پر ہٹا دیا جائے۔
اس پورے معاملے نے جموں و کشمیر میں سرکاری تعلیمی اداروں کے لیے کتابوں کے انتخاب، ان کی جانچ پڑتال اور منظوری کے نظام پر نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ حکومت نے 30 دن کے اندر تحقیقات مکمل کرنے کی ہدایت دی ہے، جس کے بعد ذمہ دار افراد کے خلاف مزید انتظامی اور قانونی کارروائی کیے جانے کا امکان ہے۔
جموں و کشمیر
بارہمولہ میں منشیات سے متعلق بیداری پروگرام: ماہرین نے بڑھتی ہوئی منشیات کی لت کو قومی سلامتی کے لیے خطرہ قرار دیا
بارہمولہ کے بوائز ہائر سیکنڈری اسکول میں جمعرات کے روز منشیات سے متعلق ایک بیداری پروگرام کامیابی کے ساتھ منعقد کیا گیا۔ یہ پروگرام نشہ مکت بھارت ابھیان کے تحت سول ڈیفنس بارہمولہ کی جانب سے، ایس ڈی آر ایف/ڈیزاسٹر رسپانس ڈویژن بارہمولہ کے تعاون سے منعقد ہوا۔
اس پروگرام میں گیارہویں اور بارہویں جماعت کے طلبہ کی بڑی تعداد نے جوش و خروش کے ساتھ شرکت کی، جو نوجوانوں میں منشیات کے استعمال اور اس کے نقصانات کے حوالے سے بڑھتی ہوئی آگاہی اور تشویش کی عکاسی کرتا ہے۔ پروگرام کا آغاز ایک تعارفی نشست سے ہوا جس میں مقامی اور قومی سطح پر منشیات کے بڑھتے رجحان، اہم خطراتی عوامل اور بروقت روک تھام کی اہمیت پر روشنی ڈالی گئی۔
ماہرین کی ٹیم میں ڈاکٹر بالی (ڈویژنل وارڈن، سول ڈیفنس بارہمولہ)، محترمہ روحیلا (سینئر سائیکالوجسٹ)، جناب عابد سلیم (کلینیکل سائیکالوجسٹ) اور جناب ایوب (سیکٹر وارڈن، سول ڈیفنس) شامل تھے۔ ان ماہرین نے طلبہ کو منشیات کے جسمانی، نفسیاتی اور سماجی اثرات سے آگاہ کیا اور بروقت بیداری اور احتیاطی تدابیر کی اہمیت پر زور دیا۔
اس پروگرام کا مقصد طلبہ کو منشیات کی بڑھتی ہوئی وبا کے خطرات سے آگاہ کرنا، انہیں معلومات سے بااختیار بنانا اور ایک منشیات سے پاک معاشرے کی تعمیر میں فعال کردار ادا کرنے کی ترغیب دینا تھا۔
اپنے بیان میں ڈاکٹر عنایت میر، چیف وارڈن سول ڈیفنس بارہمولہ، نے کہا کہ منشیات کی لت کو جو روایتی طور پر ایک صحت عامہ کا مسئلہ سمجھا جاتا تھا، اب ایک سنجیدہ سماجی، تزویراتی اور قومی سلامتی کے چیلنج کے طور پر دیکھنا ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ خاص طور پر سرحدی اور حساس علاقوں میں ابھرتے رجحانات اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ منشیات کا پھیلاؤ محض اتفاقی نہیں بلکہ ایک منظم حکمت عملی کے تحت معاشروں کو اندر سے کمزور کرنے کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے، جو ہائبرڈ جنگ کا حصہ ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ منشیات کے منظرنامے میں تبدیلی فردی مسئلے سے بڑھ کر اجتماعی کمزوری کی شکل اختیار کر چکی ہے۔ نوجوانوں کی صلاحیتوں کا زوال، سماجی ڈھانچے کی کمزوری اور انسانی کمزوریوں کا استعمال اس بات کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ معاشرتی استحکام کو متاثر کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ اس تناظر میں منشیات کا پھیلاؤ ایک ایسا ہتھیار بن چکا ہے جو کم نظر آتا ہے مگر اس کے اثرات انتہائی گہرے ہوتے ہیں۔
ڈاکٹر میر نے زور دیا کہ منشیات کی لت کو صرف طبی مسئلہ سمجھنے کے بجائے ایک سماجی اور تزویراتی خطرہ سمجھا جائے جس کے لیے فوری اور مربوط اقدامات ناگزیر ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کسی بھی قوم کی طاقت صرف اس کی سرحدوں میں نہیں بلکہ اس کے معاشرے کی صحت، مضبوطی اور یکجہتی میں ہوتی ہے۔ نوجوانوں کا تحفظ، سماجی ہم آہنگی کا فروغ اور منشیات کے نیٹ ورکس کا خاتمہ قومی سلامتی کے اہم تقاضے ہیں۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر بروقت اقدامات نہ کیے گئے تو یہ خاموش وبا ایک مستقل خطرے میں تبدیل ہو سکتی ہے۔
