ہندوستان
ہند ۔ آسیان مل کر کریں گے بحری سلامتی اور دفاعی ٹیکنالوجی پر کام: راج ناتھ
نئی دہلی، وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ نے کہا ہے کہ ہندوستان ایسا ہند-بحرالکاہل خطہ چاہتا ہے جہاں چھوٹے بڑے تمام ممالک اپنے فیصلے خود کر سکیں، اپنے مفادات کی حفاظت کریں اور امن کے ساتھ ترقی کریں۔
انہوں نے ہندوستان اور آسیان ممالک سے بحری سلامتی، دفاعی ٹیکنالوجی، سائبر خطرات اور ڈیزاسٹر مینجمنٹ میں تعاون بڑھانے کی اپیل کی۔ مسٹر سنگھ بدھ کے روز یہاں منوہر پاریکر انسٹی ٹیوٹ فار ڈیفنس اسٹڈیز اینڈ انالیسز میں پہلے ہند۔آسیان ڈیفنس تھنک ٹینک فورم سے خطاب کر رہے تھے۔
وزیر دفاع نے کہا کہ ہندوستان اور آسیان کا مشترکہ مفاد امن، استحکام، خوشحالی اور کھلے و جامع ہند-بحرالکاہل خطے میں ہے۔ ہندوستان کی ‘ایکٹ ایسٹ’ پالیسی،ساگر اور مہاساگر کا تصور تعاون اور کثیر قطبی نظام کو فروغ دیتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہندوستان کی ہند-بحرالکاہل پالیسی میں آسیان کی قیادت والے علاقائی پلیٹ فارمز کا اہم کردار ہے۔
انہوں نے کہا کہ خطے میں بڑھتے ہوئے اسٹریٹجک مقابلے، سمندر میں کشیدگی اور غیر یقینی صورتحال کے ساتھ ساتھ دہشت گردی، سائبر جرائم، سمندری قزاقی، انسانی اسمگلنگ، غیر قانونی ماہی گیری، ماحولیاتی آفات اور ضروری سپلائی چین پر خطرات بڑھ رہے ہیں۔ کوئی بھی ملک اکیلے ان چیلنجوں سے نہیں نمٹ سکتا۔ ممالک کو اختلافات پر وقت رہتے پرامن بات چیت کرنی چاہیے، بین الاقوامی قانون کا احترام کرنا چاہیے اور ایسا علاقائی ماحول بنانا چاہیے جہاں کسی ملک پر کسی ایک فریق کا انتخاب کرنے کا دباؤ نہ ہو۔
مسٹر سنگھ نے ہندوستان اور جنوب مشرقی ایشیا کے درمیان صدیوں پرانے تاریخی، ثقافتی، تجارتی اور نظریاتی تعلقات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ہندوستان کی ‘ایکٹ ایسٹ’ پالیسی خطے کے ممالک کے ساتھ مساوی شراکت داری کا طویل مدتی عزم ہے۔ ہندوستان اور آسیان کے ہند-بحرالکاہل نقطہ نظر ایک دوسرے کے معاون بن سکتے ہیں۔ علاقائی پلیٹ فارمز کے درمیان مقابلہ پیدا کرنے کے بجائے تعاون کو مضبوط کیا جانا چاہیے۔
وزیر دفاع نے کہا کہ بحر ہند اور جنوب مشرقی ایشیا کے سمندری خطے آپس میں جڑے ہوئے ہیں اور تجارت، توانائی، لوگوں اور ضروری سامان کی آمدورفت کے لیے انتہائی اہم ہیں۔ ان کی سلامتی مشترکہ ذمہ داری ہے۔ اس کے لیے سمندری سرگرمیوں کی نگرانی، بحری افواج اور کوسٹ گارڈز کے درمیان ہم آہنگی اور سمندر کے نیچے کی سرگرمیوں سے متعلق معلومات کا تبادلہ ضروری ہے۔
سال 2026 کو آسیان- ہندوستان سمندری تعاون کا سال قرار دیے جانے کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ مشترکہ مفادات کو عملی اقدامات میں بدلنا چاہیے۔ اس کے تحت سمندری معلومات کے تبادلے، بحریہ اور کوسٹ گارڈز کے تعاون اور ہنگامی صورتحال میں مشترکہ ردعمل کی صلاحیت بڑھانے پر کام ہونا چاہیے۔ سمندری قزاقی، اسمگلنگ، غیر قانونی ماہی گیری اور دیگر خطرات سے بین الاقوامی قانون کے مطابق نمٹنا ضروری ہے۔
