جموں و کشمیر
جموں خطے کے کئی اضلاع میں پیرکی شام سے 10گھنٹے تک موسلا دار بارش،سیلابی صورتحال
راجوری،پونچھ ، ریاسی اور پونچھ اضلاع میں اسکول بند
اسکولی عمارت اور گاﺅخانے کو نقصان ،کچھ بین الاضلاع سڑکیں بند ، آمدورفت میں خلل:حکام
سری نگر:جے کے این ایس : جموں خطہ کے مختلف اضلاع میں پیرکی شام سے منگل کی صبح تک جاری رہنے والی موسلادھار بارش سے سیلاب آیا جس سے2ڈھانچے کو نقصان پہنچا اور کچھ بین الاضلاع سڑکیں بند ہو گئیں۔جے کے این ایس کے مطابقحکام نے منگل کو بتایاکہ راجوری،پونچھ ، ریاسی اور پونچھ اضلاع میں حکام نے شدید بارش اور موسم کی خراب صورتحال کے پیش نظر تمام اسکولوں کو بند کرنے کا حکم دیا ہے۔محکمہ موسمیات کے حکام نے بتایا کہ پیر کی شام ساڑھے8بجے اور منگل کی صبح ساڑھے6بجے کے درمیان اہم بارش ریکارڈ کی گئی، ریاسی میں284.5 ملی میٹر، کٹرہ 204.2 ملی میٹر، کٹھوعہ 198.8 ملی میٹر، ادھم پور 166.4 ملی میٹر، سانبا102.5 ملی میٹر، جموں ضلع میں94ملی میٹر اور راجوری میں55.0 ملی میٹر ریکارڈ کی گئی۔ حکام نے بتایا کہ اس نے مختلف مقامات پر سیلاب، لینڈ سلائیڈنگ اور مٹی کے تودے گرنے کو جنم دیا، انہوں نے مزید کہا کہ کوئی جانی نقصان نہیں ہوا ہے۔انہوں نے بتایا کہ 11 اور 12 اگست کی درمیانی رات میں ایک طوفانی سیلاب کے بعد پونچھ ضلع کے علاقے سرنکوٹ میں ایک ہائی اسکول کا ایک حصہ شدید نقصان پہنچا۔طوفانی سیلاب نے ہائی اسکول سے ملحقہ200 فٹ لمبا شیڈ اور کھیلوں کے ایک کمرے کو بہا دیا، جس سے تمام ریکارڈ اور کھیلوں کا سامان تباہ ہوگیا۔ تاہم، اس واقعے میں کسی جانی یا مالی نقصان کی اطلاع نہیں ملی۔انہوں نے بتایا کہ راجوری ضلع کے جگلانو گاو ¿ں میں ایک گاﺅخانے کی چھت گر گئی، جس سے املاک اور مویشیوں کا نقصان ہوا۔پیر کی رات سے ہونے والی موسلادھار بارش کی وجہ سے راجوری ضلع میں متعدد سڑکیں بند ہوگئی ہیں، جس سے کئی علاقوں میں گاڑیوں کی آمدورفت میں خلل پڑا ہے۔حکام نے بتایاکہ منگل کی صبح ضلع ریاسی کے تحصیل پونی کے کنڈامورہ میں مٹی کے تودے گرنے سے سڑک بند ہوگئی۔ انہوں نے مزید کہا کہ سڑک کو ٹریفک کے قابل بنانے کے لیے ناکہ بندی کو ختم کرنے کا کام جاری ہے۔راجوری ضلع میں، کوٹرنکا خواس سڑک کنجا میں بند کر دی گئی ہے، جبکہ راجوری ،تھانہ ہمنڈی،سورانکوٹ سڑک ڈی کے جی اور بفلیاز کے درمیان لینڈ سلائیڈنگ کے بعد بند ہے۔گھمبیر مغلاں،تھانہ منڈی سڑک بھی ملبے کی وجہ سے بھٹیاں موڑ اور ملحقہ حصوں سمیت کئی مقامات پر بند ہے۔جموں سری نگر ہائی وے کو جگتی کے مقام پر بھی ٹریفک جام کا سامنا کرنا پڑا جب سڑک پر پانی بھر گیا جس سے ٹریفک میں خلل پڑا۔
