تازہ ترین
اننت ناگ مدبھیڑ : جنگجووں اورفورسز کے مابین ہوئی جھڑپ کی مکمل تفصیل
خبر اردو :
جنو بی کشمیر اننت ناگ میں جنگجوؤں اور سیکورٹی فورسز کے در میان شدید معرکہ آرائی ہوئی جس دوران سُزن ڈوڈہ سے تعلق رکھنے والا جنگجوں ساتھی سمیت جاں بحق ہوا۔ریاستی پولیس نے جھڑپ کی تصدیق کرتے ہو ئے بتایا کہ بدھوار کی صبح فوج ،فورسز اور پولیس کی مشترکہ جمعیت نے ایک مصدقہ اطلاع کی بناء پر مہمان محلہ لالچوک اننت ناگ کا محاصرہ عمل میں لایا اور جو نہی فورسز اہلکار مشتبہ مکان کی جانب پیش قدمی کررہے تھے کہ تو وہاں مو جود جنگجوؤں نے سیکورٹی فورسز پر شدید فائرنگ کی جس کے بعد باضا بطہ طور پر جھڑپ کا آغاز ہوا ۔انہوں نے بتایا کہ کئی گھنٹوں تک جاری رہنے والی جھڑپ کے دوران لشکر طیبہ سے وابستہ 2جنگجو جاں بحق کئے گئے ۔

اس دوران جھڑپ شروع ہو نے کے ساتھ ہی علاقہ میں صورتحال پُر تناؤ ہو ئی اور قصبہ کے مختلف مقامات پر نو جوانوں نے سیکورٹی فورسز پر پتھراؤ کیا جس کے جواب میں فورسز نے بھی جوابی کاروائی کی ۔ادھر صورتحال کو قابو میں رکھنے کے لئے انتظامیہ نے ضلع اننت ناگ میں مو بائیل انٹر نیٹ سہولیات معطل رکھی جبکہ ریل انتظامیہ نے بھی سیکورٹی صورتحال کے پیش نظر بانہال سرینگر ٹرین سروس کو اگلے احکامات تک بند کردیا ۔اس دوران مہلوک جنگجو بلال احمد کی نماز جنازہ ان کے آبائی علاقہ صوفی محلہ کھڈونی میں2بار ادا کی گئی جس میں ہزاروں لوگوں نے شر کت کی جبکہ اس مو قعے پرجنگجوؤں نے نمو دار ہو کر اپنے مہلوک ساتھی کو خراج پیش کر نے کے لئے ہوا میں گو لیوں کے کئی راونڈ فائر کئے ۔
اننت ناگ کے مہمان محلہ لالچوک میں بدھوار کی صبح فوج سے وابستہ ایک آر آر ،ایس او جی اننت ناگ اور 162 و40 بٹالین سی آر پی ایف نے مشترکہ طور محا صرہ عمل میں لایا جس کے دوران یہاں سیکورٹی فورسز اور جنگجوؤں کے در میان شدید جھڑپ شروع ہو ئی۔پولیس زرائع نے بتایا کہ سیکورٹی فورسز کو اطلاع ملی تھی کہ مہمان محلہ میں جنگجو مو جود ہے جس کے بعد سیکورٹی فورسز نے مہمان محلہ سمیت لالچوک اور اس کے ملحقہ علاقوں کی سخت ناکہ بندی کی ۔انہوں نے بتایا کہ جوں ہی فورسز اہلکار اس مکان کی جانب پیش قدمی کر نے لگے جس میں جنگجو چھپے بیٹھے تھے تو جنگجو ؤں نے سیکورٹی فورسز پر شدید فائرنگ کی ۔انہوں نے بتایا کہ اس دوران فورسز اور جنگجوؤں کے ما بین با ضا بطہ طور جھڑپ کا آغاز ہو ا ۔انہوں نے بتایا کہ کئی گھنٹوں تک جاری رہنے والی اس جھڑپ کے نتیجے میں لشکر طیبہ سے وابستہ 2جنگجو جاں بحق کئے گئے جبکہ جائے جھڑپ سے بھاری مقدار میں اسلحہ بھی بر آمد کیا گیا ۔انہوں نے بتایا کہ جاں بحق جنگجوؤں کی شناخت بلال احمد ڈار عرف بلال مو لوی ولد محمد یو سف ساکنہ گھاٹ کھڈ ونی کو لگام اور عابد حسین بٹ عرف بن یامن ولد ولی محمد بٹ ساکنہ سُزن ڈوڈہ کے بطور ہو ئی ہے ۔

