تازہ ترین
کیرالا کی کامیابی کو اہمیت کیوں نہیں دی گئی؟
آکر پٹیل
ملک کی کسی ریاست نے کووڈ۔۱۹؍ سے جنگ میں قابل ذکر کامیابی حاصل کی ہے تو وہ کیرالا ہے مگر افسوس کہ اس کی جدوجہد کو لائق اعتناء نہیں سمجھا گیا۔ وزیر اعظم نے ایک بار پھر اس کا تذکرہ نہیں کیا۔
حکومت کا کہنا ہے کہ اس نے قومی سطح پر لاک ڈاؤن نافذ نہ کیا ہوتا تو مزید ۳۷؍ ہزار تا ۷۱؍ ہزار اموات ہوتیں۔ بعض مطالعات کا حوالہ دیتے ہوئے حکومت نے یہ بھی کہا ہے کہ اگر لاک ڈاؤن اور اس میں توسیع نہ کی گئی ہوتی تو وطن عزیز میں کورونا کے متاثرین کی تعداد ۱۴؍ لاکھ تا ۲۹؍ لاکھ ہوتی۔حکومت اور پھر نیتی آیوگ کے ایک رُکن نے اپنی انفرادی حیثیت میں اُس سلائیڈ کیلئے معذرت طلب کی ہے جس میں یہ تاثر دینے کی کوشش کی گئی تھی کہ ۲۴؍ اپریل تک کورونا کے کیسیز صفر کے قریب ہوجائینگے۔
اب نیتی آیوگ کے رُکن نے جمعہ کو کہا کہ ’’کسی نے یہ بات نہیں کہی کہ ایک خاص تاریخ تک کیسیز کی تعداد صفر کے قریب آجائیگی۔ شاید کوئی غلط فہمی ہوئی ہے جس کا ازالہ ضروری ہے۔ اس غلط فہمی کیلئے مَیں معذرت خواہ ہوں۔‘‘
حکومت کووڈ۔۱۹؍ سے متعلق جو پریس کانفرنس کرتی ہے اس میں دو باتوں پر خاص توجہ مرکوز کی جارہی ہے۔ پہلی بات یہ ہے کہ صحت یاب ہونے والے مریضوں کی تعداد (جو بڑھ رہی ہے) اور دوسری بات یہ کہ اگر وزیر اعظم نے لاک ڈاؤن کا سخت فیصلہ نہ کیا ہوتا تو اِس وقت پورا ملک ایک بڑی مصیبت میں گھرا ہوتا۔‘‘ معلوم ہوا کہ حکومت نئے مریضوں کی تعداد پر توجہ مرکوز نہیں کررہی ہے جبکہ کہا یہ جارہا تھا کہ لاک ڈاؤن کی وجہ سے مریضوں کی تعداد کا اضافہ رُک جائیگا یعنی کورونا کے پھیلاؤ پر قابو پالیا جائیگا۔
ریکوری ریٹ (صحت یاب ہونے والوں کا تناسب) کا مطلب یہ ہے کہ جو لوگ متاثر ہوئے، پھر اُن کی جانچ ہوئی، وہ پازیٹیو نکلے اور کچھ وقت بعد جب اُن کی دوبارہ جانچ کی گئی تو ان کی رپورٹ نگیٹیو آئی۔ سنیچر کی صبح کو جب یہ سطریں ضبط تحریر میں لائی جارہی ہیں، ۱ء۲۵؍ لاکھ لوگ ایسے تھے جو کورونا پازیٹیو بتائے گئے جبکہ ریکور (صحت یاب) ہونےو الوں کی تعداد ۵۲؍ ہزار ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ نصف سے کچھ کم تعداد ایسے مریضوں کی ہے جو شفا یاب ہوئے۔ عالمی سطح پر ۵۳؍ لاکھ لوگ متاثر ہوئے جن میں سے ۲۱؍ لاکھ صحت یاب ہوئے۔
اس مضمون نگار کی رائے یہ ہے کہ صحت یاب ہونے والوں کی تعداد قدرتی طور پر بڑھتی رہے گی تاوقتیکہ ۹۵؍ فیصد نہ ہوجائے۔ ممکن ہے ریکوری ریٹ اس سے بھی زیادہ ہوجائے۔ کیوں؟ اس لئے کہ کووڈ۔۱۹؍ سے ہلاک ہونے والوں کی تعداد فی الحال ۶؍ فیصد ہے۔ ان میں اکثریت اُن لوگوں کی تھی جو ضعیف العمر تھے اور مختلف بیماریوں میں مبتلا تھے۔ یہ اطلاعات امریکہ اور یورپ کی ہیں۔ جہاں تک ہندوستان کا تعلق ہے، اب تک ہلاکتوں کی شرح ۳؍ فیصد ہے جس سے یہ نتیجہ اخذ کرنا غلط نہ ہوگا کہ اگر حکومت کچھ نہ کرے تب بھی ۹۷؍ فیصد لوگ صحت یاب ہوجائینگے۔