پیر کی رات سے ہونے والی مسلسل بارش کی وجہ سے جموں و کشمیر میں ندیوں اور ندی نالوں کے پانی کی سطح میں اضافہ ہوا ہے۔حکام نے الرٹ جاری کرتے ہوئے لوگوں سے پانی کے ذخائر سے دور رہنے کی اپیل کی ہے۔ریاسی میں دریائے چناب اونچی سطح پر بہہ رہا تھا اور ریاسی میں گپت کاشی میں سڑک کا ایک اہم پیچ بہہ گیا۔محکمہ موسمیات نے جموں ڈویڑن کے کئی حصوں میں 15اگست تک بارش اور گرج چمک کے ساتھ بارش کی پیش گوئی کی ہے، بعض مقامات پر موسلادھار بارش کا امکان ہے۔ محکمہ موسمیات نے کہا کہ رہائشیوں کو الرٹ رہنے اور موسمی ہدایات پر عمل کرنے کا مشورہ دیا گیا ہے۔محکمہ موسمیات نے ادھم پور، ریاسی، جموں، سانبہ اور کٹھوعہ اضلاع کے لیے ریڈ وارننگ جاری کی تھی، جس میں گرج چمک کے ساتھ طوفان، آسمانی بجلی گرنے، 60 کلومیٹر فی گھنٹہ سے زیادہ کی رفتار سے چلنے والی ہوا اور 15 ملی میٹر فی گھنٹہ سے زیادہ تیز بارش کی پیش گوئی کی گئی تھی۔ حکام نے منگل کی صبح بتایاکہ راجوری اور پونچھ اضلاع میں حکام نے شدید بارش اور موسم کی خراب صورتحال کی وجہ سے آج ضلع بھر میں تمام سرکاری اور نجی اسکولوں کو بند رکھنے کا حکم دیا ہے، ۔ایک اہلکار کے مطابق، ”موسلادھار بارش اور خراب موسمی حالات کے پیش نظر راجوری ضلع کے تمام سرکاری اور نجی اسکولوں کو بند کر دیا گیا ہے۔“ایک بیان کے مطابق، پونچھ کے ڈپٹی کمشنر نے موجودہ موسمی حالات کے پیش نظر، احتیاطی اقدام کے طور پر 12 اگست کو ضلع کے تمام سرکاری اور نجی اسکولوں کو بند رکھنے کی ہدایت کی۔
جموں و کشمیر
جموں میں آبادیاتی تبدیلیوں سے متعلق پینل کو پناہ گزینوں کی تنظیم نے یادداشت پیش کی
جموں، پی او جے کے سے بے گھر افراد کی تنظیم ایس او ایس انٹرنیشنل کے ایک وفد نے منگل کو یہاں جسٹس پرکاش پربھاکر نولیکر (ریٹائرڈ) کی سربراہی میں آبادیاتی تبدیلیوں سے متعلق پینل کو ایک تفصیلی یادداشت پیش کی۔
ایس او ایس انٹرنیشنل کے چیئرمین راجیو چونی کی قیادت میں وفد میں پروفیسر این این شرما (نائب چیئرمین)، ونود کمار دتہ (جنرل سکریٹری)، بھائی رام سنگھ (سکریٹری) اور وید راج بالی (سکریٹری) شامل تھے۔ وفد نے یادداشت پیش کرتے ہوئے 1947 سے پاکستان کے زیر قبضہ جموں و کشمیر (پی او جے کے) کی ہندو اور سکھ آبادی کے ساتھ روا رکھے گئے تاریخی ناانصافی کو ریکارڈ پر لایا اور پینل سے ٹھوس اصلاحی اقدامات کرنے کا مطالبہ کیا۔
