کھیل
گزشتہ 100 برسوں میں ہندوستان کی ہاکی نے جو حاصل کیا ہے، وہ ایک عظیم کارنامہ ہے: ظفر اقبال
نئی دہلی، کئی دہائیوں تک، ہندوستان کی آزادی سے بھی پہلے، ہندوستان کی ہاکی کو عالمی سطح پر کھیلوں کی بہترین مثال سمجھا جاتا رہا ہے 13 اولمپک تمغوں (8 سونے، 1 چاندی اور 4 کانسے) کے شاندار ریکارڈ کے ساتھ، ہندوستان نے خود کو اس کھیل کی سب سے بڑی طاقت کے طور پر پیش کیا۔ ہندوستان کی اس کامیاب تاریخ کو تشکیل دینے میں جن شخصیات کا نمایاں کردار رہا، اُن میں ایک بڑا نام ظفر اقبال کا ہے — جو 1980 کے ماسکو اولمپک میں سونے کا تمغہ جیتنے والی ٹیم کے کھلاڑی تھے۔ یہ ہندوستان کا گرمیوں کے اولمپک کھیلوں میں جیتا ہوا آخری سونے کا تمغہ بھی تھا۔
ہندوستانی ہاکی کے شاندار 100 برس مکمل ہونے پر بات کرتے ہوئے ظفر اقبال نے کہا:“میں یہ کہوں گا کہ گزشتہ 100 برسوں میں ہندوستان کی ہاکی نے جو حاصل کیا ہے، وہ ایک بڑی کامیابی ہے۔ اگر آپ غور کریں کہ ہاکی نے گزشتہ 100 برسوں میں ملک کے لیے کیا کچھ کیا ہے، تو ہم نے اولمپک کھیلوں میں 8 سونے کے تمغے جیتے ہیں اور ورلڈ کپ میں بھی تمغے حاصل کیے ہیں۔ ہاکی نے ملک کے لیے بہت اچھا کام کیا ہے، ہندوستان کا نام روشن کیا ہے، اور دنیا کی کوئی دوسری ٹیم — چاہے وہ آسٹریلیا، جرمنی، ہالینڈ یا کوئی اور بڑی ٹیم ہو — گزشتہ 100 برسوں میں ایسا نہیں کر سکی۔”
اپنے دورِ کھیل میں ایک انتہائی اہم کھلاڑی کے طور پر معروف ظفر اقبال نے نہ صرف 1980 کے ماسکو اولمپک میں سونا جیتا بلکہ 1978 اور 1982 کے ایشیائی کھیلوں میں دو چاندی کے تمغے اور 1982 کی چیمپئنز ٹرافی میں ایک کانسی کا تمغہ بھی حاصل کیا۔
کھیل کے اس کامیاب دور کو یاد کرتے ہوئے انہوں نے کہا:“1947 میں آزادی کے بعد ہندوستانی ہاکی نے بہت کچھ حاصل کیا ہے۔ 1947 سے اب تک ہم نے پانچ سونے کے تمغے جیتے ہیں۔”
1976 میں اولمپک کھیلوں میں ہاکی نے گھاس کی بجائے ایسٹرو ٹرف پر کھیلنا شروع کیا، اور ہندوستان گھاس پر کھیلنے کا زیادہ عادی تھا۔ تاہم 1980 میں ہندوستان نے نئی سطح پر کھیلنے کی تمام مشکلات پر قابو پاتے ہوئے ماسکو میں تاریخی طلائی تمغہ جیتا۔
اس کامیاب مہم کو یاد کرتے ہوئے ظفر اقبال نے کہا:“ہمیں ایسٹرو ٹرف پر کھیلنے کا زیادہ تجربہ نہیں تھا کیونکہ اُس وقت ہندوستان میں ایسٹرو ٹرف موجود ہی نہیں تھے۔ 1980 میں ہم نے اسپین کے خلاف فائنل کھیلا تھا، جو ایک سخت مقابلہ تھا۔ اسپین اُس وقت دنیا کی بہترین ٹیموں میں سے ایک تھی اور ہمیں جیت حاصل کرنے کے لیے میچ کے آخری لمحات میں بہت عمدہ دفاع کرنا پڑا۔ یہ سب ہمارے ہنر اور صلاحیتوں کی بدولت ممکن ہوا کہ ہم اسپین کو شکست دے سکے۔”
انہوں نے مزید کہا: “ہم اتنے خوش تھے کہ ہماری آنکھوں سے آنسو نکل آئے۔ جب ہم پوڈیم پر پہنچے تو ہمیں ناقابلِ بیان خوشی محسوس ہو رہی تھی۔ ہم کھیل کا لطف اٹھا رہے تھے اور سب ہمارا حوصلہ بڑھا رہے تھے، حالانکہ ہندوستان سے شاید ہی کوئی ناظرین موجود تھا، لیکن سفارت خانے کے تمام افسر وہاں موجود تھے۔”