پولیس زرائع نے بتایا کہ بلال احمد کئی جنگجو یانہ سر گر میوں میں ملوث تھا ۔انہوں نے بتایا کہ عابد حسین بٹ نے یکم جو لائی کو جنگجو ؤں کی صف میں شمولیت اختیار کی تھی ۔اس دوران مقامی لوگوں نے بتایا کہ بدھوار کی صبح 4بجے کے لگ بھگ علاقہ گو لیوں اور گن گر ج کی آوازوں سے گو نج اٹھا جس کے نتیجے میں علاقے میں تشویش کی لہر دوڈ گئی ۔اس دوران معلوم ہوا ہے مہمان محلہ لالچوک اننت ناگ میں معرکہ آرائی شروع ہو نے کے چند گھنٹوں بعد ہی اننت ناگ کے مین مارکیٹ اور دیگر کئی علاقوں میں نو جوان ٹو لیوں کی شکل میں نمو دار ہو ئے اور انہوں نے اس دوران وہاں پہلے سے ہی تعینات سیکورٹی فورسز پر سنگباری کر نے کے علاوہ اسلام اور آزادی کے حق میں زور دار نعرے بازی کی ۔انہوں نے بتایا کہ جھڑپ شروع ہو نے کے ساتھ ہی ضلع بھر میں سیکورٹی کے کڑے انتظامات عمل میں لائے گئے تھے تاکہ کوئی نا خو شگوار واقع رونما نہ ہو سکے ۔
زرائع نے بتایا کہ اننت ناگ کے مختلف علاقوں میں فورسز نے پابندیاں عائد کی تھی اور اس دوران لالچوک کو آنے والے اور جانے والے راستوں پر خاردار تاریں بچھا نے کے علاوہ جنگجوؤں کے بھاگنے کے ممکنہ راستوں کو بھی سیل کیا گیا تھا ۔اس دوران انتظامیہ نے افواہ بازی پر رو کتھام کے لئے ضلع اننت ناگ میں مو بائیل انٹر نیٹ سہولیات بدھوار کی صبح سے ہی معطل رکھی جبکہ ریل حکام نے بھی سیکورٹی صورتحال کے پیش نظر بانہال سرینگر ریل سروس کو معطل رکھا۔اس دوران معلوم ہوا ہے کہ جھڑپ کے اختتام ہو نے کے بعد بھی علاقے میں صورتحال پُر تناؤ تھی جس کے دوران بازاروں میں سناٹا چھایا رہا جبکہ سڑکوں پر سے ٹریفک کی نقل و حمل بھی معطل رہی تاہم سرینگر جموں شاہراہ پر ٹریفک کی بلا خلل آمد و رفت کے لئے سیکورٹی کے کڑے انتظامات کئے گئے تھے جس کے دوران امر ناتھ یاترا بھی بلا کسی خلل کے جاری رہی ۔اس دوران معلوم ہوا ہے کہ بلال احمد ڈار کی نماز جنازہ ان کے آبائی گاؤں صوفی محلہ کھڈ ونی میں 2بار ادا کی گئی جس میں ہزاروں لو گوں نے شر کت کی ۔
عینی شاہدین نے بتایا کہ بلال احمد کا نماز جنازہ ان کے والد نے پڑھائی ۔انہوں نے بتایا کہ جب بلال مولوی کی نماز جنازہ پڑھائی گئی تو وہاں پر جگہ کم پڑ گئی جس کے بعد بلال احمد کی دو سری بار بھی نماز جنا زی پڑ ھائی گئی ۔انہوں نے کہا کہ اس دوران جنگجوؤں نے نماز جنازہ میں نمو دار ہو کر اپنے ساتھی کو خراج پیش کر ے کے لئے ہوا میں گو لیوں کے کئی راونڈ فائر کئے اور اس دوران اطلاعات کے مطابق جنگجوؤں نے اسلام اور آزادی کے حق میں نعرے بازی بھی کی ۔مقامی لوگوں نے بتایا کہ بلال حمد کی میت یہاں پہنچنے کے ساتھ ہی خواتین و مرد اور بچوں کی بھاری تعداد یہاں پہنچ گئی اور انہوں نے اس دوران اسلام اور آزادی کے حق میں زور دار نعرے بازی کی ۔ بلا ل احمد اپنے ایک اور ساتھ ڈوڈہ سے تعلق رکھنے والے عابد حسین کے ہمراہ مہمان محلہ لالچوک اننت ناگ میں بدھوار کو سیکورٹی فورسز کے ساتھ ایک خو نین تصادم آرائی کے دوران جاں بحق ہوا ۔