جاری کردہ بیان کے مطابق یادداشت میں نشاندہی کی گئی کہ 1947 کے حملے کے بعد اس وقت کی جموں و کشمیر حکومت نے ابتدائی طور پر تقریباً 31,600 خاندانوں کا اندراج کیا تھا، جبکہ تقریباً 9,500 خاندانوں کو معمولی اور غیر معقول وجوہات کی بنیاد پر من مانے طریقے سے رجسٹریشن سے محروم کر دیا گیا۔
رجسٹرڈ خاندانوں میں سے صرف تقریباً 26,300 خاندانوں کو ریاست کے اندر آباد کیا گیا، جبکہ تقریباً 5,300 رجسٹرڈ خاندانوں کے ساتھ ساتھ 9,500 غیر رجسٹرڈ خاندانوں کو ہندوستان کے دیگر حصوں میں پناہ لینے پر مجبور ہونا پڑا۔ باقاعدہ طور پر رجسٹر کیے گئے خاندانوں کے ریکارڈ اب بھی جموں و کشمیر حکومت کے سرکاری ریکارڈ میں موجود ہیں۔
یادداشت میں کہا گیاکہ ’’یہ خاندان مہاراجہ ہری سنگھ کے 1927 کے اسٹیٹ سبجیکٹ قانون کے تحت ریاست کے اصل باشندے تھے اور انہوں نے بارہا اپنے آبائی وطن واپس جانے کی خواہش کا اظہار کیا ہے۔‘‘
تاہم بحالیِ آبادکاری کی کسی جامع پالیسی یا ادارہ جاتی مدد کی مکمل عدم موجودگی کے باعث ان کے پاس دوسری جگہ اپنی زندگی دوبارہ شروع کرنے کے علاوہ کوئی راستہ نہیں تھا۔ بیان کے مطابق اس وقت ریاست سے باہر رہنے والی ان کی آبادی کا تخمینہ پانچ سے چھ لاکھ ہے۔
ایس او ایس انٹرنیشنل نے یہ بھی نشاندہی کی کہ جموں و کشمیر کی اُس وقت کی حکومت کے 2014 کے کابینہ فیصلے میں ہر متاثرہ خاندان کو 25 لاکھ روپے نقد امداد، تعلیم یافتہ بے روزگار نوجوانوں کے لیے 8,500 سرکاری ملازمتیں اور پیشہ ورانہ و تکنیکی اداروں میں ریزرویشن دینے کا وعدہ کیا گیا تھا، لیکن جموں و کشمیر یا سابق ریاست سے باہر جلاوطنی کی زندگی گزارنے والے خاندانوں کے لیے اس پر عمل نہیں کیا گیا۔
جاری۔یواین آئی۔ طـ ا
جموں و کشمیر
یومِ آزادی سے قبل کشمیر بھر میں کثیر سطحی سکیورٹی انتظامات
سری نگر، 15 اگست کو یومِ آزادی کی تقریبات کے پیش نظر سری نگر اور وادیٔ کشمیر کے دیگر علاقوں میں کثیر سطحی سکیورٹی انتظامات کیے گئے ہیں۔
سری نگر میں جہاں وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ بخشی اسٹیڈیم میں قومی پرچم لہرائیں گے، سکیورٹی فورسز نے تقریب کے مقام اور اس سے متصل علاقوں میں سکیورٹی نظام کو مزید مضبوط کر دیا ہے۔
کشمیر کے انسپکٹر جنرل پولیس وی کے بردی نے منگل کو کہا کہ یومِ آزادی کی تقریبات کو خوش اسلوبی سے منعقد کرنے کے لیے نہ صرف مرکزی مقام بلکہ پورے شہر اور وادی کے مختلف اضلاع میں بھی وسیع سکیورٹی انتظامات کیے جا رہے ہیں۔
بردی نے نامہ نگاروں سے کہاکہ ’’جیسا کہ آپ جانتے ہیں، 15 اگست کو سری نگر میں مرکزی تقریب منعقد ہونے والی ہے۔
