تازہ ترین
ننت ناگ مدبھیڑ : حزب ڈیو ژنل کمانڈر سمیت 2جنگجو جاں بحق ، فورسز کے ساتھ تصادم میں متعدد زخمی
خبر اردو
جنوبی کشمیر اننت ناگ کے بونہ پورہ مونیواڑ کھنہ بل علاقے میں منگل اور بدھ کی در میانی شب کو فوج اور فورسز نے مشترکہ طور پر ایک مصدقہ اطلاع کی بنیاد پر علاقے کا سخت محاصرا عمل میں لایا ۔اس دوران فورسز نے علاقے میں چھپے بیٹھے جنگجوؤں کو ڈھو نڈ نکالنے کی خاطر بڑے پیمانے پر تلاشی آپریشن شروع کر دیا ۔ فورسز کی تلاشی پارٹی جوں ہی مشتبہ مکان کے نزدیک پہنچی تو اس دوران یہاں چھپے بیٹھے جنگجوؤں نے فورسز پر شدید فائرنگ کی جس کے ساتھ ہی جھڑپ کا با ضابطہ آغاز ہو گیا ۔انہوں نے بتایا کہ بدھ کی صبح 5بجے سے ہی فوج اور جنگجوؤں کے مابین وقفے وقفے سے گولہ باری کا سلسلہ جاری رہا جس کے نتیجے میں بنہ پورہ مو نیواڑ اور اس کے ملحقہ علاقوں میں مکمل طور پر سکوت چھایا رہا۔انہوں نے بتایا کہ دن چڑھنے کے ساتھ ہی فورسز نے اپنی کاروائی میں تیزی لاتے ہو ئے کھنہ بل اور اس کے ملحقہ علاقوں میں خار دار تاریں بچھا کر جنگجوؤں کے خلاف فیصلہ کن آپریشن شروع کر دیا ۔انہوں نے بتایا کہ اس دوران فورسز کی بکتر بند گاڑیوں نے مکان کے نزدیک جاکر بارودی مواد نصب کر کے مکان کو زمین بوس کر دیا ۔انہوں نے بتایا کہ بعد میں فورسز نے مکان کے ملبے سے 2جنگجوؤں کی لاشیں بر آمد کی جن میں حز ب المجاہدین کے سرکردہ اور دیرینہ کمانڈر الطاف احمد ڈار عرف کاچرو، معین ولد مر حوم غلام محمد ڈار ساکنہ ہاوورہ مشی پورہ اور ان کے ساتھ عمر رشید وانی ساکنہ کھڈ ونی شامل ہیں
اس دوران پولیس نے جھڑپ کے حوالے سے اپنے بیان میں کہا کہ منگل اور بدھ کی در میانی شب کو فوج اور ایس او جی و سی آر پی ایف کی مشترکہ جمعیت نے ایک مصدقہ اطلاع کی بناء پر بنہ پورہ مو نیواڑ کا محاصرا عمل میں لایا جس کے دوران جو ں ہی فورسز اہلکاروں نے مشتبہ مکان کی جانب پیش قدمی کی تو یہاں پناہ لئے ہو ئے جنگجوؤں نے فورسز پارٹی پر جدید ہتھیاروں سے فائرنگ کی جس کے ساتھ ہی جھڑپ کا آغاز ہو گیا ۔انہوں نے بتایا کہ جھڑپ کے اختتام پر فورسز اہلکاروں نے مکان کے ملبے سے 2جنگجوؤں کی لاشیں بر آمد کی جن میں حزب المجاہدین کا سرکردہ اور دیرینہ کمانڈر الطاف احمد ڈار عرف کاچرو عرف معین شامل ہیں ۔انہوں نے بتایا جھڑپ میں جارا گیا دوسرا جنگجو عمر رشید وانی ساکن کھڈونی گزشتہ سال سے عسکری محاذپر سرگرم تھا جس دوران انہوں نے سیکورٹی فورسز اور عام شہریوں پر حملے انجام دیے۔ انہوں نے بتایا کہ عمر رشید وانی سرینگر اور اننت ناگ میں فورسز اہلکاروں پر ہوئے حملوں میں براہ راست ملوث تھا جبکہ مہلوک حال ہی میں سرینگر کے بتہ مالو علاقے میں ایک جھڑپ کے دوران سیکورٹی فورسز کو چکمہ دے کر فرار ہوا تھا۔ انہوں نے بتایا کہ مارے گئے جنگجوؤں سے ہتھیار اور دیگر نوعیت کا گولہ بارود بھی ضبط کیا گیا۔