ہندوستانی ہاکی کے موجودہ دور کے کھلاڑیوں کے بارے میں بات کرتے ہوئے ظفر اقبال نے کہا:“ہمیں دنیا کو دکھانا ہوگا کہ ہمارے پاس ایسے کئی کھلاڑی ہیں جو مستقبل میں چیمپئن بن سکتے ہیں۔ ہم نے 2016 کا جونیئر مرد ہاکی ورلڈ کپ جیتا تھا، اور اب مجھے امید ہے کہ ہم اچھا کھیل پیش کریں گے اور 2025 جونیئر مرد ہاکی ورلڈ کپ میں پوڈیم پر جگہ بنائیں گے۔”
انہوں نے آخر میں کہا:“ہاکی انڈیا ایک منظم ادارہ ہے، وہ اپنا کام پیشہ ورانہ انداز میں کر رہے ہیں، اور مجھے پورا یقین ہے کہ وہ ہمارے ملک میں ہاکی کو مزید آگے بڑھا سکتے ہیں۔”
یواین آئی۔ م س
کھیل
میسی کی شکست کے باوجود اسکالونی کو ٹیم پر فخر
نیویارک، ارجنٹینا کے مینیجر لیونل اسکالونی نے اعتراف کیا کہ اسپین ورلڈ کپ جیتنے کا حقدار تھا، لیکن ہار کے باوجود انہیں اپنی ٹیم پر فخر ہے۔
دفاعی چیمپئن نے اپنے پچھلے چاروں ناک آؤٹ میچوں میں سے ہر ایک کو جیتنے کے لیے آخری لمحات میں گول کیے تھے، لیکن نیو جرسی اسٹیڈیم میں ایک اور ڈرامائی کھیل سے بچنے میں ناکام رہے۔
میچ کے بعد اسکالونی نے کہا، “مجھے دکھ ہو رہا ہے۔ کوئی اس بارے میں بہت کچھ کہہ سکتا ہے کہ ہم یہاں تک کیسے پہنچے، لیکن یہ اس کے لائق نہیں ہے۔ میں بس ان کھلاڑیوں کا تہہ دل سے شکریہ ادا کرنا چاہتا ہوں جو ایک بار پھر ہمیں فائنل میں لے گئے۔ وہ (اسپین) بہتر تھے، یہ سچ ہے، لیکن میرے کھلاڑیوں نے جو کچھ حاصل کیا، اس کی زبردست یادیں میرے پاس رہیں گی۔ ہم جیت میں عظیم ہیں اور ہار میں بھی ایسا ہی ہونا چاہیے۔ آج رات، ہم دکھاتے ہیں کہ ہم ہارنا جانتے ہیں۔
ہم ہار گئے اور ہم نے اسے قبول کر لیا۔”
یواین آئی۔الف الف
کھیل
طویل علالت کے بعد شہپور زادران انتقال کر گئے
نئی دہلی، افغانستان کے سابق فاسٹ گیندباز شہپور زادران 39ویں سالگرہ سے ایک روز قبل طویل علالت کے بعد انتقال کر گئے۔ وہ گزشتہ کئی ماہ سے دہلی کے ایک اسپتال میں نایاب بیماری ہیموفیگوسائٹک لمفوہسٹیوسائٹوسس (ایچ ایل ایچ) کے باعث زیر علاج تھے۔
ان کے انتقال کی تصدیق ان کے چھوٹے بھائی غمئی زادران نے کی، جو جنوری میں علاج کے لیے دہلی منتقل کیے جانے کے بعد سے مسلسل ان کے ساتھ تھے۔ شہپور زادران ایچ ایل ایچ کی شدید نوعیت میں مبتلا تھے، جو ایک نایاب بیماری ہے جس میں جسم کا مدافعتی نظام درست طریقے سے کام کرنا چھوڑ دیتا ہے۔
2000 اور 2010 کی دہائی میں افغانستان کرکٹ کے عروج کے دوران شہپور زادران نمایاں شخصیات میں شمار ہوتے تھے۔ چھ فٹ دو انچ قد کے شہپور زادران اپنے طویل رن اپ اور لہراتے بالوں کے ساتھ گیندبازی کے لیے مشہور تھے۔ افغانستان کرکٹ بورڈ کے مطابق ملک میں کرکٹ کی بنیاد مضبوط کرنے میں ان کا اہم کردار رہا۔ انہوں نے 2009 سے 2020 کے درمیان 44 ایک روزہ اور 36 ٹی20 بین الاقوامی میچ کھیلے اور مجموعی طور پر 80 بین الاقوامی وکٹیں حاصل کیں۔