اس کے لیے سکیورٹی انتظامات اور پریڈ کی تیاریاں جاری ہیں۔ مکمل لباس میں ریہرسل کی جا رہی ہیں تاکہ 15 اگست کی مرکزی تقریب سری نگر میں بخوبی منعقد کی جا سکے۔‘‘
انہوں نے کہا کہ جموں و کشمیر پولیس نے پوری وادی میں کثیر سطحی سکیورٹی انتظامات کیے ہیں۔
آئی جی پی نے کہاکہ ’’جموں و کشمیر پولیس نے نہ صرف سری نگر بلکہ وادی کے مختلف اضلاع میں بھی کثیر سطحی سکیورٹی انتظامات کیے ہیں۔ یہ انتظامات صرف تقریبات کے مقامات تک محدود نہیں ہیں بلکہ شہر کے اطراف بھی کیے گئے ہیں۔ اس بار بھی اسی طرح کے انتظامات کیے گئے ہیں۔‘‘
جنوبی کشمیر میں حالیہ واقعات کے بعد ممکنہ دہشت گردانہ حملوں یا دیگر خطرات کے بارے میں کسی پیش رفت کے متعلق پوچھے جانے پر بردی نے کہا کہ معاملہ زیرِ تفتیش ہونے کی وجہ سے اس کی تفصیلات ظاہر کرنا مناسب نہیں ہوگا۔
انہوں نے کہاکہ ’’دیکھیے، یہ تفتیش کا معاملہ ہے۔ اس لیے میرے خیال میں ابھی اس کی تفصیلات ظاہر کرنا مناسب نہیں ہوگا۔
جب بھی ایسی کوئی بات ہوگی جسے آپ کے ساتھ شیئر کرنا ضروری ہوگا، ہم مناسب وقت پر آپ کو اس سے آگاہ کریں گے۔‘‘
یومِ آزادی کی تقریبات کے دوران عوام کے لیے پولیس کے پیغام کے بارے میں بردی نے کہا کہ یہ تقریب عوام کی ہے اور انہوں نے شہریوں سے بڑی تعداد میں تقریبات میں شرکت کرنے کی اپیل کی۔
آئی جی پی نے کہاکہ ’’دیکھیے، یہ عوام کی تقریب ہے۔ پولیس اس میں مددگار یا منتظم کا کردار ادا کرتی ہے۔ چونکہ یہ عوام کی تقریب ہے، اس لیے ہم لوگوں سے اپیل کرتے ہیں کہ وہ بڑی تعداد میں اس میں شرکت کریں اور اسے کامیاب بنائیں۔‘‘
دریں اثنا، منگل کو سکیورٹی اداروں نے یومِ آزادی کی تقریبات میں خلل ڈالنے کی کسی بھی کوشش کو ناکام بنانے کے لیے سخت سکیورٹی اقدامات کے تحت سری نگر بھر میں تخریب کاری مخالف جانچ، علاقے میں غلبہ قائم کرنے کی کارروائیوں، نگرانی اور تلاشی کی کارروائیاں تیز کر دیں۔
کئی چیک پوسٹوں پر دو پہیہ گاڑیوں کو روکا گیا اور سواروں کی شناخت کی تصدیق کے ساتھ ان کی تلاشی بھی لی گئی۔
یواین آئی۔ـظ ا
جموں و کشمیر
یومِ آزادی سے قبل جموں و کشمیر پولیس نے سرحدی سامبا میں طویل فاصلے کی گشت اور فرضی انسدادِ دہشت گردی مشق کی
جموں، آئندہ یومِ آزادی کی تقریبات کے پیش نظر آپریشنل تیاریوں کا جائزہ لینے، سکیورٹی انتظامات کو مضبوط بنانے اور کسی بھی ہنگامی صورت حال سے فوری طور پر نمٹنے کو یقینی بنانے کے لیے جموں و کشمیر پولیس نے منگل کو سامبا ضلع کے سرحدی علاقوں میں طویل فاصلے کی گشت (ایل آر پی) اور فرضی انسدادِ دہشت گردی مشق کا انعقاد کیا۔