اس دوران جھڑپ کی خبر پھیلتے ہی بدھ کی صبح سے ہی مونیوار اور ملحقہ علاقوں میں فورسز کے کڑے پہرے کے باوجود نوجوانوں کی مختلف ٹولیوں نے سڑکیوں پر آکر احتجاج کرتے ہوئے زور دار نعرے بازی کی۔ نمائندے نے بتایا کہ نوجوانوں کی مختلف ٹولیوں نے جھڑپ کے مقام کی جانب پیش قدمی کرنے کی کوشش کرتے ہوئے یہاں تعینات فورسز اہلکاروں سے چاروں اطراف سے سنگ باری کی جس کے نتیجے میں یہاں انتہائی کشیدگی دیکھنے کو ملی۔ ادھر فورسز اہلکاروں نے مظاہرین کو منتشر کرنے کی غرض سے آنسو گیس کے درجنوں گولے اور پیلٹ فائرنگ کا استعمال کیا جس کے نتیجے میں 80افراد زخمی ہوگئے جنہیں مختلف ہسپتالوں میں علاج و معالجے کی خاطر داخل کرایا گیا۔ نمائندے کے مطابق فورسز کی جوابی کارروائی کے نتیجے میں 5نوجوانوں کی آنکھوں پر پیلٹ کے چھرے پیسوست ہوئے جن کو نازک حالت میں سرینگر کے ایس ایم ایچ ایس ہسپتال منتقل کردیا گیا جہاں اُن کا علاج و معالجہ جاری ہے۔اس دوران انتظامیہ نے جنوبی کشمیر کے کولگام اور انت ناگ میں امن و قانون کی صورتحال کو برقرار رکھنے کے لیے دوران شب ہی موبائل انٹرنیٹ سروس کو معطل کردیا ۔ انتظامیہ کے ایک افسر نے بتایا کہ مونیوار کھنہ بل میں جھڑپ کے پیش نظر انتظامیہ نے اگلے احکامات تک موبائل انٹرنیٹ سروس کو معطل رکھنے کا فیصلہ کیا ہے۔ ادھر احتجاجی مظاہروں کے پیش نظر ریل حکام نے بھی سرینگر سے بانہال تک ریل سروس کو اگلے احکامات تک معطل رکھنے کا فیصلہ یا۔
ذرائع نے بتایا کہ محکمہ ریلوے نے احتجاجی مظاہروں کے خدشے کے پیش نظر اور مسافروں کے سلامتی کے حوالے سے جنوبی کشمیر میں ریل سروس کو حالت میں سدھار آنے تک معطل رکھنے کا فیصلہ کیا۔ ادھر مہلوک جنگجوؤں کی نعشوں کو جونہی اپنے آبائی علاقے کھڈونی اورہاوؤرہ پہنچایا گیا تو یہاں لوگوں نے سڑکوں کا رخ کرتے ہوئے زبردست احتجاجی مظاہرے کئے۔ نمائندے نے بتایا کہ کھڈونی اور ہاؤورہ میں بدھ کی صبح سے ہی حالات کشیدہ رہے جس دوران یہاں تجارتی، تعلیمی اور عوامی سرگرمیاں ٹھپ ہوکر رہ گئیں۔ انہوں نے بتایا کہ مونیوار جھڑپ میں پھنسے جنگجوؤں کی خبر بدھ کی صبح جونہی آبائی علاقوں میں پہنچی تو یہاں نوجوانوں کی مختلف ٹولیوں نے احتجاجی مظاہرے کئے جس دوران یہاں ٹریفک کی نقل و حمل مکمل طور پر بند ہوگئی۔ انہوں نے بتایا کہ اس موقعے پر نوجوانوں نے یہاں تعینات فورسز اہلکاروں پر سنگ باری کی جس کے بعد یہاں تناؤ میں مزید شدت بڑھ گئی۔ ادھر سہ پہر کو جونہی جنگجوؤں کی نعشیں اپنے آبائی علاقوں کو پہنچائی گئی تو یہاں کہرام مچ گیا جس دوران لوگوں نے اسلام و آزادی کے حق میں زور دار نعرے بازی کی۔
ذرائع سے معلوم ہوا ہے کہ اس دوران جاں بحق جنگجوؤں کو خراج عقیدت ادا کرنے کے لیے جنگجوؤں کی ایک بڑی تعداد جلوس جنازہ میں شامل ہوئی جنہوں نے ہوا میں گولیوں کے کئی راؤنڈ فائر کرتے ہوئے مہلوک ساتھیوں کو سلامی پیش کی۔اس دوران حزب المجاہدین کے سربراہ سید صلاح الدین اور ڈپٹی سپریم کمانڈر سیف اللہ خالد سمیت فیلڈ آپریشنل کمانڈر محمد بن قاسم نے جاں بحق جنگجوؤں کو خراج عقید ت ادا کیا۔ انہوں نے بتایا کہ کمانڈر الطاف احمد ڈار عرف کاچرو اور عمر رشید وانی کو خراج عقیدت ادا کرتے ہوئے کہا کہ نوجوانوں کا یہ گرم گرم لہو ایک دن ضرور انقلاب برپا کرے گا اور غلامی کا دور اپنے اختتام کو پہنچ جائے گا۔ ڈپٹی سپریم کمانڈر سیف اللہ خالد اور فیلڈ آپریشنل کمانڈر محمد بن قاسم نے بھی اپنے پیغامات میں شہداء کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ دونوں شہیدوں نے اپنی زندگیاں اسلام کے مطابق گذاری اور اپنا مقدس لہو تحریک آزادی پر قربان کرکے ایک نئی تاریخ رقم کی۔ انشاء اللہ ان قربانیوں کے طفیل ہی ہماری محکوم و مظلوم قوم بھارتی تسلط سے آزاد ہوگی۔KNS
جموں و کشمیر
جموں میں آبادیاتی تبدیلیوں سے متعلق پینل کو پناہ گزینوں کی تنظیم نے یادداشت پیش کی
جموں، پی او جے کے سے بے گھر افراد کی تنظیم ایس او ایس انٹرنیشنل کے ایک وفد نے منگل کو یہاں جسٹس پرکاش پربھاکر نولیکر (ریٹائرڈ) کی سربراہی میں آبادیاتی تبدیلیوں سے متعلق پینل کو ایک تفصیلی یادداشت پیش کی۔
ایس او ایس انٹرنیشنل کے چیئرمین راجیو چونی کی قیادت میں وفد میں پروفیسر این این شرما (نائب چیئرمین)، ونود کمار دتہ (جنرل سکریٹری)، بھائی رام سنگھ (سکریٹری) اور وید راج بالی (سکریٹری) شامل تھے۔ وفد نے یادداشت پیش کرتے ہوئے 1947 سے پاکستان کے زیر قبضہ جموں و کشمیر (پی او جے کے) کی ہندو اور سکھ آبادی کے ساتھ روا رکھے گئے تاریخی ناانصافی کو ریکارڈ پر لایا اور پینل سے ٹھوس اصلاحی اقدامات کرنے کا مطالبہ کیا۔