جموں و کشمیر
جموں میں آبادیاتی تبدیلیوں سے متعلق پینل کو پناہ گزینوں کی تنظیم نے یادداشت پیش کی
جموں، پی او جے کے سے بے گھر افراد کی تنظیم ایس او ایس انٹرنیشنل کے ایک وفد نے منگل کو یہاں جسٹس پرکاش پربھاکر نولیکر (ریٹائرڈ) کی سربراہی میں آبادیاتی تبدیلیوں سے متعلق پینل کو ایک تفصیلی یادداشت پیش کی۔
ایس او ایس انٹرنیشنل کے چیئرمین راجیو چونی کی قیادت میں وفد میں پروفیسر این این شرما (نائب چیئرمین)، ونود کمار دتہ (جنرل سکریٹری)، بھائی رام سنگھ (سکریٹری) اور وید راج بالی (سکریٹری) شامل تھے۔ وفد نے یادداشت پیش کرتے ہوئے 1947 سے پاکستان کے زیر قبضہ جموں و کشمیر (پی او جے کے) کی ہندو اور سکھ آبادی کے ساتھ روا رکھے گئے تاریخی ناانصافی کو ریکارڈ پر لایا اور پینل سے ٹھوس اصلاحی اقدامات کرنے کا مطالبہ کیا۔
جاری کردہ بیان کے مطابق یادداشت میں نشاندہی کی گئی کہ 1947 کے حملے کے بعد اس وقت کی جموں و کشمیر حکومت نے ابتدائی طور پر تقریباً 31,600 خاندانوں کا اندراج کیا تھا، جبکہ تقریباً 9,500 خاندانوں کو معمولی اور غیر معقول وجوہات کی بنیاد پر من مانے طریقے سے رجسٹریشن سے محروم کر دیا گیا۔
رجسٹرڈ خاندانوں میں سے صرف تقریباً 26,300 خاندانوں کو ریاست کے اندر آباد کیا گیا، جبکہ تقریباً 5,300 رجسٹرڈ خاندانوں کے ساتھ ساتھ 9,500 غیر رجسٹرڈ خاندانوں کو ہندوستان کے دیگر حصوں میں پناہ لینے پر مجبور ہونا پڑا۔ باقاعدہ طور پر رجسٹر کیے گئے خاندانوں کے ریکارڈ اب بھی جموں و کشمیر حکومت کے سرکاری ریکارڈ میں موجود ہیں۔
یادداشت میں کہا گیاکہ ’’یہ خاندان مہاراجہ ہری سنگھ کے 1927 کے اسٹیٹ سبجیکٹ قانون کے تحت ریاست کے اصل باشندے تھے اور انہوں نے بارہا اپنے آبائی وطن واپس جانے کی خواہش کا اظہار کیا ہے۔‘‘
تاہم بحالیِ آبادکاری کی کسی جامع پالیسی یا ادارہ جاتی مدد کی مکمل عدم موجودگی کے باعث ان کے پاس دوسری جگہ اپنی زندگی دوبارہ شروع کرنے کے علاوہ کوئی راستہ نہیں تھا۔ بیان کے مطابق اس وقت ریاست سے باہر رہنے والی ان کی آبادی کا تخمینہ پانچ سے چھ لاکھ ہے۔
ایس او ایس انٹرنیشنل نے یہ بھی نشاندہی کی کہ جموں و کشمیر کی اُس وقت کی حکومت کے 2014 کے کابینہ فیصلے میں ہر متاثرہ خاندان کو 25 لاکھ روپے نقد امداد، تعلیم یافتہ بے روزگار نوجوانوں کے لیے 8,500 سرکاری ملازمتیں اور پیشہ ورانہ و تکنیکی اداروں میں ریزرویشن دینے کا وعدہ کیا گیا تھا، لیکن جموں و کشمیر یا سابق ریاست سے باہر جلاوطنی کی زندگی گزارنے والے خاندانوں کے لیے اس پر عمل نہیں کیا گیا۔
جاری۔یواین آئی۔ طـ ا
جموں و کشمیر
یومِ آزادی سے قبل کشمیر بھر میں کثیر سطحی سکیورٹی انتظامات
سری نگر، 15 اگست کو یومِ آزادی کی تقریبات کے پیش نظر سری نگر اور وادیٔ کشمیر کے دیگر علاقوں میں کثیر سطحی سکیورٹی انتظامات کیے گئے ہیں۔