وزیر دفاع نے کہا کہ مصنوعی ذہانت (اے آئی )، ڈرونز، سائبر صلاحیتیں اور خلائی نظام دفاعی شعبے میں تیزی سے اہم ہو رہے ہیں۔ حالیہ تنازعات نے دکھایا ہے کہ کم لاگت والے ڈرون بھی مہنگے دفاعی نظام کے لیے چیلنج بن سکتے ہیں۔ اس لیے عملی، کم خرچ اور ضرورت کے مطابق تبدیل کیے جا سکنے والے حل تیار کرنے ہوں گے۔
انہوں نے ہندوستان اور آسیان کے اختراع کاروں سے ڈرون مخالف نظام، سائبر دفاع، سمندری نگرانی اور ڈیزاسٹر مینجمنٹ جیسے طے شدہ شعبوں میں مل کر کام کرنے کے امکانات تلاش کرنے کو کہا۔ اس کے لیے مشترکہ تحقیقی منصوبے، مشترکہ تجربات، نوجوان محققین کا تبادلہ اور مخصوص جدت طرازی کے چیلنجز شروع کیے جا سکتے ہیں۔
مسٹر سنگھ نے کہا کہ ہندوستان آسیان ممالک کی ضروریات اور ترجیحات کے مطابق گشتی جہازوں، راڈار، ایئر ڈیفنس سسٹم، ہیلی کاپٹر، ڈرون اور دیگر دفاعی ٹیکنالوجیز میں تعاون کے لیے تیار ہے۔ ‘آتم نربھر بھارت’ کا مقصد گھریلو صلاحیت کو مضبوط بنانا ہے، لیکن خود کفالت کا مطلب الگ تھلگ رہنا نہیں ہے۔ اس سے قابل اعتماد شراکت داروں کے ساتھ آلات کی ڈیزائننگ، تیاری، دیکھ بھال اور بہتری کے مواقع پیدا ہو سکتے ہیں۔
انہوں نے مشترکہ ترقی و پیداوار، دیکھ بھال، مرمت و اوور ہال ، تربیت اور طویل مدتی تکنیکی معاونت کی فراہمی پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ طوفان، سیلاب، سمندر کی بڑھتی ہوئی سطح اور خراب موسم بندرگاہوں کو نقصان پہنچا سکتے ہیں، تجارت کو متاثر کر سکتے ہیں اور لوگوں کے روزگار پر اثر انداز ہو سکتے ہیں۔ اس لیے انسانی امداد اور ڈیزاسٹر ریلیف کو دفاعی بات چیت کا باقاعدہ حصہ بنایا جانا چاہیے۔ ہندوستان اور آسیان ممالک اپنے تجربات کا تبادلہ کر کے، بہترین طریقوں سے سیکھ کر اور بحران سے پہلے ہم آہنگی مضبوط کر کے نقصان کو کم کر سکتے ہیں۔
وزیر دفاع نے کہا کہ حکومتوں کو بہترین تجزیے کے ساتھ ایسے نظریات بھی چاہئیں جنہیں عملی طور پر زمین پر نافذ کیا جا سکے۔ انہوں نے اس پلیٹ فارم کے لیے ہند-آسیان سمندری سلامتی، سائبر خطرات، ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجی، ڈیزاسٹر مینجمنٹ اور دفاعی صنعت کے تعاون پر ایک مشترکہ تحقیقی ایجنڈا تیار کرنے کی تجویز دی۔
انہوں نے نوجوان محققین سمیت ماہرین کے باقاعدہ تبادلے، فیلوشپ، وزٹنگ پروگرامز اور مشترکہ اشاعتوں کو فروغ دینے کی بات کہی۔ ساتھ ہی سمندری آفات کے ردعمل پر مشقیں، ڈرون مخالف حل پر مشترکہ مطالعہ اور محفوظ سمندری معلومات کے تبادلے سے جڑے تحقیقی منصوبوں جیسے ابتدائی تجربات شروع کرنے کی بھی تجویز دی۔
دو روزہ پہلا ہند۔آسیان ڈیفنس تھنک ٹینک فورم اسٹریٹجک بات چیت کو مضبوط بنانے، مشترکہ تجزیے کو فروغ دینے اور دفاع و سلامتی کے تعاون کی نئی راہیں تلاش کرنے کے مقصد سے منعقد کیا جا رہا ہے۔