یہ بات یاد رہنی چاہئے کہ کووڈ۔۱۹؍ کا کوئی علاج نہیں ہے۔ اگر کوئی شخص اس وائرس کی زد میں آجائے تو اُسے، اُس وقت تک انتظار کرنا ہوگا جب تک اس کے جسم میں وائرس کا اثر ختم نہ ہوجائے۔ مگرکوئی شخص ایک بار متاثر ہوکر ٹھیک ہوجائے تو اس کا یہ مطلب نہیں کہ وہ دوبارہ متاثر نہیں ہوگا۔ کئی ملکوں میں ’’ری انفیکشن‘‘ کے واقعات بھی بڑے پیمانے پر ہوئے۔ اس کے باوجود اگر حکومت ریکوری ریٹ یعنی صحت یاب مریضوں کی تعداد بتانے پر اصرار کرتی ہے تو اس کا یہ طریقۂ عمل سمجھ میں نہیں آتا کیونکہ ریکوری، ۱۰۰؍ فیصد ریکوری نہیں ہوتی، بعض مریض دوبارہ بھی متاثر ہوتے ہیں۔حکومت کا یہ طریقۂ عمل شاید عوام کو اعتماد میں لینے کی کوشش ہے۔
مسئلہ نئے کیسیز کا ہے او ریہ مسئلہ اِس وقت بھی ہے اور آئندہ دنوں اور ہفتوں میں بھی رہے گا۔ مئی میں نو متاثرین کی یومیہ تعداد ۲؍ ہزار تھی جو گزشتہ ہفتے ۴؍ ہزار تک پہنچ گئی۔ اس وقت ۶؍ ہزار ہے۔ کیرالا کے علاوہ کوئی ریاست ایسی نہیں ہے جہاں نئے کیسیز کی تعداد کم ہوئی ہو۔لاک ڈاؤن کے دوران جانچ کا سلسلہ جاری رہے گا اور ایسا لگتا ہے کہ آئندہ چند ہفتوں تک کیسیز بڑھنے ہی کی اطلاع ملتی رہے گی (خدانخواستہ)۔
دیگر ملکوں میں یہی رجحان دیکھنے میں آیا سوائے اُن ملکوں کے جہاں رضاکارانہ طور پر عوام احتیاط کرتے رہے، سماجی فاصلہ کو ملحوظ رکھا، بار بار صابن سے ہاتھ دھونے کی زحمت اُٹھائی، ماسک پہنا وغیرہ۔ جن ملکوں میں متاثرین کی تعدادایک لاکھ سے زیادہ ہے اُن کی تعداد ۱۱؍ ہے۔ ان میں برازیل، ہندوستان اور پیرو میں مریضوں کی تعداد بڑھ رہی ہے۔ امریکہ میں یومیہ ۲۰؍ ہزار تا ۳۵؍ ہزار نئے کیسیز سامنے آرہے تھے۔ پچھلے ۵۰؍ دن یہی ہوا۔اس ملک نے اب تک ۱ء۴؍ کروڑ ( ہر ۱۰؍ لاکھ لوگوں میں ۴۲؍ ہزار ) ٹیسٹ کئے ہیں۔ ہندوستان میں ہر ۱۰؍ لاکھ میں صرف ۲؍ ہزار کی جانچ ہوئی ہے۔ کیا اس کا یہ مطلب نہیں کہ ہمارے ملک میں چونکہ ٹیسٹنگ ہی کم ہورہی ہے اس لئے کوئی نہیں جانتا کہ مزید کتنے لوگ کووڈ۔۱۹؍ سے متاثر ہیں؟
اب چونکہ ہمارے پاس کافی ڈاٹا موجود ہے اس لئے ہم شرح اموات دیکھ کر بھی کچھ اندازہ لگا سکتے ہیں۔ گجرات میں ۱۳؍ ہزار لوگ متاثر ہوئے جبکہ ۸؍ سو کی موت ہوئی۔ یہ شرح اموات ملک کی مجموعی شرح سے دوگنا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اس ریاست میں مزید ۱۳؍ ہزار ایسے ہوسکتے ہیں جو متاثر ہوں اور جنہیں علم نہ ہو کہ وہ متاثر ہیں۔چنانچہ ایک خدشہ یہ ہے کہ بہت سے لوگ جنہوں نے دفاتر جانا شروع کردیا ہے اور وہ سارے مزدور جو پیدل چل کر اپنے علاقوں کی طرف لوٹ گئے، ان کی وجہ سے متاثرین کی تعدادبڑھ سکتی ہے۔ اس کی و جہ سے یومیہ اوسط بڑھے گا، نقطۂ عروج تک پہنچے گا اور پھر کم ہونا شروع ہوگا جیسا کہ ہم نے امریکہ، اٹلی اور برطانیہ میں دیکھا۔ دراصل حقیقی پیمانہ یہ دیکھنا ہے کہ کتنے نئے کیسیز آتے ہیں۔ پیمانہ یہ نہیں ہوسکتا کہ کتنے لوگ اچھے ہوگئے اور یہ بھی نہیں کہ کتنے لوگوں کو بچا لیا گیا۔