سری نگر میں جہاں وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ بخشی اسٹیڈیم میں قومی پرچم لہرائیں گے، سکیورٹی فورسز نے تقریب کے مقام اور اس سے متصل علاقوں میں سکیورٹی نظام کو مزید مضبوط کر دیا ہے۔
کشمیر کے انسپکٹر جنرل پولیس وی کے بردی نے منگل کو کہا کہ یومِ آزادی کی تقریبات کو خوش اسلوبی سے منعقد کرنے کے لیے نہ صرف مرکزی مقام بلکہ پورے شہر اور وادی کے مختلف اضلاع میں بھی وسیع سکیورٹی انتظامات کیے جا رہے ہیں۔
بردی نے نامہ نگاروں سے کہاکہ ’’جیسا کہ آپ جانتے ہیں، 15 اگست کو سری نگر میں مرکزی تقریب منعقد ہونے والی ہے۔
اس کے لیے سکیورٹی انتظامات اور پریڈ کی تیاریاں جاری ہیں۔ مکمل لباس میں ریہرسل کی جا رہی ہیں تاکہ 15 اگست کی مرکزی تقریب سری نگر میں بخوبی منعقد کی جا سکے۔‘‘
انہوں نے کہا کہ جموں و کشمیر پولیس نے پوری وادی میں کثیر سطحی سکیورٹی انتظامات کیے ہیں۔
آئی جی پی نے کہاکہ ’’جموں و کشمیر پولیس نے نہ صرف سری نگر بلکہ وادی کے مختلف اضلاع میں بھی کثیر سطحی سکیورٹی انتظامات کیے ہیں۔ یہ انتظامات صرف تقریبات کے مقامات تک محدود نہیں ہیں بلکہ شہر کے اطراف بھی کیے گئے ہیں۔ اس بار بھی اسی طرح کے انتظامات کیے گئے ہیں۔‘‘
جنوبی کشمیر میں حالیہ واقعات کے بعد ممکنہ دہشت گردانہ حملوں یا دیگر خطرات کے بارے میں کسی پیش رفت کے متعلق پوچھے جانے پر بردی نے کہا کہ معاملہ زیرِ تفتیش ہونے کی وجہ سے اس کی تفصیلات ظاہر کرنا مناسب نہیں ہوگا۔
انہوں نے کہاکہ ’’دیکھیے، یہ تفتیش کا معاملہ ہے۔ اس لیے میرے خیال میں ابھی اس کی تفصیلات ظاہر کرنا مناسب نہیں ہوگا۔
جب بھی ایسی کوئی بات ہوگی جسے آپ کے ساتھ شیئر کرنا ضروری ہوگا، ہم مناسب وقت پر آپ کو اس سے آگاہ کریں گے۔‘‘
یومِ آزادی کی تقریبات کے دوران عوام کے لیے پولیس کے پیغام کے بارے میں بردی نے کہا کہ یہ تقریب عوام کی ہے اور انہوں نے شہریوں سے بڑی تعداد میں تقریبات میں شرکت کرنے کی اپیل کی۔
آئی جی پی نے کہاکہ ’’دیکھیے، یہ عوام کی تقریب ہے۔ پولیس اس میں مددگار یا منتظم کا کردار ادا کرتی ہے۔ چونکہ یہ عوام کی تقریب ہے، اس لیے ہم لوگوں سے اپیل کرتے ہیں کہ وہ بڑی تعداد میں اس میں شرکت کریں اور اسے کامیاب بنائیں۔‘‘
دریں اثنا، منگل کو سکیورٹی اداروں نے یومِ آزادی کی تقریبات میں خلل ڈالنے کی کسی بھی کوشش کو ناکام بنانے کے لیے سخت سکیورٹی اقدامات کے تحت سری نگر بھر میں تخریب کاری مخالف جانچ، علاقے میں غلبہ قائم کرنے کی کارروائیوں، نگرانی اور تلاشی کی کارروائیاں تیز کر دیں۔
کئی چیک پوسٹوں پر دو پہیہ گاڑیوں کو روکا گیا اور سواروں کی شناخت کی تصدیق کے ساتھ ان کی تلاشی بھی لی گئی۔
یواین آئی۔ـظ ا
جموں و کشمیر
یومِ آزادی سے قبل جموں و کشمیر پولیس نے سرحدی سامبا میں طویل فاصلے کی گشت اور فرضی انسدادِ دہشت گردی مشق کی