2015 کے ایک روزہ ورلڈ کپ میں انہوں نے شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے 10 وکٹیں حاصل کیں اور افغانستان کے سب سے کامیاب گیندباز رہے۔ اس کے علاوہ انہوں نے 2010 سے 2016 کے درمیان چار ٹی20 ورلڈ کپ کھیلے، جن میں نو میچوں میں نو وکٹیں حاصل کیں۔
شہپور زادران کی علالت کے دوران راشد خان، سابق کپتان اصغر افغان اور دیگر کئی نمایاں کرکٹرز مسلسل ان کے رابطے میں رہے۔
افغانستان کرکٹ بورڈ نے اپنے تعزیتی بیان میں کہا کہ شہپور زادران نے اپنے پورے کریئر میں عزت، حوصلے اور فخر کے ساتھ افغانستان کرکٹ کی خدمت کی اور ان کی خدمات ہمیشہ یاد رکھی جائیں گی۔ بورڈ نے کہا کہ وہ نوجوان افغان کرکٹرز اور دنیا بھر کے شائقین کے لیے ایک تحریک تھے، جبکہ ان کی جرات، عزم اور کھیل سے محبت نے نئی نسل کو بڑے خواب دیکھنے کا حوصلہ دیا۔
بیان میں شہپور زادران کے اہل خانہ، دوستوں، سابق ساتھیوں اور افغانستان کرکٹ برادری سے بھی گہرے تعزیت کا اظہار کیا گیا۔
شہپور زادران افغانستان کے صوبہ لوگر میں پیدا ہوئے، تاہم جنگ کے باعث ان کا خاندان پشاور منتقل ہوگیا، جہاں انہوں نے نیاز اسٹیڈیم اور جمخانہ میں کرکٹ سیکھی۔ ابتدا میں وہ پاکستان کی نمائندگی کرنا چاہتے تھے اور شعیب اختر ان کے آئیڈیل تھے، لیکن بعد میں سابق کرکٹر اقبال سکندر کی ترغیب پر افغانستان واپس آ گئے۔
انہوں نے اگست 2009 میں نیدرلینڈز کے خلاف ایک روزہ میچ سے بین الاقوامی کریئر کا آغاز کیا اور 24 رنز دے کر 4 وکٹیں حاصل کیں، جو ان کے ون ڈے کریئر کی بہترین بولنگ رہی۔ فروری 2010 میں آئرلینڈ کے خلاف ٹی20 بین الاقوامی کریئر کا آغاز کیا، جبکہ اس فارمیٹ میں ان کی بہترین بولنگ 2018 میں دہرادون میں بنگلہ دیش کے خلاف 40 رنز دے کر 3 وکٹیں تھی۔
یو این آئی۔ م س
کھیل
میسی ورلڈ کپ کی تاریخ کے ٹاپ اسکورر بنے
ڈلاس، کلب اور قومی ٹیم کے لیے 750 سے زائد سینئر گول کر چکے ارجنٹینا کے لیونل میسی فٹبال ورلڈ کپ کی تاریخ کے سب سے زیادہ گول کرنے والے کھلاڑی بن گئے ہیں۔
میسی فیفا ورلڈ کپ میں 28 میچوں میں 17 گول کے ساتھ ٹورنامنٹ میں سب سے زیادہ گول کرنے والے کھلاڑی بن گئے ہیں۔ انہوں نے جرمنی کے میروسلاو کلوز (24 میچوں میں 16 گول) کو پیچھے چھوڑ دیا ہے۔
ارجنٹینا کے لئے آسٹریا کے خلاف پہلا ہاف تاریخی ثابت ہوا۔ ابتدا میں گھبراہٹ کے باعث لیونل میسی نے ایک پنالٹی مس کی اور ایک اور موقع گنوا دیا، لیکن ارجنٹینا کے کپتان نے شاندار واپسی کرتے ہوئے میروسلاو کلوزکا ورلڈ کپ میں سب سے زیادہ گولوں کا ریکارڈ توڑ دیا۔ میسی کے اس یادگار گول کی بدولت موجودہ چیمپئن ارجنٹینا کو ہاف ٹائم تک 1-0 کی برتری دلائی۔
میسی نے الجیریا کے خلاف ارجنٹینا کی گزشتہ ہفتے 3-0 سے جیت میں ہیٹ ٹرک بھی اسکور کی تھی۔
میسی فٹ بال ورلڈ کپ میں ارجنٹینا کے لیے سب سے زیادہ گول کرنے والے کھلاڑی بھی ہیں۔ ان میں سے سات گول قطر میں ہوئے 2022 فیفا ورلڈ کپ میں کئے تھے، جسے ارجنٹینا نے جیتا تھا۔