عہدیداروں کے مطابق اسپیشل آپریشن گروپ (ایس او جی)، سامبا نے جموں-پٹھان کوٹ قومی شاہراہ پر جٹوال سے لالہ چک تک طویل فاصلے کی گشت کی۔
انہوں نے بتایا کہ گشت کے بعد سرحدی سڑک پر واقع بی پی پی لالہ چک میں فرضی مشق کی گئی، جس کا مقصد فرضی دہشت گردانہ صورت حال سے نمٹنے کے لیے حصہ لینے والے اہلکاروں کی تیاری کا جائزہ لینا تھا۔ مشق کے دوران دو فرضی دہشت گردوں کو تنصیب پر حملہ کرتے ہوئے دکھایا گیا۔
انہوں نے کہاکہ ’’فرضی خطرے پر فوری کارروائی کرتے ہوئے ایس او جی کے اہلکاروں نے علاقے کو مناسب طریقے سے گھیرے میں لے لیا اور دونوں فرضی دہشت گردوں کو کامیابی سے بے اثر کر دیا۔‘‘
عہدیداروں نے بتایا کہ اس مشق کا مقصد ایس او جی سامبا اور بی پی پی لالہ چک کے حصہ لینے والے اہلکاروں کے ردعمل کے نظام، باہمی تال میل، حربی تیاری اور ہنگامی صورت حال سے نمٹنے کی صلاحیتوں کو جانچنا تھا۔
ایس ایس پی سامبا نے پولیس کی جانب سے مضبوط سکیورٹی انتظامات برقرار رکھنے اور عوام کی سلامتی و تحفظ کو یقینی بنانے کے عزم کا اعادہ کیا، خاص طور پر آئندہ یومِ آزادی کی تقریبات اور جاری شری امرناتھ یاترا کے پیش نظر۔
یواین آئی۔ظ ا
-
دنیا1 day agoایران کا فی الحال امریکہ کے ساتھ کوئی مذاکرات نہیں: ایرانی وزیر خارجہ
-
دنیا1 day agoسعودی عرب میں فیکٹری میں آگ کے سبب 16 بنگلہ دیشی مزدور ہلاک
-
دنیا1 day agoٹرمپ جوہری معاہدے کے بغیر ایران کے ساتھ تنازع ختم کرنے پر تیار: رپورٹ
-
ہندوستان1 day agoطلبہ پر کارروائی کے معاملے پر حکومت کو گھیرتے ہوئے راہل کا مضمون، کھڑگے اور پرینکا نے حمایت کی
-
جموں و کشمیر5 hours agoیومِ آزادی سے قبل جموں و کشمیر پولیس نے سرحدی سامبا میں طویل فاصلے کی گشت اور فرضی انسدادِ دہشت گردی مشق کی
-
دنیا9 hours agoٹرمپ کا ایران سے معاوضے کا مطالبہ، آبنائے ہرمز پر مذاکرات جاری
-
دنیا1 day agoتجربہ کار آئی آر جی سی کمانڈر محسن رضائی ایران کے قومی سلامتی کے سربراہ مقرر
-
دنیا5 hours agoشام کے سابق صدر بشار الاسد کو سزائے موت سنادی گئی
-
دنیا9 hours agoیمن میں حوثیوں کے المخا اور مارب پر بیلسٹک میزائل حملے
-
دنیا9 hours agoایران اور عمان کے درمیان آبنائے ہرمز پر مذاکرات جاری
-
دنیا8 hours agoکولمبیا میں زلزلے سے ہلاکتوں کی تعداد 132 ہو گئی، صدر کا قومی ایمرجنسی کا اعلان
-
ہندوستان7 hours agoپارلیمنٹ کے احاطے میں اپوزیشن ارکانِ پارلیمنٹ کا احتجاج