رہا یہ سوال کہ یومیہ نئے متاثرین کا اوسط کیسے کم ہوسکتا ہے؟ تو اس سوال کا جواب کیرلا سے پوچھنا چاہئے۔ یہ وہ ریاست ہے جہاں مارچ میں (جبکہ کورونا پھیلنا شروع ہوا تھا) سب سے زیادہ کیسیز تھے مگر اب وہاں کے متاثرین کی تعداد صرف ۱۷؍ ہے۔ اس ریاست کی کامیابی کا اعتراف کئی بیرونی ملکوں نے کیا ہے مگر ہمارے وزیر اعظم نے ایک بار بھی اس کامیابی کو لائق اعتناء نہیں سمجھا۔کورونا سے لڑائی میں اس ریاست نے جو کچھ بھی کیا وہ ملک کی تمام ریاستوں کیلئے مشعل راہ ہے۔
ہم میں سے بھی بہت سے لوگ نہیں جانتے کہ کیرالا نے آخر ایسا کیا کیا ہے جو گجرات، مہاراشٹر اور دہلی جیسی ریاستیں نہیں کرپارہی ہیں۔ اس لاعلمی کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ مرکزی حکومت نے کیرالا کی جدوجہد کو اہمیت نہیں دی اور اسے رول ماڈل تسلیم نہیں کیا۔
ہندوستان
مودی حکومت کی پالیسیوں نے معاشی لبرلائزیشن کو برباد کر دیا: کھرگے
نئی دہلی، کانگریس صدر ملکارجن کھرگے نے مودی حکومت کی معاشی پالیسیوں پر شدید نکتہ چینی کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس حکومت نے عام لوگوں کے مفادات کو نظر انداز کر کے صارفین کے لیے متعدد اختیارات کی مسابقت کو ختم کر دیا ہے اور منتخب سرمایہ دار دوستوں کو فائدہ پہنچایا جا رہا ہے، جس سے معاشی لبرلائزیشن کی بنیاد برباد ہو گئی ہے۔
مسٹر کھرگے نے جمعہ کے روز سوشل میڈیا پلیٹ فارم ‘ایکس’ پر لکھا کہ مودی حکومت کی معاشی پالیسیوں کا مقصد معیشت کا کنٹرول اپنے چہیتے سرمایہ دار دوستوں کے ہاتھوں میں سونپنا ہے، تاکہ بدلے میں منافع میں بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کا حصہ برقرار رہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ مسابقت کو ختم کر کے اجارہ داری اور دو کمپنیوں کے غلبے والے نظام کو نافذ کر کے بی جے پی کے خزانے کو بھرنے کا کام کیا گیا ہے۔
کانگریس صدر نے کہا کہ ٹیلی کام کے شعبے میں 2014 سے پہلے 13 کمپنیاں تھیں، جبکہ اب صرف تین بڑی نجی کمپنیاں رہ گئی ہیں۔ اسی طرح اندرونِ ملک ہوا بازی کے شعبے میں 2014 سے پہلے سات کمپنیوں کے مقابلے اب صرف دو بڑی کمپنیاں رہ گئی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ڈیجیٹل ادائیگی، سیمنٹ اور فوڈ ڈیلیوری ایپس سمیت مختلف شعبوں میں حکومت کی ترجیح مسابقت کو ختم کرنا رہی ہے۔ مسٹر کھرگے نے کہا کہ کانگریس معاشی لبرلائزیشن کی بانی ہے، جبکہ بی جے پی پر اپنے منافع کے لیے ‘معاشی دہشت گردی’ نافذ کرنے کا الزام لگایا۔
مسٹر کھرگے نے دعویٰ کیا کہ حکومت کی معاشی پالیسیوں سے مائیکرو، اسمال اینڈ میڈیم انٹرپرائزز (ایم ایس ایم ای) اور دیگر چھوٹے و درمیانے درجے کی صنعتوں کو نقصان پہنچا ہے نیز ملک کے نوجوانوں کو شدید بے روزگاری کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔
یواین آئی ایف اے
ہندوستان
انڈیا اتحاد کے رہنماؤں سے جمعہ کی رات آٹھ بجے ملاقات کریں گی مرمو
نئی دہلی، انڈیا اتحاد کے رہنما جمعہ کی رات آٹھ بجے صدرِ جمہوریہ دروپدی مرمو سے ملاقات کر کے ووٹر لسٹ کی خصوصی تفصیلی نظرثانی (ایس آئی آر) کےعمل کے ذریعے دھاندلی کرنے اور الیکشن کمیشن کے طریقہ کار سے متعلق مسائل پر اپنے خدشات پیش کریں گے۔
ذرائع کے مطابق انڈیا اتحاد کے رہنماؤں نے 30 ستمبر کو یہاں منعقدہ میٹنگ میں صدرِ جمہوریہ سے ملاقات کر کے ان مسائل پر ان کے سامنے اپنا موقف رکھنے کا فیصلہ کیا تھا۔ اتحاد کے رہنما ایس آئی آر کے عمل اور چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے طریقہ کار سے متعلق اپنے خدشات سے صدرِ جمہوریہ کو آگاہ کرنا چاہتے ہیں۔
اس سلسلے میں صدرِ جمہوریہ سے ملاقات کے لیے پہلی بار دو اکتوبر کو مکتوب بھیج کر وقت مانگا گیا تھا۔ راشٹرپتی بھون کی طرف سے وفد میں شامل ہونے والے رہنماؤں کے نام مانگے جانے کے بعد اتحاد نے پانچ اکتوبر کو دوبارہ مکتوب بھیجا اور سات، آٹھ یا نو اکتوبر میں سے کسی بھی دن ملاقات کا وقت دینے کی درخواست کی تھی۔
انڈیا اتحاد کے رہنما چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار پر ووٹر لسٹ میں مبینہ دھاندلیوں کے تعلق سے سوال اٹھاتے ہوئے ان کے استعفے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ اس معاملے پر اتحاد کے اراکینِ پارلیمنٹ نے مظاہرے اور مارچ بھی نکالے ہیں۔
کانگریس نے الیکشن کمیشن کے خلاف اپنے احتجاج کو تیز کرنے کے لیے تقریباً ڈیڑھ ماہ تک جاری رہنے والی تحریک کے پروگرام کی بھی توثیق کی ہے۔ کانگریسی رہنما راہل گاندھی اور پرینکا گاندھی واڈرا کو پولیس مظاہرے کے دوران مسلسل دو بار حراست میں بھی لے چکی ہے۔
یواین آئی ایف اے
ہندوستان
ہندوستان نے امریکہ کے پی ای آر ایم پروگرام پر روک پر تشویش کا اظہار کیا، کہا – یہ دونوں ممالک کے مفادات کے خلاف
نئی دہلی، ہندوستان نے امریکی محکمہ محنت کے مستقل لیبر سرٹیفیکیشن پروگرام (پی ای آر ایم) سے جڑے فیصلے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اسے دونوں ممالک کے مفادات کے خلاف بتایا ہے۔
امریکہ کی جانب سے جمعرات کی رات اس قدم کے اعلان کے بعد وزارتِ خارجہ نے جمعہ کے روز ایک بیان جاری کر کے کہا کہ اس قدم سے متاثرہ کمپنیوں کے اہل ملازمین کے گرین کارڈ کے عمل پر اثر پڑ سکتا ہے۔ تاہم پی ای آر ایم درخواستوں پر روک سے موجودہ ایچ-1بی ویزا یا ویزا ہولڈرز اور ان کے زیرِ کفالت افراد کی حیثیت پر خود بخود کوئی اثر نہیں پڑتا۔
ہندوستان نے کہا کہ پی ای آر ایم پروگرام، ایچ-1بی ویزا پروگرام سے مختلف ہے۔ متاثرہ کمپنیوں کے اہل ملازمین کی مستقل رہائش یعنی گرین کارڈ حاصل کرنے کے عمل پر اس کا کچھ اثر ہو سکتا ہے، لیکن اس سے موجودہ ایچ-1بی ویزا کی میعاد اپنے آپ ختم نہیں ہوتی۔