پروگرام میں اسٹریٹجک استحکام، علاقائی جیو پولیٹکس، سمندری سلامتی، گرے زون چیلنجز، انسانی امداد و ڈیزاسٹر ریلیف، سمندری سرگرمیوں کی نگرانی، دفاعی ٹیکنالوجی، آرٹیفیشل انٹیلی جنس، سائبر سکیورٹی، خلا، بغیر پائلٹ والے نظام، دفاعی صنعت کا تعاون اور مضبوط سپلائی چینز پر بات چیت ہوگی۔ ان مباحثوں سے ہند-آسیان دفاعی شراکت داری کو مزید مضبوط اور مستقبل کی ضروریات کے مطابق بنانے میں مدد ملنے کی امید ہے۔
یو این آئی ایف اے
ہندوستان
دہلی کی ترقی کے لیئے ہرشعبے میں مرکز کا ساتھ ملا: ریکھاگپتا
نئی دہلی، دہلی کی وزیر اعلیٰ محترمہ ریکھا گپتا نے وزیر اعظم نریندر نریندر مودی کے جن سیوا اور راشٹر سیوا کے 25 سال پورے ہونے پر مرکزی حکومت کے تئیں اظہار تشکر کرتے ہوئے کہا ہے کہ دہلی کی ترقی میں مرکز کا اہم تعاون رہا ہے۔
بدھ کے روز ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے محترمہ گپتا نے کہا کہ دہلی کابینہ نے وزیر اعظم کے 25 سالہ عوامی زندگی اور ملک کی ترقی میں ان کے تعاون کی ستائش کرتے ہوئے متفقہ طور پر ایک تجویز پاس کی ہے۔ وزیر اعلیٰ نے کہا کہ وزیر اعظم نے ہمیشہ دہلی کو اپنی ترجیحات میں رکھا اور ضرورت پڑنے پر راجدھانی کی مدد کے لیے آگے آئے۔
انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم کی میعاد کار کے پہلے دن سے لے کر اب تک دہلی کو مرکزی حکومت کی مختلف اسکیموں کا فائدہ ملتا رہا ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ پچھلی حکومتوں نے سیاسی وجوہات کی بنا پر مرکز کی کچھ اسکیموں کو اپنانے میں دلچسپی نہیں دکھائی۔ فروری 2025 میں دہلی میں ان کی حکومت بننے کے بعد مرکز کی اسکیموں کا فائدہ براہ راست لوگوں تک پہنچانے کی سمت میں کام کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کا مقصد دہلی کے باشندوں کو صحت، رہائش اور دیگر بنیادی سہولیات سے جڑی اسکیموں کا فائدہ فراہم کرنا ہے۔
آیوشمان بھارت یوجنا کا ذکر کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ نے کہا کہ دہلی میں اس اسکیم کو نافذ کرنے کے ساتھ مرکزی حکومت کی جانب سے ملنے والے پانچ لاکھ روپے کے ہیلتھ کور میں ریاستی حکومت کی جانب سے پانچ لاکھ روپے اضافی جوڑے گئے ہیں۔ وزیر اعلیٰ کے مطابق، اب تک تقریباً نو لاکھ لوگ اس اسکیم کے تحت رجسٹریشن کراچکے ہیں اور تقریباً 65 ہزار دعووں کی ادائیگی کی جا چکی ہے۔ انہوں نے وے وندنا یوجنا اور جن اوشدھی یوجنا کا بھی ذکر کیا اور کہا کہ ان اسکیموں کے توسط سے لوگوں کو طبی سہولیات فراہم کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔
انہوں نے بتایا کہ دہلی میں اب تک تقریباً 425 آیوشمان آروگیہ مندر قائم کیے جا چکے ہیں اور حکومت کا ہدف ان کی تعداد بڑھا کر تقریباً 1,100 کرنا ہے۔ پی ایم آواس یوجنا کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ان کی حکومت دہلی کے باشندوں کو رہائش فراہم کرنے کی سمت میں بھی کام کر رہی ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ مرکزی حکومت کی اسکیموں کو دہلی میں موثر طریقے سے نافذ کرنے سے عام لوگوں کو فائدہ مل رہا ہے اور حکومت مختلف شعبوں میں ترقیاتی کاموں کو آگے بڑھا رہی ہے۔