جاری کردہ بیان کے مطابق یادداشت میں نشاندہی کی گئی کہ 1947 کے حملے کے بعد اس وقت کی جموں و کشمیر حکومت نے ابتدائی طور پر تقریباً 31,600 خاندانوں کا اندراج کیا تھا، جبکہ تقریباً 9,500 خاندانوں کو معمولی اور غیر معقول وجوہات کی بنیاد پر من مانے طریقے سے رجسٹریشن سے محروم کر دیا گیا۔
رجسٹرڈ خاندانوں میں سے صرف تقریباً 26,300 خاندانوں کو ریاست کے اندر آباد کیا گیا، جبکہ تقریباً 5,300 رجسٹرڈ خاندانوں کے ساتھ ساتھ 9,500 غیر رجسٹرڈ خاندانوں کو ہندوستان کے دیگر حصوں میں پناہ لینے پر مجبور ہونا پڑا۔ باقاعدہ طور پر رجسٹر کیے گئے خاندانوں کے ریکارڈ اب بھی جموں و کشمیر حکومت کے سرکاری ریکارڈ میں موجود ہیں۔
یادداشت میں کہا گیاکہ ’’یہ خاندان مہاراجہ ہری سنگھ کے 1927 کے اسٹیٹ سبجیکٹ قانون کے تحت ریاست کے اصل باشندے تھے اور انہوں نے بارہا اپنے آبائی وطن واپس جانے کی خواہش کا اظہار کیا ہے۔‘‘
تاہم بحالیِ آبادکاری کی کسی جامع پالیسی یا ادارہ جاتی مدد کی مکمل عدم موجودگی کے باعث ان کے پاس دوسری جگہ اپنی زندگی دوبارہ شروع کرنے کے علاوہ کوئی راستہ نہیں تھا۔ بیان کے مطابق اس وقت ریاست سے باہر رہنے والی ان کی آبادی کا تخمینہ پانچ سے چھ لاکھ ہے۔
ایس او ایس انٹرنیشنل نے یہ بھی نشاندہی کی کہ جموں و کشمیر کی اُس وقت کی حکومت کے 2014 کے کابینہ فیصلے میں ہر متاثرہ خاندان کو 25 لاکھ روپے نقد امداد، تعلیم یافتہ بے روزگار نوجوانوں کے لیے 8,500 سرکاری ملازمتیں اور پیشہ ورانہ و تکنیکی اداروں میں ریزرویشن دینے کا وعدہ کیا گیا تھا، لیکن جموں و کشمیر یا سابق ریاست سے باہر جلاوطنی کی زندگی گزارنے والے خاندانوں کے لیے اس پر عمل نہیں کیا گیا۔
جاری۔یواین آئی۔ طـ ا
جموں و کشمیر
یومِ آزادی سے قبل کشمیر بھر میں کثیر سطحی سکیورٹی انتظامات
سری نگر، 15 اگست کو یومِ آزادی کی تقریبات کے پیش نظر سری نگر اور وادیٔ کشمیر کے دیگر علاقوں میں کثیر سطحی سکیورٹی انتظامات کیے گئے ہیں۔
سری نگر میں جہاں وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ بخشی اسٹیڈیم میں قومی پرچم لہرائیں گے، سکیورٹی فورسز نے تقریب کے مقام اور اس سے متصل علاقوں میں سکیورٹی نظام کو مزید مضبوط کر دیا ہے۔
کشمیر کے انسپکٹر جنرل پولیس وی کے بردی نے منگل کو کہا کہ یومِ آزادی کی تقریبات کو خوش اسلوبی سے منعقد کرنے کے لیے نہ صرف مرکزی مقام بلکہ پورے شہر اور وادی کے مختلف اضلاع میں بھی وسیع سکیورٹی انتظامات کیے جا رہے ہیں۔
بردی نے نامہ نگاروں سے کہاکہ ’’جیسا کہ آپ جانتے ہیں، 15 اگست کو سری نگر میں مرکزی تقریب منعقد ہونے والی ہے۔