پروگرام کے اختتام پر طلبہ اور ماہرین کے درمیان ایک باہمی تبادلہ خیال ہوا، جس میں اجتماعی ذمہ داری، باشعور فیصلے اور نوجوانوں کی فعال شرکت کی اہمیت کو اجاگر کیا گیا۔
اہم خبریں
عالمی توانائی بحران کے خدشات کے باوجود دہلی کے گردواروں میں لنگر کی روایت جاری
امریکہ، اسرائیل اور ایران کے درمیان جاری کشیدگی اور عالمی توانائی بحران کے باعث شہر میں کُکنگ گیس کی قلت کے خدشات بڑھنے کے باوجود دہلی کے گردواروں نے فیصلہ کیا ہے کہ ان کے لنگر خانے چوبیس گھنٹے جاری رہیں گے اور صدیوں پرانی لنگر کی روایت کسی بھی صورت میں متاثر نہیں ہونے دی جائے گی۔
قومی دارالحکومت کے اہم گردواروں، جن میں گردوارہ رکاب گنج صاحب، گردوارہ بنگلا صاحب اور گردوارہ سیس گنج صاحب شامل ہیں، کے کمیونٹی کچن ہر ہفتے تقریباً 40 ہزار افراد کو کھانا فراہم کرتے ہیں جبکہ ہفتے کے آخر میں یہ تعداد ایک لاکھ سے بھی تجاوز کر جاتی ہے۔ ان گردواروں کی انتظامیہ اور رضاکاروں نے فیصلہ کیا ہے کہ لنگر سیوا مسلسل جاری رکھی جائے گی۔ اس مقصد کے لیے گیس کے استعمال میں احتیاط، پائپ لائن گیس کی فراہمی اور ہنگامی منصوبہ بندی جیسے اقدامات کیے جا رہے ہیں تاکہ کوئی بھی زائر بھوکا واپس نہ جائے۔
یہ فیصلہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب کمرشل ایل پی جی سلنڈروں کی کمی کے باعث شہر کے کئی ہوٹل اور ریستوران اپنے کام بند کرنے پر مجبور ہو چکے ہیں جبکہ متعدد دیگر بندش کے دہانے پر ہیں۔
خبر رساں ایجنسی یو این آئی (UNI) سے بات کرتے ہوئے گردوارہ حکام نے یقین دلایا کہ سپلائی میں مشکلات کے باوجود لنگر میں کھانے کی فراہمی بلا تعطل جاری رہے گی۔
گردوارہ انتظامیہ کے رکن ہرمیّت سنگھ کالکا نے بتایا کہ گردواروں کے کچن پائپ نیچرل گیس (PNG) کی پائپ لائن سے منسلک ہیں، اس لیے فی الحال ایندھن کی کوئی فوری کمی نہیں ہے۔
انہوں نے کہا:
“جب کووڈ-19 کے دوران پوری دنیا بند تھی، تب بھی ہم نے تمام انتظامات سنبھالے اور اس وقت بھی لنگر سیوا چوبیس گھنٹے جاری رکھی۔ مارچ کے آخر اور اپریل میں ہمارے دو بڑے پروگرام بھی طے ہیں جن میں بیساخی بھی شامل ہے۔”
کالکا نے مزید بتایا کہ اگرچہ کچن پائپ نیچرل گیس پر چل رہے ہیں، لیکن احتیاط کے طور پر کمرشل گیس سلنڈروں کا ذخیرہ بھی رکھا گیا ہے۔
انہوں نے کہا:
“تمام انتظامات کے باوجود ہم نے سیواداروں کو ہدایت دی ہے کہ وسائل کا ضیاع نہ ہو۔ ہم ہر چیز کو بہتر طریقے سے سنبھال رہے ہیں اور ابھی تک کوئی مسئلہ پیش نہیں آیا۔”
احتیاطی اقدام کے طور پر گردوارہ انتظامیہ نے وزارتِ پٹرولیم و قدرتی گیس کو بھی خط لکھا ہے تاکہ گیس سلنڈروں کی فراہمی بلا تعطل جاری رکھی جا سکے اور لنگر سیوا میں کوئی رکاوٹ پیدا نہ ہو۔
مرکزی وزیر ہردیپ سنگھ پوری کے نام لکھے گئے خط میں کالکا نے کہا کہ دہلی سکھ گردوارہ مینجمنٹ کمیٹی کے زیر انتظام تمام تاریخی گردواروں میں روزانہ عقیدت مندوں کو لنگر پیش کیا جاتا ہے۔
خط میں کہا گیا ہے:
“دنیا میں موجودہ جنگی صورتحال کے باعث گیس ایجنسیوں کی جانب سے سلنڈروں کی سپلائی متاثر ہو رہی ہے جس سے گردواروں میں لنگر کی تقسیم متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔”
انہوں نے وزارت سے اپیل کی کہ ڈی ایس جی ایم سی (DSGMC) کو گیس سلنڈروں کی مسلسل فراہمی یقینی بنائی جائے تاکہ تاریخی گردواروں میں لنگر کی روایت بغیر کسی رکاوٹ کے جاری رہ سکے۔
(مصنف: پرویندر سندھو)
-
ہندوستان6 hours agoطلبہ پر کارروائی کے معاملے پر حکومت کو گھیرتے ہوئے راہل کا مضمون، کھڑگے اور پرینکا نے حمایت کی
-
دنیا5 hours agoسعودی عرب میں فیکٹری میں آگ کے سبب 16 بنگلہ دیشی مزدور ہلاک
-
دنیا8 hours agoٹرمپ جوہری معاہدے کے بغیر ایران کے ساتھ تنازع ختم کرنے پر تیار: رپورٹ
-
دنیا1 hour agoایران کا فی الحال امریکہ کے ساتھ کوئی مذاکرات نہیں: ایرانی وزیر خارجہ
-
دنیا12 minutes agoتجربہ کار آئی آر جی سی کمانڈر محسن رضائی ایران کے قومی سلامتی کے سربراہ مقرر