محترمہ گپتا نے انڈیا اتحاد کے احتجاجی مظاہرے اور ووٹر فہرستوں کی خصوصی تفصیلی نظر ثانی (ایس آئی آر) کو لے کر کانگریس اور عام آدمی پارٹی کو نشانہ بنایا۔ انہوں نے کہا کہ ایس آئی آر ملک میں پہلی بار نہیں ہو رہا ہے، بلکہ الیکشن کمیشن وقفے وقفے سے یہ عمل کراتا رہا ہے۔ ریکھا گپتا نے سوال اٹھایا کہ جب پہلے بھی یہ عمل ہوا، تب ان جماعتوں نے اس طرح کی مخالفت کیوں نہیں کی؟ انہوں نے کہا کہ دہلی میں آخری بار ایس آئی آر سال 2002 میں ہوا تھا اور کانگریس کو بعد کے انتخابات میں عوام کا تعاون نہیں ملا۔ وزیر اعلیٰ نے اپوزیشن کی مخالفت کو سیاسی مایوسی سے جوڑتے ہوئے کہا کہ عوام نے کانگریس اور عام آدمی پارٹی کو مسترد کر دیا ہے، جس کی وجہ سے وہ اس معاملے پر مظاہرہ کر رہے ہیں۔
انہوں نے عام آدمی پارٹی پر پنجاب کی امن و قانون کی صورتحال اور منشیات کے کاروبار سے جڑے امور پر توجہ نہ دینے کا الزام بھی عائد کیا۔ انہوں نے کہا کہ پنجاب میں قتل کی وارداتیں ہو رہی ہیں اور منشیات کے ریکٹ سرگرم ہیں، لیکن اپوزیشن دہلی میں مظاہرہ کرنے میں مصروف ہے۔ وزیر اعلیٰ نے الزام لگایا کہ کانگریس اور عام آدمی پارٹی اپنے سیاسی مفادات کے لیے عوام کو گمراہ کر رہی ہیں۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ احتجاجی مظاہروں کی وجہ سے دہلی میں تاجروں اور عام شہریوں کو پریشانی ہوئی ہے اور معاشی نقصان بھی اٹھانا پڑا ہے۔
یو این آئی ایف اے
ہندوستان
دیش کے 13.3 کروڑ لوگوں کو گھس پیٹھیا بتانا ہندوستانیت کی توہین: کھرگے
نئی دہلی، کانگریس صدر ملکارجن کھرگے نے خصوصی تفصیلی نظر ثانی (ایس آئی آر) کے تحت ووٹر فہرست سے باہر کیے گئے 13.3 کروڑ ہندوستانیوں کو گھس پیٹھیا (درانداز) قرار دینے کو بھارتیتا (ہندوستانیت) کی توہین قرار دیا ہے۔
مسٹر کھرگے نے بدھ کو سوشل میڈیا ‘ایکس’ پر کہا کہ سپریم کورٹ کے فیصلے کے باوجود جنتر منتر کو احتجاج کے مقررہ مقام سے ہٹانا احتجاج کرنے کے حق کی چوری ہے۔ انہوں نے کہا کہ پہلے ووٹ کی چوری اور اب احتجاج کرنے کے حق کی چوری بی جے پی کی آمریت کا ثبوت ہے۔
اس سے پہلے کانگریس کے شعبہ مواصلات کے انچارج جے رام رمیش نے وزیر داخلہ امِت شاہ سے کہا کہ انہیں ایس آئی آر کے تحت پکڑے گئے گھس پیٹھیوں کی تعداد، ووٹر فہرست سے ہٹائے گئے گھس پیٹھیوں کی تعداد اور ملک سے نکالے گئے گھس پیٹھیوں کی تعداد بتانی چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ ملک کے 100 کروڑ لوگوں کو ایس آئی آر کے عمل سے گزرنا پڑا ہے اور انہیں اس کے نتائج جاننے کا حق ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایس آئی آر کا دفاع کرنے والے وزیر داخلہ بتائیں کہ کتنے گھس پیٹھیوں کا پتہ لگایا گیا، کتنے لوگوں کے نام ووٹر فہرست سے ہٹائے گئے اور کتنے گھس پیٹھیوں کو ملک سے باہر نکالا گیا۔