اس کے لیے سکیورٹی انتظامات اور پریڈ کی تیاریاں جاری ہیں۔ مکمل لباس میں ریہرسل کی جا رہی ہیں تاکہ 15 اگست کی مرکزی تقریب سری نگر میں بخوبی منعقد کی جا سکے۔‘‘
انہوں نے کہا کہ جموں و کشمیر پولیس نے پوری وادی میں کثیر سطحی سکیورٹی انتظامات کیے ہیں۔
آئی جی پی نے کہاکہ ’’جموں و کشمیر پولیس نے نہ صرف سری نگر بلکہ وادی کے مختلف اضلاع میں بھی کثیر سطحی سکیورٹی انتظامات کیے ہیں۔ یہ انتظامات صرف تقریبات کے مقامات تک محدود نہیں ہیں بلکہ شہر کے اطراف بھی کیے گئے ہیں۔ اس بار بھی اسی طرح کے انتظامات کیے گئے ہیں۔‘‘
جنوبی کشمیر میں حالیہ واقعات کے بعد ممکنہ دہشت گردانہ حملوں یا دیگر خطرات کے بارے میں کسی پیش رفت کے متعلق پوچھے جانے پر بردی نے کہا کہ معاملہ زیرِ تفتیش ہونے کی وجہ سے اس کی تفصیلات ظاہر کرنا مناسب نہیں ہوگا۔
انہوں نے کہاکہ ’’دیکھیے، یہ تفتیش کا معاملہ ہے۔ اس لیے میرے خیال میں ابھی اس کی تفصیلات ظاہر کرنا مناسب نہیں ہوگا۔
جب بھی ایسی کوئی بات ہوگی جسے آپ کے ساتھ شیئر کرنا ضروری ہوگا، ہم مناسب وقت پر آپ کو اس سے آگاہ کریں گے۔‘‘
یومِ آزادی کی تقریبات کے دوران عوام کے لیے پولیس کے پیغام کے بارے میں بردی نے کہا کہ یہ تقریب عوام کی ہے اور انہوں نے شہریوں سے بڑی تعداد میں تقریبات میں شرکت کرنے کی اپیل کی۔
آئی جی پی نے کہاکہ ’’دیکھیے، یہ عوام کی تقریب ہے۔ پولیس اس میں مددگار یا منتظم کا کردار ادا کرتی ہے۔ چونکہ یہ عوام کی تقریب ہے، اس لیے ہم لوگوں سے اپیل کرتے ہیں کہ وہ بڑی تعداد میں اس میں شرکت کریں اور اسے کامیاب بنائیں۔‘‘
دریں اثنا، منگل کو سکیورٹی اداروں نے یومِ آزادی کی تقریبات میں خلل ڈالنے کی کسی بھی کوشش کو ناکام بنانے کے لیے سخت سکیورٹی اقدامات کے تحت سری نگر بھر میں تخریب کاری مخالف جانچ، علاقے میں غلبہ قائم کرنے کی کارروائیوں، نگرانی اور تلاشی کی کارروائیاں تیز کر دیں۔
کئی چیک پوسٹوں پر دو پہیہ گاڑیوں کو روکا گیا اور سواروں کی شناخت کی تصدیق کے ساتھ ان کی تلاشی بھی لی گئی۔
یواین آئی۔ـظ ا
جموں و کشمیر
یومِ آزادی سے قبل جموں و کشمیر پولیس نے سرحدی سامبا میں طویل فاصلے کی گشت اور فرضی انسدادِ دہشت گردی مشق کی
جموں، آئندہ یومِ آزادی کی تقریبات کے پیش نظر آپریشنل تیاریوں کا جائزہ لینے، سکیورٹی انتظامات کو مضبوط بنانے اور کسی بھی ہنگامی صورت حال سے فوری طور پر نمٹنے کو یقینی بنانے کے لیے جموں و کشمیر پولیس نے منگل کو سامبا ضلع کے سرحدی علاقوں میں طویل فاصلے کی گشت (ایل آر پی) اور فرضی انسدادِ دہشت گردی مشق کا انعقاد کیا۔