جموں، آئندہ یومِ آزادی کی تقریبات کے پیش نظر آپریشنل تیاریوں کا جائزہ لینے، سکیورٹی انتظامات کو مضبوط بنانے اور کسی بھی ہنگامی صورت حال سے فوری طور پر نمٹنے کو یقینی بنانے کے لیے جموں و کشمیر پولیس نے منگل کو سامبا ضلع کے سرحدی علاقوں میں طویل فاصلے کی گشت (ایل آر پی) اور فرضی انسدادِ دہشت گردی مشق کا انعقاد کیا۔
عہدیداروں کے مطابق اسپیشل آپریشن گروپ (ایس او جی)، سامبا نے جموں-پٹھان کوٹ قومی شاہراہ پر جٹوال سے لالہ چک تک طویل فاصلے کی گشت کی۔
انہوں نے بتایا کہ گشت کے بعد سرحدی سڑک پر واقع بی پی پی لالہ چک میں فرضی مشق کی گئی، جس کا مقصد فرضی دہشت گردانہ صورت حال سے نمٹنے کے لیے حصہ لینے والے اہلکاروں کی تیاری کا جائزہ لینا تھا۔ مشق کے دوران دو فرضی دہشت گردوں کو تنصیب پر حملہ کرتے ہوئے دکھایا گیا۔
انہوں نے کہاکہ ’’فرضی خطرے پر فوری کارروائی کرتے ہوئے ایس او جی کے اہلکاروں نے علاقے کو مناسب طریقے سے گھیرے میں لے لیا اور دونوں فرضی دہشت گردوں کو کامیابی سے بے اثر کر دیا۔‘‘
عہدیداروں نے بتایا کہ اس مشق کا مقصد ایس او جی سامبا اور بی پی پی لالہ چک کے حصہ لینے والے اہلکاروں کے ردعمل کے نظام، باہمی تال میل، حربی تیاری اور ہنگامی صورت حال سے نمٹنے کی صلاحیتوں کو جانچنا تھا۔
ایس ایس پی سامبا نے پولیس کی جانب سے مضبوط سکیورٹی انتظامات برقرار رکھنے اور عوام کی سلامتی و تحفظ کو یقینی بنانے کے عزم کا اعادہ کیا، خاص طور پر آئندہ یومِ آزادی کی تقریبات اور جاری شری امرناتھ یاترا کے پیش نظر۔
یواین آئی۔ظ ا
-
دنیا1 day agoایران کا فی الحال امریکہ کے ساتھ کوئی مذاکرات نہیں: ایرانی وزیر خارجہ
-
ہندوستان1 day agoطلبہ پر کارروائی کے معاملے پر حکومت کو گھیرتے ہوئے راہل کا مضمون، کھڑگے اور پرینکا نے حمایت کی
-
دنیا1 day agoسعودی عرب میں فیکٹری میں آگ کے سبب 16 بنگلہ دیشی مزدور ہلاک
-
دنیا23 hours agoتجربہ کار آئی آر جی سی کمانڈر محسن رضائی ایران کے قومی سلامتی کے سربراہ مقرر
-
دنیا1 day agoٹرمپ جوہری معاہدے کے بغیر ایران کے ساتھ تنازع ختم کرنے پر تیار: رپورٹ
-
دنیا23 hours agoآبنائے ہرمز کے مستقبل پر ایرانی مطالبات سے غیر یقینی بڑھنے کے باعث تیل کی قیمتوں میں اضافہ
-
جموں و کشمیر2 hours agoیومِ آزادی سے قبل جموں و کشمیر پولیس نے سرحدی سامبا میں طویل فاصلے کی گشت اور فرضی انسدادِ دہشت گردی مشق کی
-
دنیا21 hours agoکیسپین سمندر معاہدے کا مستقبل ایران کی پارلیمنٹ طے کرے گی: اسماعیل بقائی
-
دنیا6 hours agoیمن میں حوثیوں کے المخا اور مارب پر بیلسٹک میزائل حملے
-
دنیا6 hours agoٹرمپ کا ایران سے معاوضے کا مطالبہ، آبنائے ہرمز پر مذاکرات جاری
-
جموں و کشمیر22 hours ago7.12 لاکھ روپے کے کپواڑہ پل گھپلے کے معاملے میں اے سی بی نے 10 افراد کے خلاف فردِ جرم عائد کی
-
دنیا6 hours agoایران اور عمان کے درمیان آبنائے ہرمز پر مذاکرات جاری