مسٹر رمیش نے الزام لگایا کہ ایس آئی آر کے پیچھے کے ماسٹر مائنڈ بار بار گھس پیٹھیوں کا مسئلہ اٹھا کر تقریباً 14 کروڑ ہندوستانیوں کو ان کے آئینی حقِ رائے دہی سے محروم کیے جانے کے معاملے سے توجہ ہٹانے کی کوشش کر رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ وزیر داخلہ کو بتانا چاہیے کہ کیا ووٹر فہرست سے ہٹائے گئے 14 کروڑ ہندوستانی گھس پیٹھیے ہیں اور کیا ان کے دورِ اقتدار میں گھس پیٹھیوں کی تعداد میں اتنا بڑا اضافہ ہوا ہے۔
یو این آئی ایف اے
ہندوستان
جنتر منتر پر عوام کا حق، اسے کسی کو چھیننے نہیں دیں گے: راہل
نئی دہلی، کانگریس کے سابق صدر اور لوک سبھا میں قائد حزب اختلاف راہل گاندھی نے کہا ہے کہ جنتر منتر پر پرامن مظاہرے کے دوران ترنگا لہرانا کوئی جرم نہیں ہے اور اس کے لیے نوجوانوں کو جیل میں ڈالنا بزدلی ہے۔
مسٹر گاندھی نے بدھ کو سوشل میڈیا ‘ایکس’ پر کہا کہ طلباء، نوجوان، صحافی اور انڈیا اتحاد کے لوگ الگ الگ بینروں کے تحت مظاہرہ کر رہے ہیں اور ان سب کا مقصد ایک ہی ہے۔ یہ تمام مظاہرے ملک کے شہریوں کی جانب سے اپنے آئینی حقوق کے مطالبے کے حق میں کیے جا رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ جنتر منتر ہندوستان کے عوام کا ہے اور اسے عوام کے حق کے دائرے میں دوبارہ لایا جائے گا۔
یو این آئی ایف اے
-
جموں و کشمیر1 week agoکشمیر سے تقریباً 150 بنگلہ دیشی شہری ملک بدر
-
ہندوستان6 days agoوزیر اعظم مودی نے یوم فضائیہ پر جانبازوں کو سلام پیش کیا، ہندوستان کے آسمان کی حفاظت میں ان کی بہادری کو سراہا
-
پاکستان1 week agoعمران خان کی رہائی کے مطالبے پر ہزاروں حامیوں کا اسلام آباد کی جانب لانگ مارچ شروع
-
ہندوستان1 week agoجے شنکر گھانا، کوٹ ڈی آئیوائر اور ایتھوپیا کے چھ روزہ دورے پر
-
ہندوستان1 week agoجی ایس ٹی میں اگلی نسل کی اصلاحات سے کاروبار میں آسانی بڑھے گی، اعتماد مضبوط ہوگا: مودی
-
دنیا1 week agoیمن کی سرکاری فوج کا حوثیوں کے خلاف بڑا حملہ، باب المندب کے قریب ذباب پر قبضہ
-
ہندوستان1 week agoفارم-6 میں ہوئی غیر قانونی تبدیلی، گیانیش کمار نے اپنے عہدے کا غلط استعمال کیا: راہل
-
جموں و کشمیر1 week agoجموں و کشمیر کے بارہمولہ میں افضل گورو کے خاندان سے مبینہ طور پر وابستہ ڈیری شیڈ منہدم
-
دنیا6 days agoوائٹ ہاؤس نے پینٹاگون کو ایران پر حملوں کے لیے اختیارات تیار کرنے کی ہدایت دی: رپورٹ
-
جموں و کشمیر1 week agoجموں و کشمیر: بارہمولہ میں پولیس نے موبائل، سم اور جراثیم کش دوا کی دکانوں پر جانچ مہم چلائی
-
دنیا1 week agoوسط مدتی انتخابات میں ریپبلکن پارٹی کی کامیابی ہی امریکہ کو دیوالیہ ہونے سے بچا سکتی ہے:ٹرمپ کا دعویٰ
-
ہندوستان4 days agoدفاعی شعبے میں خود انحصاری اور دوست ممالک کے درمیان تکنیکی تعاون ضروری: راج ناتھ