انہوں نے اپنے بین الاقوامی کیریئر میں 201 میچوں میں 121 گول کیے ہیں، جس سے وہ ارجنٹینا کے لئے اب تک کے سب سے زیادہ گول کرنے والے کھلاڑی بن گئے ہیں۔ بین الاقوامی فٹبال میں سب سے زیادہ گول کرنے والوں کی فہرست میں بھی میسی دوسرے نمبر پر ہیں، ان سے آگے صرف ان کے حریف کرسٹیانو رونالڈو ہیں۔
میسی سے پہلے، گیبریل بٹسٹوٹا (12 میچوں میں 10 گول) فیفا ورلڈ کپ میں ارجنٹائن کے سب سے زیادہ گول کرنے والے کھلاڑی تھے۔ ڈیاگو میراڈونا (21 میچز) اور یوراگوئے 1930 کے گولڈن بوٹ کے فاتح گیلرمو سٹیبیل (چار میچز) نے آٹھ آٹھ گول کئے ہیں۔
فیفا ورلڈ کپ کوالیفائر میں بھی لیونل میسی کا گول کرنے کا ریکارڈ شاندار رہا ہے، انہوں نے 72 میچوں میں 36 گول کئے ہیں۔
لیونل میسی کا پہلا فیفا ورلڈ کپ گول
لیونل میسی نے 2006 میں جرمنی میں ہونے والے فیفا ورلڈ کپ کے دوران ہیمبرگ کے ورلڈ کپ اسٹیڈیم میں سربیا اور مونٹی نیگرو کے خلاف ارجنٹینا کے گروپ سی کے دوسرے میچ میں اپنا پہلا ورلڈ کپ گول کیا تھا۔ اپنی ٹیم کو گروپ کے پہلے میچ میں آئیوری کوسٹ کے خلاف 2-1 سے جیتتے ہوئے بنچ سے دیکھنے کے بعد، لیونل میسی نے اگلے میچ میں سربیا اور مونٹی نیگرو کے خلاف 75ویں منٹ میں متبادل کے طور پر میدان پر اتر کر اپنا ورلڈ کپ ڈیبیو کیا۔ اس وقت ارجنٹینا پہلے سے ہی 3-0 سے آگے تھا اور اپنے ڈیبیو کے صرف تین منٹ بعد ہی، لیونل میسی نے ہرنان کریسپو کی مدد سے ارجنٹینا کے لئے میچ کا چوتھا گول کیا۔ 88ویں منٹ میں کارلوس تیویز کے پاس پر میسی نے گول کیا اور مخالف ٹیم کے گول کیپر کو نیئر پوسٹ پر چھکاتے ہوئے 6-0 کی بڑی جیت پکی کی۔
جاری یواین آئی۔الف الف
-
دنیا1 day agoایران کا فی الحال امریکہ کے ساتھ کوئی مذاکرات نہیں: ایرانی وزیر خارجہ
-
ہندوستان2 days agoطلبہ پر کارروائی کے معاملے پر حکومت کو گھیرتے ہوئے راہل کا مضمون، کھڑگے اور پرینکا نے حمایت کی
-
دنیا2 days agoسعودی عرب میں فیکٹری میں آگ کے سبب 16 بنگلہ دیشی مزدور ہلاک
-
دنیا2 days agoٹرمپ جوہری معاہدے کے بغیر ایران کے ساتھ تنازع ختم کرنے پر تیار: رپورٹ
-
جموں و کشمیر10 hours agoیومِ آزادی سے قبل جموں و کشمیر پولیس نے سرحدی سامبا میں طویل فاصلے کی گشت اور فرضی انسدادِ دہشت گردی مشق کی
-
دنیا14 hours agoٹرمپ کا ایران سے معاوضے کا مطالبہ، آبنائے ہرمز پر مذاکرات جاری
-
دنیا14 hours agoایران اور عمان کے درمیان آبنائے ہرمز پر مذاکرات جاری
-
دنیا1 day agoتجربہ کار آئی آر جی سی کمانڈر محسن رضائی ایران کے قومی سلامتی کے سربراہ مقرر
-
دنیا10 hours agoایران نے خود کو ایک ‘ناقابل تسخیر طاقت’ ثابت کیا ہے: عراقچی
-
دنیا14 hours agoیمن میں حوثیوں کے المخا اور مارب پر بیلسٹک میزائل حملے
-
دنیا13 hours agoکولمبیا میں زلزلے سے ہلاکتوں کی تعداد 132 ہو گئی، صدر کا قومی ایمرجنسی کا اعلان
-
ہندوستان12 hours agoپارلیمنٹ کے احاطے میں اپوزیشن ارکانِ پارلیمنٹ کا احتجاج