وزارتِ خارجہ نے کہا ہے کہ ہندوستانی ٹیلنٹ کے امریکہ جانے سے دونوں ممالک کی معیشتوں کو فائدہ ہوتا ہے۔ اس سے ہندوستانیوں کو مواقع ملتے ہیں، جبکہ امریکی کمپنیوں کو ہنر مند ملازمین، نئی ٹیکنالوجی، تحقیق، جدت طرازی، پیداواری صلاحیت اور مسابقتی صلاحیت بڑھانے میں مدد ملتی ہے۔ اس سے امریکہ میں روزگار کے مواقع پیدا ہوتے ہیں اور شیئر ہولڈرز کے اثاثوں میں بھی اضافہ ہوتا ہے۔
ہندوستان نے کہا کہ امریکہ کا یہ قدم دونوں ممالک کے مشترکہ اہداف کو آگے بڑھانے میں مدد نہیں کرتا۔ ہندوستان نے امریکی نائب صدر کے اس معاملے پر کیے گئے تبصروں پر بھی اعتراض ظاہر کیا۔ ہندوستان کے مطابق ایسے تبصرے غیر مناسب ہیں اور امریکہ کی معیشت نیز جدت طرازی میں ہندوستانی پیشہ ور افراد کی خدمات کو نظر انداز کرتے ہیں۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ ہندوستانی پیشہ ور افراد امریکہ کی معیشت اور جدت طرازی کے نظام میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ امریکہ کی تاریخ بھی ایسے تارکینِ وطن کی خدمات سے بنی ہے جنہوں نے اپنے کام، کاروبار اور نئے خیالات سے ملک کی ترقی میں مدد کی ہے۔ ہندوستان نے کہا کہ دردناک تاریخی اور نوآبادیاتی دور کی یاد دلانے والے الفاظ کا استعمال انتہائی قابلِ اعتراض ہے۔
وزارتِ خارجہ نے کہا کہ وہ اس معاملے سے جڑی صورتحال پر مسلسل نظر رکھے ہوئے ہے۔
یواین آئی ایف اے
-
جموں و کشمیر1 week agoسری نگر پولیس نے بین ریاستی منشیات نیٹ ورک کا پردہ فاش کیا، آٹھ افراد گرفتار
-
دنیا1 week agoقطری ثالثی کی امریکہ، ایران کے درمیان مذاکرات میں معمولی پیش رفت
-
دنیا1 week agoروس پر براہِ راست حملے کی صورت میں ہر قسم کے ہتھیار استعمال کرنےکا معاملہ ایجنڈے پر ہو گا :پوتن
-
جموں و کشمیر7 days agoگاندھی کے عدم تشدد اور سودیشی کے نظریات آج بھی اہم ہیں: جموں کے ڈویژنل کمشنر
-
ہندوستان1 week agoوندے بھارت نے چِناب پل اور کیبل اسٹڈ انجی پل کو 100 کلومیٹر کی رفتار سے عبور کیا
-
جموں و کشمیر1 week agoکشمیر میراتھن اتحاد اور نوجوانوں کے متبادل خواہشات کا پیغام دیتی ہے: ایل جی سنہا
-
ہندوستان1 week agoڈیفنس اکاؤنٹس ڈیپارٹمنٹ کے 279ویں سالانہ دن پر کئی نئی پہل کی شروعات کریں گے راج ناتھ
-
جموں و کشمیر1 week agoجاوید ڈار نے اسمبلی میں سی اے جی کی رپورٹیں پیش کیں
-
ہندوستان1 week agoشیئر بازاروں میں گراوٹ جاری، سینسیکس 49 پوائنٹس پھسلا
-
دنیا6 days agoخمیس مشیط کی جانب داغے گئے تین حوثی بیلسٹک میزائل تباہ
-
دنیا1 week agoایران امریکہ سے مذاکرات کی کوشش جاری رکھے گا: پیزشکیان
-
جموں و کشمیر1 week agoاپوزیشن لیڈر کا عمر پر ریاستی حیثیت کی بحالی کے مطالبے کو ’سبوتاژ‘ کرنے کا الزام، جموں و کشمیر اسمبلی کا اجلاس ’بدقسمت‘ قرار