عہدیداروں کے مطابق اسپیشل آپریشن گروپ (ایس او جی)، سامبا نے جموں-پٹھان کوٹ قومی شاہراہ پر جٹوال سے لالہ چک تک طویل فاصلے کی گشت کی۔
انہوں نے بتایا کہ گشت کے بعد سرحدی سڑک پر واقع بی پی پی لالہ چک میں فرضی مشق کی گئی، جس کا مقصد فرضی دہشت گردانہ صورت حال سے نمٹنے کے لیے حصہ لینے والے اہلکاروں کی تیاری کا جائزہ لینا تھا۔ مشق کے دوران دو فرضی دہشت گردوں کو تنصیب پر حملہ کرتے ہوئے دکھایا گیا۔
انہوں نے کہاکہ ’’فرضی خطرے پر فوری کارروائی کرتے ہوئے ایس او جی کے اہلکاروں نے علاقے کو مناسب طریقے سے گھیرے میں لے لیا اور دونوں فرضی دہشت گردوں کو کامیابی سے بے اثر کر دیا۔‘‘
عہدیداروں نے بتایا کہ اس مشق کا مقصد ایس او جی سامبا اور بی پی پی لالہ چک کے حصہ لینے والے اہلکاروں کے ردعمل کے نظام، باہمی تال میل، حربی تیاری اور ہنگامی صورت حال سے نمٹنے کی صلاحیتوں کو جانچنا تھا۔
ایس ایس پی سامبا نے پولیس کی جانب سے مضبوط سکیورٹی انتظامات برقرار رکھنے اور عوام کی سلامتی و تحفظ کو یقینی بنانے کے عزم کا اعادہ کیا، خاص طور پر آئندہ یومِ آزادی کی تقریبات اور جاری شری امرناتھ یاترا کے پیش نظر۔
یواین آئی۔ظ ا
-
دنیا1 day agoایران کا فی الحال امریکہ کے ساتھ کوئی مذاکرات نہیں: ایرانی وزیر خارجہ
-
ہندوستان1 day agoطلبہ پر کارروائی کے معاملے پر حکومت کو گھیرتے ہوئے راہل کا مضمون، کھڑگے اور پرینکا نے حمایت کی
-
دنیا1 day agoسعودی عرب میں فیکٹری میں آگ کے سبب 16 بنگلہ دیشی مزدور ہلاک
-
دنیا1 day agoٹرمپ جوہری معاہدے کے بغیر ایران کے ساتھ تنازع ختم کرنے پر تیار: رپورٹ
-
دنیا23 hours agoتجربہ کار آئی آر جی سی کمانڈر محسن رضائی ایران کے قومی سلامتی کے سربراہ مقرر
-
دنیا6 hours agoیمن میں حوثیوں کے المخا اور مارب پر بیلسٹک میزائل حملے
-
دنیا6 hours agoٹرمپ کا ایران سے معاوضے کا مطالبہ، آبنائے ہرمز پر مذاکرات جاری
-
دنیا23 hours agoآبنائے ہرمز کے مستقبل پر ایرانی مطالبات سے غیر یقینی بڑھنے کے باعث تیل کی قیمتوں میں اضافہ
-
جموں و کشمیر2 hours agoیومِ آزادی سے قبل جموں و کشمیر پولیس نے سرحدی سامبا میں طویل فاصلے کی گشت اور فرضی انسدادِ دہشت گردی مشق کی
-
دنیا21 hours agoکیسپین سمندر معاہدے کا مستقبل ایران کی پارلیمنٹ طے کرے گی: اسماعیل بقائی
-
دنیا6 hours agoایران اور عمان کے درمیان آبنائے ہرمز پر مذاکرات جاری
-
دنیا5 hours agoکولمبیا میں زلزلے سے ہلاکتوں کی تعداد 132 ہو گئی، صدر کا قومی ایمرجنسی کا اعلان
